Qaaf 50:44

Qaaf · from ayah 44

50:44

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا ؕ— ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ ۟يَوۡمَ تَشَقَّقُ الۡاَرۡضُ عَنۡهُمۡ سِرَاعًا‌ ؕ ذٰ لِكَ حَشۡرٌ عَلَيۡنَا يَسِيۡرٌ

اس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ جھٹ پٹ نکل کھڑے ہوں گے۔ یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

On the Day the earth breaks away from them [and they emerge] rapidly; that is a gathering easy for Us.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:44

جب زمین پھٹے گی اور لوگ اس کے اندر سے نکل کر تیز تیز بھاگے جا رہے ہوں گے یہ حشر ہمارے لیے بہت آسان ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ جھٹ پٹ نکل کھڑے ہوں گے۔ یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن زمین پھٹ جائے گی اور یہ دوڑتے ہوئے (نکل پڑیں گے) یہ جمع کر لینا ہم پر بہت ہی آسان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس دن جب زمین پھٹ کر ان کو اس طرح باہر کردے گی کہ وہ جلدی جلدی نکل رہے ہوں گے۔ اس طرح سب کو جمع کرلینا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن زمین ان سے پھٹے گی تو جلدی کرتے ہوئے نکلیں گے یہ حشر ہے ہم کو آسان،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جِس دن زمین اُن پر سے پھٹ جائے گی تو وہ جلدی جلدی نکل پڑیں گے، یہ حشر (پھر سے لوگوں کو جمع کرنا) ہم پر نہایت آسان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن زمین ان سے پھٹے گی، اس حال میں کہ وہ تیز دوڑنے والے ہوں گے، یہ ایسا اکٹھا کرنا ہے جو ہمارے لیے نہایت آسان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ جھٹ پٹ نکل کھڑے ہوں گے۔ یہ اس طرح جمع کرنا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس دن زمین ان کے اوپر سے کھل جائے گی اور وہ تیزی سے نکلتے ہوں گے۔ یہ اکٹھا کرلینا ہمارے لئے نہایت آسان ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس دن کہ پھٹ پڑے گی زمین ان (مردوں) سے (اور یہ نکلتے ہی) دوڑے جا رہے ہوں گے (میدان حشر کی طرف) یہ جمع کرنا ہمارے لئے بہت آسان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

جس روز زمین ان پر سے کھل جائے گی جبکہ وہ دوڑتے ہوں گے یہ جمع کرلینا ہمارے لئے آسان ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ تیزی سے نکل پڑیں گے۔ یہ (سب کا) جمع کردینا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس دن زمین ان پر پھٹ پڑے گی اور وہ جھٹ پٹ نکل کھڑے ہوں گے یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

on the Day when the earth will be rent asunder and people, rising from it, will hasten forth. To assemble them all will be easy for Us.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

on the Day when the earth will burst apart exposing them, while they will be hurrying up (to come out). That is an assembly, so easy for Us (to muster).

— Muhammad Taqi Usmani

on the Day when the earth will burst apart exposing them, while they will be hurrying up (to come out). That is an assembly, so easy for Us (to muster).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

On the Day when the earth shall be cleft, from off them (they will come out) hastening forth. That will be a gathering, quite easy for Us.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

On the day when the earth splitteth asunder from them, hastening forth (they come). That is a gathering easy for Us (to make).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

On the Day the earth breaks away from them [and they emerge] rapidly; that is a gathering easy for Us.

— Saheeh International

On the day when the earth is rent asunder, they will quickly come out of their graves. This is how easy it is for Us to bring about the Day of Resurrection.

— Muhammad Sarwar

The day on which the earth shall cleave asunder under them, they will make haste; that is a gathering together easy to Us.

— Muhammad Habib Shakir

That shall be the Day whereon the earth will be cleft from off them as they hasten forth. That shall be a gathering Unto Us easy.

— Abdul Majid Daryabadi

The Day when the Earth will be rent asunder, from (men) hurrying out: that will be a gathering together,- quite easy for Us.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:44

