Explained with ayahs 31–36
فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بہ طور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آگیا ہے اب کھرے کھرے فیصلے ہوجائیں گے اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہوگا، محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نمٹنے کا نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ (ثقلین) سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے ثقلین کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے…
Read the full tafseer →سورة الرَّحْمٰن 29
اصل میں لفظ ثَقَلَان استعمال ہوا ہے جس کا مادہ ثقل ہے۔ ثقل کے معنی بوجھ کے ہیں، اور ثَقَل اس بار کو کہتے ہیں جو سواری پر لدا ہوا ہو۔ ثَقَلین کا لفظی ترجمہ ہوگا " دو لدے ہوئے بوجھ "۔ اس جگہ یہ لفظ جن و انس کے لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ یہ دونوں زمین پر لدے ہوئے ہیں، اور چونکہ اوپر سے خطاب ان انسانوں اور جنوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے جو اپنے رب کی طاعت و بندگی سے منحرف ہیں، اور آگے بھی آیت 45 تک وہی مخاطب ہیں، اس لیے ان کو اَیُّھَا الثَّقَلَان کہہ کر خطاب فرمایا گیا ہے، گویا خالق اپنی مخلوق کے ان دونوں نالائق گروہوں سے فرما رہا ہے کہ اے وہ لوگو جو میری زمین پر بار بنے ہوئے ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَيُّهَا الثَّقَلٰنِ ، ثقلان ثقل کا تثنیہ ہے جس کے معنی وزن اور بوجھ کے ہیں، ثقلان دو بوجھ، مراد اس سے انسان اور جنات ہیں، لفظ ثقل عربی زبان میں ہر ایسی چیز کے لئے بولا جاتا ہے جس کا وزن اور قدر و قیمت معروف ہو، اسی لئے حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے، انی تارک فیکم الثقلین الخ یعنی میں اپنے بعد دو وزن دار قابل قدر چیزیں چھوڑتا ہوں، جو تمہاری ہدایت و اصلاح کا کام دیتی رہیں گی، ان دونوں چیزوں کا بیان بعض روایات میں کتاب اللہ و عترتی آیا ہے، بعض میں کتاب اللہ و سنتی اور حاصل دونوں کا ایک ہی ہے کیونکہ عترت سے مراد اپنی اولاد ہے جس میں نسبی اور روحانی دونوں قسم کی اولاد شامل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
2۔ آگے آیات 31۔ 45 کا مضمون
آگے اس دن کی تصویر آرہی ہے جس سے لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔ نظم کلام بالکل واضح ہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔ (آیات 31۔ 45)
3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت۔ (سنفرع لکم ایہ الثقلن فبای الاء ربکما تکذبن) (31۔ 32)
(جزاء و سزا کی وعید)۔ ثقلن سے مراد جن و انس، دونوں من حیث الجماعت ہیں۔ جماعتی حیثیت میں چونکہ دونوں بھاری بھر کم بن جاتے ہیں اس وجہ سے ’ ثقلن ‘ کا لفظ استعمال ہوا۔ اس لفظ استعمال ہوا۔ اس لفظ کے استعمال سے اس چیلنج کی منگنی واضح ہوتی ہے جو اس آیت میں جنوں اور انسانوں دونوں گروہوں کو ہیک وقت دیا گیا ہے۔ مطلب یہ نکلا کہ خواہ تم کتنے ہی بھاری لشکر ہو لیکن اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
31۔ 1 اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کو فراغت نہیں ہے بلکہ یہ محاورۃً بولا گیا ہے جس کا مقصد وعید و تہید ہے (جن و انس کو) اسلئے کہا گیا کہ ان کو تکلیف شرعیہ کا پابند کیا گیا ہے، اس پابندی یا بوجھ سے دوسری مخلوق مستشنٰی ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
6: اصل عربی لفظ ثقلان ہے جس کے معنی ہیں دو بھاری چیزیں، اور اس سے مراد جنات اور انسان ہیں، کیونکہ یہی دو مخلوقات ہیں جنہیں اس کائنات میں عقل و شعور کے علاوہ مکلف بننے کی صلاحیت بخشی گئی ہے۔
7: یہاں فارغ ہونا مجازی معنی میں استعمال ہوا ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تو اللہ تعالیٰ کائنات کے دوسرے امور انجام دے رہے ہیں اور ابھی حساب لینے کی طرف متوجہ نہیں ہوئے، لیکن وہ وقت عنقریب آنے والا ہے جب اللہ تعالیٰ حساب کی طرف متوجہ ہوں گے۔
واضح رہے کہ آگے آیت نمبر 44 تک دوزخیوں کے عذاب کا تذکرہ ہے، اور اس کے ساتھ بھی یہ فقرہ ہر جگہ فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے ؟…
