Explained with ayahs 41–45
جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے
حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیو اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ اللہ تمہیں جمع ہوجانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہوگا ابتداءً ًیہ پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹا لانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پالے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی…
Read the full tafseer →سورة قٓ 52
یعنی جو شخص جہاں مرا پڑا ہوگا، یا جہاں بھی دنیا میں اس کی موت واقع ہوئی تھی، وہیں خدا کے منادی کی آواز اس کو پہنچے گی کہ اٹھو اور چلو اپنے رب کی طرف اپنا حساب دینے کے لیے۔ یہ آواز کچھ اس طرح کی ہوگی روئے زمین کے چپے چپے پر جو شخص بھی زندہ ہو کر اٹھے گا وہ محسوس کرے گا کہ پکارنے والے نے کہیں قریب ہی سے اس کو پکارا ہے۔ ایک ہی وقت میں پورے کرہ ارض پر ہر جگہ یہ آوز یکساں سنای دے گی، اس سے بھی کچھ اندازہ ہوسکتا ہے کہ عالم آخرت میں زمان و مکان کے اعتبارات ہماری موجودہ دنیا کی بہ نسبت کس قدر بدلے ہوئے ہوں گے اور کیسی قوتیں کس طرح کے قوانین کے مطابق وہاں کارفرما ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
خلاصہ تفسیر
اور (اے مخاطب تو اس اگلی بات کو توجہ سے) سن رکھ کہ جس دن ایک پکارنے والا (فرشتہ یعنی اسرافیل ؑ بذریعہ نفخ صور مردوں کو قبروں سے نکلنے کے لئے) پاس ہی سے پکارے گا (پاس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آواز سب کو بےتکلف پہنچے گی، گویا پاس سے ہی کوئی پکار رہا ہے اور جیسے اکثر دور کی آواز کسی کو پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا) جس روز اس چیخنے کو بالیقین سب سن لیں گے، یہ دن ہوگا (قبروں سے) نکلنے کا ہم ہی (اب بھی) جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری طرف پھر لوٹ کر آنا ہے (اس میں بھی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت کی طرف اشارہ ہے) جس روز زمین ان (مردوں) پر سے کھل جاوے گی جبکہ وہ (نکل…
Read the full tafseer →واستمع یوم ینا دالمناد من مکان قریب 41
قیامت کے منادی کی صدا کے لئے ہر لمحہ کان لگائے رکھو
استمعاع کے معنی توجہ سے کان لگائے رکھنے کے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اس دن کو جھٹلاتے
1 ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد سوم، صفحات 774-773
-2 ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد چہارم صفحات 245-244
ہیں تو جھٹلانے دو تم ان کی باتوں کی پروا نہ کرو۔ بلکہ اس منادی کی آواز سننے کے لئے برابر کان لگائیر کھو جو نہایت قریب کی جگہ سے پکارے گا۔ اس منادی سے مراد وہی نفخ صور کا منادی ہے جس کا ذکر اوپر ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید کے الفاظ سے ہوچکا ہے۔ من مکان قریب سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ آج تو ان غافلوں کو یہ باتیں بہت دور کی اور…
Read the full tafseer →41۔ 1 یعنی قیامت کے جو احوال وحی کے ذریعے سے بیان کئے جا رہے ہیں، انہیں توجہ سے سنیں۔
41۔ 2 یہ پکارنے والا اسرافیل فرشتہ ہوگا یا جبرائیل اور یہ ندا وہ ہوگی جس سے لوگ میدان محشر میں جمع ہوجائیں گے۔ یعنی نفخہ ثانیہ۔
41۔ 3 اس سے بعض نے صخرہ بیت المقدس مراد لیا ہے، کہتے ہیں یہ آسمان کے قریب ترین جگہ ہے اور بعض کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص یہ آوازیں اس طرح سنے گا جیسے اس کے قریب سے ہی آواز آرہی ہے (فتح القدیر)