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–45

جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیو اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ اللہ تمہیں جمع ہوجانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہوگا ابتداءً ًیہ پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹا لانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پالے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 54 یہ جواب ہے کفار کی اس بات کا جو آیت نمبر 3 میں نقل کی گئی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ بھلا یہ کیسے ہوسکتا کہ جب ہم مر کر خاک ہوچکے ہوں اس وقت ہمیں پھر سے زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے، یہ واپسی تو بعید از عقل و امکان ہے۔ ان کی اسی بات کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ یہ حشر، یعنی سب اگلے پچھلے انسانوں کو بیک وقت زندہ کر کے جمع کرلینا ہمارے لیے بالکل آسان ہے۔ ہمارے لیے یہ معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ کس شخص کی خاک کہاں پڑی ہے ہمیں یہ جاننے میں بھی کوئی دقت نہیں پیش آئے گی کہ ان بکھرے ہوئے ذرات میں سے زید کے ذرات کون سے ہیں اور بکر کے ذرات کون سے۔ ان سب کو الگ الگ سمیٹ کر ایک ایک آدمی کا جسم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) يَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا (یعنی جب زمین پھٹ کر یہ سب مردے نکل آویں گے اور دوڑتے ہوں گے) حدیث سے معلوم ہے کہ یہ دوڑنا ملک شام کی طرف ہوگا، جہاں صخرہ بیت المقدس پر اسرافیل ؑ ندا کرتے ہوں گے۔ جامع ترمذی میں حضرت معاویہ بن حیدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دست مبارک سے ملک شام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ من ھھنا الی ھھنا تحشرون رکبانا و مشاة وتجرون علیٰ وجوھکم یوم القیمة الحدیث (ازقرطبی) ”یہاں سے اس طرف (یعنی شام کی طرف) تم سب اٹھائے جاؤ گے کچھ لوگ سوار کچھ پیدا اور بعض کو چہروں کے بل گھسیٹ کر قیامت کے روز اس میدان میں لایا جائے گا“

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یوم تشقق الارض عنھم سرعاً ط ذلک حشر علینا یسیر 44 قیامت کے دن قبروں سے نکلنے کی تصویر یہ اس دن لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی تصویر ہے۔ فرمایا کہ نفخ صور کے بعد زمین ان کے اوپر سے پھٹ جائے گی اور وہ اس سے نہایت تیزی سے نکلتے ہوئے ہوں گے۔ سراعاً ، ضمیر مجور سے حال پڑا ہوا ہے۔ اس تیزی سے نکلنے کی تصویر قرآن کے دوسرے مقامات میں اس طرح کھینچی گئی ہے کہ جس طرح پتنگے اور ٹڈیاں نکلتی ہیں اسی طرح لوگ قبروں سے نکلیں گے۔ ذلک حشر علینا یسیر، یعنی کوئی اس مغالطے میں نہ رہے کہ لوگوں کو زمین سے برآمد کرنے کے لئے کوئی بڑا اہتمام کرنا پڑے گا جو ہم نہیں کر پائیں گے یا اس میں بڑا وقت صرف ہوگا۔ یہ سارا کام چشم زدن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

44۔ 1 یعنی اس آواز دینے والے کی طرف دوڑیں گے، جس نے آواز دی ہوگی، نبی ﷺ نے فرمایا، جب زمین پھٹے گی تو سب سے پہلے زندہ ہو کر نکلنے والا میں ہوں گا۔ انا اول من تشق عنہ الارض۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 43–45

20: حضور اقدس ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو زبردستی ایمان لانے پر مجبور کریں۔ آپ کا فریضہ صرف یہ ہے کہ نصیحت کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہیں۔ جس کے دل میں کچھ خدا کا خوف ہوگا، وہ آپ کی بات مان لے گا، اور جو نہ مانے، اس کی کوئی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ذلک حشر علینا یسیر (50 : 44) ” اور یہ حشر ہمارے لئے بہت آسان ہے “۔ اور اس حقیقت کے اظہار کا یہ بہترین وقت و مقام تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی زمین پھٹے گی اور مردے اس سے نکل کر میدان حشر کی طرف جھپٹیں گے۔ خدا تعالیٰ سب اگلوں پچھلوں کو ایک میدان میں اکٹھا کر دے گا اور ایسا کرنا اس کو کچھ مشکل نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 44{ یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْہُمْ سِرَاعًاط } ”جس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ تیزی سے نکل پڑیں گے۔“ { ذٰلِکَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ۔ } ”یہ سب کا جمع کردینا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

50 جس طرح زمین پھٹ جاتی ہے اور پودے کی کونپل زمین کو چیر کر اور پھاڑ کر زمین سے باہر نکل آتی ہے۔ اسی طرح اس دن زمین پھٹ جائے گی اور پودوں کی طرح انسان زمین سے اگتے اور باہر نکلتے چلے آئیں گے۔ ان کی فوراً نشوونما ہوتی چلی جائے گی پھر وہ اضطراراً اللہ کے دربار کی طرف دوڑ پڑیں گے جس میں ان کی اپنی مرضی کو کچھ دخل نہ ہوگا۔ 51 نباتات اور انسان کی پیدائش میں مماثلت کے پہلو :۔ اللہ تعالیٰ نے بیشمار مقامات پر نباتات کے زمین سے نکلنے اور مردہ انسانوں کے زمین سے نکلنے کو ایک دوسرے کے مشابہ قرار دیا ہے۔ اور جہاں تک میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ نباتات کے اگنے کی نسبت انسان کا زمین سے اگ آنا یا نکل آنا زیادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 44–45

