Ar-Rahmaan 55:33

Ar-Rahmaan · from ayah 33

55:33

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ؕ— لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ ۟ۚيٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانْفُذُوۡا‌ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ‌ۚ

اے گروہِ جن وانس اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ۔ اور زور کے سوا تم نکل سکنے ہی کے نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

O company of jinn and mankind, if you are able to pass beyond the regions of the heavens and the earth, then pass. You will not pass except by authority [from Allah].

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:33

اے گروہ جن و انس، گر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو نہیں بھاگ سکتے اِس کے لیے بڑا زور چاہیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے گروہِ جن وانس اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ۔ اور زور کے سوا تم نکل سکنے ہی کے نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے گروه جنات و انسان! اگر تم میں آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے تو نکل بھاگو! بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے انسانوں اور جنات کے گروہ ! اگر تم میں یہ بل بوتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی حدود سے پار نکل سکو، تو پار نکل جاؤ، تم زبردست طاقت کے بغیر پار نہیں ہوسکو گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے جن و انسان کے گروہ اگر تم سے ہوسکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، جہاں نکل کر جاؤ گے اسی کی سلطنت ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے گروہِ جن و اِنس! اگر تم اِس بات پر قدرت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل سکو (اور تسخیرِ کائنات کرو) تو تم نکل جاؤ، تم جس (کرّۂ سماوی کے) مقام پر بھی نکل کر جاؤ گے وہاں بھی اسی کی سلطنت ہوگی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے جن و انس کی جماعت ! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، کسی غلبے کے سوا نہیں نکلو گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے جنوں اور انسانوں کے گروہ ! اگر تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل (کر بھاگ) سکتے ہو تو بھاگ دیکھو ! تم انتہائی زور کے بغیر نکل نہیں سکو گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے جنوں اور انسانوں کے گروہ، اگر تم یہ کرسکو کہ نکل بھاگو آسمانوں اور زمین کے اطراف سے تو نکل بھاگو، تم پروانہ راہداری کے بدون نہیں نکل سکو گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے گروہ جن و انس اگر تم نکل کر بھاگ سکتے ہو آسمانوں اور زمین کی حدود سے تو بھاگ دیکھو تم نہیں بھاگ سکتے مگر زور (اور سند) کے ساتھ

— مولانا اسحاق مدنی

اے گروہ جن وانس اگر تمہیں یہ قدرت ہے کہ آسمانوں اور زمین کے حدود سے کہیں باہر نکل جاؤ تو نکل دیکھو (لیکن) بغیر زور کے نکل سکتے ہی نہیں ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے گروہ جن و انس ! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل بھاگوتو نکل بھاگو۔ تم نکل نہیں سکو گے مگر (اللہ کی) سند کے ساتھ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے گروہ جن و انس اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے

— محترمہ رفعت اعجاز

O company of jinn and men, if you have the power to go beyond the bounds of the heavens and the earth, go beyond them! Yet you will be unable to go beyond them for that requires infinite power.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O genera of Jinn and mankind, If you are able to penetrate beyond the realms of the heavens and the earth, then penetrate. You cannot penetrate without power.

— Muhammad Taqi Usmani

O genera of Jinn and mankind, If you are able to penetrate beyond the realms of the heavens and the earth, then penetrate. You cannot penetrate without power.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O assembly of Jinn and men! If you are able to pass beyond the zones of the heavens and the earth, then pass beyond (them)! But you will never be able to pass them, except with authority (from Allah)!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O company of jinn and men, if ye have power to penetrate (all) regions of the heavens and the earth, then penetrate (them)! Ye will never penetrate them save with (Our) sanction.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O company of jinn and mankind, if you are able to pass beyond the regions of the heavens and the earth, then pass. You will not pass except by authority [from Allah].

— Saheeh International

Jinn and mankind, if you can penetrate the diameters of the heavens and the earth, do so, but you cannot do so without power and authority.

— Muhammad Sarwar

O assembly of the jinn and the men! If you are able to pass through the regions of the heavens and the earth, then pass through; you cannot pass through but with authority.

