Ar-Rahmaan 55:32

Ar-Rahmaan · from ayah 32

55:32

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۟فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

So which of the favors of your Lord would you deny?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:32

(پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے دونوں جتھو ! تو تم اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس !) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

سو تم (دونوں) اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تم تو اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

— محترمہ رفعت اعجاز

(We shall then see), which of the favours of your Lord will you twain – you men and jinn – then deny?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani

So, which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then which of the blessings of your Lord will you both deny

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Which is it, of the favours of your Lord, that ye deny?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So which of the favors of your Lord would you deny?

— Saheeh International

(Jinn and mankind) - which of the favors of your Lord would you then deny?

— Muhammad Sarwar

Which then of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Habib Shakir

Which, then, of the benefits of your Lord will ye twain belie?

— Abdul Majid Daryabadi

Then which of the favours of your Lord will ye deny?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–36

فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بہ طور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آگیا ہے اب کھرے کھرے فیصلے ہوجائیں گے اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہوگا، محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نمٹنے کا نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ (ثقلین) سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے ثقلین کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّحْمٰن 31 یہاں آلاء کو قدرتوں کے معنی میں بھی لیا جاسکتا ہے۔ سلسلہ کلام کو نگاہ میں رکھا جائے تو یہ دونوں معنی ایک ایک لحاظ سے مناسب نظر آتے ہیں۔ ایک معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ آج تم ہماری نعمتوں کی ناشکریاں کر رہے ہو اور کفر، شرک، دہریت، فسق اور نافرمانی کے مختلف رویے اختیار کر کے طرح طرح کی نمک حرامیاں کیے چلے جاتے ہو، مگر کل جب باز پرس کا وقت آئے گا اس وقت ہم دیکھیں گے کہ ہماری کس کس نعمت کو تم اتفاقی حادثہ، یا اپنی قابلیت کا ثمرہ، یا کسی دیوی دیوتا یا بزرگ ہستی کی مہربانی کا کرشمہ ثابت کرتے ہو۔ دوسرے معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ آج تم قیامت اور حشرو نشر اور حساب و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–32

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَيُّهَا الثَّقَلٰنِ ، ثقلان ثقل کا تثنیہ ہے جس کے معنی وزن اور بوجھ کے ہیں، ثقلان دو بوجھ، مراد اس سے انسان اور جنات ہیں، لفظ ثقل عربی زبان میں ہر ایسی چیز کے لئے بولا جاتا ہے جس کا وزن اور قدر و قیمت معروف ہو، اسی لئے حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے، انی تارک فیکم الثقلین الخ یعنی میں اپنے بعد دو وزن دار قابل قدر چیزیں چھوڑتا ہوں، جو تمہاری ہدایت و اصلاح کا کام دیتی رہیں گی، ان دونوں چیزوں کا بیان بعض روایات میں کتاب اللہ و عترتی آیا ہے، بعض میں کتاب اللہ و سنتی اور حاصل دونوں کا ایک ہی ہے کیونکہ عترت سے مراد اپنی اولاد ہے جس میں نسبی اور روحانی دونوں قسم کی اولاد شامل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 31–32

2۔ آگے آیات 31۔ 45 کا مضمون آگے اس دن کی تصویر آرہی ہے جس سے لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔ نظم کلام بالکل واضح ہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔ (آیات 31۔ 45) 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت۔ (سنفرع لکم ایہ الثقلن فبای الاء ربکما تکذبن) (31۔ 32) (جزاء و سزا کی وعید)۔ ثقلن سے مراد جن و انس، دونوں من حیث الجماعت ہیں۔ جماعتی حیثیت میں چونکہ دونوں بھاری بھر کم بن جاتے ہیں اس وجہ سے ’ ثقلن ‘ کا لفظ استعمال ہوا۔ اس لفظ استعمال ہوا۔ اس لفظ کے استعمال سے اس چیلنج کی منگنی واضح ہوتی ہے جو اس آیت میں جنوں اور انسانوں دونوں گروہوں کو ہیک وقت دیا گیا ہے۔ مطلب یہ نکلا کہ خواہ تم کتنے ہی بھاری لشکر ہو لیکن اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 32–33

