Ar-Rahmaan 55:28

Ar-Rahmaan · from ayah 28

55:28

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۟فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

So which of the favors of your Lord would you deny?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:28

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھرتم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی قدرتوں کو جھٹلاؤ گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس !) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

سو تم (دونوں) اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

— محترمہ رفعت اعجاز

So which of the wonders of your Lord will you twain – you men and jinn – then deny?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani

So, which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then which of the blessings of your Lord will you both deny

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Which is it, of the favours of your Lord, that ye deny?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So which of the favors of your Lord would you deny?

— Saheeh International

(Jinn and mankind) - which of the favors of your Lord do you then deny?

— Muhammad Sarwar

Which then of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Habib Shakir

Which, then, of the benefits of your Lord, will ye twain belie?

— Abdul Majid Daryabadi

Then which of the favours of your Lord will ye deny?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–30

اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہوگا کل جاندار مخلوق کو موت آجائے گی اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک ہے جو موت و فوت سے پاک ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں اولا تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ حضور ﷺ سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے (یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک) یعنی اے ہمیشہ جینے اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّحْمٰن 26 یہاں موقع و محل خود بتارہا ہے کہ آلاء کا لفظ کمالات کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ فانی مخلوقات میں سے جو کوئی بھی کبریائی کے زعم میں مبتلا ہوتا ہے۔ اور اپنی جھوٹی خدائی کو لازوال سمجھ کر اینٹھتا اور اکڑتا ہے وہ اگر زبان سے نہیں تو اپنے عمل سے ضرور رب العالمین کی عظمت و جلالت کو جھٹلاتا ہے۔ اس کا غرور بجائے خود اللہ کی کبریائی کی تکذیب ہے۔ جو دعویٰ بھی وہ کسی کمال کا اپنی زبان سے کرتا ہے یا جس کا ادعا اپنے نفس میں رکھتا ہے، وہ اصل صاحب کمال کے مقام و منصب کا انکار ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–28

وَجْهُ رَبِّكَ ، وجہ سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک ذات حق سبحانہ و تعالیٰ ہے اور ربک میں ضمیر خطاب رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے، یہ حضرت سید الانبیاء ﷺ کا خاص اعزازو اکرام ہے کہ آپ کو خاص مقام مدح میں کہیں تو عبدہ کا خطاب ہوا ہے اور کہیں رب الارباب نے اپنی ذات کی نسبت حضور کی طرف کر کے ربک سے خطاب فرمایا ہے۔ مشہور تفسیر کے مطابق معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے جن میں جن و انس بھی داخل ہیں سب کے سب فانی ہیں، باقی رہنے والی ایک ہی ذات حق جل و علا شانہ کی ہے۔ فانی ہونے سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب چیزیں اس وقت بھی اپنی ذات میں فانی ہیں، ان میں دوام وبقاء کی صلاحیت نہیں اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 26–28

(کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذعا الجلل والاکرام فبای الاء ربکما تکذبین) (26۔ 28)۔ (مذکورہ بالا دلائل کا لازمی نتیجہ)۔ ضمیر مجرور کا مرجع الارض (زمین) ہے اس کا ذکراوپر آیت 10 سے چلا آ رہا ہے۔ زمین کے اندر اللہ تعالیٰ نے انسان کی پرورش کا جو سامان کیا ہے، اس کی خلقت میں اپنی شانیں اور حکمتیں دکھائی ہیں، اس کے ہر گوشے پر جس طرح اس کا اقتدار محیط ہے اور اس کے اضداد کے باہمی توافق سے جس طرح اس کے خالق کی یکتائی نمایاں ہو رہی ہے، یہ باتیں مستلزم ہیں کہ ایک دن یہ ساری چیزیں فنا ہوجائیں گی، صرف اللہ تعالیٰ کی با عظمت اور سزا وار تعظیم ذات ہی باقی رہ جائے گی، جس کے حضور سب کی پیشی ہونی ہے اور وہ ہر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 25–29

