Ar-Rahmaan 55:30

Ar-Rahmaan · from ayah 30

55:30

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۟فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

So which of the favors of your Lord would you deny?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:30

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن صفات حمیدہ کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو تم رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس !) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

وہ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں رہتا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کو جھٹلائو گے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Which of your Lord's laudable attributes will you twain – you men and jinn – then deny?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani

So, which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then which of the blessings of your Lord will you both deny

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Which is it, of the favours of your Lord, that ye deny?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So which of the favors of your Lord would you deny?

— Saheeh International

(Jinn and mankind) - which of the favors of your Lord do you then deny?

— Muhammad Sarwar

Which then of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Habib Shakir

Which, then, of the benefits of your Lord will ye twain belie?

— Abdul Majid Daryabadi

Then which of the favours of your Lord will ye deny?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–30

اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہوگا کل جاندار مخلوق کو موت آجائے گی اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک ہے جو موت و فوت سے پاک ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں اولا تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ حضور ﷺ سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے (یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک) یعنی اے ہمیشہ جینے اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّحْمٰن 28 یہاں آلاء کا مفہوم اوصاف ہی زیادہ موزوں نظر آتا ہے۔ ہر شخص جو کسی نوعیت کا شرک کرتا ہے، دراصل وہ اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت کی تکذیب کرتا ہے۔ کسی کا یہ کہنا کہ فلاں حضرت نے میری بیماری دور کردی، اصل میں یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ شافی نہیں ہے بلکہ وہ حضرت شافی ہیں۔ کسی کا کہنا کہ فلاں بزرگ کی عنایت سے مجھے روزگار مل گیا، حقیقت میں یہ کہنا ہے کہ رازق اللہ نہیں ہے بلکہ وہ بزرگ رازق ہیں۔ کسی کا یہ کہنا کہ فلاں آستانے سے میری مراد بر آئی، گویا دراصل یہ کہنا ہے کہ دنیا میں حکم اللہ کا نہیں بلکہ اس آستانے کا چل رہا ہے۔ غرض ہر مشرکانہ عقیدہ اور مشرکانہ قول آخری تجزیہ میں صفات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–30

يَسْـَٔـلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ ، " یعنی زمین و آسمان کی ساری مخلوقات حق تعالیٰ کی محتاج ہیں اور اسی سے اپنی حاجات مانگتی ہیں، زمین والے اپنے مناسب حاجات رزق اور صحت و عافیت اور آرام و راحت پھر آخرت کی مغفرت و راحت اور جنت مانگتے ہیں، آسمان والے اگرچہ کھاتے پیتے نہیں، مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کے ہر وقت محتاج ہیں، وہ بھی رحمت و مغفرت وغیرہ اپنی حاجات کے طلب گار رہتے ہیں، آگے كُلَّ يَوْمٍ اسی يَسْـَٔـلُ کا ظرف ہے، یعنی ان کے سوالات اور درخواستیں حق تعالیٰ سے ہر روز رہتی ہیں اور یوم اور روز سے مراد بھی عرفی دن نہیں، بلکہ مطلقاً وقت مراد ہے، جس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 29–30

(یسئلہ من فی السموات والارض کل یوم ھو فی شان فبای الاء ربکما تکذبین) (29۔ 30)۔ (حقیقی مرجع اللہ ہی ہے)۔ یعنی سب کا مرجع حقیقی وہی ہے۔ جو بھی پاتا ہے اسی کا دیا ہوا پاتا ہے۔ لفظ ’ سوال ‘ یہاں اپنے ثمر اور نتیجہ کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے۔ یعنی ہر مانگنے والا چونکہ پاتا اسی سے ہے اس وجہ سے خواہ کسی سے مانگے لیکن حقیقت کے اعتبار سے اسی سے مانگتا ہے۔ دوسروں سے اس کا مانگنا بالکل بےسود اور لا حاصل ہے۔ کوئی دوسرا نہ کچھ دے سکتا نہ کچھ لے سکتا۔ اس وجہ سے کسی اور کو مولیٰ و مرجع سمجھ کر اس کے آگے اپنی التجاء درخواست پیش کرنا محض سفاہت ہے۔ دنیا میں انسان کو جو کچھ ملتا ہے خدا ہی کا دیا ہوا ملتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 30–31