33۔ 1 یہ تہدید بھی نعمت ہے کہ اس سے بدکار، بدیوں کے ارتکاب سے باز آجائے اور محسن زیادہ نیکیاں کمائے۔ (2) یعنی اگر اللہ کی تقدیر اور قضا سے تم بھاگ کر کہیں جاسکتے ہو تو چلے جاؤ لیکن یہ طاقت کس میں ہے ؟ اور بھاگ کر آخر کہاں جائے گا کون سی جگہ ایسی ہے، جو اللہ کے اختیار سے باہر ہو، بعض نے کہا کہ یہ میدان محشر میں کہا جائے گا، جبکہ فرشتے ہر طرف سے لوگوں کو گھیر رکھے ہونگے۔ دونوں ہی مفہوم اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 31–32

6: اصل عربی لفظ ثقلان ہے جس کے معنی ہیں دو بھاری چیزیں، اور اس سے مراد جنات اور انسان ہیں، کیونکہ یہی دو مخلوقات ہیں جنہیں اس کائنات میں عقل و شعور کے علاوہ مکلف بننے کی صلاحیت بخشی گئی ہے۔ 7: یہاں فارغ ہونا مجازی معنی میں استعمال ہوا ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تو اللہ تعالیٰ کائنات کے دوسرے امور انجام دے رہے ہیں اور ابھی حساب لینے کی طرف متوجہ نہیں ہوئے، لیکن وہ وقت عنقریب آنے والا ہے جب اللہ تعالیٰ حساب کی طرف متوجہ ہوں گے۔ واضح رہے کہ آگے آیت نمبر 44 تک دوزخیوں کے عذاب کا تذکرہ ہے، اور اس کے ساتھ بھی یہ فقرہ ہر جگہ فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے ؟…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فبای ................ تکذبن (55: 23) (پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرو گے ؟ )

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 30–33

1 یعنی اللہ کی حکومت سے کوئی چاہے کہ نکل بھاگے تو بدون قوت اور غلبہ کے کیسے بھاگ سکتا ہے کیا خدا سے زیادہ کوئی قوی اور زور آور ہے۔ پھر نکل کر جائے گا کہاں، دوسری قلمرو کون سی ہے جہاں پناہ لے گا۔ نیز دنیا کی معمولی حکومتیں بدون سند اور پروانہ راہداری کے اپنی قلمرو سے نکلنے نہیں دیتیں تو اللہ بدون سند کے کیوں نکلنے دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 32–33

22 نفذ کا لغوی مفہوم :۔ نفذ بمعنی آر پار نکل جانا۔ جیسے لوہے کی سلاخ کے ایک سرے کو آگ پر گرم کیا جائے تو تھوڑی دیر بعد حرارت دوسرے سرے تک از خود جا پہنچتی ہے۔ اور نفاذ بمعنی قوت سے کسی چیز کا اجراء ہونا، جیسے کہتے ہیں کہ اس ملک میں کل سے فلاں فلاں قانون نافذ ہوچکا ہے اور بمعنی چیز کا بسرعت داخل ہونا اور آر پار ہوجانا۔ جیسے برقی رو آر پار نکل جاتی ہے۔ 23 سُلْطٰنٍ بمعنی غلبہ اور شدید قوت بھی اور اتھارٹی لیٹر یا پروانہ ئراہداری بھی۔ اب اگر اس آیت کا اطلاق اس مادی دنیا پر کیا جائے، تو مطلب یہ ہوگا کہ زمین و آسمان کے کناروں تک پہنچنے کے لیے انتہائی قوت کی ضرورت ہے، جیسے انسان چاند پر، جو زمین کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 32–33

