Qaaf 50:40

Qaaf · from ayah 40

50:40

وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ ۟وَمِنَ الَّيۡلِ فَسَبِّحۡهُ وَاَدۡبَارَ السُّجُوۡدِ

اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس (کے نام) کی تنزیہ کیا کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [in part] of the night exalt Him and after prostration.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:40

اور رات کے وقت پھر اُس کی تسبیح کرو اور سجدہ ریزیوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس (کے نام) کی تنزیہ کیا کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور رات کے وقت بھی تسبیح کریں اور نماز کے بعد بھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور رات کے حصوں میں بھی اس کی تسبیح کرو۔ اور سجدوں کے بعد بھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کچھ رات گئے اس کی تسبیح کرو اور نمازوں کے بعد

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور رات کے بعض اوقات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے اور نمازوں کے بعد بھی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کی تسبیح کر اور سجدے کے بعد کے اوقات میں بھی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور رات کو اور سجدے کے بعد بھی اس کی تسبیح کیجیے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور رات میں بھی اس کی تسبیح کرو اور ستاروں کے ڈھلنے کے بعد

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور رات کے کچھ حصے میں بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور (اس کے حضور) سجدہ ریزیوں کے بعد بھی

— مولانا اسحاق مدنی

اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے اور نمازوں کے بعد بھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور رات کے حصوں میں بھی اس کی تسبیح بیان کرو۔ اور سجدوں (نمازوں) کے بعد بھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس کے نام کی پاکی بیان کر

— محترمہ رفعت اعجاز

and in the night, too, celebrate His glory, in the wake of prostration.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And in hours of night, proclaim His purity, and at the ends of prostration.

— Muhammad Taqi Usmani

And in hours of night, proclaim His purity, and at the ends of prostration.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And during a part of the night (also) glorify His praises and (so likewise) after the prostrations.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And in the night-time hymn His praise, and after the (prescribed) prostrations.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [in part] of the night exalt Him and after prostration.

— Saheeh International

Glorify Him during the night and also glorify Him after prostration.

— Muhammad Sarwar

And glorify Him in the night and after the prayers.

— Muhammad Habib Shakir

And in the night-time hallow Him, and also after the prescribed prostration.

— Abdul Majid Daryabadi

And during part of the night, (also,) celebrate His praises, and (so likewise) after the postures of adoration.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:40

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–40

بےسود کوشش ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں ؟ ان سے بہت زیادہ قوت وطاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ وبالا کرچکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں زمین میں خوب فساد کیا۔ لمبے لمبے سفر کرتے تھے ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی اللہ کی قضا و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا ؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آگیا بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لئے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ دھیان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پاسکتا ہے یعنی دل کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 51 یہ ہے وہ ذریعہ جس سے آدمی کو یہ طاقت حاصل ہوتی ہے کہ دعوت حق کی راہ میں اسے خواہ کیسے ہی دل شکن اور روح فرسا حالات سے سابقہ پیش آئے، اور اس کی کوششوں کا خواہ کوئی ثمرہ بھی حاصل ہوتا نظر نہ آئے، پھر بھی وہ پورے عزم کے ساتھ زندگی بھر کلمۂ حق بلند کرنے اور دنیا کو خیر کی طرف بلانے کی سعی جاری رکھے۔ رب کی حمد اور اس کی تسبیح سے مراد یہاں نماز ہے اور جس مقام پر بھی قرآن میں حمد و تسبیح کو خاص اوقات کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے وہاں اس سے مراد نماز ہی ہوتی ہے۔ " طلوع آفتاب سے پہلے۔ " فجر کی نماز ہے " غروب آفتاب سے پہلے ‘’ دو نمازیں ہیں، ایک ظہر، دوسری عصر "۔ رات کے وقت۔ مغرب اور عشاء کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَاَدْبَار السُّجُوْدِ ، حضرت مجاہد نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ سجود سے مراد فرض نمازیں ہیں اور ادبار السجود، سے مراد وہ تسبیحات پڑھنا ہے جس کی فضیلت ہر نماز کے بعد حدیث مرفوع میں آئی ہے حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ہر فرض نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ ، 33 مرتبہ الحمد للہ، 33 مرتبہ اللہ اکبر اور ایک مرتبہ لا الہٰ الا اللہ وحدہ، لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ہو علیٰ کل شی قدیر، پڑھ لیا کرے تو اس کی خطائیں معاف کردی جائیں گی، اگرچہ وہ دریا کی موجوں کے برابر ہوں (رواہ البخاری و مسلم) اور ادبار السجود سے مراد وہ سنتیں بھی ہو سکتی ہیں جو فرض نمازوں کے بعد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