31۔ 1 اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کو فراغت نہیں ہے بلکہ یہ محاورۃً بولا گیا ہے جس کا مقصد وعید و تہید ہے (جن و انس کو) اسلئے کہا گیا کہ ان کو تکلیف شرعیہ کا پابند کیا گیا ہے، اس پابندی یا بوجھ سے دوسری مخلوق مستشنٰی ہے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–30

5: یعنی ہر روز اور ہر آن وہ اپنی کائنات کی تدبیر اور اپنی مخلوقات کی حاجت روائی میں اپنی کسی نہ کسی شان یا صفت کا مظاہرہ فرماتا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فبای ............ تکذبن (55: 23) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے “ فنا کے بعد بقا اور تمام مخلوقات کا واحد باقی کی طرف رخ کرنا ، تمام انسانوں کے معاملات کا اس کے نظام قضا وقدر کے اندر منضبط ہونے کے مسائل طے کرنے کے ساتھ ہی اس کائنات کی نعمتوں کا بیان ختم ہوتا ہے اور جن وانس کے سامنے اللہ کے انعامات و احسانات رکھنے اور گنوانے اور ثابت کرنے کے بعد اب ان کو ایک شدید دھمکی دی جاتی ہے۔ یہ نہایت ہی ہولناک اور خوفناک دھمکی اور ڈراوا ہے۔ یہ خوفناک دھمکی بطور تمہید دی گئی ۔ اس کے بعد قیامت کے جو مناظر آرہے ہیں وہ بہت زیادہ ہولناک ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 30–33

1 یعنی اللہ کی حکومت سے کوئی چاہے کہ نکل بھاگے تو بدون قوت اور غلبہ کے کیسے بھاگ سکتا ہے کیا خدا سے زیادہ کوئی قوی اور زور آور ہے۔ پھر نکل کر جائے گا کہاں، دوسری قلمرو کون سی ہے جہاں پناہ لے گا۔ نیز دنیا کی معمولی حکومتیں بدون سند اور پروانہ راہداری کے اپنی قلمرو سے نکلنے نہیں دیتیں تو اللہ بدون سند کے کیوں نکلنے دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 30{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کو جھٹلائو گے ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 30–31

20 ثَقَلاَنِ : ثقل بمعنی بوجھ، وزن، گرانباری اور ثقیل اور ثقال بمعنی بوجھل اور وزنی چیز اور ثقلان بمعنی زمین پر آباد جاندار مخلوق میں سے دو بھاری اور کثیر التعداد جماعتیں۔ دو بڑی انواع جن اور انسان جو مکلف ہیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنوں اور انسانوں کی اکثریت چونکہ مجرم، اللہ کی نافرمان اور اللہ کی زمین پر بوجھ ہی بنی رہی ہے اس لیے ان جماعتوں کو ثَقَلاَنِ کہا گیا ہے۔ 21 اللہ تعالیٰ کا لوگوں سے حساب لینا بھی نعمت ہے :۔ یعنی تمہارا حساب لینے کے لیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس وقت ہم اتنے مشغول ہیں کہ تمہارا حساب کتاب لینے کی ہمیں فرصت نہیں۔ بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ابھی تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 28–30

17۔ یعنی کائنات میں تصرفات جو ہر لحظہ اور ہر آن جاری رہتے ہیں۔ یہ نتیجہ ہیں تمامتر اللہ تعالیٰ کی ہمہ وقتی توجہ والتفات کا، یہ ممکن نہیں کہ حق تعالیٰ پر غفلت اور بےالتفاتی ایک آن کے لئے بھی طاری ہو۔ یہیں سے رد نکل آیا ان گمراہ قوموں کا جن کے نزدیک خدا دنیا کو ایک بار پیدا کرکے اب معطل اور اس سے بےتعلق ہوبیٹھا ہے، یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا ایک بار کے عمل تخلیق کے بعد اب معطل ہے۔ اسلام کے عقیدہ میں اس خالق اکبر و قادر مطلق کی کن فیکونی قوت کا ظہور ہر آن ہر لمحہ کائنات کی ادنی سی ادنی حرکت و تصرف میں ہوتا رہتا ہے۔ آگ اس لئے نہیں جلاتی اور پانی اس لئے نہیں دھوتا کہ آگ اور پانی میں کوئی فطری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 29–30