19۔ (اور وہ زور تمہیں میسر ہے نہیں) مقصود اس سے وقوع حساب کی تاکید ہے یعنی اس کا احتمال ہی نہیں کہ کوئی بچ کر نکل جائے، اور جب آج بھی اس کا امکان نہیں تو قیامت میں تو مخلوق کا عجز اور زیادہ ظاہر ونمایاں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–32

سنفرغ لکم ایۃ الثقلان، ثقلان، ثقل کا تثنیہ ہے، ثقل خاص وطر پر اس بوجھ کر کہتے ہیں جو کسی پر لدا ہوا ہو اور قابل قدر شئی کو بھی کہت یہیں اور ایک حدیث میں یہی معنی مراد ہیں، مردا اس سے جنات اور انسان ہیں اس لئے کہ شروع سے روئے سخن انہی کی طرف ہے، مطلب یہ ہے کہ اے جن اور انسانو ! جو زمین پر بوجھ بنے ہوئے ہو میں عنقریب تمہاری خبر لینے کے لئے متوجہ ہونے والا ہوں، اس کا یہ مطلب یہ ہے کہ اے جن اور انسانو ! جو زمین پر بوجھ بنے ہوئے ہو میں عنقریب تمہاری خبر لنیے کے لئے متوجہ ہونے والا ہوں، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ ایسا مغشول ہے کہ اسے ان نافرمانوں سے باز پرس کرنے کی فرصت نہیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فبای الا ربکما تکذبان . سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “ (فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : متاخرین کے قول کے مطابق فراغت سے مراد تہدید وغیرہ ہو تو اس آیت کا مطلب ظاہر ہے کہ نعمتوں کی تکذیب نہ کرو۔ تکذیب نعمت الٰہیہ موجب عذاب ہے۔ اٰلَآء : سے نعمت مراد ہے خواہ اس کا ذکر آیت میں ہو یا نہ آیا ہو۔ بعض لوگوں نے کہا : عذاب سے ڈرانا بھی ایک نعمت ہے کیونکہ تہدید کی وجہ سے آدمی تکذیب سے باز آجاتا ہے۔ یہ قول خواہ مخواہ کا تکلف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–32

(31۔ 32) سو اے جن و انس ہم تمہارے دنیاوی کاموں کو محفوظ کرا لیتے ہیں اور عنقریب قیامت میں تم سے ان اعمال پر حساب و کتاب لیں گے سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : اس نظام عالم کو درہم برہم کر کے قیامت برپا کرنا ، ان دونوں جماعتوں سے حساب لینا ، پھر اس کے مطابق جزاء و سزا دینا اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی عظیم قدرت کا اظہار بھی ہے اور اہل ایمان کے لیے بہت بڑی نعمت بھی ، جس کے متعلق فرمایا :(فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ)”کہ تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 29–32

یسئلہ من فی السماوات۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آسمانوں میں جو ہے وہ رحمت کا سوال کرتا ہے اور زمین میں جو کوئی ہے وہ رزق کا سوال کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس اور ابو صالح نے کہا : اہل آسمان مغفرت کا سوال کرتے ہیں وہ رزق کا سوال نہیں کرتے اور اہل زمین دونوں چیزوں کا سوال کرتے ہیں ابن جریج نے کہا : ملائیکہ اہل زمین کے لئے رزق کا سوال کرتے ہیں۔ دونوں سوال اہل زمین کے لئے ہیں وہ سوال آسمان والوں کی جانب سے ہو یا اہل زمین کی جانب سے ہو۔ حدیث میں ہے ” فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جس کے چار چہرے ہیں ایک چہرہ انسان کے چہرہ کی طرح ہے وہ اللہ تعالیٰ سے انسانوں کے لئے رزق کا سوال کرتا ہے، ایک چہرہ شیر کے چہرے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–32

