Explained with ayahs 41–45
جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے
حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیو اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ اللہ تمہیں جمع ہوجانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہوگا ابتداءً ًیہ پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹا لانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پالے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
سورة قٓ 53
اصل الفاظ ہیں یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَۃَ بالْحَقِّ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ سب لوگ امر حق کی پکار کو سن رہے ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ آواز حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ لوگ اسی امر حق کی پکار کو اپنے کانوں سے سن رہے ہوں گے جس کو دنیا میں وہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے، جس سے انکار کرنے پر انہیں اصرار تھا، اور جس کی خبر دینے والے پیغمبروں کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ وہ یقینی طور پر یہ آوازہ حشر سنیں گے، انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ یہ کوئی وہم نہیں ہے بلکہ واقعی یہ آوازہ حشر ہی ہے، کوئی شبہ انہیں اس امر میں نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
خلاصہ تفسیر
اور (اے مخاطب تو اس اگلی بات کو توجہ سے) سن رکھ کہ جس دن ایک پکارنے والا (فرشتہ یعنی اسرافیل ؑ بذریعہ نفخ صور مردوں کو قبروں سے نکلنے کے لئے) پاس ہی سے پکارے گا (پاس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آواز سب کو بےتکلف پہنچے گی، گویا پاس سے ہی کوئی پکار رہا ہے اور جیسے اکثر دور کی آواز کسی کو پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا) جس روز اس چیخنے کو بالیقین سب سن لیں گے، یہ دن ہوگا (قبروں سے) نکلنے کا ہم ہی (اب بھی) جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری طرف پھر لوٹ کر آنا ہے (اس میں بھی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت کی طرف اشارہ ہے) جس روز زمین ان (مردوں) پر سے کھل جاوے گی جبکہ وہ (نکل…
Read the full tafseer →انا نحن نحی ونمیت و الینا المصیر 43
یہ اس خروج کی دلیل بیان فرما دی کہ ہم ہی زندہ کرتے اور ہم ہی مارتے ہیں اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا، تو ہمارے لئے ان کو دوبارہ زندہ کردینا کیوں مشکل ہوجائے گا ؟ یہ دلیل اوپر وضاحت سے بیان ہوچکی یہ۔
والینا المصیر یہ اسی اوپر والی آیت کا ایک اور واضح نتیجہ سامنے رکھ دیا کہ جب ہم ہی زندگی بخشنے والے اور ہم ہی موت دینے والے ہوئے تو اس سے نہ صرف یہ بات لازم آئی کہ ہم دوبارہ زندہ کردینے پر بھی قادر ہیں بلکہ یہ بات بھی لازم آئی کہ سب کی واپسی بھی ہماری ہی طرف ہوگی۔ اگر کوئی اس مغالطہ میں مبتلا ہے کہ قیامت ہوئی تو رسا کے مزعومہ شرکاء و…
Read the full tafseer →43۔ 1 یعنی دنیا میں موت سے ہمکنار کرنا اور آخرت میں زندہ کردینا، یہ ہمارا ہی کام ہے، اس میں کوئی ہمارا شریک نہیں ہے۔
43۔ 2 وہاں ہم ہر شخص کو اس کے عملوں کے مطابق جزا دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
20: حضور اقدس ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو زبردستی ایمان لانے پر مجبور کریں۔ آپ کا فریضہ صرف یہ ہے کہ نصیحت کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہیں۔ جس کے دل میں کچھ خدا کا خوف ہوگا، وہ آپ کی بات مان لے گا، اور جو نہ مانے، اس کی کوئی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →انا نحن نحی ونمیت والینا المصیر (50 : 43) ” ہم ہی زندگی بخشتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہمارے طرف ہی ان سب کو پلٹنا ہے “۔ اور :
