Explained with ayahs 26–30
اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا
فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہوگا کل جاندار مخلوق کو موت آجائے گی اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک ہے جو موت و فوت سے پاک ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں اولا تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ حضور ﷺ سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے (یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک) یعنی اے ہمیشہ جینے اور…
Read the full tafseer →سورة الرَّحْمٰن 27
یعنی ہر وقت اس کار گاہ عالم میں اس کی کارفرمائی کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری ہے، کسی کو مار رہا ہے اور کسی کو جلا رہا ہے۔ کسی کو اٹھا رہا ہے اور کسی کو گرا رہا ہے۔ کسی کو شفا دے رہا ہے اور کسی کو بیماری میں مبتلا کر رہا ہے۔ کسی ڈوبتے کو بچا رہا ہے اور کسی تیرتے کو ڈبو رہا ہے۔ بیشمار مخلوقات کو طرح طرح سے رزق دے رہا ہے۔ بےحد و حساب چیزیں نئی سے نئی وضع اور شکل اور اوصاف کے ساتھ پیدا کر رہا ہے۔ اس کی دنیا کبھی ایک حال پر نہیں رہتی۔ ہر لمحہ اس کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور اس کا خالق ہر بار اسے ایک نئی صورت سے ترتیب دیتا ہے جو پچھلی تمام صورتوں سے مختلف ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
يَسْـَٔـلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ ، " یعنی زمین و آسمان کی ساری مخلوقات حق تعالیٰ کی محتاج ہیں اور اسی سے اپنی حاجات مانگتی ہیں، زمین والے اپنے مناسب حاجات رزق اور صحت و عافیت اور آرام و راحت پھر آخرت کی مغفرت و راحت اور جنت مانگتے ہیں، آسمان والے اگرچہ کھاتے پیتے نہیں، مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کے ہر وقت محتاج ہیں، وہ بھی رحمت و مغفرت وغیرہ اپنی حاجات کے طلب گار رہتے ہیں، آگے كُلَّ يَوْمٍ اسی يَسْـَٔـلُ کا ظرف ہے، یعنی ان کے سوالات اور درخواستیں حق تعالیٰ سے ہر روز رہتی ہیں اور یوم اور روز سے مراد بھی عرفی دن نہیں، بلکہ مطلقاً وقت مراد ہے، جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(یسئلہ من فی السموات والارض کل یوم ھو فی شان فبای الاء ربکما تکذبین) (29۔ 30)۔
(حقیقی مرجع اللہ ہی ہے)۔ یعنی سب کا مرجع حقیقی وہی ہے۔ جو بھی پاتا ہے اسی کا دیا ہوا پاتا ہے۔ لفظ ’ سوال ‘ یہاں اپنے ثمر اور نتیجہ کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے۔ یعنی ہر مانگنے والا چونکہ پاتا اسی سے ہے اس وجہ سے خواہ کسی سے مانگے لیکن حقیقت کے اعتبار سے اسی سے مانگتا ہے۔ دوسروں سے اس کا مانگنا بالکل بےسود اور لا حاصل ہے۔ کوئی دوسرا نہ کچھ دے سکتا نہ کچھ لے سکتا۔ اس وجہ سے کسی اور کو مولیٰ و مرجع سمجھ کر اس کے آگے اپنی التجاء درخواست پیش کرنا محض سفاہت ہے۔ دنیا میں انسان کو جو کچھ ملتا ہے خدا ہی کا دیا ہوا ملتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
29۔ 1 یعنی سب اس کے محتاج اور اس کے در کے سوالی ہیں۔
29۔ 2 ہر روز کا مطلب، ہر وقت۔ شان کے معنی امر یا معاملہ، یعنی ہر وقت وہ کسی نہ کسی کام میں مصروف ہے، کسی کو بیمار کر رہا ہے، کسی کو شفایاب، کسی کو تونگر کسی کو فقیر، کسی کو گدا سے شاہ اور شاہ سے گدا، کسی کو بلندیوں پر فائز کر رہا ہے، کسی کو پستی میں گرا رہا ہے کسی کو ہست سے نیست اور نیست کو ہست کر رہا ہے وغیرہ۔ الغرض کائنات میں یہ سارے تصرف اسی کے امرو مشیت سے ہو رہے ہیں اور شب و روز کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو اس کی کارگزاری سے خالی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
