Explained with ayahs 31–36
فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بہ طور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آگیا ہے اب کھرے کھرے فیصلے ہوجائیں گے اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہوگا، محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نمٹنے کا نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ (ثقلین) سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے ثقلین کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
سورة الرَّحْمٰن 33
اصل میں شواظ اور نحاس کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ شواظ اس خالص شعلے کو کہتے ہیں جس کے ساتھ دھواں نہ ہو۔ اور نحاس اور خالص دھوئیں کو کہتے ہیں جس میں شعلہ نہ ہو۔ یہ دونوں چیزیں یکے بعد دیگرے انسانوں اور جنوں پر اس حالت میں چھوڑی جائیں گی جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی باز پرسی سے بچ کر بھاگنے کی کوشش کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ ڏ وَّنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَــصِرٰنِ ، حضرت ابن عباس اور دوسرے ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ شواظ بضم شین آگ کے اس شعلے کو کہا جاتا ہے جس میں دھواں نہ ہو اور نحاس اس دھویں کو کہا جاتا ہے جس میں آگ کی روشنی نہ ہو، اس آیت میں بھی جن و انس کو خطاب کر کے ان پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑنے کا بیان ہے، اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حساب کتاب کے بعد جو مجرمین کو جہنم میں ڈالا جائے گا اس میں یہ دو طرح کے عذاب ہوں گے، کہیں آگ ہی آگ اور شعلہ ہی شعلہ دھویں کا نام نہیں اور کہیں دھواں ہی دھواں جس میں آگ کی کوئی روشنی نہیں اور بعض مفسرین نے اس آیت کو پچھلی آیت کا تکملہ قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(یرسل علیکما شواظ من نار ونحاس فلا تنتصران فبای الا ربکما تکذبن) (35۔ 36) (یعنی اگر تم میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کے مقرر حدود سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا تو اس پر آگ کے شعلوں اور پگھلے ہوئے تانبے کی مار پڑے گی اور وہ ایسی بےپناہ ہوگی کہ تم میں سے کوئی بھی اس سے اپنا بچائو نہیں کرسکے گا۔) (شواظ من نار) سے مراد شہاب ثاقب ہیں جن کے متعلق قرآن مجید میں تصریح ہے کہ یہ ان شیاطین جن پر پھینکے جاتے ہیں جو ملاء اعلیٰ کے حدود میں دراندازی اور غیب کی باتوں کی ٹوہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن میں خود جنوں کی زبان سے اس امر واقعی کا اعتراف یوں نقل ہوا ہے (۔۔۔۔۔ الجن : 12۔۔) (اور ہم نے اچھی طرح اندازہ کرلیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
35۔ 1 مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت والے دن کہیں بھاگ کر گئے، تو فرشتے آگ کے شعلے اور دھواں تم پر چھوڑ کر یا پگھلا ہوا تانبہ تمہارے سروں پر ڈال کر تمہیں واپس لے آئیں گے۔ نحاس کے دوسرے معنی پگھلے ہوئے تانبے کے کئے گئے ہیں۔
35۔ 2 یعنی اللہ کے عذاب کو ٹالنے کی تم قدرت نہیں رکھو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
8: مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ طاقت نہیں ہے جس کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کی باز پرس اور عذاب سے بھاگ کر کہیں اور چلے جاؤ۔
