Ar-Rahmaan 55:25

Ar-Rahmaan · from ayah 25

55:25

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۟۠فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

So which of the favors of your Lord would you deny?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juzع

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:25

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس تم اپنے پروردگار کے کون کون سے احسانات کو جھٹلاؤ گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو تم اپنے رب کے کن کن عجائب کو جھٹلائو گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس !) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

سو تم (دونوں) اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کو جھٹلائو گے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Which of the favours of your Lord will you twain – you men and jinn – then deny?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani

So, which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then which of the blessings of your Lord will you both deny

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Which is it, of the favours of your Lord, that ye deny?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So which of the favors of your Lord would you deny?

— Saheeh International

(Jinn and mankind) - which of the favors of your Lord do you then deny?

— Muhammad Sarwar

Which then of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Habib Shakir

Which, then, of the benefits of your Lord will ye twain belie?

— Abdul Majid Daryabadi

Then which of the favours of your Lord will ye deny?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–25

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فرشتے نور سے جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہوچکا ہے پیدا کئے گئے ہیں پھر اپنی کسی نعمت کے جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی جگہیں رہتی ہیں ہر دن انقلاب لاتا ہے جیسے دوسری آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّحْمٰن 24 یہاں " آلاء " میں نعمت و احسان کا پہلو نمایاں ہے، مگر اوپر کی تشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قدرت اور صفات حسنہ کا پہلو بھی اس میں موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–25

وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَــٰٔتُ فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ ، جواری، جاریہ کی جمع ہے، اس کے ایک معنی کشتی کے بھی آتے ہیں وہی یہاں مراد ہیں، منشئت، نشاء سے مشتق ہے جس کے معنی ابھرنے اور بلند ہونے کے ہیں، مراد کشتیوں کے بادبان ہیں جو جھنڈوں کی طرح اونچے اور بلند بنائے جاتے ہیں، اس میں کشتی کی صنعت اور اس کے پانی کے اوپر چلنے کی حکمت کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 24–25

(ولہ الجوار المشت فی البحر کالا علام فبای الاء ربکما تکذبن) (24۔ 25)۔ (تضاد کے اندر توافق کی ایک اور نشانی)۔ تضاد کے باوصف توافق کی ایک اور نشانی کی طرف توجہ دلائی کہ یہ بھی خدا ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ پہاڑوں کی طرح اونچے اور بھاری بھاری جہاز سمندروں کے سینے پر دوڑتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ کوئی وزن رکھنے والی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پانی کے اندر ڈالیے تو ڈوپ جاتی ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی کار سازی ہے کہ جہاز جیسی بھاری چیز، ہزاروں ٹن سامان اپنے اوپر لادے ہوئے، پانی کو چیرتی ہوئی چلتی اور ڈوبنے سے محفوظ رہتی ہے۔ لہ سے مطلب یہاں یہ ہے کہ تضادات کے اندر اس قسم کی موافقت و سازگاری…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 25–29

29۔ 1 یعنی سب اس کے محتاج اور اس کے در کے سوالی ہیں۔ 29۔ 2 ہر روز کا مطلب، ہر وقت۔ شان کے معنی امر یا معاملہ، یعنی ہر وقت وہ کسی نہ کسی کام میں مصروف ہے، کسی کو بیمار کر رہا ہے، کسی کو شفایاب، کسی کو تونگر کسی کو فقیر، کسی کو گدا سے شاہ اور شاہ سے گدا، کسی کو بلندیوں پر فائز کر رہا ہے، کسی کو پستی میں گرا رہا ہے کسی کو ہست سے نیست اور نیست کو ہست کر رہا ہے وغیرہ۔ الغرض کائنات میں یہ سارے تصرف اسی کے امرو مشیت سے ہو رہے ہیں اور شب و روز کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو اس کی کارگزاری سے خالی ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–28

4: اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ نظارہ دو دریاؤں یا دوسمندروں کے سنگم پر ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ دونوں دریاؤں یا سمندروں کے پانی ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں، پھر بھی دونوں کے درمیان ایک لکیر جیسی ہوتی ہے جس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ دونوں الگ الگ دریا یا سمندر ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فبای ............ تکذبن (55:5 2) ع (پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کی تکذیب کرو گے) اب یہاں اس دکھائی دینے والی کائنات کے صفحات کو لپیٹ دیا جاتا ہے او یہ بتایا جاتا ہے تمام فنا ہونے والی مخلوقات کے صفحات لپیٹ لئے جائیں گے۔ یہ تمام انسان اور ان کی شکلیں ختم کردی جائیں گی۔ صفحہ ہستی کو تمام زندہ مخلوق سے صاف کردیا جائے گا اور صرف اللہ ذوالجلال وذوالاکرام کی ذات رہ جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 25–27