— Muhammad Habib Shakir

O assembly of Jinn and man! if ye be able to pass out of the regions of the heavens and the earth, then pass out; ye can not pass out except with authority.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye assembly of Jinns and men! If it be ye can pass beyond the zones of the heavens and the earth, pass ye! not without authority shall ye be able to pass!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–36

فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بہ طور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آگیا ہے اب کھرے کھرے فیصلے ہوجائیں گے اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہوگا، محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نمٹنے کا نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ (ثقلین) سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے ثقلین کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 33–34

سورة الرَّحْمٰن 32 زمین اور آسمانوں سے مراد ہے کائنات، یا بالفاظ دیگر خدا کی خدائی۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی گرفت سے بچ نکلنا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ جس باز پرس کی تمہیں خبر دی جا رہی ہے اس کا وقت آنے پر تم خواہ کسی جگہ بھی ہو، بہرحال پکڑ لائے جاؤ گے۔ اس سے بچنے کے لیے تمہیں خدا کی خدائی سے بھاگ نکلنا ہوگا اور اس کا بل بوتا تم میں نہیں ہے۔ اگر ایسا گھمنڈ تم اپنے دل میں رکھتے ہو تو اپنا زور لگا کر دیکھ لو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–34

يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ ، پچھلی آیت میں جن وانس کو بلفظ ثقلین مخاطب کر کے بتلایا گیا تھا کہ قیامت کے روز ایک ہی کام ہوگا کہ سب جن و انس کے اعمال کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے ذرہ ذرہ پر جزاء و سزا ہوگی، اس آیت میں یہ بتلانا منظور ہے کہ روز جزاء کی حاضری اور حساب اعمال سے کوئی شخص راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا، کسی کی مجال نہیں جو موت سے یا روز قیامت کے حساب سے کہیں بھاگ کر بچ نکلے، اس آیت میں ثقلین کے بجائے يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ کے صریح نام ذکر فرمائے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 33–34

(یمعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوامن اقطار السموات والارض فانفذوا لا تفذون الا بسلطن فبای الاء ربکما تکذبین) (33۔ 34) (کوئی چیز خدا کی گرفت سے باہر نہیں ہے)۔ یعنی اگر تمہارا گمان ہے کہ تم بالکل غیر مسئول اور مطلق العنان ہو تو ذرا اللہ کے بنائے ہوئے آسمانوں اور اس کی پیدا کی ہوئی زمین کے حدود سے باہر نکل کر دکھائو تاکہ ثابت ہوجائے کہ تم اس کی گرفت سے آزاد ہو یا ہو سکتے ہو)۔ (لا تنفذون الا بسلطن) لفظ سلطن اختیار و اقتدار کے معنی میں بھی آتا ہے اور سند کے معنی میں بھی۔ یہاں یہ اس دوسرے معنی میں ہے۔ یعنی تم لاکھ چاہو لیکن آسمانوں اور زمین کے حدود سے باہر نہیں نکل سکتے۔ یہ صرف اسی صورت میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 32–33

33۔ 1 یہ تہدید بھی نعمت ہے کہ اس سے بدکار، بدیوں کے ارتکاب سے باز آجائے اور محسن زیادہ نیکیاں کمائے۔ (2) یعنی اگر اللہ کی تقدیر اور قضا سے تم بھاگ کر کہیں جاسکتے ہو تو چلے جاؤ لیکن یہ طاقت کس میں ہے ؟ اور بھاگ کر آخر کہاں جائے گا کون سی جگہ ایسی ہے، جو اللہ کے اختیار سے باہر ہو، بعض نے کہا کہ یہ میدان محشر میں کہا جائے گا، جبکہ فرشتے ہر طرف سے لوگوں کو گھیر رکھے ہونگے۔ دونوں ہی مفہوم اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 33–38

8: مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ طاقت نہیں ہے جس کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کی باز پرس اور عذاب سے بھاگ کر کہیں اور چلے جاؤ۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یمعشر ............ بسلطن (55: 33) (اے گروہ جن وانس ، اگر تم زمین اور آسمان کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو ، نہیں بھاگ سکتے۔ اس لئے کہ اس کے لئے بڑا زور چاہئے) کس طرح تم نکل سکتے ہو ؟ کہاں سے تم بھاگ سکتے ہو ؟ اس کے لئے تو بڑی قوت چاہئے اور قوت اللہ کے پاس ہے اور پھر وہی سوال۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 30–33

1 یعنی اللہ کی حکومت سے کوئی چاہے کہ نکل بھاگے تو بدون قوت اور غلبہ کے کیسے بھاگ سکتا ہے کیا خدا سے زیادہ کوئی قوی اور زور آور ہے۔ پھر نکل کر جائے گا کہاں، دوسری قلمرو کون سی ہے جہاں پناہ لے گا۔ نیز دنیا کی معمولی حکومتیں بدون سند اور پروانہ راہداری کے اپنی قلمرو سے نکلنے نہیں دیتیں تو اللہ بدون سند کے کیوں نکلنے دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33{ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْاط } ”اے گروہ جن و انس ! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل بھاگوتو نکل بھاگو۔“ { لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ۔ } ”تم نکل نہیں سکو گے مگر اللہ کی سند کے ساتھ۔“ یہ آیت مشکلات القرآن میں سے ہے۔ جب تک کائنات cosmos کی وسعتوں کے بارے میں انسان کا علم مزید ترقی نہیں کرجاتا ‘ اس آیت کا مفہوم شاید ہم پوری طرح سمجھ نہ پائیں۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اپنی تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود ابھی تک انسان زمین کی ”حدود“ سے نکل کر نظام شمسی کے کسی ایک سیارے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 32–33