Read the full tafseer →18: یعنی اس منادی کی آواز ہر شخص کو بہت قریب سے آتی ہوئی محسوس ہوگی۔ بظاہر یہ منادی حضرت اسرافیل ؑ ہوں گے جو مردوں کو قبروں سے نکلنے کے لیے آواز دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ایک دوسرا ٹچ جو اس کائنات کے صفحات کے ساتھ مربوط ہے۔ یعنی صبر کرو ، تسبیح کرو اور سجدے کرو اس حال میں کہ آپ ﷺ ایک عظیم حادثہ اور ایک عظیم واقعہ کے انتظار میں ہوں۔ جو گردش لیل و نہار کے کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ اور اس سے غافل وہی لوگ ہو سکتے ہیں جن کے دل غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ وہ بات ہے جو اس سورت کا عمود اور محور ہے اور اصلی موضوع۔
واستمع یوم ۔۔۔۔۔ قریب (41) یوم یسمعون ۔۔۔۔ الخروج (42) انا نحن ۔۔۔۔ المصیر (43) یوم تشقق ۔۔۔۔ علینا یسیر (50 : 41 تا 44) ” اور سنو ، جس دن منادی کرنے والا (ہر شخص کے) قریب ہی سے پکارے گا ، جس دن سب لوگ آوازۂ حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے ، وہ زمین کے مردوں کے…
Read the full tafseer →3 کہتے ہیں صور پھونکا جائے گا بیت المقدس کے پتھر پر۔ اس لیے نزدیک کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس کی آواز ہر جگہ نزدیک لگے گی اور سب کو یکساں سنائی دے گی۔ باقی صور پھونکنے کے سوا اور بھی ندائیں حق تعالیٰ کی طرف سے اس روز ہوں گی۔ بعض نے آیت سے وہ مراد لی ہے۔ مگر ظاہر نفخ صور ہے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 41{ وَاسْتَمِعْ یَوْمَ یُـنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّـکَانٍ قَرِیْبٍ۔ } ”اور کان لگائے رکھو جس دن پکارنے والا پکارے گا بہت قریب کی جگہ سے۔“
یعنی اس دن کے منتظررہو جب صور میں پھونکا جائے گا اور ہر شخص کو اس کی آواز بہت قریب سے آتی ہوئی محسوس ہوگی۔ صور کی آواز ایسی زوردار اور خوفناک ہوگی کہ اس سے ہر جان دار کی موت واقع ہوجائے گی۔ اس کے بعد سب انسانوں کو زندہ کر کے محشر میں جمع کرنے کے لیے پھر صور پھونکا جائے گا۔ یہاں اسی دوسرے صور کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →48 یہ نفخہ صور ثانی کا وقت ہوگا اور پکارنے والا فرشتہ یہ بات کہے گا کہ اے مرے ہوئے لوگو ! سب اپنی اپنی قبروں سے اللہ کے حکم سے زندہ ہو کر نکل آؤ اور اللہ کے سامنے جوابدہی کے لئے پیش ہوجاؤ قبروں میں پڑا ہوا ہر شخص یوں محسوس کرے گا کہ کہیں قریب سے ہی یہ آواز آرہی ہے۔ موجودہ سائنسی ایجادات نے اس چیز کو بہت قریب الفہم بنادیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
31۔ ذکر صور کے نفخہ اولی کا ہے۔ (آیت) ” المناد “ یہ ندا دینے والے حضرت اسرافیل فرشتہ ہیں، حدیث صحیح کے بموجب قیامت کے لیے نفخ صور کی خدمت انہیں سے متعلق ہے۔ (آیت) ” من مکان قریب “۔ وہ آواز اتنی بلند ہوگی کہ کوئی مقام ان کے لیے کہیں سے بھی دورنہ ہوگا جو آواز ہلکی یا ناصاف ہو کر پہنچے، ہر شخص کے پاس خواہ وہ کہیں بھی ہو، یکساں قوت کے ساتھ پہنچے گی،
Read the full tafseer →یوم یناد المناد من مکان قریب ابن عسا کرنے زید بن جابر شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ سے روایت کیا ہے کہ یہ فرشتہ اسرافیل ہوگا جو بیت المقدس کے صحرہ پر کھڑا ہو کر ساری دنیا کے مردوں کو خطاب کرے گا، اے گلی سڑی ہڈیو ! اور ریزہ ریزہ ہونے والی کھالو ! اور بکھر جانے والے بابو ! سن لو، تم کو اللہ تعالیٰ یہ حکم دیتا ہے کہ حساب کے لئے جمع ہوجائو۔ (مظہری)
Read the full tafseer →واستمع یوم یناد المناد من مکان قریب
ا ور سن رکھو کہ جس روز ایک پکارنے والا پاس (کے مقام سے) ہی پکارے گا
وَاسْتَمِعْ : یہ خطاب کر کے روز قیامت کی ہولناکی اور عظمت کا اظہار کرنا اور متنبہ بنانا مقصود ہے۔
