Qaaf 50:45

Qaaf · from ayah 45

50:45

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَمَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ ۫— فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ ۟۠نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ‌ۖ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَـبَّارٍ‌ۖ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ

یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور تم ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ پس جو ہمارے (عذاب کی) وعید سے ڈرے اس کو قرآن سے نصیحت کرتے رہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

We are most knowing of what they say, and you are not over them a tyrant. But remind by the Qur'an whoever fears My threat.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juzع

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:45

اے نبیؐ، جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں، اور تمہارا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے بس تم اِس قرآن کے ذریعہ سے ہر اُس شخص کو نصیحت کر دو جو میری تنبیہ سے ڈرے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور تم ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ پس جو ہمارے (عذاب کی) وعید سے ڈرے اس کو قرآن سے نصیحت کرتے رہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہم بخوبی جانتے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں، تو آپ قرآن کے ذریعے انہیں سمجھاتے رہیں جو میرے وعید (ڈرانے کے وعدوں) سے ڈرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور (اے پیغمبر) تم ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ لہذا قرآن کے ذریعے ہر اس شخص کو نصیحت کرتے رہو جو میری وعید سے ڈرتا ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم خوب جان رہے ہیں جو وہ کہہ رہے ہیں اور کچھ تم ان پر جبر کرنے والے نہیں تو قرآن سے نصیحت کرو اسے جو میری دھمکی سے ڈرے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہتے ہیں اور آپ اُن پر جبر کرنے والے نہیں ہیں، پس قرآن کے ذریعے اس شخص کو نصیحت فرمائیے جو میرے وعدۂ عذاب سے ڈرتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہم اسے زیادہ جاننے والے ہیں جو یہ کہتے ہیں اور تو ان پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں، سو قرآن کے ساتھ اس شخص کو نصیحت کر جو میرے عذاب کے وعدے سے ڈرتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں۔ آپ ان پر جبر تو کر نہیں سکتے لہذا اس قرآن کے ذریعہ ہر اس شخص کو نصیحت کیجئے جو میرے وعدہ عذاب سے ڈرتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اور تم ان پر کوئی داروغہ مقرر نہیں ہو۔ پس اس قرآن کے ذریعے سے ان لوگوں کو یاد دہانی کر دو جو میرے وعید سے ڈرتے ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہم خوب جانتے ہیں ان تمام باتوں کو جو یہ لوگ بنا رہے ہیں (حق اور اہل حق کے خلاف) اور آپ ﷺ ان پر کوئی جبر کرنے والے نہیں ہیں پس آپ نصیحت (و یاددہانی) کرتے رہیں اس قرآن کے ذریعے ہر اس شخص کو جو ڈرتا ہو میری وعید (اور پکڑ) سے

— مولانا اسحاق مدنی

ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے (بنا کر) نہیں (بھیجے گئے) ہیں سو آپ قرآن کے ذریعہ سے نصیحت کرتے رہئے اسے جو میری وعید سے ڈرتا ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں اور آپ ان پر کوئی زبردستی کرنے والے نہیں ہیں۔ پس آپ تذکیر کرتے رہیے اس قرآن کے ذریعے سے ہر اس شخص کو جو میری وعید سے ڈرتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور آپ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو، پس جو ہمارے عذاب کی خبر سے ڈرے اس کو قرآن سے نصیحت کرتے رہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), We are well aware of what they say; and you are not required to force things on them. So exhort with the Qur'an all those who fear My warning.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We know well what they say, and you are not (sent) as one who compels them. So exhort, through the Qur‘an, the one who fears My warning.

— Muhammad Taqi Usmani

We know well what they say, and you are not (sent) as one who compels them. So exhort, through the Qur‘an, the one who fears My warning.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

We know best what they say. And you are not the one to force them. But warn by the Qur'an; him who fears My threat.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We are Best Aware of what they say, and thou (O Muhammad) art in no wise a compeller over them. But warn by the Qur'an him who feareth My threat.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We are most knowing of what they say, and you are not over them a tyrant. But remind by the Qur'an whoever fears My threat.

— Saheeh International

We know best what they say and you cannot compel them. Remind, by way of the Quran, those who have fear of My warnings.

— Muhammad Sarwar

We know best what they say, and you are not one to compel them; therefore remind him by means of the Quran who fears My threat.

— Muhammad Habib Shakir

We are the best Knower of that which they say, and thou art not over them over them tyrant. Wherefore admonish thou by the Qur'an him who feareth My threat.

