Explained with ayahs 14–25
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فرشتے نور سے جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہوچکا ہے پیدا کئے گئے ہیں پھر اپنی کسی نعمت کے جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی جگہیں رہتی ہیں ہر دن انقلاب لاتا ہے جیسے دوسری آیت…
Read the full tafseer →سورة الرَّحْمٰن 23
یعنی اس کی قدرت سے بنے ہیں۔ اسی نے انسان کو یہ صلاحیت بخشی کہ سمندروں کو پار کرنے کے لیے جہاز بنائے۔ اسی نے زمین پر وہ سامان پیدا کیا جس سے جہاز بن سکتے ہیں۔ اور اسی نے پانی کو ان قواعد کا پابند گیا جن کی بدولت غضبناک سمندروں کے سینے پر پہاڑ جیسے جہازوں کا چلنا ممکن ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَــٰٔتُ فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ ، جواری، جاریہ کی جمع ہے، اس کے ایک معنی کشتی کے بھی آتے ہیں وہی یہاں مراد ہیں، منشئت، نشاء سے مشتق ہے جس کے معنی ابھرنے اور بلند ہونے کے ہیں، مراد کشتیوں کے بادبان ہیں جو جھنڈوں کی طرح اونچے اور بلند بنائے جاتے ہیں، اس میں کشتی کی صنعت اور اس کے پانی کے اوپر چلنے کی حکمت کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(ولہ الجوار المشت فی البحر کالا علام فبای الاء ربکما تکذبن) (24۔ 25)۔
(تضاد کے اندر توافق کی ایک اور نشانی)۔ تضاد کے باوصف توافق کی ایک اور نشانی کی طرف توجہ دلائی کہ یہ بھی خدا ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ پہاڑوں کی طرح اونچے اور بھاری بھاری جہاز سمندروں کے سینے پر دوڑتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ کوئی وزن رکھنے والی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پانی کے اندر ڈالیے تو ڈوپ جاتی ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی کار سازی ہے کہ جہاز جیسی بھاری چیز، ہزاروں ٹن سامان اپنے اوپر لادے ہوئے، پانی کو چیرتی ہوئی چلتی اور ڈوبنے سے محفوظ رہتی ہے۔ لہ سے مطلب یہاں یہ ہے کہ تضادات کے اندر اس قسم کی موافقت و سازگاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
24۔ 1 یعنی بلندی ہوئیں، مراد بادبان ہیں، جو بادبانی کشتیوں میں جھنڈوں کی طرح اونچے اور بلند بنائے جاتے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی مصنوعات کے کئے ہیں، یعنی اللہ کی بنائی ہوئی جو سمندر میں چلتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
4: اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ نظارہ دو دریاؤں یا دوسمندروں کے سنگم پر ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ دونوں دریاؤں یا سمندروں کے پانی ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں، پھر بھی دونوں کے درمیان ایک لکیر جیسی ہوتی ہے جس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ دونوں الگ الگ دریا یا سمندر ہیں۔
Read the full tafseer →اس کے بعد بات کشتی کی طرف آتی ہے جو سمندروں میں چلتی ہے۔ یہ کشتی بعض اوقات اتنی بڑی ہوتی ہے جیسے سمندر میں کوئی پہاڑ ہو۔
ولہ ............ کالاعلام (55:4 2) (اور یہ جہاز اسی کے ہیں جو سمندروں میں پہاڑوں کے طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں)