33۔ یعنی تذکیر نافع صرف اسی کو ہوگی، باقی سب کو ہدایت پر لے آنا آپ کے اختیار میں نہیں۔ سو اختیار سے باہر چیز کا غم نہ کیجئے (آیت) ” نحن اعلم بما یقولون “۔ یعنی انکار قیامت سے متعلق یہ لوگ جو کچھ بکتے رہتے ہیں۔ وہ سب ہم پر خوب روشن ہے اور ہم ہی انہیں پوری سزا دینے کے لیے بھی کافی ہیں۔ (آیت) ” وما انت علیھم بجبار “۔ یعنی آپ تو صرف مبلغ، معلم، منذر کی حیثیت رکھتے ہیں، نتائج کی ذمہ داری آپ پر ذرا بھی نہیں۔ (آیت) ’ ’ فذکر ..... وعید “۔ قرآن مجید کے مضامین سے وعظ وتذکیر کے مخاطب سب ہی ہیں۔ البتہ اس سے نفع یاب وہی ہوں گے جن کے دلوں میں پہلے سے خوف خدا موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–45

یوم تشقق الارض عنھم سراعاً یعنی جب زمین پھٹ کر سب مردے زمین سے نکل آئیں گے تو سب لوگ اس آواز دینے والے کی طرف دوڑیں گے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا، جب زمین پھٹے گی تو سب سے پہلے نکلنے والا میں ہوں گا انا اول من تنشق عنہ الارض (صحیح مسلم کتاب الفضائل) جامع ترمذی میں حضرت معاویہ بن حیدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسوال اللہ ﷺ نے دست مبارک سے ملک شام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ من ھھنا الی ھھنا تحشرون رکبانا ومشاۃ وتجرون علی وجوھکم یوم القیامۃ (الحدیث) یہاں سے اس طرف (یعنی شام کی طرف) تم سب اٹھائے جائو گے کچھ لوگ سوار اور کچھ پیدل اور بعض کو چہروں کے بل گھسیٹ کر قیامت کے روز اس میدان میں لایا جائے گا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

جس روز زمین ان مردوں پر کھل کھل جائے گی جب کہ وہ دوڑتے ہوں گے یہ ہمارے نزدیک ایک آسان جمع کرلینا ہے یعنی مردوں کو زندہ کر کے اس روز اٹھایا جائے گا جب حساب فہمی کے لیے ان کو پکارا جائے گا اور زمین پھٹّ کر وہ تیزی کے ساتھ باہر نکل آئیں گے۔ ذٰلِکَ : یہ یکدم سب کا نکل آنا ہمارے لیے آسان ہے یَسِیْرٌ سے پہلے عَلَیْنَا کا ذکر اظہار خصوصیت کے لیے ہے ‘ حشر اموات اسی کے لیے آسان ہوسکتا ہے جو بذات خود عالم اور قادر ہو اور کسی کام میں مشغولیت دوسرے کاموں سے اس کو غافل نہ بنا سکے اور ایسی ذات صرف اللہ ہی کی ہے اس لیے حشر اموات اس کے لیے دشوار نہیں۔ اللہ نے ایک اور آیت میں فرمایا ہے : مَا خَلْقُکُمْ وَلَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جس روز زمین ان پر سے کھل جائے گی اور وہ سب قبروں سے دوڑتے ہوں گے یہ جمع کرلینا ہمارے لیے آسان ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) یوم تشقق الارض عنھم سراعاً ”سراعا“ ”سریع“ کی جمع ہے۔ ”یوم“ ”الینا المصیر“ کا ظرف ہے، یعنی ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اس دن جب زمین ان سے پھٹے گی اور وہ اس سے نکل کر تیزی سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے۔ (2) ذلک حشر علینا یسیر : یہ کفار کی اس بات کا جواب ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوچکے تو کیا اس وقت ہمیں زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ؟ یہ تو عقل سے بعید اور ناممکن ہے۔ فرمایا یہ حشر یعنی سب اگلے پچھلے انسانوں کو ایک آواز کے ساتھ اکٹھا کرلینا ہمارے لئے بالکل آسان ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–45