شب کی نمازیں ومن الیل فسبحہ دن کی دو اہم نمازوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اسی طرح شب میں حصہ میں تہجد۔ تہجد اگرچہ فرائض میں داخل نہیں ہے لیکن تربیت صبر کے پہلو سے سب سے زیادہ اہمیت اسی نماز کو حاصل ہے۔ اس کی وضاحت مختلف مقامات میں ہوچکی ہے اور سورة مزمل کی تفسیر میں، ان شاء اللہ، اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ ادباء السجود، کا صحیح مطلب ودبار السجود ادبار جمع ہے دبر کی جس کے معنی پیچھے کے ہیں۔ عام طور پر لوگوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ سجدوں کے بعد بھی اس کی تسبیح کرو۔ لیکن میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہاں سجود و مصدری معنی میں ہے اور اس سے مراد آفتاب کا سجود ہے جس کے طلوع و غروب کے قبل کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

40۔ 1 یعنی رات کے کچھ حصے میں بھی اللہ کی تسبیح کریں یا رات کی نماز (تہجد) پڑھیں جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ' رات کو اٹھ کر نماز پڑھیں جو آپ کے لئے مزید ثواب کا باعث ہے۔ 40۔ 2 یعنی اللہ کی تسبیح کریں بعض نے اس سے تسبیحات مراد لی ہے، جن کے پڑھنے کی تاکید نبی ﷺ نے فرض نمازوں کے بعد فرمائی ہے مثلاً 33 مرتبہ سُبْحَان اللہ 33 مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰلہ اور 34 مرتبہ اللّٰہ اَکْبَرْ وغیرہ

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–40

16: تسبیح سے یہاں مراد نماز ہے۔ چنانچہ طلوع آفتاب سے پہلے کے الفاظ میں نماز فجر، غروب سے پہلے کے الفاظ میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں، اور رات کے حصوں میں تسبیح کرنے کے الفاظ میں مغرب، عشاء اور تہجد کی نمازیں۔ 17: سجدوں سے مراد فرض نمازیں ہیں، اور ان کے بعد تسبیح کرنے سے مراد نفلی نمازیں ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے اس کی یہی تفسیر منقول ہے (روح المعانی)

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 39–40

فاصبر علی ما یقولون ۔۔۔۔۔۔ قبل الغروب (39) ومن الیل ۔۔۔۔ السجود (50 : 39 تا 40) ” پس اے نبی ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو ، اور پنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو۔ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کرو اور سجدہ ریزیوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی “۔ سورج کا طلوع و غروب اور غروب کے بعد رات کا منظر ، یہ سب آسمان اور زمین کے مناظر اور حرکات کے ساتھ منسلک ہیں۔ تسبیح و ثنا اور رکوع و سجود کو ان کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور تلقین یہ کی گئی ہے کہ ان لوگوں کی باتوں پر صبر کرو ، کیونکہ یہ ناحق حشر ونشر اور دوبارہ زندہ کرنے کو جھٹلاتے ہیں۔ یہاں گویا رات اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یہ وقت اللہ کی یاد کے ہیں۔ ان میں دعاء اور عبادت بہت قبول ہوتی ہے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں آپ ﷺ پر تین ہی نمازیں فرض تھیں۔ فجر اور عصر اور تہجد، بہرحال اب بھی ان تینوں وقتوں کو خصوصی فضل و شرف حاصل ہے نماز یا ذکر و دعاء وغیرہ سے ان اوقات کو معمور رکھنا چاہیے۔ حدیث میں ہے۔ " عَلَیْکُمْ بالْغُدْوَۃِ وَالرُّوْحَۃٍ وَ شَیْ ءٍ مِّنَ الدُّلْجَتہِ ۔ " بعض نے کہا کہ " قَبْلَ الطُّلُوعِ " سے نماز فجر " قَبَلَ الْغُرُوْبِ " سے ظہر و عصر اور " مِنَ الَّیْلِ " سے مغرب و عشاء مراد ہیں۔ واللہ اعلم۔ 2 یعنی نماز کے بعد کچھ تسبیح و تہلیل کرنا چاہیے۔ یا نوافل مراد ہوں جو فرائض کے بعد…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 40{ وَمِنَ الَّـیْلِ فَسَبِّحْہُ } ”اور رات کے حصوں میں بھی اس کی تسبیح بیان کرو۔“ { وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ۔ } ”اور سجدوں نمازوں کے بعد بھی۔“ یہ گویا نماز سے فارغ ہونے کے بعد کی تسبیح وتحمید کا حکم ہے۔ نمازوں کے بعد کے اذکار کی تفصیلات احادیث میں ملتی ہیں ‘ جیسے تسبیح فاطمہ رض 33 مرتبہ سبحان اللہ ‘ 33 مرتبہ الحمد للہ اور 33 یا 34 بار اللہ اکبر پڑھنا کی مداومت سے متعلق احادیث میں ترغیب آئی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