6 یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق زبان حال و قال سے اپنی حاجات اسی خدا سے طلب کرتی ہے۔ کسی کو ایک لمحہ کے لیے اس سے استغناء نہیں۔ اور وہ بھی سب کی حاجت روائی اپنی حکمت کے موافق کرتا ہے۔ ہر وقت اس کا الگ کام اور ہر روز اس کی نئی شان ہے۔ کسی کو مارنا، کسی کو جلانا، کسی کو بیمار کرنا، کسی کو تندرست کردینا، کسی کو بڑھانا، کسی کو گھٹانا کسی کو دینا، کسی سے لینا اس کی شؤن میں داخل ہیں۔ وقس علیٰ ہذا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 25{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کو جھٹلائو گے ؟“ یہاں ایک دفعہ پھر نوٹ کرلیں کہ سورت کے آغاز سے لے کر اب تک جو آیات ہم نے پڑھی ہیں ان میں پہلے قرآن کی عظمت کا ذکر آیا ہے اور اس کے بعد اللہ کی صناعی اور اس کی قدرتوں کا بیان ہے۔ ابتدائی آیات میں انسان کی قوت بیان کے تذکرے کے ساتھ قرآن کی عظمت کا ذکر کر کے انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ اس کی اس صلاحیت کا بہترین مصرف یہی ہے کہ وہ قرآن سیکھے اور سکھائے۔ اس کی مزید وضاحت نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان میں ملتی ہے : خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ کہ تم میں بہترین لوگ وہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 25–27

18 ہر چیز فنا ہونے والی ہے استثناء صرف اللہ کے لئے ہے :۔ یعنی جو چیز بھی مخلوق ہے وہ حادث ہے اور قدیم صرف اللہ کی ذات ہے جو چیز بنی ہے خواہ وہ بےجان ہو ایک نہ ایک دن ضرور اپنا کام چھوڑ دے گی۔ خراب ہوجائے گی، برباد اور فنا ہوگی اور جو جاندار ہے وہ بھی ضرور موت سے دو چار ہوگی۔ صرف اللہ کی ذات اور صفات قدیم اور ازلی ابدی ہیں۔ لہذا ان کے سوا کوئی چیز باقی نہ رہے گی۔ اللہ کی صفات سے مراد مثلاً کلام اللہ یا قرآن یا لوح محفوظ اور اعمالنامے وغیرہ ہیں۔ رہے فرشتے بالخصوص حاملان عرش تو ان کے متعلق اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ قرآن میں کئی مقامات پر فرشتے اپنے کلام کو اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ جیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 25–27

16۔ یہاں یہ صاف بتادیا کہ زمین پر موجودات جتنی اور جس قسم کی بھی ہے، چاہے وہ مادہ ہو، یا روح۔ سب کی سب فانی اور غیر باقی ہے۔ باقی اور قائم ودائم صرف الحی والقیوم کی ذات پاک ہے۔ (آیت) ” علیھا “۔ ضمیرھا کا (آیت) ’ الارض “۔ کی طرف راجع ہونا بالکل ظاہر اور غیر اختلافی ہے۔ (آیت) ” ذوالجلل والاکرام “۔ محققین عارفین نے کہا ہے کہ صفت جلال میں اشارہ ہے افناء عالم کی طرف اور صفت اکرام ابقاء کی طرف مشیر ہے جس کا تعلق نشاۃ ثانیہ سے ہے۔ امام رازی (رح) نے فرمایا کہ الجلال کے تحت میں تمام صفات سلبی ومنفی حق تعالیٰ کے آگئے۔ اور الاکرام کے ماتحت تمام صفات اثباتی وایجابی۔ (آیت) ” وجہ “۔ وجہ سے مراد ذات ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–25