Read the full tafseer →سنفرغ ............ تنتصران (5 3) فبای الاء ربکما تکذبن (55: 63 (55: 13 تا 63) ” اے زمین کے بوجھو ، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لئے فارغ ہوئے جاتے ہیں۔ (پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو۔ اے گروہ جن وانس اگر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو۔ نہیں بھاگ سکتے۔ اس کے لئے بڑا زور چاہئے۔ اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے ؟ (بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکو گے۔ اے جن وانس ، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے ؟ “
سنفرغ ............ الثقلن (55: 13) (اے زمین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
1 یعنی اللہ کی حکومت سے کوئی چاہے کہ نکل بھاگے تو بدون قوت اور غلبہ کے کیسے بھاگ سکتا ہے کیا خدا سے زیادہ کوئی قوی اور زور آور ہے۔ پھر نکل کر جائے گا کہاں، دوسری قلمرو کون سی ہے جہاں پناہ لے گا۔ نیز دنیا کی معمولی حکومتیں بدون سند اور پروانہ راہداری کے اپنی قلمرو سے نکلنے نہیں دیتیں تو اللہ بدون سند کے کیوں نکلنے دے گا۔
Read the full tafseer →آیت 31{ سَنَفْرُغُ لَـکُمْ اَیُّـہَ الثَّقَلٰنِ۔ } ”ہم جلد ہی فارغ ہوجائیں گے تمہارے لیے ‘ اے دو بھاری قافلو !“
اس آیت میں اشارۃً اور آگے آیت 33 میں باقاعدہ نام لے کر تثنیہ تُکَذِّبٰن کے صیغے کی وضاحت کردی گئی کہ اے جن وانس کے قافلوں کے افراد ! ہم تم سے مخاطب ہیں۔ یاد رکھو ! تم دونوں گروہ اپنے اعمال کے لیے ہمارے سامنے جواب دہ ہو۔ یاد رکھو ! ہم اس کائنات کو ”مہلت“ کے اصول پر چلا رہے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے کائنات کی ایک عمر { اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی } مقرر کر رکھی ہے ‘ اسی اصول کے تحت ہر قوم کو بھی ہم ایک وقت معین تک مہلت دیتے ہیں : { لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌج } الاعراف : 34 اور ہر فرد کو بھی۔ چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
20 ثَقَلاَنِ : ثقل بمعنی بوجھ، وزن، گرانباری اور ثقیل اور ثقال بمعنی بوجھل اور وزنی چیز اور ثقلان بمعنی زمین پر آباد جاندار مخلوق میں سے دو بھاری اور کثیر التعداد جماعتیں۔ دو بڑی انواع جن اور انسان جو مکلف ہیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنوں اور انسانوں کی اکثریت چونکہ مجرم، اللہ کی نافرمان اور اللہ کی زمین پر بوجھ ہی بنی رہی ہے اس لیے ان جماعتوں کو ثَقَلاَنِ کہا گیا ہے۔
21 اللہ تعالیٰ کا لوگوں سے حساب لینا بھی نعمت ہے :۔ یعنی تمہارا حساب لینے کے لیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس وقت ہم اتنے مشغول ہیں کہ تمہارا حساب کتاب لینے کی ہمیں فرصت نہیں۔ بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ابھی تمہارے…
Read the full tafseer →18۔ یعنی عنقریب تمہارا حساب و کتاب شروع کرنے والے۔ (آیت) ” سنفرغ “۔ فراغت یا فارغ ہونے کا لفظ جہاں محاورۂ انسانی کے مطابق محض بطور مجاز و مبالغہ کے استعمال ہوا ہے مراد صرف توجہ تام کر ظاہر ہے جو انسان کو عموما دوسرے کاموں سے فراغت کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے ورنہ ذات باری کے لئے یہ ممکن نہیں کہ اس کی ایک مشغولی دوسری طرف توجہ سے مانع ہوجائے۔ (آیت) ” سنفرغ “۔ میں س عنقریب کے معنی میں ہے۔ یعنی اس دنیا کے کاروبار کو ہم عنقریب ختم کرکے دوسرا دور جزائے اعمال کا شروع کرنے والے ہیں۔ (آیت) ” ثقلن “۔ سے مراد جنس جن وانس ہیں۔ الثقلان الانس والجن لانھما فضلا بالتمییز الذی فیھما علی سائر الحیوان (تاج) سمیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
