Explained with ayahs 14–25
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فرشتے نور سے جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہوچکا ہے پیدا کئے گئے ہیں پھر اپنی کسی نعمت کے جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی جگہیں رہتی ہیں ہر دن انقلاب لاتا ہے جیسے دوسری آیت…
Read the full tafseer →سورة الرَّحْمٰن 22
یہاں بھی اگرچہ " آلاء " میں قدرت کا پہلو نمایاں ہے، لیکن نعمت اور اوصاف حمیدہ کا پہلو بھی مخفی نہیں ہے۔ یہ خدا کی نعمت ہے کہ سمندر سے یہ قیمتی چیزیں برآمد ہوتی ہیں، اور یہ اس کی شان ربوبیت ہے کہ جس مخلوق کو اس نے ذوق جمال اور شوق زینت بخشا تھا اس کے ذوق و شوق کی تسکین کے لیے طرح طرح کی حسین چیزیں اس نے اپنی دنیا میں پیدا کردیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ، لولو کے معنی موتی اور مر جان کے معنی مونگا، یہ بھی قیمتی جواہرات سے ہے، اس میں درخت کے مشابہ شاخیں ہوتی ہے، یہ دونوں چیزیں دریا سے نکلتی ہیں مگر معروف یہ ہے کہ موتی اور جواہرات دریائے شور سے نکلتے ہیں، شیریں دریا سے نہیں، اس آیت میں دونوں سے نکلنا بیان فرمایا ہے، اس کی توجیہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ موتی دونوں ہی دریاؤں میں پیدا ہوتے مگر شیریں دریا سب جاری ہوتے ہیں ان سے موتی کا نکالنا آسان نہیں اور شیریں دریا سب جا کر دیائے شور میں گر جاتے ہیں، وہیں سے موتی نکالے جاتے ہیں، اس لئے موتیوں کا منبع دریائے شور کو کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(یحرج منھما اللولو والمرجان فبای الاء ربکما تکذبن) (22۔ 23)۔ یہ ایک مشترک مجموعی فائدہ کی طرف اشارہ ہے جو باوصف تضاد ان سے حاصل ہوتا ہے کہ ان دونوں ہی سے موتی اور مونگے حاصل ہوتے ہیں جو انسان کے لیے دولت بھی ہیں اور زینت بھی۔
(بعض مفسرین کا ایک غلط دعویٰ)۔ بعض مفسرین نے یہاں یہ سوال اٹھایا ہے کہ مونگے اور موتی تو صرف کھا ری پانی سے نکلتے ہیں اور قرآن کا بیان یہ ہے کہ دونوں سے نکلتے ہیں تو اس کا جواب کیا ہے ؟ ہمارے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دعویٰ بالکل بےبنیاد ہے کہ موتی صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹیا نیکا (Paedia Britanica Dencyclo) میں موتی پر جو مضمون ہے اس کا ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
24۔ 1 یعنی بلندی ہوئیں، مراد بادبان ہیں، جو بادبانی کشتیوں میں جھنڈوں کی طرح اونچے اور بلند بنائے جاتے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی مصنوعات کے کئے ہیں، یعنی اللہ کی بنائی ہوئی جو سمندر میں چلتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
4: اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ نظارہ دو دریاؤں یا دوسمندروں کے سنگم پر ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ دونوں دریاؤں یا سمندروں کے پانی ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں، پھر بھی دونوں کے درمیان ایک لکیر جیسی ہوتی ہے جس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ دونوں الگ الگ دریا یا سمندر ہیں۔