مقاتل نے بیان کیا کہ قیامت کے دن اسرافیل ( علیہ السلام) پکار کر کہیں گے : اے بوسیدہ ہڈیو ! اے الگ الگ کیے ہوئے جوڑو (اوصال) اے پارہ پارہ گوشت اور اے پراگندہ بالو ! اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ فیصلہ الٰہی کے لیے باہم اکٹھے ہوجاؤ۔
ابن عساکر نے بروایت زید بن جابر شافعی اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ (قیامت کے دن) اسرافیل صخرۂ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر کہیں گے : اے بوسیدہ ہڈیو ! اے پارہ پارہ کھالو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(41۔ 42) اور محمد اس پکار کو سنیے جس دن ایک پکارنے والا آسمان کے قریب سے پکارے گا یعنی بیت المقدس کے درمیان سے پکارے گا اور یہ جگہ آسمان سے بہ نسبت تمام روئے زمین کے بارہ میل قریب ہے یا یہ کہ قریب سے پکارے گا کہ اس کی آواز سب لوگ اپنے پیروں کے نیچے سے سنیں گے۔
یا یہ کہ محمد آپ اس دن کے لیے نیک اعمال کریں یا یہ کہ جس دن صور پھونکی جائے گی آپ اس کے منتظر رہیں اور قبروں سے نکلنے کے اس حکم کو اس روز سب سن لیں گے اور یہی قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا یعنی قیامت کا۔
Read the full tafseer →(1) واستمع…: پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی بےہودہ گوئی پر صبر اور اپنی تسبیح و تحمید کا حکم دیا، اس آیت میں آپ کی تسلی کے لئے قیامت کے دن کا ذکر فرمایا کہ تھوڑا صبر کریں ان کی جزا کے لئے قیامت کا دن آیا ہی چاہتا ہے۔ ابن عطیہ نے ”استمع“ کا معنی ”انتظر“ کیا ہے، یعنی صبر کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں…۔ اگر اس کا لفظی معنی ”کان لگا کر سن“ کیا جائے تو اس سے مراد بھی آپ کو تسلی دینا ہے کہ قیامت اتنی قریب ہے گویا اس میں پکارنے والے کی منادی کی آواز آپ کے کانوں میں آرہی ہے۔ زمخشری نے فرمایا :”واستمع یوم یناد المناد“ کا مطلب یہ ہے کہ کان لگا کر سن قیامت کے دن کا حال جو میں تمہیں بتانے لگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
واستمع یوم ینا دالمناد من مکان قریب۔ ، استمع کا مفعول محذوف ہے مراد ہے ندا اور آواز کو سنو یا صیحہ کو سنو۔ اس سے مراد صیحہ قیامت ہے اور وہ نفحہ ثانیہ ہے ندا کرنے والے جبریل امین ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حضرت اسرافیل ہیں۔ زمحشری نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے حضرت اسرافیل صور پھونکیں گے اور حضرت جبریل امین منادی کریں گے، وہ حشر بپاہ ہونے کا اعلان کریں گے، وہ کہیں گے : حساب کے لئے آئو۔ تعبیر کی بنا پر ندا میدان حشر میں ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : استمع کا مفعول بہ نداء الکفار ہے وہ دیل اور ہلاکت کی ندا کریں گے یعنی قریب سے اس کو ندا کو سنو، یعنی سب اس آواز کو سنیں گے کوئی بھی اس ندا سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
19:۔ ابن جریر ـرحمہ اللہ علیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' واستمع یوم یناد المناد '' (اور سن رکھو کہ جس روز ایک پکارنے والا پاس کے مقام سے پکارے گا یعنی وہ چیخ ہوگی۔
20:۔ ابن عساکر (رح) والواسطی فی فضائل بیت المقدس یزید بن جابر (رح) سے (آیت ) '' واستمع یوم یناد المناد من مکان قریب '' کے بارے میں روایت کیا کہ اس اسرافیل (علیہ السلام) بیت القدس کی چٹان پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیوپھٹے ہوئے بکھرے ہوئے جسمو، اے کٹے ہوئے بالو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم کو حکم فرماتے ہیں کہ حساب کے فیصلے کے لئے اکٹھے ہوجاؤ۔
21:۔ ابن جریر (رح) نے کعب ؓ سے (آیت ) '' واستمع یوم یناد…