Read the full tafseer →5 یعنی بہرحال موت وحیات سب خدا کے ہاتھ میں ہے اور پھر کر آخرکار اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔ بچ کر کوئی نہیں نکل سکتا۔
Read the full tafseer →آیت 43{ اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَنُمِیْتُ } ”یقینا ہم ہی زندہ رکھتے ہیں اور ہم ہی موت وارد کرتے ہیں۔“
{ وَاِلَـیْنَا الْمَصِیْرُ۔ } ”اور ہماری ہی طرف سب کو پلٹ کر آنا ہے۔“
واضح رہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ اپنی شان جلالت کا زیادہ اظہار کرنا چاہتا ہے وہاں اپنے لیے جمع کا صیغہ پسند فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
49 بالحق کے دو مطلب ہیں ایک تو ترجمہ سے واضح ہے کہ فرشتہ کی اس ندا کو ہر شخص پوری طرح سمجھ رہا ہوگا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس زور دار آواز سے ہی ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ جو کچھ دنیا میں پیغمبر کہتے رہے، اور جنہیں وہ جھٹلاتے رہے تھے وہ ایک ٹھوس اور اٹل حقیقت تھے جو اب ظہور میں آنے لگے ہیں۔
Read the full tafseer →32۔ یہ سب گمراہ وجاہلی قوموں کے عقائد کی تردید اور اس امر کے اثبات میں ہے کہ پیدا کرنے والا، پالنے والا، ہلاک کرنے والا، اور پھر حشر میں فیصلہ صادر کرنے والا وہی ایک اور اکیلا پروردگار ہے، ان سب کے لیے کوئی الگ الگ دیوتا یا خدا موجود نہیں۔ ہندوؤں نے تخلیق کائنات برہماجی کے ذمہ اور ربوبیت وشنوجی کے ذمہ اور اہلاک وافناء شیوجی کے ذمہ ڈالا ہے۔ اور مسیحیوں نے حشر میں فیصلہ مسیح ابن اللہ کے ہاتھ میں رکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
یوم یسمعون الصیحۃ بالحق ذلک یوم الخروج یہ نفحہ ثانیہ کا بیان ہے جس سے دوبارہ عالم کو زندہ کیا جائے گا اور مکان قریب سے مراد یہ ہے کہ اس وقت اس فرشتے کی آواز پاس اور دور کے سب لوگوں کو اس طرح پہنچے گی کہ گویا پاس ہی ہی سے پکار رہا ہے اور بعض حضرات نے مکان قریب سے مراد صخرہ بیت المقدس لیا ہے کیونکہ وہ زمین کا وسط ہے۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →انا نحن نحی و نمیت و الینا المصیر . ہم ہی اب بھی جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہمارے ہی طرف پھر لوٹ کر آنا ہے یعنی آخرت میں ہماری ہی طرف منتقل ہونا ہے۔
یوم تشقق الارض عنھم سراعا ذلک حشر علینا یسر نحن اعلم بما یقولون وما انت علیھم بجبار فذکر بالقران من یخاف وعید . جس روز زمین ان (مُردوں) پر کھل جائے گی ‘ جب کہ وہ
دوڑتے ہوں گے ‘ یہ ہمارے نزدیک ایک آسان جمع کرلینا ہے ‘ جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں ہم خوب جانتے ہیں اور آپ ﷺ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں ‘ آپ ﷺ قرآن کے ذریعہ ایسے شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میری (عذاب کی) دھمکی سے ڈرتا ہو۔
Read the full tafseer →ہم ہی دوبارہ زندہ کریں گے اور ہم ہی دنیا میں مارتے ہیں اور مرنے کے بعد سب کو پھر ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے۔
Read the full tafseer →(انا نحن نحی ونمیت …: یعنی دنیا میں مسلم زندگی اور موت کا سلسلہ صرف ہمارے ہاتھ میں ہے، کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ چناچہ ہم بیشمار لوگوں کو زندگی بخشتے ہیں اور موت دے دیتے ہیں، پھر اور لوگوں کو زندگی عطا کرتے ہیں اور موت بھی دیتے ہیں۔ اسی طرح لاتعداد مخلوقات پیدا ہوتی اور متری چلی جا رہی ہیں اور آخر کار ان سب کو ہماری طرف ہی واپس آنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
