Qaaf 50:42

Qaaf · from ayah 42

50:42

یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ ؕ— ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ ۟يَوۡمَ يَسۡمَعُوۡنَ الصَّيۡحَةَ بِالۡحَـقِّ‌ ؕ ذٰ لِكَ يَوۡمُ الۡخُـرُوۡجِ

جس دن لوگ چیخ یقیناً سن لیں گے۔ وہی نکل پڑنے کا دن ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Day they will hear the blast [of the Horn] in truth. That is the Day of Emergence [from the graves].

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:42

جس دن سب لوگ آوازۂ حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے، وہ زمین سے مُردوں کے نکلنے کا دن ہو گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس دن لوگ چیخ یقیناً سن لیں گے۔ وہی نکل پڑنے کا دن ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس روز اس تند وتیز چیﺦ کو یقین کے ساتھ سن لیں گے، یہ دن ہوگا نکلنے کا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس دن لوگ سچ مچ اس پکار کی آواز سنیں گے، وہ قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن چنگھاڑ سنیں گے حق کے ساتھ، یہ دن ہے قبروں سے باہر آنے کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس دن لوگ سخت چنگھاڑ کی آواز کو بالیقین سنیں گے، یہی قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن وہ چیخ کو حق کے ساتھ سنیں گے، یہ نکلنے کا دن ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اور) سب لوگ اس زور دار آواز کو ٹھیک ٹھیک سن لیں گے۔ یہی (زمین سے دوبارہ) نکلنے کا دن ہوگا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس دن یہ سنیں گے چیخ کو شدنی کے ساتھ وہ دن نکل کھڑے ہونے کا ہوگا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس دن کہ سب لوگ سنیں گے (آواز آہ حشر کی) اس ہولناک آواز کو یہ دن ہوگا (مردوں کے) نکلنے کا (ان کی قبروں سے)

— مولانا اسحاق مدنی

جس دن اس چیخ کو بالیقین (سب) سن لیں گے وہ نکلنے کا دن ہوگا (قبروں سے)۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن کہ وہ سنیں گے ایک چنگھاڑ حق کے ساتھ۔ وہ ہوگا نکلنے کا دن۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس دن لوگ چیخ یقینا سن لیں گے وہی نکل پڑنے کا دن ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

the Day when they shall hear the Blast in truth. That will be the Day (for the dead) to come forth.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the Day they will hear the Cry in reality_ that will be the Day of Resurrection.

— Muhammad Taqi Usmani

the Day they will hear the Cry in reality_ that will be the Day of Resurrection.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Day when they will hear As-Sayhah in truth, that will be the Day of coming out.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The day when they will hear the (Awful) Cry in truth. That is the day of coming forth (from the graves).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The Day they will hear the blast [of the Horn] in truth. That is the Day of Emergence [from the graves].

— Saheeh International

On that day they will certainly hear the sound of the trumpet and that will be the Day of Resurrection.

— Muhammad Sarwar

The day when they shall hear the cry in truth; that is the day of coming forth.

— Muhammad Habib Shakir

The Day whereon they will surely hear the shout - that is the Day of coming forth.

— Abdul Majid Daryabadi

The Day when they will hear a (mighty) Blast in (very) truth: that will be the Day of Resurrection.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–45

جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیو اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ اللہ تمہیں جمع ہوجانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہوگا ابتداءً ًیہ پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹا لانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پالے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 42–43

سورة قٓ 53 اصل الفاظ ہیں یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَۃَ بالْحَقِّ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ سب لوگ امر حق کی پکار کو سن رہے ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ آواز حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ لوگ اسی امر حق کی پکار کو اپنے کانوں سے سن رہے ہوں گے جس کو دنیا میں وہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے، جس سے انکار کرنے پر انہیں اصرار تھا، اور جس کی خبر دینے والے پیغمبروں کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ وہ یقینی طور پر یہ آوازہ حشر سنیں گے، انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ یہ کوئی وہم نہیں ہے بلکہ واقعی یہ آوازہ حشر ہی ہے، کوئی شبہ انہیں اس امر میں نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–43