5: یعنی ہر روز اور ہر آن وہ اپنی کائنات کی تدبیر اور اپنی مخلوقات کی حاجت روائی میں اپنی کسی نہ کسی شان یا صفت کا مظاہرہ فرماتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →زمین اور آسمانوں میں جو مخلوقات ہیں وہ اس بقائے دوام کے سوالی ہیں کیونکہ سوال کی جگہ ہی وہ ہے۔ اس کے سوا دوسری کوئی درگاہ نہیں ہے اور اس کے سوا کسی سے کوئی سوال اس لئے عبث ہے کہ غیر خود محتاج ہے محتاج محتاج کی کیا مدد کرسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ہر آن کئی شان ہے۔ یہ وجود جو لاحدود ہے۔ سب کا سب اس کی مشیت ، اس کی تصویر اور اس کی تدبیر سے چل رہا ہے۔ یہ تدبیر پوری کائنات میں رواں دواں ہے اور ہر فرد علیحدہ علیحدہ بھی اس تقدیر اور مشیت میں پرویا ہوا ہے۔ پھر انسانی فرد کے اندر اس کا ایک ایک رواں بھی اس تقدیر کے دائرہ میں مقدر ہے۔ ہر چیز کو اللہ تخلیق عطا کرتا ہے۔ اسے اس کا مقصد تخلیق دیتا ہے اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
7 یعنی دنیا کے یہ کام اور دھندے عنقریب ختم ہونے والے ہیں۔ اس کے بعد ہم دوسرا دور شروع کریں گے۔ جب تم دونوں بھاری قافلوں (جن و انس) کا حساب کتاب ہوگا مجرموں کی پوری طرح خبر لی جائے گی۔ اور وفاداروں کو پور اصلہ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 29{ یَسْئَلُہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط } ”اسی سے مانگتا ہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔“
اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کے لیے اللہ ہی کے در کی سوالی ہے۔ ہر کسی کو وجود بھی اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔ ہر زندہ وجود کی زندگی بھی اسی کی دین ہے ‘ کسی مخلوق میں اگر کوئی صلاحیت ہے تو وہ بھی اسی کی بخشی ہوئی ہے اور تمام مخلوقات کے ایک ایک فرد کی ضرورتوں کا خبرگیر ونگہبان بھی وہی ہے۔ اس حوالے سے سورة محمد کی آیت 38 کے یہ الفاظ بہت واضح ہیں : { وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآئُج } کہ اللہ غنی اور بےنیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو۔ یعنی تمہارا وجود ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
19 اللہ تعالیٰ کے نت نئے کام :۔ بےنیاز فقط اللہ کی ذات ہے باقی تمام مخلوق اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے اللہ کی محتاج ہے۔ کوئی اس سے کھانے کو مانگ رہا ہے کوئی پینے کو، کوئی تندرستی کے لیے دعا کرتا ہے اور کوئی اولاد کے لیے۔ کوئی گناہوں سے مغفرت اور ترقی درجات کے لیے اور وہ سب مخلوق کی فریاد سنتا اور ان کی فریاد رسی کر رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر آن یہ کام کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں ہر وقت نئی سے نئی مخلوق کو وجود میں لا رہا ہے جس طرح انسانوں کی پیدائش بڑھ رہی ہے اسی طرح ہر ذی حیات کی نسل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پھر وہ کائنات میں نئے سے نئے سیارے اور کہکشائیں بھی وجود میں لا رہا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
17۔ یعنی کائنات میں تصرفات جو ہر لحظہ اور ہر آن جاری رہتے ہیں۔ یہ نتیجہ ہیں تمامتر اللہ تعالیٰ کی ہمہ وقتی توجہ والتفات کا، یہ ممکن نہیں کہ حق تعالیٰ پر غفلت اور بےالتفاتی ایک آن کے لئے بھی طاری ہو۔ یہیں سے رد نکل آیا ان گمراہ قوموں کا جن کے نزدیک خدا دنیا کو ایک بار پیدا کرکے اب معطل اور اس سے بےتعلق ہوبیٹھا ہے، یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا ایک بار کے عمل تخلیق کے بعد اب معطل ہے۔ اسلام کے عقیدہ میں اس خالق اکبر و قادر مطلق کی کن فیکونی قوت کا ظہور ہر آن ہر لمحہ کائنات کی ادنی سی ادنی حرکت و تصرف میں ہوتا رہتا ہے۔ آگ اس لئے نہیں جلاتی اور پانی اس لئے نہیں دھوتا کہ آگ اور پانی میں کوئی فطری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