کل یوم ھو فی شان یعنی ہر وقت اس کارگاہ عالم میں اس کی کارفرمائی کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے، ظاہر ہے کہ پوری کائنات میں ارضی اور سمائی مخلوقات کی بیشمار حاجتیں ہیں، جن کو ہر گھڑی اور ہر آن سوائے اس عظمت و جلال والے قادر مطلق کے کون سن سکتا ہے اور کون ان کو پورا کرسکتا ہے، اسی لئے کل یوم ھو فی شان یعنی ہر لحظ اور ہر لمحہ حق تعالیٰ کی ایک شان ہوتی ہے وہ کسی کو زندہ کرتا ہے کسی کو موت دیتا ہے کسی کو عزت دیتا ہے تو کسی کو ذلیل کرتا ہے کسی تندرست کو بیمار کرتا ہے تو کسی مریض کو تندرست کرتا ہے، کسی مصیبت زدہ کو مصیبت سے نجات دیتا ہے تو کسی کو مصیبت میں مبتلا کرتا ہے کسی کو رلاتا ہے تو کسی کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فبای الا ربکما تکذبان . ‘ سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “ فَبِاَیِّ اٰلآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : اللہ جو تمہارے سوال پورے کرتا ہے اور وقتاً فوقتاً پردۂ عدم سے میدان وجود میں چیزیں لا رہا ہے تم اس کی کون کونسی نعمت کے منکر ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 29–30

(29۔ 30) اسی سے تمام فرشتے اور مومنین مانگتے ہیں، چناچہ زمین والے اس سے مغفرت کی توفیق عصمت و کرامت اور رزق مانگتے ہیں۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں رہتا ہے تمام امور اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں جو کہ احاطہ اور شمار سے باہر ہیں چناچہ وہ ہی جلاتا اور مارتا ہے اور وہ ہی عزت و ذلت دیتا ہے وہی لوگوں کو اولاد عطا کرتا ہے اور وہی غلاموں کو رہا کراتا ہے، سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 29–30

1۔ یَسْئَلُـہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط : یہ ہر چیز کے فانی ہونے اور اللہ تعالیٰ کے باقی ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ باقی ہے، کیونکہ وہ غنی ہے ، اپنے وجود یا بقایا کسی بھی چیز میں کسی دوسرے کا محتاج نہیں ، مگر اس کے سوا جو بھی ہے خواہ آسمان ہوں یا زمین یا جو ان دونوں میں ہے ، سب اپنے وجود ، اپنی بقاء اور اپنی ہر ضرورت کے لیے ہر لمحے اس کے محتاج ہیں۔ اپنی ہر ضرورت اسی سے مانگ رہے ہیں ، کوئی زبان ِ قال سے مانگ رہا ہے ، کوئی زبان حال سے اور کوئی دونوں سے۔ جس کی زندگی کا ہر لمحہ مانگنے پر موقوف ہے وہ کیا خاک باقی رہے گا۔ 2۔ کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَاْنٍ :”کل یوم“ سے مراد ہر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 29–32

یسئلہ من فی السماوات۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آسمانوں میں جو ہے وہ رحمت کا سوال کرتا ہے اور زمین میں جو کوئی ہے وہ رزق کا سوال کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس اور ابو صالح نے کہا : اہل آسمان مغفرت کا سوال کرتے ہیں وہ رزق کا سوال نہیں کرتے اور اہل زمین دونوں چیزوں کا سوال کرتے ہیں ابن جریج نے کہا : ملائیکہ اہل زمین کے لئے رزق کا سوال کرتے ہیں۔ دونوں سوال اہل زمین کے لئے ہیں وہ سوال آسمان والوں کی جانب سے ہو یا اہل زمین کی جانب سے ہو۔ حدیث میں ہے ” فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جس کے چار چہرے ہیں ایک چہرہ انسان کے چہرہ کی طرح ہے وہ اللہ تعالیٰ سے انسانوں کے لئے رزق کا سوال کرتا ہے، ایک چہرہ شیر کے چہرے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 29–30