46 پانچ نمازوں کے اوقات :۔ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے پروردگار کی حمد سے مراد فرض نمازیں ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : خ جنت میں دیدار الہٰی :۔ سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی کہتے ہیں کہ ایک رات ہم آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چاند کو دیکھا جو چودھویں رات کا تھا۔ عنقریب تم (جنت میں) اپنے پروردگار کو یوں بےتکلف دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور تمہیں کوئی تکلیف محسوس نہ ہوگی۔ پھر اگر تم ایسا کرسکو کہ تم سے طلوع آفتاب سے پہلے کی نماز (فجر) اور غروب آفتاب سے پہلے کی نماز (عصر) قضانہ ہونے پائے تو ایسا ضرور کرو۔ اس کے بعد آپ نے یہی آیت پڑھی۔ ( فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ (آیت) ” ادبار السجود “۔ سجود سے یہاں مراد نماز ہے۔ وقد یعبر بہ عن الصلوۃ (راغب) ادبار السجود اے ادبار الصلوۃ (راغب) اے واعقاب الصلوت (بیضاوی) (آیت) ” ومن الیل “۔ رات کی نمازوں میں مغرب اور عشاء کی نمازیں آگئیں۔ حرف من سے اشارہ اس طرف بھی ہوگیا کہ مراد ساری رات نہیں، بلکہ اس کا صرف ایک حصہ، نماز، ذکروتسبیح کے لیے مخصوص کرلینا کافی ہے۔ اے اصرف من الیل طرفا الی التسبیح (کبیر) اے وسبحہ بعض الیل (بیضاوی) (آیت) ” فسبحہ “۔ تسبیح سے یہاں مراد فرض نمازوں کے بعد کے نوافل اور ادوار اذکار لیے گئے ہیں۔ وھو التسبیح بعد الصلوۃ لان التسبیح تنزیہ للہ عما لایلیق بہ والصلوۃ تشتمل علی قراءۃ القران و اذکارھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 38–40

ولقد خلقنا السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام و ما مسنا من غلوب امر واقعہ یہ ہے کہ یہ پوری کائنات ہم نے چھ دن میں بنا ڈلای اور اس کو بنا کر ہم تھک نہیں گئے کہ اس کی تعمیر نو ہمارے بس میں نہ رہی ہو، اب اگر یہ نادان لوگ آپ سے زندگی بعد الموت کی خبر سن کر تمہارا مذاق اڑاتے ہیں اور تمہیں دیوانہ قرار دیتے ہیں تو اس پر صبر کرو، ٹھنڈے دل سے ان کی ہر بیہودہ بات کو سنو اور جس حقیقت کے بیان کرنے پر آپ مامور کئے گئے ہیں اس کو بیان کرتے چلے جائیں۔ اس آیت میں ضمنی طور پر یہود و نصاریٰ پر ایک لطیف طنز بھی ہے، جس کا بائبل میں یہ افسانہ گھڑا گیا ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو بنایا اور (ہفتہ کو)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن اللیل فسبحہ و ادبار السجود اور اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہئے ‘ سورج نکلنے سے پہلے اور چھپنے سے پہلے اور رات کے کچھ حصہ میں اسکی تسبیح کیا کیجئے اور فرض نمازوں کے بعد بھی۔ وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ : یعنی مغرب و عشاء کی نماز پڑھو۔ مجاہد کے نزدیک اس سے مراد نماز شب ہے ‘ یعنی رات میں نوافل پڑھو۔ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ : حضرت عمر ‘ حضرت علی ‘ حسن ‘ شعبی ‘ نخعی اور اوزاعی کے نزدیک ادبار السجود سے مراد ہیں نماز مغرب سے پہلے کی دو رکعتیں اور ادبار النجوم سے مراد ہیں نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتیں ‘ بروایت عوفی حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے۔ ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہ حدیث مرفوعاً…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور رات کو بھی نماز پڑھتے رہا کیجیے یعنی مغرب و عشا یا یہ کہ تہجد اور فرض نمازوں کے بعد جیسا کہ مغرب کے بعد کی دو سنتیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 39–40