اللہ تعالیٰ کا حساب کی طرف متوجہ ہونا : 1:۔ عبدبن حمید (رح) وعبد الرزاق (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ''' سنفرغ لکم ایھا الثقلن '' (اے جن وانس ہم عنقریب تمہارے (حساب کتاب) کے لئے خالی ہوجاتے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی مخلوق سے (حساب کتاب کے لئے) توجہ اور قصد قریب ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وبن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ''' سنفرغ لکم ایھا الثقلن '' سے مراد وعید ہے۔ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ''' سنفرغ لکم ایھا الثقلن '' کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وعید ہے اللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–34

ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات عالیہ اور انسان اور جنات کی عاجزی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی بیان فرمایا کہ اس دنیا میں جو کچھ کرتے ہو یہ نہ سمجھو کہ عمل کرنے میں آزاد ہو، اعمال کی پوچھ گچھ ہوگی۔ جزا و سزا کا دن آنے والا ہے، تمہارے حساب و کتاب کے لیے ہم عنقریب فارغ ہوں گے یعنی تمہارا محاسبہ کریں گے مخلوق کے سمجھانے کے لیے مجازاً ایسا فرمایا ورنہ حق تعالیٰ شانہٗ کو کوئی بھی فعل دوسرے فعل سے مانع نہیں ہوسکتا كُلَّ يَوْمٍ کا ترجمہ کل وقت اس لیے کیا گیا کہ مخلوق میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کے تصرفات جاری رہتے ہیں۔ حساب و کتاب کی خبر دے کر پہلے سے آگاہ فرمانا یہ اللہ کی عظیم نعمت ہے اسی لیے فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–45

عظمت خداوند رب انام مع ذکر اہوال قیامت وذلت و بدحالی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ...... الی ........ تکذبن “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں فرمائی تھیں جن کے ضمن میں ان گراں قدرانعامات کا ذکر فرمایا جو جن وانس پر کی گئیں اور ظاہر ہے کہ ان دلائل و انعامات کا متقضی یہی ہے کہ جن وانس اسکی اطاعت و بندگی میں مصروف ہوجائیں اب ان آیات میں عظمت خداوندی کا بیان ہے اور قیامت کی ہول وشدت اور اس میں مجرمین پر جو ندامت وذلت ہوگی اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے ہولناک احوال میں منکرین ومکذبین کا کیسا عبرتناک حال ہوگا۔ ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–34

13:۔ ” سنفرغ لکم۔ الایۃ “ یہ تخویف کے لیے تمہید ہے۔ یہ ایک کام سے دوسرے کام میں مشغول ہونے سے کنایہ ہے اور یہاں اس سے محض تہدید مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایک شغل دوسرے شغل سے مانع نہیں ہے۔ یعنی اے جن و انس میں عنقریب ہی تمہیں سزا دینے والا اور تم سے انتقام لینے والا ہوں۔ ” یمعشر الجن۔ الایۃ “ یہ تخویف دنیوی ہے اے جن وانس اگر تم میں یہ قدرت و استطاعت موجود ہے کہ تم موت سے اور میرے عذاب سے بچنے کے لیے زمین و آسمان کی سرحدوں کو پار کر کے کسی محفوظ مقام میں پہنچ جاؤ تو ذرا نکل کر دکھاؤ تو سہی، لیکن یادرکھو ! خدا کے مقابلے میں قوت و شوکت اور قہر و غلبہ کے بغیر تم کہیں نہیں جاسکتے مگر یہ قول و…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–36

ربطہ آیات گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنی مخلوق خاص طور پر انسانوں اور اہل ایمان پر کیے ہیں۔ پھر اپنی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کیا جو اس کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر دلیل بنتی ہیں اب آج کے درس میں اللہ نے جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔ فانی اور باقی ارشاد ہوتا ہے کل من علیھا فانٍ جو کچھ بھی زمین پر ہے ، وہ فنا ہونے والا ہے۔ گذشتہ درس میں فرمایا والارض وضعھا للانام ہم نے زمین کو اپنی مخلوق کے لیے بچھا دیا۔ اللہ کی بیشمار مخلوق انسان ، جانور ، درندے پرندے ، کیڑے مکوڑے اس زمین پر آباد ہیں اور اسی سے پیدا ہونے والی روزی استعمال کرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۝ 32 أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–34