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' یسئلہ من فی السموت والارض '' 12:۔ ابن جریر وا ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یسئلہ من فی السموت والارض '' (اس سے سب زمین و آسمان والے مانگتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے بندے خاص طور پر اس سے رزق موت اور زندگی کا سوال کرتے ہیں۔ 13:۔ عبد بن حمید (رح) ابن المنذر (رح) نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یسئلہ من فی السموت والارض '' میں '' (آیت ) '' یسئلہ من فی السموت '' سے مراد ہے کہ آسمان میں رہنے والے فرشتے بھی اس سے رحمت کا سوال کرتے ہیں اور زمین میں رہنے والے مغفرت اور رزق کا سوال کرتے ہیں۔ 14:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–34

ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات عالیہ اور انسان اور جنات کی عاجزی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی بیان فرمایا کہ اس دنیا میں جو کچھ کرتے ہو یہ نہ سمجھو کہ عمل کرنے میں آزاد ہو، اعمال کی پوچھ گچھ ہوگی۔ جزا و سزا کا دن آنے والا ہے، تمہارے حساب و کتاب کے لیے ہم عنقریب فارغ ہوں گے یعنی تمہارا محاسبہ کریں گے مخلوق کے سمجھانے کے لیے مجازاً ایسا فرمایا ورنہ حق تعالیٰ شانہٗ کو کوئی بھی فعل دوسرے فعل سے مانع نہیں ہوسکتا كُلَّ يَوْمٍ کا ترجمہ کل وقت اس لیے کیا گیا کہ مخلوق میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کے تصرفات جاری رہتے ہیں۔ حساب و کتاب کی خبر دے کر پہلے سے آگاہ فرمانا یہ اللہ کی عظیم نعمت ہے اسی لیے فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–45

عظمت خداوند رب انام مع ذکر اہوال قیامت وذلت و بدحالی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ...... الی ........ تکذبن “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں فرمائی تھیں جن کے ضمن میں ان گراں قدرانعامات کا ذکر فرمایا جو جن وانس پر کی گئیں اور ظاہر ہے کہ ان دلائل و انعامات کا متقضی یہی ہے کہ جن وانس اسکی اطاعت و بندگی میں مصروف ہوجائیں اب ان آیات میں عظمت خداوندی کا بیان ہے اور قیامت کی ہول وشدت اور اس میں مجرمین پر جو ندامت وذلت ہوگی اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے ہولناک احوال میں منکرین ومکذبین کا کیسا عبرتناک حال ہوگا۔ ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–30

ف 12:۔ ” یسئلہ۔ الایۃ “ یہ توحید کی نویں عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان کی ساری مخلوق فرشتے، پیغمبر اولیاء اللہ، جن اور ان کے علاوہ سب اپنے وجود وبقاء میں اللہ کے محتاج ہیں اور ہر حاجت اسی سے مانگتے ہیں اور وہ ہر لمحہ کسی نہ کسی شان میں ہوتا ہے۔ ساری کائنات کا نظام اسی کے ہاتھ میں ہے اور یہ نظم و نسق مسلسل بلا انقطاع چل رہا ہے اس طرح ہر لمحہ بیشمار شئون و افعال اس کی ذات سے وابستہ ہیں۔ جس ذات بےچون و چگون کے سب محتاج وسائل ہیں اور جس کی بےپایاں نعمتوں کے بوجھ کے نیچے سب دبے پڑے ہیں وہی سب کا کارساز اور وہی برکات کا سرچشمہ ہے۔ یوم سے مراد مطلق وقت ہے۔ ای کل وقت وحین یحدث امورا ویجدد احوالا کما روی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–36

