Ar-Rahmaan 55:27

Ar-Rahmaan · from ayah 27

55:27

وَّیَبْقٰی وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ ۟ۚوَّيَبۡقٰى وَجۡهُ رَبِّكَ ذُو الۡجَلٰلِ وَالۡاِكۡرَامِ‌ۚ

اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکات) جو صاحب جلال وعظمت ہے باقی رہے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And there will remain the Face of your Lord, Owner of Majesty and Honor.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:27

اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکات) جو صاحب جلال وعظمت ہے باقی رہے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی ره جائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (صرف) تمہارے پروردگار کی جلال والی، فضل و کرم والی ذات باقی رہے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کے رب ہی کی ذات باقی رہے گی جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ انعام و اکرام ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تیرے رب کا چہرہ باقی رہے گا، جو بڑی شان اور عزت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

فقط آپ کے پروردگار کی ذات ہی باقی رہ جائے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تیرے رب کی عظمت و عزت والی ذات باقی رہنے والی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تمہارے رب کی ذات ہی باقی رہ جائے گی جو کہ بڑی عظمت والا اور بڑا ہی احسان والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور صرف آپ کے پروردگار کی ذات عظمت و احسان والی باقی رہ جانے والی ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور باقی رہے گا صرف تیرے رب کا چہرہ جو بہت بزرگی اور بہت عظمت والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تمہارے رب ہی کی ذات با برکات جو صاحب جلال و عظمت ہے باقی رہے گی

— محترمہ رفعت اعجاز

only the Person of your Lord, full of majesty and splendour, will endure.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And your Lord‘s Countenance will remain, full of majesty, full of honour.

— Muhammad Taqi Usmani

And your Lord‘s Countenance will remain, full of majesty, full of honour.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the Face of your Lord Dhul-Jalal wal-Ikram will remain forever.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

There remaineth but the Countenance of thy Lord of Might and Glory.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And there will remain the Face of your Lord, Owner of Majesty and Honor.

— Saheeh International

Only the Supreme Essence of your Glorious and Gracious Lord will remain forever.

— Muhammad Sarwar

And there will endure for ever the person of your Lord, the Lord of glory and honor.

— Muhammad Habib Shakir

And there will remain the countenance of thine Lord, Owner of Majesty and Beneficence.

— Abdul Majid Daryabadi

But will abide (for ever) the Face of thy Lord,- full of Majesty, Bounty and Honour.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–30

اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہوگا کل جاندار مخلوق کو موت آجائے گی اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک ہے جو موت و فوت سے پاک ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں اولا تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ حضور ﷺ سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے (یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک) یعنی اے ہمیشہ جینے اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 26–27

سورة الرَّحْمٰن 25 یہاں سے آیت 30 تک جن و انس کو دو حقیقتوں سے آگاہ کیا گیا ہے ایک یہ کہ نہ تم خود لافانی ہو اور نہ وہ سر و سامان لازوال ہے جس سے تم اس دنیا میں متمتع ہو رہے ہو۔ لافانی اور لازوال تو صرف اس خدائے بزرگ و برتر کی ذات ہے جس کی عظمت پر یہ کائنات گواہی دے رہی ہے اور جس کے کرم سے تم کو یہ کچھ نعمتیں نصیب ہوئی ہیں۔ اب اگر تم میں سے کوئی شخص ہم چومن دیگرے نیست کے گھمنڈ میں مبتلا ہوتا ہے تو یہ محض اس کی کم ظرفی ہے۔ اپنے ذرا سے دائرہ اختیار میں کوئی بیوقوف کبریائی کے ڈنکے بجا لے، یا چند بندے جو اس کے ہتھے چڑھیں، ان کا خدا بن بیٹھے، تو یہ دھوکے کی ٹٹی کتنی دیر کھڑی رہ سکتی ہے۔ کائنات کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–28

وَجْهُ رَبِّكَ ، وجہ سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک ذات حق سبحانہ و تعالیٰ ہے اور ربک میں ضمیر خطاب رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے، یہ حضرت سید الانبیاء ﷺ کا خاص اعزازو اکرام ہے کہ آپ کو خاص مقام مدح میں کہیں تو عبدہ کا خطاب ہوا ہے اور کہیں رب الارباب نے اپنی ذات کی نسبت حضور کی طرف کر کے ربک سے خطاب فرمایا ہے۔ مشہور تفسیر کے مطابق معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے جن میں جن و انس بھی داخل ہیں سب کے سب فانی ہیں، باقی رہنے والی ایک ہی ذات حق جل و علا شانہ کی ہے۔ فانی ہونے سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب چیزیں اس وقت بھی اپنی ذات میں فانی ہیں، ان میں دوام وبقاء کی صلاحیت نہیں اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 26–28

(کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذعا الجلل والاکرام فبای الاء ربکما تکذبین) (26۔ 28)۔ (مذکورہ بالا دلائل کا لازمی نتیجہ)۔ ضمیر مجرور کا مرجع الارض (زمین) ہے اس کا ذکراوپر آیت 10 سے چلا آ رہا ہے۔ زمین کے اندر اللہ تعالیٰ نے انسان کی پرورش کا جو سامان کیا ہے، اس کی خلقت میں اپنی شانیں اور حکمتیں دکھائی ہیں، اس کے ہر گوشے پر جس طرح اس کا اقتدار محیط ہے اور اس کے اضداد کے باہمی توافق سے جس طرح اس کے خالق کی یکتائی نمایاں ہو رہی ہے، یہ باتیں مستلزم ہیں کہ ایک دن یہ ساری چیزیں فنا ہوجائیں گی، صرف اللہ تعالیٰ کی با عظمت اور سزا وار تعظیم ذات ہی باقی رہ جائے گی، جس کے حضور سب کی پیشی ہونی ہے اور وہ ہر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 25–29

29۔ 1 یعنی سب اس کے محتاج اور اس کے در کے سوالی ہیں۔ 29۔ 2 ہر روز کا مطلب، ہر وقت۔ شان کے معنی امر یا معاملہ، یعنی ہر وقت وہ کسی نہ کسی کام میں مصروف ہے، کسی کو بیمار کر رہا ہے، کسی کو شفایاب، کسی کو تونگر کسی کو فقیر، کسی کو گدا سے شاہ اور شاہ سے گدا، کسی کو بلندیوں پر فائز کر رہا ہے، کسی کو پستی میں گرا رہا ہے کسی کو ہست سے نیست اور نیست کو ہست کر رہا ہے وغیرہ۔ الغرض کائنات میں یہ سارے تصرف اسی کے امرو مشیت سے ہو رہے ہیں اور شب و روز کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو اس کی کارگزاری سے خالی ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–28

4: اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ نظارہ دو دریاؤں یا دوسمندروں کے سنگم پر ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ دونوں دریاؤں یا سمندروں کے پانی ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں، پھر بھی دونوں کے درمیان ایک لکیر جیسی ہوتی ہے جس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ دونوں الگ الگ دریا یا سمندر ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–27

کل من ........ والاکرام (72) فبای الاء ربکما تکذبن (55: 82) ” ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہوجانے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل وکریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے ؟ “ اس آیت کے سایہ میں انسان کی سانس رج جاتی ہے۔ آواز دھیمی ہوجاتی ہے اور انسان کے اعضا رک جاتے ہیں۔ پوری کائنات کی ہر زندہ چیز پر سایہ چھا جاتا ہے۔ ہر قسم کی حرکت بند ہوجاتی ہے۔ زمین و آسمان کی وسعتوں پر نور ربی چھا جاتا ہے۔ انسانی نفوس اور انسانی اعضاء پر جلال ربی کا انعکاس ہوجاتا ہے۔ زمان ومکان میں اللہ کے سوا کوئی اور نہیں ہوتا اور پوری کائنات پر اللہ کا جلال ووقار چھا جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 25–27

6 یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق زبان حال و قال سے اپنی حاجات اسی خدا سے طلب کرتی ہے۔ کسی کو ایک لمحہ کے لیے اس سے استغناء نہیں۔ اور وہ بھی سب کی حاجت روائی اپنی حکمت کے موافق کرتا ہے۔ ہر وقت اس کا الگ کام اور ہر روز اس کی نئی شان ہے۔ کسی کو مارنا، کسی کو جلانا، کسی کو بیمار کرنا، کسی کو تندرست کردینا، کسی کو بڑھانا، کسی کو گھٹانا کسی کو دینا، کسی سے لینا اس کی شؤن میں داخل ہیں۔ وقس علیٰ ہذا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27{ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ۔ } ”اور باقی رہے گا صرف تیرے رب کا چہرہ جو بہت بزرگی اور بہت عظمت والا ہے۔“ اللہ کے چہرے کا تصور ہماری سمجھ میں نہیں آسکتا۔ اس لحاظ سے اگرچہ یہ آیت آیات متشابہات میں سے ہے لیکن اس کا عمومی مفہوم بالکل واضح ہے کہ باقی رہنے والی صرف ایک اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات ہے ‘ جس کے علاوہ ہرچیز فنا ہونے والی ہے۔ اس کائنات کی ہرچیز اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور ان میں کوئی ایک مخلوق بھی ایسی نہیں جو اپنے بل پر اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہو۔ ہرچیز اور ہر مخلوق کا وجود اللہ تعالیٰ کی منشاء ومرضی کا مرہونِ منت ہے۔ جب تک وہ چاہتا ہے کسی چیز کا وجود…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 25–27