(1) فاصبر علی مایقولون وسبح بحمد ربک …: اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة طہ (130) کی تفسیر۔ (2) وادبار السجود : صظحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا :(امرۃ ان یسبح فی ادبار الصلوات کلھما یعنی قولہ :(وادبار السجود) (بخاری، التفسیر، باب قولہ :(وسبح بحمد ربک…): 3852)”واذبار السجود“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ تمام نمازوں کے بعد تسبیح پڑھا کریں۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس (33) دفعہ سبحان اللہ، تینتیس (33) دفعہ الحمد للہ اور تینتیس (33) دفعہ اللہ اکبر کہے تو یہ ننانوے (99) ہوگئے اور سو (100) پورا کرنے کے لئے کہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 39–40

مسئلہ نمبر 1 ۔ فاصبر علی مایقو لون یہ نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے مشرک جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرنے کا حکم دیا، یعنی ان کے امر کو اپنے اوپر آسان کر دیجئے۔ یہ جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے نازل ہوئی یہ منسوخ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ نبی کریم ﷺ اور آپ کی امت کے لئے ثابت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے یہودی جو کہتے ہیں ان کے قول پر صبر کیجئے کہ ان کا قول یہ تھا : اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے روز آرام کیا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ وسمح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب، ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد پانچ نمازیں ہیں۔ ابو صالح نے کہا : طلوع شمس سے پہلے صبح کی نماز ہے، غروب سے پہلے عصر کی نماز ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

اماقولہ تعالیٰ : (آیت ) '' ومن الیل فسبحہ وادبار السجود '' 7:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ومن الیل فسبحہ '' (یعنی رات میں اس کی تسبیح بیان کرو) مراد عشاء کی نماز سے (آیت) '' وادبار السجود '' اور (سجدوں کے پیچھے سے) مراد نوافل ہیں۔ 8:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ (آیت) '' وادبار السجود '' سے مراد ہے ساری رات۔ 9:۔ الترمذی (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس رات گزاری آپ نے فجر کی نماز سے پہلے دو ہلکی سی رکعتیں پڑھیں پھر نماز کی طرف تشریف لے گئے پھر آپ نے فرمایا اے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمِنَ الَّيْلِ [ اور رات میں سے ] فَسَبِّحْهُ [ پھر آپ تسبیح کریں اس کی ] وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ [اور سجدوں کے پیچھے (بعد بھی ) ] ترکیب : (آیت ۔ 40) ادبار یہاں ظرف زمان کے طور پر آیا ہے ، اس لیے حالت نصب میں ہیں ۔ سجد ۔ یسجد کا مصدر بھی سجود آتا ہے جبکہ سجدہ کی جمع بھی سجود آتی ہے ۔ اس لیے دونوں طرح کے ترجمے درست مانے جائیں گے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ وَ مِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ ﴾ (اور رات کو اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے) علماء نے فرمایا ہے کہ اس سے قیام اللیل یعنی رات کو نماز پڑھنا مراد ہے ﴿وَ اَدْبَار السُّجُوْدِ 0040﴾ (اور سجدوں کے بعد اللہ کی تسبیح بیان کیجئے) اس سے فرض نماز کے بعد نفل پڑھنا مراد ہے اور بعض حضرات نے نماز کے بعد تسبیحات پڑھنا مراد لیا ہے۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ قبل الطلوع سے نماز فجر اور قبل الغروب سے ظہر اور عصر اور من اللیل سے مغرب اور عشاء اور ﴿وَ اَدْبَار السُّجُوْدِ﴾ سے فرضوں کے بعد کے نوافل مراد ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–45

شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 39–40

22:۔ ” فاصبر “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ طلوع آفتاب سے قبل نماز فجر، غروب آفتاب سے قبل نماز ظہر اور عصر، اور من اللیل نماز مغرب اور عشاء اور ادبار السجود، فرائض کے بعد سنن و نوافل (خازن، مظہری، مدارک وغیرہ) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے وقت صرف دو نمازیں فجر اور عصر اور رات کو نماز تہجد مشروع تھی قبل طلوع الشمس سے نماز فجر، قبل الغروب سے نماز عصر، من اللیل سے نماز تہجد اور ادبار السجود سے نوافل مراد ہیں۔ یعنی مشرکین کی بےتکی باتوں اور ان کے بےجا مطاعن و اعتراضات پر آپ صبر کریں اور اللہ کی تسبیح وتحمید بجا لاتے رہیں۔” سبح بحمد ربک “ میں عذاب الٰہی سے بچنے کے لیے توحید کا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 39–45