خلاصہ تفسیر اور (اے مخاطب تو اس اگلی بات کو توجہ سے) سن رکھ کہ جس دن ایک پکارنے والا (فرشتہ یعنی اسرافیل ؑ بذریعہ نفخ صور مردوں کو قبروں سے نکلنے کے لئے) پاس ہی سے پکارے گا (پاس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آواز سب کو بےتکلف پہنچے گی، گویا پاس سے ہی کوئی پکار رہا ہے اور جیسے اکثر دور کی آواز کسی کو پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا) جس روز اس چیخنے کو بالیقین سب سن لیں گے، یہ دن ہوگا (قبروں سے) نکلنے کا ہم ہی (اب بھی) جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری طرف پھر لوٹ کر آنا ہے (اس میں بھی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت کی طرف اشارہ ہے) جس روز زمین ان (مردوں) پر سے کھل جاوے گی جبکہ وہ (نکل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یوم بسمعون الصیحۃ بالحق ذلک یوم الخروج 42 یہ یوم اوپر والے یوم سے بدل ہے اور صیعۃ سے مراد نفخ صور کا صحیحہ ہے۔ حق سے مراد، جیسا کہ آیت 19 میں وضاحت ہوچکی ہے۔ قیامت ہے۔ اس لفظ سے اس کی تعبیر اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ ایک اٹل حقیقت اور شدنی ہے۔ فرمایا کہ اس دن کی صدائے صور کے لئے بربار کان لگائے رکھو جس دن یہ تکذیب کرنے والے اس کی چیخ، اس شدنی کے ظہور کی منادی کی حیثیت سے سنیں گے۔ وہ دن ان کے قبروں سے نکلنے کا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

42۔ 1 یعنی یہ چیخ یعنی نفخہ قیامت یقینا ہوگا جس میں یہ دنیا میں شک کرتے تھے۔ اور یہی دن قبروں سے زندہ ہو کر نکلنے کا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

19: اس سے مراد وہی منادی کی پکار بھی ہوسکتی ہے، اور صور پھونکنے کی آواز بھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 41–42

ایک دوسرا ٹچ جو اس کائنات کے صفحات کے ساتھ مربوط ہے۔ یعنی صبر کرو ، تسبیح کرو اور سجدے کرو اس حال میں کہ آپ ﷺ ایک عظیم حادثہ اور ایک عظیم واقعہ کے انتظار میں ہوں۔ جو گردش لیل و نہار کے کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ اور اس سے غافل وہی لوگ ہو سکتے ہیں جن کے دل غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ وہ بات ہے جو اس سورت کا عمود اور محور ہے اور اصلی موضوع۔ واستمع یوم ۔۔۔۔۔ قریب (41) یوم یسمعون ۔۔۔۔ الخروج (42) انا نحن ۔۔۔۔ المصیر (43) یوم تشقق ۔۔۔۔ علینا یسیر (50 : 41 تا 44) ” اور سنو ، جس دن منادی کرنے والا (ہر شخص کے) قریب ہی سے پکارے گا ، جس دن سب لوگ آوازۂ حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے ، وہ زمین کے مردوں کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 42{ یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَۃَ بِالْحَقِّ ط } ”جس دن کہ وہ سنیں گے ایک چنگھاڑ حق کے ساتھ۔“ { ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ۔ } ”وہ ہوگا نکلنے کا دن۔“ یعنی وہ زمین سے ُ مردوں کے نکلنے کا دن ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 42–43

49 بالحق کے دو مطلب ہیں ایک تو ترجمہ سے واضح ہے کہ فرشتہ کی اس ندا کو ہر شخص پوری طرح سمجھ رہا ہوگا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس زور دار آواز سے ہی ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ جو کچھ دنیا میں پیغمبر کہتے رہے، اور جنہیں وہ جھٹلاتے رہے تھے وہ ایک ٹھوس اور اٹل حقیقت تھے جو اب ظہور میں آنے لگے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 41–42

31۔ ذکر صور کے نفخہ اولی کا ہے۔ (آیت) ” المناد “ یہ ندا دینے والے حضرت اسرافیل فرشتہ ہیں، حدیث صحیح کے بموجب قیامت کے لیے نفخ صور کی خدمت انہیں سے متعلق ہے۔ (آیت) ” من مکان قریب “۔ وہ آواز اتنی بلند ہوگی کہ کوئی مقام ان کے لیے کہیں سے بھی دورنہ ہوگا جو آواز ہلکی یا ناصاف ہو کر پہنچے، ہر شخص کے پاس خواہ وہ کہیں بھی ہو، یکساں قوت کے ساتھ پہنچے گی،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 42–43