29۔ 1 یعنی سب اس کے محتاج اور اس کے در کے سوالی ہیں۔ 29۔ 2 ہر روز کا مطلب، ہر وقت۔ شان کے معنی امر یا معاملہ، یعنی ہر وقت وہ کسی نہ کسی کام میں مصروف ہے، کسی کو بیمار کر رہا ہے، کسی کو شفایاب، کسی کو تونگر کسی کو فقیر، کسی کو گدا سے شاہ اور شاہ سے گدا، کسی کو بلندیوں پر فائز کر رہا ہے، کسی کو پستی میں گرا رہا ہے کسی کو ہست سے نیست اور نیست کو ہست کر رہا ہے وغیرہ۔ الغرض کائنات میں یہ سارے تصرف اسی کے امرو مشیت سے ہو رہے ہیں اور شب و روز کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو اس کی کارگزاری سے خالی ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–28

4: اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ نظارہ دو دریاؤں یا دوسمندروں کے سنگم پر ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ دونوں دریاؤں یا سمندروں کے پانی ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں، پھر بھی دونوں کے درمیان ایک لکیر جیسی ہوتی ہے جس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ دونوں الگ الگ دریا یا سمندر ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

بقاودوام اور فنا و سکون کی اس تصویر کشی کے بعد وہی تبصرہ۔ فبای ............ تکذبن (55: 82) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن صفات حمیدہ کو جھٹلاؤ گے “ یہ بھی ایک نعمت ہے بلکہ نعمتوں کے اساس ہے کیونکہ تمام نعمتوں کا سرچشمہ ذات باری ہے۔ تمام مخلوقات اس سے اپنا وجود اور اسباب حیات پاتی ہیں اور یہ اسباب ، ناموس کائنات اور خصائص کائنات کی فراہم کردہ ہیں اور اس طرح انسانی زندگی کے مشن اور قدریں بھی اسی ذات باری کی وضع کردہ ہیں۔ وہ جی ہے اور باقی ہے اور تمام مخلوقات کا خالق ہے۔ وہ محافظ ہے لہٰذا وجود اور نغمات زندگی سب کی سب اس سرچشمہ سے ماخوذ ہیں۔ اس دنیا کا نظام درست نہیں ہوسکتا جب فنائے دنیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 28–29

7 یعنی دنیا کے یہ کام اور دھندے عنقریب ختم ہونے والے ہیں۔ اس کے بعد ہم دوسرا دور شروع کریں گے۔ جب تم دونوں بھاری قافلوں (جن و انس) کا حساب کتاب ہوگا مجرموں کی پوری طرح خبر لی جائے گی۔ اور وفاداروں کو پور اصلہ دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 28–29

19 اللہ تعالیٰ کے نت نئے کام :۔ بےنیاز فقط اللہ کی ذات ہے باقی تمام مخلوق اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے اللہ کی محتاج ہے۔ کوئی اس سے کھانے کو مانگ رہا ہے کوئی پینے کو، کوئی تندرستی کے لیے دعا کرتا ہے اور کوئی اولاد کے لیے۔ کوئی گناہوں سے مغفرت اور ترقی درجات کے لیے اور وہ سب مخلوق کی فریاد سنتا اور ان کی فریاد رسی کر رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر آن یہ کام کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں ہر وقت نئی سے نئی مخلوق کو وجود میں لا رہا ہے جس طرح انسانوں کی پیدائش بڑھ رہی ہے اسی طرح ہر ذی حیات کی نسل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پھر وہ کائنات میں نئے سے نئے سیارے اور کہکشائیں بھی وجود میں لا رہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 28–30