ربط آیات اللہ نے اس سورة مبارکہ میں وقوع قیامت کے بعض دلائل بیان کیے اور اس کے منکرین کا رد کیا ۔ پھر قیامت کی مختلف کیفیات اور مجرموں کا انجام ذکر کیا ۔ بعض سابقہ اقوام کی نافرمانی اور ان کی ہلاکت کا تذکر ہ کیا ۔ پھر ارض و سماء کی تخلیق اور خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ اور اس کی بےنیازی کا بیان ہوا ۔ اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون ذکر کیا ہے۔ کفار و مشرکین اہل ایمان پر طرح طرح کے الزامات لگاتے تھے اور ان کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے ۔ مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی تکالیف پہنچاتے تھے اس کے علاوہ یہود و نصاریٰ اور منافقین کی ریشہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْہُ وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ۝ 40 ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–45

ترکیب : من لغوب من زائدۃ لغوب تعب و اعیاء یقال لعب یلعب بالضم لغوباً من اللیل ای بعض اللیل فانہ مفعول لفعل مضمر معطوف علی سبح بحمد ربک یفسرہ فسبحہ و من للتبعیض۔ ادبارالسجودای سبحہ اعقاب اصلوٰۃ قرء الجمہور بفتح الھمزۃ جمع و بردقری بکسرھا علی المصدر من ادبرالشیء ادبارا۔ فھی ظرف لسبحہ۔ یوم یسمعون بدل من یوم ینادی یوم تشقق ظرف للضمیر او بدل من یوم الاول سراعا حال ای یخرجون مسرعین۔ واستمع ابرم نادی المناد فیہ ثلاثہ بوجہ اھما ان تبرک مفعولہ راسا وکیون المقصود کن سمنعاً ثانیھا استمع لما یوحی الیک وثالثھا استمع لکسناوی فعلی الاول العامل فی یوم ما یدل علیہ قولہ یوم الخر فی تقدیرہ یخرجون یوم ینادی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 38–40

وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ صلے ق وَّمَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ ۔ فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ ۔ وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ وَاَدْبَارَالسُّجُوْدِ ۔ (قٓ: 38 تا 40) (اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دنوں میں پیدا کیا، اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی۔ پس اے نبی ! جو کچھ یہ کہتے ہیں ان پر صبر کیجیے، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہئے طلوعِ آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے۔ اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کیجیے، اور سجدہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–40

فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کی ابتدائی آیات میں انسان کے مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرنے کا ثبوت دیا گیا ہے اب فرمایا کہ کیا لوگوں نے اس بات پر غور نہیں کیا ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو کس طرح بلندیوں پر کھڑا کر رکھا ہے اور زمین کو کس طرح پھیلایا اور بچھایا ہے۔ سورت کا اختتام بھی اسی بات سے کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور ان کے بنانے اور پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کو کسی قسم کی کوئی تھکاوٹ اور اکتاہٹ محسوس نہیں ہوئی اگر یہ لوگ ٹھوس اور واضح دلائل کو نہیں مانتے اور قیامت کا مذاق اڑاتے اور اللہ تعالیٰ کی گستاخی کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تسبیح سے مراد : آیت 40 : وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ (اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیا کریں) نمبر 1۔ مغرب و عشاء۔ نمبر 2۔ تہجد کی نماز۔ وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ (اور نمازوں کے بعد بھی) اور تسبیح نماز کے اعمال میں۔ رکوع اور سجدہ کی تعبیر نماز سے کی گئی۔ ایک قول یہ ہے : فرائض کے بعد نوافل۔ نمبر 2۔ وتر جو نماز عشاء کے بعد پڑھے جاتے ہیں۔ الاَدْبَار۔ جمع دُبُرکی ہے قراءت : خلف ٗ حجازی اور حمزہ نے ادبار پڑھا ہے۔ یہ ادبرت الصلٰوۃ سے لیا گیا۔ جبکہ اس کو مکمل اور پورا کرو۔ اس کا معنی یہ ہوا۔ وقت انقضاء السجود۔ جیسا کہ کہتے ہیں اٰتیک خفوق النجم ای وقت خفوق النجم۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

39 ۔” فاصبر علی مایقولون “ ان کے کذب سے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی گھات میں ہیں اور یہ ان کے قتال کا حکم دینے سے پہلے کی آیت ہے۔ ” وسبح بحمد ربک “ یعنی اللہ تعالیٰ کی حمد کے لئے نماز پڑھیں۔ ” قبل طلوع الشمس “ یعنی صبح کی نماز ” وقبل الغروب “ یعنی عصر کی نماز۔ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ قبل الغروب سے ظہر وعصر مراد ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–40