کل یوم ھو فی شان یعنی ہر وقت اس کارگاہ عالم میں اس کی کارفرمائی کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے، ظاہر ہے کہ پوری کائنات میں ارضی اور سمائی مخلوقات کی بیشمار حاجتیں ہیں، جن کو ہر گھڑی اور ہر آن سوائے اس عظمت و جلال والے قادر مطلق کے کون سن سکتا ہے اور کون ان کو پورا کرسکتا ہے، اسی لئے کل یوم ھو فی شان یعنی ہر لحظ اور ہر لمحہ حق تعالیٰ کی ایک شان ہوتی ہے وہ کسی کو زندہ کرتا ہے کسی کو موت دیتا ہے کسی کو عزت دیتا ہے تو کسی کو ذلیل کرتا ہے کسی تندرست کو بیمار کرتا ہے تو کسی مریض کو تندرست کرتا ہے، کسی مصیبت زدہ کو مصیبت سے نجات دیتا ہے تو کسی کو مصیبت میں مبتلا کرتا ہے کسی کو رلاتا ہے تو کسی کو…
Read the full tafseer →یسئلہ من فی السموت والارض کل یوم ھو فی شان
اسی سے (اپنی اپنی حاجتیں) سب آسمان و زمین والے مانگتے ہیں۔ وہ ہر وقت ایک نئی شان میں ہے
یَسْءَلُہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ.... یعنی فرشتے ‘ انسان اور جنات سب اپنی اپنی حاجتیں اللہ سے مانگتے ہیں۔ رزق ‘ صحت ‘ عافیت ‘ توفیق عبادت ‘ مغفرت اور نزول تجلیات و برکات کے اسی سے طلبگار ہوتے ہیں۔
بعض اہل تفسیر نے کہا کہ من فی السمٰوٰت والارض سے ساری مخلوق مراد ہے کیونکہ تمام کائنات اپنی ذات وصفات اور کل ضروریات میں اللہ کی محتاج ہے۔ اس صورت میں سوال سے مراد ہوگی وہ حالت و کیفیت جو احتیاج پر دلالت کر رہی ہے۔ خواہ زبان سے اس کا اظہار کیا جائے یا نہ کیا جائے ‘ دلالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(29۔ 30) اسی سے تمام فرشتے اور مومنین مانگتے ہیں، چناچہ زمین والے اس سے مغفرت کی توفیق عصمت و کرامت اور رزق مانگتے ہیں۔
وہ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں رہتا ہے تمام امور اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں جو کہ احاطہ اور شمار سے باہر ہیں چناچہ وہ ہی جلاتا اور مارتا ہے اور وہ ہی عزت و ذلت دیتا ہے وہی لوگوں کو اولاد عطا کرتا ہے اور وہی غلاموں کو رہا کراتا ہے، سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
1۔ یَسْئَلُـہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط : یہ ہر چیز کے فانی ہونے اور اللہ تعالیٰ کے باقی ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ باقی ہے، کیونکہ وہ غنی ہے ، اپنے وجود یا بقایا کسی بھی چیز میں کسی دوسرے کا محتاج نہیں ، مگر اس کے سوا جو بھی ہے خواہ آسمان ہوں یا زمین یا جو ان دونوں میں ہے ، سب اپنے وجود ، اپنی بقاء اور اپنی ہر ضرورت کے لیے ہر لمحے اس کے محتاج ہیں۔ اپنی ہر ضرورت اسی سے مانگ رہے ہیں ، کوئی زبان ِ قال سے مانگ رہا ہے ، کوئی زبان حال سے اور کوئی دونوں سے۔ جس کی زندگی کا ہر لمحہ مانگنے پر موقوف ہے وہ کیا خاک باقی رہے گا۔
2۔ کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَاْنٍ :”کل یوم“ سے مراد ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
یسئلہ من فی السماوات۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آسمانوں میں جو ہے وہ رحمت کا سوال کرتا ہے اور زمین میں جو کوئی ہے وہ رزق کا سوال کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس اور ابو صالح نے کہا : اہل آسمان مغفرت کا سوال کرتے ہیں وہ رزق کا سوال نہیں کرتے اور اہل زمین دونوں چیزوں کا سوال کرتے ہیں ابن جریج نے کہا : ملائیکہ اہل زمین کے لئے رزق کا سوال کرتے ہیں۔ دونوں سوال اہل زمین کے لئے ہیں وہ سوال آسمان والوں کی جانب سے ہو یا اہل زمین کی جانب سے ہو۔ حدیث میں ہے ” فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جس کے چار چہرے ہیں ایک چہرہ انسان کے چہرہ کی طرح ہے وہ اللہ تعالیٰ سے انسانوں کے لئے رزق کا سوال کرتا ہے، ایک چہرہ شیر کے چہرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' یسئلہ من فی السموت والارض ''
12:۔ ابن جریر وا ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یسئلہ من فی السموت والارض '' (اس سے سب زمین و آسمان والے مانگتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے بندے خاص طور پر اس سے رزق موت اور زندگی کا سوال کرتے ہیں۔
13:۔ عبد بن حمید (رح) ابن المنذر (رح) نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یسئلہ من فی السموت والارض '' میں '' (آیت ) '' یسئلہ من فی السموت '' سے مراد ہے کہ آسمان میں رہنے والے فرشتے بھی اس سے رحمت کا سوال کرتے ہیں اور زمین میں رہنے والے مغفرت اور رزق کا سوال کرتے ہیں۔
14:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے…
Read the full tafseer →يَسْـَٔـلُهٗ [ مانگتے ہیں اسی سے ] مَنْ [ وہ سب جو ] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ آسمانوں اور زمین میں ہیں ] كُلَّ يَوْمٍ [ ہر روز ] هُوَ فِيْ شَاْنٍ [ وہ (اپنی عظمت کے مطابق ) کسی کام میں ہے ]
نوٹ۔ 3 : آیت ۔ 29 ۔ میں ہے کہ زمین اور آسمانوں کی ساری مخلوقات اور ان کا ایک ایک فرد اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجات مانگتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر وقت ہر حال میں ان کی درخواست پورا کرنے کے لحاظ سے ایک خاص شان میں ہوتے ہیں ۔ پھر آیت ۔ 31 ۔ میں یہ بتلایا گیا ہے کہ قیامت کے روز درخواستوں اور انکے قبول اور ان پر عمل کا سب سلسلہ بند ہوجائے گا ۔ اس وقت کام صرف ایک رہ جائے گا یعنی حساب وکتاب اور عدل انصاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات عالیہ اور انسان اور جنات کی عاجزی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی بیان فرمایا کہ اس دنیا میں جو کچھ کرتے ہو یہ نہ سمجھو کہ عمل کرنے میں آزاد ہو، اعمال کی پوچھ گچھ ہوگی۔ جزا و سزا کا دن آنے والا ہے، تمہارے حساب و کتاب کے لیے ہم عنقریب فارغ ہوں گے یعنی تمہارا محاسبہ کریں گے مخلوق کے سمجھانے کے لیے مجازاً ایسا فرمایا ورنہ حق تعالیٰ شانہٗ کو کوئی بھی فعل دوسرے فعل سے مانع نہیں ہوسکتا كُلَّ يَوْمٍ کا ترجمہ کل وقت اس لیے کیا گیا کہ مخلوق میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کے تصرفات جاری رہتے ہیں۔
حساب و کتاب کی خبر دے کر پہلے سے آگاہ فرمانا یہ اللہ کی عظیم نعمت ہے اسی لیے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
عظمت خداوند رب انام مع ذکر اہوال قیامت وذلت و بدحالی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ...... الی ........ تکذبن “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں فرمائی تھیں جن کے ضمن میں ان گراں قدرانعامات کا ذکر فرمایا جو جن وانس پر کی گئیں اور ظاہر ہے کہ ان دلائل و انعامات کا متقضی یہی ہے کہ جن وانس اسکی اطاعت و بندگی میں مصروف ہوجائیں اب ان آیات میں عظمت خداوندی کا بیان ہے اور قیامت کی ہول وشدت اور اس میں مجرمین پر جو ندامت وذلت ہوگی اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے ہولناک احوال میں منکرین ومکذبین کا کیسا عبرتناک حال ہوگا۔
ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 12:۔ ” یسئلہ۔ الایۃ “ یہ توحید کی نویں عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان کی ساری مخلوق فرشتے، پیغمبر اولیاء اللہ، جن اور ان کے علاوہ سب اپنے وجود وبقاء میں اللہ کے محتاج ہیں اور ہر حاجت اسی سے مانگتے ہیں اور وہ ہر لمحہ کسی نہ کسی شان میں ہوتا ہے۔ ساری کائنات کا نظام اسی کے ہاتھ میں ہے اور یہ نظم و نسق مسلسل بلا انقطاع چل رہا ہے اس طرح ہر لمحہ بیشمار شئون و افعال اس کی ذات سے وابستہ ہیں۔ جس ذات بےچون و چگون کے سب محتاج وسائل ہیں اور جس کی بےپایاں نعمتوں کے بوجھ کے نیچے سب دبے پڑے ہیں وہی سب کا کارساز اور وہی برکات کا سرچشمہ ہے۔ یوم سے مراد مطلق وقت ہے۔ ای کل وقت وحین یحدث امورا ویجدد احوالا کما روی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–36
ربطہ آیات
گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنی مخلوق خاص طور پر انسانوں اور اہل ایمان پر کیے ہیں۔ پھر اپنی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کیا جو اس کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر دلیل بنتی ہیں اب آج کے درس میں اللہ نے جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔
فانی اور باقی