18 ہر چیز فنا ہونے والی ہے استثناء صرف اللہ کے لئے ہے :۔ یعنی جو چیز بھی مخلوق ہے وہ حادث ہے اور قدیم صرف اللہ کی ذات ہے جو چیز بنی ہے خواہ وہ بےجان ہو ایک نہ ایک دن ضرور اپنا کام چھوڑ دے گی۔ خراب ہوجائے گی، برباد اور فنا ہوگی اور جو جاندار ہے وہ بھی ضرور موت سے دو چار ہوگی۔ صرف اللہ کی ذات اور صفات قدیم اور ازلی ابدی ہیں۔ لہذا ان کے سوا کوئی چیز باقی نہ رہے گی۔ اللہ کی صفات سے مراد مثلاً کلام اللہ یا قرآن یا لوح محفوظ اور اعمالنامے وغیرہ ہیں۔ رہے فرشتے بالخصوص حاملان عرش تو ان کے متعلق اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ قرآن میں کئی مقامات پر فرشتے اپنے کلام کو اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ جیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 25–27

16۔ یہاں یہ صاف بتادیا کہ زمین پر موجودات جتنی اور جس قسم کی بھی ہے، چاہے وہ مادہ ہو، یا روح۔ سب کی سب فانی اور غیر باقی ہے۔ باقی اور قائم ودائم صرف الحی والقیوم کی ذات پاک ہے۔ (آیت) ” علیھا “۔ ضمیرھا کا (آیت) ’ الارض “۔ کی طرف راجع ہونا بالکل ظاہر اور غیر اختلافی ہے۔ (آیت) ” ذوالجلل والاکرام “۔ محققین عارفین نے کہا ہے کہ صفت جلال میں اشارہ ہے افناء عالم کی طرف اور صفت اکرام ابقاء کی طرف مشیر ہے جس کا تعلق نشاۃ ثانیہ سے ہے۔ امام رازی (رح) نے فرمایا کہ الجلال کے تحت میں تمام صفات سلبی ومنفی حق تعالیٰ کے آگئے۔ اور الاکرام کے ماتحت تمام صفات اثباتی وایجابی۔ (آیت) ” وجہ “۔ وجہ سے مراد ذات ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–28

ترجمہ :۔ جو کچھ اس پر یعنی زمین پر ہے سب فنا ہونے والا ہے ذوی العقول کو غلبہ دیتے ہوئے من سے تعبیر کیا ہے (صرف) تیرے باعظمت مومنین پر اپنے انعاموں کا احسان کرنے والے رب کی ذات باقی رہ جائے گی سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ اور سب آسمان اور زمین والے اسی سے مانگتے ہیں یعنی زبان قال سے یا زبان حال سے (طلب کرتے ہیں) جس چیز کی ان کو حاجت ہوتی ہے خواہ عبادت پر قدرت ہو، یا رزق یا مغرفت وغیرہ وغیرہ پر وہ ہر وقت ایک شان میں رہتا ہے (یعنی ہمہ وقت) ایسے شغل میں رہتا ہے جس کو وہ عالم میں اس کے مطابق جو اس نے نزل میں مقدر کردیا ہے مثلاً زندگی دینا اور موت دینا اور عزت دینا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و یبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام اور آپ کے پروردگار کی ذات جو عظمت و احسان والی ہے ‘ باقی رہ جائے گی۔ وَ یَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ : وجہ رب (ربّ کا چہرہ) متشابہات میں سے ہے (یعنی ایسا مبہم ہے جسکا علم عام طور پر مخلوق کو نہیں ہوسکتا) ۔ ذُوالْجَلاَلِ : عظمت اور تسلط والا ‘ سب سے بےنیاز وَالْاِکْرَامِ : الاکرام ‘ ہمہ گیر فضل۔ وَجْہُ رَبِّکَ کا عطف کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ پر ہے۔ فَانٍ کا لفظ بتارہا ہے کہ فنا مخلوق کے لیے مخصوص ہے (اللہ فانی نہیں ہے) اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ اس آیت میں وجہُ سے مراد جہت ہے تاکہ معطوف اور معطوف علیہ میں مناسبت پیدا ہوجائے۔ (اس صورت میں وجہُ کا لفظ متشابہات میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 26–28