وخلق الجان من مارج من نار، جان سے جنس جنات مراد ہے، اور مارج آگ کے شعلہ کو کہتے ہیں، انسان کی طرح جن بھی عناصر اربعہ سے بنا ہوا ہے، گمر جن میں ناری عنصر غالب ہے جیسا کہ انسان میں خاکی عنصر غالب ہے رب المشرقین و رب المغربین سے سردی گرمی کے مشرق و مغرب مراد ہیں شمس و قمر کا مطلع اور مغرب اگرچہ بہت قیل مقدار میں روزانہ ہی بدلتا رہتا ہے اس لئے آسانی سے اس کا احساس نہیں ہوتا، گرمی سردی کے مشرق و مغرب میں چونکہ بین فرق اور نمایاں فاصلہ ہوتا ہے اس لئے صرف ان کا ہی ذکر کردیا ہے اور بعض حضرات نے مشرقین اور مغربین سے شمس و قمر کے مشرق و مغرب مراد لئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 22–25

(22۔ 25) ان دونوں سے بالخصوص کھاری دریا سے موتی اور مونگا پیدا ہوتا ہے سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔ اور اسی کے اختیار اور ملکیت میں جہاز ہیں جو سمندر میں پہاڑو کی طرح اونچے کھڑے نظر آتے ہیں سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 24–25

وَلَہُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلَامِ۔۔۔:”المنشئٰت“”انشاء ینشی“ (افعال) (بنانا) سے اسم مفعول ہے ، پہاڑوں جیسے لمبے چوڑے اور کئی منزلہ اونچے بحری جہاز ”جو بنائے گئے ہیں“۔ اس میں بحری جہاز بنانے کا طریقہ سکھانے کی نعمت کی یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سکھانے سے انسان چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جوڑتے ہوئے کتنا بڑا بحری جہاز بنا لیتا ہے۔ طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے ”المنشئت“ کا ایک اور معنی بھی نقل فرمایا ہے :”ما رفع فلعہ من المفن فھی منشئات واذا لم یرفع قلعھا فلیست بمنشئات“ ”وہ جہاز جن کے بادبان اٹھائے ہوئے ہوں وہ ”منشئات“ ہیں اور جب ان کے بادبان اٹھائے ہوئے نہ ہوں تو وہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 24–25

جوار سے مراد کشتیاں ہیں۔ عام قرأت المنشات ہے یعنی شین پر زبر ہے۔ قتادہ نے کہا : ایسی مخلوق جو چلنے کے لئے ہو (2) یہ انشا سے ماخوذ ہے مجاہد نے کہا : اس سے مراد ایسی کشتیاں ہیں جن کے بادبان اٹھا دیئے گئے ہوں جب ان کے بادبان نہ اٹھائے جائیں تو وہ منشات نہیں اخفش نے کہا : اس سے مراد چلنے والی ہیں (3) ۔ حدیث میں میں ہے : حضرت علی شیر خدا ؓ نے ایسی کشتیوں کو دیکھا جن کے بادبان اٹھا دیئے گئے تھے (4) فرمایا : ان کشتیوں کے رب کی قسم : نہ میں نے حضرت عثمان کو قتل کیا اور نہ میں ان کے قتل میں مد د کی۔ حمزہ، ابوبکر نے عاصم سے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے (5) المنشات یعنی شین کے کسرہ کے ساتھ ہے مراد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–25

1:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولہ الجوار المنشئت '' (اور اس کے ہیں جہاز کھڑے ہوئے) (آیت ) '' المنشئت '' سے مراد وہ جہاز ہیں جن کے بادبان بلند ہوتے ہیں اور وہ جہاز جن کے بادبان بلند نہ ہوں وہ '' منشئت '' نہیں کہلاتے۔ کشتیوں کا چلنا قدرت کی نشانی ہے : 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے (آیت ) '' ولہ الجوار المنشئت '' کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے سفن (یعنی جہاز اور کشتیاں) اور '' المنشئت '' سے مراد ہیں وہ کشتیاں جو بادبان والی ہوں (آیت) '' کالاعلام '' یعنی پہاڑوں کی طرح۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 19–25

اس کے بعد کشتیوں کا تذکرہ فرمایا کہ اونچی اونچی کشتیاں پہاڑوں کی طرح سمندروں میں بلند ہیں یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت سے قائم ہیں۔ وہی اپنی قدرت کاملہ سے ان کی حفاظت فرماتا ہے۔ سمندر کا تلاطم اور تیز ہواؤں کے حملوں سے محفوظ فرماتا ہے، یہ کشتیاں بڑے بڑے وزن کے سامان تجارت کو اور تاجروں کو اور انسانوں کی خوراکوں اور دوسری ضروریات کو ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک لے جاتی ہیں جسے سورة البقرہ میں یوں فرمایا ہے ﴿ وَ الْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ ﴾ (اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو انسانوں کو نفع دیتی ہیں، عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ : قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔ (ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–25