17۔ یعنی کائنات میں تصرفات جو ہر لحظہ اور ہر آن جاری رہتے ہیں۔ یہ نتیجہ ہیں تمامتر اللہ تعالیٰ کی ہمہ وقتی توجہ والتفات کا، یہ ممکن نہیں کہ حق تعالیٰ پر غفلت اور بےالتفاتی ایک آن کے لئے بھی طاری ہو۔ یہیں سے رد نکل آیا ان گمراہ قوموں کا جن کے نزدیک خدا دنیا کو ایک بار پیدا کرکے اب معطل اور اس سے بےتعلق ہوبیٹھا ہے، یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا ایک بار کے عمل تخلیق کے بعد اب معطل ہے۔ اسلام کے عقیدہ میں اس خالق اکبر و قادر مطلق کی کن فیکونی قوت کا ظہور ہر آن ہر لمحہ کائنات کی ادنی سی ادنی حرکت و تصرف میں ہوتا رہتا ہے۔ آگ اس لئے نہیں جلاتی اور پانی اس لئے نہیں دھوتا کہ آگ اور پانی میں کوئی فطری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–28

ترجمہ :۔ جو کچھ اس پر یعنی زمین پر ہے سب فنا ہونے والا ہے ذوی العقول کو غلبہ دیتے ہوئے من سے تعبیر کیا ہے (صرف) تیرے باعظمت مومنین پر اپنے انعاموں کا احسان کرنے والے رب کی ذات باقی رہ جائے گی سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ اور سب آسمان اور زمین والے اسی سے مانگتے ہیں یعنی زبان قال سے یا زبان حال سے (طلب کرتے ہیں) جس چیز کی ان کو حاجت ہوتی ہے خواہ عبادت پر قدرت ہو، یا رزق یا مغرفت وغیرہ وغیرہ پر وہ ہر وقت ایک شان میں رہتا ہے (یعنی ہمہ وقت) ایسے شغل میں رہتا ہے جس کو وہ عالم میں اس کے مطابق جو اس نے نزل میں مقدر کردیا ہے مثلاً زندگی دینا اور موت دینا اور عزت دینا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فبای الاء ربکما تکذبان . سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کے منکر ہوجاؤ گے۔ “ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا ...... : کی نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ بھی ہے کہ وہ جن و انس کو اپنی جانب متوجہ ہونے کی توفیق عطا فرماتا ہے اور یہ بھی ایک نعمت ہے کہ وہ کائنات جو اپنی ذات ‘ وجود اور صفات کے لحاظ سے فانی ہے ‘ اس کو اپنی رحمت اور مہربانی سے بقاء عنایت کرے گا اور فناء کُل کے بعد دوبارہ دوامی زندگی عطا کرنا اور لازوال عیش و راحت عنایت فرمانا بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے۔ سو کس کس نعمت کا تم انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 26–28

(26۔ 28) جتنے جن و انس روئے زمین پر موجود ہیں سب فنا ہوجائیں گے یا یہ کہ جو بھی کام غیر اللہ کے لیے کیا جائے گا اس کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہے گا اور آپ کے رب کی ذات جو کہ عظمت وقدرت والی اور احسان اور درگزر کرنے والی ہے باقی رہ جائے گی۔ یا یہ کہ جو نیکی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا جوئی کے لیے کی جائے گی وہ باقی رہ جائے گی سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : زمین پر موجود ہر شخص کے فناء میں اللہ تعالیٰ کی قدرت تو ظاہر ہی ہے ، اس میں اس کی نعمت بھی ہے ، کیونکہ مرنے کے بغیر کوئی شخص اس کی جنت کا وارث نہیں بن سکتا اور نہ اس کا دیدار حاصل کرسکتا ہے۔ ایک فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎ بے فنائے خود میسر نیست دیدار شما مے فروشد خویش را اول خریدار شما ”اپنے فنا کے بغیر تمہارا دیدار میسر نہیں ہوتا ، تمہیں خریدنے والے کو پہلے اپنا آپ بیچناپڑتا ہے“۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 26–28