(26۔ 28) جتنے جن و انس روئے زمین پر موجود ہیں سب فنا ہوجائیں گے یا یہ کہ جو بھی کام غیر اللہ کے لیے کیا جائے گا اس کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہے گا اور آپ کے رب کی ذات جو کہ عظمت وقدرت والی اور احسان اور درگزر کرنے والی ہے باقی رہ جائے گی۔ یا یہ کہ جو نیکی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا جوئی کے لیے کی جائے گی وہ باقی رہ جائے گی سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ :”الجلیل“ کا معنی عظمت و کبیریائی ہے اور ”الاکرام“”اکرم یکرم“ (افعال) کا مصدر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ”ذوالاکرام“ ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ عزت دینے والا وہی ہے ، کوئی اور نہیں ، جیسے فرمایا (وَمَنْ یُّہِنِ اللہ ُ فَمَا لَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ ط) (الحج : 18)”اور جسے اللہ ذلیل کر دے پھر اسے کوئی عزت دینے والا نہیں“۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس کا حق ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے ، اس کے بندے اس کی توحید و تسبیح و عبادت کے ساتھ اس کا اکرام کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 26–28

کل من علیھا فان۔ علیھا میں ضمیر الارض کے لئے ہے سورت کے آغاز میں اس کا ذکر ہوا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الرحمن) ایک جملہ یہ بولا جاتا ہے : میں ضمیر سے مراد زمین لیتے ہیں اگرچہ اس کا پہلے ذکر نہ ہوا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی فرشتوں نے کہا : اہل زمین ہلاک ہوگئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (القصص 88) ملائکہ کو ہلاکت کا یقین ہوگیا یہ مقاتل کا قول ہے : مخلوق کے فنا ہونے میں نعمت یہ ہے کہ موت میں سب کو سبرابر کردیا اور موت کے ساتھ تمام قدم برابر ہوجاتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے نعمت کی صورت یہ ہے کہ موت دار جزا اور ثواب کی طرف منتقل ہونے کا سبب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ باقی رہے گا وجہ سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–28

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' کل من علیھا فان '' الآیہ 9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ جب تو (آیت ) '' کل من علیھا فان '' (جو کچھ زمین پر ہے سب فنا ہونے والا ہے) پڑھتے تو خاموش نہ رہے یہاں تک کہ تو یہ (آیت ) '' بھی پڑھے '' ویبقی وجہ ربک ذوالجلل والاکرام '' (اور آپ کے پروردگار کی ذات جو عظمت اور احسان والی ہے باقی رہ جائے گی) 10:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں اور ابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذوالجلل والاکرام '' سے مراد ہے کبرائی اور عظمت والا۔ 11:۔ ابن المنذر والبیہقی (رح) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَّيَبْقٰى [ اور باقی رہے گا ] وَجْهُ رَبِّكَ [آپ کے رب کا چہرہ جو ] ذُو الْجَلٰلِ [ انتہائی بلند مرتبہ والا ہے ] وَالْاِكْرَامِ [اور بزرگی والا ہے ] ج ل ل : (ض) جلالا ۔ بڑی شان والا ہونا ۔ بلند مرتبہ ہونا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 27 ۔ ترکیب : (آیت ۔ 27) ذو الجلل والاکرام میں ذو کا حالت رفع میں ۔۔ بتارہا ہے کہ یہ فقرہ ربک میں رب کی صفت نہیں ہے بلکہ وجہ کی صفت ہے ۔ اگر رب کی صفت ہوتی تو ذی آتا ۔ جیسا کہ آخری آیت میں آیا ہے۔ (آیت ۔ 29) یسئل کا مفعول اس کے ساتھ ہ کی ضمیر مفعولی ہے جبکہ من فی السموت والارض میں من اس کا فاعل ہے ھو مبتدا ہے ۔ اس کی خبر محذوف ہے جو مشتغل ہوسکتی ہے ۔ فی شان متعلق خبر اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–28

زمین پر جو کچھ ہے سب فنا ہونے والا ہے : ﴿ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍۚۖ0026﴾ زمین پر جو بھی کچھ ہے انسان اور جنات اور حیوانات اور ہر نفع یا ضرر کی چیز سمندر اور خشکی، بحار اور اشجار اور پہاڑ اور ان کے علاوہ جو کچھ بھی ہے سب فنا ہونے والا ہے اور اے نبی ﷺ آپ کے رب کی ذات باقی رہنے والی ہے اس کی ذات ذوالجلال بھی ہے اور ذوالا کرام بھی۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں : الجلال عظمة اللہ وکبریاہٴ یعنی جلال سے اللہ کی عظمت اور بڑائی مراد ہے اور الاکرام کے بارے میں لکھا ہے کہ : ای ھواھل لان یکرم عمالا یلیق بہ من الشرک یعنی اللہ تعالیٰ اسکا مستحق ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے اور اس کی ذات گرامی کے لائق جو چیزیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–45

عظمت خداوند رب انام مع ذکر اہوال قیامت وذلت و بدحالی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ...... الی ........ تکذبن “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں فرمائی تھیں جن کے ضمن میں ان گراں قدرانعامات کا ذکر فرمایا جو جن وانس پر کی گئیں اور ظاہر ہے کہ ان دلائل و انعامات کا متقضی یہی ہے کہ جن وانس اسکی اطاعت و بندگی میں مصروف ہوجائیں اب ان آیات میں عظمت خداوندی کا بیان ہے اور قیامت کی ہول وشدت اور اس میں مجرمین پر جو ندامت وذلت ہوگی اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے ہولناک احوال میں منکرین ومکذبین کا کیسا عبرتناک حال ہوگا۔ ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–28