ترکیب : فانٍ خبر لکل من ذوالجلال بالرفع علیٰ انہ لغت للوجہ وبالجر لغتا للمجرور۔ یسئلہ مستانف اوحال من وجہ والعامل فیہ یبقٰی۔ کل ظرف لمادل علیہ ھوفی شان لاتنفذون لانافیۃ شواظ بالضم والکسر لغتان ھو اللہب الذی لادخان معہ۔ من نار صفۃ او متعلق بالفعل۔ نحاس بالرفع عطفا علی شواظ بالجر عطفا علے نار والاول اقوی۔ تفسیر : دلائلِ توحید میں عالم اور اس کی عمدہ اور نافع چیزیں پیدا کرنے کا ذکر تھا تاکہ معلوم ہو کہ یہ عالم قدیم نہیں بلکہ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اس کے بعد عالم فنا کرنے کی قدرت بیان کرتا ہے اور ان کے فنا کرنے میں اپنی قدرت و جبروت ظاہر فرما کر تیسرے مسئلہ حشر کو بھی اسی کلام کے دوسرے پہلو میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 31–32

سَنَفْرُغُ لَـکُمْ اَیُّـہَ الثَّقَلٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 31، 32) (اے زمین کے بوجھو، ہم عنقریب تمہارے لیے فارغ ہورہے ہیں۔ تم اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے۔ ) ثقلان اور فراغت کا مفہوم ثََقَلٰنِ ، ثَقَلْکا تثنیہ ہے۔ اس کا مادہ ثقل ہے۔ ثِقلبوجھ کو کہتے ہیں۔ اور ثقلاس بوجھ کو کہتے ہیں جو سواری پر لدا ہوا ہو۔ اس لحاظ سے ثَقَلٰنکا مفہوم یہ ہوگا کہ تم جن اور انس درحقیقت اللہ تعالیٰ کی زمین پر دو بوجھوں کی طرح لدے ہوئے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی سے انحراف اور اس کے دیئے ہوئے تصورات سے انکار کی وجہ سے تم زمین کے خلیفہ اور زمین کے سنگھار نہیں رہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–32

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی ذات اس وقت بھی تھی جب کچھ نہیں تھا اور اس وقت بھی ہوگی جب کچھ نہیں ہوگا ہر چیز اسی کی محتاج ہے۔ اس لیے پوری مخلوق اسی سے مانگتی ہے اور سب کو اسی سے مانگنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے لوگو ! تم سب کے سب اللہ کی بارگاہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی ہے، وہ چاہے تو تمہیں ختم کردے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق لے آئے، ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں ہے۔ (فاطر : 15 تا 17) اللہ ہی خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے اس لیے جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہے ہر کوئی اسی سے مانگتا ہے۔ ہر دن ہر آن رب ذوالجلال کی نئی شان ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

32 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

31 ۔” سنفرغ لکم “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے سیفرغ یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” یسالہ من فی السموات والارض “ اور ” ویبقی وجہ ربک “ اور ” ولہ الجوار “ کی وجہ سے۔ پس خبر کا اتباع کیا اور دیگر حضرات نون کے ساتھ پڑھا ہے اور اس مراد مشغولیت سے فارغ ہونا نہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک شان دوسری سے مشغول نہیں فارغ ہوتا ہوں حالانکہ اس کو کوئی مصروفیت نہیں ہوتی اور یہ ابن عباس ؓ اور ضحاک (رح) کا قول ہے اور یہ فراغ اس وجہ سیاچھا ہے کہ پہلے شان کا ذکر گزر چکا ہے اور دیگر حضرات نے کہا ہے اس کا معنی عنقریب ہم تمہارا ارادہ کریں گے مہلت دینے کے بعد اور ہم تمہارے معاملہ میں شروع ہوں گے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–36