— Abdul Majid Daryabadi

We know best what they say; and thou art not one to overawe them by force. So admonish with the Qur'an such as fear My Warning!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–45

جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیو اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ اللہ تمہیں جمع ہوجانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہوگا ابتداءً ًیہ پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹا لانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پالے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 55 اس فقرے میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے اور کفار کے لیے دھمکی بھی۔ حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ تم پر جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں ان کی قطعاً پروانہ کرو، ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ان سے نمٹنا ہمارا کام ہے۔ کفار کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ ہمارے نبی پر جو فقرے تم کس رہے ہو وہ تمہیں بہت مہنگے پڑیں گے۔ ہم خود ایک ایک بات سن رہے ہیں اور اس کا خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑے گا۔ سورة قٓ 56 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نبی ﷺ جبراً لوگوں سے اپنی بات منوانا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا۔ بلکہ در اصل یہ بات حضور ﷺ کو مخاطب کر کے کفار کو سنائی جا رہی ہے۔ گویا ان سے یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) فَذَكِّرْ بالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ (یعنی آپ تذکیر و نصیحت فرمایئے قرآن سے اس شخص کو جو میری وعید سے ڈرتا ہے) مطلب یہ ہے کہ آپ کی تبلیغ اور وعظ و نصیحت اگرچہ عام ہی ہوگی سبہی مخلوق اس کی مخاطب اور مکلف ہوگی، مگر اس کا اثر قبول وہی کرے گا جو اللہ کے عذاب اور وعید سے ڈرتا ہے۔ حضرت قتادہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا مانگتے تھے اللھم اجعلنا ممن یخاف و عیدک ویرجوا موعودک یا بار یا رحیم ”یعنی یا اللہ ہمیں ان لوگوں میں داخل فرما دیئے جو آپ کی وعید عذاب سے ڈرتے ہیں اور آپ کے وعدے کے امیدوار ہیں، اے وعدہ پورے کرنے والے اے رحمت والے“ تمت سورة ق بعون اللہ سبحانہ فی ستة ایام من ثانی عشر ربیع…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نحن اعلم بما یقولون ومآ انت علیھم بجار فذکریا لقرانن یخاف وعید 45 اوپر آیت 39 میں فرمایا تھا واصبر علی مایقولون پس جو کچھ یہ کہتے ہیں اس کو ہم خوب جانت یہیں مطلب یہ ہے کہ جب ہم خوب جانت یہیں تو تم کیوں غم کرو۔ معاملہ ہمارے اوپر چھوڑ۔ ہم اس کا مداوا کریں گے۔ تم صبر کے ساتھ اپنا کام کئے جائو۔ وما انت علیھم بجبار اور یہ بات بھی اید رکھو کہ تم ان کو مومن بنا دینے کے کام پر مامور کر کے نہیں بھیجے گئے ہو کہ یہ ایمان نہ لائے تو اس کی پرسش تم سے ہو۔ تمہارا کام صرف لوگوں کو یاد دہانی کرنا ہے، وہ تم کرتے رہو۔ اگر یہ ایمان نہ لائے تو اس کا انجام یہ خود بھگتیں گے۔ جس مضمون کے سورة کا آغاز ہوا اسی پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

45۔ 1 یعنی آپ ﷺ اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ایمان لانے پر مجبور کریں بلکہ آپ ﷺ کا کام صرف تبلیغ و دعوت ہے، وہ کرتے رہیں۔ 45۔ 2 یعنی آپ ﷺ کی دعوت ذکر سے وہی نصیحت حاصل کرے گا جو اللہ سے اور اس کی سزا کی دھمکیوں سے ڈرتا اور اس کے وعدوں پر یقین رکھتا ہوگا اسی لئے حضرت قتادہ یہ دعا فرماتے ' اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے کر جو تیری وعیدوں سے ڈرتے اور تیرے وعدوں کی امید رکھتے ہیں۔ اے احسان کرنے والے رحم فرمانے والے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 43–45

20: حضور اقدس ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو زبردستی ایمان لانے پر مجبور کریں۔ آپ کا فریضہ صرف یہ ہے کہ نصیحت کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہیں۔ جس کے دل میں کچھ خدا کا خوف ہوگا، وہ آپ کی بات مان لے گا، اور جو نہ مانے، اس کی کوئی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اسی منظر کے زیر سایہ حضرت نبی ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ ثابت قدمی سے اپنے کام کو جاری رکھیں۔ ان کے جدال اور جھگڑوں ، ہٹ دھرمی اور جھٹلانے کی پرواہ نہ کریں۔ جو حقیقت ان کے سامنے پیش کی جارہی ہے ، وہ واضح ہے اور اگر چشم بصیرت ہو تو دیکھی جاسکتی ہے۔ نحن اعلم بما ۔۔۔۔۔۔۔۔ یخاف وعید (50 : 45) ” اے نبی ﷺ جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں ، اور تمہارا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے۔ بس تم اس قرآن کے ذریعہ سے ہر اس شخص کو نصیحت کردو جو میری تنبیہہ سے ڈرے “۔ جو باتیں یہ بنا رہے ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں اور تمہاری تسلی کے لئے بس یہی کافی ہے کہ ہم جانتے ہیں اور ہمارے جاننے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی جو لوگ حشر کا انکار کرتے اور واہی تباہی کلمات بکتے ہیں بکنے دو ۔ اور ان کا معاملہ ہمارے سپرد کرو۔ ہم کو سب معلوم ہے جو کچھ وہ کہتے ہیں۔ آپ کا یہ منصب نہیں کہ زور زبردستی سے ہر ایک کو یہ باتیں منوا کر چھوڑیں۔ ہاں قرآن سنا سنا کر بالخصوص ان کو نصیحت اور فہمائش کرتے رہیے جو اللہ کے ڈرانے سے ڈرتے ہیں۔ ان معاندین کے پیچھے زیادہ نہ پڑیے۔ تم سورة ق والحمدللّٰہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 45{ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَـقُوْلُوْنَ } ”اے نبی ﷺ ! ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں“ { وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِجَبَّارٍقف } ”اور آپ ان پر کوئی زبردستی کرنے والے نہیں ہیں۔“ آپ کا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے۔ ہم نے آپ ﷺ کو اس اختیار کے ساتھ نہیں بھیجا کہ آپ ﷺ انہیں زبردستی حق کی طرف لے آئیں۔ { فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۔ } ”پس آپ تذکیر کرتے رہیے اس قرآن کے ذریعے سے ہر اس شخص کو جو میری وعید سے ڈرتا ہے۔“ جس شخص کی روح مردہ نہ ہوچکی ہوگی اور اس میں تھوڑی سی بھی جان ہوگی اور جس کے اندر اخلاقی حس دم نہ توڑ چکی ہوگی اور بھلائی کی معمولی سی رمق بھی باقی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