ٖف 11:۔ ” کل من علیہا فان “ یہ توحید کی آٹھویں عقلی دلیل ہے۔ یہ ساری مخلوق آخر فنا ہوجائیگی صرف اللہ اپنی شان بےنیازی اور صفت فضل و انعام کے ساتھ باقی رہے گا۔ فسر بعض المحققین (الجلال) بالاستفناء المطلق و (الاکرام) بالفضل التام (روح ج 27 ص 109) ۔ جو فانی ہیں وہ کسی طرح بھی مستحق ربوبیت نہیں ہوسکتے، اس لیے صرف اللہ تعالیٰ ہی کارساز اور برکات دہندہ ہے جو سب سے بےنیاز لیکن سب کا منعم و مربی ہے جس کی نعمتیں حدو حساب سے باہر ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–36

ربطہ آیات گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنی مخلوق خاص طور پر انسانوں اور اہل ایمان پر کیے ہیں۔ پھر اپنی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کیا جو اس کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر دلیل بنتی ہیں اب آج کے درس میں اللہ نے جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔ فانی اور باقی ارشاد ہوتا ہے کل من علیھا فانٍ جو کچھ بھی زمین پر ہے ، وہ فنا ہونے والا ہے۔ گذشتہ درس میں فرمایا والارض وضعھا للانام ہم نے زمین کو اپنی مخلوق کے لیے بچھا دیا۔ اللہ کی بیشمار مخلوق انسان ، جانور ، درندے پرندے ، کیڑے مکوڑے اس زمین پر آباد ہیں اور اسی سے پیدا ہونے والی روزی استعمال کرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّيَبْقٰى وَجْہُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ۝ 27 ۚ بقي البَقَاء : ثبات الشیء علی حاله الأولی، وهو يضادّ الفناء، وقد بَقِيَ بَقَاءً ، وقیل : بَقَي في الماضي موضع بقي، وفي الحدیث : «بقینا رسول الله» أي : انتظرناه وترصّدنا له مدة كثيرة، والباقي ضربان : باق بنفسه لا إلى مدّة وهو الباري تعالی، ولا يصحّ عليه الفناء، وباق بغیره وهو ما عداه ويصح عليه الفناء . والباقي بالله ضربان : - باق بشخصه إلى أن يشاء اللہ أن يفنيه، کبقاء الأجرام السماوية . - وباق بنوعه وجنسه دون شخصه وجزئه، كالإنسان والحیوان . وكذا في الآخرة باق بشخصه كأهل الجنة، فإنهم يبقون علی التأبيد لا إلى مدّة، كما قال عزّ وجل :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–34

ترکیب : فانٍ خبر لکل من ذوالجلال بالرفع علیٰ انہ لغت للوجہ وبالجر لغتا للمجرور۔ یسئلہ مستانف اوحال من وجہ والعامل فیہ یبقٰی۔ کل ظرف لمادل علیہ ھوفی شان لاتنفذون لانافیۃ شواظ بالضم والکسر لغتان ھو اللہب الذی لادخان معہ۔ من نار صفۃ او متعلق بالفعل۔ نحاس بالرفع عطفا علی شواظ بالجر عطفا علے نار والاول اقوی۔ تفسیر : دلائلِ توحید میں عالم اور اس کی عمدہ اور نافع چیزیں پیدا کرنے کا ذکر تھا تاکہ معلوم ہو کہ یہ عالم قدیم نہیں بلکہ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اس کے بعد عالم فنا کرنے کی قدرت بیان کرتا ہے اور ان کے فنا کرنے میں اپنی قدرت و جبروت ظاہر فرما کر تیسرے مسئلہ حشر کو بھی اسی کلام کے دوسرے پہلو میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 26–28

کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ ۔ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّـکَ ذُوالْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 26 تا 28) (ہر چیز جو روئے زمین پر ہے فنا ہوجانے والی ہے۔ صرف آپ کے رب کی عظمت اور عزت والی ذات باقی رہنے والی ہے۔ تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلائو گے۔ ) پہلی آیت میں ضمیر مجرور کا مرجع الارض (زمین) ہے، جس کا ذکر آیت دس سے چلا آرہا ہے۔ جن و انس کو ایک اہم حقیقت کی طرف رہنمائی جن و انس جو دونوں مکلف مخلوق ہیں، مختلف حوالوں سے ان سے خطاب ہورہا ہے۔ زمین پر ان کی ذمہ داری اور تکلیفِ شرعی کے پیش نظر یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جن ہو یا انسان ان دونوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–28