واستمع یوم ینا دالمناد من مکان قریب۔ ، استمع کا مفعول محذوف ہے مراد ہے ندا اور آواز کو سنو یا صیحہ کو سنو۔ اس سے مراد صیحہ قیامت ہے اور وہ نفحہ ثانیہ ہے ندا کرنے والے جبریل امین ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حضرت اسرافیل ہیں۔ زمحشری نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے حضرت اسرافیل صور پھونکیں گے اور حضرت جبریل امین منادی کریں گے، وہ حشر بپاہ ہونے کا اعلان کریں گے، وہ کہیں گے : حساب کے لئے آئو۔ تعبیر کی بنا پر ندا میدان حشر میں ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : استمع کا مفعول بہ نداء الکفار ہے وہ دیل اور ہلاکت کی ندا کریں گے یعنی قریب سے اس کو ندا کو سنو، یعنی سب اس آواز کو سنیں گے کوئی بھی اس ندا سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
19:۔ ابن جریر ـرحمہ اللہ علیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' واستمع یوم یناد المناد '' (اور سن رکھو کہ جس روز ایک پکارنے والا پاس کے مقام سے پکارے گا یعنی وہ چیخ ہوگی۔
20:۔ ابن عساکر (رح) والواسطی فی فضائل بیت المقدس یزید بن جابر (رح) سے (آیت ) '' واستمع یوم یناد المناد من مکان قریب '' کے بارے میں روایت کیا کہ اس اسرافیل (علیہ السلام) بیت القدس کی چٹان پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیوپھٹے ہوئے بکھرے ہوئے جسمو، اے کٹے ہوئے بالو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم کو حکم فرماتے ہیں کہ حساب کے فیصلے کے لئے اکٹھے ہوجاؤ۔
21:۔ ابن جریر (رح) نے کعب ؓ سے (آیت ) '' واستمع یوم یناد…
Read the full tafseer →اِنَّا نَحْنُ نُـحْيٖ [ بیشک ہم ہی زندگی دیتے ہیں ] وَنُمِيْتُ [ اور ہم (ہی ) موت دیتے ہیں ] وَاِلَيْنَا الْمَصِيْرُ [ اور ہماری طرف ہی لوٹنا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
﴿يَّوْمَ يَسْمَعُوْنَ الصَّيْحَةَ بالْحَقِّ ﴾ (جس دن حق کے ساتھ چیخ کو سنیں گے) اس سے نفخہء ثانیہ مراد ہے اور بالحق فرما کر یہ بتادیا کہ اس چیخ کو یقین کے ساتھ سنیں گے جس میں کوئی شک و شبہ کی بات نہ ہوگی۔ یہ جو دنیا میں کسی کو آواز پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا۔
﴿ذٰلِكَ يَوْمُ الْخُرُوْجِ 0042﴾ (یہ قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا) ﴿ اِنَّا نَحْنُ نُحْيٖ وَ نُمِيْتُ ﴾ (بےشک ہم زندہ کرتے ہیں اور ہم موت دیتے ہیں) ﴿ وَ اِلَيْنَا الْمَصِيْرُۙ0043﴾ (اور ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے) کہیں کسی کو بھاگ جانے اور جان بچانے کا موقعہ نہیں ملے گا۔ ﴿ يَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا 1ؕ﴾ (جس روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–45
شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ٖ 24:۔ ” انا نحن نحیی “ جس طرح دنیا میں موت وحیات ہمارے اختیار میں تھی اور اس میں کسی دوسرے کا کوئی دخل نہ تھا اسی طرح اب دوبارہ زندہ ہونے کے بعد سب کی پیشی بھی ہمارے ہی آگے ہوگی۔ ” یوم تشقق الخ “ ظرف المصیر کے متعلق ہے یعنی جس دن زمین پھٹ جائیگی اور سب لوگ دوڑ کر قبروں سے نکلیں گے اس دن سب ہمارے ہی سامنے پیش ہوں گے اور یہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا ہمارے لیے ایک آسان بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–45
ربط آیات