Read the full tafseer →فبای ............ تکذبن (55: 32) (اے گروہ جن وانس ، تم اللہ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
5 یعنی کشتیاں اور جہاز گو بظاہر تمہارے بنائے ہوئے ہیں مگر خود تم کو اللہ نے بنایا اسی نے وہ قوتیں اور سامان عطا کیے جن سے جہاز تیار کرتے ہو۔ لہذا تم اور تمہاری مصنوعات سب کا مالک وہ خالق وہ ہی خدا ہوا۔ اور یہ سب اسی کی نعمتیں اور قدرت کی نشانیاں ہوئی (تنبیہ) یہ جملہ پہلے جملہ " یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّوْلُؤُ الخ " کے مقابل ہے، یعنی دریا کے نیچے سے وہ نعمتیں نکلتی ہیں اور اوپر یہ نعمتیں موجود ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 23 { فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
17 یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنی عقل عطا فرمائی کہ اس نے بڑے اونچے اونچے جہاز تیار کرلیے جو مہیب سمندر کی تلاطم خیز موجوں کو چیرتے چلے جاتے ہیں لہذا انسان کے اس فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنی طرف کی ہے کہ یہ جہاز دراصل انسان کی ملکیت نہیں ہماری ہی ملکیت ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
15۔ جہازوں کے بھی تمدنی، معاشری، سیاسی، تجارتی منافع بالکل ظاہر ہیں قرآن مجید نے بحری تجارت کو بارہا سراہا ہے۔ کہیں صراحۃ اور کہیں دلالۃ وتضمنا۔ اور یہاں تو جہازوں سے جو اور کام بھی لئے جاسکتے ہیں، جنگی اغراض، تفریحی اغراض، جغرافی اغراض وغیرہا ان سب کی طرف اشارہ آگیا ہے۔ (آیت) ’ کالاعلام “۔ اس تشبیہ سے یہ بھی صفاف ہوگیا کہ قرآن مجید کے پیش نظر محض معمولی ہلکی کشتیاں، ڈونگی وغیرہ کے قسم کی نہیں، بلکہ بڑے بڑے قد آور بادبانی، دخانی، جنگی جہاز وغیرہ جو بعد کو ایجاد ہوئے۔ یہ سب اس کے پیش نظر تھے۔ قرآن مجید ان ایجادات واختراعات کا مخالف نہیں، صرف ان کے سوء استعمال کا مخالف ہے۔ (آیت) ” لہ “۔ یہ لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
وخلق الجان من مارج من نار، جان سے جنس جنات مراد ہے، اور مارج آگ کے شعلہ کو کہتے ہیں، انسان کی طرح جن بھی عناصر اربعہ سے بنا ہوا ہے، گمر جن میں ناری عنصر غالب ہے جیسا کہ انسان میں خاکی عنصر غالب ہے رب المشرقین و رب المغربین سے سردی گرمی کے مشرق و مغرب مراد ہیں شمس و قمر کا مطلع اور مغرب اگرچہ بہت قیل مقدار میں روزانہ ہی بدلتا رہتا ہے اس لئے آسانی سے اس کا احساس نہیں ہوتا، گرمی سردی کے مشرق و مغرب میں چونکہ بین فرق اور نمایاں فاصلہ ہوتا ہے اس لئے صرف ان کا ہی ذکر کردیا ہے اور بعض حضرات نے مشرقین اور مغربین سے شمس و قمر کے مشرق و مغرب مراد لئے ہیں۔
Read the full tafseer →فبای الا ربکما تکذبان .