ارشاد ہوتا ہے کل من علیھا فانٍ جو کچھ بھی زمین پر ہے ، وہ فنا ہونے والا ہے۔ گذشتہ درس میں فرمایا والارض وضعھا للانام ہم نے زمین کو اپنی مخلوق کے لیے بچھا دیا۔ اللہ کی بیشمار مخلوق انسان ، جانور ، درندے پرندے ، کیڑے مکوڑے اس زمین پر آباد ہیں اور اسی سے پیدا ہونے والی روزی استعمال کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →يَسْـَٔـلُہٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۭ كُلَّ يَوْمٍ ہُوَفِيْ شَاْنٍ 29 ۚ
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
ترکیب : فانٍ خبر لکل من ذوالجلال بالرفع علیٰ انہ لغت للوجہ وبالجر لغتا للمجرور۔ یسئلہ مستانف اوحال من وجہ والعامل فیہ یبقٰی۔ کل ظرف لمادل علیہ ھوفی شان لاتنفذون لانافیۃ شواظ بالضم والکسر لغتان ھو اللہب الذی لادخان معہ۔ من نار صفۃ او متعلق بالفعل۔ نحاس بالرفع عطفا علی شواظ بالجر عطفا علے نار والاول اقوی۔
تفسیر : دلائلِ توحید میں عالم اور اس کی عمدہ اور نافع چیزیں پیدا کرنے کا ذکر تھا تاکہ معلوم ہو کہ یہ عالم قدیم نہیں بلکہ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اس کے بعد عالم فنا کرنے کی قدرت بیان کرتا ہے اور ان کے فنا کرنے میں اپنی قدرت و جبروت ظاہر فرما کر تیسرے مسئلہ حشر کو بھی اسی کلام کے دوسرے پہلو میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
یَسْئَلُـہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 29، 30)
(اسی سے مانگتا ہے جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے، وہ ہر وقت ایک نئی شان میں ہے۔ اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے۔ )
سب کا مرجع اللہ تعالیٰ ہی ہے
آسمانوں اور زمین میں جو مخلوق بھی بستی ہے حقیقت میں اس کا دست سوال صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے پھیلتا ہے۔ اس کا جسم، اس کی جان، اس کی صلاحیتیں، اس کے احساسات سب اس کی دین ہیں۔ اسے جتنی ضرورتیں لاحق ہوتی ہیں وہ چاہے کسی واسطے سے بھی اسے ملیں حقیقی واسطہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ درجہ بدرجہ دینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی ذات اس وقت بھی تھی جب کچھ نہیں تھا اور اس وقت بھی ہوگی جب کچھ نہیں ہوگا ہر چیز اسی کی محتاج ہے۔ اس لیے پوری مخلوق اسی سے مانگتی ہے اور سب کو اسی سے مانگنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے لوگو ! تم سب کے سب اللہ کی بارگاہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی ہے، وہ چاہے تو تمہیں ختم کردے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق لے آئے، ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں ہے۔ (فاطر : 15 تا 17)
اللہ ہی خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے اس لیے جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہے ہر کوئی اسی سے مانگتا ہے۔ ہر دن ہر آن رب ذوالجلال کی نئی شان ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود…
Read the full tafseer →29 : یَسْئَلُہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اسی سے سب آسمان و زمین والے مانگتے ہیں)
قراءت : نافع نے اس پر وقف کیا ہے۔
سب سائل ہیں :
تمام اہل ارض و سماء اسی کے محتاج ہیں۔ آسمان والے وہ چیزیں اس سے مانگتے ہیں جو ان کے دین سے متعلق ہیں۔ اور اہل ارض وہ چیزیں مانگتے ہیں جو دین و دنیا دونوں سے متعلق ہے۔
نحو : کُلَّ یَوْمٍ (ہر دن) یہ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اس پر ھو فی شان دلالت کرتا ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے : کل وقت و حین یحدث امورًا و یجدد احوالا۔
ایک بلند ایک کو پست کرتا ہے :
ھُوَ فِیْ شَاْنٍ (وہ ایک نئی شان میں ہے) یعنی ہر وقت و گھڑی وہ کچھ امور کو پیدا کرتا اور حالات کی تجدید کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →28 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