22 نفذ کا لغوی مفہوم :۔ نفذ بمعنی آر پار نکل جانا۔ جیسے لوہے کی سلاخ کے ایک سرے کو آگ پر گرم کیا جائے تو تھوڑی دیر بعد حرارت دوسرے سرے تک از خود جا پہنچتی ہے۔ اور نفاذ بمعنی قوت سے کسی چیز کا اجراء ہونا، جیسے کہتے ہیں کہ اس ملک میں کل سے فلاں فلاں قانون نافذ ہوچکا ہے اور بمعنی چیز کا بسرعت داخل ہونا اور آر پار ہوجانا۔ جیسے برقی رو آر پار نکل جاتی ہے۔ 23 سُلْطٰنٍ بمعنی غلبہ اور شدید قوت بھی اور اتھارٹی لیٹر یا پروانہ ئراہداری بھی۔ اب اگر اس آیت کا اطلاق اس مادی دنیا پر کیا جائے، تو مطلب یہ ہوگا کہ زمین و آسمان کے کناروں تک پہنچنے کے لیے انتہائی قوت کی ضرورت ہے، جیسے انسان چاند پر، جو زمین کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 32–33

19۔ (اور وہ زور تمہیں میسر ہے نہیں) مقصود اس سے وقوع حساب کی تاکید ہے یعنی اس کا احتمال ہی نہیں کہ کوئی بچ کر نکل جائے، اور جب آج بھی اس کا امکان نہیں تو قیامت میں تو مخلوق کا عجز اور زیادہ ظاہر ونمایاں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–34

یامعشر الجن والانس (الآیۃ) اس کا مطلب یہ ہے کہ اے جن اور انسانو ! اگر تمہیں یہ گمان ہو کہ ہم بھاگ جائیں گے اور موت کے چنگل سے بچ جائیں گے، یا میدان حشر سے بھاگ کر نکل جائیں گے اور حساب و کتاب سے بچ جائیں گے تو لو اپنی قوت آزما دیکھو، اگر تمہیں اس پر قدرت ہے کہ آسمان اور زمین کے دائرہ سے باہر نکل جائو، تو نکل کر دکھائو، یہ کوئی آسان کام نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یمعشر الجن والانس ان استطتعم ان تنفذوا من اقطار السموت والارض فانفذوا الا تنفذون الا بسلطن اے اگر وہ جن و انس تم کو اگر یہ قدرت ہے کہ آسمان و زمین کی حدود سے کہیں باہر نکل جاؤ تو نکلو مگر تم بغیر زور کے نہیں نکل سکتے (اور زور ہے نہیں) اِنِ اسْتَطَعْتُمْ.... یعنی اگر تم اللہ کے فیصلے اور حکم سے بھاگ کر آسمانوں کے اور زمین کے کناروں سے باہر نکل سکتے ہو تو بھاگو اور نکل جاؤ۔ یہ امر تعجیز ہے یعنی تم ایسا کرنے سے عاجز ہو۔ بعض اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ آسمان و زمین کے اطراف کو پار کر کے اگر تم موت سے بھاگ سکتے ہو تو بھاگو اور نکل جاؤ۔ غرض یہ کہ تم جہاں بھی ہو گے ‘ موت تم کو آپہنچے گی۔ بعض…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 33–34

(33۔ 34) اے گروہ جن و انس کے اگر تمہیں یہ قدرت ہے کہ آسمانوں اور زمین کی حدود اور فرشتوں کی صفوں سے کہیں باہر نکل جاؤ تو نکلو بھاگو مگر بغیر طاقت اور زور کے نہیں نکل سکتے اور طاقت و زور ہے نہیں سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یٰـمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ۔۔۔۔۔:”معشر“”عشر“ سے ’ ’ مفعل“ کے وزن پر ہے ، کثیر التعداد جماعت کو کہتے ہیں ، کیونکہ اس میں بہت سے عشرات پائے جاتے ہیں ، جن کا شمار یکے بعد دیگرے دہائیوں میں ہوتا ہے۔ ’ ’ افطار“ ”فطر“ کی جمع ہے، کنارا۔ ”سلطان“ قدرت اور غلبہ۔ یعنی اے جنوں اور انسانوں کی جماعت ! دنیا میں اگر تم موت سے بچنے کے لیے آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جاؤ ، مگر تم اللہ تعالیٰ پر غالب آکر ہی نکل سکو گے : جس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، جیسا کہ فرمایا (اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ط)…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 33–36