52 اس جملہ میں آپ کے لئے تسلی بھی ہے اور کفار مکہ کے لئے وعید اور دھمکی بھی۔ 53 یعنی آپ کی یہ ذمہ داری نہیں کہ زور اور زبردستی سے کسی کو ایمان لانے پر مجبور کردیں۔ آپ کا کام اتنا ہی ہے کہ لوگوں کو یہ قرآن سنا سنا کر نصیحت کیا کیجئے پھر جس کے دل میں ذرا بھی اللہ کا خوف ہوگا وہ تو یقیناً اس نصیحت کو قبول کرلے گا اور جو لوگ قرآن سننا بھی گوارا نہ کریں تو ان کا معاملہ اللہ کے سپرد اور آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 44–45

33۔ یعنی تذکیر نافع صرف اسی کو ہوگی، باقی سب کو ہدایت پر لے آنا آپ کے اختیار میں نہیں۔ سو اختیار سے باہر چیز کا غم نہ کیجئے (آیت) ” نحن اعلم بما یقولون “۔ یعنی انکار قیامت سے متعلق یہ لوگ جو کچھ بکتے رہتے ہیں۔ وہ سب ہم پر خوب روشن ہے اور ہم ہی انہیں پوری سزا دینے کے لیے بھی کافی ہیں۔ (آیت) ” وما انت علیھم بجبار “۔ یعنی آپ تو صرف مبلغ، معلم، منذر کی حیثیت رکھتے ہیں، نتائج کی ذمہ داری آپ پر ذرا بھی نہیں۔ (آیت) ’ ’ فذکر ..... وعید “۔ قرآن مجید کے مضامین سے وعظ وتذکیر کے مخاطب سب ہی ہیں۔ البتہ اس سے نفع یاب وہی ہوں گے جن کے دلوں میں پہلے سے خوف خدا موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–45