Read the full tafseer →یرسل ............ فلا تنتصران (55:5 3) ” تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکوں گے “ اگر تم نے نکلنے کی کوشش کی بھی تو تمہاری کوشش ناکام ہوگی۔
Read the full tafseer →3 یعنی جس وقت مجرموں پر آگ کے صاف شعلے اور دھواں ملے ہوئے شرارے چھوڑے جائیں گے کوئی ان کو دفع نہ کرسکے گا۔ اور نہ وہ اس سزا کا کچھ بدلہ لے سکیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 35{ یُرْسَلُ عَلَیْکُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍلا وَّنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِ۔ } ”تم پر پھینکے جائیں گے بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلے اور دھواں ‘ تو تم لوگ بدلہ نہیں لے سکو گے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
24 شواظ بمعنی خالص آگ کا شعلہ جس میں دھوئیں کی آمیزش نہ ہو اور اگر آمیزش ہو تو اسے نحاس کہتے ہیں۔ مگر اس کی بھی صورت یہ ہونی چاہئے کہ آگ زیادہ اور دھواں کم ہو۔ ایسی آگ کی رنگت تانبے جیسی ہوجاتی ہے اور نحاس تانبے کو بھی کہتے ہیں۔
25 انتصار کے معنی کسی ظلم و زیادتی کا بدلہ لینا بھی۔ اور کسی زیادتی سے اپنا دفاع کرنا بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حساب کتاب یا اللہ کی گرفت سے بھاگ کھڑا ہونے کی کوشش کرے گا تو وہ اس میں کبھی کامیاب نہ ہوسکے گا۔ اس پر آگ کے اور دھواں ملی آگ کے شعلے چھوڑے جائیں گے اور مجبوراً اسے اس جگہ کھڑا رہنا پڑے گا جہاں کھڑا رہنے کے لیے اسے حکم ہوگا اور وہ ایسا مجبور اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
20۔ مجرموں کا اپنے جرائم کی ناگزیر پاداش سے قبل از وقت مطلع وآگاہ وخبردار ہوجانا بھی ایک بڑی نعمت ہے کہ تو بہ وکفارہ کا موقع ابھی باقی ہے اور اسی لئے قرآن مجید نے اس اطلاع واعلام کا شمار بھی نعمتوں ہی میں کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
یرسل علیکما شواظ (الآیۃ) حضرت ابن عباس اور دیگر ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ شواظ ضمہ شین کے ساتھ، آگ کا وہ شعلہ جس میں دھواں نہ ہو اور نحاس اس دھوئیں کو کہا جاتا ہے جس میں آگ نہ ہو، اس آیت میں بھی جن و انس کو مخاطب کر کے ان پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑنے کا بیان ہے، مطلب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے جہنم کے مجرمین کو مذکورہ دونوں قسم کا عذاب دیا جائے اور عض مفسرین نے اس آیت کو پچھلی آیت کا تکملہ قرار دیکر یہ معنی کئے ہیں کہ اے جن و انسانو ! آسمانوں کی حدود سے نکل جانا تمہارے بس کی بات نہیں، اگر تم ایسا ارادہ کر بھی لو تو جس طرف تم بھاگ کر جائو گے تو آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بگولے تمہیں گھیر لیں گے (ابن…
Read the full tafseer →یرسل علیکما شواط من نار و نحاس فلا تنتصرن
تم دونوں پر (قیامت کے دن) آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا۔ پھر تم اس کو ہٹا نہ سکو گے
یُرْسَلُ عَلَیْکُمْ شُوَاطٌ : یعنی قبروں سے اٹھائے جانے کے وقت تم پر چھوڑا جائے گا۔
شُوَاظٌ : وہ شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ اکثر مفسرین نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ مجاہد نے کہا : شواظٌ اس سبز شعلہ کو کہتے ہیں جو آگ سے منقطع ہو کر اٹھتا ہے۔ اکثر مفسرین نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ مجاہد نے کہا : شواظ اس سبز شعلہ کو کہتے ہیں جو آگ سے منقطع ہو کر اٹھتا ہے۔ سعید بن جبیر اور کلبی نے نحاسکا ترجمہ کیا ہے ‘ دھواں۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی گئی ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(35۔ 36) اے جن و انس جس وقت تم قبروں سے اٹھو گے تو تم دونوں پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا جو تمہیں محشر کی طرف ہانک کرلے جائے گا اور تم اسے ہٹا نہ سکو گے سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