سنفرغ لکم ایھا الثقلن۔ یوں کہا جاتا ہے : میں نے اپنی کوششیں خرچ کیں۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا کام نہیں جس سے فارغ ہو۔ اس کا معنی ہے ہم تمہیں جزا دینے اور تمہارا حساب لینے کا ارادہ کرتے ہیں۔ یہ ان کے لئے دھمکی ہے جس طرح جب کوئی دھمکی کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے : یعنی میں تیرا قصد کرتا ہوں۔ فرغ قصد کے معنی میں ہے۔ ابن انباری نے اس کی مثل معاملہ میں پڑھا : خبردار ! اب میں نے نمیر کا قصد کیا۔ نحاس نے کہا : میں نے بیٹری میں قید غلام کا قصد کیا۔ حدیث میں ہے نبی کریم ﷺ نے جب لیلۃ العقبہ کو انصار سے بیعت لی شیطان نے چیخ ماری : میں مقیم لوگو ! یہ مذمم (نعوذ باللہ) تمہارے خلاف جنگ کرنے کے لئے بنی قبلہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 33–34

9:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یرسل علیکما شواظ من نار '' سے مراد ہے کہ شعلہ آگ میں سے۔ 10:۔ ھناد وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے (آیت ) '' یرسل علیکما شواظ من نار '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ سرخ شعلہ جو آگ سے جدا ہوجاتا ہے اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اس سے مراد ہے سرخ آگ میں سے ایک ٹکڑا (آیت ) '' ونحاس '' سے مراد ہے کہ تانبا پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں میں ڈالا جائے گا۔ 11:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یرسل علیکما شواظ من نار '' '' ونحاس '' کی یہ دو وادیاں ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ [ اے انسانوں اور جنوں کے گروہ ] اِنِ اسْتَطَعْتُمْ [ اگر تمہیں استطاعت ہے ] اَنْ تَنْفُذُوْا [ کہ تم لوگ پار نکل جاؤ ] مِنْ اَقْـطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ آسمانوں اور زمینوں کے کناروں سے ] فَانْفُذُوْا ۭ [ تو نکل جا ] لَا تَنْفُذُوْنَ [ تم لوگ نہیں نکل سکوگے ] اِلَّا بِسُلْطٰنٍ [ مگر کسی قوت سے ] نوٹ۔ 4: مِنْ اَقْـطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ میں آسمانوں اور زمین سے مراد ہے کائنات یا بالفاظ دیگر خدا کی خدائی ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی گرفت سے بچ نکلنا تمہارے بس میں نہیں ہے ۔ جس باز پرس کی تمہیں خبردی جارہی ہے اس کا وقت آنے پر تم خواہ کسی جگہ بھی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–34

ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات عالیہ اور انسان اور جنات کی عاجزی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی بیان فرمایا کہ اس دنیا میں جو کچھ کرتے ہو یہ نہ سمجھو کہ عمل کرنے میں آزاد ہو، اعمال کی پوچھ گچھ ہوگی۔ جزا و سزا کا دن آنے والا ہے، تمہارے حساب و کتاب کے لیے ہم عنقریب فارغ ہوں گے یعنی تمہارا محاسبہ کریں گے مخلوق کے سمجھانے کے لیے مجازاً ایسا فرمایا ورنہ حق تعالیٰ شانہٗ کو کوئی بھی فعل دوسرے فعل سے مانع نہیں ہوسکتا كُلَّ يَوْمٍ کا ترجمہ کل وقت اس لیے کیا گیا کہ مخلوق میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کے تصرفات جاری رہتے ہیں۔ حساب و کتاب کی خبر دے کر پہلے سے آگاہ فرمانا یہ اللہ کی عظیم نعمت ہے اسی لیے فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–45

عظمت خداوند رب انام مع ذکر اہوال قیامت وذلت و بدحالی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ...... الی ........ تکذبن “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں فرمائی تھیں جن کے ضمن میں ان گراں قدرانعامات کا ذکر فرمایا جو جن وانس پر کی گئیں اور ظاہر ہے کہ ان دلائل و انعامات کا متقضی یہی ہے کہ جن وانس اسکی اطاعت و بندگی میں مصروف ہوجائیں اب ان آیات میں عظمت خداوندی کا بیان ہے اور قیامت کی ہول وشدت اور اس میں مجرمین پر جو ندامت وذلت ہوگی اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے ہولناک احوال میں منکرین ومکذبین کا کیسا عبرتناک حال ہوگا۔ ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–34