Read the full tafseer →وَاسْتَمِعْ [ اور دھیان سے سنو ] يَوْمَ [ (اس دن کی بات ) جس دن ] يُنَادِ الْمُنَادِ پکارے گا پکارنے والا ] مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ [ایک قریب والی جگہ سے ]
(آیت ۔ 41) یناد دراصل باب مفاعلہ کا مضارع ینادی ہے۔ یہاں اس کی یا گری ہوئی ہے۔ اس کا اسم الفاعل مناد یہاں اس کے فاعل کے طور پر آیا ہے۔ اس پر لام تعریف داخل ہوا تو تنوین ختم ہوگئی ۔
Read the full tafseer →وقوع قیامت کے ابتدائی احوال اور رسول اللہ ﷺ کو تسلی
ان آیات میں اولاً وقوع قیامت کے ابتدائی احوال بیان فرمائے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ معاندین کی باتوں سے دلگیر نہ ہوں ہمیں ان کی سب باتوں کی خبر ہے۔
وَ اسْتَمِعْ (اور اے مخاطب سن لے) یعنی آئندہ جو قیامت کے احوال بیان ہونے والے ہیں انہیں دھیان سے سن ﴿ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ ﴾ (جس دن پکارنے والا پکارے گا) یعنی حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صور پھونک دیں گے، صور کی یہ آواز دور اور قریب سے سنی جائے گی یعنی ہر سننے والے کو ایسا معلوم ہوگا کہ یہیں قریب سے پکارا جا رہا ہے۔ پوری زمین کے رہنے والے زندہ اور مردے سب کے سب یکساں سنیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–45
شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
23:۔ ” واستمع یوم “۔ یوم، استمع سے متعلق ہے۔ المناد، منادی کرنے والا، جبریل (علیہ السلام) (روح) ۔ مکان قریب، ہر شخص یہ خیال کرے گا کہ منادی کرنے والا یہاں کہیں نزدیک ہی ہے اور اس کی آواز ہر شخص سن سکے گا۔ بالحق، یعنی صیحہ (نفخ صور) کی آواز واقعی اور حقیقی ہوگی، وہم و خیال نہیں ہوگا۔ ذلک یوم الخروج یہ استمع کا مفعول ہے اور انتظار کرو جب حشر و نشر کیلئے اس رافیل (علیہ السلام) دوسری بار صورت پھونکیں گے جسے ہر آدمی حقیقۃ سنے گا۔ اس دن ان کے اس اعلان کو غور سے سننا کہ آج کا دن قبروں سے زندہ ہو کر نکلنے کا دن ہے۔ اور یہ وہی دن ہے جس کا کفار و مشرکین انکار کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–45
ربط آیات
اللہ نے اس سورة مبارکہ میں وقوع قیامت کے بعض دلائل بیان کیے اور اس کے منکرین کا رد کیا ۔ پھر قیامت کی مختلف کیفیات اور مجرموں کا انجام ذکر کیا ۔ بعض سابقہ اقوام کی نافرمانی اور ان کی ہلاکت کا تذکر ہ کیا ۔ پھر ارض و سماء کی تخلیق اور خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ اور اس کی بےنیازی کا بیان ہوا ۔ اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون ذکر کیا ہے۔ کفار و مشرکین اہل ایمان پر طرح طرح کے الزامات لگاتے تھے اور ان کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے ۔ مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی تکالیف پہنچاتے تھے اس کے علاوہ یہود و نصاریٰ اور منافقین کی ریشہ…
Read the full tafseer →وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ 41 ۙ
اسْتِمَاعُ :
الإصغاء نحو : نَحْنُ أَعْلَمُ بِما يَسْتَمِعُونَ بِهِ ، إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [ الإسراء/ 47] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ [ محمد/ 16] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [يونس/ 42] ، وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ [ ق/ 41] ، وقوله : أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] ، أي : من الموجد لِأَسْمَاعِهِمْ ، وأبصارهم، والمتولّي لحفظها ؟ والْمِسْمَعُ والْمَسْمَعُ : خرق الأذن، وبه شبّه حلقة مسمع الغرب «1» .