واستمع یوم ینا دالمناد من مکان قریب۔ ، استمع کا مفعول محذوف ہے مراد ہے ندا اور آواز کو سنو یا صیحہ کو سنو۔ اس سے مراد صیحہ قیامت ہے اور وہ نفحہ ثانیہ ہے ندا کرنے والے جبریل امین ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حضرت اسرافیل ہیں۔ زمحشری نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے حضرت اسرافیل صور پھونکیں گے اور حضرت جبریل امین منادی کریں گے، وہ حشر بپاہ ہونے کا اعلان کریں گے، وہ کہیں گے : حساب کے لئے آئو۔ تعبیر کی بنا پر ندا میدان حشر میں ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : استمع کا مفعول بہ نداء الکفار ہے وہ دیل اور ہلاکت کی ندا کریں گے یعنی قریب سے اس کو ندا کو سنو، یعنی سب اس آواز کو سنیں گے کوئی بھی اس ندا سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–45

19:۔ ابن جریر ـرحمہ اللہ علیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' واستمع یوم یناد المناد '' (اور سن رکھو کہ جس روز ایک پکارنے والا پاس کے مقام سے پکارے گا یعنی وہ چیخ ہوگی۔ 20:۔ ابن عساکر (رح) والواسطی فی فضائل بیت المقدس یزید بن جابر (رح) سے (آیت ) '' واستمع یوم یناد المناد من مکان قریب '' کے بارے میں روایت کیا کہ اس اسرافیل (علیہ السلام) بیت القدس کی چٹان پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیوپھٹے ہوئے بکھرے ہوئے جسمو، اے کٹے ہوئے بالو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم کو حکم فرماتے ہیں کہ حساب کے فیصلے کے لئے اکٹھے ہوجاؤ۔ 21:۔ ابن جریر (رح) نے کعب ؓ سے (آیت ) '' واستمع یوم یناد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ [ جس دن پھٹ پڑے گی زمین ] عَنْهُمْ [ لوگوں (کے اوپر ) سے ] سِرَاعًا ۭ [ (تو لوگ نکلیں گے ) باہم سبقت کرتے ہوئے ] ذٰلِكَ حَشْرٌ [ یہ ایک ایسا اکٹھا کرنا ہے جو ] عَلَيْنَا يَسِيْرٌ [ہم پر آسان ہے ] (آیت ۔ 44) تشقق دراصل باب تفعل کے مضارع میں واحد مؤنث غائب کا صیغہ تتشقق ہے جس کی ایک تا گری ہوئی ہے اور الارض اس کا فاعل ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–45

﴿يَّوْمَ يَسْمَعُوْنَ الصَّيْحَةَ بالْحَقِّ ﴾ (جس دن حق کے ساتھ چیخ کو سنیں گے) اس سے نفخہء ثانیہ مراد ہے اور بالحق فرما کر یہ بتادیا کہ اس چیخ کو یقین کے ساتھ سنیں گے جس میں کوئی شک و شبہ کی بات نہ ہوگی۔ یہ جو دنیا میں کسی کو آواز پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا۔ ﴿ذٰلِكَ يَوْمُ الْخُرُوْجِ 0042﴾ (یہ قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا) ﴿ اِنَّا نَحْنُ نُحْيٖ وَ نُمِيْتُ ﴾ (بےشک ہم زندہ کرتے ہیں اور ہم موت دیتے ہیں) ﴿ وَ اِلَيْنَا الْمَصِيْرُۙ0043﴾ (اور ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے) کہیں کسی کو بھاگ جانے اور جان بچانے کا موقعہ نہیں ملے گا۔ ﴿ يَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا 1ؕ﴾ (جس روز…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–45

شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 43–44

ٖ 24:۔ ” انا نحن نحیی “ جس طرح دنیا میں موت وحیات ہمارے اختیار میں تھی اور اس میں کسی دوسرے کا کوئی دخل نہ تھا اسی طرح اب دوبارہ زندہ ہونے کے بعد سب کی پیشی بھی ہمارے ہی آگے ہوگی۔ ” یوم تشقق الخ “ ظرف المصیر کے متعلق ہے یعنی جس دن زمین پھٹ جائیگی اور سب لوگ دوڑ کر قبروں سے نکلیں گے اس دن سب ہمارے ہی سامنے پیش ہوں گے اور یہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا ہمارے لیے ایک آسان بات ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 39–45