اور یہ اونچے اٹھے ہوئے جہاز اللہ سبحانہ تعالیٰ کی قدرت کے نمونے ہیں کیونکہ سمندروں میں یہ اللہ کی قدرت سے چلتے ہیں۔ گہرے سمندروں اور امواج کے تھپیڑوں میں انہیں صرف اللہ ہی حفاظت دیتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی نگرانی اور نگہبانی ہے کہ یہ پانیوں کے اوپر تیرتے رہتے ہیں۔ یہ جہاز اس وقت بھی اور آج بھی اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے تھے اور ہیں۔ ان جہازوں نے لوگوں کی ضروریات نقل وحمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
5 یعنی کشتیاں اور جہاز گو بظاہر تمہارے بنائے ہوئے ہیں مگر خود تم کو اللہ نے بنایا اسی نے وہ قوتیں اور سامان عطا کیے جن سے جہاز تیار کرتے ہو۔ لہذا تم اور تمہاری مصنوعات سب کا مالک وہ خالق وہ ہی خدا ہوا۔ اور یہ سب اسی کی نعمتیں اور قدرت کی نشانیاں ہوئی (تنبیہ) یہ جملہ پہلے جملہ " یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّوْلُؤُ الخ " کے مقابل ہے، یعنی دریا کے نیچے سے وہ نعمتیں نکلتی ہیں اور اوپر یہ نعمتیں موجود ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 24{ وَلَہُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْْبَحْرِکَالْاَعْلَامِ۔ } ”اور اسی کے ہیں یہ جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی مانند اونچے اٹھے ہوئے ہیں۔“
یعنی اسی کی قدرت کا نمونہ ہیں اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ پچھلے زمانے کے جہاز اگرچہ دور جدید کے جہازوں کے مقابلے میں چھوٹے ہوتے تھے ‘ لیکن جب ان کے بادبان کھلتے تھے تو وہ بھی اونچائی میں پہاڑوں جیسے نظر آتے تھے۔ اور آج کل کے جہاز تو واقعتا پہاڑوں سے مشابہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
17 یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنی عقل عطا فرمائی کہ اس نے بڑے اونچے اونچے جہاز تیار کرلیے جو مہیب سمندر کی تلاطم خیز موجوں کو چیرتے چلے جاتے ہیں لہذا انسان کے اس فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنی طرف کی ہے کہ یہ جہاز دراصل انسان کی ملکیت نہیں ہماری ہی ملکیت ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
15۔ جہازوں کے بھی تمدنی، معاشری، سیاسی، تجارتی منافع بالکل ظاہر ہیں قرآن مجید نے بحری تجارت کو بارہا سراہا ہے۔ کہیں صراحۃ اور کہیں دلالۃ وتضمنا۔ اور یہاں تو جہازوں سے جو اور کام بھی لئے جاسکتے ہیں، جنگی اغراض، تفریحی اغراض، جغرافی اغراض وغیرہا ان سب کی طرف اشارہ آگیا ہے۔ (آیت) ’ کالاعلام “۔ اس تشبیہ سے یہ بھی صفاف ہوگیا کہ قرآن مجید کے پیش نظر محض معمولی ہلکی کشتیاں، ڈونگی وغیرہ کے قسم کی نہیں، بلکہ بڑے بڑے قد آور بادبانی، دخانی، جنگی جہاز وغیرہ جو بعد کو ایجاد ہوئے۔ یہ سب اس کے پیش نظر تھے۔ قرآن مجید ان ایجادات واختراعات کا مخالف نہیں، صرف ان کے سوء استعمال کا مخالف ہے۔ (آیت) ” لہ “۔ یہ لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
وخلق الجان من مارج من نار، جان سے جنس جنات مراد ہے، اور مارج آگ کے شعلہ کو کہتے ہیں، انسان کی طرح جن بھی عناصر اربعہ سے بنا ہوا ہے، گمر جن میں ناری عنصر غالب ہے جیسا کہ انسان میں خاکی عنصر غالب ہے رب المشرقین و رب المغربین سے سردی گرمی کے مشرق و مغرب مراد ہیں شمس و قمر کا مطلع اور مغرب اگرچہ بہت قیل مقدار میں روزانہ ہی بدلتا رہتا ہے اس لئے آسانی سے اس کا احساس نہیں ہوتا، گرمی سردی کے مشرق و مغرب میں چونکہ بین فرق اور نمایاں فاصلہ ہوتا ہے اس لئے صرف ان کا ہی ذکر کردیا ہے اور بعض حضرات نے مشرقین اور مغربین سے شمس و قمر کے مشرق و مغرب مراد لئے ہیں۔
Read the full tafseer →ولہ الجوار المنشئت فی البحر کالاعلام فبای الا ربکما تکذبان .
