Explained with ayahs 31–36
فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بہ طور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آگیا ہے اب کھرے کھرے فیصلے ہوجائیں گے اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہوگا، محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نمٹنے کا نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ (ثقلین) سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے ثقلین کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
سورة الرَّحْمٰن 32
زمین اور آسمانوں سے مراد ہے کائنات، یا بالفاظ دیگر خدا کی خدائی۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی گرفت سے بچ نکلنا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ جس باز پرس کی تمہیں خبر دی جا رہی ہے اس کا وقت آنے پر تم خواہ کسی جگہ بھی ہو، بہرحال پکڑ لائے جاؤ گے۔ اس سے بچنے کے لیے تمہیں خدا کی خدائی سے بھاگ نکلنا ہوگا اور اس کا بل بوتا تم میں نہیں ہے۔ اگر ایسا گھمنڈ تم اپنے دل میں رکھتے ہو تو اپنا زور لگا کر دیکھ لو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ ، پچھلی آیت میں جن وانس کو بلفظ ثقلین مخاطب کر کے بتلایا گیا تھا کہ قیامت کے روز ایک ہی کام ہوگا کہ سب جن و انس کے اعمال کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے ذرہ ذرہ پر جزاء و سزا ہوگی، اس آیت میں یہ بتلانا منظور ہے کہ روز جزاء کی حاضری اور حساب اعمال سے کوئی شخص راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا، کسی کی مجال نہیں جو موت سے یا روز قیامت کے حساب سے کہیں بھاگ کر بچ نکلے، اس آیت میں ثقلین کے بجائے يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ کے صریح نام ذکر فرمائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(یمعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوامن اقطار السموات والارض فانفذوا لا تفذون الا بسلطن فبای الاء ربکما تکذبین) (33۔ 34)
(کوئی چیز خدا کی گرفت سے باہر نہیں ہے)۔ یعنی اگر تمہارا گمان ہے کہ تم بالکل غیر مسئول اور مطلق العنان ہو تو ذرا اللہ کے بنائے ہوئے آسمانوں اور اس کی پیدا کی ہوئی زمین کے حدود سے باہر نکل کر دکھائو تاکہ ثابت ہوجائے کہ تم اس کی گرفت سے آزاد ہو یا ہو سکتے ہو)۔ (لا تنفذون الا بسلطن) لفظ سلطن اختیار و اقتدار کے معنی میں بھی آتا ہے اور سند کے معنی میں بھی۔ یہاں یہ اس دوسرے معنی میں ہے۔ یعنی تم لاکھ چاہو لیکن آسمانوں اور زمین کے حدود سے باہر نہیں نکل سکتے۔ یہ صرف اسی صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
35۔ 1 مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت والے دن کہیں بھاگ کر گئے، تو فرشتے آگ کے شعلے اور دھواں تم پر چھوڑ کر یا پگھلا ہوا تانبہ تمہارے سروں پر ڈال کر تمہیں واپس لے آئیں گے۔ نحاس کے دوسرے معنی پگھلے ہوئے تانبے کے کئے گئے ہیں۔
35۔ 2 یعنی اللہ کے عذاب کو ٹالنے کی تم قدرت نہیں رکھو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
8: مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ طاقت نہیں ہے جس کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کی باز پرس اور عذاب سے بھاگ کر کہیں اور چلے جاؤ۔
Read the full tafseer →فبای ................ تکذبن (55:4 3) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے “
آخر ان کے پاس کیا چیز رہ گئی ہے کہ وہ جھٹلائیں ! محض زبانی کلامی بات سے کیا بنتا ہے ؟
لیکن تباہ کن حملہ جاری ہے۔ مزید دھمکی آرہی ہے اور تباہی والا انجام ان کے سامنے ہے۔