یُرْسَلُ عَلَیْکُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ۔۔۔:”شواظ“ آگ کا شعلہ جس میں دھواں نہ ہو اور ”نحاس“ دھواں۔ ”نحاس“ کا معنی تانبا بھی ہے ، مراد پگھلا ہوا تانبا ہے۔ ’ انتصر ینتصر انتصاراً“ اپنا بچاؤ کرنا ، انتقام لینا ، یعنی تم ہمارے قبضے سے کسی صورت بھی نکل کر بھاگ نہیں سکتے ، اگر تم یہ ارادہ کرو گے تو تم پر خالص آگ کے شعلے برسائے جائیں گے ، جو تمہیں جلا کر بھسم کردیں گے اور دھواں جو تمہارے سانس تک بند کر دے گا ، پھر نہ تم اپنا بچاؤ کرسکو گے اور نہ کسی طرح انتقام لے سکو گے۔ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ تم پر آگ کے شعلوں کے ساتھ پگھلا ہوا تانبا پھینکا جائے گا ، جو دونوں تمہیں جلا کر۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
سنفرغ لکم ایھا الثقلن۔ یوں کہا جاتا ہے : میں نے اپنی کوششیں خرچ کیں۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا کام نہیں جس سے فارغ ہو۔ اس کا معنی ہے ہم تمہیں جزا دینے اور تمہارا حساب لینے کا ارادہ کرتے ہیں۔ یہ ان کے لئے دھمکی ہے جس طرح جب کوئی دھمکی کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے :
یعنی میں تیرا قصد کرتا ہوں۔ فرغ قصد کے معنی میں ہے۔ ابن انباری نے اس کی مثل معاملہ میں پڑھا :
خبردار ! اب میں نے نمیر کا قصد کیا۔
نحاس نے کہا :
میں نے بیٹری میں قید غلام کا قصد کیا۔
حدیث میں ہے نبی کریم ﷺ نے جب لیلۃ العقبہ کو انصار سے بیعت لی شیطان نے چیخ ماری :
میں مقیم لوگو ! یہ مذمم (نعوذ باللہ) تمہارے خلاف جنگ کرنے کے لئے بنی قبلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
15:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ '' (جب آسمان پھٹ جائے گا اور سرخ ہوجائے گا یعنی سرخ (آیت ) '' کالدھان '' سے مراد ہے سرخ چمڑا۔
آسمان سرخ ہوجائے گا :
16:۔ الفریابی و سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکانت وردۃ کالدھان '' سے مراد ہے کہ گھوڑے کے رنگ کی طرح سرخ ہوجائے گا۔
17:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ '' سے مراد ہے جب آسمان پھٹ جائے گا تو سرخ جانور کی طرح سرخ ہوجائے گا۔
18:۔ عبد بن حمید…
Read the full tafseer →يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا [ بھیجا جائے گا تم دونوں پر ] شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ ڏ [ ایک شعلہ کسی آگ سے ] وَّنُحَاسٌ [ اور دھوں (بھی ) ] فَلَا تَنْتَــصِرٰنِ [ پھر تم دونوں بدلہ نہ لے پاؤ گے ]
ش و ظ : (ن) شوظا ۔ غصہ کا بھڑک اٹھنا ۔ شواظ ۔ شعلہ جس میں دھوان نہ ہو ۔ آگ یا سورج کی تپش ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 35 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
قیامت کے دن کفار انس و جانّ کی پریشانی، مجرمین کی خاص نشانی، پیشانی اوراقدام پکڑ کر دوزخ میں ڈالا جانا