استماع اس کے معنی غور سے سننے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ نَحْنُ أَعْلَمُ بِما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
ترکیب : من لغوب من زائدۃ لغوب تعب و اعیاء یقال لعب یلعب بالضم لغوباً من اللیل ای بعض اللیل فانہ مفعول لفعل مضمر معطوف علی سبح بحمد ربک یفسرہ فسبحہ و من للتبعیض۔ ادبارالسجودای سبحہ اعقاب اصلوٰۃ قرء الجمہور بفتح الھمزۃ جمع و بردقری بکسرھا علی المصدر من ادبرالشیء ادبارا۔ فھی ظرف لسبحہ۔ یوم یسمعون بدل من یوم ینادی یوم تشقق ظرف للضمیر او بدل من یوم الاول سراعا حال ای یخرجون مسرعین۔
واستمع ابرم نادی المناد فیہ ثلاثہ بوجہ اھما ان تبرک مفعولہ راسا وکیون المقصود کن سمنعاً ثانیھا استمع لما یوحی الیک وثالثھا استمع لکسناوی فعلی الاول العامل فی یوم ما یدل علیہ قولہ یوم الخر فی تقدیرہ یخرجون یوم ینادی…
Read the full tafseer →وَاسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِالْمُنَادِ مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْبٍ ۔ (قٓ: 41)
(اور غور سے سنو جس دن منادی بہت قریب کی جگہ سے پکارے گا۔ )
قیامت کو مستحضر رکھنے کی ہدایت
تلقینِ صبر کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ اس دن کو جھٹلاتے ہیں آپ انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دیجیے۔ آپ کا معمول یہ ہونا چاہیے کہ آپ برابر اس کی طرف کان لگائے رکھیں۔ کیونکہ ایک مومن کی اصل شناخت یہ ہے کہ اس کے دل و دماغ پر اس بات کا گہرا اثر رہتا ہے کہ ایک نہ ایک روز اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی شخص اس تصور سے بےنیاز ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اس سے بیگانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کو صبر اور ذکر کی تلقین کرنے کے بعد اب پھر قیامت قائم ہونے کے دلائل دیئے گئے ہیں۔
کوئی شخض قیامت کو تسلیم کرے یا اس کا انکار کرے قیامت بہرحال برپا ہوکر رہے گی جس کا دوسرا مرحلہ اسرافیل کے دوسری مرتبہ صور پھونکنے پر ہوگا جونہی اسرافیل صورپھونکیں گے۔ تو زمین جگہ جگہ سے شق ہوجائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہر کوئی یہ محسوس کرے گا کہ اس کے پاس کھڑا ہوا کوئی اسے محشر کے میدان میں حاضر ہونے کا حکم دے رہا ہے۔ یہ آواز سنتے ہی ہر کسی کو یقین ہوجائے گا کہ اب قیامت قائم ہوچکی ہے اور بلانے والا قیامت کی طرف بلارہا ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ لوگ اپنی…
Read the full tafseer →آیت 41 : وَاسْتَمِعْ (اور سن رکھ) اس کو جو آپ کو قیامت کا حال سنایا گیا۔ اس میں قیامت کی ہولناکی اور بڑائی کو بیان کیا ہے۔
قراءت : یعقوب نے اس پر وقف کیا۔ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ یوم یہاں اس فعل سے منصوب ہے۔ جس پر ذٰلک یوم الخروج دلالت کرتا ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے یوم ینادی المنادی یخرجون من القبور۔ بعض نے کہا اس کی تقدیر یہ ہے۔ واستمع حدیث یوم ینادی المنادی۔ اور غور سے سن رکھو اس دن کی بات جس دن منادی آواز دے گا۔
قراءت : المنادی دونوں حالتوں میں مکی ٗ سہل اور یعقوب نے پڑھا ہے اور مدنی اور ابوعمرو نے وصل میں پڑھا اور دیگر قراء نے دونوں حالتوں میں یاء کے بغیر پڑھا ہے۔
اسرافیل کی نداء…
Read the full tafseer →40 ۔” ومن اللیل فسبحہ “ یعنی مغرب اور عشاء کی نماز اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” ومن اللیل “ یعنی رات کی نماز جس وقت بھی پڑھے۔” وادبارالسجود “ اہل حجاز اور حمزہ رحمہم اللہ نے ” وادبار السجود “ ہمزہ کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔” مصدرادبر ادبارا “ اور دیگر حضرات نے ہمزہ کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے دبر کی جمع۔