Read the full tafseer →2 یعنی اس طرح کھول کھول کر سمجھانا اور تمام نشیب و فراز پر متنبہ کرنا کتنی بڑی نعمت ہے۔ کیا اس نعمت کی تم قدر نہیں کرو گے اور اللہ کی ایسی عظیم الشان قدرت کو جھٹلاؤ گے۔
Read the full tafseer →آیت 34{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
24 شواظ بمعنی خالص آگ کا شعلہ جس میں دھوئیں کی آمیزش نہ ہو اور اگر آمیزش ہو تو اسے نحاس کہتے ہیں۔ مگر اس کی بھی صورت یہ ہونی چاہئے کہ آگ زیادہ اور دھواں کم ہو۔ ایسی آگ کی رنگت تانبے جیسی ہوجاتی ہے اور نحاس تانبے کو بھی کہتے ہیں۔
25 انتصار کے معنی کسی ظلم و زیادتی کا بدلہ لینا بھی۔ اور کسی زیادتی سے اپنا دفاع کرنا بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حساب کتاب یا اللہ کی گرفت سے بھاگ کھڑا ہونے کی کوشش کرے گا تو وہ اس میں کبھی کامیاب نہ ہوسکے گا۔ اس پر آگ کے اور دھواں ملی آگ کے شعلے چھوڑے جائیں گے اور مجبوراً اسے اس جگہ کھڑا رہنا پڑے گا جہاں کھڑا رہنے کے لیے اسے حکم ہوگا اور وہ ایسا مجبور اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
20۔ مجرموں کا اپنے جرائم کی ناگزیر پاداش سے قبل از وقت مطلع وآگاہ وخبردار ہوجانا بھی ایک بڑی نعمت ہے کہ تو بہ وکفارہ کا موقع ابھی باقی ہے اور اسی لئے قرآن مجید نے اس اطلاع واعلام کا شمار بھی نعمتوں ہی میں کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
یامعشر الجن والانس (الآیۃ) اس کا مطلب یہ ہے کہ اے جن اور انسانو ! اگر تمہیں یہ گمان ہو کہ ہم بھاگ جائیں گے اور موت کے چنگل سے بچ جائیں گے، یا میدان حشر سے بھاگ کر نکل جائیں گے اور حساب و کتاب سے بچ جائیں گے تو لو اپنی قوت آزما دیکھو، اگر تمہیں اس پر قدرت ہے کہ آسمان اور زمین کے دائرہ سے باہر نکل جائو، تو نکل کر دکھائو، یہ کوئی آسان کام نہیں۔
Read the full tafseer →فبای الا ربکما تکذبان .
سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : یعنی اللہ کی نعمتوں کی تکذیب نہ کرو۔ تکذیب موجب عذاب ہے اور تم عذاب سے بھاگنے کی قوت نہیں رکھتے بعض اہل علم کا قول ہے کہ تنبیہ ‘ تخویف اور باوجود کامل قدرت رکھنے کے درگزر کرنا اور معاف کردینا یہ سب کچھ اللہ کی نعمت ہے اور عقلی معراج اور تمام ترقیات اور ایسے اسباب ترقیات کہ ان کے ذریعہ سے لوگ آسمانوں سے بھی اوپر پہنچ جائیں ‘ ان کا شمول بھی اٰلاء اللہ میں ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مخلوق کا احاطہ ملائکہ اور آگ کے بھڑکتے شعلوں سے کردیا جائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(33۔ 34) اے گروہ جن و انس کے اگر تمہیں یہ قدرت ہے کہ آسمانوں اور زمین کی حدود اور فرشتوں کی صفوں سے کہیں باہر نکل جاؤ تو نکلو بھاگو مگر بغیر طاقت اور زور کے نہیں نکل سکتے اور طاقت و زور ہے نہیں سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : یہاں ”الاء“ کا معنی ”قدرتیں“ واضح ہے اور وعید گناہوں سے باز آنے کا باعث ہونے کی وجہ سے عظیم نعمت بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
سنفرغ لکم ایھا الثقلن۔ یوں کہا جاتا ہے : میں نے اپنی کوششیں خرچ کیں۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا کام نہیں جس سے فارغ ہو۔ اس کا معنی ہے ہم تمہیں جزا دینے اور تمہارا حساب لینے کا ارادہ کرتے ہیں۔ یہ ان کے لئے دھمکی ہے جس طرح جب کوئی دھمکی کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے :
یعنی میں تیرا قصد کرتا ہوں۔ فرغ قصد کے معنی میں ہے۔ ابن انباری نے اس کی مثل معاملہ میں پڑھا :
خبردار ! اب میں نے نمیر کا قصد کیا۔