یوم یسمعون الصیحۃ بالحق ذلک یوم الخروج یہ نفحہ ثانیہ کا بیان ہے جس سے دوبارہ عالم کو زندہ کیا جائے گا اور مکان قریب سے مراد یہ ہے کہ اس وقت اس فرشتے کی آواز پاس اور دور کے سب لوگوں کو اس طرح پہنچے گی کہ گویا پاس ہی ہی سے پکار رہا ہے اور بعض حضرات نے مکان قریب سے مراد صخرہ بیت المقدس لیا ہے کیونکہ وہ زمین کا وسط ہے۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوم یسمعون الصیحۃ بالحق ذلک یوم الخروج .‘ جس روز اس چیخنے کو یقین کے ساتھ سب سن لیں گے ‘ یہ دن ہوگا (قبروں سے) نکلنے کا۔ یَوْمَ یَسْمَعُوْنَ : یعنی اس روز بحکم خدا مردے سنیں گے ‘ مردے ہوں یا جمادات (پتھر وغیرہ) بحکم خدا سننے کے معاملے میں زندوں کی طرح ہیں ‘ تمام موجودات کو (خواہ بےحس ‘ بےشعور اور غیر نامی ہوں یا نامی ‘ باحس یا باشعور) کسی نہ کسی طرح کی زندگی تو حاصل ہی ہے۔ تفسیر سورة ملک (کی آیت خَلَقَ الْمَوْتَ وَا لْحَیَاۃَ کی تشریح) میں ہم نے اس کی تحقیق کردی ہے۔ علمائے (اہل سنت) کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ عذاب قبر روح اور جسم دونوں پر ہوتا ہے۔ شیخین نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 41–42

(41۔ 42) اور محمد اس پکار کو سنیے جس دن ایک پکارنے والا آسمان کے قریب سے پکارے گا یعنی بیت المقدس کے درمیان سے پکارے گا اور یہ جگہ آسمان سے بہ نسبت تمام روئے زمین کے بارہ میل قریب ہے یا یہ کہ قریب سے پکارے گا کہ اس کی آواز سب لوگ اپنے پیروں کے نیچے سے سنیں گے۔ یا یہ کہ محمد آپ اس دن کے لیے نیک اعمال کریں یا یہ کہ جس دن صور پھونکی جائے گی آپ اس کے منتظر رہیں اور قبروں سے نکلنے کے اس حکم کو اس روز سب سن لیں گے اور یہی قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا یعنی قیامت کا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(یوم یسمعون الصیحۃ بالحق…: یعنی تمام لوگ وہ ہولناک آواز سنیں گے۔“ (بالحق“ کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات مجازاً نہیں کہی جا رہی بلکہ وہ اس ہولناک چیخ کو حقیقتاً ، فی الواقع اور یقینا سنیں گے۔ یہ بات اتنی تاکید کے ساتھ اس لئے فرمائی کہ کفار اس کا انکار کرتے تھے اور اسے ناممکن قرار دیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–45

واستمع یوم ینا دالمناد من مکان قریب۔ ، استمع کا مفعول محذوف ہے مراد ہے ندا اور آواز کو سنو یا صیحہ کو سنو۔ اس سے مراد صیحہ قیامت ہے اور وہ نفحہ ثانیہ ہے ندا کرنے والے جبریل امین ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حضرت اسرافیل ہیں۔ زمحشری نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے حضرت اسرافیل صور پھونکیں گے اور حضرت جبریل امین منادی کریں گے، وہ حشر بپاہ ہونے کا اعلان کریں گے، وہ کہیں گے : حساب کے لئے آئو۔ تعبیر کی بنا پر ندا میدان حشر میں ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : استمع کا مفعول بہ نداء الکفار ہے وہ دیل اور ہلاکت کی ندا کریں گے یعنی قریب سے اس کو ندا کو سنو، یعنی سب اس آواز کو سنیں گے کوئی بھی اس ندا سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–45