26۔ 30۔ یہ تو سورة دخان میں گزر چکا ہے کہ ہر شب قدر کو سال بھر کے انتظام کی لوح محفوظ سے اللہ تعالیٰ فرشتوں کو نقل اتروا دیتا ہے اس کے موافق سال بھر کا انتظام دنیا کا چلتا رہتا ہے۔ اس انتظام الٰہی کے سبب سے ہر روز دنیا میں ہزاروں باتیں ایسی پیش آتی رہتی ہیں جن سے روز اللہ تعالیٰ کی ایک نئی شان اور نئی قدرت معلوم ہوتی رہتی ہے کوئی چلتا پھرتا بھلا چنگا دم بھر میں مرجاتا ہے کوئی اس طرح کی بیماری سے کہ جس سے کسی طرح بچنے کی امید نہ تھی تندرست ہوجاتا ہے کوئی امیری سے غریبی کے حال کو پہنچ اتا ہے کوئی غریب سے امیر ہوجاتا ہے۔ صحیح بخاری 2 ؎‘ ابن ماجہ ‘ طبرانی وغیرہ میں مرفوع اور موقوف روایتیں ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
یعنی اللہ تعالیٰ بذاتہ تمام مخلوقات سے بےنیاز ہے وہ بےپایاں جودو کرم کا مالک ہے تمام مخلوق اس کی محتاج ہے وہ اس سے اپنی حوائج کے متعلق اپنے حال وقال کے ذریعے سے سوال کرتے ہیں وہ لمحہ بھر بلکہ اس سے بھی کم وقت کے لیے اس سے ب نیاز نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ (كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ ) ہر ورز (ہر وقت) ایک نئی شان میں ہوتا ہے یعنی وہ محتاج کو غنی کرتا ہے ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے کسی قوم کو عطا کرتا ہے کسی کو محروم کرتا ہے وہ موت دیتا اور زندگی عطا کرتا ہے وہی کسی کو جھکاتا اور کسی کو بلند کرتا ہے کوئی کام اسے کسی دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا مسائل اسے کسی غلطی میں مبتلا نہیں کرسکتے مانگنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–36
لئو لئو اور مرجان
قول باری ہے (یخرج منھما اللئو لئو والمرجان ان دونوں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں) یہاں مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک سے کیونکہ موتی اور مونگے سمندر کے کھارے پانی سے برآمد ہوتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں برآمد ہوتے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (یا معشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے) جب کہ رسول صرف انسانوں میں سے بھیجے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حسن، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ مرجان چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں۔
ایک قول کے مطابق مرجان مخلوط قسم کے جواہرات کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ” مرحت “ سے نکلا ہے جس کے معنی مخلوط ہوجانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
[ 22] سب کا داتا اور سب کا رازق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی سے مانگتے ہیں وہ سب جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ کہ داتا سب کا وہی اور صرف وہی ایک ہے، باقی ہر کوئی منگتا اور اسی کا محتاج ہے، اور پھر یہ مانگنا بھی عام ہے کہ زبان حال سے ہو یا زبان قال سے، اور مانگی جانے والی چیز بھی خواہ چھوٹی ہو یا بڑی، اسی لیے یہاں پر یسئل فعل کا مفعولذکر نہیں فرمایا گیا جس سے عموم و شمول کا فائدہ حاصل ہوا ہے، اور یہ ہر چیز اور ہر ضرورت کو شامل ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔ { واتکم من کل ما سالتموہ ط وان تعد وانعمت اللّٰہ لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
سب کا فنا ہونا ضروری ہے سوائے اللہ کے
تشریح : ان آیات میں ازل سے ابد تک کا حال بیان کردیا گیا ہے۔ ایک مرحلہ عالم ارواح کا پھر موجودہ زندگی اور آخر میں فنا یعنی قیامت کا زمانہ آئے گا۔ اللہ برکتوں والا، عظمتوں اور جلال والا ہے۔ صرف اس کی ذات باقی رہے گی اور سب فنا ہوجائے گا۔ کیونکہ دنیا کی پیدائش مخلوقات کی پیدائش ایک مقصد کے لیے ہے جب وہ مقصد پورا ہوجائے گا تو پھر خاتمہ ضروری ہے یہی اللہ کا دستور ہے اور یہی دنیا کا انجام ہے۔ ہر چیز جو پیدا ہوئی ہے ختم ضرور ہوگی۔ اللہ ہی بزرگ و برتر اور ہمیشہ رہنے والا قدرت رکھنے والا تمام انتظامات اسی کے ہاتھ میں ہیں اس لیے ہر شخص اسی سے ہر طرح کی مدد مانگتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