36۔ 40۔ دوزخ کے عذاب کے ذکر کے بعد دنیا کے عذاب سے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو ڈرایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کچھ قیامت پر ہی موقوف نہیں ہے۔ دنیا کے طرح طرح کے عذابوں سے بھی بہت سی پہلی ایسی قومیں ہلاک ہوچکی ہیں جو حال کے لوگوں سے قوت ثروت سب میں زیادہ تھیں۔ پھر باوجود اس قوت و ثروت کے اللہ کے عذاب سے بچنے کا کوئی ٹھکانہ انہوں نے نہ پایا حال کے لوگ بھی اگر اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو ایک دن یہی نتیجہ ان کا ہوگا پھر فرمایا ہر شخص صاحب عقل نصیحت کو کان لگا کر سننے والے کو یہ پچھلی قوموں کی ہلاکت کے قصے سن کر بڑی عبرت پکڑنی چاہئے تاکہ کہیں یہی دن اس کے آگے نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 38–40

یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی قدرت عظیم اور مشیت نافذہ کے بارے میں خبر ہے، جن کے ذریعے سے اس نے سب سے بڑی مخلوق کو وجود بخشا۔ (السموت والارض وما بینھما فی سءۃ ایام) ” آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، چھ دن میں (پیدا کیا) ۔ “ پہلا دن اتوار تھا اور آخری یعنی چھٹا دن جمعہ تھا، اس کو کسی مشقت کا سامنا کرنا پڑا نہ تھکن کا اور اسے کوئی لاغری لاحق ہوئی نہ لاچاری۔ پس وہ اللہ، جو زمین و آسمان کو، ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وجود میں لایا، اس کا مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونا زیادہ اولیٰ اور زیادہ لائق ہے۔ (فاصبر علی ما یقولون) ” پس جو کچھ یہ کہتے ہیں، اس پر صبر کیجئے۔ “ وہ آپ کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 40–45

نماز مغرب وعشاء کی تاکید نیز تہجد سے کیا مراد ہے قول باری ہے (ومن اللیل فسبحہ۔ اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے) مجاہد کا قول ہے اس سے صلوٰۃ اللیل یعنی تہجد کی نماز مراد ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سے مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد لینا بھی جائز ہے۔ نمازوں کے بعد تسبیحات قول باری ہے (وادبار السجود۔ اور نمازوں کے بعد بھی) حضرت عمر ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حسن بن علی ؓ ، حسن بصری، مجاہد، نخعی اور شعبی نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مغرب کی نماز کے بعد دو رکعتیں اور (وادبار النجوم اور ستاروں سے پیچھے بھی) سے فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں مراد ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 60] نمازوں کے بعد بھی تسبیح وتحمید کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور سجدوں کے بعد بھی۔ " ادبار " جمع ہے " دبر " کی جس کے معنی پیچھے کے آتے ہیں۔ یعنی نمازوں کے بعد اس کی تسبیح کیا کرو، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابن عباس کی حدیث میں نمازوں کے بعد اس کی تسبیح کے بارے میں مروی ہے کہ تینتیس مرتبہ " سبحان اللّٰہ " تینتیس مرتبہ " الحمدللّٰہ " اور تینتیس مرتبہ " اللہ اکبر " کہے اور اس کے بعد ایک مرتبہ " لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہٗ لہٗ الملک ولہ الحمد یحی ویمیت وھو علی کل شیء قدیر " پڑھے اور اس کے ثوب کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس شخص کے گناہ معاف کردیے جائیں گے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 37–45

سمجھنے والے اللہ کی قدرت کو دیکھتے ہیں تشریح : سب سے پہلے تو اس بات پر توجہ دلائی گئیـ ہے کہ قرآن کو سمجھنا اور اللہ کا ادراک یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جو اس طرف رجحان رکھتے ہیں۔ جن کی طبیعت میں پاکی اور روحانیت کا کچھ حصہ موجود ہوتا ہے۔ وہ قرآن کے مضامین سے ہدایت حاصل کرلیتے ہیں اس سے اللہ کی طرف سے اعجاز سمجھتے ہیں ان کو اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت دکھائی دیتی ہے وہ اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے اس کی تمام صفات کو پہچان لیتے ہیں۔ اس کی وحدانیت، خلاقی، عظمت، حسن و خوبی، قدرت اور لافانیت۔ سب کچھ ان کو خود اپنے جسموں کی بناوٹ میں آسمانوں، زمین، پھول، پھل رات دن، ہوا اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–45