19:۔ ابن جریر ـرحمہ اللہ علیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' واستمع یوم یناد المناد '' (اور سن رکھو کہ جس روز ایک پکارنے والا پاس کے مقام سے پکارے گا یعنی وہ چیخ ہوگی۔ 20:۔ ابن عساکر (رح) والواسطی فی فضائل بیت المقدس یزید بن جابر (رح) سے (آیت ) '' واستمع یوم یناد المناد من مکان قریب '' کے بارے میں روایت کیا کہ اس اسرافیل (علیہ السلام) بیت القدس کی چٹان پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیوپھٹے ہوئے بکھرے ہوئے جسمو، اے کٹے ہوئے بالو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم کو حکم فرماتے ہیں کہ حساب کے فیصلے کے لئے اکٹھے ہوجاؤ۔ 21:۔ ابن جریر (رح) نے کعب ؓ سے (آیت ) '' واستمع یوم یناد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَّوْمَ يَسْمَعُوْنَ [جس دن وہ لوگ سنیں گے ] الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ ۭ [ چنگھاڑ کو حق کے ساتھ ] ذٰلِكَ يَوْمُ الْخُرُوْجِ [ یہ نکلنے کا دن ہوگا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–45

﴿يَّوْمَ يَسْمَعُوْنَ الصَّيْحَةَ بالْحَقِّ ﴾ (جس دن حق کے ساتھ چیخ کو سنیں گے) اس سے نفخہء ثانیہ مراد ہے اور بالحق فرما کر یہ بتادیا کہ اس چیخ کو یقین کے ساتھ سنیں گے جس میں کوئی شک و شبہ کی بات نہ ہوگی۔ یہ جو دنیا میں کسی کو آواز پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا۔ ﴿ذٰلِكَ يَوْمُ الْخُرُوْجِ 0042﴾ (یہ قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا) ﴿ اِنَّا نَحْنُ نُحْيٖ وَ نُمِيْتُ ﴾ (بےشک ہم زندہ کرتے ہیں اور ہم موت دیتے ہیں) ﴿ وَ اِلَيْنَا الْمَصِيْرُۙ0043﴾ (اور ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے) کہیں کسی کو بھاگ جانے اور جان بچانے کا موقعہ نہیں ملے گا۔ ﴿ يَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا 1ؕ﴾ (جس روز…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–45

شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 41–42

23:۔ ” واستمع یوم “۔ یوم، استمع سے متعلق ہے۔ المناد، منادی کرنے والا، جبریل (علیہ السلام) (روح) ۔ مکان قریب، ہر شخص یہ خیال کرے گا کہ منادی کرنے والا یہاں کہیں نزدیک ہی ہے اور اس کی آواز ہر شخص سن سکے گا۔ بالحق، یعنی صیحہ (نفخ صور) کی آواز واقعی اور حقیقی ہوگی، وہم و خیال نہیں ہوگا۔ ذلک یوم الخروج یہ استمع کا مفعول ہے اور انتظار کرو جب حشر و نشر کیلئے اس رافیل (علیہ السلام) دوسری بار صورت پھونکیں گے جسے ہر آدمی حقیقۃ سنے گا۔ اس دن ان کے اس اعلان کو غور سے سننا کہ آج کا دن قبروں سے زندہ ہو کر نکلنے کا دن ہے۔ اور یہ وہی دن ہے جس کا کفار و مشرکین انکار کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 39–45

ربط آیات اللہ نے اس سورة مبارکہ میں وقوع قیامت کے بعض دلائل بیان کیے اور اس کے منکرین کا رد کیا ۔ پھر قیامت کی مختلف کیفیات اور مجرموں کا انجام ذکر کیا ۔ بعض سابقہ اقوام کی نافرمانی اور ان کی ہلاکت کا تذکر ہ کیا ۔ پھر ارض و سماء کی تخلیق اور خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ اور اس کی بےنیازی کا بیان ہوا ۔ اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون ذکر کیا ہے۔ کفار و مشرکین اہل ایمان پر طرح طرح کے الزامات لگاتے تھے اور ان کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے ۔ مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی تکالیف پہنچاتے تھے اس کے علاوہ یہود و نصاریٰ اور منافقین کی ریشہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَّوْمَ يَسْمَعُوْنَ الصَّيْحَۃَ بِالْحَقِّ۝ 0 ۭ ذٰلِكَ يَوْمُ الْخُرُوْجِ۝ 42 سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–45