ان آیات میں قیامت کے دن کا کچھ حال بتایا ہے اور مجرموں کا دوزخ میں داخلہ اور وہاں جو ان کی بدحالی ہوگی اس کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان حالات کا پیشگی اطلاع دینا بھی نعمت ہے تاکہ لوگ کفر سے اور بداعمالیوں سے بچیں اور قیامت کے دن بدحالی اور دوزخ کے داخلہ سے بچیں اس لیے ہر آیت کے ختم پر ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا۔
اول تو یہ فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو تم دونوں پر آگ کے شعلے پھینکے جائیں گے اور دھواں بھی پھینکا جائے گا یہ دھواں بھی آگ ہی سے نکلا ہوا ہوگا چونکہ اس میں روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
عظمت خداوند رب انام مع ذکر اہوال قیامت وذلت و بدحالی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ...... الی ........ تکذبن “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں فرمائی تھیں جن کے ضمن میں ان گراں قدرانعامات کا ذکر فرمایا جو جن وانس پر کی گئیں اور ظاہر ہے کہ ان دلائل و انعامات کا متقضی یہی ہے کہ جن وانس اسکی اطاعت و بندگی میں مصروف ہوجائیں اب ان آیات میں عظمت خداوندی کا بیان ہے اور قیامت کی ہول وشدت اور اس میں مجرمین پر جو ندامت وذلت ہوگی اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے ہولناک احوال میں منکرین ومکذبین کا کیسا عبرتناک حال ہوگا۔
ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
14:۔ ” یرسل علیکما۔ الایۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ اے جن و انس کے منکرین، قیامت کے دن تم پر بھڑکتی آگ کے شعلے مسلط کیے جائیں گے اور تمہارے سروں پر پگھلا ہوا تانبہ ڈالا جائیگا اور تم کسی بھی حیلے سے اس المناک عذاب سے اپنے کو محفوظ نہیں رکھ سکو گے نہ کوئی تمہارا خود ساختہ سفارشی تمہاری کوئی مدد کرسکے گا۔ لامحالہ تمہیں یہ عذاب چکھنا ہی ہوگا۔ ای فلا تمتنعان من اللہ ولا یکون لکم ناصر (خازن ج 7 ص 7) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–36
ربطہ آیات
گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنی مخلوق خاص طور پر انسانوں اور اہل ایمان پر کیے ہیں۔ پھر اپنی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کیا جو اس کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر دلیل بنتی ہیں اب آج کے درس میں اللہ نے جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔
فانی اور باقی
ارشاد ہوتا ہے کل من علیھا فانٍ جو کچھ بھی زمین پر ہے ، وہ فنا ہونے والا ہے۔ گذشتہ درس میں فرمایا والارض وضعھا للانام ہم نے زمین کو اپنی مخلوق کے لیے بچھا دیا۔ اللہ کی بیشمار مخلوق انسان ، جانور ، درندے پرندے ، کیڑے مکوڑے اس زمین پر آباد ہیں اور اسی سے پیدا ہونے والی روزی استعمال کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ 0ۥۙ وَّنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِ 35 ۚ
رسل ( ارسال)
والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
1 ؎ پس تم بات نہ لاسکو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
یُرْسَلُ عَلَیْـکُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ 5 لا وَّنُحَاسٌ فَلاَ تَنْتَصِرٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 35، 36)
(تم پر مارے جائیں گے آگ کے شعلے اور تابنے، جس کا تم مقابلہ نہ کرسکو گے۔ تو تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھلائو گے۔ )
صاحبِ تدبرِقرآن نے اس کی تشریح میں جو کچھ لکھا ہے ہم استفادہ کے لیے اسے نقل کررہے ہیں :