آیات 26 تا 45۔
اسرار ومعارف۔
ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اپنی ذات میں فانی ہے اور روز قیامت فنا ہوگا ہاں بقا اور ہمیشہ کا رہنا صرف ذات باری کے لیے ہے جو بہت عظمت کا مالک ہے کہ اپنی بقا میں اور اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج نہیں اور صاحب اکرام ہے کہ ساری مخلوق پہ اس کا کرم و احسان عام ہے جو ساری ہی اس کی محتاج ہے اور اس کے سہارے قائم ہے تو بھلا اس کے احسانات کیسے بھلاپاؤ گے سب کی سب مخلوق زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں ہرگھڑی اس کے دروزاے پر دست سوال دراز کیے کھڑی ہے۔ اور سب اس ذات سے ہر شے مانگ رہے ہیں اور ہر روز ہر آن اس کی عظمت کا اظہار کئی کئی شانوں سے ہورہا ہے اور اس کی عطا بٹ رہی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 4 چاہے زبان قابل سے اور چاہنے زبان حال سے مطلب یہ ہے کہ سب اسی کے محتاج ہیں۔ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔
5 یعنی کسی کو مارتا ہے کسی کو جلاتا ہے کسی کو مالدار کرتا ہے اور کسی کو محتاج کسی کو عزت بخشتا ہے اور کسی کو ذلت الغرض ہر آن اور ہر وقت اسکی ایک نئی شان کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ شوون الہیہ کی یہ تاویل بعض صحابہ سے مروی ہے جن میں ابوالددردہ اور حضرت عبداللہ بن عمر بھی شامل ہیں۔ (قرطبی شوکانی)
Read the full tafseer →(55:29) یسئلہ من فی السموت والارض جو کوئی آسمانوں میں ہے یا زمین میں اسی کا سوالی ہے۔ یعنی فرشتے ، جنات، اور انسان سب اپنی اپنی حاجتیں اللہ سے ہی مانگتے ہیں۔ رزق، صحت، عافیت، توفیق ، عبادت ، مغفرت اور نزول تجلیات و برکات کے اسی سے طلب گار ہوتے ہیں۔
اگر من فی السموت والارض سے سب مخلوق مراد لی جائے تو اس صورت میں سوال سے مراد وہ حالت و کیفیت ہوگی جو احتیاج پر دلالت کرتی ہے خواہ زبان سے اس کا اظہار کیا جائے یا نہ کیا جائے۔
کل یوم ھو فی شانجملہ مستانفہ ہے کل یوم مضاف مضاف الیہ بمعنی کل وقت من الاوقات ولحظۃ من الاحظات ہر وقت، ہر لحاظ۔ کل یوم منصوب بوجہ ظرفیت کے ہے۔ تقدیر کلام ہے ھو ثابت فی شان کل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 45
فان فنا ہونے والا ۔ وجہ چہرہ، ذات۔ ذوالجلا عزت و عظمت والا۔ یسئل سوال کرتا ہے۔ شان ضروری کام، شان ۔ الثقلن دو بڑی بھاری مخلوق۔ معشر گروہ، جماعت تنفذوا تم نکل بھاگو۔ اقطار کنارے۔ سلطان طاقت و قوت شواظ شعلے نحاس دھواں لاتنصران تم بدلہ نہ لے سکو گے انشقت پھٹ پڑی وردۃ سرخ الدھان رنگا ہوا سرخ چمڑا یعرف پہچان لیا گیا۔ النواصی پیشانیاں یطرفون وہ گھو میں گے۔ حمیم کھولتا وہا۔ ان بہت کھولتا ہوا گرم پانی۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا 45
اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر سب سے بڑا کرم اور نعمت یہ ہے کہ اس نے قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی انسانوں اور جنات کو اس بات سے پوری طرح آگاہ کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
(ف 2) اسی سے آسمانوں کے رہنے والے اور زمینوں کے بسنے والے سب اپنی اپنی حاجتیں علی حسب المراتب مانگتے ہیں مغفرت توفیق روزی اور حفاظت وغیرہ کے سب ہر بات میں اس کے محتاج ہیں وہ ہر وقت نرالی شان میں جلوہ دکھاتا ہے کسی کو جلاتا ہے کسی کو عزت دیتا ہے کسی کو ذلت دیتا ہے کسی کو غنی کرتا کسی کو محتاج، کسی کے گناہ بخشتا ہے کسی کی تکلیف رفع کرتا ہے ۔
شان نزول :
کہا گیا ہے کہ یہ آیت یہود کے رد میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہفتہ کے روز کوئی کام نہیں کرتا ان کے قول کا بطلان ظاہر فرمایا گیا منقول ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے اس آیت کے معنی دریافت کیے اس نے ایک روز کی مہلت چاہی اور نہایت متفکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