اللہ نے اس سورة مبارکہ میں وقوع قیامت کے بعض دلائل بیان کیے اور اس کے منکرین کا رد کیا ۔ پھر قیامت کی مختلف کیفیات اور مجرموں کا انجام ذکر کیا ۔ بعض سابقہ اقوام کی نافرمانی اور ان کی ہلاکت کا تذکر ہ کیا ۔ پھر ارض و سماء کی تخلیق اور خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ اور اس کی بےنیازی کا بیان ہوا ۔ اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون ذکر کیا ہے۔ کفار و مشرکین اہل ایمان پر طرح طرح کے الزامات لگاتے تھے اور ان کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے ۔ مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی تکالیف پہنچاتے تھے اس کے علاوہ یہود و نصاریٰ اور منافقین کی ریشہ…
Read the full tafseer →اِنَّا نَحْنُ نُحْيٖ وَنُمِيْتُ وَاِلَيْنَا الْمَصِيْرُ 43 ۙ
حيى
الحیاة تستعمل علی أوجه :
الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ،
الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا،
قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ،
الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی:
أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122]
والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ،
وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
ترکیب : من لغوب من زائدۃ لغوب تعب و اعیاء یقال لعب یلعب بالضم لغوباً من اللیل ای بعض اللیل فانہ مفعول لفعل مضمر معطوف علی سبح بحمد ربک یفسرہ فسبحہ و من للتبعیض۔ ادبارالسجودای سبحہ اعقاب اصلوٰۃ قرء الجمہور بفتح الھمزۃ جمع و بردقری بکسرھا علی المصدر من ادبرالشیء ادبارا۔ فھی ظرف لسبحہ۔ یوم یسمعون بدل من یوم ینادی یوم تشقق ظرف للضمیر او بدل من یوم الاول سراعا حال ای یخرجون مسرعین۔
واستمع ابرم نادی المناد فیہ ثلاثہ بوجہ اھما ان تبرک مفعولہ راسا وکیون المقصود کن سمنعاً ثانیھا استمع لما یوحی الیک وثالثھا استمع لکسناوی فعلی الاول العامل فی یوم ما یدل علیہ قولہ یوم الخر فی تقدیرہ یخرجون یوم ینادی…
Read the full tafseer →اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَنُمِیْتُ وَاِلَیْنَا الْمَصِیْرُ ۔ (قٓ: 43)
(بےشک ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں، اور ہماری ہی طرف لوٹنا ہوگا۔ )
قبروں سے خروج کی دلیل
اوپر کی آیت میں قبروں سے نکلنے کا ذکر ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس پر دلیل ارشاد فرمائی گئی ہے کہ سب کو ایک دن ہم قبروں سے نکالیں گے۔ کیونکہ ہماری حیثیت یہ ہے اور جسے کوئی چیلنج نہیں کرسکتا کہ ہم ہی زندگی بخشنے والے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں۔ تو اس سے خودبخود یہ بات نکلتی ہے کہ ان کو دوبارہ زندہ کرنے کا ہمیں اختیار بھی ہے اور ہم اس کی قدرت بھی رکھتے ہیں۔ زندگی ایک سفر ہے، موت جس کا اختتام نہیں، بلکہ اس مسلسل سفر میں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کو صبر اور ذکر کی تلقین کرنے کے بعد اب پھر قیامت قائم ہونے کے دلائل دیئے گئے ہیں۔
کوئی شخض قیامت کو تسلیم کرے یا اس کا انکار کرے قیامت بہرحال برپا ہوکر رہے گی جس کا دوسرا مرحلہ اسرافیل کے دوسری مرتبہ صور پھونکنے پر ہوگا جونہی اسرافیل صورپھونکیں گے۔ تو زمین جگہ جگہ سے شق ہوجائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہر کوئی یہ محسوس کرے گا کہ اس کے پاس کھڑا ہوا کوئی اسے محشر کے میدان میں حاضر ہونے کا حکم دے رہا ہے۔ یہ آواز سنتے ہی ہر کسی کو یقین ہوجائے گا کہ اب قیامت قائم ہوچکی ہے اور بلانے والا قیامت کی طرف بلارہا ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ لوگ اپنی…