یعنی اگر تم میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کے مقررہ حدود سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا تو اس پر آگ کے شعلوں اور پگھلے ہوئے تانبے کی مار پڑے گی اور وہ ایسی بےپناہ ہوگی کہ تم میں سے کوئی بھی اس سے اپنا بچائو نہیں کرسکے گا۔
شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ سے مراد شہاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
فہم القرآن
ربط کلام : جو جن اور انسان اللہ تعالیٰ سے اس کے حکم کے مطابق نہیں مانگتے انہیں چیلنج کیا گیا ہے۔
رب ذوالجلال کا فرمان ہے۔ اے جن اور انسانو ! عنقریب ہم تمہارے لیے فارغ ہونے والے ہیں اور تم اپنے رب کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرپاؤ گے اگر تمہیں اس کے مقابلے میں طاقت حاصل ہے تو کھلے الفاظ میں تمہیں چیلنج کیا جاتا ہے کہ تم زمین و آسمان کے کناروں سے باہر نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ۔ لیکن تم اس کی بادشاہت سے نکل نہیں سکتے سوائے قوت کے وہ قوت صرف تمہارے رب کے پاس ہے لہٰذا تم اپنے رب کی قوت کو جھٹلا نہیں سکتے۔ ہر دور کے سائنسدان اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ زمین و آسمان اپنی اپنی حیثیت اور مقام پر…
Read the full tafseer →قیامت کا دھواں :
35 : یُرْسَلُ عَلَیْکُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ (اور تم دونوں پر قیامت کے دن آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا)
قراءت : شواظ ؔ شین کے کسرہ سے مکی نے پڑھا ہے اور دونوں خالص شعلے کو کہتے ہیں۔
وَّ نُحَاسٌ (یعنی دھواں) قراءت : مکی نے نحاس پڑھا اور ابو عمرو بھی اس کے موافق ہیں۔ رفع کی صورت میں اس کا عطف شواظ پر ہوگا۔ اور جرؔ کی حالت میں عطف نارؔ پر ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنی قبور سے نکلو گے تو تم پر آگ کی خالص لپٹ اور دھواں مسلط کردیا جائے گا جو ہا نک کر محشر کی طرف لے جائے گا۔ فَـلَا تَنْتَصِرٰنِ (پھر تم اس کو ہٹا نہ سکو گے) ان دونوں سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکے گا۔
Read the full tafseer →34 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن “ اور حدیث میں ہے کہ مخلوق کا فرشتوں اور آگ کی زبان کے ذریعے احاطہ کیا جائے گا ، پھر آواز دی جائے گی۔ ” یا معشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
31۔ 36۔ اللہ تعالیٰ کی شان تو اس سے بہت عالی اور برتر ہے کہ اس کو کسی کام سے فرصت اور فراغت حاصل کرنے کی ضرورت ہو کیونکہ یہ تو مخلوق کی شان ہے کہ ایک کام سے فارغ ہوں تو دوسرا کام کریں لیکن جس طرح اردو کے محاورہ میں بولا جاتا ہے کہ سو کام چھوڑ کر یہ کام کیا جائے گا حالانکہ ایسے موقع پر نہ سو کام ہوتے ہیں نہ ان کا چھوڑنا حقیقت میں مقصود ہوتا ہے بلکہ جس کام کے کرنے کا ارادہ ظاہر کرکے یہ محاورہ کی بات کہی جاتی ہے اصل میں اس با سے اس کام کا ضروری ہونا جتلایا جاتا ہے اسی طرح قیامت اور اس کے حساب و کتاب اور سزا و جزا کے جو لوگ منکر ہیں ان کی تنبیہ کے لئے عربی کے محاورہ کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
یعنی تم پر آگ کے صاف شعلے چھوڑے جائیں گے۔ (وَّنُحَاسٌ) اور دھوان۔ اور یہ ایسے شعلے ہوں گے کہ ان میں دھواں ملا ہوا ہوگا۔ معنی یہ ہے کہ یہ دونوں قبیح چیزیں تم پر چھوڑ دی جائیں گی جو تمہیں گھیر لیں گی پس تم خود مدد کرسکو گے نہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور تمہاری مدد کرسکے گا چونکہ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی تخویف اس کی طرف سے ان کے لیے ایک نعمت اور ایک کوڑا ہے جو انہیں بلند ترین مقاصد اور بہترین مواہب کے حصول کے لیے رواں دواں رکھتا ہے۔ اس لیے اپنے احسان کا ذکر فرماتے ہوئے کہا (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) پھر (اے جن وانس) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–36