31۔ 36۔ اللہ تعالیٰ کی شان تو اس سے بہت عالی اور برتر ہے کہ اس کو کسی کام سے فرصت اور فراغت حاصل کرنے کی ضرورت ہو کیونکہ یہ تو مخلوق کی شان ہے کہ ایک کام سے فارغ ہوں تو دوسرا کام کریں لیکن جس طرح اردو کے محاورہ میں بولا جاتا ہے کہ سو کام چھوڑ کر یہ کام کیا جائے گا حالانکہ ایسے موقع پر نہ سو کام ہوتے ہیں نہ ان کا چھوڑنا حقیقت میں مقصود ہوتا ہے بلکہ جس کام کے کرنے کا ارادہ ظاہر کرکے یہ محاورہ کی بات کہی جاتی ہے اصل میں اس با سے اس کام کا ضروری ہونا جتلایا جاتا ہے اسی طرح قیامت اور اس کے حساب و کتاب اور سزا و جزا کے جو لوگ منکر ہیں ان کی تنبیہ کے لئے عربی کے محاورہ کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 29–32

یعنی اللہ تعالیٰ بذاتہ تمام مخلوقات سے بےنیاز ہے وہ بےپایاں جودو کرم کا مالک ہے تمام مخلوق اس کی محتاج ہے وہ اس سے اپنی حوائج کے متعلق اپنے حال وقال کے ذریعے سے سوال کرتے ہیں وہ لمحہ بھر بلکہ اس سے بھی کم وقت کے لیے اس سے ب نیاز نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ (كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ ) ہر ورز (ہر وقت) ایک نئی شان میں ہوتا ہے یعنی وہ محتاج کو غنی کرتا ہے ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے کسی قوم کو عطا کرتا ہے کسی کو محروم کرتا ہے وہ موت دیتا اور زندگی عطا کرتا ہے وہی کسی کو جھکاتا اور کسی کو بلند کرتا ہے کوئی کام اسے کسی دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا مسائل اسے کسی غلطی میں مبتلا نہیں کرسکتے مانگنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–36

لئو لئو اور مرجان قول باری ہے (یخرج منھما اللئو لئو والمرجان ان دونوں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں) یہاں مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک سے کیونکہ موتی اور مونگے سمندر کے کھارے پانی سے برآمد ہوتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں برآمد ہوتے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (یا معشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے) جب کہ رسول صرف انسانوں میں سے بھیجے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حسن، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ مرجان چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق مرجان مخلوط قسم کے جواہرات کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ” مرحت “ سے نکلا ہے جس کے معنی مخلوط ہوجانے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 31–32

[ 24] یوم جزاء و سزا کی تذکیر و یاددہانی : سو جنوں اور انسانوں کے دونوں گروہوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ہی ہم تمہارے لیے فارغ ہوا چاہتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ابھی ہم مشغول ہیں، فرصت نہیں، بعد میں جب فرصت ہوگی تو تمہارے لئے فارغ ہوجائیں گے، کہ وہ ذات پاک اس طرح کے مشاغل اور ایسے تمام تصورات سے پاک اور وراء الورا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تو ہم تمہیں دنیاوی نعمتوں سے نواز رہے ہیں، تمہیں مہلت اور ڈھیل دے رکھی ہے، لیکن تمہارے حساب کتاب کیلئے ہم بعد میں متوجہ ہوں گے جبکہ تمہاری یہ مہلت اور فرصت حیات ختم ہوجائے گی اور تمہارے حساب کتاب کا وقت آپہنچے گا،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–34