نحاس نے کہا :
میں نے بیٹری میں قید غلام کا قصد کیا۔
حدیث میں ہے نبی کریم ﷺ نے جب لیلۃ العقبہ کو انصار سے بیعت لی شیطان نے چیخ ماری :
میں مقیم لوگو ! یہ مذمم (نعوذ باللہ) تمہارے خلاف جنگ کرنے کے لئے بنی قبلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
9:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یرسل علیکما شواظ من نار '' سے مراد ہے کہ شعلہ آگ میں سے۔
10:۔ ھناد وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے (آیت ) '' یرسل علیکما شواظ من نار '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ سرخ شعلہ جو آگ سے جدا ہوجاتا ہے اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اس سے مراد ہے سرخ آگ میں سے ایک ٹکڑا (آیت ) '' ونحاس '' سے مراد ہے کہ تانبا پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں میں ڈالا جائے گا۔
11:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یرسل علیکما شواظ من نار '' '' ونحاس '' کی یہ دو وادیاں ہیں…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات عالیہ اور انسان اور جنات کی عاجزی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی بیان فرمایا کہ اس دنیا میں جو کچھ کرتے ہو یہ نہ سمجھو کہ عمل کرنے میں آزاد ہو، اعمال کی پوچھ گچھ ہوگی۔ جزا و سزا کا دن آنے والا ہے، تمہارے حساب و کتاب کے لیے ہم عنقریب فارغ ہوں گے یعنی تمہارا محاسبہ کریں گے مخلوق کے سمجھانے کے لیے مجازاً ایسا فرمایا ورنہ حق تعالیٰ شانہٗ کو کوئی بھی فعل دوسرے فعل سے مانع نہیں ہوسکتا كُلَّ يَوْمٍ کا ترجمہ کل وقت اس لیے کیا گیا کہ مخلوق میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کے تصرفات جاری رہتے ہیں۔
حساب و کتاب کی خبر دے کر پہلے سے آگاہ فرمانا یہ اللہ کی عظیم نعمت ہے اسی لیے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
عظمت خداوند رب انام مع ذکر اہوال قیامت وذلت و بدحالی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ...... الی ........ تکذبن “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں فرمائی تھیں جن کے ضمن میں ان گراں قدرانعامات کا ذکر فرمایا جو جن وانس پر کی گئیں اور ظاہر ہے کہ ان دلائل و انعامات کا متقضی یہی ہے کہ جن وانس اسکی اطاعت و بندگی میں مصروف ہوجائیں اب ان آیات میں عظمت خداوندی کا بیان ہے اور قیامت کی ہول وشدت اور اس میں مجرمین پر جو ندامت وذلت ہوگی اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے ہولناک احوال میں منکرین ومکذبین کا کیسا عبرتناک حال ہوگا۔
ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
13:۔ ” سنفرغ لکم۔ الایۃ “ یہ تخویف کے لیے تمہید ہے۔ یہ ایک کام سے دوسرے کام میں مشغول ہونے سے کنایہ ہے اور یہاں اس سے محض تہدید مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایک شغل دوسرے شغل سے مانع نہیں ہے۔ یعنی اے جن و انس میں عنقریب ہی تمہیں سزا دینے والا اور تم سے انتقام لینے والا ہوں۔ ” یمعشر الجن۔ الایۃ “ یہ تخویف دنیوی ہے اے جن وانس اگر تم میں یہ قدرت و استطاعت موجود ہے کہ تم موت سے اور میرے عذاب سے بچنے کے لیے زمین و آسمان کی سرحدوں کو پار کر کے کسی محفوظ مقام میں پہنچ جاؤ تو ذرا نکل کر دکھاؤ تو سہی، لیکن یادرکھو ! خدا کے مقابلے میں قوت و شوکت اور قہر و غلبہ کے بغیر تم کہیں نہیں جاسکتے مگر یہ قول و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–36
ربطہ آیات
گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنی مخلوق خاص طور پر انسانوں اور اہل ایمان پر کیے ہیں۔ پھر اپنی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کیا جو اس کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر دلیل بنتی ہیں اب آج کے درس میں اللہ نے جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔
فانی اور باقی
ارشاد ہوتا ہے کل من علیھا فانٍ جو کچھ بھی زمین پر ہے ، وہ فنا ہونے والا ہے۔ گذشتہ درس میں فرمایا والارض وضعھا للانام ہم نے زمین کو اپنی مخلوق کے لیے بچھا دیا۔ اللہ کی بیشمار مخلوق انسان ، جانور ، درندے پرندے ، کیڑے مکوڑے اس زمین پر آباد ہیں اور اسی سے پیدا ہونے والی روزی استعمال کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ 34
أيا
أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28]
( ا ی ی ) ای ۔
جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
ترکیب : فانٍ خبر لکل من ذوالجلال بالرفع علیٰ انہ لغت للوجہ وبالجر لغتا للمجرور۔ یسئلہ مستانف اوحال من وجہ والعامل فیہ یبقٰی۔ کل ظرف لمادل علیہ ھوفی شان لاتنفذون لانافیۃ شواظ بالضم والکسر لغتان ھو اللہب الذی لادخان معہ۔ من نار صفۃ او متعلق بالفعل۔ نحاس بالرفع عطفا علی شواظ بالجر عطفا علے نار والاول اقوی۔
تفسیر : دلائلِ توحید میں عالم اور اس کی عمدہ اور نافع چیزیں پیدا کرنے کا ذکر تھا تاکہ معلوم ہو کہ یہ عالم قدیم نہیں بلکہ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اس کے بعد عالم فنا کرنے کی قدرت بیان کرتا ہے اور ان کے فنا کرنے میں اپنی قدرت و جبروت ظاہر فرما کر تیسرے مسئلہ حشر کو بھی اسی کلام کے دوسرے پہلو میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
یٰمَعْشَرَالْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ط لاَ تَنْفُذُوْنَ اِلاَّ بِسُلْطٰنٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 33، 34)
(اے جنوں اور انسانوں کے گروہ اگر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو، تم نہیں بھاگ سکتے، مگر سلطان کے ساتھ۔ تو تم اپنے رب کے کن کن اختیارات کو جھٹلائو گے۔ )
کوئی مخلوق اللہ تعالیٰ کی دسترس سے باہر نہیں
براہِ راست جنوں اور انسانوں سے خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ تم اگر یہ سمجھتے ہو کہ تم بالکل غیرمسؤل اور مطلق العنان ہو۔ نہ اس دنیا میں تم پر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
فہم القرآن
ربط کلام : جو جن اور انسان اللہ تعالیٰ سے اس کے حکم کے مطابق نہیں مانگتے انہیں چیلنج کیا گیا ہے۔
رب ذوالجلال کا فرمان ہے۔ اے جن اور انسانو ! عنقریب ہم تمہارے لیے فارغ ہونے والے ہیں اور تم اپنے رب کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرپاؤ گے اگر تمہیں اس کے مقابلے میں طاقت حاصل ہے تو کھلے الفاظ میں تمہیں چیلنج کیا جاتا ہے کہ تم زمین و آسمان کے کناروں سے باہر نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ۔ لیکن تم اس کی بادشاہت سے نکل نہیں سکتے سوائے قوت کے وہ قوت صرف تمہارے رب کے پاس ہے لہٰذا تم اپنے رب کی قوت کو جھٹلا نہیں سکتے۔ ہر دور کے سائنسدان اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ زمین و آسمان اپنی اپنی حیثیت اور مقام پر…