[8] یعنی سب کا مرجع حقیقی وہی ہے، جو بھی پاتا ہے اسی کا دیا ہوا پاتا ہے اور چونکہ ہر مانگنے والا اس سے پاتا ہے اس لئے خواہ کسی سے مانگے لیکن حقیقت کے اعتبار سے اسی سے مانگتا ہے۔ انسان کو جو کچھ ملتا ہے اللہ ہی کا دیا ہوا ملتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 3: کل یوم ھوفی شان سے غرض یہ ہے کہ خدا کائنات کے نظم ونسق ، تخلیق وترتیب احیاء واماتت میں برابر لگارہتا ہے ۔ اور باوجود اس کے جو کچھ ہوتا ہے ۔ وہ مرتبہ علمی میں سب کچھ متعین ہے ۔ پھر بھی جہاں تک فعل کا تعلق ہے ۔ وہ براہ راست ہر چیز پر قادر ہے ۔ اور بقول حکماء کے فارغ نہیں ہے ۔
حل لغات :۔ برزخ ۔ آڑ ۔ پردہ اللوء لو ۔ موتی المرجان ۔ مونگا الجوار ۔ کشتیاں شان ۔ کیفیت ۔ حال ۔ کام ۔
Read the full tafseer →(29) سب آسمان و زمین ووالے اسی سے مانگتے ہیں وہ ہر روز ایک نہ ایک شان یعنی کام میں ہے۔ یعنی آسمان و زمین کی تمام مخلوق اسی کی محتاج اور اسی کی دست نگر ہے۔
کل یوم ھوفی شان ککا مطلب یہ ہے کہ عالم میں جملہ تصرفات اس کے ہم حکم سے ہوتے ہیں اور وہ کسی وقت بھی اپنی مخلوقات سے بیخبر اور غافل نہیں ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ صدور افعال اس سے ہوتا ہے، یا صدور افعال اس کی ذات کے لوازم سے ہے۔ بعض نے کہا یہود کے ایک اعتراض کا جواب ہے وہ کہتے تھے ایک روز اللہ تعالیٰ کے آرام کرنے کا ہے اس کا جواب ہے کل یوم ہونی شان۔
خلاصہ : یہ کہ اس کی شونات بےحدوحساب ہیں کسی کو جلانا کسی کو مارنا ، کسی کو فقیر بنانا کسی کو مالدار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ف 3۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ صدور افعال کا اس کے لوازم ذات سے ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جتنے تصرفات عالم میں واقع ہورہے ہیں وہ اسی کے تصرفات ہیں۔
Read the full tafseer →آسمان و زمین والے سب اسی سے مانگتے ہیں وہ ہر روز ایک نئی شان میں ہے
92۔ دنیاو آسمان میں جو کچھ ہے خواہ وہ نبی و رسول ہے ، وہ پیروبزرگ ہے ، وہ جن وفرشتہ ہے ، وہ نوری ہے یا ناری ہے ، وہ خاکی ہے یا آبی ہے ، وہ بڑا ہے یا چھوٹا ہے ، وہ عزیز ہے یا حقیر ہے ، وہ شاہ ہے یاگدا ہے ، وہ راجہ ہے یا پر جا ، وہ حاکم ہے یا محکوم ، وہ آقا ہے یا غلام بلاستشناء سب اسی کے دربار کے بھکاری اور مانگت ہیں۔ سب کا وہی داتا ہے ، اس کے سوا کوئی داتا نہیں۔ سب اسی کے جودوکرم پر آس لگائے ہوئے ہیں اگر کوئی بیمار ہے تو اسی سے صحت مانگتا ہے یہی وہ دروازہ ہے جہاں کھڑے ہو کر ابراہیم (علیہ السلام) بھی پکار کر کہتا ہے۔ (واذمرضت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (All those in the heavens and the earth beseech Him. Every day He is at some task...55:29). The verse signifies that all creatures stand in need of Allah, in all conditions and situations. They all seek His help willingly or unwillingly. The earthly creatures ask for their specific needs. In this world, they need sustenance, health and welfare, and comfort; and in the Hereafter, they need forgiveness, mercy and Paradise. The celestial creatures do not eat and drink, they do however need Allah's mercy and grace. Allah's…
Read the full tafseer →27 That is, "He is continuously and endlessly fimctioning in this Universe and creating countless new things with new and yet new forms and designs and qualities, He is giving death to one and life to another, exalting one and debasing another, causing one to recover and another to remain ill, rescuing a drowning one and drowning a floating one. He is providing sustenance to countless creatures in a variety of ways, His world never stays In the same state: it is changing every moment and its Creator arranges it in a new state and fashion every time, which is different from every previous form…
Read the full tafseer →