” سو اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کے منکر ہوجاؤ گے۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
(22۔ 25) ان دونوں سے بالخصوص کھاری دریا سے موتی اور مونگا پیدا ہوتا ہے سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔ اور اسی کے اختیار اور ملکیت میں جہاز ہیں جو سمندر میں پہاڑو کی طرح اونچے کھڑے نظر آتے ہیں سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا بیان بھی ہے اور نعمتوں کا بھی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
یخرج منھما اللولو والمرجان۔ یعنی متہارے لئے پانی سے لو لو اور مرجان نکالتا ہے جس طرح مٹی سے دانا، بھوسہ اور ریحان نکالتا ہے۔ نافع اور ابو عمرو نے یخرج یاء کے ضمہ اور راء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے (2) یعنی مجہول کا صیغہ پڑھا ہے باقی قرئا نے یخرج یعنی یاء کے فتحہ اور راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے کہ لو لو اس کا فاعل ہوگا۔ منھما کے بارے میں کہا، وہ نمکین سے نکالتا ہے میٹھے سمندر سے نہیں نکالتا، کیونکہ عرب دو جنسوں کو جمع کرتے ہیں پھر ان میں سے ایک کے بارے میں خبر دیتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یا معشر الجن والانس الم یاتکل رسل منکم (الزمر : 41) رسل انسانوں میں سے ہوتے ہیں جنوں میں سے نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
سمندر میں موتی ملنا :
14:۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب المطر میں وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یخرج منھما اللؤلؤ '' (ان دونوں میں سے موتی نکلتے ہیں) یعنی جب آسمان سے بارش ہوتی ہے تو سیپیاں اپنے مونہوں کو کھول لیتی ہیں سمندر میں جس میں بارش کا قطرہ گرجاتا ہے۔ تو وہ موتی بن جاتا ہے۔
15:۔ ابن جریر (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ جب آسمان سے بارش برستی ہے تو اس کے لئے سیپیوں کو کھول دیا جاتا ہے۔ پس جو قطرہ اس میں پڑجائے تو وہ موتی بن جاتا ہے۔
16:۔ الفریابی وھناد بن السری وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
اس کے بعد کشتیوں کا تذکرہ فرمایا کہ اونچی اونچی کشتیاں پہاڑوں کی طرح سمندروں میں بلند ہیں یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت سے قائم ہیں۔ وہی اپنی قدرت کاملہ سے ان کی حفاظت فرماتا ہے۔ سمندر کا تلاطم اور تیز ہواؤں کے حملوں سے محفوظ فرماتا ہے، یہ کشتیاں بڑے بڑے وزن کے سامان تجارت کو اور تاجروں کو اور انسانوں کی خوراکوں اور دوسری ضروریات کو ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک لے جاتی ہیں جسے سورة البقرہ میں یوں فرمایا ہے ﴿ وَ الْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ ﴾ (اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو انسانوں کو نفع دیتی ہیں، عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ :
قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔
(ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
9:۔ ” مرج البحرین “ یہ توحید کی چھٹی دلیل ہے۔ مرج ای ارسل واجری، بہا دیا، جاری کردیا، دو دریا، میٹھا اور کھاری۔ اس کی قدرت کاملہ کا کرشمہ دیکھو کہ اس نے دو دریا ساتھ ساتھ چلائے ہیں جن کا پانی ساتھ ساتھ جا رہا ہے اور ان کے درمیان ظاہری طور پر کوئی حجاب حاجز بھی نہیں محض اللہ کی قدرت کا پردہ ہے جو ان کو آپس میں ملنے نہیں دیتا اور دونوں دریا اپنی حدوں سے نکل کر ایک دوسرے کی حد میں داخل نہیں ہوسکتے۔ ان دونوں سے ہر حجم میں چھوٹے اور بڑے سچے موتی نکلتے ہیں۔ ” اللؤلؤ “ بڑے موتی، ” المرجان “ چھوٹے موتی۔ اللؤؤ والمرجان کبار الدر وصغارہ (بیضاوی، ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–25