10:۔ ” ولہ الجوار۔ الایۃ “ یہ توحید کی ساتویں عقلی دلیل ہے۔ یہ کشتیاں اور پہاڑوں کی مانند اونچے اونچے بحری جہاز اللہ تعالیٰ ہی کے تصرف اور قبضہ اختیار میں ہیں وہی ان کو اپنی قدرت تامہ اور تدبیر صائب سے چلاتا اور منزل مقصود تک پہنچاتا ہے بتاؤ اللہ کی کونسی نعمت سے آنکھیں بند کرو گے، اسی قادر و مختار اور منعم و محسن کے نام میں برکت ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–25

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں کائنات اور بالخصوص انسانوں پر ہونے والے انعامات الٰہیہ کا ذکر ہورہا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں روحانی انعامات میں سے سب سے بڑی نعمت قرآن حکیم کا تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے خود انسانی جسم کی تخلیق کا ذکر کیا کہ اس نے انسان کو پیدا کیا اور کمال درجے کی قوت گویائی بھی عطافرمائی۔ پھر اللہ نے شمس و قمر ، پودوں اور درختوں کا ذکر کیا ہے کہ یہ بھی انعاماتِ الٰہیہ میں شامل ہیں جو اللہ نے انسانوں کی مصلحت کی خاطر پیدا فرمائے ہیں پھر اللہ نے ترازو کا ذکر کیا جو کہ عدل کی علامت ہے ، لہٰذا اللہ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ، اور فرمایا کہ ناپ تول میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۝ 25 أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–25

ترکیب : المرج الارسال یقال مرجت الدابۃ اذا ارسل تھا یلتقیان حال و بینہما برزخ حال من الضمیر فی یلتقیان ولایبغیان حال ایضا یخرج قالوا التقدیر من احدھما الجواری جمع جاریۃ وھی السفن وحذفت الیاء المنشئات من انشأء اذا رفعہ المرفوعات وقریٔ بکسر الشین وفی البحر یتعلق بہ کالا علام جمع علم وھو الجبل الطویل۔ حال من الضمیر فی المنشئات۔ تفسیر : ان آیات میں دوسرے مسئلہ توحید کو ثابت کر رہا ہے مگر جہاں کہیں قرآن مجید میں اپنے دلائلِ قدرت و جبروت ذکر کر کے اس مسئلہ کو ثابت کیا ہے دلائل میں وہی چیزیں بیان فرمائی ہیں کہ جو بندوں کے لیے انعام اور کارآمد چیزیں ہیں یہ اس لیے کہ انسانی جبلت انعام کی وجہ سے منعم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 24–25

وَلَـہُ الْجَوَارِالْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلاَمِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 24، 25) (اور اسی کی ملکیت اور اختیار میں ہیں سمندر میں پہاڑوں کی طرح اٹھے ہوئے جہاز۔ پس اے جن و انس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلائو گے۔ ) اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک اور نشانی پانی کی فطرت یہ ہے کہ کوئی وزن رکھنے والی چھوٹی بڑی چیز پانی کے اندر ڈالی جائے تو وہ ڈوب جاتی ہے۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی کیسی قدرت ہے کہ وہ بحری جہاز جو ہزاروں ٹن سامان لے کر پانی کو چیرتے ہوئے چلتے ہیں، لیکن پھر بھی ڈوبنے سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ باہمی دو متضاد چیزوں میں موافقت و سازگاری پیدا کرنا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–25

فہم القرآن ربط کلام : دونوں سمندروں کے فوائد۔ اللہ تعالیٰ ہی سمندروں سے موتی اور مونگے پیدا کرتا ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ موتی اور مونگے صرف کڑوے اور کھارے پانی میں پیدا ہوتے ہیں جس کی بالواسطہ طور پر نفی کی گئی ہے۔ اس لیے واحد کی بجائے مِنْہُماَ کی ضمیر لاکر بتلایا ہے کہ ایک نہیں دونوں قسم کے سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ موتی اور مونگے انتہائی قیمتی اور خوبصورت ہیرے ہیں جو زیبائش کے علاوہ کئی ادویات میں استعمال ہوتے ہیں جو مخصوص قسم کی بیماریوں کا علاج اور تریاق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی انتہا دیکھئے کہ وہ پانی میں کس طرح موتی اور مونگے پیدا کرتا ہے۔ پانی مائع ہے اور اس میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