ربط آیات اللہ نے اس سورة مبارکہ میں وقوع قیامت کے بعض دلائل بیان کیے اور اس کے منکرین کا رد کیا ۔ پھر قیامت کی مختلف کیفیات اور مجرموں کا انجام ذکر کیا ۔ بعض سابقہ اقوام کی نافرمانی اور ان کی ہلاکت کا تذکر ہ کیا ۔ پھر ارض و سماء کی تخلیق اور خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ اور اس کی بےنیازی کا بیان ہوا ۔ اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون ذکر کیا ہے۔ کفار و مشرکین اہل ایمان پر طرح طرح کے الزامات لگاتے تھے اور ان کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے ۔ مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی تکالیف پہنچاتے تھے اس کے علاوہ یہود و نصاریٰ اور منافقین کی ریشہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْہُمْ سِرَاعًا۝ 0 ۭ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَيْنَا يَسِيْرٌ۝ 44 شق الشَّقُّ : الخرم الواقع في الشیء . يقال : شَقَقْتُهُ بنصفین . قال تعالی: ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا[ عبس/ 26] ( ش ق ق ) الشق ۔ شگاف کو کہتے ہیں ۔ شففتہ بنصفین میں نے اسے برابر دو ٹکڑوں میں کاٹ ڈالا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا[ عبس/ 26] پھر ہم نے زمین کو چیرا پھاڑا ۔ سرع السُّرْعَةُ : ضدّ البطء، ويستعمل في الأجسام، والأفعال، يقال : سَرُعَ ، فهو سَرِيعٌ ، وأَسْرَعَ فهو مُسْرِعٌ ، وأَسْرَعُوا : صارت إبلهم سِرَاعاً ، نحو : أبلدوا، وسَارَعُوا، وتَسَارَعُوا . قال تعالی: وَسارِعُوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–45

ترکیب : من لغوب من زائدۃ لغوب تعب و اعیاء یقال لعب یلعب بالضم لغوباً من اللیل ای بعض اللیل فانہ مفعول لفعل مضمر معطوف علی سبح بحمد ربک یفسرہ فسبحہ و من للتبعیض۔ ادبارالسجودای سبحہ اعقاب اصلوٰۃ قرء الجمہور بفتح الھمزۃ جمع و بردقری بکسرھا علی المصدر من ادبرالشیء ادبارا۔ فھی ظرف لسبحہ۔ یوم یسمعون بدل من یوم ینادی یوم تشقق ظرف للضمیر او بدل من یوم الاول سراعا حال ای یخرجون مسرعین۔ واستمع ابرم نادی المناد فیہ ثلاثہ بوجہ اھما ان تبرک مفعولہ راسا وکیون المقصود کن سمنعاً ثانیھا استمع لما یوحی الیک وثالثھا استمع لکسناوی فعلی الاول العامل فی یوم ما یدل علیہ قولہ یوم الخر فی تقدیرہ یخرجون یوم ینادی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْھُمْ سِرَاعًا ط ذٰلِکَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ۔ (قٓ: 44) (اس دن زمین ان کے اوپر سے کھل جائے گی اور وہ تیزی سے اس کے اندر سے نکلیں گے، یہ حشر ہمارے لیے بہت آسان ہے۔ ) قبروں سے نکلنے کا منظر نفخہ ثانیہ کے بعد جب لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کا حکم ہوگا، تو اس کی صورت یہ ہوگی کہ زمین ان کے اوپر سے پھٹ جائے گی کیونکہ وہ موت کے بعد کسی جگہ بھی ہوں اور کسی حالت میں بھی ہوں بہرحال زمین ہی ان کا مدفن ہوگی۔ تو وہ زمین پھٹے گی اور ان کے لیے نکلنے کا راستہ کھل جائے گا۔ سِرَاعًا ضمیر مجرور سے حال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین پھٹنے کے بعد لوگ تیزی سے اپنی قبروں سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 41–44

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کو صبر اور ذکر کی تلقین کرنے کے بعد اب پھر قیامت قائم ہونے کے دلائل دیئے گئے ہیں۔ کوئی شخض قیامت کو تسلیم کرے یا اس کا انکار کرے قیامت بہرحال برپا ہوکر رہے گی جس کا دوسرا مرحلہ اسرافیل کے دوسری مرتبہ صور پھونکنے پر ہوگا جونہی اسرافیل صورپھونکیں گے۔ تو زمین جگہ جگہ سے شق ہوجائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہر کوئی یہ محسوس کرے گا کہ اس کے پاس کھڑا ہوا کوئی اسے محشر کے میدان میں حاضر ہونے کا حکم دے رہا ہے۔ یہ آواز سنتے ہی ہر کسی کو یقین ہوجائے گا کہ اب قیامت قائم ہوچکی ہے اور بلانے والا قیامت کی طرف بلارہا ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ لوگ اپنی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 44 : یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْہُمْ (جس دن زمین ان پر سے کھل جائے گی) قراءت : کوفی ٗ ابوعمرو نے تخفیف کے ساتھ اور باقی نے تشدید سے پڑھا ہے۔ زمین پھٹ جائے گی اور مردے اس سے نکل کھڑے ہونگے۔ سِرَاعًا (جبکہ وہ دوڑتے ہونگے) یہ مجرور سے حال ہے۔ یعنی اس حال میں کہ وہ تیزی کرنے والے ہونگے۔ ذٰلِکَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ (یہ ہمارے نزدیک ایک آسان جمع کرلینا ہے) یسیر : آسان۔ یہاں ظرف کو مقدم کیا۔ تاکہ تخصیص کو ظاہر کرے۔ یعنی اس جیسا بڑا کام آسان نہیں مگر اس قادر مطلق ذات کو جس کو ایک حالت دوسری سے مشغول نہیں کرسکتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 44–45