کل من علیھا فان۔ علیھا میں ضمیر الارض کے لئے ہے سورت کے آغاز میں اس کا ذکر ہوا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الرحمن) ایک جملہ یہ بولا جاتا ہے : میں ضمیر سے مراد زمین لیتے ہیں اگرچہ اس کا پہلے ذکر نہ ہوا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی فرشتوں نے کہا : اہل زمین ہلاک ہوگئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (القصص 88) ملائکہ کو ہلاکت کا یقین ہوگیا یہ مقاتل کا قول ہے : مخلوق کے فنا ہونے میں نعمت یہ ہے کہ موت میں سب کو سبرابر کردیا اور موت کے ساتھ تمام قدم برابر ہوجاتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے نعمت کی صورت یہ ہے کہ موت دار جزا اور ثواب کی طرف منتقل ہونے کا سبب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ باقی رہے گا وجہ سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–28

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' کل من علیھا فان '' الآیہ 9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ جب تو (آیت ) '' کل من علیھا فان '' (جو کچھ زمین پر ہے سب فنا ہونے والا ہے) پڑھتے تو خاموش نہ رہے یہاں تک کہ تو یہ (آیت ) '' بھی پڑھے '' ویبقی وجہ ربک ذوالجلل والاکرام '' (اور آپ کے پروردگار کی ذات جو عظمت اور احسان والی ہے باقی رہ جائے گی) 10:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں اور ابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذوالجلل والاکرام '' سے مراد ہے کبرائی اور عظمت والا۔ 11:۔ ابن المنذر والبیہقی (رح) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–28

زمین پر جو کچھ ہے سب فنا ہونے والا ہے : ﴿ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍۚۖ0026﴾ زمین پر جو بھی کچھ ہے انسان اور جنات اور حیوانات اور ہر نفع یا ضرر کی چیز سمندر اور خشکی، بحار اور اشجار اور پہاڑ اور ان کے علاوہ جو کچھ بھی ہے سب فنا ہونے والا ہے اور اے نبی ﷺ آپ کے رب کی ذات باقی رہنے والی ہے اس کی ذات ذوالجلال بھی ہے اور ذوالا کرام بھی۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں : الجلال عظمة اللہ وکبریاہٴ یعنی جلال سے اللہ کی عظمت اور بڑائی مراد ہے اور الاکرام کے بارے میں لکھا ہے کہ : ای ھواھل لان یکرم عمالا یلیق بہ من الشرک یعنی اللہ تعالیٰ اسکا مستحق ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے اور اس کی ذات گرامی کے لائق جو چیزیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–45

عظمت خداوند رب انام مع ذکر اہوال قیامت وذلت و بدحالی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ...... الی ........ تکذبن “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں فرمائی تھیں جن کے ضمن میں ان گراں قدرانعامات کا ذکر فرمایا جو جن وانس پر کی گئیں اور ظاہر ہے کہ ان دلائل و انعامات کا متقضی یہی ہے کہ جن وانس اسکی اطاعت و بندگی میں مصروف ہوجائیں اب ان آیات میں عظمت خداوندی کا بیان ہے اور قیامت کی ہول وشدت اور اس میں مجرمین پر جو ندامت وذلت ہوگی اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے ہولناک احوال میں منکرین ومکذبین کا کیسا عبرتناک حال ہوگا۔ ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–28

ٖف 11:۔ ” کل من علیہا فان “ یہ توحید کی آٹھویں عقلی دلیل ہے۔ یہ ساری مخلوق آخر فنا ہوجائیگی صرف اللہ اپنی شان بےنیازی اور صفت فضل و انعام کے ساتھ باقی رہے گا۔ فسر بعض المحققین (الجلال) بالاستفناء المطلق و (الاکرام) بالفضل التام (روح ج 27 ص 109) ۔ جو فانی ہیں وہ کسی طرح بھی مستحق ربوبیت نہیں ہوسکتے، اس لیے صرف اللہ تعالیٰ ہی کارساز اور برکات دہندہ ہے جو سب سے بےنیاز لیکن سب کا منعم و مربی ہے جس کی نعمتیں حدو حساب سے باہر ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–36