ربطہ آیات گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنی مخلوق خاص طور پر انسانوں اور اہل ایمان پر کیے ہیں۔ پھر اپنی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کیا جو اس کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر دلیل بنتی ہیں اب آج کے درس میں اللہ نے جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔ فانی اور باقی ارشاد ہوتا ہے کل من علیھا فانٍ جو کچھ بھی زمین پر ہے ، وہ فنا ہونے والا ہے۔ گذشتہ درس میں فرمایا والارض وضعھا للانام ہم نے زمین کو اپنی مخلوق کے لیے بچھا دیا۔ اللہ کی بیشمار مخلوق انسان ، جانور ، درندے پرندے ، کیڑے مکوڑے اس زمین پر آباد ہیں اور اسی سے پیدا ہونے والی روزی استعمال کرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ 30۝ أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–34

ترکیب : فانٍ خبر لکل من ذوالجلال بالرفع علیٰ انہ لغت للوجہ وبالجر لغتا للمجرور۔ یسئلہ مستانف اوحال من وجہ والعامل فیہ یبقٰی۔ کل ظرف لمادل علیہ ھوفی شان لاتنفذون لانافیۃ شواظ بالضم والکسر لغتان ھو اللہب الذی لادخان معہ۔ من نار صفۃ او متعلق بالفعل۔ نحاس بالرفع عطفا علی شواظ بالجر عطفا علے نار والاول اقوی۔ تفسیر : دلائلِ توحید میں عالم اور اس کی عمدہ اور نافع چیزیں پیدا کرنے کا ذکر تھا تاکہ معلوم ہو کہ یہ عالم قدیم نہیں بلکہ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اس کے بعد عالم فنا کرنے کی قدرت بیان کرتا ہے اور ان کے فنا کرنے میں اپنی قدرت و جبروت ظاہر فرما کر تیسرے مسئلہ حشر کو بھی اسی کلام کے دوسرے پہلو میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 29–30

یَسْئَلُـہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 29، 30) (اسی سے مانگتا ہے جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے، وہ ہر وقت ایک نئی شان میں ہے۔ اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے۔ ) سب کا مرجع اللہ تعالیٰ ہی ہے آسمانوں اور زمین میں جو مخلوق بھی بستی ہے حقیقت میں اس کا دست سوال صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے پھیلتا ہے۔ اس کا جسم، اس کی جان، اس کی صلاحیتیں، اس کے احساسات سب اس کی دین ہیں۔ اسے جتنی ضرورتیں لاحق ہوتی ہیں وہ چاہے کسی واسطے سے بھی اسے ملیں حقیقی واسطہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ درجہ بدرجہ دینے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–32

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی ذات اس وقت بھی تھی جب کچھ نہیں تھا اور اس وقت بھی ہوگی جب کچھ نہیں ہوگا ہر چیز اسی کی محتاج ہے۔ اس لیے پوری مخلوق اسی سے مانگتی ہے اور سب کو اسی سے مانگنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے لوگو ! تم سب کے سب اللہ کی بارگاہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی ہے، وہ چاہے تو تمہیں ختم کردے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق لے آئے، ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں ہے۔ (فاطر : 15 تا 17) اللہ ہی خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے اس لیے جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہے ہر کوئی اسی سے مانگتا ہے۔ ہر دن ہر آن رب ذوالجلال کی نئی شان ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

30 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

29 ۔” یسالہ من فی السموات والارض “ فرشتے اور جن وانس میں سے ۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ اس سے زمین و آسمان والے مستغنی نہیں ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں پس آسمان والے اس سے مغفرت کا سوال کرتے ہیں اور زمین والے اس سے رزق، توبہ اور مغفرت کا سوال کرتے ہیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس سے زمین والے رزق اور مغفرت کا سوال کرتے ہیں اور فرشتے بھی ان کے لئے رزق اور مغفرت کا سوال کرتے ہیں۔ ” کل یوم ھو فی شان “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب انہوں نے کہا بیشک اللہ تعالیٰ ہفتہ کے دن کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں اس کی شان یہ ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–30