جن و انس سب اللہ کے سامنے کمزور وبے بس ہیں تشریح : یہاں جن و انس کی بےبسی کو اس طرح بتایا گـیا ہے کہ تمہاری ہر حرکت اللہ کے بس میں ہے۔ اگر یہ غلط ہے تو پھر چلو یہ جو حدود آسمانوں اور زمین کی اللہ نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے پورا زور لگاؤ اور ان سے باہر نکل کر دکھاؤ۔ یہ تمہاری قدرت سے باہر ہے تم ہرگز ان حدود سے باہر نہیں نکل سکتے تو کیا اب بھی تم اللہ کی عظمت، طاقت اور قدرت کا انکار کرتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–45

آیات 26 تا 45۔ اسرار ومعارف۔ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اپنی ذات میں فانی ہے اور روز قیامت فنا ہوگا ہاں بقا اور ہمیشہ کا رہنا صرف ذات باری کے لیے ہے جو بہت عظمت کا مالک ہے کہ اپنی بقا میں اور اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج نہیں اور صاحب اکرام ہے کہ ساری مخلوق پہ اس کا کرم و احسان عام ہے جو ساری ہی اس کی محتاج ہے اور اس کے سہارے قائم ہے تو بھلا اس کے احسانات کیسے بھلاپاؤ گے سب کی سب مخلوق زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں ہرگھڑی اس کے دروزاے پر دست سوال دراز کیے کھڑی ہے۔ اور سب اس ذات سے ہر شے مانگ رہے ہیں اور ہر روز ہر آن اس کی عظمت کا اظہار کئی کئی شانوں سے ہورہا ہے اور اس کی عطا بٹ رہی ہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:32) فبای الاء ربکما تکذبن : (پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–45

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 45 فان فنا ہونے والا ۔ وجہ چہرہ، ذات۔ ذوالجلا عزت و عظمت والا۔ یسئل سوال کرتا ہے۔ شان ضروری کام، شان ۔ الثقلن دو بڑی بھاری مخلوق۔ معشر گروہ، جماعت تنفذوا تم نکل بھاگو۔ اقطار کنارے۔ سلطان طاقت و قوت شواظ شعلے نحاس دھواں لاتنصران تم بدلہ نہ لے سکو گے انشقت پھٹ پڑی وردۃ سرخ الدھان رنگا ہوا سرخ چمڑا یعرف پہچان لیا گیا۔ النواصی پیشانیاں یطرفون وہ گھو میں گے۔ حمیم کھولتا وہا۔ ان بہت کھولتا ہوا گرم پانی۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 45 اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر سب سے بڑا کرم اور نعمت یہ ہے کہ اس نے قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی انسانوں اور جنات کو اس بات سے پوری طرح آگاہ کردیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–37

(ف 1) پہلے صور سے جب ساری دنیا اجڑے گی ایک دفعہ تو آسمان اسی وقت پھٹے گا اور پھر حشر کے لیے دوسرا صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت دنیا کا آسمان پھٹے گا اور اس میں دروازے ہوجائیں گے جن دروازوں سے حشر کے انتظام کے فرشتے زمین پر اتریں گے ان آیتوں میں آسمان کی اسی دوسری حالت کا ذکر ہے کیونکہ اس کے بعد مجرموں کے دوزخ میں ڈالے جانے کا حال ہے جو دوسرے صورت کے بعد ہوگا حضرت عبداللہ بن مسعود کی صحیح مسلم اور ترمذی کی حدیث ہے کہ دوزخ کو محشر کے میدان میں لایاجائے گا اس وقت کی دوزخ کی لپٹ سے آسمان طرح طرح کا رنگ بدلے گا سی کا ذکر ان آیتوں میں ہے کبھی آسمان کا رنگ گلابی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–38