ادبار السجود اور ادبار النجوم کی تفسیر
عمر بن خطاب ؓ علی بن ابی طالب ؓ ، حسن، شعبی، نخعی اور اوزاعی رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” ادبار السجود “ مغرب کی نماز کے بعد دورکعتیں ہیں اور ” ادبار النجوم “ فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں ہیں اور یہی عوفی کی بن عباس ؓ سے روایت ہے اور ان سے مرفوع بھی روایت ہے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
41۔ 44۔ اوپر فرمایا تھا کہ اگر یہ اہل مکہ اپنی سرکشی کی باتوں سے باز نہ آئیں تو صبر سکون سے کام لیا جائے ان آیتوں میں فرمایا کہ اے نبی اللہ کے تمہارے صبر سکون کے بعد اگر اللہ کی حکمت یوں ہی مقیض ہوئی کہ تمہارے مخالفوں میں کے کچھ لوگ دنیا کے عذاب سے بچ گئے اور اسی حالت مخالفت میں وہ مرگئے تو ان کے مواخذہ کا وقت مقررہ دوسرے صور کی آواز ہے۔ جب دوسرے صور کی آواز سنو تو پھر جو کچھ ان مخالفوں پر گزرے گی ‘ وہ سب آنکھوں کے سامنے آجائے گی۔ اس دوسرے صور کی آواز سے سب لوگ جی اٹھیں گے اور قبروں سے نکل کر میدان محشر کو جانے شروع ہوجائیں گے۔ قبر کے عذاب کے علاوہ اس عذاب سے بڑھ کر جو سختیاں نافرمان لوگوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
(واستمع) اپنے دل کے ساتھ پکارنے والے کو پکار کو غور سے سن اور اس سے مراد حضرت اسرافیل ( علیہ السلام) ہیں، یعنی جب اسرافیل ( علیہ السلام) صور میں پھونکیں گے (من مکان قریب) ” نزدیک کی جگہ سے۔ “ یعنی کسی ایسی جگہ سے جو مخلوق کے قریب ہے۔ (یوم یسمعون الصیحۃ) جس روز تمام خلائق ہول ناک اور خوف ناک چیخ کی آواز سیں گے (بالحق) جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ (ذلک یوم الخروج) وہ قبروں سے نکلنے کا دن ہوتا۔ اس روز اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر قادر ہوگا، اسی لئے فرمایا : (انا نحن نحی ونمیت والینا المصیر۔ یوم تشقق الارض عنھم) ” بےشکم ہم ہی تو زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے۔ جس روز ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
نماز مغرب وعشاء کی تاکید نیز تہجد سے کیا مراد ہے
قول باری ہے (ومن اللیل فسبحہ۔ اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے) مجاہد کا قول ہے اس سے صلوٰۃ اللیل یعنی تہجد کی نماز مراد ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سے مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد لینا بھی جائز ہے۔
نمازوں کے بعد تسبیحات
قول باری ہے (وادبار السجود۔ اور نمازوں کے بعد بھی) حضرت عمر ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حسن بن علی ؓ ، حسن بصری، مجاہد، نخعی اور شعبی نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مغرب کی نماز کے بعد دو رکعتیں اور (وادبار النجوم اور ستاروں سے پیچھے بھی) سے فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں مراد ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
[ 61] قیامت کیلئے چوکنا رہنے کی ہدایت :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کان لگائے رکھو اس ہولناک دن کی طرف جس دن کہ پکارے گا پکارنے والا ایک قریب ہی کی جگہ سے۔ یعنی اس ہولناک وہیبت ناک آواز کی خصوصیت اور شان یہ ہوگی کہ وہ ندا وپکار ہر شخص کو اس طرح معلوم و محسوس ہوگی کہ جس طرح اس کے بالکل ہی قریب سے دی جا رہی ہے، سو آج تو ان غافل اور منکر لوگوں کو یہ باتیں دور کی اور نہایت بعید ازقیاس معلوم ہوتی ہیں لیکن اس دن ہر شخص یوں محسوس کرے گا کہ گویا اس کو اس کے کانوں ہی میں پکارا جا رہا ہے، اور اس منادی [ پکارنے والے ] سے مراد وہی نفخ صور کا منادی ہے جس کا ذکر اوپر { ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید } کے الفاظ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