26۔ 30۔ یہ تو سورة دخان میں گزر چکا ہے کہ ہر شب قدر کو سال بھر کے انتظام کی لوح محفوظ سے اللہ تعالیٰ فرشتوں کو نقل اتروا دیتا ہے اس کے موافق سال بھر کا انتظام دنیا کا چلتا رہتا ہے۔ اس انتظام الٰہی کے سبب سے ہر روز دنیا میں ہزاروں باتیں ایسی پیش آتی رہتی ہیں جن سے روز اللہ تعالیٰ کی ایک نئی شان اور نئی قدرت معلوم ہوتی رہتی ہے کوئی چلتا پھرتا بھلا چنگا دم بھر میں مرجاتا ہے کوئی اس طرح کی بیماری سے کہ جس سے کسی طرح بچنے کی امید نہ تھی تندرست ہوجاتا ہے کوئی امیری سے غریبی کے حال کو پہنچ اتا ہے کوئی غریب سے امیر ہوجاتا ہے۔ صحیح بخاری 2 ؎‘ ابن ماجہ ‘ طبرانی وغیرہ میں مرفوع اور موقوف روایتیں ہیں جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 29–32

یعنی اللہ تعالیٰ بذاتہ تمام مخلوقات سے بےنیاز ہے وہ بےپایاں جودو کرم کا مالک ہے تمام مخلوق اس کی محتاج ہے وہ اس سے اپنی حوائج کے متعلق اپنے حال وقال کے ذریعے سے سوال کرتے ہیں وہ لمحہ بھر بلکہ اس سے بھی کم وقت کے لیے اس سے ب نیاز نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ (كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ ) ہر ورز (ہر وقت) ایک نئی شان میں ہوتا ہے یعنی وہ محتاج کو غنی کرتا ہے ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے کسی قوم کو عطا کرتا ہے کسی کو محروم کرتا ہے وہ موت دیتا اور زندگی عطا کرتا ہے وہی کسی کو جھکاتا اور کسی کو بلند کرتا ہے کوئی کام اسے کسی دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا مسائل اسے کسی غلطی میں مبتلا نہیں کرسکتے مانگنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–36

لئو لئو اور مرجان قول باری ہے (یخرج منھما اللئو لئو والمرجان ان دونوں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں) یہاں مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک سے کیونکہ موتی اور مونگے سمندر کے کھارے پانی سے برآمد ہوتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں برآمد ہوتے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (یا معشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے) جب کہ رسول صرف انسانوں میں سے بھیجے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حسن، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ مرجان چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق مرجان مخلوط قسم کے جواہرات کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ” مرحت “ سے نکلا ہے جس کے معنی مخلوط ہوجانے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 29–30

[ 22] سب کا داتا اور سب کا رازق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی سے مانگتے ہیں وہ سب جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ کہ داتا سب کا وہی اور صرف وہی ایک ہے، باقی ہر کوئی منگتا اور اسی کا محتاج ہے، اور پھر یہ مانگنا بھی عام ہے کہ زبان حال سے ہو یا زبان قال سے، اور مانگی جانے والی چیز بھی خواہ چھوٹی ہو یا بڑی، اسی لیے یہاں پر یسئل فعل کا مفعولذکر نہیں فرمایا گیا جس سے عموم و شمول کا فائدہ حاصل ہوا ہے، اور یہ ہر چیز اور ہر ضرورت کو شامل ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔ { واتکم من کل ما سالتموہ ط وان تعد وانعمت اللّٰہ لا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 26–30

سب کا فنا ہونا ضروری ہے سوائے اللہ کے تشریح : ان آیات میں ازل سے ابد تک کا حال بیان کردیا گیا ہے۔ ایک مرحلہ عالم ارواح کا پھر موجودہ زندگی اور آخر میں فنا یعنی قیامت کا زمانہ آئے گا۔ اللہ برکتوں والا، عظمتوں اور جلال والا ہے۔ صرف اس کی ذات باقی رہے گی اور سب فنا ہوجائے گا۔ کیونکہ دنیا کی پیدائش مخلوقات کی پیدائش ایک مقصد کے لیے ہے جب وہ مقصد پورا ہوجائے گا تو پھر خاتمہ ضروری ہے یہی اللہ کا دستور ہے اور یہی دنیا کا انجام ہے۔ ہر چیز جو پیدا ہوئی ہے ختم ضرور ہوگی۔ اللہ ہی بزرگ و برتر اور ہمیشہ رہنے والا قدرت رکھنے والا تمام انتظامات اسی کے ہاتھ میں ہیں اس لیے ہر شخص اسی سے ہر طرح کی مدد مانگتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–45