سنفرغ لکم ایۃ الثقلان، ثقلان، ثقل کا تثنیہ ہے، ثقل خاص وطر پر اس بوجھ کر کہتے ہیں جو کسی پر لدا ہوا ہو اور قابل قدر شئی کو بھی کہت یہیں اور ایک حدیث میں یہی معنی مراد ہیں، مردا اس سے جنات اور انسان ہیں اس لئے کہ شروع سے روئے سخن انہی کی طرف ہے، مطلب یہ ہے کہ اے جن اور انسانو ! جو زمین پر بوجھ بنے ہوئے ہو میں عنقریب تمہاری خبر لینے کے لئے متوجہ ہونے والا ہوں، اس کا یہ مطلب یہ ہے کہ اے جن اور انسانو ! جو زمین پر بوجھ بنے ہوئے ہو میں عنقریب تمہاری خبر لنیے کے لئے متوجہ ہونے والا ہوں، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ ایسا مغشول ہے کہ اسے ان نافرمانوں سے باز پرس کرنے کی فرصت نہیں،…
Read the full tafseer →سنفرغ لکم ایۃ الثقلان
اے جن و انس ہم عنقریب ہی تمہاے (حساب کتاب کے) لیے خالی ہوجاتے ہیں
اللہ کو کسی کام میں ایسی مشغولیت نہیں جو دوسرے کام کی طرف متوجہ ہونے سے مانع ہو ‘ ورنہ اللہ کا بےعلم اور عاجز ہونا لازم آئے گا۔ اس لیے آیت میں فراغت سے مراد مشغولیت مانعہ سے فراغت نہیں ہے بلکہ مجازی معنی مراد ہے اور اس کی توجیہات مختلف طور پر کی گئی ہیں جن کی تفسیر اور تفصیل مفسر (رح) نے حسب ذیل کی ہے):
1) عنقریب ہم تم کو سزا و جزا دینے کے لیے خالی ہوجائیں گے ‘ یعنی قیامت کا دن قریب ہے جس میں اللہ سوائے اعمال کے بدلہ دینے کے اور کوئی (تخلیقی) فعل نہیں کرے گا۔
2) دھمکی دینی مراد ہے ‘ کسی کو سزا دینے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
(31۔ 32) سو اے جن و انس ہم تمہارے دنیاوی کاموں کو محفوظ کرا لیتے ہیں اور عنقریب قیامت میں تم سے ان اعمال پر حساب و کتاب لیں گے سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →سَنَفْرُغُ لَکُمْ اَیُّہَا الثَّقَـلٰـنِ :”الثقلین“ ”ثقل“ کی جمع ہے ، بھاری اور وزنی چیز ، مراد زمین پر آباد جاندار مخلوق میں سے دو بھاری اور کثیر التعداد جماعتیں جن و انس ہیں۔ مخلوقات میں سے شرعی احکام کی تکالیف ان دونوں ہی کو دی گئی ہے ، اس لیے انہی کو مخاطب فرمایا۔ طبری نے کہا علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ”سھفرع لکم ایۃ الثقلین“ کے بارے میں ابن عباس ؓ کی تفسیر نقل کی ہے :”وعید من اللہ للعباد ولیس باللہ شغل وھو فارغ ‘ ‘ یعنی ”یہ الفظا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے وعید ہیں ، ورنہ اللہ تعالیٰ کو دوسرے کسی کام سے روکنے والی کوئی مشغولیت نہیں اور وہ فارغ ہے“۔ امام بخاری نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
یسئلہ من فی السماوات۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آسمانوں میں جو ہے وہ رحمت کا سوال کرتا ہے اور زمین میں جو کوئی ہے وہ رزق کا سوال کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس اور ابو صالح نے کہا : اہل آسمان مغفرت کا سوال کرتے ہیں وہ رزق کا سوال نہیں کرتے اور اہل زمین دونوں چیزوں کا سوال کرتے ہیں ابن جریج نے کہا : ملائیکہ اہل زمین کے لئے رزق کا سوال کرتے ہیں۔ دونوں سوال اہل زمین کے لئے ہیں وہ سوال آسمان والوں کی جانب سے ہو یا اہل زمین کی جانب سے ہو۔ حدیث میں ہے ” فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جس کے چار چہرے ہیں ایک چہرہ انسان کے چہرہ کی طرح ہے وہ اللہ تعالیٰ سے انسانوں کے لئے رزق کا سوال کرتا ہے، ایک چہرہ شیر کے چہرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
اللہ تعالیٰ کا حساب کی طرف متوجہ ہونا :
1:۔ عبدبن حمید (رح) وعبد الرزاق (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ''' سنفرغ لکم ایھا الثقلن '' (اے جن وانس ہم عنقریب تمہارے (حساب کتاب) کے لئے خالی ہوجاتے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی مخلوق سے (حساب کتاب کے لئے) توجہ اور قصد قریب ہے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وبن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ''' سنفرغ لکم ایھا الثقلن '' سے مراد وعید ہے۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ''' سنفرغ لکم ایھا الثقلن '' کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وعید ہے اللہ…
Read the full tafseer →سَنَفْرُغُ [ ہم فارغ ہوجائیں گے ] لَكُمْ [ تمہارے (حساب کتاب کے) لیے ] اَيُّهَا الثَّقَلٰنِ [اے دو بھاری (گروہ ) ]