آیات 30 تا 45۔ دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اواب اور حفیظ ۔ اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 39–40

ف 9 اس سے مراد نماز پڑھنا ہے۔ سورجن نکلنے سے پہلے فجر کی نماز ہے اور سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی نماز ہے اور رات کے وقت تہجد کی نماز ہے۔ ان اوقات میں نماز پڑھنا آنحضرت اور مسلمانوں پر فرض تھا پھر معراج کے موقع پر جب پانچ نمازیں فرض کی گئیں اور ان کے اوقات بھی متعین کردیئے گئے تو فجر اور عصر کی نمازیں تو بدستور فرض رہیں لیکن تہجد کی نماز نفلی قرار دے دی گئی۔ فجر اور عصر کی نماز کی قرآن و حدیث میں خاص طور پر ترغیب آئی ہے اور جو لوگ یہ دو نمازیں پابندی سے پڑھتے ہیں ان کو آخرت میں دیدار الٰہی نصیب ہوگا۔ (ابن کثیر) نماز بعد تسبیح سے مراد سبحان اللہ والحمد اللہ اللہ اکبر کلمات بھی ہوسکتے ہیں جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:40) ومن الیل فسبحہ واؤ عاطفہ ہے من تبعیضیہ من الیل مفعول فیہ ہے فعل مذحوف کا۔ ای وسبحہ من الیل فسبحہ اور رات کے کچھ وقت میں بھی اس کی پاکی بیان کر۔ پس اس کی پاکی بیان کر ۔ وادبار السجود : ای وسبحہ ادبار السجود : ادبار فعل محذوف سبحہ کا مفعول فیہ ہے دبر کی جمع بمعنی پیٹھیں۔ پیچھے کے معنی میں بھی مستعمل ہے اور سجدوں (نمازوں) کے بعد بھی اس کی تسبیح کر۔ فائدہ : آیات 39:40 میں تسبیح سے مراد نامز پڑھنا ہے تسبیح قبل طلوع الشمس سے مراد نماز فجر ہے تسبیح قبل الغروب سے مراد نماز ظہر و عصر ہے من الیل سے مراد نماز مغرب و عشاء ہے اور ادبار السجود سے مراد نوافل ہیں جو فرائض کے بعد پڑھے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 36–40

لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 40 : نقبوا (وہ بھاگے دوڑے) محیص ( پناہ کی جگہ) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) مامسنا ( ہم کو نہیں چھوا) ‘ لغوب (تھکاوٹ۔ تھکن) ‘ ادبار ( پیچھے۔ بعد میں) ۔ تشریح : آیت نمبر 36 تا 40 : اعلان نبوت کے بعد وہی لوگ جو نبی کریم ﷺ کو بہت چاہتے تھے اس طرح آپ کے دشمن بن گئے کہ آپ کا اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کا مکہ میں رہنا دشوار ہوگیا اور ان مکہ کی سرزمین کو تنگ کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے قوموں کے ابھرنے ‘ عروج و ترقی تک پہنچنے اور نافرمانیوں کی وجہ سہ مٹ جانے کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حق و صداقت کے راستے پر چلنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–40

(ف 1) شان نزول : یہ آیت یہود کے رد میں نازل ہوئی جو یہ کہتے تھے کہ اللہ تعای نے آسمان و زمین اور ان کے درمیانی کائنات کو چھ روز میں بنایا جن میں سے پہلا اتوار ہے پچھلا جمعہ پھر وہ معاذ اللہ تھک گیا اور ہفتہ کو اس نے عرش پر لیت کر آرام لیا، اس آیت میں ان کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ تھکے، وہ قادر ہے کہ ایک ان میں ساراعالم بنادے، ہر چیز کو حسب اقتضائے حکمت ہستی عطا فرماتا ہے شان الٰہی میں یہود کا یہ کلمہ نبی ﷺ کو بہت ناگوار ہوا، اور شدت غضب سے چہرہ مبارک پر سرخی نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسکین فرمائی اور یہ آیت نازل فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[14] اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی تسبیح سے مراد یہاں نماز ہے۔ جس مقام پر بھی قرآن میں حمد و تسبیح کو خاص اوقات کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے وہاں اس سے مراد نماز ہی ہوتی ہے۔ '' سورج کے طلوع ہونے سے پہلے '' فجر کی نماز اور '' غروب سے پہلے '' ظہر اور عصر کی نمازوں کی طرف اشارہ ہے۔ '' رات کے وقت '' مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں اور تیسری تہجد کی نماز بھی رات کی تسبیح میں شامل ہے۔ تہجد اگرچہ فرائض میں داخل نہیں ہے لیکن تربیت صبر کے پہلو سے نہایت اہم ہے۔ [15] اس سے مراد ذکر بعد نماز بھی ہوسکتا ہے اور نوافل بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–45