آیات 26 تا 45۔ اسرار ومعارف۔ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اپنی ذات میں فانی ہے اور روز قیامت فنا ہوگا ہاں بقا اور ہمیشہ کا رہنا صرف ذات باری کے لیے ہے جو بہت عظمت کا مالک ہے کہ اپنی بقا میں اور اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج نہیں اور صاحب اکرام ہے کہ ساری مخلوق پہ اس کا کرم و احسان عام ہے جو ساری ہی اس کی محتاج ہے اور اس کے سہارے قائم ہے تو بھلا اس کے احسانات کیسے بھلاپاؤ گے سب کی سب مخلوق زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں ہرگھڑی اس کے دروزاے پر دست سوال دراز کیے کھڑی ہے۔ اور سب اس ذات سے ہر شے مانگ رہے ہیں اور ہر روز ہر آن اس کی عظمت کا اظہار کئی کئی شانوں سے ہورہا ہے اور اس کی عطا بٹ رہی ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 30–31

ف 6 اس سے مقصود جنوں اور انسانوں کو متنبہ کرنا ہے کہ تمہارے اعمال کے محاسبہ کا قوت قریب آگیا ہے۔ معلوم ہوا کہ انسانوں کی طرح جنوں کو بھی جزا و سزا ملے گی۔ جمہور علماء اس کے قائل ہیں اور آیت کریمہ و لکل درجات مما عملوا سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ 7 یہاں جنوں اور انسانوں کے لئے نقلان کا لفظ اسعتمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ” زمین کے دو بوجھ “ ان کی قدر و منزلت اور وقار کی وجہ سے ان کو ثقلان فرمایا ہے کہ دوسری مخلوق پر ان کا درجہ بھاری ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:30) فبای الاء ربکما تکذبن۔ پس اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی اوصاف حمیدہ کو جھٹلاؤگے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–45

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 45 فان فنا ہونے والا ۔ وجہ چہرہ، ذات۔ ذوالجلا عزت و عظمت والا۔ یسئل سوال کرتا ہے۔ شان ضروری کام، شان ۔ الثقلن دو بڑی بھاری مخلوق۔ معشر گروہ، جماعت تنفذوا تم نکل بھاگو۔ اقطار کنارے۔ سلطان طاقت و قوت شواظ شعلے نحاس دھواں لاتنصران تم بدلہ نہ لے سکو گے انشقت پھٹ پڑی وردۃ سرخ الدھان رنگا ہوا سرخ چمڑا یعرف پہچان لیا گیا۔ النواصی پیشانیاں یطرفون وہ گھو میں گے۔ حمیم کھولتا وہا۔ ان بہت کھولتا ہوا گرم پانی۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 45 اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر سب سے بڑا کرم اور نعمت یہ ہے کہ اس نے قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی انسانوں اور جنات کو اس بات سے پوری طرح آگاہ کردیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 30–31

(ف 1) اے آدمیو اور جنو۔ تم ہم کو غافل نہ سمجھو عنقریب ہم ہر بات کا حساب لیتے ہیں اور دنیا میں جو کرتے ہو سب محفوظ رہے گا بروز قیامت سب سوال ہوگا، اب آگے جنات اور انسان کے منکر حشر گروہ سے فرمایا کہ جب قیامت قائم ہوگی تو ان سے کہا جائے گا کہ لوآج کچھ رستہ نکالو توعرصہ محشر سے کہیں بھاگ جاؤ، آسمانوں کے کنارے اور زمین کی انتہائی طرفوں سے فرشتوں کی ہزاروں صفوں کے احاطہ سے نکل کر چلے جاؤ، اگر اتنی طاقت ہوتودکھاؤ، ہرگز اللہ کی حکومت اور بادشاہت سے نکل کر کہیں بھاگ نہیں سکتے ہاں اگر کوئی دلیل رکھتے ہو یعنی تقوی ، گناہوں سے توبہ، توعرصہ محشر سے نکل کر جنت میں جاؤ گے۔ سوائے کافرو کے تمہارے پاس تقوی ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–30