فہم القرآن ربط کلام : بڑی بڑی نعمتوں اور پوری کائنات کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو وسیع ترین فرش کے طور پر بنایا اور بچھایا ہے۔ اس کے اوپر اور اندر بیشمار مخلوقات پیدا فرمائیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان میں کچھ مخلوقات ایسی ہیں جن کے بارے میں انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ بھی کبھی فنا ہوجائیں گی۔ ان میں ایک سمندر ہے جس کے بارے میں ارضیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ آسمان تلے ایک حصہ خشکی ہے اور تین حصے سمندر ہے۔ انسان یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اتنا بڑا سمندر کبھی خشک اور ختم ہوجائے گا لیکن اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ سمندر سمیت ہر چیز فنا اور ختم ہوجائے گی۔ صرف ایک ” اللہ “ کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 26–27

26، 27 : کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ ۔ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ (جتنے روئے زمین پر ہیں۔ سب فنا ہوجائیں گے اور آپ کے پروردگار کی ذات جو عظمت و شان والی ہے۔ باقی رہ جائے گی) علیھا یعنی زمین پر وجہ ربکؔ تیرے رب کی ذات۔ ذوالجلال۔ عظمت و سلطنت والی۔ یہ الوجہ کی صفت ہے۔ الاکرامؔ احسان والی ذات ہے سیئات سے تجاوز کے ساتھ۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان صفات میں سے ہے۔ حدیث میں ارشاد فرمایا الظّوا بیا ذالجلال والاکرم۔ ( راوہ الترمذی 3527‘ رواہ احمد 5/236) روایت میں ہے کہ رسول الٰہ ﷺ کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جو نماز پڑھ رہا تھا۔ اور کہہ رہا تھا : یا ذالجلال والا کرام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26 ۔” کل من علیھا “ یعنی زمین پر جو حیوان ہے۔ پس بیشک وہ ” فان “ ہلاک ہونے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–30

26۔ 30۔ یہ تو سورة دخان میں گزر چکا ہے کہ ہر شب قدر کو سال بھر کے انتظام کی لوح محفوظ سے اللہ تعالیٰ فرشتوں کو نقل اتروا دیتا ہے اس کے موافق سال بھر کا انتظام دنیا کا چلتا رہتا ہے۔ اس انتظام الٰہی کے سبب سے ہر روز دنیا میں ہزاروں باتیں ایسی پیش آتی رہتی ہیں جن سے روز اللہ تعالیٰ کی ایک نئی شان اور نئی قدرت معلوم ہوتی رہتی ہے کوئی چلتا پھرتا بھلا چنگا دم بھر میں مرجاتا ہے کوئی اس طرح کی بیماری سے کہ جس سے کسی طرح بچنے کی امید نہ تھی تندرست ہوجاتا ہے کوئی امیری سے غریبی کے حال کو پہنچ اتا ہے کوئی غریب سے امیر ہوجاتا ہے۔ صحیح بخاری 2 ؎‘ ابن ماجہ ‘ طبرانی وغیرہ میں مرفوع اور موقوف روایتیں ہیں جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–28

( ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ ) جو عظمت اور کبریائی کی مالک ہے جو مجد اور بزرگی کی مالک ہے جس کی بنا پر اس کی تعظیم اور عزت کی جاتی ہے اور اس کے جلال کے سامنے سرتسلیم خم کیا جاتا ہے الاکرام سے مراد بےپایاں فضل اور جود ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے اولیا خواص کو مختلف انواع کے اکرام کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے جس کی بنا پر اس کے اولیا خواص اس کی تکریم کرتے اس کے جلال کا اقرار کرتے ہیں اس کی تعظیم کرتے ہیں اس سے محبت کرتے ہی اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔ پھر فرمایا ( فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) (اے جن وانس) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–36

لئو لئو اور مرجان قول باری ہے (یخرج منھما اللئو لئو والمرجان ان دونوں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں) یہاں مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک سے کیونکہ موتی اور مونگے سمندر کے کھارے پانی سے برآمد ہوتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں برآمد ہوتے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (یا معشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے) جب کہ رسول صرف انسانوں میں سے بھیجے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حسن، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ مرجان چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق مرجان مخلوط قسم کے جواہرات کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ” مرحت “ سے نکلا ہے جس کے معنی مخلوط ہوجانے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 26–28