13:۔ ” سنفرغ لکم۔ الایۃ “ یہ تخویف کے لیے تمہید ہے۔ یہ ایک کام سے دوسرے کام میں مشغول ہونے سے کنایہ ہے اور یہاں اس سے محض تہدید مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایک شغل دوسرے شغل سے مانع نہیں ہے۔ یعنی اے جن و انس میں عنقریب ہی تمہیں سزا دینے والا اور تم سے انتقام لینے والا ہوں۔ ” یمعشر الجن۔ الایۃ “ یہ تخویف دنیوی ہے اے جن وانس اگر تم میں یہ قدرت و استطاعت موجود ہے کہ تم موت سے اور میرے عذاب سے بچنے کے لیے زمین و آسمان کی سرحدوں کو پار کر کے کسی محفوظ مقام میں پہنچ جاؤ تو ذرا نکل کر دکھاؤ تو سہی، لیکن یادرکھو ! خدا کے مقابلے میں قوت و شوکت اور قہر و غلبہ کے بغیر تم کہیں نہیں جاسکتے مگر یہ قول و…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–36

ربطہ آیات گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنی مخلوق خاص طور پر انسانوں اور اہل ایمان پر کیے ہیں۔ پھر اپنی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کیا جو اس کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر دلیل بنتی ہیں اب آج کے درس میں اللہ نے جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔ فانی اور باقی ارشاد ہوتا ہے کل من علیھا فانٍ جو کچھ بھی زمین پر ہے ، وہ فنا ہونے والا ہے۔ گذشتہ درس میں فرمایا والارض وضعھا للانام ہم نے زمین کو اپنی مخلوق کے لیے بچھا دیا۔ اللہ کی بیشمار مخلوق انسان ، جانور ، درندے پرندے ، کیڑے مکوڑے اس زمین پر آباد ہیں اور اسی سے پیدا ہونے والی روزی استعمال کرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا۝ 0 ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ۝ 33 ۚ یمعشر الجن والانس : یا حرف نداء ہے معشر الجن والانس منادی۔ معشر الجن مضاف مضاف الیہ ۔ الانس کا عطف الجن پر ہے۔ ای و معشر الانس، مشعر اسم مفرد ہے۔ بڑا گروہ ۔ اس کی جمع معاشر ہے۔ اے گروہ جن و انس جِنّ ( شیطان) والجِنّ يقال علی وجهين : أحدهما للروحانيين المستترة عن الحواس کلها بإزاء الإنس، فعلی هذا تدخل فيه الملائكة والشیاطین، فكلّ ملائكة جنّ ، ولیس کلّ جنّ ملائكة، وعلی هذا قال أبو صالح «4» : الملائكة كلها جنّ ، وقیل : بل الجن بعض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–34

ترکیب : فانٍ خبر لکل من ذوالجلال بالرفع علیٰ انہ لغت للوجہ وبالجر لغتا للمجرور۔ یسئلہ مستانف اوحال من وجہ والعامل فیہ یبقٰی۔ کل ظرف لمادل علیہ ھوفی شان لاتنفذون لانافیۃ شواظ بالضم والکسر لغتان ھو اللہب الذی لادخان معہ۔ من نار صفۃ او متعلق بالفعل۔ نحاس بالرفع عطفا علی شواظ بالجر عطفا علے نار والاول اقوی۔ تفسیر : دلائلِ توحید میں عالم اور اس کی عمدہ اور نافع چیزیں پیدا کرنے کا ذکر تھا تاکہ معلوم ہو کہ یہ عالم قدیم نہیں بلکہ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اس کے بعد عالم فنا کرنے کی قدرت بیان کرتا ہے اور ان کے فنا کرنے میں اپنی قدرت و جبروت ظاہر فرما کر تیسرے مسئلہ حشر کو بھی اسی کلام کے دوسرے پہلو میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 33–34

یٰمَعْشَرَالْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ط لاَ تَنْفُذُوْنَ اِلاَّ بِسُلْطٰنٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 33، 34) (اے جنوں اور انسانوں کے گروہ اگر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو، تم نہیں بھاگ سکتے، مگر سلطان کے ساتھ۔ تو تم اپنے رب کے کن کن اختیارات کو جھٹلائو گے۔ ) کوئی مخلوق اللہ تعالیٰ کی دسترس سے باہر نہیں براہِ راست جنوں اور انسانوں سے خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ تم اگر یہ سمجھتے ہو کہ تم بالکل غیرمسؤل اور مطلق العنان ہو۔ نہ اس دنیا میں تم پر کوئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–36

فہم القرآن ربط کلام : جو جن اور انسان اللہ تعالیٰ سے اس کے حکم کے مطابق نہیں مانگتے انہیں چیلنج کیا گیا ہے۔ رب ذوالجلال کا فرمان ہے۔ اے جن اور انسانو ! عنقریب ہم تمہارے لیے فارغ ہونے والے ہیں اور تم اپنے رب کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرپاؤ گے اگر تمہیں اس کے مقابلے میں طاقت حاصل ہے تو کھلے الفاظ میں تمہیں چیلنج کیا جاتا ہے کہ تم زمین و آسمان کے کناروں سے باہر نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ۔ لیکن تم اس کی بادشاہت سے نکل نہیں سکتے سوائے قوت کے وہ قوت صرف تمہارے رب کے پاس ہے لہٰذا تم اپنے رب کی قوت کو جھٹلا نہیں سکتے۔ ہر دور کے سائنسدان اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ زمین و آسمان اپنی اپنی حیثیت اور مقام پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