لئو لئو اور مرجان
قول باری ہے (یخرج منھما اللئو لئو والمرجان ان دونوں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں) یہاں مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک سے کیونکہ موتی اور مونگے سمندر کے کھارے پانی سے برآمد ہوتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں برآمد ہوتے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (یا معشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے) جب کہ رسول صرف انسانوں میں سے بھیجے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حسن، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ مرجان چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں۔
ایک قول کے مطابق مرجان مخلوط قسم کے جواہرات کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ” مرحت “ سے نکلا ہے جس کے معنی مخلوط ہوجانے کے…
Read the full tafseer →[ 30] نار دوزخ کے شعلوں اور دھوئیں کا ذکر وبیان۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم پر آگ کے شعلے اور دھویں کے بادل چھوڑے جائیں گے۔ جس سے نہ تم خود بچ سکو گے اور نہ ہی تمہارے وہ معبود تمہیں چھڑا اور بچا سکیں گے، جنہیں تم اللہ پاک کے سوا پوجتے پکارتے ہو، اور جن کا تمہیں بڑا زعم و گھمنڈ اور بھروسہ و اعتماد ہے، اور تم ہانکے پکارتے کہتے ہو کہ ہم نے تو بس فلاں کا لڑ پکڑ رکھا ہے، فلاں کا پٹہ گلے میں ڈال دیا ہے، یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں، [ ھولاء شفعاء ناعند اللہ ] بس ہمیں یہی کافی ہیں، یہ ہمارا سارا کام خود ہی بنادیں گے، ہماری ان کے آگے اور ان کی ان کے آگے، وغیرہ وغیرہ، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
قیامت کیسے آئے گی اور دوزخ کا عذاب
تشریح : جہنم کا ہولناک نقشہ اور قیامت کا خوفناک منظر بیشمار دفعہ قرآن پاک میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اور یہ اللہ کے رحمن ہونے کی دلیل ہے۔ کہ قبل از وقت اس غیب کی خبر سے مطلع کیا جا رہا ہے تاکہ اس دن کی سختیوں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکنے کا بندوبست ابھی اس دنیا کی زندگی میں ہی کرلیا جائے۔ خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قیامت کی خبر نہ تو کوئی افواہ ہے نہ نجومیوں کی پیشگوئی ہے نہ ہی کوئی سائنسی خبر ہے کہ جو اکثر تبدیل ہوتی رہتی ہے بلکہ یہ اٹل، پکی اور سچی خبر ہے جو وحی الٰہی کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ کو اللہ کی طرف سے دی گئی ہے اس لیے قیامت کا واقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
آیات 26 تا 45۔
اسرار ومعارف۔
ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اپنی ذات میں فانی ہے اور روز قیامت فنا ہوگا ہاں بقا اور ہمیشہ کا رہنا صرف ذات باری کے لیے ہے جو بہت عظمت کا مالک ہے کہ اپنی بقا میں اور اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج نہیں اور صاحب اکرام ہے کہ ساری مخلوق پہ اس کا کرم و احسان عام ہے جو ساری ہی اس کی محتاج ہے اور اس کے سہارے قائم ہے تو بھلا اس کے احسانات کیسے بھلاپاؤ گے سب کی سب مخلوق زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں ہرگھڑی اس کے دروزاے پر دست سوال دراز کیے کھڑی ہے۔ اور سب اس ذات سے ہر شے مانگ رہے ہیں اور ہر روز ہر آن اس کی عظمت کا اظہار کئی کئی شانوں سے ہورہا ہے اور اس کی عطا بٹ رہی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 9 یا ” تم پر بن دھوئیں کی آگ اور پگھلا ہوا اتانبا چھوڑا جائے گا۔ “ یعنی اس وقت جب تم ہماری گرفت سے نکل بھاگنے کی کوشش کرو گے۔
10 یعنی اس کا مقابلہ نہ کرسکو گے بلکہ مجبوراً ہر طرف سے گھر کر میدان حشر میں جمع ہوگئے۔
Read the full tafseer →(55:35) یرسل : مضارع مجہول واحد مذکر غائب ارسال (افعال) مصدر چھوڑا جائے گا۔ بھیجا جائے گا۔
شواظ : شعلہ، بےدھوئیں کی آنچ، اسم ہے، یرسل کا مفعول مالم یسم فاعلہ۔
من نار : جار مجرور۔ شواظ کی صفت ہے۔ شواظ من نار آگ کا شعلہ۔
وبحاس : واؤ عاطفہ نحاس معطوف۔ اس کا عطف شواظ پر ہے۔ اس کے معنی میں مختلف اقوال ہیں :۔
(1) دھواں ۔ (امدارک، خازان، جلالین ، معالم)
(2) پگھلا ہوا تانبہ۔ المھل، بمعنی تلچھٹ پگھلا ہوا تانبہ۔ (مجاہد۔ قتادہ)
(3) بغیر دھوئیں کے لپٹ ، چونکہ لپٹ کا رنگ تانبڑا ہوتا ہے رنگ میں مشابہت کی وجہ سے لپٹ کو نحاس کہا جاتا ہے۔ (راغب)
(4) وہ لال چنگاریاں جو لوہا لال کرکے پیٹنے کے وقت نکلتی ہیں۔ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 45
فان فنا ہونے والا ۔ وجہ چہرہ، ذات۔ ذوالجلا عزت و عظمت والا۔ یسئل سوال کرتا ہے۔ شان ضروری کام، شان ۔ الثقلن دو بڑی بھاری مخلوق۔ معشر گروہ، جماعت تنفذوا تم نکل بھاگو۔ اقطار کنارے۔ سلطان طاقت و قوت شواظ شعلے نحاس دھواں لاتنصران تم بدلہ نہ لے سکو گے انشقت پھٹ پڑی وردۃ سرخ الدھان رنگا ہوا سرخ چمڑا یعرف پہچان لیا گیا۔ النواصی پیشانیاں یطرفون وہ گھو میں گے۔ حمیم کھولتا وہا۔ ان بہت کھولتا ہوا گرم پانی۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا 45
اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر سب سے بڑا کرم اور نعمت یہ ہے کہ اس نے قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی انسانوں اور جنات کو اس بات سے پوری طرح آگاہ کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
(ف 1) پہلے صور سے جب ساری دنیا اجڑے گی ایک دفعہ تو آسمان اسی وقت پھٹے گا اور پھر حشر کے لیے دوسرا صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت دنیا کا آسمان پھٹے گا اور اس میں دروازے ہوجائیں گے جن دروازوں سے حشر کے انتظام کے فرشتے زمین پر اتریں گے ان آیتوں میں آسمان کی اسی دوسری حالت کا ذکر ہے کیونکہ اس کے بعد مجرموں کے دوزخ میں ڈالے جانے کا حال ہے جو دوسرے صورت کے بعد ہوگا حضرت عبداللہ بن مسعود کی صحیح مسلم اور ترمذی کی حدیث ہے کہ دوزخ کو محشر کے میدان میں لایاجائے گا اس وقت کی دوزخ کی لپٹ سے آسمان طرح طرح کا رنگ بدلے گا سی کا ذکر ان آیتوں میں ہے کبھی آسمان کا رنگ گلابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–38
[9] فارغ ہونے سے اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ ابھی تو اس دنیا کا کارخانہ چل رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ یہ اپنی مدت پوری کرے۔ جب یہ مدت پوری ہوجائے گی اس وقت اللہ تعالیٰ اس دنیا کے نظم و نسق سے بالکل فارغ ہو کر بندوں کے حساب و کتاب کی طرف متوجہ ہوگا اور ایک ایک کا حساب کر کے جس کو جس جزا یا سزا کا سزاوار پائے گا اس کو وہی کچھ دے گا۔ اس اسلوب بیان سے یہ مضمون بھی نکلا کہ یہ کام اللہ تعالیٰ سرسری طور پر نہیں بلکہ پوری یکسوئی سے کرے گا، اس لئے کہ یہی کام درحقیقت اس دنیا کے پیدا کرنے کی غایت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