ربطہ آیات گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنی مخلوق خاص طور پر انسانوں اور اہل ایمان پر کیے ہیں۔ پھر اپنی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کیا جو اس کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر دلیل بنتی ہیں اب آج کے درس میں اللہ نے جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔ فانی اور باقی ارشاد ہوتا ہے کل من علیھا فانٍ جو کچھ بھی زمین پر ہے ، وہ فنا ہونے والا ہے۔ گذشتہ درس میں فرمایا والارض وضعھا للانام ہم نے زمین کو اپنی مخلوق کے لیے بچھا دیا۔ اللہ کی بیشمار مخلوق انسان ، جانور ، درندے پرندے ، کیڑے مکوڑے اس زمین پر آباد ہیں اور اسی سے پیدا ہونے والی روزی استعمال کرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۝ 28 أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–34

ترکیب : فانٍ خبر لکل من ذوالجلال بالرفع علیٰ انہ لغت للوجہ وبالجر لغتا للمجرور۔ یسئلہ مستانف اوحال من وجہ والعامل فیہ یبقٰی۔ کل ظرف لمادل علیہ ھوفی شان لاتنفذون لانافیۃ شواظ بالضم والکسر لغتان ھو اللہب الذی لادخان معہ۔ من نار صفۃ او متعلق بالفعل۔ نحاس بالرفع عطفا علی شواظ بالجر عطفا علے نار والاول اقوی۔ تفسیر : دلائلِ توحید میں عالم اور اس کی عمدہ اور نافع چیزیں پیدا کرنے کا ذکر تھا تاکہ معلوم ہو کہ یہ عالم قدیم نہیں بلکہ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اس کے بعد عالم فنا کرنے کی قدرت بیان کرتا ہے اور ان کے فنا کرنے میں اپنی قدرت و جبروت ظاہر فرما کر تیسرے مسئلہ حشر کو بھی اسی کلام کے دوسرے پہلو میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 26–28

کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ ۔ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّـکَ ذُوالْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 26 تا 28) (ہر چیز جو روئے زمین پر ہے فنا ہوجانے والی ہے۔ صرف آپ کے رب کی عظمت اور عزت والی ذات باقی رہنے والی ہے۔ تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلائو گے۔ ) پہلی آیت میں ضمیر مجرور کا مرجع الارض (زمین) ہے، جس کا ذکر آیت دس سے چلا آرہا ہے۔ جن و انس کو ایک اہم حقیقت کی طرف رہنمائی جن و انس جو دونوں مکلف مخلوق ہیں، مختلف حوالوں سے ان سے خطاب ہورہا ہے۔ زمین پر ان کی ذمہ داری اور تکلیفِ شرعی کے پیش نظر یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جن ہو یا انسان ان دونوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–28

فہم القرآن ربط کلام : بڑی بڑی نعمتوں اور پوری کائنات کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو وسیع ترین فرش کے طور پر بنایا اور بچھایا ہے۔ اس کے اوپر اور اندر بیشمار مخلوقات پیدا فرمائیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان میں کچھ مخلوقات ایسی ہیں جن کے بارے میں انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ بھی کبھی فنا ہوجائیں گی۔ ان میں ایک سمندر ہے جس کے بارے میں ارضیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ آسمان تلے ایک حصہ خشکی ہے اور تین حصے سمندر ہے۔ انسان یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اتنا بڑا سمندر کبھی خشک اور ختم ہوجائے گا لیکن اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ سمندر سمیت ہر چیز فنا اور ختم ہوجائے گی۔ صرف ایک ” اللہ “ کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28 : فَبِاَیِّ ٰالَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے) سوال اور جواب : فناء میں کونسی نعمت ہے کہ اس کے بعد بھی یہ آیت لائی گئی۔ فناء نعمت اس لئے ہے کہ مؤمنین موت کے ذریعہ سرمدی قائم رہنے والی زندگی میں پہنچ گئے۔ قولِ یحییٰ بن معاذ (رح) : وہ موت کیا خوب ہے جو دوست کو دوست سے قریب کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27 ۔” ویبقی وجہ ربک ذوالجلال “ عظمت و بڑائی والا۔ ” والاکرام “ یعنی اپنے انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کا اپنے لطف و جلال و عظمت کے ساتھ اکرام کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–30