33 : یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ (اے گروہ جن و انس) یہ ایھا الثقلان کا گویا ترجمہ ہے۔ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا (تم کو اگر یہ قدرت ہے کہ آسمان و زمین کی حدود سے کہیں باہر نکل جائو۔ تو نکلو) یعنی اگر تم آسمان و زمین کی اطراف و جوانب سے نکل کر میری قضاء سے بھاگ سکتے ہو تو پھر نکل جائو۔ پھر فرمایا۔ لَا تَنْفُذُ وْنَ (تم نکلنے کی طاقت نہیں رکھتے) اِلَّا بِسُلْطٰنٍ (مگر قوت و غلبہ زور کے ذریعے) اور وہ تمہیں کہاں میسر ہے ؟ ایک قول یہ ہے کہ اس میں آسمان و زمین کی اطراف سے نکلنے کی عاجزی سے مقصود یہ ہے کہ حساب کے لئے تمہاری قوت کا عجز…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–36

31۔ 36۔ اللہ تعالیٰ کی شان تو اس سے بہت عالی اور برتر ہے کہ اس کو کسی کام سے فرصت اور فراغت حاصل کرنے کی ضرورت ہو کیونکہ یہ تو مخلوق کی شان ہے کہ ایک کام سے فارغ ہوں تو دوسرا کام کریں لیکن جس طرح اردو کے محاورہ میں بولا جاتا ہے کہ سو کام چھوڑ کر یہ کام کیا جائے گا حالانکہ ایسے موقع پر نہ سو کام ہوتے ہیں نہ ان کا چھوڑنا حقیقت میں مقصود ہوتا ہے بلکہ جس کام کے کرنے کا ارادہ ظاہر کرکے یہ محاورہ کی بات کہی جاتی ہے اصل میں اس با سے اس کام کا ضروری ہونا جتلایا جاتا ہے اسی طرح قیامت اور اس کے حساب و کتاب اور سزا و جزا کے جو لوگ منکر ہیں ان کی تنبیہ کے لئے عربی کے محاورہ کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–34

جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے روز جمع کرے گا تو انہیں ان کی کمزوری وبے بسی اور اپنی کامل طاقت اپنی مشیت اور قدرت کی تنفیذ سے آگاہ کرے گا اور ان کی بےبسی کو ظاہر کرتے ہوئے فرمائے گا۔ (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) یعنی اے جنوں اور انسانوں کی جماعت۔ اگر تمہیں کوئی راستہ اور کوئی سوراخ ملتا ہے جہاں سے تم اللہ کی بادشاہی اور اس کی سلطنت سے نکل بھاگو۔ (فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ ) تو تم نکل بھاگوا لیکن تم قوت، طاقت اور کامل قدرت کے بغیر اللہ تعالیٰ کی سلطنت سے باہر نہیں نکل سکتے یہ قوت انہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–36

لئو لئو اور مرجان قول باری ہے (یخرج منھما اللئو لئو والمرجان ان دونوں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں) یہاں مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک سے کیونکہ موتی اور مونگے سمندر کے کھارے پانی سے برآمد ہوتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں برآمد ہوتے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (یا معشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے) جب کہ رسول صرف انسانوں میں سے بھیجے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حسن، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ مرجان چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق مرجان مخلوط قسم کے جواہرات کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ” مرحت “ سے نکلا ہے جس کے معنی مخلوط ہوجانے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 26] گروہ جن و انس کو تنبیہ و تذکیر : سو ان دونوں گروہوں کو خطاب کرکے بطور تنبیہ ارشاد فرمایا گیا کہ تم دونوں اے گروہ جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ کہ ہم نے تمہیں تمہارے انجام سے اس طرح پیشگی خبردے دی تاکہ تم اس کے لئے تیاری کرسکو، اور عمر رواں کے ایک ایک لمحہ کو غنیمت سمجھو اور اس سے پورا فائدہ اٹھاؤ، لیکن تم نے اگر اس کے باوجود اس سے اعراض ہی برتا، اور روگردانی ہی سے کام لیا تو پھر سوچو کہ اس وقت تمہارا کیا بنے گا، جب تم اس روز جزاء کو اپنے سامنے دیکھو گے ؟ جبکہ کوئی مفر نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–34