فرغ یفرغ کے بنیادی معنی تو فارغ ہونا ہی ہے البتہ جب یہ لام کے صلہ کے ساتھ فرغ لک آتا ہے تو عربی محاورہ کے مطابق اس میں عموما دھمکی کا مفہوم ہوتا ہے ۔ جیسے اردو میں ہم کہتے ہیں ” میں تمہیں دیکھ لوں گا ۔ یا انگریزی میں کہتے ہیں ۔ I Will See you بظاہر یہ دونوں سادہ سے جملے ہیں لیکن ان میں جو دھمکی شامل ہے اسے دونوں زبانوں کے اہل زبان خوب سمجھتے ہیں ۔ اسی طرح سافرغ لک کا ترجمہ تو یہی بنے گا کہ میں فارغ ہوجائوں گا تیرے لیے لیکن اس کا اصل مفہوم ہے میں فارغ ہوجاؤں گا تیری خبر لینے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات عالیہ اور انسان اور جنات کی عاجزی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی بیان فرمایا کہ اس دنیا میں جو کچھ کرتے ہو یہ نہ سمجھو کہ عمل کرنے میں آزاد ہو، اعمال کی پوچھ گچھ ہوگی۔ جزا و سزا کا دن آنے والا ہے، تمہارے حساب و کتاب کے لیے ہم عنقریب فارغ ہوں گے یعنی تمہارا محاسبہ کریں گے مخلوق کے سمجھانے کے لیے مجازاً ایسا فرمایا ورنہ حق تعالیٰ شانہٗ کو کوئی بھی فعل دوسرے فعل سے مانع نہیں ہوسکتا كُلَّ يَوْمٍ کا ترجمہ کل وقت اس لیے کیا گیا کہ مخلوق میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کے تصرفات جاری رہتے ہیں۔
حساب و کتاب کی خبر دے کر پہلے سے آگاہ فرمانا یہ اللہ کی عظیم نعمت ہے اسی لیے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
عظمت خداوند رب انام مع ذکر اہوال قیامت وذلت و بدحالی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ...... الی ........ تکذبن “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں فرمائی تھیں جن کے ضمن میں ان گراں قدرانعامات کا ذکر فرمایا جو جن وانس پر کی گئیں اور ظاہر ہے کہ ان دلائل و انعامات کا متقضی یہی ہے کہ جن وانس اسکی اطاعت و بندگی میں مصروف ہوجائیں اب ان آیات میں عظمت خداوندی کا بیان ہے اور قیامت کی ہول وشدت اور اس میں مجرمین پر جو ندامت وذلت ہوگی اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے ہولناک احوال میں منکرین ومکذبین کا کیسا عبرتناک حال ہوگا۔
ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
13:۔ ” سنفرغ لکم۔ الایۃ “ یہ تخویف کے لیے تمہید ہے۔ یہ ایک کام سے دوسرے کام میں مشغول ہونے سے کنایہ ہے اور یہاں اس سے محض تہدید مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایک شغل دوسرے شغل سے مانع نہیں ہے۔ یعنی اے جن و انس میں عنقریب ہی تمہیں سزا دینے والا اور تم سے انتقام لینے والا ہوں۔ ” یمعشر الجن۔ الایۃ “ یہ تخویف دنیوی ہے اے جن وانس اگر تم میں یہ قدرت و استطاعت موجود ہے کہ تم موت سے اور میرے عذاب سے بچنے کے لیے زمین و آسمان کی سرحدوں کو پار کر کے کسی محفوظ مقام میں پہنچ جاؤ تو ذرا نکل کر دکھاؤ تو سہی، لیکن یادرکھو ! خدا کے مقابلے میں قوت و شوکت اور قہر و غلبہ کے بغیر تم کہیں نہیں جاسکتے مگر یہ قول و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–36
ربطہ آیات
گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنی مخلوق خاص طور پر انسانوں اور اہل ایمان پر کیے ہیں۔ پھر اپنی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کیا جو اس کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر دلیل بنتی ہیں اب آج کے درس میں اللہ نے جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔
فانی اور باقی
ارشاد ہوتا ہے کل من علیھا فانٍ جو کچھ بھی زمین پر ہے ، وہ فنا ہونے والا ہے۔ گذشتہ درس میں فرمایا والارض وضعھا للانام ہم نے زمین کو اپنی مخلوق کے لیے بچھا دیا۔ اللہ کی بیشمار مخلوق انسان ، جانور ، درندے پرندے ، کیڑے مکوڑے اس زمین پر آباد ہیں اور اسی سے پیدا ہونے والی روزی استعمال کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَيُّہَ الثَّقَلٰنِ 31 ۚ
فرغ
الفَرَاغُ : خلاف الشّغل، وقد فَرَغَ فَرَاغاً وفُرُوغاً ، وهو فَارِغٌ. قال تعالی: سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلانِ [ الرحمن/ 31] ، وقوله تعالی: وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] ، أي : كأنّما فَرَغَ من لبّها لما تداخلها من الخوف وذلک کما قال الشاعر : كأنّ جؤجؤه هواء