[8] یعنی سب کا مرجع حقیقی وہی ہے، جو بھی پاتا ہے اسی کا دیا ہوا پاتا ہے اور چونکہ ہر مانگنے والا اس سے پاتا ہے اس لئے خواہ کسی سے مانگے لیکن حقیقت کے اعتبار سے اسی سے مانگتا ہے۔ انسان کو جو کچھ ملتا ہے اللہ ہی کا دیا ہوا ملتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–31

ف 1: یعنی اس عالم فنا کے کاروبار ختم ہونے والے ہیں ۔ اور اس کے بعد ہم تمہاری جانب متوجہ ہوں گے اور تم سے پوچھیں گے ۔ کہ تم نے اس زندگی میں کیا کیا ہے ؟ تم باوجود اپنی طاقت وقوت کے ہمارے قبضہ اقتدار میں ہو ۔ اور اگر تم چاہو بھی ۔ کہ آسمانوں اور زمین کی حدود سے باہر نکل جاؤ۔ تو کیا یہ ممکن ہے ؟ پھر کیوں نہیں سوچتے ؟

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(30) سوائے جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے ۔ یعنی یہ اس کا محتاج الیہ اور سب کو مشکل کشا ہونا بھی اللہ تعالیٰ کا ایک احسان ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 30–31

ف 4۔ یعنی حساب و کتاب لینے والے ہیں، مجازا و مبالغة اس کو خالی ہونے سے تعبیر فرمادیا اور حقیقی معنی اس لئے نہیں ہوسکتے کہ وہ مستلزم ہے اس کو کہ اس کے قبل ایسی مسغول ہو جو مانع ہو، دسری طرف متوجہ ہونے سے، اور یہ ذات باری میں محال ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر تھر دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے 03۔ رب ذوالجلال والا کرام کی توحید کی یہ نشانی جو اوپر بیان کی ہے کہ ہر ایک خواہ وہ کون ہے ، کہاں اور کیسا ہے ؟ آسمانوں میں ہے یا زمین میں اللہ تعالیٰ ہی کے دروازہ کا سائل ہے لیکن جنس انسان ہی کی دونوں اقسام ایسی ہیں کہ وہ خالق کے دروازہ کو چھوڑ کر مخلوق کی طرف دوڑتی ہیں۔ اسی مخلوق کو حاجت روا اور مشکل کشا بناتی ہیں ، کسی کو داتا قرار دیتی ہیں ، کسی کو روزی رساں سمجھتی ہیں ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے کہ آسمانوں اور زمین کی ساری مخلوق میں سے یہی دونوں ارادہ اور اختیار رکھتی ہیں اور یہی دونوں مکف قرار دی گئی ہیں علاوہ ازیں کسی کو اختیار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–30

يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (All those in the heavens and the earth beseech Him. Every day He is at some task...55:29). The verse signifies that all creatures stand in need of Allah, in all conditions and situations. They all seek His help willingly or unwillingly. The earthly creatures ask for their specific needs. In this world, they need sustenance, health and welfare, and comfort; and in the Hereafter, they need forgiveness, mercy and Paradise. The celestial creatures do not eat and drink, they do however need Allah's mercy and grace. Allah's…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

28 Here, alaa seems to have been treed in the sense of qualities and glories Every person who commits polytheism of any kind, in fact, disavows one or the other of Allah's attributes, A person's saying that such and such a saint has removed his disease, in fact, amounts to saying that Allah is not the Remover of disease and Restorer of health but the saint, Another one's saying that such and such a holy one has got him a job, in fact, amounts to saying that AIIah is not the Sustainer and Lord but the particular holy person. Still another one's saying that his prayer has been answered at a…

Read the full tafseer →