یوم تشقق الارض عنھم سراعاً یعنی جب زمین پھٹ کر سب مردے زمین سے نکل آئیں گے تو سب لوگ اس آواز دینے والے کی طرف دوڑیں گے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا، جب زمین پھٹے گی تو سب سے پہلے نکلنے والا میں ہوں گا انا اول من تنشق عنہ الارض (صحیح مسلم کتاب الفضائل) جامع ترمذی میں حضرت معاویہ بن حیدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسوال اللہ ﷺ نے دست مبارک سے ملک شام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ من ھھنا الی ھھنا تحشرون رکبانا ومشاۃ وتجرون علی وجوھکم یوم القیامۃ (الحدیث) یہاں سے اس طرف (یعنی شام کی طرف) تم سب اٹھائے جائو گے کچھ لوگ سوار اور کچھ پیدل اور بعض کو چہروں کے بل گھسیٹ کر قیامت کے روز اس میدان میں لایا جائے گا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں ہم خوب جانتے ہیں اور آپ ‍ ﷺ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں آپ ﷺ قرآن کے ذریعے ایسے شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی دھمکی سے ڈرتا ہو۔ بِمَا یَقُوْلُوْنَ یعنی کفار مکہ جو کچھ کہتے ہیں اور آپ کی تکذیب کرتے ہیں ہم اس سے بخوبی واقف ہیں۔ اس جملے میں رسول اللہ ﷺ کے لیے پیام تسلی اور کافروں کے لیے تہدید عذاب ہے۔ وَمَآ اَنْتَ..... یعنی آپ ﷺ کو صرف نصیحت کرنے اور اسلام کی دعوت دینے کے لیے بھیجا گیا ہے ‘ زبردستی مسلمان بنانے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے۔ فَذَکِّرْ بالْقُرْاٰنِ.... عمرو بن قیس ملائی کی وساطت سے ابن جریر نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جو کچھ یہ لوگ حیات بعد الموت کے بارے میں یا یہ کہ دنیا میں کرتے ہیں ہم اس کو خوب جانتے ہیں اور آپ ان پر ایمان لانے پر جبر کرنے والے نہیں بھیجے گئے اب اس کے بعد کفار سے قتال کا حکم دیا ہے کہ آپ قرآن کریم کے ذریعے سے ایسے شخص کو جو میری وعید سے ڈرتا ہو اور جو نہ ڈرتا ہو نصیحت کرتے رہیے کیونکہ آپ کی نصیحت ایسا ہی شخص قبول کرے گا جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو۔ شان نزول : فَذَكِّرْ بالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ (الخ) اور ابن جریر نے عمرو بن قیس کے واسطہ سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ کچھ ہمیں آخرت سے ڈراتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی نیز عمرو سے مرسلا اسی طرح روایت…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) نحن اعلم بما یقولون : یہ جملہ کافر کے لئے وعید اور دھمکی ہے اور رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی و تشفی کا باعث ہے۔ (2) وما انت علیھم بجبار : یعنی آپ کا کام یہ نہیں کہ انہیں زبردستی مسلمان بنالیں، آپ کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے۔ جیسا کہ فرمایا :(انما انت مذکر، لست علیھم بمصیطر) (الغاشیۃ : 21، 22)”تو صرف نصیحت کرنے والا ہے۔ تو ہرگز ان پر کوئی مسلط کیا ہوا نہیں ہے۔“ (3) فذکر بالقرآن من یخاف وعید :”وعید“ اصلمیں ”وعیدی“ ہے، میری وعید۔ اس کا مططل یہ نہیں کہ آپ دوسروں کو صنیحت نہ کریں، بلکہ مطلب یہ ہے ہ آپ کی نصیحت سے فائدہ وہی اٹھائے گا جو میری وعید سے ڈرتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(انما تنذر الذین یخشون…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–45

واستمع یوم ینا دالمناد من مکان قریب۔ ، استمع کا مفعول محذوف ہے مراد ہے ندا اور آواز کو سنو یا صیحہ کو سنو۔ اس سے مراد صیحہ قیامت ہے اور وہ نفحہ ثانیہ ہے ندا کرنے والے جبریل امین ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حضرت اسرافیل ہیں۔ زمحشری نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے حضرت اسرافیل صور پھونکیں گے اور حضرت جبریل امین منادی کریں گے، وہ حشر بپاہ ہونے کا اعلان کریں گے، وہ کہیں گے : حساب کے لئے آئو۔ تعبیر کی بنا پر ندا میدان حشر میں ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : استمع کا مفعول بہ نداء الکفار ہے وہ دیل اور ہلاکت کی ندا کریں گے یعنی قریب سے اس کو ندا کو سنو، یعنی سب اس آواز کو سنیں گے کوئی بھی اس ندا سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–45

19:۔ ابن جریر ـرحمہ اللہ علیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' واستمع یوم یناد المناد '' (اور سن رکھو کہ جس روز ایک پکارنے والا پاس کے مقام سے پکارے گا یعنی وہ چیخ ہوگی۔ 20:۔ ابن عساکر (رح) والواسطی فی فضائل بیت المقدس یزید بن جابر (رح) سے (آیت ) '' واستمع یوم یناد المناد من مکان قریب '' کے بارے میں روایت کیا کہ اس اسرافیل (علیہ السلام) بیت القدس کی چٹان پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیوپھٹے ہوئے بکھرے ہوئے جسمو، اے کٹے ہوئے بالو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم کو حکم فرماتے ہیں کہ حساب کے فیصلے کے لئے اکٹھے ہوجاؤ۔ 21:۔ ابن جریر (رح) نے کعب ؓ سے (آیت ) '' واستمع یوم یناد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

نَحْنُ اَعْلَمُ [ ہم سب سے زیادہ جاننے والے ہیں ] بِمَا [ اس (بکواس ) کو جو ] يَقُوْلُوْنَ [ یہ لوگ (قیامت کے بارے میں) کہتے ہیں ] وَمَآ اَنْتَ [ اور آپ نہیں ہیں (بات منوانے کے لیے ) ] عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ ۣ [ ان پر جبر کرنے والے ] فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ [ تو آپ یاد دہانی کراتے رہیں قرآن کے ذریعہ ] مَنْ يَّخَافُ [ اس کو جو ڈرتا ہے ] وَعِيْدِ [ میری دھمکی سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–45