سمجھنے والے اللہ کی قدرت کو دیکھتے ہیں
تشریح : سب سے پہلے تو اس بات پر توجہ دلائی گئیـ ہے کہ قرآن کو سمجھنا اور اللہ کا ادراک یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جو اس طرف رجحان رکھتے ہیں۔ جن کی طبیعت میں پاکی اور روحانیت کا کچھ حصہ موجود ہوتا ہے۔ وہ قرآن کے مضامین سے ہدایت حاصل کرلیتے ہیں اس سے اللہ کی طرف سے اعجاز سمجھتے ہیں ان کو اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت دکھائی دیتی ہے وہ اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے اس کی تمام صفات کو پہچان لیتے ہیں۔ اس کی وحدانیت، خلاقی، عظمت، حسن و خوبی، قدرت اور لافانیت۔ سب کچھ ان کو خود اپنے جسموں کی بناوٹ میں آسمانوں، زمین، پھول، پھل رات دن، ہوا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–45
آیات 30 تا 45۔
دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔
اواب اور حفیظ ۔
اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…
Read the full tafseer →ف 10 ” قریب کی جگہ سے مردا ایسی جگہ ہے جہاں پر مرنے والے کو قریب سے آواز پہنچ سکے۔ قتادہ کہتی ہیں کہ ہم آپس میں کہا کرتیت ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کا صخرہ ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(50:41) استمع : امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ استماع (افتعال) مصدر۔ تو سن ۔ تو کان لگا کر ایک منادی کرنے والے کی نداء (پکار) کو سن (یہ خطاب عام ہے اور ہر سننے والے کو غور سے سننے کے لئے حکم دیا گیا ہے۔
یوم : جس دن۔ منصوب بوجہ مفعول فیہ۔ یناد مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ مناداۃ (مفاعلۃ) مصدر سے۔ وہ پکارے گا۔ المناد اسم فاعل واحد مذکر ، نداء (باب نصر) ۔ اصل میں یہ المنادی تھا۔ یاء کو بحالت رفع ساقط کردیا گیا۔ منادی کرنے والا۔ نداء کرنے والا۔ پکارنے والا۔ ترجمہ ہوگا :۔ (اے مخاطبین) گوش ہوش سے سنو ، پکارنے والے کی نداء کو جس دن وہ قریب سے پکاریگا ۔ یعنی ہر ایک سننے والا یوں محسوس کریگا اور اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
لغات القرآن آیت نمبر (41 تا 45 ) ۔
المناد (ندا دینے والا ۔ آواز دینے والا ) ۔ تشقق (پھٹ پڑے گی) ۔ جبار (زبردستی کرنے والا) ۔ یخاف وعید (جو میرے ڈرانے سے ڈرتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر (41 تا 45 ) ۔ ” غفلت وکوتاہی کے ساتھ زندگی گذارنے والے قیامت کو دور کی چیز سمجھتے ہ ہیں حالانکہ اہل ایمان اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ دنیا آخر کار ایک دن ختم ہوجائے گی اور پھر سب کو اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر زندگی میں کئے ہوئے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ چناچہ جب صور پھونکا جائے گا تو کائنات کی ابتداء سے انتہا تک جتنے بھی لوگ ہوں گے وہ اپنی قبروں سے دفن کی گئی یا جلائی گئی جگہوں سے زندہ ہو کر میدان حشر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
قرب قیامت کی پکار۔