ترکیب : من لغوب من زائدۃ لغوب تعب و اعیاء یقال لعب یلعب بالضم لغوباً من اللیل ای بعض اللیل فانہ مفعول لفعل مضمر معطوف علی سبح بحمد ربک یفسرہ فسبحہ و من للتبعیض۔ ادبارالسجودای سبحہ اعقاب اصلوٰۃ قرء الجمہور بفتح الھمزۃ جمع و بردقری بکسرھا علی المصدر من ادبرالشیء ادبارا۔ فھی ظرف لسبحہ۔ یوم یسمعون بدل من یوم ینادی یوم تشقق ظرف للضمیر او بدل من یوم الاول سراعا حال ای یخرجون مسرعین۔ واستمع ابرم نادی المناد فیہ ثلاثہ بوجہ اھما ان تبرک مفعولہ راسا وکیون المقصود کن سمنعاً ثانیھا استمع لما یوحی الیک وثالثھا استمع لکسناوی فعلی الاول العامل فی یوم ما یدل علیہ قولہ یوم الخر فی تقدیرہ یخرجون یوم ینادی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَۃَ بِالْحَقِّ ط ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ ۔ (قٓ: 42) (جس دن وہ سنیں گے اس چیخ کو ٹھیک ٹھیک، وہ دن مردوں کے نکلنے کا دن ہوگا۔ ) یعنی جس دن لوگ یہ آواز سنیں گے تو یہ کوئی مصنوعی آواز نہیں ہوگی بلکہ یہ نفخ صور ہی کا صیحہ ہوگا۔ حق سے مراد قیامت بھی ہوسکتی ہے اور اس کا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک اسی کی آواز ہوگی۔ یہ درحقیقت اس بات کا اعلان ہوگا کہ لوگ اب اپنی قبروں سے نکلیں اور میدانِ حشر میں پہنچیں، کیونکہ یہ دن قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 41–44

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کو صبر اور ذکر کی تلقین کرنے کے بعد اب پھر قیامت قائم ہونے کے دلائل دیئے گئے ہیں۔ کوئی شخض قیامت کو تسلیم کرے یا اس کا انکار کرے قیامت بہرحال برپا ہوکر رہے گی جس کا دوسرا مرحلہ اسرافیل کے دوسری مرتبہ صور پھونکنے پر ہوگا جونہی اسرافیل صورپھونکیں گے۔ تو زمین جگہ جگہ سے شق ہوجائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہر کوئی یہ محسوس کرے گا کہ اس کے پاس کھڑا ہوا کوئی اسے محشر کے میدان میں حاضر ہونے کا حکم دے رہا ہے۔ یہ آواز سنتے ہی ہر کسی کو یقین ہوجائے گا کہ اب قیامت قائم ہوچکی ہے اور بلانے والا قیامت کی طرف بلارہا ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ لوگ اپنی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مردوں کا نکلنا : آیت 42 : یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَۃَ (جس دن اس چیخنے کو سب سن لیں گے) نحو : یہ یوم ینادی سے بدل ہے۔ الصیحۃ سے نفخہ ثانیہ مراد ہے۔ بِالْحَقِّ (بالیقین) یہ صیحۃ سے متعلق ہے۔ اور اس سے مراد بعث وحشر جزاء و سزا کیلئے۔ ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ (یہ دن نکلنے کا ہوگا) قبور سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیات 41-45 41 ۔” واستمع یوم یناد المناد من مکان قریب “ یعنی اے محمد ! ﷺ قیامت اور شور کی چیخ کو توجہ سے تنیں جس دن آواز لگانے والا آواز دے گا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی اسرافیل (علیہ السلام) حشر کے دن آواز لگائیں گے۔ اے بوسیدہ ہڈیو اور جدا جوڑو ۔ اور پھٹے ہوئے گوشت اور بکھرے بالوں ! بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم جمع ہوجائو، واضح فیصلہ کے لئے قریب کی جگہ بیت المقدس کی چٹان سے اور وہ زمین کا وسط ہے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ آسمان کی طرف سب سے قریب ترین زمین ہے۔ اٹھارہ میل۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–44