26۔ 30۔ یہ تو سورة دخان میں گزر چکا ہے کہ ہر شب قدر کو سال بھر کے انتظام کی لوح محفوظ سے اللہ تعالیٰ فرشتوں کو نقل اتروا دیتا ہے اس کے موافق سال بھر کا انتظام دنیا کا چلتا رہتا ہے۔ اس انتظام الٰہی کے سبب سے ہر روز دنیا میں ہزاروں باتیں ایسی پیش آتی رہتی ہیں جن سے روز اللہ تعالیٰ کی ایک نئی شان اور نئی قدرت معلوم ہوتی رہتی ہے کوئی چلتا پھرتا بھلا چنگا دم بھر میں مرجاتا ہے کوئی اس طرح کی بیماری سے کہ جس سے کسی طرح بچنے کی امید نہ تھی تندرست ہوجاتا ہے کوئی امیری سے غریبی کے حال کو پہنچ اتا ہے کوئی غریب سے امیر ہوجاتا ہے۔ صحیح بخاری 2 ؎‘ ابن ماجہ ‘ طبرانی وغیرہ میں مرفوع اور موقوف روایتیں ہیں جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–28

( ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ ) جو عظمت اور کبریائی کی مالک ہے جو مجد اور بزرگی کی مالک ہے جس کی بنا پر اس کی تعظیم اور عزت کی جاتی ہے اور اس کے جلال کے سامنے سرتسلیم خم کیا جاتا ہے الاکرام سے مراد بےپایاں فضل اور جود ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے اولیا خواص کو مختلف انواع کے اکرام کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے جس کی بنا پر اس کے اولیا خواص اس کی تکریم کرتے اس کے جلال کا اقرار کرتے ہیں اس کی تعظیم کرتے ہیں اس سے محبت کرتے ہی اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔ پھر فرمایا ( فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) (اے جن وانس) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–36

لئو لئو اور مرجان قول باری ہے (یخرج منھما اللئو لئو والمرجان ان دونوں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں) یہاں مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک سے کیونکہ موتی اور مونگے سمندر کے کھارے پانی سے برآمد ہوتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں برآمد ہوتے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (یا معشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے) جب کہ رسول صرف انسانوں میں سے بھیجے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حسن، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ مرجان چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق مرجان مخلوط قسم کے جواہرات کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ” مرحت “ سے نکلا ہے جس کے معنی مخلوط ہوجانے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 26–28

[ 21] دنیا کی ہر چیز فانی : سو مذکورہ بالا دلائل کے طبعی اور لازمی نتیجے کے اظہار وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ زمین پر جو بھی کچھ ہے اس سب نے بہرحال آخر کار فنا کے گھاٹ اتر کر رہنا ہے۔ اور اس انسان نے جو کہ اس دنیاء دوں کے ان عارضی فائدوں اور وقتی منافع پر مست ہو رہا ہے، اور انہی کو اس نے سب کچھ سمجھ رکھا ہے، اس نے بہرحال اس دار فانی کو چھوڑ کر آخرت کے اس دار بقا کی طرف کوچ کرنا ہے، جو کہ دائمی اور ابدی ہے تاکہ وہاں پہنچ کر ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کی بھرپور جزا و سزا پاس کے، اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہوسکیں، سو بڑے غلط کار اور بہکے اور بھٹکے ہوئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 26–30