(ف 2) اے محبوب اس دن کا حال سنو جس دن پکارنے والا مکان قریب سے پکارے گا اور اس دن ان کفار کو سزاملے گی یعنی بروز قیامت ۔ اکثر مفسرین نے مکان قریب کی تفسیر بیت المقدس کے اس پتھر کی کی ہے جو زمین سے بارہ میل کے قریب اونچا اور آسمان سے اسی قدر قریب ہے ان کا قول ہے کہ اس پتھر پر کھرے ہوکر حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صور پھونکیں گے، سب مردوں کو آوازیں دے کہ اے گلی ہوئی ہڈیو ! بکھرے ہوئے جورو، ریزہ ریزہ شدہ گوشتو ! پراگندہ بالو ! اللہ تعالیٰ تمہیں فیصلہ کے لیے جمع ہونے کا حکم دیتا ہے۔ آگے فرمایا کہ حشر کی جن باتوں کو آج یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں صور کی آواز سنتے ہی ان باتوں کا برحق…
Read the full tafseer →[16] ذکر صور کے نفخ اولیٰ کا ہے۔ اس کی آواز کچھ اس طرح ہوگی کہ ہر شخص محسوس کرے گا کہ آواز نزدیک ہی سے آرہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
ف 2: وما مسنا من لغوب ہے مراد یہ ہے کہ موسیٰ کی کتاب تکوین میں جو لکھا ہے ۔ کہ ساتویں دن خدا نے آرام کیا ۔ یہ تعریف انسانی ہے ۔ اللہ نے اس دنیائے حقیر کو پیدا کرکے بالکل تکان محسوس نہیں کی ۔ کیونکہ وہاں تھک جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہاں تو صرف اعادہ کی ضرورت ہے ۔ اور پھر آپ سے آپ کائنات منصف مشہود پر جلوہ گر ہوجاتی ہے ۔
حل لغات :۔ لغوب ۔ تکان ۔ تھکاوٹ ۔
Read the full tafseer →(41) اور اے مخاطب اس دن کی بات پوری توجہ کے ساتھ سن جس دن ایک پکارنے والا پاس ہی سے پکارے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ف 5۔ پاس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آواز سب کو بےتکلف پہنچے گی اور جیسے اکثر دور کی آواز کسی کو پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →ایک منادی کے پکارنے کی صدا پر کان لگائے رکھنے کا حکم جو زیادہ دور نہیں ہے
41 ۔ اے پیغمبر اسلام ! اب جو بات آپ ﷺ کو بتائی جانے والی ہے اس کی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے کہ اس کی طرف کان لگائے رکھو کہ کس وقت اس کا ٹھونکا آکر بجنے لگتا ہے کیونکہ یہ وہ ساتھی ہے جو انسان کے بالکل قریب ہے اور (من مات قد قامت قیامت ہ) جو شخص بھی وفات پا گیا تو گویا اس کی وفات ہی کیا ہوئی اس کی قیامت تو آگئی ؎
خیر کن اے فلاں و غنیمت شمار عمر
کہ بانگ برآید فلاں نہ ماند
قریش مکہ قیامت کے روز کو سختی سے جھٹلاتے تھے اور اسلام نے آکر اتنا ہی سختی سے ان کو باور کرایا کہ قیامت کا آنا ضروری ہے جتنا کہ تمہاری انفرادی موت کا آنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ (...the Day when the caller will call from a near place - 50:41). Sayyidna Ibn ` Asakir ؓ reports from Zaid Ibn Jabir Shafi` i that the "caller" referred to here is the angel Israfil (علیہ السلام) who will stand on the Dome of the Rock (Sakhrah) and will address all the dead people of the entire world : "0 you rotten bones! 0 you decomposed skins! 0 you scattered hair! Listen, Allah commands you to reassemble to render account of your actions (Mazhari)." This scene depicts how, after the second blowing of the trumpet, the world will be…
Read the full tafseer →52 That is, "Wherever a dead person would be lying, or wherever his death had occurred is the world, the cry of the caller shall reach him there, which will urge him to rise and go before his Lord to render his account. This cry will be such that everybody who rises from death anywhere on the surface of the earth, will feel as though the caller had called him from a nearby place. Simultaneously will this cry be heard everywhere on the globe equally clearly. From this also one can judge how different will be the concepts of space and time in the neat world from what they arc in this world, and…
Read the full tafseer →