41۔ 44۔ اوپر فرمایا تھا کہ اگر یہ اہل مکہ اپنی سرکشی کی باتوں سے باز نہ آئیں تو صبر سکون سے کام لیا جائے ان آیتوں میں فرمایا کہ اے نبی اللہ کے تمہارے صبر سکون کے بعد اگر اللہ کی حکمت یوں ہی مقیض ہوئی کہ تمہارے مخالفوں میں کے کچھ لوگ دنیا کے عذاب سے بچ گئے اور اسی حالت مخالفت میں وہ مرگئے تو ان کے مواخذہ کا وقت مقررہ دوسرے صور کی آواز ہے۔ جب دوسرے صور کی آواز سنو تو پھر جو کچھ ان مخالفوں پر گزرے گی ‘ وہ سب آنکھوں کے سامنے آجائے گی۔ اس دوسرے صور کی آواز سے سب لوگ جی اٹھیں گے اور قبروں سے نکل کر میدان محشر کو جانے شروع ہوجائیں گے۔ قبر کے عذاب کے علاوہ اس عذاب سے بڑھ کر جو سختیاں نافرمان لوگوں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–45

(واستمع) اپنے دل کے ساتھ پکارنے والے کو پکار کو غور سے سن اور اس سے مراد حضرت اسرافیل ( علیہ السلام) ہیں، یعنی جب اسرافیل ( علیہ السلام) صور میں پھونکیں گے (من مکان قریب) ” نزدیک کی جگہ سے۔ “ یعنی کسی ایسی جگہ سے جو مخلوق کے قریب ہے۔ (یوم یسمعون الصیحۃ) جس روز تمام خلائق ہول ناک اور خوف ناک چیخ کی آواز سیں گے (بالحق) جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ (ذلک یوم الخروج) وہ قبروں سے نکلنے کا دن ہوتا۔ اس روز اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر قادر ہوگا، اسی لئے فرمایا : (انا نحن نحی ونمیت والینا المصیر۔ یوم تشقق الارض عنھم) ” بےشکم ہم ہی تو زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے۔ جس روز ان سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 40–45

نماز مغرب وعشاء کی تاکید نیز تہجد سے کیا مراد ہے قول باری ہے (ومن اللیل فسبحہ۔ اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے) مجاہد کا قول ہے اس سے صلوٰۃ اللیل یعنی تہجد کی نماز مراد ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سے مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد لینا بھی جائز ہے۔ نمازوں کے بعد تسبیحات قول باری ہے (وادبار السجود۔ اور نمازوں کے بعد بھی) حضرت عمر ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حسن بن علی ؓ ، حسن بصری، مجاہد، نخعی اور شعبی نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مغرب کی نماز کے بعد دو رکعتیں اور (وادبار النجوم اور ستاروں سے پیچھے بھی) سے فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں مراد ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 41–42

[ 61] قیامت کیلئے چوکنا رہنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کان لگائے رکھو اس ہولناک دن کی طرف جس دن کہ پکارے گا پکارنے والا ایک قریب ہی کی جگہ سے۔ یعنی اس ہولناک وہیبت ناک آواز کی خصوصیت اور شان یہ ہوگی کہ وہ ندا وپکار ہر شخص کو اس طرح معلوم و محسوس ہوگی کہ جس طرح اس کے بالکل ہی قریب سے دی جا رہی ہے، سو آج تو ان غافل اور منکر لوگوں کو یہ باتیں دور کی اور نہایت بعید ازقیاس معلوم ہوتی ہیں لیکن اس دن ہر شخص یوں محسوس کرے گا کہ گویا اس کو اس کے کانوں ہی میں پکارا جا رہا ہے، اور اس منادی [ پکارنے والے ] سے مراد وہی نفخ صور کا منادی ہے جس کا ذکر اوپر { ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید } کے الفاظ سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 37–45

سمجھنے والے اللہ کی قدرت کو دیکھتے ہیں تشریح : سب سے پہلے تو اس بات پر توجہ دلائی گئیـ ہے کہ قرآن کو سمجھنا اور اللہ کا ادراک یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جو اس طرف رجحان رکھتے ہیں۔ جن کی طبیعت میں پاکی اور روحانیت کا کچھ حصہ موجود ہوتا ہے۔ وہ قرآن کے مضامین سے ہدایت حاصل کرلیتے ہیں اس سے اللہ کی طرف سے اعجاز سمجھتے ہیں ان کو اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت دکھائی دیتی ہے وہ اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے اس کی تمام صفات کو پہچان لیتے ہیں۔ اس کی وحدانیت، خلاقی، عظمت، حسن و خوبی، قدرت اور لافانیت۔ سب کچھ ان کو خود اپنے جسموں کی بناوٹ میں آسمانوں، زمین، پھول، پھل رات دن، ہوا اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–45