Read the full tafseer →آیت 43 : اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ (بیشک ہم ہی زندہ کرتے ہیں) مخلوقات کو وَنُمِیْتُ (اور ہم ہی مارتے ہیں) یعنی دنیا میں مارتے ہیں۔ وَاِلَیْنَا الْمَصِیْرُ (اور ہماری طرف ہی پھر لوٹ کر آنا ہے) یعنی ان سب نے لوٹنا ہے۔
Read the full tafseer →42 ۔” یوم یسمعون الصیحۃ بالحق “ اور وہ آخری چیخ ہے۔ ” ذلک یوم الخروج “ قبروں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
41۔ 44۔ اوپر فرمایا تھا کہ اگر یہ اہل مکہ اپنی سرکشی کی باتوں سے باز نہ آئیں تو صبر سکون سے کام لیا جائے ان آیتوں میں فرمایا کہ اے نبی اللہ کے تمہارے صبر سکون کے بعد اگر اللہ کی حکمت یوں ہی مقیض ہوئی کہ تمہارے مخالفوں میں کے کچھ لوگ دنیا کے عذاب سے بچ گئے اور اسی حالت مخالفت میں وہ مرگئے تو ان کے مواخذہ کا وقت مقررہ دوسرے صور کی آواز ہے۔ جب دوسرے صور کی آواز سنو تو پھر جو کچھ ان مخالفوں پر گزرے گی ‘ وہ سب آنکھوں کے سامنے آجائے گی۔ اس دوسرے صور کی آواز سے سب لوگ جی اٹھیں گے اور قبروں سے نکل کر میدان محشر کو جانے شروع ہوجائیں گے۔ قبر کے عذاب کے علاوہ اس عذاب سے بڑھ کر جو سختیاں نافرمان لوگوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
(واستمع) اپنے دل کے ساتھ پکارنے والے کو پکار کو غور سے سن اور اس سے مراد حضرت اسرافیل ( علیہ السلام) ہیں، یعنی جب اسرافیل ( علیہ السلام) صور میں پھونکیں گے (من مکان قریب) ” نزدیک کی جگہ سے۔ “ یعنی کسی ایسی جگہ سے جو مخلوق کے قریب ہے۔ (یوم یسمعون الصیحۃ) جس روز تمام خلائق ہول ناک اور خوف ناک چیخ کی آواز سیں گے (بالحق) جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ (ذلک یوم الخروج) وہ قبروں سے نکلنے کا دن ہوتا۔ اس روز اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر قادر ہوگا، اسی لئے فرمایا : (انا نحن نحی ونمیت والینا المصیر۔ یوم تشقق الارض عنھم) ” بےشکم ہم ہی تو زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے۔ جس روز ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
نماز مغرب وعشاء کی تاکید نیز تہجد سے کیا مراد ہے
قول باری ہے (ومن اللیل فسبحہ۔ اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے) مجاہد کا قول ہے اس سے صلوٰۃ اللیل یعنی تہجد کی نماز مراد ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سے مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد لینا بھی جائز ہے۔
نمازوں کے بعد تسبیحات
قول باری ہے (وادبار السجود۔ اور نمازوں کے بعد بھی) حضرت عمر ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حسن بن علی ؓ ، حسن بصری، مجاہد، نخعی اور شعبی نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مغرب کی نماز کے بعد دو رکعتیں اور (وادبار النجوم اور ستاروں سے پیچھے بھی) سے فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں مراد ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
[ 62] زندگی اور موت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہء قدرت و اختیار میں :
سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمہء تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم ہی زندگی بخشتے اور موت دیتے ہیں۔ پس زندگی بخشنا اور موت سے ہمکنار کرنا اللہ ہی کی صفت و شان ہے اور معاملہ اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے۔ پس اللہ کے سوا کسی بھی اور کے بارے میں یہ عقیدہ رکھان کہ وہ مارسکتا ہے یا جلا سکتا ہے، شرک ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ جس طرح آج کل کے کئی کلمہ گو مشرکوں کا کہنا یہ شرک ہے کہ اس میں اللہ کی اس خاص صفت کو اس کے بندوں میں مانا گیا ہے، اور یہی شرک ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، بہرکیف اس ارشاد سے اس خروج کی دلیل بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