42-43…” انا نحن نحی ونمیت والینا المصیر یوم تشقق الارض عنھم سراعا “ سریع کی جمع یعنی وہ جلدی سے نکلیں گے۔ ” ذلک حشر علینا “ یہ جمع کرنا ہم پر ” یسیر “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–44

41۔ 44۔ اوپر فرمایا تھا کہ اگر یہ اہل مکہ اپنی سرکشی کی باتوں سے باز نہ آئیں تو صبر سکون سے کام لیا جائے ان آیتوں میں فرمایا کہ اے نبی اللہ کے تمہارے صبر سکون کے بعد اگر اللہ کی حکمت یوں ہی مقیض ہوئی کہ تمہارے مخالفوں میں کے کچھ لوگ دنیا کے عذاب سے بچ گئے اور اسی حالت مخالفت میں وہ مرگئے تو ان کے مواخذہ کا وقت مقررہ دوسرے صور کی آواز ہے۔ جب دوسرے صور کی آواز سنو تو پھر جو کچھ ان مخالفوں پر گزرے گی ‘ وہ سب آنکھوں کے سامنے آجائے گی۔ اس دوسرے صور کی آواز سے سب لوگ جی اٹھیں گے اور قبروں سے نکل کر میدان محشر کو جانے شروع ہوجائیں گے۔ قبر کے عذاب کے علاوہ اس عذاب سے بڑھ کر جو سختیاں نافرمان لوگوں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–45

(واستمع) اپنے دل کے ساتھ پکارنے والے کو پکار کو غور سے سن اور اس سے مراد حضرت اسرافیل ( علیہ السلام) ہیں، یعنی جب اسرافیل ( علیہ السلام) صور میں پھونکیں گے (من مکان قریب) ” نزدیک کی جگہ سے۔ “ یعنی کسی ایسی جگہ سے جو مخلوق کے قریب ہے۔ (یوم یسمعون الصیحۃ) جس روز تمام خلائق ہول ناک اور خوف ناک چیخ کی آواز سیں گے (بالحق) جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ (ذلک یوم الخروج) وہ قبروں سے نکلنے کا دن ہوتا۔ اس روز اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر قادر ہوگا، اسی لئے فرمایا : (انا نحن نحی ونمیت والینا المصیر۔ یوم تشقق الارض عنھم) ” بےشکم ہم ہی تو زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے۔ جس روز ان سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 40–45

نماز مغرب وعشاء کی تاکید نیز تہجد سے کیا مراد ہے قول باری ہے (ومن اللیل فسبحہ۔ اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے) مجاہد کا قول ہے اس سے صلوٰۃ اللیل یعنی تہجد کی نماز مراد ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سے مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد لینا بھی جائز ہے۔ نمازوں کے بعد تسبیحات قول باری ہے (وادبار السجود۔ اور نمازوں کے بعد بھی) حضرت عمر ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حسن بن علی ؓ ، حسن بصری، مجاہد، نخعی اور شعبی نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مغرب کی نماز کے بعد دو رکعتیں اور (وادبار النجوم اور ستاروں سے پیچھے بھی) سے فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں مراد ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 43–44

[ 62] زندگی اور موت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہء قدرت و اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمہء تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم ہی زندگی بخشتے اور موت دیتے ہیں۔ پس زندگی بخشنا اور موت سے ہمکنار کرنا اللہ ہی کی صفت و شان ہے اور معاملہ اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے۔ پس اللہ کے سوا کسی بھی اور کے بارے میں یہ عقیدہ رکھان کہ وہ مارسکتا ہے یا جلا سکتا ہے، شرک ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ جس طرح آج کل کے کئی کلمہ گو مشرکوں کا کہنا یہ شرک ہے کہ اس میں اللہ کی اس خاص صفت کو اس کے بندوں میں مانا گیا ہے، اور یہی شرک ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، بہرکیف اس ارشاد سے اس خروج کی دلیل بیان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 37–45