سب کا فنا ہونا ضروری ہے سوائے اللہ کے تشریح : ان آیات میں ازل سے ابد تک کا حال بیان کردیا گیا ہے۔ ایک مرحلہ عالم ارواح کا پھر موجودہ زندگی اور آخر میں فنا یعنی قیامت کا زمانہ آئے گا۔ اللہ برکتوں والا، عظمتوں اور جلال والا ہے۔ صرف اس کی ذات باقی رہے گی اور سب فنا ہوجائے گا۔ کیونکہ دنیا کی پیدائش مخلوقات کی پیدائش ایک مقصد کے لیے ہے جب وہ مقصد پورا ہوجائے گا تو پھر خاتمہ ضروری ہے یہی اللہ کا دستور ہے اور یہی دنیا کا انجام ہے۔ ہر چیز جو پیدا ہوئی ہے ختم ضرور ہوگی۔ اللہ ہی بزرگ و برتر اور ہمیشہ رہنے والا قدرت رکھنے والا تمام انتظامات اسی کے ہاتھ میں ہیں اس لیے ہر شخص اسی سے ہر طرح کی مدد مانگتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–45

آیات 26 تا 45۔ اسرار ومعارف۔ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اپنی ذات میں فانی ہے اور روز قیامت فنا ہوگا ہاں بقا اور ہمیشہ کا رہنا صرف ذات باری کے لیے ہے جو بہت عظمت کا مالک ہے کہ اپنی بقا میں اور اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج نہیں اور صاحب اکرام ہے کہ ساری مخلوق پہ اس کا کرم و احسان عام ہے جو ساری ہی اس کی محتاج ہے اور اس کے سہارے قائم ہے تو بھلا اس کے احسانات کیسے بھلاپاؤ گے سب کی سب مخلوق زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں ہرگھڑی اس کے دروزاے پر دست سوال دراز کیے کھڑی ہے۔ اور سب اس ذات سے ہر شے مانگ رہے ہیں اور ہر روز ہر آن اس کی عظمت کا اظہار کئی کئی شانوں سے ہورہا ہے اور اس کی عطا بٹ رہی ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 28–29

ف 4 چاہے زبان قابل سے اور چاہنے زبان حال سے مطلب یہ ہے کہ سب اسی کے محتاج ہیں۔ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ 5 یعنی کسی کو مارتا ہے کسی کو جلاتا ہے کسی کو مالدار کرتا ہے اور کسی کو محتاج کسی کو عزت بخشتا ہے اور کسی کو ذلت الغرض ہر آن اور ہر وقت اسکی ایک نئی شان کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ شوون الہیہ کی یہ تاویل بعض صحابہ سے مروی ہے جن میں ابوالددردہ اور حضرت عبداللہ بن عمر بھی شامل ہیں۔ (قرطبی شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:28) فبای الاء ربکما تکذبن۔ پس اے جن و انس تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–45

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 45 فان فنا ہونے والا ۔ وجہ چہرہ، ذات۔ ذوالجلا عزت و عظمت والا۔ یسئل سوال کرتا ہے۔ شان ضروری کام، شان ۔ الثقلن دو بڑی بھاری مخلوق۔ معشر گروہ، جماعت تنفذوا تم نکل بھاگو۔ اقطار کنارے۔ سلطان طاقت و قوت شواظ شعلے نحاس دھواں لاتنصران تم بدلہ نہ لے سکو گے انشقت پھٹ پڑی وردۃ سرخ الدھان رنگا ہوا سرخ چمڑا یعرف پہچان لیا گیا۔ النواصی پیشانیاں یطرفون وہ گھو میں گے۔ حمیم کھولتا وہا۔ ان بہت کھولتا ہوا گرم پانی۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 45 اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر سب سے بڑا کرم اور نعمت یہ ہے کہ اس نے قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی انسانوں اور جنات کو اس بات سے پوری طرح آگاہ کردیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–29