” اور اسی کے (قبضہ اور ملک وقدرت میں) جہاز جو پہاڑوں کی طرح اونچے اور کھڑے نظر آتے ہیں۔ سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمت کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
اَلْجَوَارِ : الجاریۃ کی جمع ہے۔ بڑی کشتیاں (جہاز) ۔
اَلْمُنْشَءٰتُ : اوپر کو اٹھی ہوئی (اُبھری ہوئی) بعض نے اس کا ترجمہ کیا : مسخر ‘ تابع حکم۔
کَالْاَعْلَامِ : اعلام ‘ عَلم کی جمع ہے۔ بڑے اونچے پہاڑ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
(22۔ 25) ان دونوں سے بالخصوص کھاری دریا سے موتی اور مونگا پیدا ہوتا ہے سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔ اور اسی کے اختیار اور ملکیت میں جہاز ہیں جو سمندر میں پہاڑو کی طرح اونچے کھڑے نظر آتے ہیں سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
وَلَہُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلَامِ۔۔۔:”المنشئٰت“”انشاء ینشی“ (افعال) (بنانا) سے اسم مفعول ہے ، پہاڑوں جیسے لمبے چوڑے اور کئی منزلہ اونچے بحری جہاز ”جو بنائے گئے ہیں“۔ اس میں بحری جہاز بنانے کا طریقہ سکھانے کی نعمت کی یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سکھانے سے انسان چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جوڑتے ہوئے کتنا بڑا بحری جہاز بنا لیتا ہے۔ طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے ”المنشئت“ کا ایک اور معنی بھی نقل فرمایا ہے :”ما رفع فلعہ من المفن فھی منشئات واذا لم یرفع قلعھا فلیست بمنشئات“ ”وہ جہاز جن کے بادبان اٹھائے ہوئے ہوں وہ ”منشئات“ ہیں اور جب ان کے بادبان اٹھائے ہوئے نہ ہوں تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
جوار سے مراد کشتیاں ہیں۔ عام قرأت المنشات ہے یعنی شین پر زبر ہے۔ قتادہ نے کہا : ایسی مخلوق جو چلنے کے لئے ہو (2) یہ انشا سے ماخوذ ہے مجاہد نے کہا : اس سے مراد ایسی کشتیاں ہیں جن کے بادبان اٹھا دیئے گئے ہوں جب ان کے بادبان نہ اٹھائے جائیں تو وہ منشات نہیں اخفش نے کہا : اس سے مراد چلنے والی ہیں (3) ۔
حدیث میں میں ہے : حضرت علی شیر خدا ؓ نے ایسی کشتیوں کو دیکھا جن کے بادبان اٹھا دیئے گئے تھے (4) فرمایا : ان کشتیوں کے رب کی قسم : نہ میں نے حضرت عثمان کو قتل کیا اور نہ میں ان کے قتل میں مد د کی۔
حمزہ، ابوبکر نے عاصم سے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے (5) المنشات یعنی شین کے کسرہ کے ساتھ ہے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولہ الجوار المنشئت '' (اور اس کے ہیں جہاز کھڑے ہوئے) (آیت ) '' المنشئت '' سے مراد وہ جہاز ہیں جن کے بادبان بلند ہوتے ہیں اور وہ جہاز جن کے بادبان بلند نہ ہوں وہ '' منشئت '' نہیں کہلاتے۔
کشتیوں کا چلنا قدرت کی نشانی ہے :
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے (آیت ) '' ولہ الجوار المنشئت '' کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے سفن (یعنی جہاز اور کشتیاں) اور '' المنشئت '' سے مراد ہیں وہ کشتیاں جو بادبان والی ہوں (آیت) '' کالاعلام '' یعنی پہاڑوں کی طرح۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے…
Read the full tafseer →وَلَهُ [ اور اس کی ہی (ملکیت ) ہیں ] الْجَوَارِ الْمُنْشَــٰٔتُ [ اوپر اٹھائی ہوئی کشتیاں ] فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ [سمندر میں پہاڑیوں کی مانند ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