آیات 30 تا 45۔ دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اواب اور حفیظ ۔ اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 42–45

ف 1 مراد یہ ہے کہ نبی ﷺ کو جھٹلانا اور آخرت اور توحید وغیرہ سے انکار کرنا۔ 2 یعنی آپ کا کام انہیں زبردستی مسلمان بنا لینا نہیں ہے۔ آپ کے ذمہصرف ان تک ہمارا پیغام پہنچا دینا ہے۔ اس کے بعد یہ مانیں تو اپنا بھلا کریں گے اور نہیں مانیں گیتو اپنی شامت خود بلائیں گے …اس آیت سے مقصود ایکطرف آنحضرت کو تشقی دینا ہے اور دوسری طرف کافروں کو وعید سنانا ہے۔ 3 باقی رہے وہ لوگ جن کے دلوں میں ڈر نہیں ہے تو ان کے سمجھانے میں وقت لگانا بیکار ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:42) یوم یسمعون الصحۃ بالحق : یوم یسمعون بدل ہے یون ینادی سے۔ الصیحۃ۔ چیخ۔ کڑک۔ ہولناک آواز۔ نعرہ۔ چنگھاڑ۔ صاح یصیح (باب ضرب) کا مصدر ہے اور بمعنی حاصل مصدر بھی آتا ہے۔ صیحۃ بروزن فعلۃ یہ صیاح کے ایک مرتبہ وقوع میں آنے کو بتاتا ہے اور صیاح صوت شدید (سخت عذاب) کو کہتے ہیں۔ یہاں الصیحۃ سے مراد حضرت اسرافیل کی آواز یا وہ آواز جو ان کے صور بھونکنے سے پیدا ہوگی مراد ہے۔ بالحق : بالیقین۔ یعنی جس دن سب لوگ یقینی طور پر آوازہ حشر سن لیں گے اور انہیں کوئی شک و شبہ نہیں رہیگا کہ یہ واقعی آوازہ حشر ہے۔ ذلک : ای ذلک الیوم وہ دن۔ یوم الخروج : مضاف مضاف الیہ۔ (قبروں سے) باہر نکل آنے کا دن۔ یوم قیامت کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–45

لغات القرآن آیت نمبر (41 تا 45 ) ۔ المناد (ندا دینے والا ۔ آواز دینے والا ) ۔ تشقق (پھٹ پڑے گی) ۔ جبار (زبردستی کرنے والا) ۔ یخاف وعید (جو میرے ڈرانے سے ڈرتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر (41 تا 45 ) ۔ ” غفلت وکوتاہی کے ساتھ زندگی گذارنے والے قیامت کو دور کی چیز سمجھتے ہ ہیں حالانکہ اہل ایمان اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ دنیا آخر کار ایک دن ختم ہوجائے گی اور پھر سب کو اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر زندگی میں کئے ہوئے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ چناچہ جب صور پھونکا جائے گا تو کائنات کی ابتداء سے انتہا تک جتنے بھی لوگ ہوں گے وہ اپنی قبروں سے دفن کی گئی یا جلائی گئی جگہوں سے زندہ ہو کر میدان حشر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–45

قرب قیامت کی پکار۔ (ف 2) اے محبوب اس دن کا حال سنو جس دن پکارنے والا مکان قریب سے پکارے گا اور اس دن ان کفار کو سزاملے گی یعنی بروز قیامت ۔ اکثر مفسرین نے مکان قریب کی تفسیر بیت المقدس کے اس پتھر کی کی ہے جو زمین سے بارہ میل کے قریب اونچا اور آسمان سے اسی قدر قریب ہے ان کا قول ہے کہ اس پتھر پر کھرے ہوکر حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صور پھونکیں گے، سب مردوں کو آوازیں دے کہ اے گلی ہوئی ہڈیو ! بکھرے ہوئے جورو، ریزہ ریزہ شدہ گوشتو ! پراگندہ بالو ! اللہ تعالیٰ تمہیں فیصلہ کے لیے جمع ہونے کا حکم دیتا ہے۔ آگے فرمایا کہ حشر کی جن باتوں کو آج یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں صور کی آواز سنتے ہی ان باتوں کا برحق…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 42–44