جن و انس سب اللہ کے سامنے کمزور وبے بس ہیں تشریح : یہاں جن و انس کی بےبسی کو اس طرح بتایا گـیا ہے کہ تمہاری ہر حرکت اللہ کے بس میں ہے۔ اگر یہ غلط ہے تو پھر چلو یہ جو حدود آسمانوں اور زمین کی اللہ نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے پورا زور لگاؤ اور ان سے باہر نکل کر دکھاؤ۔ یہ تمہاری قدرت سے باہر ہے تم ہرگز ان حدود سے باہر نہیں نکل سکتے تو کیا اب بھی تم اللہ کی عظمت، طاقت اور قدرت کا انکار کرتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–45

آیات 26 تا 45۔ اسرار ومعارف۔ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اپنی ذات میں فانی ہے اور روز قیامت فنا ہوگا ہاں بقا اور ہمیشہ کا رہنا صرف ذات باری کے لیے ہے جو بہت عظمت کا مالک ہے کہ اپنی بقا میں اور اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج نہیں اور صاحب اکرام ہے کہ ساری مخلوق پہ اس کا کرم و احسان عام ہے جو ساری ہی اس کی محتاج ہے اور اس کے سہارے قائم ہے تو بھلا اس کے احسانات کیسے بھلاپاؤ گے سب کی سب مخلوق زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں ہرگھڑی اس کے دروزاے پر دست سوال دراز کیے کھڑی ہے۔ اور سب اس ذات سے ہر شے مانگ رہے ہیں اور ہر روز ہر آن اس کی عظمت کا اظہار کئی کئی شانوں سے ہورہا ہے اور اس کی عطا بٹ رہی ہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:33) یمعشر الجن والانس : یا حرف نداء ہے معشر الجن والانس منادی۔ معشر الجن مضاف مضاف الیہ ۔ الانس کا عطف الجن پر ہے۔ ای و معشر الانس، مشعر اسم مفرد ہے۔ بڑا گروہ ۔ اس کی جمع معاشر ہے۔ اے گروہ جن و انس ان استطعتم : ان شرطیہ ہے استطعتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ استطاعۃ (استفعال) مصدر (ماضٰ بمعنی حال ہے) تم کرسکتے ہو، تم سے ہوسکتا ہے۔ تم میں استطاعت ہے۔ ان تنفذوا : ان مصدریہ ہے ینفذوا مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) جمع مذکر حاضر۔ نفوذ (باب نصر) مصدر۔ تم نکل بھاگو۔ تم باہر چلے جاؤ۔ من اقطار السموت والارض۔ مضاف مضاف الیہ۔ اقطار جمع قطر کی بمعنی جانب یا طرف۔ انفذوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ نفوذ (باب نصر)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–45

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 45 فان فنا ہونے والا ۔ وجہ چہرہ، ذات۔ ذوالجلا عزت و عظمت والا۔ یسئل سوال کرتا ہے۔ شان ضروری کام، شان ۔ الثقلن دو بڑی بھاری مخلوق۔ معشر گروہ، جماعت تنفذوا تم نکل بھاگو۔ اقطار کنارے۔ سلطان طاقت و قوت شواظ شعلے نحاس دھواں لاتنصران تم بدلہ نہ لے سکو گے انشقت پھٹ پڑی وردۃ سرخ الدھان رنگا ہوا سرخ چمڑا یعرف پہچان لیا گیا۔ النواصی پیشانیاں یطرفون وہ گھو میں گے۔ حمیم کھولتا وہا۔ ان بہت کھولتا ہوا گرم پانی۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 45 اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر سب سے بڑا کرم اور نعمت یہ ہے کہ اس نے قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی انسانوں اور جنات کو اس بات سے پوری طرح آگاہ کردیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–37

(ف 1) پہلے صور سے جب ساری دنیا اجڑے گی ایک دفعہ تو آسمان اسی وقت پھٹے گا اور پھر حشر کے لیے دوسرا صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت دنیا کا آسمان پھٹے گا اور اس میں دروازے ہوجائیں گے جن دروازوں سے حشر کے انتظام کے فرشتے زمین پر اتریں گے ان آیتوں میں آسمان کی اسی دوسری حالت کا ذکر ہے کیونکہ اس کے بعد مجرموں کے دوزخ میں ڈالے جانے کا حال ہے جو دوسرے صورت کے بعد ہوگا حضرت عبداللہ بن مسعود کی صحیح مسلم اور ترمذی کی حدیث ہے کہ دوزخ کو محشر کے میدان میں لایاجائے گا اس وقت کی دوزخ کی لپٹ سے آسمان طرح طرح کا رنگ بدلے گا سی کا ذکر ان آیتوں میں ہے کبھی آسمان کا رنگ گلابی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–38