سمجھنے والے اللہ کی قدرت کو دیکھتے ہیں
تشریح : سب سے پہلے تو اس بات پر توجہ دلائی گئیـ ہے کہ قرآن کو سمجھنا اور اللہ کا ادراک یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جو اس طرف رجحان رکھتے ہیں۔ جن کی طبیعت میں پاکی اور روحانیت کا کچھ حصہ موجود ہوتا ہے۔ وہ قرآن کے مضامین سے ہدایت حاصل کرلیتے ہیں اس سے اللہ کی طرف سے اعجاز سمجھتے ہیں ان کو اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت دکھائی دیتی ہے وہ اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے اس کی تمام صفات کو پہچان لیتے ہیں۔ اس کی وحدانیت، خلاقی، عظمت، حسن و خوبی، قدرت اور لافانیت۔ سب کچھ ان کو خود اپنے جسموں کی بناوٹ میں آسمانوں، زمین، پھول، پھل رات دن، ہوا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–45
آیات 30 تا 45۔
دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔
اواب اور حفیظ ۔
اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
ف 1 مراد یہ ہے کہ نبی ﷺ کو جھٹلانا اور آخرت اور توحید وغیرہ سے انکار کرنا۔
2 یعنی آپ کا کام انہیں زبردستی مسلمان بنا لینا نہیں ہے۔ آپ کے ذمہصرف ان تک ہمارا پیغام پہنچا دینا ہے۔ اس کے بعد یہ مانیں تو اپنا بھلا کریں گے اور نہیں مانیں گیتو اپنی شامت خود بلائیں گے …اس آیت سے مقصود ایکطرف آنحضرت کو تشقی دینا ہے اور دوسری طرف کافروں کو وعید سنانا ہے۔
3 باقی رہے وہ لوگ جن کے دلوں میں ڈر نہیں ہے تو ان کے سمجھانے میں وقت لگانا بیکار ہے۔
Read the full tafseer →(50:43) المصیر : اسم ظرف ومصدر میمی۔ لوٹنے کی جگہ۔ لوٹنا۔ صار یصیر سے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
لغات القرآن آیت نمبر (41 تا 45 ) ۔
المناد (ندا دینے والا ۔ آواز دینے والا ) ۔ تشقق (پھٹ پڑے گی) ۔ جبار (زبردستی کرنے والا) ۔ یخاف وعید (جو میرے ڈرانے سے ڈرتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر (41 تا 45 ) ۔ ” غفلت وکوتاہی کے ساتھ زندگی گذارنے والے قیامت کو دور کی چیز سمجھتے ہ ہیں حالانکہ اہل ایمان اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ دنیا آخر کار ایک دن ختم ہوجائے گی اور پھر سب کو اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر زندگی میں کئے ہوئے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ چناچہ جب صور پھونکا جائے گا تو کائنات کی ابتداء سے انتہا تک جتنے بھی لوگ ہوں گے وہ اپنی قبروں سے دفن کی گئی یا جلائی گئی جگہوں سے زندہ ہو کر میدان حشر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
قرب قیامت کی پکار۔
(ف 2) اے محبوب اس دن کا حال سنو جس دن پکارنے والا مکان قریب سے پکارے گا اور اس دن ان کفار کو سزاملے گی یعنی بروز قیامت ۔ اکثر مفسرین نے مکان قریب کی تفسیر بیت المقدس کے اس پتھر کی کی ہے جو زمین سے بارہ میل کے قریب اونچا اور آسمان سے اسی قدر قریب ہے ان کا قول ہے کہ اس پتھر پر کھرے ہوکر حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صور پھونکیں گے، سب مردوں کو آوازیں دے کہ اے گلی ہوئی ہڈیو ! بکھرے ہوئے جورو، ریزہ ریزہ شدہ گوشتو ! پراگندہ بالو ! اللہ تعالیٰ تمہیں فیصلہ کے لیے جمع ہونے کا حکم دیتا ہے۔ آگے فرمایا کہ حشر کی جن باتوں کو آج یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں صور کی آواز سنتے ہی ان باتوں کا برحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