[17] مراد صور کا نفخ ثانی ہے جس کی آواز سے لوگ قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–45

ف 2: وما مسنا من لغوب ہے مراد یہ ہے کہ موسیٰ کی کتاب تکوین میں جو لکھا ہے ۔ کہ ساتویں دن خدا نے آرام کیا ۔ یہ تعریف انسانی ہے ۔ اللہ نے اس دنیائے حقیر کو پیدا کرکے بالکل تکان محسوس نہیں کی ۔ کیونکہ وہاں تھک جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہاں تو صرف اعادہ کی ضرورت ہے ۔ اور پھر آپ سے آپ کائنات منصف مشہود پر جلوہ گر ہوجاتی ہے ۔ حل لغات :۔ لغوب ۔ تکان ۔ تھکاوٹ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(42) اس دن سب لوگ یقینی طور پر اس چیخ کو سن لیں گے یہ دن قبروں سے نکلنے کا ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں صور پھونکا جاوے گا بیت المقدس کے پتھر پر یا اس کی آواز پر جگہ نزدیک لگے گی۔ خلاصہ : یہ ہے کہ اس دن کی بات توجہ سے سنو ! جس دن ایک پکارنے والا صور میں پکارے گا یہ آواز ہر شخص کو قریب کی آواز معلوم ہوگی اس دن یقینی طور پر اس کی آواز کو سب سن لیں گے یہی دن نکلنے کا ہوگا یعنی صور کے بعد سب لوگ زندہ ہوجائیں گے اور حساب وکتاب کے لئے دوڑتے پھریں گے۔ کہتے ہیں اس صور میں یہ آوازہوگی۔ ایتھا العظام، البالیۃ والا وصال المتقطعۃ واللحوم الممزقہ والشعور المتفرقہ ان اللہ یا مرکن ان یجتمعن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 41–45

ف 5۔ پاس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آواز سب کو بےتکلف پہنچے گی اور جیسے اکثر دور کی آواز کسی کو پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس دن سب لوگ ایک سخت چیخ کو سن رہے ہوں گے اور یہی نکلنے کا دن ہوگا 42 ۔ قیامت کے آنے کی ابتدائی صورت کیا ہوگی ؟ فرمایا ایک سخت چیخ سنائی دے گی اور ہر ایک کان کو یہ معلوم ہوگا کہ شاید میرے ہی کان کے ساتھ لگی ہوئی ہے چیخ کیا ہوگی ؟ حقیقت حال تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن یہ وہی ہوگی جس کو دوسری جگہ (نفخ صور) سے تعبیر کیا گیا ہے جس کا ذکر عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة الانعام کی آیت 73 ، جلد پنجم سورة الکحف کی آیت 99 ، سورة طحہٰ کی آیت 102 ، جلد ششم سورة المومنون کی آیت 101 ، جلد ہفتم سورة النحل آیت 87 ، سورة یٰسین آیت 51 ، سورة الزمر آیت 68 میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے اور یہی وہ دن ہے کہ جہاں جہاں کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–43

يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِ‌يبٍ (...the Day when the caller will call from a near place - 50:41). Sayyidna Ibn ` Asakir ؓ reports from Zaid Ibn Jabir Shafi` i that the "caller" referred to here is the angel Israfil (علیہ السلام) who will stand on the Dome of the Rock (Sakhrah) and will address all the dead people of the entire world : "0 you rotten bones! 0 you decomposed skins! 0 you scattered hair! Listen, Allah commands you to reassemble to render account of your actions (Mazhari)." This scene depicts how, after the second blowing of the trumpet, the world will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–43

53 The words yasm'aun-as-saihata bil haqq-i can have two meanings: (1) That alI the people will be hearing the cry of the right Command; and (2) that they will be hearing the cry rightly. In the first case the sentence will mean that the people will be hearing the same right Command with their cars, which they were not inclined to accept in the world, which they had persistently refused to believe, and mocked the Prophets who had brought it. In the second case it will mean that they will certainly hear this cry, and they will realize that it is no fancy but indeed the Cry of Resurrection;…

Read the full tafseer →