[ 21] دنیا کی ہر چیز فانی : سو مذکورہ بالا دلائل کے طبعی اور لازمی نتیجے کے اظہار وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ زمین پر جو بھی کچھ ہے اس سب نے بہرحال آخر کار فنا کے گھاٹ اتر کر رہنا ہے۔ اور اس انسان نے جو کہ اس دنیاء دوں کے ان عارضی فائدوں اور وقتی منافع پر مست ہو رہا ہے، اور انہی کو اس نے سب کچھ سمجھ رکھا ہے، اس نے بہرحال اس دار فانی کو چھوڑ کر آخرت کے اس دار بقا کی طرف کوچ کرنا ہے، جو کہ دائمی اور ابدی ہے تاکہ وہاں پہنچ کر ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کی بھرپور جزا و سزا پاس کے، اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہوسکیں، سو بڑے غلط کار اور بہکے اور بھٹکے ہوئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 26–30

سب کا فنا ہونا ضروری ہے سوائے اللہ کے تشریح : ان آیات میں ازل سے ابد تک کا حال بیان کردیا گیا ہے۔ ایک مرحلہ عالم ارواح کا پھر موجودہ زندگی اور آخر میں فنا یعنی قیامت کا زمانہ آئے گا۔ اللہ برکتوں والا، عظمتوں اور جلال والا ہے۔ صرف اس کی ذات باقی رہے گی اور سب فنا ہوجائے گا۔ کیونکہ دنیا کی پیدائش مخلوقات کی پیدائش ایک مقصد کے لیے ہے جب وہ مقصد پورا ہوجائے گا تو پھر خاتمہ ضروری ہے یہی اللہ کا دستور ہے اور یہی دنیا کا انجام ہے۔ ہر چیز جو پیدا ہوئی ہے ختم ضرور ہوگی۔ اللہ ہی بزرگ و برتر اور ہمیشہ رہنے والا قدرت رکھنے والا تمام انتظامات اسی کے ہاتھ میں ہیں اس لیے ہر شخص اسی سے ہر طرح کی مدد مانگتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–45

آیات 26 تا 45۔ اسرار ومعارف۔ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اپنی ذات میں فانی ہے اور روز قیامت فنا ہوگا ہاں بقا اور ہمیشہ کا رہنا صرف ذات باری کے لیے ہے جو بہت عظمت کا مالک ہے کہ اپنی بقا میں اور اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج نہیں اور صاحب اکرام ہے کہ ساری مخلوق پہ اس کا کرم و احسان عام ہے جو ساری ہی اس کی محتاج ہے اور اس کے سہارے قائم ہے تو بھلا اس کے احسانات کیسے بھلاپاؤ گے سب کی سب مخلوق زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں ہرگھڑی اس کے دروزاے پر دست سوال دراز کیے کھڑی ہے۔ اور سب اس ذات سے ہر شے مانگ رہے ہیں اور ہر روز ہر آن اس کی عظمت کا اظہار کئی کئی شانوں سے ہورہا ہے اور اس کی عطا بٹ رہی ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا الظوبیا ذالجلال والاکرام یعنی ان اسماء حسنیٰ کے ذریعہ سے دعا کیا کرو اور بعض آثار میں ہے کہ ” یا ذالجلال والاکرام کے ساتھ دعا قبول ہوتی ہے۔ (قرطبی وغیرہ)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:27) یبقی : مضارع واحد مذکر غائب بقاء (باب سمع) مصدر۔ باقی رہیگا۔ فناء نہ ہونا۔ وجہ ربک : وجہ مضاف، ربک مضاف مضاف الیہ مل کر وجہ کا مضاف الیہ اس کے اصل معنی چہرہ کے ہیں جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فاغسکوا وجوہکم وایدیکم (5:6) اپنے منہ اور ہاتھ دھولیا کرو۔ اور چونکہ استقبال کے وقت سب سے پہلے انسان کا چہرہ سامنے نظر آتا ہے۔ اس لئے کسی چیز کا وہ حصہ جو سب سے پہلے نظر آئے اسے وجہ کہہ لیتے ہیں وجہ النھار۔ ان کا اول حصہ۔ وجہ بمعنی ذات ہے جیسا کہ آیت ہذا میں : اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکت) جو صاحب جلال و عظمت ہے۔ باقی رہ جائے گی یا جیسے اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ کل شیء ہالک…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–45

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 45 فان فنا ہونے والا ۔ وجہ چہرہ، ذات۔ ذوالجلا عزت و عظمت والا۔ یسئل سوال کرتا ہے۔ شان ضروری کام، شان ۔ الثقلن دو بڑی بھاری مخلوق۔ معشر گروہ، جماعت تنفذوا تم نکل بھاگو۔ اقطار کنارے۔ سلطان طاقت و قوت شواظ شعلے نحاس دھواں لاتنصران تم بدلہ نہ لے سکو گے انشقت پھٹ پڑی وردۃ سرخ الدھان رنگا ہوا سرخ چمڑا یعرف پہچان لیا گیا۔ النواصی پیشانیاں یطرفون وہ گھو میں گے۔ حمیم کھولتا وہا۔ ان بہت کھولتا ہوا گرم پانی۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 45 اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر سب سے بڑا کرم اور نعمت یہ ہے کہ اس نے قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی انسانوں اور جنات کو اس بات سے پوری طرح آگاہ کردیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–29