سمجھنے والے اللہ کی قدرت کو دیکھتے ہیں تشریح : سب سے پہلے تو اس بات پر توجہ دلائی گئیـ ہے کہ قرآن کو سمجھنا اور اللہ کا ادراک یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جو اس طرف رجحان رکھتے ہیں۔ جن کی طبیعت میں پاکی اور روحانیت کا کچھ حصہ موجود ہوتا ہے۔ وہ قرآن کے مضامین سے ہدایت حاصل کرلیتے ہیں اس سے اللہ کی طرف سے اعجاز سمجھتے ہیں ان کو اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت دکھائی دیتی ہے وہ اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے اس کی تمام صفات کو پہچان لیتے ہیں۔ اس کی وحدانیت، خلاقی، عظمت، حسن و خوبی، قدرت اور لافانیت۔ سب کچھ ان کو خود اپنے جسموں کی بناوٹ میں آسمانوں، زمین، پھول، پھل رات دن، ہوا اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–45

آیات 30 تا 45۔ دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اواب اور حفیظ ۔ اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 42–45

ف 1 مراد یہ ہے کہ نبی ﷺ کو جھٹلانا اور آخرت اور توحید وغیرہ سے انکار کرنا۔ 2 یعنی آپ کا کام انہیں زبردستی مسلمان بنا لینا نہیں ہے۔ آپ کے ذمہصرف ان تک ہمارا پیغام پہنچا دینا ہے۔ اس کے بعد یہ مانیں تو اپنا بھلا کریں گے اور نہیں مانیں گیتو اپنی شامت خود بلائیں گے …اس آیت سے مقصود ایکطرف آنحضرت کو تشقی دینا ہے اور دوسری طرف کافروں کو وعید سنانا ہے۔ 3 باقی رہے وہ لوگ جن کے دلوں میں ڈر نہیں ہے تو ان کے سمجھانے میں وقت لگانا بیکار ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:44) یوم تشقق الارض عنہم سراعا : یہ یوم ینادی سے بدل ہے وہ دن جب ان کے اوپر سے زمین پھٹ جائے گی۔ تشقق مضارع واحد مؤنث غائب تشقق (تفعل) مصدر سے۔ بمعنی پھٹ جانا۔ شگاف ہونا۔ اصل میں تتشقق تھا۔ ایک تاء کو حذف کردیا گیا۔ وہ پھٹ جائے گی۔ یعنی زمین پھٹ جائے گی۔ سراعا : ھو حال من الضمیر المجرور فی قولہ : عنھم ای تشقق الارض عنھم فی حال کو نھم مرعین الی الداعی وھو الملک الذی ینفخ فی الصور۔ یدعو الناس س الی الحساب والجزائ۔ اور یہ عنھم میں ضمیر مجرور ہم سے حال ہے۔ مطلب یہ کہ زمین ان کے اوپر سے پھٹ جائے گی۔ درآں حالیکہ وہ پکارنے والے کی طرف تیز تیز بھاگ رہے ہوں گے ۔ اور وہ پکارنے والا فرشتہ ہوگا جو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–45

لغات القرآن آیت نمبر (41 تا 45 ) ۔ المناد (ندا دینے والا ۔ آواز دینے والا ) ۔ تشقق (پھٹ پڑے گی) ۔ جبار (زبردستی کرنے والا) ۔ یخاف وعید (جو میرے ڈرانے سے ڈرتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر (41 تا 45 ) ۔ ” غفلت وکوتاہی کے ساتھ زندگی گذارنے والے قیامت کو دور کی چیز سمجھتے ہ ہیں حالانکہ اہل ایمان اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ دنیا آخر کار ایک دن ختم ہوجائے گی اور پھر سب کو اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر زندگی میں کئے ہوئے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ چناچہ جب صور پھونکا جائے گا تو کائنات کی ابتداء سے انتہا تک جتنے بھی لوگ ہوں گے وہ اپنی قبروں سے دفن کی گئی یا جلائی گئی جگہوں سے زندہ ہو کر میدان حشر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–45

قرب قیامت کی پکار۔ (ف 2) اے محبوب اس دن کا حال سنو جس دن پکارنے والا مکان قریب سے پکارے گا اور اس دن ان کفار کو سزاملے گی یعنی بروز قیامت ۔ اکثر مفسرین نے مکان قریب کی تفسیر بیت المقدس کے اس پتھر کی کی ہے جو زمین سے بارہ میل کے قریب اونچا اور آسمان سے اسی قدر قریب ہے ان کا قول ہے کہ اس پتھر پر کھرے ہوکر حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صور پھونکیں گے، سب مردوں کو آوازیں دے کہ اے گلی ہوئی ہڈیو ! بکھرے ہوئے جورو، ریزہ ریزہ شدہ گوشتو ! پراگندہ بالو ! اللہ تعالیٰ تمہیں فیصلہ کے لیے جمع ہونے کا حکم دیتا ہے۔ آگے فرمایا کہ حشر کی جن باتوں کو آج یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں صور کی آواز سنتے ہی ان باتوں کا برحق…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 42–44