Read the full tafseer →34 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Read the full tafseer →33 ۔” یامعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا “ یعنی تم تجاوز کر جائو اور نکل جائو۔ ” من اقطار السموات والارض “ یعنی ان دونوں کے اطراف و جوانب سے۔ ” فانفذوا “ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ موت سے بھاگ جائو زمین و آسمان کے اطراف سے نکل کر تو بھاگ جائو اور اس سے نکل جائو اور مطلب یہ ہے کہ تم جہاں بھی ہوگے موت تمہیں پالے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اینما تکونوا یدرککم الموت “ اور کہا گیا ہے کہ ان کو یہ قیامت کے دن کہا جائے گا کہ اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمان و زمین سے تجاوز کر جائو اور اپنے رب کو عاجز کردو تاکہ وہ تم پر قادر نہ ہوسکے تو تجاوز کرجائو۔ ” لا تنفذون الا بسلطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
31۔ 36۔ اللہ تعالیٰ کی شان تو اس سے بہت عالی اور برتر ہے کہ اس کو کسی کام سے فرصت اور فراغت حاصل کرنے کی ضرورت ہو کیونکہ یہ تو مخلوق کی شان ہے کہ ایک کام سے فارغ ہوں تو دوسرا کام کریں لیکن جس طرح اردو کے محاورہ میں بولا جاتا ہے کہ سو کام چھوڑ کر یہ کام کیا جائے گا حالانکہ ایسے موقع پر نہ سو کام ہوتے ہیں نہ ان کا چھوڑنا حقیقت میں مقصود ہوتا ہے بلکہ جس کام کے کرنے کا ارادہ ظاہر کرکے یہ محاورہ کی بات کہی جاتی ہے اصل میں اس با سے اس کام کا ضروری ہونا جتلایا جاتا ہے اسی طرح قیامت اور اس کے حساب و کتاب اور سزا و جزا کے جو لوگ منکر ہیں ان کی تنبیہ کے لئے عربی کے محاورہ کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے روز جمع کرے گا تو انہیں ان کی کمزوری وبے بسی اور اپنی کامل طاقت اپنی مشیت اور قدرت کی تنفیذ سے آگاہ کرے گا اور ان کی بےبسی کو ظاہر کرتے ہوئے فرمائے گا۔ (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) یعنی اے جنوں اور انسانوں کی جماعت۔ اگر تمہیں کوئی راستہ اور کوئی سوراخ ملتا ہے جہاں سے تم اللہ کی بادشاہی اور اس کی سلطنت سے نکل بھاگو۔ (فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ ) تو تم نکل بھاگوا لیکن تم قوت، طاقت اور کامل قدرت کے بغیر اللہ تعالیٰ کی سلطنت سے باہر نہیں نکل سکتے یہ قوت انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–36
لئو لئو اور مرجان
قول باری ہے (یخرج منھما اللئو لئو والمرجان ان دونوں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں) یہاں مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک سے کیونکہ موتی اور مونگے سمندر کے کھارے پانی سے برآمد ہوتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں برآمد ہوتے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (یا معشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے) جب کہ رسول صرف انسانوں میں سے بھیجے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حسن، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ مرجان چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں۔
ایک قول کے مطابق مرجان مخلوط قسم کے جواہرات کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ” مرحت “ سے نکلا ہے جس کے معنی مخلوط ہوجانے کے…
Read the full tafseer →[ 29] گروہ جن و انس سے خطاب تنبیہ و تذکیر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم دونوں اے گروہ جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ یعنی اس تنبیہ و تقریر میں بھی تمہاری لئے بڑی نعمت ہے کہ تاکہ اس کے نتیجے میں نیکوکار اپنی نیکی میں اضافہ کرے، اور بدکار اپنی برائی سے رک جائے، نیز اس قادر مطلق نے اپنی اس قدرت مطلقہ کے باوجود کمال علم سے کام لیتے ہوئے نہیں جو مہلت دے رکھی ہے، یہ اس کی ایک نعمت اور بہت بڑی نعمت ہے۔ سو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنی آخرت کے لئے تیاری کرو، قبل اس سے کہ یہ فرصت محدود تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور پھر تمہیں پمیشہ کے لئے کف افسوس ملنا پڑے " مگر بےوقت کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