25 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

24 ۔” ولہ الجوار “ بڑی کشتیاں ” المنشئات “ حمزہ اور ابوبکر رحمہما اللہ نے ” المنشئات “ شین کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ” المنشئات السیر “ یعنی جنہوں نے چلنے کی ابتداء کی اور دیگر حضرات شین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اٹھائی ہوئیں جن کی لکڑیاں ایک دوسرے کے اوپر اٹھائی گئی ہوں اور کہا گیا وہ کشتی جس کا بادبان بلند کیا گیا ہو اور جس کا بادبان بلند نہ کیا گیا ہو وہ ” منشئات “ میں سے نہیں ہے اور کہا گیا ہے جو تابع کی گئی ہیں۔ ” فی البحر کالاعلام “ پہاڑوں کی طرح علم کی جمع ہے اور وہ لمبا پہاڑ۔ کشتی کو سمندر میں خشکی کے پہاثوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–25

14۔ 25۔ ترمذی نسائی ‘ مسند بزار وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ﷺ کا پتلا بنانے کے لئے پہلے مٹی لی پھر اس میں پانی ملا کر چھوڑ دیا کہ سیاہ رنگ کا بودار گارا ہوگیا اور یہاں تک سوکھا کہ ٹھیکرے کی طرح ہوگیا۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ سورة آل عمران ‘ سورة حج ‘ سورة و الصفات اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے پتلے کی مختلف حالتیں جو فرمائی ہیں یہ حدیث ان سب حالتوں کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوا کہ ان سورتوں کی آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے بلکہ ان چند حالتوں میں سے کسی آیت میں کوئی حالت ہے اور کسی میں کوئی اور۔ حقیقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–25

یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے سمندروں میں چلنے والی کشتیوں کو مسخر کیا جو اللہ کے حکم سے سمندر کے سینے کو چیرتی چلی جاتی ہیں جن کو آدمیوں نے بنایا ہے جو اپنی عظمت کی وجہ سے بڑے بڑے پہاڑوں کے مانند دکھائی دیتی ہیں لوگ ان کشیتوں پر سواری کرتے ہیں اور ان پر اپنا سامان تجارت اور دیگر اشیا لادتے ہیں جن کی وہ ضرورت اور حاجت محسوس کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کی حفاظت کرنے والی ہستی ان کشتیوں کی حفاظت کرتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی جلیل القدر نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے بنابریں فرمایا (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) (اے جن وانس) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–36

لئو لئو اور مرجان قول باری ہے (یخرج منھما اللئو لئو والمرجان ان دونوں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں) یہاں مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک سے کیونکہ موتی اور مونگے سمندر کے کھارے پانی سے برآمد ہوتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں برآمد ہوتے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (یا معشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے) جب کہ رسول صرف انسانوں میں سے بھیجے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حسن، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ مرجان چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق مرجان مخلوط قسم کے جواہرات کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ” مرحت “ سے نکلا ہے جس کے معنی مخلوط ہوجانے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 24–25

[ 20] دیوہیکل بحری جہازوں میں سامان غور و فکر : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ پانی پر تیرنے والے دیوہیکل جہاز بھی قدرت کی ایک عظیم الشان نشانی ہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کے لیے ہیں پہاڑوں جیسے یہ عظیم الشان جہاز جو سمندروں میں رواں دواں ہیں۔ جن سے تمہارے طرح طرح کے فوائد و منافع وابستہ ہیں۔ پس ان جہازوں کے وہ مواد جن سے ان کی ترکیب وجود میں آتی اور ان کی تیاری مکمل ہوتی ہے، اور تمہاری وہ عقلیں جن کی بناء پر تم نے ان کی ترکیب و صنعت کاری کا عروج تک پہنچایا، کس کی پیدا کردہ اور کس کی بخشی ہوئی ہیں ؟ اور پھر اس پانی کو تمہارے لئے اس طرح کس نے مسخر کردیا کہ ہزاروں ٹن وزن کے لوہے لکڑی وغیرہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–25