[17] مراد صور کا نفخ ثانی ہے جس کی آواز سے لوگ قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–45

ف 2: وما مسنا من لغوب ہے مراد یہ ہے کہ موسیٰ کی کتاب تکوین میں جو لکھا ہے ۔ کہ ساتویں دن خدا نے آرام کیا ۔ یہ تعریف انسانی ہے ۔ اللہ نے اس دنیائے حقیر کو پیدا کرکے بالکل تکان محسوس نہیں کی ۔ کیونکہ وہاں تھک جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہاں تو صرف اعادہ کی ضرورت ہے ۔ اور پھر آپ سے آپ کائنات منصف مشہود پر جلوہ گر ہوجاتی ہے ۔ حل لغات :۔ لغوب ۔ تکان ۔ تھکاوٹ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(44) اس دن زمین مردوں پر سے کھل جائے گی اور وہ اس سے نکل کر دوڑتے ہوں گے یہ زندہ کرکے جمع کرلینا ہم پر بہت آسان ہے۔ یعنی دنیا میں بھی ہم ہی زندگی دینے والے ہیں اور ہم ہی موت دینے والے ہیں اور سب کی بازگشت بھی ہماری ہی طرف ہے۔ وہ دن ایسا ہوگا کہ اس دن زمین پھٹ جائے گی اور کھل جائے گی اور زمین سے مردے نکل کر دوڑنے لگیں گے یہی حشر ہے جو ہم پر بہت آسان ہے یعنی یہ سب کو زمین سے نکال کر جمع کرلینا ہم پر کچھ مشکل نہیں۔ کہتے ہیں زمین پر کوئی خاص قسم کا مینہ برسے گا جس کا اثر یہ ہوگا کہ مردے جگہ جگہ سے نکلنے شروع ہوجائینگے اور زندہ ہو کردوڑنے لگیں گے یہ ہر برسات میں مشاہدہ ہوتا ہے کہ پہلی بارش میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 41–45

ف 5۔ پاس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آواز سب کو بےتکلف پہنچے گی اور جیسے اکثر دور کی آواز کسی کو پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زمین پھٹ جائے اور لوگ دوڑ کر نکل پڑیں گے اور اسی طرح اکٹھے کرلیے جائیں گے 44 ۔ یہ گویا نفخ صور کی حمایت ہے کہ جس دن وہ چیخ سنائی دے گی تو پہلی چیخ سے تو زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا اور ہر طرف موت ہی موت ہوگی اور ہر ذی روح موت کی آغوش میں ہوگا خواہ وہ کوئی ہے ، کون ہے اور کیا ہے ؟ پھر زمین کو پھٹنے کا حکم ملے گا اور اس طرح اس کے پھٹتے ہی ہر طرف سے لوگ دوڑ پڑیں گے اور اتنا جلدی دوڑیں گے کہ کسی کو کچھ سمجھ ہی نہ آئے گی کہ وہ کہاں سے نکل آیا اور کیسے نکل آیا گویا وہ انسان نہیں بلکہ ایک ٹڈی دل ہے اور یہ کام کہتے اور دیکھتے یا سنتے تو اتنی دیر نہیں لگ رہی ہے لیکن اس کے ہوتے کچھ دیر لگے گی کہ (کن) ہوتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْ‌ضُ عَنْهُمْ سِرَ‌اعًا (...on the Day when the earth will burst apart exposing them, while they will be hurrying up. - 50:44). The Prophetic Tradition indicates that this 'hurrying up' will be towards Syria where the Dome of the Rock is situated. Israfil (علیہ السلام) will stand on it, and call the people on the Day of Judgment. It is recorded in Jami` Tirmidhi, on the authority of Sayyidna Mu` awiyah Ibn Hayadah ؓ ، that the Holy Prophet ﷺ ، pointing towards Syria, said: مِن ھٰھُنَا اِلیٰ ھٰھُنَا تُحشَرُونَ رُکبَاناً وَّ مُشَاۃً وَّ تُجَرُّونَ علیٰ وُجُھِکُم یَومَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

54 This is the answer to the saying of the disbelievers that has been reproduced in verse 3 above. They said: "How can it be that when we arc dead and become dust, we shall be raised back to life once again 7 This resurrection is far removed from reason. " In reply it has been said: "This gathering together, i. e. , raising back to life and gathering alI the people of the former and latter times together, is very easy for Us. It is not at all difficult for Us to know as to where the dust of one particular person lies and where of the other. We shall also face no dificulty in knowing as to…

Read the full tafseer →