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں کائنات اور بالخصوص انسانوں پر ہونے والے انعامات الٰہیہ کا ذکر ہورہا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں روحانی انعامات میں سے سب سے بڑی نعمت قرآن حکیم کا تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے خود انسانی جسم کی تخلیق کا ذکر کیا کہ اس نے انسان کو پیدا کیا اور کمال درجے کی قوت گویائی بھی عطافرمائی۔ پھر اللہ نے شمس و قمر ، پودوں اور درختوں کا ذکر کیا ہے کہ یہ بھی انعاماتِ الٰہیہ میں شامل ہیں جو اللہ نے انسانوں کی مصلحت کی خاطر پیدا فرمائے ہیں پھر اللہ نے ترازو کا ذکر کیا جو کہ عدل کی علامت ہے ، لہٰذا اللہ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ، اور فرمایا کہ ناپ تول میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرو…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ 23
أيا
أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28]
( ا ی ی ) ای ۔
جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
ترکیب : المرج الارسال یقال مرجت الدابۃ اذا ارسل تھا یلتقیان حال و بینہما برزخ حال من الضمیر فی یلتقیان ولایبغیان حال ایضا یخرج قالوا التقدیر من احدھما الجواری جمع جاریۃ وھی السفن وحذفت الیاء المنشئات من انشأء اذا رفعہ المرفوعات وقریٔ بکسر الشین وفی البحر یتعلق بہ کالا علام جمع علم وھو الجبل الطویل۔ حال من الضمیر فی المنشئات۔
تفسیر : ان آیات میں دوسرے مسئلہ توحید کو ثابت کر رہا ہے مگر جہاں کہیں قرآن مجید میں اپنے دلائلِ قدرت و جبروت ذکر کر کے اس مسئلہ کو ثابت کیا ہے دلائل میں وہی چیزیں بیان فرمائی ہیں کہ جو بندوں کے لیے انعام اور کارآمد چیزیں ہیں یہ اس لیے کہ انسانی جبلت انعام کی وجہ سے منعم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
یَخْرُجُ مِنْھُمَا اللُّؤْلُؤُ وُالْمَرْجَانُ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 22، 23)
(ان دونوں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ پس اے جن و انس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلائو گے۔ )
اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کا بیان اور ایک اعتراض کا جواب
یہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کمال یہ ہے کہ پانی دو طرح کا ہے جس کے صرف مزے ہی میں فرق نہیں بلکہ خواص میں بھی فرق ہے۔ اس کے باوجود ان دونوں پانیوں سے الگ الگ یا اس کے مجموعے سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ اس پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ موتی اور مونگے تو صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں، پھر یہ کیسے کہا گیا کہ میٹھے اور کھاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
فہم القرآن
ربط کلام : دونوں سمندروں کے فوائد۔
اللہ تعالیٰ ہی سمندروں سے موتی اور مونگے پیدا کرتا ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ موتی اور مونگے صرف کڑوے اور کھارے پانی میں پیدا ہوتے ہیں جس کی بالواسطہ طور پر نفی کی گئی ہے۔ اس لیے واحد کی بجائے مِنْہُماَ کی ضمیر لاکر بتلایا ہے کہ ایک نہیں دونوں قسم کے سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ موتی اور مونگے انتہائی قیمتی اور خوبصورت ہیرے ہیں جو زیبائش کے علاوہ کئی ادویات میں استعمال ہوتے ہیں جو مخصوص قسم کی بیماریوں کا علاج اور تریاق ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت کی انتہا دیکھئے کہ وہ پانی میں کس طرح موتی اور مونگے پیدا کرتا ہے۔ پانی مائع ہے اور اس میں…
Read the full tafseer →23 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Read the full tafseer →22 ۔” یخرج منھما “ اہل مدینہ اور اہل بصرہ نے ” یخرج “ یاء کے پیش اور راء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے باء کے زبر اور راء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” اللئولئو والمرجان “ یہ کھارے سمندر سے نکلتے ہیں نہ کہ میٹھے سے۔ اور یہ کلام عرب میں جائز ہے کہ دو چیزوں کو ذکر کیا جائے، پھر ان میں سے کسی ایک کو کسی فعل کے ساتھ خاص کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” یا معشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم “ حالانکہ رسول تو انسانوں میں سے ہوئے ہیں نہ کہ جنوں میں سے اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ آسمان کے پانی اور سمندر کے پانی سے نکلتا ہے۔ ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ جب آسمان سے بارش ہوتی ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–25