﴿يَّوْمَ يَسْمَعُوْنَ الصَّيْحَةَ بالْحَقِّ ﴾ (جس دن حق کے ساتھ چیخ کو سنیں گے) اس سے نفخہء ثانیہ مراد ہے اور بالحق فرما کر یہ بتادیا کہ اس چیخ کو یقین کے ساتھ سنیں گے جس میں کوئی شک و شبہ کی بات نہ ہوگی۔ یہ جو دنیا میں کسی کو آواز پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا۔ ﴿ذٰلِكَ يَوْمُ الْخُرُوْجِ 0042﴾ (یہ قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا) ﴿ اِنَّا نَحْنُ نُحْيٖ وَ نُمِيْتُ ﴾ (بےشک ہم زندہ کرتے ہیں اور ہم موت دیتے ہیں) ﴿ وَ اِلَيْنَا الْمَصِيْرُۙ0043﴾ (اور ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے) کہیں کسی کو بھاگ جانے اور جان بچانے کا موقعہ نہیں ملے گا۔ ﴿ يَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا 1ؕ﴾ (جس روز…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–45

شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

25:۔ ” نحن اعلم۔ الایۃ “ یہ بھی آنحضرت ﷺ کیلئے تسلی ہے۔ معاندین کی باتوں سے ہم بخوبی آگاہ ہیں ان کی طرف سے توحید و رسالت اور بعث و نشور کا انکار ہم سے پوشیدہ نہیں، اس کی سزا دینا ہمارا کام ہے اور آپ ان پر جبر کر کے تو ان کو منوا نہیں سکتے کیونکہ آپ جبار نہیں ہیں، بلکہ مبلغ و ناصح ہیں اس لیے جو لوگ ہمارے عذاب سے ڈرتے ہیں یعنی مومنین آپ ان کو قرآن سناتے رہیں اور پند و نصیحت فرماتے رہیں۔ معاندین نہیں مانیں گے، تو ایمان والوں کو تو اس سے ضرور فائدہ پہنچے گا۔ ” فذکر فان الذکری تنفع المومنین “ قرآن جو جلال و عظمت اور شوکت وہیبت سے لبریز اللہ کا کلام ہے اور توحید و رسالت اور حشر و نشر پر شاہد ہے آپ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 39–45

ربط آیات اللہ نے اس سورة مبارکہ میں وقوع قیامت کے بعض دلائل بیان کیے اور اس کے منکرین کا رد کیا ۔ پھر قیامت کی مختلف کیفیات اور مجرموں کا انجام ذکر کیا ۔ بعض سابقہ اقوام کی نافرمانی اور ان کی ہلاکت کا تذکر ہ کیا ۔ پھر ارض و سماء کی تخلیق اور خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ اور اس کی بےنیازی کا بیان ہوا ۔ اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون ذکر کیا ہے۔ کفار و مشرکین اہل ایمان پر طرح طرح کے الزامات لگاتے تھے اور ان کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے ۔ مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی تکالیف پہنچاتے تھے اس کے علاوہ یہود و نصاریٰ اور منافقین کی ریشہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْہِمْ بِجَبَّارٍ۝ 0 ۣ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ۝ 45 ۧ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ جبر أصل الجَبْر : إصلاح الشیء بضرب من القهر، والجبّار في صفة الإنسان يقال لمن يجبر نقیصته بادّعاء منزلة من التعالي لا يستحقها، وهذا لا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–45

ترکیب : من لغوب من زائدۃ لغوب تعب و اعیاء یقال لعب یلعب بالضم لغوباً من اللیل ای بعض اللیل فانہ مفعول لفعل مضمر معطوف علی سبح بحمد ربک یفسرہ فسبحہ و من للتبعیض۔ ادبارالسجودای سبحہ اعقاب اصلوٰۃ قرء الجمہور بفتح الھمزۃ جمع و بردقری بکسرھا علی المصدر من ادبرالشیء ادبارا۔ فھی ظرف لسبحہ۔ یوم یسمعون بدل من یوم ینادی یوم تشقق ظرف للضمیر او بدل من یوم الاول سراعا حال ای یخرجون مسرعین۔ واستمع ابرم نادی المناد فیہ ثلاثہ بوجہ اھما ان تبرک مفعولہ راسا وکیون المقصود کن سمنعاً ثانیھا استمع لما یوحی الیک وثالثھا استمع لکسناوی فعلی الاول العامل فی یوم ما یدل علیہ قولہ یوم الخر فی تقدیرہ یخرجون یوم ینادی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِجَبَّارٍ قف فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ ۔ (قٓ: 45) (اے پیغمبر ! ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں، ہم نے آپ کو ان پر جبار نہیں بنایا، پس آپ اس قرآن کے ذریعے سے ہر اس شخص کو نصیحت کریں جو میری بعید سے ڈرتا ہو۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اور کفار کو دھمکی اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ کفار کے لیے دھمکی بھی ہے۔ آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ یہ جو کچھ آپ کی دعوت کے سلسلے میں یا وہ گوئی کرتے اور جس طرح ہر بات میں آپ کا مذاق اڑاتے اور آپ پر الزامات کے طوفان باندھتے ہیں ان میں سے کوئی بات ہم سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جس رب کے لیے لوگوں کو زندہ کرنا اور محشر کے دن اکٹھا کرنا مشکل نہیں اس کے لیے لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرنا بھی مشکل نہیں لیکن وہ اپنی حکمت کے تحت لوگوں کو مہلت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سینکڑوں دلائل اور کئی انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مشاہدے کروا کر ثابت کیا ہے کہ قیامت کے دن ہر صورت مردوں کو زندہ کیا جائے گا اور قیامت برپا ہو کر رہے گی۔ اس کے باوجود اہل مکہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ اس کا مذاق بھی اڑاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک طرف نبی ﷺ کو تسلی دی ہے اور دوسری طرف کفار کو تنبیہ کی ہے کہ جو تم ہرزہ سرائی کرتے ہو اس کا ایک ایک لفظ ہمارے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آپ مدعی ہیں نصیحت کرتے جائیں : آیت 45 : نَحنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ (جو جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں) ۔ آپ کے اور ہمارے متعلق ہم وہ خوب جانتے ہیں اس میں کفار مکہ کو ڈرایا گیا۔ اور رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ وَمَآ اَنْتَ عَلَیہِمْ بِجَبَّارٍ (آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں) یہ اسی طرح ہے جیسا فرمایا۔ لست علیہم بمصیطر ] الغاشیہ : 22[ یعنی آپ ان پر مسلط نہیں۔ آپ تو داعی ہیں۔ اور ان کو آمادہ کرنے والے ہیں۔ ایک قول یہ ہے : یہ جبرہ علی الامر سے لیا گیا ہے۔ اس کا معنی اجبرہ ہے مطلب یہ ہے۔ آپ ان پر والی نہیں کہ ایمان پر جبر کر کے آمادہ کریں۔ فَذَکِّرْ بِالْقُرْٰانِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ (تو آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 44–45