جن و انس سب اللہ کے سامنے کمزور وبے بس ہیں
تشریح : یہاں جن و انس کی بےبسی کو اس طرح بتایا گـیا ہے کہ تمہاری ہر حرکت اللہ کے بس میں ہے۔ اگر یہ غلط ہے تو پھر چلو یہ جو حدود آسمانوں اور زمین کی اللہ نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے پورا زور لگاؤ اور ان سے باہر نکل کر دکھاؤ۔ یہ تمہاری قدرت سے باہر ہے تم ہرگز ان حدود سے باہر نہیں نکل سکتے تو کیا اب بھی تم اللہ کی عظمت، طاقت اور قدرت کا انکار کرتے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
آیات 26 تا 45۔
اسرار ومعارف۔
ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اپنی ذات میں فانی ہے اور روز قیامت فنا ہوگا ہاں بقا اور ہمیشہ کا رہنا صرف ذات باری کے لیے ہے جو بہت عظمت کا مالک ہے کہ اپنی بقا میں اور اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج نہیں اور صاحب اکرام ہے کہ ساری مخلوق پہ اس کا کرم و احسان عام ہے جو ساری ہی اس کی محتاج ہے اور اس کے سہارے قائم ہے تو بھلا اس کے احسانات کیسے بھلاپاؤ گے سب کی سب مخلوق زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں ہرگھڑی اس کے دروزاے پر دست سوال دراز کیے کھڑی ہے۔ اور سب اس ذات سے ہر شے مانگ رہے ہیں اور ہر روز ہر آن اس کی عظمت کا اظہار کئی کئی شانوں سے ہورہا ہے اور اس کی عطا بٹ رہی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 9 یا ” تم پر بن دھوئیں کی آگ اور پگھلا ہوا اتانبا چھوڑا جائے گا۔ “ یعنی اس وقت جب تم ہماری گرفت سے نکل بھاگنے کی کوشش کرو گے۔
10 یعنی اس کا مقابلہ نہ کرسکو گے بلکہ مجبوراً ہر طرف سے گھر کر میدان حشر میں جمع ہوگئے۔
Read the full tafseer →(55:34) فبای الاء ربکما تکذبان۔ پس اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 45
فان فنا ہونے والا ۔ وجہ چہرہ، ذات۔ ذوالجلا عزت و عظمت والا۔ یسئل سوال کرتا ہے۔ شان ضروری کام، شان ۔ الثقلن دو بڑی بھاری مخلوق۔ معشر گروہ، جماعت تنفذوا تم نکل بھاگو۔ اقطار کنارے۔ سلطان طاقت و قوت شواظ شعلے نحاس دھواں لاتنصران تم بدلہ نہ لے سکو گے انشقت پھٹ پڑی وردۃ سرخ الدھان رنگا ہوا سرخ چمڑا یعرف پہچان لیا گیا۔ النواصی پیشانیاں یطرفون وہ گھو میں گے۔ حمیم کھولتا وہا۔ ان بہت کھولتا ہوا گرم پانی۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا 45
اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر سب سے بڑا کرم اور نعمت یہ ہے کہ اس نے قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی انسانوں اور جنات کو اس بات سے پوری طرح آگاہ کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
(ف 1) پہلے صور سے جب ساری دنیا اجڑے گی ایک دفعہ تو آسمان اسی وقت پھٹے گا اور پھر حشر کے لیے دوسرا صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت دنیا کا آسمان پھٹے گا اور اس میں دروازے ہوجائیں گے جن دروازوں سے حشر کے انتظام کے فرشتے زمین پر اتریں گے ان آیتوں میں آسمان کی اسی دوسری حالت کا ذکر ہے کیونکہ اس کے بعد مجرموں کے دوزخ میں ڈالے جانے کا حال ہے جو دوسرے صورت کے بعد ہوگا حضرت عبداللہ بن مسعود کی صحیح مسلم اور ترمذی کی حدیث ہے کہ دوزخ کو محشر کے میدان میں لایاجائے گا اس وقت کی دوزخ کی لپٹ سے آسمان طرح طرح کا رنگ بدلے گا سی کا ذکر ان آیتوں میں ہے کبھی آسمان کا رنگ گلابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–38