«1» وقیل : فَارِغاً من ذكره، أي أنسیناها ذكره حتی سکنت واحتملت أن تلقيه في الیمّ ، وقیل : فَارِغاً ، أي : خالیا إلّا من ذكره، لأنه قال : إِنْ كادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلا أَنْ رَبَطْنا عَلى قَلْبِها [ القصص/ 10] ، ومنه قوله تعالی: فَإِذا فَرَغْتَ فَانْصَبْ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
ترکیب : فانٍ خبر لکل من ذوالجلال بالرفع علیٰ انہ لغت للوجہ وبالجر لغتا للمجرور۔ یسئلہ مستانف اوحال من وجہ والعامل فیہ یبقٰی۔ کل ظرف لمادل علیہ ھوفی شان لاتنفذون لانافیۃ شواظ بالضم والکسر لغتان ھو اللہب الذی لادخان معہ۔ من نار صفۃ او متعلق بالفعل۔ نحاس بالرفع عطفا علی شواظ بالجر عطفا علے نار والاول اقوی۔
تفسیر : دلائلِ توحید میں عالم اور اس کی عمدہ اور نافع چیزیں پیدا کرنے کا ذکر تھا تاکہ معلوم ہو کہ یہ عالم قدیم نہیں بلکہ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اس کے بعد عالم فنا کرنے کی قدرت بیان کرتا ہے اور ان کے فنا کرنے میں اپنی قدرت و جبروت ظاہر فرما کر تیسرے مسئلہ حشر کو بھی اسی کلام کے دوسرے پہلو میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
سَنَفْرُغُ لَـکُمْ اَیُّـہَ الثَّقَلٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 31، 32)
(اے زمین کے بوجھو، ہم عنقریب تمہارے لیے فارغ ہورہے ہیں۔ تم اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے۔ )
ثقلان اور فراغت کا مفہوم
ثََقَلٰنِ ، ثَقَلْکا تثنیہ ہے۔ اس کا مادہ ثقل ہے۔ ثِقلبوجھ کو کہتے ہیں۔ اور ثقلاس بوجھ کو کہتے ہیں جو سواری پر لدا ہوا ہو۔ اس لحاظ سے ثَقَلٰنکا مفہوم یہ ہوگا کہ تم جن اور انس درحقیقت اللہ تعالیٰ کی زمین پر دو بوجھوں کی طرح لدے ہوئے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی سے انحراف اور اس کے دیئے ہوئے تصورات سے انکار کی وجہ سے تم زمین کے خلیفہ اور زمین کے سنگھار نہیں رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی ذات اس وقت بھی تھی جب کچھ نہیں تھا اور اس وقت بھی ہوگی جب کچھ نہیں ہوگا ہر چیز اسی کی محتاج ہے۔ اس لیے پوری مخلوق اسی سے مانگتی ہے اور سب کو اسی سے مانگنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے لوگو ! تم سب کے سب اللہ کی بارگاہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی ہے، وہ چاہے تو تمہیں ختم کردے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق لے آئے، ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں ہے۔ (فاطر : 15 تا 17)
اللہ ہی خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے اس لیے جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہے ہر کوئی اسی سے مانگتا ہے۔ ہر دن ہر آن رب ذوالجلال کی نئی شان ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود…
Read the full tafseer →نگرانی اور انتظام میں اضافہ :
31 : سَنَفْرُغُ لَکُمْ (ہم عنقریب ہی تمہارے (حساب و کتاب کے) لئے خالی ہوجاتے ہیں) یہ قول بطور استعارہ اس شخص کے قول سے لیا گیا ہے۔ جو اس کو کہے جس کو ڈرائے۔ کہ میں تمہارے لئے فارغ ہوا چاہتا ہوں۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ میں مشغولیت میں ڈالنے والی ہر چیز سے الگ ہو کر تیرے لئے الگ تھلگ ہوجائو نگا۔ اس سے مقصود نگرانی اور انتظام میں اضافہ ہے۔ نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ اس سے مراد یہ ہو۔ عنقریب دنیا ختم ہو کر انجام کو پہنچ جائے گی۔ اور مخلوق کے کام بھی ختم ہوجائیں گے وہ جن کا ارادہ اس قول سے فرمایا۔ کل یوم ھو فی شان۔ پس ایک ہی شان رہ جائے گی اور وہ تمہاری جزاء ہے پس اس کو…
Read the full tafseer →30 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