(ف 2) اسی سے آسمانوں کے رہنے والے اور زمینوں کے بسنے والے سب اپنی اپنی حاجتیں علی حسب المراتب مانگتے ہیں مغفرت توفیق روزی اور حفاظت وغیرہ کے سب ہر بات میں اس کے محتاج ہیں وہ ہر وقت نرالی شان میں جلوہ دکھاتا ہے کسی کو جلاتا ہے کسی کو عزت دیتا ہے کسی کو ذلت دیتا ہے کسی کو غنی کرتا کسی کو محتاج، کسی کے گناہ بخشتا ہے کسی کی تکلیف رفع کرتا ہے ۔ شان نزول : کہا گیا ہے کہ یہ آیت یہود کے رد میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہفتہ کے روز کوئی کام نہیں کرتا ان کے قول کا بطلان ظاہر فرمایا گیا منقول ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے اس آیت کے معنی دریافت کیے اس نے ایک روز کی مہلت چاہی اور نہایت متفکر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–29

ف 3: کل یوم ھوفی شان سے غرض یہ ہے کہ خدا کائنات کے نظم ونسق ، تخلیق وترتیب احیاء واماتت میں برابر لگارہتا ہے ۔ اور باوجود اس کے جو کچھ ہوتا ہے ۔ وہ مرتبہ علمی میں سب کچھ متعین ہے ۔ پھر بھی جہاں تک فعل کا تعلق ہے ۔ وہ براہ راست ہر چیز پر قادر ہے ۔ اور بقول حکماء کے فارغ نہیں ہے ۔ حل لغات :۔ برزخ ۔ آڑ ۔ پردہ اللوء لو ۔ موتی المرجان ۔ مونگا الجوار ۔ کشتیاں شان ۔ کیفیت ۔ حال ۔ کام ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 27–29

ف 3۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ صدور افعال کا اس کے لوازم ذات سے ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جتنے تصرفات عالم میں واقع ہورہے ہیں وہ اسی کے تصرفات ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے 82۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے تو خیال رہے کہ موت بھی اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ کوئی بوڑھا کسی مصیبت میں مبتلا ہو کر جب پکارتا ہے کہ ہائے میری مائے تو اس کو یہ خیال بھی کرنا چاہئے کہ اس بڑھاپے میں وہ جس کو یاد کر رہا ہے اگر وہ اس وقت موجود ہوتی تو اس کو جو حال ہوتا وہ تو ہوتا لیکن تیرا حال کیا ہوتا ؟ بس اچھا ہوا کہ وہ اس وقت موجود نہیں ہے ورنہ تیرا حال اس سے بھی برا ہوتا جو اس وقت ہے اس لیے اگر آپ بغور دیکھیں گے آپ کو معلوم ہوگا اور آپ یقین کریں گے کہ موت بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–28

وَجْهُ رَ‌بِّكَ (...your Lord's Countenance ....55:27). The word wajh [ Face ], according to majority of the exegetes, stands for the 'Being of Allah'. The attached second person pronoun in rabb-i-ka [=your Lord ] refers to the Messenger of Allah ﷺ . It is a great honour for him that he should be remembered by Allah in special ways when praising him, as for instance, ` abduhu (His servant). Here, Allah, the Lord of lords, declares His direct special relationship with the Holy Prophet ﷺ and addresses him thus: rabb-i-ka [ your Lord ]. According to the well-known exegetes, the verse purports…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

26 Here, as the context itself shows, the word alaa' has been used in the sense of excellences and perfections. Whoever of the mortal creatures is involved in vanity and self-arrogance and struts about thinking that his false godhead is everlasting, disavows Lord of the world's glory and majesty by his conduct, if not by his tongue. His pride and arrogance by itself is a denial of AIlah Almighty's greatness and glory. Whatever claim he may make to an excellence by his tongue, or arrogate to himself such an excellence, it is indeed a disavowal of the rank and station of the real Possessor of…

Read the full tafseer →