[9] فارغ ہونے سے اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ ابھی تو اس دنیا کا کارخانہ چل رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ یہ اپنی مدت پوری کرے۔ جب یہ مدت پوری ہوجائے گی اس وقت اللہ تعالیٰ اس دنیا کے نظم و نسق سے بالکل فارغ ہو کر بندوں کے حساب و کتاب کی طرف متوجہ ہوگا اور ایک ایک کا حساب کر کے جس کو جس جزا یا سزا کا سزاوار پائے گا اس کو وہی کچھ دے گا۔ اس اسلوب بیان سے یہ مضمون بھی نکلا کہ یہ کام اللہ تعالیٰ سرسری طور پر نہیں بلکہ پوری یکسوئی سے کرے گا، اس لئے کہ یہی کام درحقیقت اس دنیا کے پیدا کرنے کی غایت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
سرخ تلچھٹ کی طرح
1: فرمایا : کہ یہ زرنگار سقف ، ازرق زواہ ایک وقت آئے گا ۔ کہ آگ کے شعلے اس کو زیتون کی سرخ تلچھٹ کی طرح تپادیں گے ۔ یہ دنیا نجوم وکواکب تیرگی فنا میں گم ہوجائے گی ۔ اور یہ سارا عالم رنگ وبو مٹ جائے گا ۔ پھر ایک وقت آئے گا ۔ جب دوبارہ بساط کون بچھادی جائے گی ۔ اور جن وانس کو کشاں کشاں حی وقیوم خدا کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ اور ان سب لوگوں کو سزا دی جائیگی ۔ جو اس کو نہیں مانتے تھے ۔ جو خواہشات نفس کی تکمیل میں سرگرداں رہتے تھے ۔ جن کی زندگی نصب العین محض یہ تھا ۔ کہ دولت اکٹھی کریں ۔ دنیا کی آسائشوں اور آسودگیوں کو سمیٹ لیں ۔ اور ہر نوع کی لذت سے کلام دوہن کی تواضع کریں ۔ جو…
Read the full tafseer →(34) سوائے جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے - یعنی اس عالم کی خبر دینا بھی حضرت حق تعالیٰ کا احسان ہے روز آخرت کی تفصیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
ف 5۔ یہاں تک تو حساب کا وقوع اور اس کا وقت بتلایا گیا، آگے کیفیت حساب و طریق فیصلہ ارشاد فرماتے ہین۔
Read the full tafseer →پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے
43۔ یہ آسمان ہوں یا زمین یا ان آسمانوں اور زمین کے درمیان جو کچھ ہے اس میں بیشمار نشانیاں موجود ہیں اور ظاہر ہے کہ ان نشانیوں کو دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود لوگ ان سے فائدہ حاصل نہیں کرتے اور جس چیز سے جو فائدہ حاصل کرنا چاہئے اگر اس سے وہ فائدہ حاصل نہ کیا جائے تو یہی اس کا جھٹلانا ہوتا ہے اس لیے اس ترجیح کو بار بار لوٹایا جارہا ہے ، تاکہ لوگ متنبہ ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ ﴿33﴾
(0 genera of Jinns and mankind, If you are able to penetrate beyond the realms of the heavens and the earth, then penetrate. You cannot penetrate except with an authority....55:33)
In the preceding verse jinn and mankind were addressed as Ath-thaqalan and warned that their deeds will be reviewed and every single one of them will attract reward or punishment. The current verse purports to say that no one will be able to hide from…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
32 'The earth and the heavens": the Universe or the Kingdom of God. The verse means to impress this: `It is not in your power to escape Allah's grasp. When the time for the accountability of which you are being foretold comes, you will be seized and brought before God in any case wherever you may be. To go out of God's reach you will have to flee from the Universe of God for which you do trot have the required power. If you feel that you have the power, then you may use that power if you so will. "
Read the full tafseer →