31۔ 36۔ اللہ تعالیٰ کی شان تو اس سے بہت عالی اور برتر ہے کہ اس کو کسی کام سے فرصت اور فراغت حاصل کرنے کی ضرورت ہو کیونکہ یہ تو مخلوق کی شان ہے کہ ایک کام سے فارغ ہوں تو دوسرا کام کریں لیکن جس طرح اردو کے محاورہ میں بولا جاتا ہے کہ سو کام چھوڑ کر یہ کام کیا جائے گا حالانکہ ایسے موقع پر نہ سو کام ہوتے ہیں نہ ان کا چھوڑنا حقیقت میں مقصود ہوتا ہے بلکہ جس کام کے کرنے کا ارادہ ظاہر کرکے یہ محاورہ کی بات کہی جاتی ہے اصل میں اس با سے اس کام کا ضروری ہونا جتلایا جاتا ہے اسی طرح قیامت اور اس کے حساب و کتاب اور سزا و جزا کے جو لوگ منکر ہیں ان کی تنبیہ کے لئے عربی کے محاورہ کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
یعنی اللہ تعالیٰ بذاتہ تمام مخلوقات سے بےنیاز ہے وہ بےپایاں جودو کرم کا مالک ہے تمام مخلوق اس کی محتاج ہے وہ اس سے اپنی حوائج کے متعلق اپنے حال وقال کے ذریعے سے سوال کرتے ہیں وہ لمحہ بھر بلکہ اس سے بھی کم وقت کے لیے اس سے ب نیاز نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ (كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ ) ہر ورز (ہر وقت) ایک نئی شان میں ہوتا ہے یعنی وہ محتاج کو غنی کرتا ہے ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے کسی قوم کو عطا کرتا ہے کسی کو محروم کرتا ہے وہ موت دیتا اور زندگی عطا کرتا ہے وہی کسی کو جھکاتا اور کسی کو بلند کرتا ہے کوئی کام اسے کسی دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا مسائل اسے کسی غلطی میں مبتلا نہیں کرسکتے مانگنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–36
لئو لئو اور مرجان
قول باری ہے (یخرج منھما اللئو لئو والمرجان ان دونوں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں) یہاں مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک سے کیونکہ موتی اور مونگے سمندر کے کھارے پانی سے برآمد ہوتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں برآمد ہوتے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (یا معشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے) جب کہ رسول صرف انسانوں میں سے بھیجے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حسن، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ مرجان چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں۔
ایک قول کے مطابق مرجان مخلوط قسم کے جواہرات کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ” مرحت “ سے نکلا ہے جس کے معنی مخلوط ہوجانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
[ 24] یوم جزاء و سزا کی تذکیر و یاددہانی :
سو جنوں اور انسانوں کے دونوں گروہوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ہی ہم تمہارے لیے فارغ ہوا چاہتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ابھی ہم مشغول ہیں، فرصت نہیں، بعد میں جب فرصت ہوگی تو تمہارے لئے فارغ ہوجائیں گے، کہ وہ ذات پاک اس طرح کے مشاغل اور ایسے تمام تصورات سے پاک اور وراء الورا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تو ہم تمہیں دنیاوی نعمتوں سے نواز رہے ہیں، تمہیں مہلت اور ڈھیل دے رکھی ہے، لیکن تمہارے حساب کتاب کیلئے ہم بعد میں متوجہ ہوں گے جبکہ تمہاری یہ مہلت اور فرصت حیات ختم ہوجائے گی اور تمہارے حساب کتاب کا وقت آپہنچے گا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
جن و انس سب اللہ کے سامنے کمزور وبے بس ہیں
تشریح : یہاں جن و انس کی بےبسی کو اس طرح بتایا گـیا ہے کہ تمہاری ہر حرکت اللہ کے بس میں ہے۔ اگر یہ غلط ہے تو پھر چلو یہ جو حدود آسمانوں اور زمین کی اللہ نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے پورا زور لگاؤ اور ان سے باہر نکل کر دکھاؤ۔ یہ تمہاری قدرت سے باہر ہے تم ہرگز ان حدود سے باہر نہیں نکل سکتے تو کیا اب بھی تم اللہ کی عظمت، طاقت اور قدرت کا انکار کرتے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
آیات 26 تا 45۔
اسرار ومعارف۔
ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اپنی ذات میں فانی ہے اور روز قیامت فنا ہوگا ہاں بقا اور ہمیشہ کا رہنا صرف ذات باری کے لیے ہے جو بہت عظمت کا مالک ہے کہ اپنی بقا میں اور اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج نہیں اور صاحب اکرام ہے کہ ساری مخلوق پہ اس کا کرم و احسان عام ہے جو ساری ہی اس کی محتاج ہے اور اس کے سہارے قائم ہے تو بھلا اس کے احسانات کیسے بھلاپاؤ گے سب کی سب مخلوق زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں ہرگھڑی اس کے دروزاے پر دست سوال دراز کیے کھڑی ہے۔ اور سب اس ذات سے ہر شے مانگ رہے ہیں اور ہر روز ہر آن اس کی عظمت کا اظہار کئی کئی شانوں سے ہورہا ہے اور اس کی عطا بٹ رہی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 6 اس سے مقصود جنوں اور انسانوں کو متنبہ کرنا ہے کہ تمہارے اعمال کے محاسبہ کا قوت قریب آگیا ہے۔ معلوم ہوا کہ انسانوں کی طرح جنوں کو بھی جزا و سزا ملے گی۔ جمہور علماء اس کے قائل ہیں اور آیت کریمہ و لکل درجات مما عملوا سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
7 یہاں جنوں اور انسانوں کے لئے نقلان کا لفظ اسعتمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ” زمین کے دو بوجھ “ ان کی قدر و منزلت اور وقار کی وجہ سے ان کو ثقلان فرمایا ہے کہ دوسری مخلوق پر ان کا درجہ بھاری ہے۔
Read the full tafseer →(55:31) سنفرغ لکم : س مستقبل قریب کے لئے ہے نفرغ مضارع جمع متکلم فراغ (باب نصر) مصدر۔ ہم قصد کریں گے۔ ہم فارغ ہوں گے۔ ہم متوجہ ہوں گے۔ (حساب کی طرف)
الفراغشغل کی ضد ہے۔ اور فروغا (باب نصر) مصدر بمعنی خالی ہونا ہے۔ فارغ خالی، قرآن مجید میں ہے ۔ فاصبح فؤاد ام موسیٰ فرغا (28:10) اور (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل بےصبر ہوگیا۔ یعنی خوف کی وجہ سے گویا عقل سے خالی ہوچکا تھا۔ اور بعض نے فارغا کا معنی اس کی یاد کے سوا باقی چیزوں سے خالی ہونا بھی کئے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : فاذا فرغت فانصب (94:7) جب تم (اور کاموں سے) فارغ ہوا کرو تو عبادت میں محنت کیا کرو۔
آیت ہذا کا مطلب ہے کہ :۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 45
فان فنا ہونے والا ۔ وجہ چہرہ، ذات۔ ذوالجلا عزت و عظمت والا۔ یسئل سوال کرتا ہے۔ شان ضروری کام، شان ۔ الثقلن دو بڑی بھاری مخلوق۔ معشر گروہ، جماعت تنفذوا تم نکل بھاگو۔ اقطار کنارے۔ سلطان طاقت و قوت شواظ شعلے نحاس دھواں لاتنصران تم بدلہ نہ لے سکو گے انشقت پھٹ پڑی وردۃ سرخ الدھان رنگا ہوا سرخ چمڑا یعرف پہچان لیا گیا۔ النواصی پیشانیاں یطرفون وہ گھو میں گے۔ حمیم کھولتا وہا۔ ان بہت کھولتا ہوا گرم پانی۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا 45
اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر سب سے بڑا کرم اور نعمت یہ ہے کہ اس نے قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی انسانوں اور جنات کو اس بات سے پوری طرح آگاہ کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(ف 1) اے آدمیو اور جنو۔ تم ہم کو غافل نہ سمجھو عنقریب ہم ہر بات کا حساب لیتے ہیں اور دنیا میں جو کرتے ہو سب محفوظ رہے گا بروز قیامت سب سوال ہوگا، اب آگے جنات اور انسان کے منکر حشر گروہ سے فرمایا کہ جب قیامت قائم ہوگی تو ان سے کہا جائے گا کہ لوآج کچھ رستہ نکالو توعرصہ محشر سے کہیں بھاگ جاؤ، آسمانوں کے کنارے اور زمین کی انتہائی طرفوں سے فرشتوں کی ہزاروں صفوں کے احاطہ سے نکل کر چلے جاؤ، اگر اتنی طاقت ہوتودکھاؤ، ہرگز اللہ کی حکومت اور بادشاہت سے نکل کر کہیں بھاگ نہیں سکتے ہاں اگر کوئی دلیل رکھتے ہو یعنی تقوی ، گناہوں سے توبہ، توعرصہ محشر سے نکل کر جنت میں جاؤ گے۔ سوائے کافرو کے تمہارے پاس تقوی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–38
[9] فارغ ہونے سے اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ ابھی تو اس دنیا کا کارخانہ چل رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ یہ اپنی مدت پوری کرے۔ جب یہ مدت پوری ہوجائے گی اس وقت اللہ تعالیٰ اس دنیا کے نظم و نسق سے بالکل فارغ ہو کر بندوں کے حساب و کتاب کی طرف متوجہ ہوگا اور ایک ایک کا حساب کر کے جس کو جس جزا یا سزا کا سزاوار پائے گا اس کو وہی کچھ دے گا۔ اس اسلوب بیان سے یہ مضمون بھی نکلا کہ یہ کام اللہ تعالیٰ سرسری طور پر نہیں بلکہ پوری یکسوئی سے کرے گا، اس لئے کہ یہی کام درحقیقت اس دنیا کے پیدا کرنے کی غایت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 1: یعنی اس عالم فنا کے کاروبار ختم ہونے والے ہیں ۔ اور اس کے بعد ہم تمہاری جانب متوجہ ہوں گے اور تم سے پوچھیں گے ۔ کہ تم نے اس زندگی میں کیا کیا ہے ؟ تم باوجود اپنی طاقت وقوت کے ہمارے قبضہ اقتدار میں ہو ۔ اور اگر تم چاہو بھی ۔ کہ آسمانوں اور زمین کی حدود سے باہر نکل جاؤ۔ تو کیا یہ ممکن ہے ؟ پھر کیوں نہیں سوچتے ؟