[9] فارغ ہونے سے اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ ابھی تو اس دنیا کا کارخانہ چل رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ یہ اپنی مدت پوری کرے۔ جب یہ مدت پوری ہوجائے گی اس وقت اللہ تعالیٰ اس دنیا کے نظم و نسق سے بالکل فارغ ہو کر بندوں کے حساب و کتاب کی طرف متوجہ ہوگا اور ایک ایک کا حساب کر کے جس کو جس جزا یا سزا کا سزاوار پائے گا اس کو وہی کچھ دے گا۔ اس اسلوب بیان سے یہ مضمون بھی نکلا کہ یہ کام اللہ تعالیٰ سرسری طور پر نہیں بلکہ پوری یکسوئی سے کرے گا، اس لئے کہ یہی کام درحقیقت اس دنیا کے پیدا کرنے کی غایت ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–37

سرخ تلچھٹ کی طرح 1: فرمایا : کہ یہ زرنگار سقف ، ازرق زواہ ایک وقت آئے گا ۔ کہ آگ کے شعلے اس کو زیتون کی سرخ تلچھٹ کی طرح تپادیں گے ۔ یہ دنیا نجوم وکواکب تیرگی فنا میں گم ہوجائے گی ۔ اور یہ سارا عالم رنگ وبو مٹ جائے گا ۔ پھر ایک وقت آئے گا ۔ جب دوبارہ بساط کون بچھادی جائے گی ۔ اور جن وانس کو کشاں کشاں حی وقیوم خدا کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ اور ان سب لوگوں کو سزا دی جائیگی ۔ جو اس کو نہیں مانتے تھے ۔ جو خواہشات نفس کی تکمیل میں سرگرداں رہتے تھے ۔ جن کی زندگی نصب العین محض یہ تھا ۔ کہ دولت اکٹھی کریں ۔ دنیا کی آسائشوں اور آسودگیوں کو سمیٹ لیں ۔ اور ہر نوع کی لذت سے کلام دوہن کی تواضع کریں ۔ جو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 32–38

ف 5۔ یہاں تک تو حساب کا وقوع اور اس کا وقت بتلایا گیا، آگے کیفیت حساب و طریق فیصلہ ارشاد فرماتے ہین۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے 23۔ اس دنیا میں جتنے دلائل توحید الٰہی کے بیان کیے جاسکتے ہیں ایک ایک کرکے بیان کیے گئے لیکن تمہارے کان پر جوں تک بھی نہ رینگی اور تم نے ان کی طرف توجہ کرنے سے کلی طور پر انکار کردیا ہے اور ٹس سے مس نہیں ہوئے تو کیا تم جب عدالت الٰہی قائم ہوگی اور تمہارا سارا کیا کرایا تمہارے سامنے پیش کیا جائے گا تم اس وقت بھی جھٹلائو گے لیکن تم کو قبل ازوقت ہی بتا دینا چاہتے ہیں کہ تم نہیں جھٹلا سکو گے۔ آخر تم کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–32

. A Warning for Humans and Jinn سَنَفْرُ‌غُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ (Soon We are going to spare Ourselves for you [ to reckon your deeds ], 0 two heavy species! ...55:31) The word jam' thaqalan is the dual of thaqal which denotes 'burden or load'. Thus the word ath-haqalan [ the dual form ] denotes 'the two heavy or weighty things', and signifies 'the men' and 'the Jinn' as the context shows. In Arabic, the word thaqal refers to anything the weight or value of which is well-known. It is in this sense that the word has occurred in the following Prophetic Tradition: اِنِّی تَارِکُ فِیکُمُ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

31 Here, alaa' can also be taken in the meaning of powers. In view of the context, each meaning seems to be appropriate in its own way. According to the first meaning, it would mean: "Today you are being ungrateful for Our blessings and are being treacherous and disloyal by adopting the different attitudes of disbelief, polytheism, atheism, sin and disobedience, but tomorrow when the time comes for accountability, We shall sec which of Our blessings you prove to be the result of a mere accident, or the fruit of your own ability, or manifestation of the kindness of a god or goddess or saint."…

Read the full tafseer →