سرخ تلچھٹ کی طرح
1: فرمایا : کہ یہ زرنگار سقف ، ازرق زواہ ایک وقت آئے گا ۔ کہ آگ کے شعلے اس کو زیتون کی سرخ تلچھٹ کی طرح تپادیں گے ۔ یہ دنیا نجوم وکواکب تیرگی فنا میں گم ہوجائے گی ۔ اور یہ سارا عالم رنگ وبو مٹ جائے گا ۔ پھر ایک وقت آئے گا ۔ جب دوبارہ بساط کون بچھادی جائے گی ۔ اور جن وانس کو کشاں کشاں حی وقیوم خدا کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ اور ان سب لوگوں کو سزا دی جائیگی ۔ جو اس کو نہیں مانتے تھے ۔ جو خواہشات نفس کی تکمیل میں سرگرداں رہتے تھے ۔ جن کی زندگی نصب العین محض یہ تھا ۔ کہ دولت اکٹھی کریں ۔ دنیا کی آسائشوں اور آسودگیوں کو سمیٹ لیں ۔ اور ہر نوع کی لذت سے کلام دوہن کی تواضع کریں ۔ جو…
Read the full tafseer →(35) تم دونوں پر خالص آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم اس کا مقابلہ اور اس کا بدلا نہ لے سکوگے - یعنی جب قبروں سے نکلو گے تو آگ کے شعلے تم کو گھیر کے لیجائیں گے یا جہنم کے دھوئیں اور جہنم کے شعلوں کا ذکر فرمایا جیسا کہ سورة مرسلات میں آئے گا۔
بہرحال عالم آخرت میں مجرموں کے ساتھ جو کچھ ہوگا اس کا مقابلہ تم دونوں جماعتوں کے مجرم مل کر بھی نہیں کر سکوگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
ف 5۔ یہاں تک تو حساب کا وقوع اور اس کا وقت بتلایا گیا، آگے کیفیت حساب و طریق فیصلہ ارشاد فرماتے ہین۔
Read the full tafseer →تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا ، تم اپنی مدد بھی نہ کرسکو گے
53۔ (شواظ) شعلوں کو کہتے ہیں جن میں دھواں نہ ہو۔ اسم ہے اور نحاس بھی اسم ہے اور مفسرین نے اس کا ترجمہ دھواں ہی کیا ہے۔ (مدارک ، جلالین ، خازن ، ابوسعود ، وصاوی) سعید بن جبیر اور کلبی کا بھی یہی قول ہے۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ لیکن بعض نے پگھلا ہوا تانبا جو دوزخیوں کے سروں پر ڈالا جائے گا اور (نحاس) کو المھل بھی کہا گیا ہے اور قرآن کریم میں (المھل) کا لفظ تین بار آیا ہے۔ سورة الکھف کی آیت 92 ، سورة الد خان کی آیت 54 ، سورة المعارج کی آیت 7 میں۔ اہل لغت نے (المھل) تیل کی تلچھٹ ، پگھلے ہوئے لوہے یا تانبے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَانِ (A flame of fire and a smoke will be loosed against you, and you will not [ be able ] to defend... 55:35) Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and other leading authorities on Qur'anic exegesis have said that the word shuwaz with refers to 'flame or fire without smoke' and the word nuhas refers to 'smoke in which there is no flame'. This verse too addresses the two species of creation, the jinns and mankind. It addresses them and describes how fire and smoke will be unleashed against them. The verse could mean that after the reckoning…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
33 The word shuwaz, as used in the original, means the pure, smokeless dame, and nuhas is the gross smoke without a flame. These two things, one after the other, will be Iet loose upon the men and jinn, when they try to escape the accountability of AIIah.
Read the full tafseer →