Read the full tafseer →(31) اے جن وانس کی دونوں جماعتو ! ہم عنقریب تمہارے حساب و کتاب کے لئے فارغ ہوئے جاتے ہیں - فراغت کو یہاں مجازاً اور مبالغتہً فرمایا ہے یہ مطلب نہیں کہ ایک کام چھوڑ کر اور اس سے فارغ ہو کر تمہاری جانب متوجہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ قصد اور توجہ تام کے معنی میں ہے اور حضرت حق تعالیٰ کا ہر قصد اور ہر توجہ تام ہی ہے فراغت کے مشہور معنی لینا مستلزم ہے کہ اس سے قبل کا شغل مانع عن التوجہ تھا حالانکہ ذات باری تعالیٰ میں یہ معنی محال ہیں اس لئے یہاں محض مبالغہ اور مجاز کے طور پر فرمایا سنفرغ ثقلان سے مراد جن وانس ہیں۔
اس آیت میں اطلاع دینا ہے عالم آخرت کے حساب وکتاب وغیرہ کی اور حضرت حق تعالیٰ کا احسان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 4۔ یعنی حساب و کتاب لینے والے ہیں، مجازا و مبالغة اس کو خالی ہونے سے تعبیر فرمادیا اور حقیقی معنی اس لئے نہیں ہوسکتے کہ وہ مستلزم ہے اس کو کہ اس کے قبل ایسی مسغول ہو جو مانع ہو، دسری طرف متوجہ ہونے سے، اور یہ ذات باری میں محال ہے۔
Read the full tafseer →اے جن وانس ہم فارغ ہو کر عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوں گے
13۔ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو اپنے وعدوں کی پابند ہے نہ وہ اپنے وعدہ کا خلاف کرتا ہے اور نہ ہی ہونے دیتا ہے اس لیے جو ڈھیل اور مہلت اس نے دی ہے اس کو بہرحال تم پورا کرو گے اور اس مہلت کو پورا کرنے کے لیے جو وقت درکار ہے یعنی جو مہلت مقرر ہے اس کے پورا ہونے کو (سنفرغ لکم) سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس وقت اللہ میاں بہت مصروف ہے یا فارغ نہیں ہے اور جوں ہی فارغ ہوگا تو تمہاری خبر لے گا ، نہیں ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ مصروف ہونے سے پاک ہے اور اس کو کوئی مشکل اور کٹھن درپیش نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی بڑی مہم میں مصروف ہے کہ تم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
.
A Warning for Humans and Jinn
سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ (Soon We are going to spare Ourselves for you [ to reckon your deeds ], 0 two heavy species! ...55:31) The word jam' thaqalan is the dual of thaqal which denotes 'burden or load'. Thus the word ath-haqalan [ the dual form ] denotes 'the two heavy or weighty things', and signifies 'the men' and 'the Jinn' as the context shows. In Arabic, the word thaqal refers to anything the weight or value of which is well-known. It is in this sense that the word has occurred in the following Prophetic Tradition: اِنِّی تَارِکُ فِیکُمُ…
Read the full tafseer →29 Thaqalan is derived from thiql which means a burden, and thaqal is the burden loaded on a conveyance. Thaqalan (dual) therefore would mean: "two loaded burdens". Here this word refers to the jinn and then; who are both loaded on the earth. As the addressees here are those jinn and men who have turned away from the service and obedience of their Lord and Sustainer, they have been addressed as: "0 burdens of the earth," In other words, the Creator is warning these two unworthy groups of His creation, saying; "® you who have become a burden for My earth, I am soon going to take you to…
Read the full tafseer →