اس کے بعد کشتیوں کا تذکرہ فرمایا کہ اونچی اونچی کشتیاں پہاڑوں کی طرح سمندروں میں بلند ہیں یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت سے قائم ہیں۔ وہی اپنی قدرت کاملہ سے ان کی حفاظت فرماتا ہے۔ سمندر کا تلاطم اور تیز ہواؤں کے حملوں سے محفوظ فرماتا ہے، یہ کشتیاں بڑے بڑے وزن کے سامان تجارت کو اور تاجروں کو اور انسانوں کی خوراکوں اور دوسری ضروریات کو ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک لے جاتی ہیں جسے سورة البقرہ میں یوں فرمایا ہے ﴿ وَ الْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ ﴾ (اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو انسانوں کو نفع دیتی ہیں، عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ :
قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔
(ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
10:۔ ” ولہ الجوار۔ الایۃ “ یہ توحید کی ساتویں عقلی دلیل ہے۔ یہ کشتیاں اور پہاڑوں کی مانند اونچے اونچے بحری جہاز اللہ تعالیٰ ہی کے تصرف اور قبضہ اختیار میں ہیں وہی ان کو اپنی قدرت تامہ اور تدبیر صائب سے چلاتا اور منزل مقصود تک پہنچاتا ہے بتاؤ اللہ کی کونسی نعمت سے آنکھیں بند کرو گے، اسی قادر و مختار اور منعم و محسن کے نام میں برکت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–25
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں کائنات اور بالخصوص انسانوں پر ہونے والے انعامات الٰہیہ کا ذکر ہورہا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں روحانی انعامات میں سے سب سے بڑی نعمت قرآن حکیم کا تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے خود انسانی جسم کی تخلیق کا ذکر کیا کہ اس نے انسان کو پیدا کیا اور کمال درجے کی قوت گویائی بھی عطافرمائی۔ پھر اللہ نے شمس و قمر ، پودوں اور درختوں کا ذکر کیا ہے کہ یہ بھی انعاماتِ الٰہیہ میں شامل ہیں جو اللہ نے انسانوں کی مصلحت کی خاطر پیدا فرمائے ہیں پھر اللہ نے ترازو کا ذکر کیا جو کہ عدل کی علامت ہے ، لہٰذا اللہ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ، اور فرمایا کہ ناپ تول میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرو…
Read the full tafseer →وَلَہُ الْجَوَارِ الْمُنْشَــٰٔتُ فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ 24 ۚ
جری
الجَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51]
وقال تعالی:
جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] ، وقال : وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] ، وقال تعالی: فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] ، وقال : إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ
[ الحاقة/ 11] ، أي : السفینة التي تجري في البحر، وجمعها :
جَوَارٍ ، قال عزّ وجلّ : وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
ترکیب : المرج الارسال یقال مرجت الدابۃ اذا ارسل تھا یلتقیان حال و بینہما برزخ حال من الضمیر فی یلتقیان ولایبغیان حال ایضا یخرج قالوا التقدیر من احدھما الجواری جمع جاریۃ وھی السفن وحذفت الیاء المنشئات من انشأء اذا رفعہ المرفوعات وقریٔ بکسر الشین وفی البحر یتعلق بہ کالا علام جمع علم وھو الجبل الطویل۔ حال من الضمیر فی المنشئات۔
تفسیر : ان آیات میں دوسرے مسئلہ توحید کو ثابت کر رہا ہے مگر جہاں کہیں قرآن مجید میں اپنے دلائلِ قدرت و جبروت ذکر کر کے اس مسئلہ کو ثابت کیا ہے دلائل میں وہی چیزیں بیان فرمائی ہیں کہ جو بندوں کے لیے انعام اور کارآمد چیزیں ہیں یہ اس لیے کہ انسانی جبلت انعام کی وجہ سے منعم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
وَلَـہُ الْجَوَارِالْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلاَمِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 24، 25)
(اور اسی کی ملکیت اور اختیار میں ہیں سمندر میں پہاڑوں کی طرح اٹھے ہوئے جہاز۔ پس اے جن و انس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلائو گے۔ )
اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک اور نشانی
پانی کی فطرت یہ ہے کہ کوئی وزن رکھنے والی چھوٹی بڑی چیز پانی کے اندر ڈالی جائے تو وہ ڈوب جاتی ہے۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی کیسی قدرت ہے کہ وہ بحری جہاز جو ہزاروں ٹن سامان لے کر پانی کو چیرتے ہوئے چلتے ہیں، لیکن پھر بھی ڈوبنے سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ باہمی دو متضاد چیزوں میں موافقت و سازگاری پیدا کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
فہم القرآن
ربط کلام : دونوں سمندروں کے فوائد۔
اللہ تعالیٰ ہی سمندروں سے موتی اور مونگے پیدا کرتا ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ موتی اور مونگے صرف کڑوے اور کھارے پانی میں پیدا ہوتے ہیں جس کی بالواسطہ طور پر نفی کی گئی ہے۔ اس لیے واحد کی بجائے مِنْہُماَ کی ضمیر لاکر بتلایا ہے کہ ایک نہیں دونوں قسم کے سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ موتی اور مونگے انتہائی قیمتی اور خوبصورت ہیرے ہیں جو زیبائش کے علاوہ کئی ادویات میں استعمال ہوتے ہیں جو مخصوص قسم کی بیماریوں کا علاج اور تریاق ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت کی انتہا دیکھئے کہ وہ پانی میں کس طرح موتی اور مونگے پیدا کرتا ہے۔ پانی مائع ہے اور اس میں…
Read the full tafseer →24 : وَلَہُ الْجَوَارِ (اور اسی کے ہیں جہاز) اللہ تعالیٰ کے ہیں۔ الجوارؔ جمع جاریہ کشتیاں۔
قراءت : اس پر وقف یاء کے ساتھ ہوگا اور وصل میں اختیار ہے اگر بغیر یاء کوئی وقف کرے تو جائز ہے بعد کی بناء پر لیکن راء میں کسرہ مناسب ہوگا تاکہ حذف یاء ؔ پر دلالت ہو۔ الْمُنْشَئٰتُ (اونچے کھڑے نظر آتے ہیں) ان کے بادبان بلند ہیں۔ (اب تو بادبان کی تاویل کی حاجت نہیں خود بحری جہاز کئی کئی گویا شہر کے شہر آباد ہیں)
قراءت : المنشات، شین کے کسرہ سے حمزہ ویحییٰ نے پڑھا ہے۔ بادبان بلند ہیں یا جن کے چلنے سے سمندر میں موجیں پیدا ہوتی ہیں۔
فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلَامِ (سمندر میں پہاڑوں کی طرح) اعلام جمع علم۔ لمبے…
Read the full tafseer →23 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–25
14۔ 25۔ ترمذی نسائی ‘ مسند بزار وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ﷺ کا پتلا بنانے کے لئے پہلے مٹی لی پھر اس میں پانی ملا کر چھوڑ دیا کہ سیاہ رنگ کا بودار گارا ہوگیا اور یہاں تک سوکھا کہ ٹھیکرے کی طرح ہوگیا۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ سورة آل عمران ‘ سورة حج ‘ سورة و الصفات اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے پتلے کی مختلف حالتیں جو فرمائی ہیں یہ حدیث ان سب حالتوں کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوا کہ ان سورتوں کی آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے بلکہ ان چند حالتوں میں سے کسی آیت میں کوئی حالت ہے اور کسی میں کوئی اور۔ حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے سمندروں میں چلنے والی کشتیوں کو مسخر کیا جو اللہ کے حکم سے سمندر کے سینے کو چیرتی چلی جاتی ہیں جن کو آدمیوں نے بنایا ہے جو اپنی عظمت کی وجہ سے بڑے بڑے پہاڑوں کے مانند دکھائی دیتی ہیں لوگ ان کشیتوں پر سواری کرتے ہیں اور ان پر اپنا سامان تجارت اور دیگر اشیا لادتے ہیں جن کی وہ ضرورت اور حاجت محسوس کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کی حفاظت کرنے والی ہستی ان کشتیوں کی حفاظت کرتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی جلیل القدر نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے بنابریں فرمایا (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) (اے جن وانس) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–36