[9] فارغ ہونے سے اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ ابھی تو اس دنیا کا کارخانہ چل رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ یہ اپنی مدت پوری کرے۔ جب یہ مدت پوری ہوجائے گی اس وقت اللہ تعالیٰ اس دنیا کے نظم و نسق سے بالکل فارغ ہو کر بندوں کے حساب و کتاب کی طرف متوجہ ہوگا اور ایک ایک کا حساب کر کے جس کو جس جزا یا سزا کا سزاوار پائے گا اس کو وہی کچھ دے گا۔ اس اسلوب بیان سے یہ مضمون بھی نکلا کہ یہ کام اللہ تعالیٰ سرسری طور پر نہیں بلکہ پوری یکسوئی سے کرے گا، اس لئے کہ یہی کام درحقیقت اس دنیا کے پیدا کرنے کی غایت ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–37

سرخ تلچھٹ کی طرح 1: فرمایا : کہ یہ زرنگار سقف ، ازرق زواہ ایک وقت آئے گا ۔ کہ آگ کے شعلے اس کو زیتون کی سرخ تلچھٹ کی طرح تپادیں گے ۔ یہ دنیا نجوم وکواکب تیرگی فنا میں گم ہوجائے گی ۔ اور یہ سارا عالم رنگ وبو مٹ جائے گا ۔ پھر ایک وقت آئے گا ۔ جب دوبارہ بساط کون بچھادی جائے گی ۔ اور جن وانس کو کشاں کشاں حی وقیوم خدا کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ اور ان سب لوگوں کو سزا دی جائیگی ۔ جو اس کو نہیں مانتے تھے ۔ جو خواہشات نفس کی تکمیل میں سرگرداں رہتے تھے ۔ جن کی زندگی نصب العین محض یہ تھا ۔ کہ دولت اکٹھی کریں ۔ دنیا کی آسائشوں اور آسودگیوں کو سمیٹ لیں ۔ اور ہر نوع کی لذت سے کلام دوہن کی تواضع کریں ۔ جو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(33) اے گروہ جن وانس اگر تم کو آسمان و زمین کی حدود اور آسمان و زمین کے کناروں سے باہر نکل جانے کی قدرت اور استطاعت ہے تو نکل جائو تم بغیر کسی زور اور قوۃ کے نہیں نکل سکتے اور وہ زور ہے نہیں۔ یعنی اگر حدود ارضی اور سماوی سے کہیں نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جائو لیکن بھاگ سکتے نہیں کیونکہ بھاگنا ہوسکتا ہے زور اور سطوت و طاقت سے وہ ہے نہیں۔ لہٰذا حدود ارضی وسماوی سے نکلنا بھی نہیں ہوسکتا جس طرح آج تمہاری حالت کمزور ی اور بےبسی کی ہے اسی طرح عالم آخرت میں بھی تم عاجز اور بےبس ہوگے کہیں بچ کر بھاگ نہ سکوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 32–38

ف 5۔ یہاں تک تو حساب کا وقوع اور اس کا وقت بتلایا گیا، آگے کیفیت حساب و طریق فیصلہ ارشاد فرماتے ہین۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے جن وانس کے گروہ اگر تم سے ہو سکے اور تم بھاگ سکو تو ذرا بھاگ کر دکھائو 33۔ (یمعشر) اسم مفرد ہے جس کے معنی ہیں بڑا گروہ۔ اس کی جمع ہے معاشر جنس انسان کے دو ہی بڑے گروہ ہیں جن کا ذکر پیچھے سے چلا آرہا ہے یعنی جن وانس اور ان دونوں کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ تمہیں سمجھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن تم نے دلائل عقلی ونقلی دونوں کو ٹھکرا دیا اور ایک قدم بھی اپنے ارادہ اور اختیار کے ساتھ سیدھانہ اٹھایا لیکن اس کے باوجود تم جہاں رہ رہے ہوں جہاں بس رہے ہو ، جہاں پر یہ بداعتدالیاں کر رہے ہو یہ زمین بھی اللہ کی بنائی ہوئی ہے اور تمہارے سروں پر جو آسمان نظر آرہا ہے وہ بھی اسی رب ذوالجلال والا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–34

يَا مَعْشَرَ‌ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ‌ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ ﴿33﴾ (0 genera of Jinns and mankind, If you are able to penetrate beyond the realms of the heavens and the earth, then penetrate. You cannot penetrate except with an authority....55:33) In the preceding verse jinn and mankind were addressed as Ath-thaqalan and warned that their deeds will be reviewed and every single one of them will attract reward or punishment. The current verse purports to say that no one will be able to hide from…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–34

32 'The earth and the heavens": the Universe or the Kingdom of God. The verse means to impress this: `It is not in your power to escape Allah's grasp. When the time for the accountability of which you are being foretold comes, you will be seized and brought before God in any case wherever you may be. To go out of God's reach you will have to flee from the Universe of God for which you do trot have the required power. If you feel that you have the power, then you may use that power if you so will. "

Read the full tafseer →