[17] مراد صور کا نفخ ثانی ہے جس کی آواز سے لوگ قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
ف 2: وما مسنا من لغوب ہے مراد یہ ہے کہ موسیٰ کی کتاب تکوین میں جو لکھا ہے ۔ کہ ساتویں دن خدا نے آرام کیا ۔ یہ تعریف انسانی ہے ۔ اللہ نے اس دنیائے حقیر کو پیدا کرکے بالکل تکان محسوس نہیں کی ۔ کیونکہ وہاں تھک جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہاں تو صرف اعادہ کی ضرورت ہے ۔ اور پھر آپ سے آپ کائنات منصف مشہود پر جلوہ گر ہوجاتی ہے ۔
حل لغات :۔ لغوب ۔ تکان ۔ تھکاوٹ ۔
Read the full tafseer →(43) بیشک ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور زندگی عطا کرتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور سب کی باز گشت اور سب کو ہماری طرف لوٹنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ف 5۔ پاس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آواز سب کو بےتکلف پہنچے گی اور جیسے اکثر دور کی آواز کسی کو پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →ہم سب کو زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور سب کو لوٹ کر ہمارے ہاں آنا ہے
43 ۔ اگر دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے حضور حاضر ہونے سے کسی کو انکار ہے تو پہلے وہ اپنی پیدائش سے انکار کرے یا کم از کم اپنے پہلے پیدا کرنے والے کے متعلق بتائے کہ وہ کون ہے ؟ اگر وہ یہ مانتا ہے کہ پہلی بار زندہ کرنے والا رب ذوالجلال والا کرام ہے تو آخر پہلی بار پیدا کرنے والے کو دوسری بار پیدا کرنے میں کیا مشکل ہے ؟ یہ بات بار بار دہرائی جارہی ہے کہ کسی کا تسلیم کرنا یا تسلیم نہ کرنا تحکم سے نہیں بلکہ دلیل سے ہونا چاہیے اور پھر اگر کوئی دلیل ہے تو اس کو پیش کردیں ہم تو واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ زندہ کرنے والے ہم ہیں اور مارنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ (...the Day when the caller will call from a near place - 50:41). Sayyidna Ibn ` Asakir ؓ reports from Zaid Ibn Jabir Shafi` i that the "caller" referred to here is the angel Israfil (علیہ السلام) who will stand on the Dome of the Rock (Sakhrah) and will address all the dead people of the entire world : "0 you rotten bones! 0 you decomposed skins! 0 you scattered hair! Listen, Allah commands you to reassemble to render account of your actions (Mazhari)." This scene depicts how, after the second blowing of the trumpet, the world will be…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
53 The words yasm'aun-as-saihata bil haqq-i can have two meanings: (1) That alI the people will be hearing the cry of the right Command; and (2) that they will be hearing the cry rightly. In the first case the sentence will mean that the people will be hearing the same right Command with their cars, which they were not inclined to accept in the world, which they had persistently refused to believe, and mocked the Prophets who had brought it. In the second case it will mean that they will certainly hear this cry, and they will realize that it is no fancy but indeed the Cry of Resurrection;…
Read the full tafseer →