ف 2: وما مسنا من لغوب ہے مراد یہ ہے کہ موسیٰ کی کتاب تکوین میں جو لکھا ہے ۔ کہ ساتویں دن خدا نے آرام کیا ۔ یہ تعریف انسانی ہے ۔ اللہ نے اس دنیائے حقیر کو پیدا کرکے بالکل تکان محسوس نہیں کی ۔ کیونکہ وہاں تھک جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہاں تو صرف اعادہ کی ضرورت ہے ۔ اور پھر آپ سے آپ کائنات منصف مشہود پر جلوہ گر ہوجاتی ہے ۔ حل لغات :۔ لغوب ۔ تکان ۔ تھکاوٹ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(40) اور کچھ رات کے اوقات میں بھی اس کی تسبیح و تقدیس کیا کیجئے اور نمازوں کے بعد بھی یعنی اس کی تسبیح و تقدیس کیا کیجئے۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس اور اس کی تحمید علاج ہے دل کے مضبوط اور قلب کے مطمئن ہونے کا۔ اہل علم نے فرمایا اس میں پانچوں نمازوں کا ذکر ہے اور نماز کے بعد سنن ونوافل کی طرف اشارہ ہے مثلاً سورج کے طلوع ہونے سے پہلے صبح کی نماز اور غروب سے قبل ظہر اور عصر کی نماز رات میں مغرب اور عشاء کی نماز ادبار السجود یعنی نماز کے بعد نوافل وغیرہ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ومن الیل میں تہجد بھی داخل ہو، بہرحال جب یہ لوگ اتنے دلائل واضحہ کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کو دوبارا پیدا کرنے سے عاجز کہتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ حاصل یہ ہوا کہ ذکر اللہ میں اور اس کی فکر میں لگے رہیے، تاکہ ان کے اقوال کفریہ کی طرف توجہ نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور رات کو بھی اللہ کی تسیح کرو اور ستاروں کے ڈھلنے کے بعد بھی 40 ۔ گزشتہ آیت میں قبل طلوع الشمس و قل الغروب سورج کے طلوع اور اس کے غروب سے پہلے کے الفاظ بول کر دن کو دو اہم نمازوں کا ذکر کیا گیا ہے یعنی فجر اور عصر کا اور زیر نظر آیت میں (ومن الیل فسبحہ) میں رات کی دو اہم نمازوں کا ذکر فرما دیا اور رات کی نماز میں عشا کی ناز آجاتی ہے او تہجد کی اگرچہ فرض نہیں ہے لیکن نفل میں جو شان اور جو حقیقت و لطف اور مزہ تہجد کی نماز میں ہے وہ کسی دوسری نفلی نماز میں نہیں ہے اور یہ بھی کہ یہ دونوں نمازیں بہت اہمیت رکھتی ہیں اور ان کی وہی اہمیت ہے جو دن کی نمازوں میں فجر اور عصر کی ہے اور اس کے بعد فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَأَدْبَارَ‌ السُّجُودِ (...and at the ends of prostration.... 50:40) Mujahid (رح) interprets sujud in this verse to refer to the five obligatory prayers, and the phrase "at the ends of the prostrations", according to him, refers to all those tasbihat which authentic ahadith encourage us to recite after every prayer. Sayyidna Abu Hurairah ؓ reports that the Holy Prophet ﷺ said: "Whosoever recites after every obligatory prayer 33 times subhanallah (سُبحَانَ اللہ), 33 times al-hamdulillah (اَلحَمدُ للہ) and 33 times allahu 'akbar (اللہُ اَکبَر), and once: لَا اِلٰہَ ِالّا اللہُ وَحدَہُ ، لَا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

51 This is the means by which man gets the power and energy to continue his struggle to raise the Word of the Truth and to call the people towards righteousness throughout life with full determination even though he may have to pass through heart-breaking and soul-destroying conditions and his efforts may seem to be bearing no fruit. Praising and glorifying the Lord implies the Prayer here, and wherever in the Qur'an the praise and glorification has been associated with specific times, it implies the Prayer. The Prayer "before sunrise" is the Fajr Prayer, and the Prayers "before sunset" are…

Read the full tafseer →