سمندر اور دریا اپنی بناوٹ میں حیران کن ہیں تشریح : ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب نے 19 اور 20 آیات کی تشریح بےحد خوبصورت الفاظ میں کی ہے ملاحظہ ہو لکھتے ہیں۔ آیات میں دو اہم نکات کو بیان کی گیا ہے۔ 1 دو سمندروں کا strait کے ذریعے آپس میں ملنا بہر حال یہ ایک معمول کی حالت ہے۔ 2 ۔ یہ حقیقت کہ دو سمندران کے درمیان ایک خاص قسم کی رکاوٹ کی وجہ سے مکمل طور پر آپس میں نہیں مل سکتے۔ آئیے اس سلسلے میں سب سے پہلے سائنسی نکات کا مطالعہ کریں۔ فرانسیسی سائنسدان جیکوی کو سٹو نے جو سمندر کے اندر پانی کی تحقیقات کے لیے مشہور ہے، یہ دریافت کیا کہ بحرہ روم اور بحرہ اوقیانوس کیمیاوی اور حیاتیات کے لحاظ سے ایک دوسرے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔ قوت گویائی کا اصل مصرف۔ گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 25–26

ف 2 یہاں فنا ہوجانے کو نعمت قرار دیا گیا ہے اور وہ اس لحاظ سے کہ فنا ہوجانے کے بعد سب دوبارہ زندہ ہوں گے اور سب کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجے ملیں گے۔ قرطبی

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:25) فبای الاء ربکما تکذبن : پس اے جن و انس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے۔ یہاں الاء میں نعمت و احسان کا پہلو نمایاں ہے۔ اس کی قدرت اور صفات حسنہ کا پہلو بھی موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25 علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا اللہ تعالیٰ نے اپنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–29

(ف 2) اسی سے آسمانوں کے رہنے والے اور زمینوں کے بسنے والے سب اپنی اپنی حاجتیں علی حسب المراتب مانگتے ہیں مغفرت توفیق روزی اور حفاظت وغیرہ کے سب ہر بات میں اس کے محتاج ہیں وہ ہر وقت نرالی شان میں جلوہ دکھاتا ہے کسی کو جلاتا ہے کسی کو عزت دیتا ہے کسی کو ذلت دیتا ہے کسی کو غنی کرتا کسی کو محتاج، کسی کے گناہ بخشتا ہے کسی کی تکلیف رفع کرتا ہے ۔ شان نزول : کہا گیا ہے کہ یہ آیت یہود کے رد میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہفتہ کے روز کوئی کام نہیں کرتا ان کے قول کا بطلان ظاہر فرمایا گیا منقول ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے اس آیت کے معنی دریافت کیے اس نے ایک روز کی مہلت چاہی اور نہایت متفکر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–27

ف 2: اس حقیقت کا بیان ہے ۔ کہ روئے زمین پر جو کچھ ہے ۔ وہ سب مٹنے کو ہے ۔ سب روبزدال ہے ۔ سب فنا کے گھاٹ اترنے والا ہے ۔ سب کی قسمت میں ہلاکت لکھی ہے ۔ سب کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور سب کو اس دارالقرار سے دارالبقاء کی جانب جانا ہے ۔ بجز جلال و تکریم کے مالک کے ۔ کہ وہ باقی ہے ۔ حی وقیوم ہے ۔ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–26

ف 2۔ چونکہ مقصود تنبیہ کرنا ثقلین کو ہے اور وہ سب اہل ارض ہیں، اس لئے فنا میں اہل ارض کا ذکر کیا گیا۔ اس تخصیص ذکری سے نفی فنا کی غیر اہل ارض سے لازم نہیں آتی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے 52۔ پھر دونوں گروہوں کی توجہ مبذول کرائی جارہی ہے کہ تم نے توجہ نہ کرنے کی قسم کھائی ہے تو کھائے رکھو لیکن ہم بھی تمہارے کانوں تک یہ بات پہنچا کے رہیں گے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور حکمتوں کو آخر کب تک جھٹلاتے رہو گے اس لیے کہ یہ عمر کی ناپائیداری تم کو کب تک مہلت دیتی رہے گی ؟ آج نہیں تو کل تم یقیناً دھر لیے جائو گے اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو جھٹلانے کا سارا نشہ فوراً ہرن ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–25

وَلَهُ الْجَوَارِ‌ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ‌ كَالْأَعْلَامِ (And His are the sailing ships raised up in the sea like mountains...55:24). The word جَوَارِی۔ jawari is the plural of جَارِیَہ - jariyah. One of its meanings is ship and that is the sense in which it is used in the current verse. The word مُنشَآتُ munsha'at is derived from نَشَأ nasha'a which means 'to rise up or high, be lofty'. Al-munsha'at thus refers to 'sails of the ships that are lofty'. The verse describes the wisdom of making the ship and its running on the surface of the water.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

24 Here, the aspect of the blessing; and bounty is conspicuous in alaa', but the explanation given above shows that the aspect of power and good qualities also is present in it.

Read the full tafseer →