14۔ 25۔ ترمذی نسائی ‘ مسند بزار وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ﷺ کا پتلا بنانے کے لئے پہلے مٹی لی پھر اس میں پانی ملا کر چھوڑ دیا کہ سیاہ رنگ کا بودار گارا ہوگیا اور یہاں تک سوکھا کہ ٹھیکرے کی طرح ہوگیا۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ سورة آل عمران ‘ سورة حج ‘ سورة و الصفات اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے پتلے کی مختلف حالتیں جو فرمائی ہیں یہ حدیث ان سب حالتوں کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوا کہ ان سورتوں کی آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے بلکہ ان چند حالتوں میں سے کسی آیت میں کوئی حالت ہے اور کسی میں کوئی اور۔ حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
یہ ان بحرین سے مراد ہے، میٹھے پانی کا سمندر اور نمکین پانی کا سمندر جو آپس میں ملتے ہیں (دریا کا) میٹھا پانی نمکین سمندر میں گرتا ہے پھر دونوں قسم کے پانی ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں مگر اللہ نے ان دونوں کے درمیان زمین کو ایک رکاوٹ بنارکھا ہے ایک پانی دوسرے پانی پر سرکشی نہیں کرتا اور یوں دونوں پانیوں کی منفعت حاصل ہوتی ہے لوگ میٹھے پانی کو خود پیتے ہیں اور اس سے اپنے باغات اور کھیتی باڑی کو سیراب کرتے ہیں کھاری پانی فضا کو پاک صاف کرتا ہے اس میں وہیل مچھلیاں موتی اور گھونگے پیدا ہوتے ہیں اور یہ کشیتوں اور دیگر بحری سواریوں کے لیے مستقر اور مسخر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–36
لئو لئو اور مرجان
قول باری ہے (یخرج منھما اللئو لئو والمرجان ان دونوں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں) یہاں مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک سے کیونکہ موتی اور مونگے سمندر کے کھارے پانی سے برآمد ہوتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں برآمد ہوتے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (یا معشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے) جب کہ رسول صرف انسانوں میں سے بھیجے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حسن، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ مرجان چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں۔
ایک قول کے مطابق مرجان مخلوط قسم کے جواہرات کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ” مرحت “ سے نکلا ہے جس کے معنی مخلوط ہوجانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
[ 19] موتیوں اور مونگوں کی نعمتوں کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں سے موتی بھی نکلتے ہیں اور مونگے بھی جو تم لوگوں کے لیے عظیم الشان دولت بھی ہے اور زیب وزینت بھی اور جن سے آگے تم لوگ قسماقسم کے فائدہ اٹھاتے اور طرح طرح سے مستفید ہوتے ہو، جدید تحقیقات کے مطابق موتی اور مونگے میٹھے اور کھاری دونوں پانیوں سے نکلتے ہیں، البتہ مونگے زیادہ تر کھاری پانی سے برآمد ہوتے ہیں مگر نفس وجود ان دونوں کا دونوں جگہ پایا جاتا ہے، [ تفسیر المراغی ] فسبحان اللّٰہ من عظمۃ شانہ وہ صدق کلامہ الذی لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ ینزیل من حکیم حمید سو اس ارشاد سے ایک عظیم الشان اور مشترک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
سمندر اور دریا اپنی بناوٹ میں حیران کن ہیں
تشریح : ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب نے 19 اور 20 آیات کی تشریح بےحد خوبصورت الفاظ میں کی ہے ملاحظہ ہو لکھتے ہیں۔ آیات میں دو اہم نکات کو بیان کی گیا ہے۔
1 دو سمندروں کا strait کے ذریعے آپس میں ملنا بہر حال یہ ایک معمول کی حالت ہے۔
2 ۔ یہ حقیقت کہ دو سمندران کے درمیان ایک خاص قسم کی رکاوٹ کی وجہ سے مکمل طور پر آپس میں نہیں مل سکتے۔
آئیے اس سلسلے میں سب سے پہلے سائنسی نکات کا مطالعہ کریں۔ فرانسیسی سائنسدان جیکوی کو سٹو نے جو سمندر کے اندر پانی کی تحقیقات کے لیے مشہور ہے، یہ دریافت کیا کہ بحرہ روم اور بحرہ اوقیانوس کیمیاوی اور حیاتیات کے لحاظ سے ایک دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔
قوت گویائی کا اصل مصرف۔
گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ف 1 اس کے بنائے ہوئے “ اس لحاظ سے ہے کہ اسی نے تمہیں اتنی سمجھ اور مہارت دی کہ تم نے انہیں بنایا۔
Read the full tafseer →(55:23) فبای الاء ربکما تکذبن : پس اے جن و انس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے۔ یہاں بھی اگرچہ الاء میں قدرت کا پہلو نمایاں ہے لیکن نعمت اور اوصاف حمیدہ کا پہلو بھی مخفی نہیں ہے (مودودی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25
علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا
اللہ تعالیٰ نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(ف 1) جہازوں اور کشتیوں کو پہاڑوں سے تشبیہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح خشکی میں پہاڑ قدرت کانمونہ ہیں اسی طرح دریا میں جہاز اور کشتیاں اسی کے قبضہ قدرت و فرمان میں ہیں جو اونچی اونچی بلند پہاڑوں کی طرح پانی میں چلتے ہیں ہزاروں من بوجھ بھرا ہوتا ہے پھر فرمایا زمین پر جو کچھ ہے وہ ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے اس سب کے پچھے فنالگی ہوئی ہے باقی رہنے والی وہی ایک ذات وحدہ لاشریک ہے اب جس کی قدرت میں انسان کا پیدا کرن اور فنا کرنا، اسی نے یہ جتلایا ہے کہ دنیا کا یہ سب کارخانہ اس نے بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اس لیے پیدا کیا کہ دنیا میں جو نیکی وبدی ہورہی ہے ہر نیک وبد کے مرجانے کے بعد پھر انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
[7] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فرقان حاشیہ 33 صفحہ 859۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
ف 1: کشتیوں اور جہازوں کو سطح سمندر پر رواں کرنا یہ بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ وہی ان پہاڑوں کو پانی کے اس اتھاہ ذخیرہ میں ڈال دیتا ہے ۔ اور وہی ان پہاڑوں کی طرح بلند جہازوں کو سطح آب پر چلنے دیتا ہے ۔
Read the full tafseer →(23) سوتم ائے جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
ف 2۔ چونکہ مقصود تنبیہ کرنا ثقلین کو ہے اور وہ سب اہل ارض ہیں، اس لئے فنا میں اہل ارض کا ذکر کیا گیا۔ اس تخصیص ذکری سے نفی فنا کی غیر اہل ارض سے لازم نہیں آتی۔
Read the full tafseer →پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کا تم دونوں انکار کرتے جائو گے
32۔ یہ وہی ترجیح ہے جو بار بار دہرائی جارہی ہے اور یہ محض تفنن طبع کے لیے نہیں بلکہ اس کا بار بار آنا اور دہرایا جانا تو جہ مبذول کرانے کے لیے ہے کہ شاید تم کسی وقت ہی متوجہ ہو کر اپنی اصلاح کرلو اور انسانی اصل کی یہ دونوں اقسام اپنی اصلاح کرکے دنیا وآخرت میں کامیابی حاصل کرلیں۔ جس طرح بعض اوقات انسان ایک بات کو کرتا ہے اور کرنے کے بعد توجہ کے لیے کوئی فقرہ بولتا ہے اسی طرح اس فقرہ کو بار بار دہرایا جارہا ہے لیکن ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دینے والے بہت ہی کم ان فقرات پر توجہ دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ (From both of them come forth the pearl and the coral....55:22). The meaning of لُّؤْلُؤُ lu'lu' is quite well-known, that is, 'pearl'. The word مَرْجَانُ marjan too is one of the 'precious jewels or gems'. It is a hard substance formed from coral which has branches like trees. Both these precious jewels or gems are produced in the waters. It is generally understood that pearls and corals are both hunted or fished for in the salty waters, not in the fresh waters, whereas the verse states that they are fished for in both kinds of waters. It is…
Read the full tafseer →22 Here also though the aspect of power in alaa' is conspicuous, the aspect of the blessing and praiseworthy qualities also is not hidden. It is a blessings of God that these valuable things come out from the sea, and it is His Providence that for the satisfaction of the aesthetic taste of the creatures whom He had blessed with the taste for beauty and the lout and longing for adornment, He created ali sorts of these beautiful things in His world.
Read the full tafseer →