42-43…” انا نحن نحی ونمیت والینا المصیر یوم تشقق الارض عنھم سراعا “ سریع کی جمع یعنی وہ جلدی سے نکلیں گے۔ ” ذلک حشر علینا “ یہ جمع کرنا ہم پر ” یسیر “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

45۔ شریعت میں جن باتوں کے کرنے کا حکم ہے ان باتو کو معروف کہتے ہیں اور جن باتوں کی شریعت میں ممانعت ہے ان باتوں کو منکر کہتے ہیں صاحب شریعت انبیاء کا یہی کام ہے کہ وہ شریعت کی معروف باتوں کے کرنے اور منکر باتوں سے بچنے کو امت کے لوگوں میں پھیلاتے ہیں اور شریعت میں اللہ کی مرضی اور نامرضی کی جو باتیں ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ظاہر فرما دی ہیں۔ اسی واسطے فرمایا کہ جن لوگوں کے دل میں حشر اور اللہ کے سامنے کھڑے ہونے اور عقبیٰ کی باتوں کا خوف ہے اے رسول اللہ کے ایسے لوگوں کو قرآن کی آیتوں کے مضمون کے موافق نصیحت کر دینی چاہئے تاکہ تم کو نصیحت کرنے کا اور امت کے جو لوگ نصحیت مانیں ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–45

(واستمع) اپنے دل کے ساتھ پکارنے والے کو پکار کو غور سے سن اور اس سے مراد حضرت اسرافیل ( علیہ السلام) ہیں، یعنی جب اسرافیل ( علیہ السلام) صور میں پھونکیں گے (من مکان قریب) ” نزدیک کی جگہ سے۔ “ یعنی کسی ایسی جگہ سے جو مخلوق کے قریب ہے۔ (یوم یسمعون الصیحۃ) جس روز تمام خلائق ہول ناک اور خوف ناک چیخ کی آواز سیں گے (بالحق) جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ (ذلک یوم الخروج) وہ قبروں سے نکلنے کا دن ہوتا۔ اس روز اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر قادر ہوگا، اسی لئے فرمایا : (انا نحن نحی ونمیت والینا المصیر۔ یوم تشقق الارض عنھم) ” بےشکم ہم ہی تو زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے۔ جس روز ان سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 40–45

نماز مغرب وعشاء کی تاکید نیز تہجد سے کیا مراد ہے قول باری ہے (ومن اللیل فسبحہ۔ اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے) مجاہد کا قول ہے اس سے صلوٰۃ اللیل یعنی تہجد کی نماز مراد ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سے مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد لینا بھی جائز ہے۔ نمازوں کے بعد تسبیحات قول باری ہے (وادبار السجود۔ اور نمازوں کے بعد بھی) حضرت عمر ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حسن بن علی ؓ ، حسن بصری، مجاہد، نخعی اور شعبی نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مغرب کی نماز کے بعد دو رکعتیں اور (وادبار النجوم اور ستاروں سے پیچھے بھی) سے فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں مراد ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 65] پیغمبر (علیہ السلام) کے لئے تسلی و تسکین کے سامان کا ذکر و بیان سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم بخوبی جانتے ہیں ان سب باتوں کو جو یہ لوگ بناتے ہیں۔ یعنی حق اور اہل حق کے خلاف۔ اور اسی کے مطابق ہم ہر ایک کے ساتھ ٹھیک ٹھیک وہی معاملہ کریں گے جس کا وہ مستحق ہوگا، اس لئے یہ لوگ اپنے کیے کرائے کی سزا سے بچ سکیں گے۔ اور آپ کو اجر وثواب بڑھتا ہی چلا جائے گا سو اس میں ایک طرف تو ان کفار و مشرکین کیلئے وعید شدید ہے، جو حق کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں، اور دوسری طرف اس میں آنحضرت ﷺ کیلئے سامان تسلی و تسکین بھی کہ تبلیغ حق کے اس کام میں ان لوگوں کی رخنہ اندازیاں اور ایذاء رسانیاں ہم سے مخفی نہیں ہیں، اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 37–45