لئو لئو اور مرجان
قول باری ہے (یخرج منھما اللئو لئو والمرجان ان دونوں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں) یہاں مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک سے کیونکہ موتی اور مونگے سمندر کے کھارے پانی سے برآمد ہوتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں برآمد ہوتے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (یا معشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے) جب کہ رسول صرف انسانوں میں سے بھیجے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حسن، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ مرجان چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں۔
ایک قول کے مطابق مرجان مخلوط قسم کے جواہرات کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ” مرحت “ سے نکلا ہے جس کے معنی مخلوط ہوجانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
[ 20] دیوہیکل بحری جہازوں میں سامان غور و فکر :
سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ پانی پر تیرنے والے دیوہیکل جہاز بھی قدرت کی ایک عظیم الشان نشانی ہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کے لیے ہیں پہاڑوں جیسے یہ عظیم الشان جہاز جو سمندروں میں رواں دواں ہیں۔ جن سے تمہارے طرح طرح کے فوائد و منافع وابستہ ہیں۔ پس ان جہازوں کے وہ مواد جن سے ان کی ترکیب وجود میں آتی اور ان کی تیاری مکمل ہوتی ہے، اور تمہاری وہ عقلیں جن کی بناء پر تم نے ان کی ترکیب و صنعت کاری کا عروج تک پہنچایا، کس کی پیدا کردہ اور کس کی بخشی ہوئی ہیں ؟ اور پھر اس پانی کو تمہارے لئے اس طرح کس نے مسخر کردیا کہ ہزاروں ٹن وزن کے لوہے لکڑی وغیرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
سمندر اور دریا اپنی بناوٹ میں حیران کن ہیں
تشریح : ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب نے 19 اور 20 آیات کی تشریح بےحد خوبصورت الفاظ میں کی ہے ملاحظہ ہو لکھتے ہیں۔ آیات میں دو اہم نکات کو بیان کی گیا ہے۔
1 دو سمندروں کا strait کے ذریعے آپس میں ملنا بہر حال یہ ایک معمول کی حالت ہے۔
2 ۔ یہ حقیقت کہ دو سمندران کے درمیان ایک خاص قسم کی رکاوٹ کی وجہ سے مکمل طور پر آپس میں نہیں مل سکتے۔
آئیے اس سلسلے میں سب سے پہلے سائنسی نکات کا مطالعہ کریں۔ فرانسیسی سائنسدان جیکوی کو سٹو نے جو سمندر کے اندر پانی کی تحقیقات کے لیے مشہور ہے، یہ دریافت کیا کہ بحرہ روم اور بحرہ اوقیانوس کیمیاوی اور حیاتیات کے لحاظ سے ایک دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔
قوت گویائی کا اصل مصرف۔
گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ف 1 اس کے بنائے ہوئے “ اس لحاظ سے ہے کہ اسی نے تمہیں اتنی سمجھ اور مہارت دی کہ تم نے انہیں بنایا۔
Read the full tafseer →(55:24) ولہ واؤ عاطفہ لام تملیک کا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع الرحمن ہے جس کا ذکر پہلے چلا آرہا ہے۔
الجوار المنشئت۔ موصوف و صفت۔ جوار جمع جاریۃ کی جس کے معنی کشتی کے ہیں۔ جو جری (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے بمعنی چلنے والی چونکہ کشتی سطح آب پر چلتی ہے اسی لئے جاریۃ کہلاتی ہے جاریۃ کی جمع جاریت بھی ہے۔
المنشئت : اسم مفعول جمع مؤنث۔ المنشأۃ واحد۔ انشاء (افعال) مصدر سطح سمندر سے اونچی کی ہوئی کشتیاں، یا وہ کشتیاں جن کے بادباں اونچے ہوتے ہیں۔
نشا ونشاۃ (باب فتح، کرم) سے بمعنی پیدا ہونا ہے۔ انشاء (افعال) پیدا کرنا پرورش کرنا۔ اوپر ابھارنا ہے جیسے کہ قرآن مجید میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25
علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا
اللہ تعالیٰ نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(ف 1) جہازوں اور کشتیوں کو پہاڑوں سے تشبیہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح خشکی میں پہاڑ قدرت کانمونہ ہیں اسی طرح دریا میں جہاز اور کشتیاں اسی کے قبضہ قدرت و فرمان میں ہیں جو اونچی اونچی بلند پہاڑوں کی طرح پانی میں چلتے ہیں ہزاروں من بوجھ بھرا ہوتا ہے پھر فرمایا زمین پر جو کچھ ہے وہ ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے اس سب کے پچھے فنالگی ہوئی ہے باقی رہنے والی وہی ایک ذات وحدہ لاشریک ہے اب جس کی قدرت میں انسان کا پیدا کرن اور فنا کرنا، اسی نے یہ جتلایا ہے کہ دنیا کا یہ سب کارخانہ اس نے بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اس لیے پیدا کیا کہ دنیا میں جو نیکی وبدی ہورہی ہے ہر نیک وبد کے مرجانے کے بعد پھر انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
[7] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فرقان حاشیہ 33 صفحہ 859۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
ف 1: کشتیوں اور جہازوں کو سطح سمندر پر رواں کرنا یہ بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ وہی ان پہاڑوں کو پانی کے اس اتھاہ ذخیرہ میں ڈال دیتا ہے ۔ اور وہی ان پہاڑوں کی طرح بلند جہازوں کو سطح آب پر چلنے دیتا ہے ۔
Read the full tafseer →(24) اور اس کے اختیار میں ہیں سمندر میں چلنے والے جہاز جو پہاڑوں کی طرح بلند ہیں۔ یعنی یہ بڑے بڑے جہاز جو پہاڑوں کی مانند ہیں اور سمندر میں بہتے رہتے ہیں خواہ وہ بادبانی ہوں یا دخانی یہ سب اس کے اختیار میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
ف 2۔ چونکہ مقصود تنبیہ کرنا ثقلین کو ہے اور وہ سب اہل ارض ہیں، اس لئے فنا میں اہل ارض کا ذکر کیا گیا۔ اس تخصیص ذکری سے نفی فنا کی غیر اہل ارض سے لازم نہیں آتی۔
Read the full tafseer →اور یہ جہاز جو پانیوں میں چلتے ہیں جیسے بلند پہاڑہوں اسی کی کرشمہ سازی ہے
42۔ (اَلَجوار) الجاریۃ کی جمع کشتیاں یا پانی کے جہاز (اَلمنثت) اسم مفعول جمع مئونث المنشاۃ واحد انشاء مصدر سطح سمندر سے اونچی کی ہوئی کشتیاں یا جہاز یا جن کشتیوں اور جہازوں کے بادبان اونچے ہوں اور دور سے دیکھنے والوں کو اونچے اونچے نشانات کی طرح نظر آئیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان پانیوں ، سمندروں اور دریائوں میں یہ جو کشتیاں اور جہاز چلتے تم لوگوں کو دکھائی دیتے ہیں ان پر تم خود سوار ہوتے ہو اور اپنے سامان وغیرہ کو لاد کرلے جاتے ہو اور لے آتے ہوں ان سب کا پیدا کرنا اور بنانا ، چلنا اور چلانا کس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ (And His are the sailing ships raised up in the sea like mountains...55:24). The word جَوَارِی۔ jawari is the plural of جَارِیَہ - jariyah. One of its meanings is ship and that is the sense in which it is used in the current verse. The word مُنشَآتُ munsha'at is derived from نَشَأ nasha'a which means 'to rise up or high, be lofty'. Al-munsha'at thus refers to 'sails of the ships that are lofty'. The verse describes the wisdom of making the ship and its running on the surface of the water.
Read the full tafseer →23 "His are the ships...": Ships became possible only by His power. It is He Who blessed man with the capability and skill that he may build ships for crossing the oceans; it is He Who created on the earth the material from which ships could be built; and it is He Who subjected water to the laws by which it became possible for the mountain-like ships to sail on the surface of the surging oceans.
Read the full tafseer →