(ف 2) اسی سے آسمانوں کے رہنے والے اور زمینوں کے بسنے والے سب اپنی اپنی حاجتیں علی حسب المراتب مانگتے ہیں مغفرت توفیق روزی اور حفاظت وغیرہ کے سب ہر بات میں اس کے محتاج ہیں وہ ہر وقت نرالی شان میں جلوہ دکھاتا ہے کسی کو جلاتا ہے کسی کو عزت دیتا ہے کسی کو ذلت دیتا ہے کسی کو غنی کرتا کسی کو محتاج، کسی کے گناہ بخشتا ہے کسی کی تکلیف رفع کرتا ہے ۔ شان نزول : کہا گیا ہے کہ یہ آیت یہود کے رد میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہفتہ کے روز کوئی کام نہیں کرتا ان کے قول کا بطلان ظاہر فرمایا گیا منقول ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے اس آیت کے معنی دریافت کیے اس نے ایک روز کی مہلت چاہی اور نہایت متفکر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–27

ف 2: اس حقیقت کا بیان ہے ۔ کہ روئے زمین پر جو کچھ ہے ۔ وہ سب مٹنے کو ہے ۔ سب روبزدال ہے ۔ سب فنا کے گھاٹ اترنے والا ہے ۔ سب کی قسمت میں ہلاکت لکھی ہے ۔ سب کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور سب کو اس دارالقرار سے دارالبقاء کی جانب جانا ہے ۔ بجز جلال و تکریم کے مالک کے ۔ کہ وہ باقی ہے ۔ حی وقیوم ہے ۔ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(27) اور صرف آپ کے پروردگار کی ذات جو عظمت و احسان والی ہے باقی رہ جائیگی۔ یعنی جس قدر جن وانس موجود ہیں وہ سب فنا ہوجائیں گے صرف حضرت حق تعالیٰ کی ذات صاحب ذوالجلال والاکرام باقی رہ جائے گی۔ چونکہ ثقلین یعنی جن وانس مخاطب ہیں ہیں اس لئے زمین کا ذکر فرمایا یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ آسمان والے فنا نہیں ہوں گے۔ سورة قصص میں گزر چکا ہے کل شئی ھالک الا وجھہ

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 27–29

ف 3۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ صدور افعال کا اس کے لوازم ذات سے ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جتنے تصرفات عالم میں واقع ہورہے ہیں وہ اسی کے تصرفات ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو نہایت بزرگی اور عظمت والی ہے 72۔ اس دھرتی پر جو پیدا ہوا وہ کیوں پیدا ہوا ؟ مرنے کے لیے آج تک اس دنیا میں اس زمین پر کون کون سی ہستیاں اور شخصیتیں آئیں اور ان سب کو حباب آب کی طرح مٹا دیا گیا اور جو کچھ تم کو اس وقت نظر آرہا ہے یہ سب کا سب بھی مٹنے والا ہے ، مٹ رہا ہے اور مٹ جائے گا۔ کسی کے لیے نہ بقاء تھی ، نہ ہے اور نہ ہی ہوگی۔ تم کس غلط فہمی میں مبتلا ہو ؟ ذرا غور کرو کہ یہ غلط فہمی دور کرتے اس کو کتنی دیر لگتی ہے جس طرح یہ معرض وجود میں لانے کے لیے وہ (کن) کہتا ہے تو (فیکون) ہوجاتا ہے اسی طرح وہ اسکے معدوم کرنے کے لیے (کن) کہے گا تو (فیکون) ہوجائے گا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–28

وَجْهُ رَ‌بِّكَ (...your Lord's Countenance ....55:27). The word wajh [ Face ], according to majority of the exegetes, stands for the 'Being of Allah'. The attached second person pronoun in rabb-i-ka [=your Lord ] refers to the Messenger of Allah ﷺ . It is a great honour for him that he should be remembered by Allah in special ways when praising him, as for instance, ` abduhu (His servant). Here, Allah, the Lord of lords, declares His direct special relationship with the Holy Prophet ﷺ and addresses him thus: rabb-i-ka [ your Lord ]. According to the well-known exegetes, the verse purports…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–27

25 From hero to vane 30, the jinn and the men have been informed of two realities; First, 'Neither you arc immortal nor the provisions that you arc enjoying in this world everlasting. Immortal and Everlasting is the Being of the High and Supreme God alone Whose greatness this Universe testifies, and by Whose grace and kindness you have been favoured with these bounties. Now, if some one among you behaves arrogantly, it would be due to his own meanness. If a foolish person assumes haughtiness in his tiny sphere of authority, or becomes god of a sew helpless men who fall into his hand, this…

Read the full tafseer →