سمجھنے والے اللہ کی قدرت کو دیکھتے ہیں تشریح : سب سے پہلے تو اس بات پر توجہ دلائی گئیـ ہے کہ قرآن کو سمجھنا اور اللہ کا ادراک یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جو اس طرف رجحان رکھتے ہیں۔ جن کی طبیعت میں پاکی اور روحانیت کا کچھ حصہ موجود ہوتا ہے۔ وہ قرآن کے مضامین سے ہدایت حاصل کرلیتے ہیں اس سے اللہ کی طرف سے اعجاز سمجھتے ہیں ان کو اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت دکھائی دیتی ہے وہ اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے اس کی تمام صفات کو پہچان لیتے ہیں۔ اس کی وحدانیت، خلاقی، عظمت، حسن و خوبی، قدرت اور لافانیت۔ سب کچھ ان کو خود اپنے جسموں کی بناوٹ میں آسمانوں، زمین، پھول، پھل رات دن، ہوا اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–45

آیات 30 تا 45۔ دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اواب اور حفیظ ۔ اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 42–45

ف 1 مراد یہ ہے کہ نبی ﷺ کو جھٹلانا اور آخرت اور توحید وغیرہ سے انکار کرنا۔ 2 یعنی آپ کا کام انہیں زبردستی مسلمان بنا لینا نہیں ہے۔ آپ کے ذمہصرف ان تک ہمارا پیغام پہنچا دینا ہے۔ اس کے بعد یہ مانیں تو اپنا بھلا کریں گے اور نہیں مانیں گیتو اپنی شامت خود بلائیں گے …اس آیت سے مقصود ایکطرف آنحضرت کو تشقی دینا ہے اور دوسری طرف کافروں کو وعید سنانا ہے۔ 3 باقی رہے وہ لوگ جن کے دلوں میں ڈر نہیں ہے تو ان کے سمجھانے میں وقت لگانا بیکار ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:45) اعلم خوب جاننے والا۔ علم نے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ جبار۔ سرکش، جبر کرنے والا۔ زبردست دباؤ والا۔ جبر سے مبالغہ کا صیغہ خدا تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ ما انت علیہم بجبار۔ آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں۔ فذکر : امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تذکیر (تفعیل) مصدر۔ تو یاد لا۔ تو سمجھا ۔ تو نصیحت کر۔ بالقران قرآن کے ذریعے سے۔ من یخاف وعید : من موصولہ یخاف وعید صلہ۔ موصول اپنے صلہ کے ساتھ مل کر مفعول ذکر کا۔ یخاف مضارع واحد مذکر غائب خوف باب فتح مصدر۔ ڈرتا ہے۔ وعید مصدر، مضاف مجرور۔ اصل میں وعیدی تھا۔ میرا عذاب۔ میری طرف سے ڈراوا۔ ترجمہ :۔ آپ نصیحت کرتے رہئے اس قرآن سے ہر اس شخص کو جو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–45

لغات القرآن آیت نمبر (41 تا 45 ) ۔ المناد (ندا دینے والا ۔ آواز دینے والا ) ۔ تشقق (پھٹ پڑے گی) ۔ جبار (زبردستی کرنے والا) ۔ یخاف وعید (جو میرے ڈرانے سے ڈرتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر (41 تا 45 ) ۔ ” غفلت وکوتاہی کے ساتھ زندگی گذارنے والے قیامت کو دور کی چیز سمجھتے ہ ہیں حالانکہ اہل ایمان اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ دنیا آخر کار ایک دن ختم ہوجائے گی اور پھر سب کو اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر زندگی میں کئے ہوئے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ چناچہ جب صور پھونکا جائے گا تو کائنات کی ابتداء سے انتہا تک جتنے بھی لوگ ہوں گے وہ اپنی قبروں سے دفن کی گئی یا جلائی گئی جگہوں سے زندہ ہو کر میدان حشر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–45

قرب قیامت کی پکار۔ (ف 2) اے محبوب اس دن کا حال سنو جس دن پکارنے والا مکان قریب سے پکارے گا اور اس دن ان کفار کو سزاملے گی یعنی بروز قیامت ۔ اکثر مفسرین نے مکان قریب کی تفسیر بیت المقدس کے اس پتھر کی کی ہے جو زمین سے بارہ میل کے قریب اونچا اور آسمان سے اسی قدر قریب ہے ان کا قول ہے کہ اس پتھر پر کھرے ہوکر حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صور پھونکیں گے، سب مردوں کو آوازیں دے کہ اے گلی ہوئی ہڈیو ! بکھرے ہوئے جورو، ریزہ ریزہ شدہ گوشتو ! پراگندہ بالو ! اللہ تعالیٰ تمہیں فیصلہ کے لیے جمع ہونے کا حکم دیتا ہے۔ آگے فرمایا کہ حشر کی جن باتوں کو آج یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں صور کی آواز سنتے ہی ان باتوں کا برحق…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–45

ف 2: وما مسنا من لغوب ہے مراد یہ ہے کہ موسیٰ کی کتاب تکوین میں جو لکھا ہے ۔ کہ ساتویں دن خدا نے آرام کیا ۔ یہ تعریف انسانی ہے ۔ اللہ نے اس دنیائے حقیر کو پیدا کرکے بالکل تکان محسوس نہیں کی ۔ کیونکہ وہاں تھک جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہاں تو صرف اعادہ کی ضرورت ہے ۔ اور پھر آپ سے آپ کائنات منصف مشہود پر جلوہ گر ہوجاتی ہے ۔ حل لغات :۔ لغوب ۔ تکان ۔ تھکاوٹ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(45) یہ دن حق کے منکرجو کچھ قیامت اور بعث بعدالموت کے متعلق کہتے ہیں وہ سب ہم جانتے ہیں اور آپ ان پر زور اور جبر کرنے والے نہیں ہیں پس آپ اس قرآن کے ذریعہ سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب اور میری سزا کے وعدے سے ڈرتا ہے اور جو میرے ڈر سے ڈرتا ہے - قرآن میں کئی جگہ یہ بات فرمائی ہے کہ آپ ان پر داروغہ یا وکیل بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ یہ منکر عقائد اسلامیہ کے متعلق جو کچھ کہتے ہیں اس سب کا ہم کو علم ہے ۔ آپ کا کام تو یہ ہے کہ آپ قرآن کے ذریعہ تبلیغ وعظ وپند کرتے رہیے آپ ان کو زور زبردستی سے مسلمان نہیں بناسکتے نہ زور زبردستی سے مسلمان بنانا کوئی مفید اور سود مند ہوسکتا ہے بلکہ قرآن کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 41–45

ف 5۔ پاس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آواز سب کو بےتکلف پہنچے گی اور جیسے اکثر دور کی آواز کسی کو پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم ان کی باتوں کو سن رہے ہیں جو وہ کہہ رہے ہیں بس آپ ﷺ ان کو نصیحت کرتے رہیں 45 ۔ جس طرح کی باتیں یہ لوگ کر رہے ہیں ہمارے علم میں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں ہم نے جو مہلت ان کو دے رکھی ہے وہ آہستہ آہستہ کم ہورہی ہے ان کا معاملہ ہمارے ہی سپرد رہنے دیں آپ ﷺ کا اپنا کام تبلیغ کر کرتے جائیں اور صبرو ثبات سے اپنی تعلیم جاری رکھیں اور اچھی طرح یاد رکھیں کہ کسی شخص کو ایمان و ہدایت دینا آپ ﷺ کا کام نہیں جو آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو قبول کرے گا اس کا اپنا فائدہ ہے اور جو قبول نہیں کرے گا اس کا اپنا نقصان ہے آپ ﷺ کو ان پر نگران مقرر نہیں کیا گیا اور کسی کے بارے میں آپ ﷺ سے ہرگز کوئی سوال نہیں کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

فَذَكِّرْ‌ بِالْقُرْ‌آنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ (So give advice, through the Qur'an, to the one who fears My warning... 50:45). This means that the message of the Qur'an is to be conveyed to the entire mankind, to all and sundry. However, only those who fear Allah and dread His torment will remember and heed. Qatadah used to recite this verse and supplicate in the following words: اَللّٰھُمَّ اجعَلنَا مِمَّن یَّخَافُ وَعِیدَکَ وَ یَرجُوا مَوعوُدَکَ یَا بَارُّ یَا رَحِیمُ "0 Allah! Make us among those who fear Your threat, and hope for Your promise, 0 the One who fulfills His promise, 0 Rahim […

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

55 In this sentence there is consolation for the Holy Prophet as well as a threat for the disbelievers. Addressing the Holy Prophet it has been said: "Do not care at aII about what these foolish people utter about you: We are hearing everything and it is for Us to deal with it. " The disbelievers are being warned to the effect: "The taunting remarks that you are passing against Our Prophet, will cost you dearly. We Our self are hearing everything that you utter and you will have to suffer for its consequences." 56 This does not mean that the Holy Prophet wanted to compel the people into…

Read the full tafseer →