Qaaf 50:39

Qaaf · from ayah 39

50:39

فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ ۟ۚفَاصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَقَبۡلَ الۡغُرُوۡبِ‌ۚ‏

تو جو کچھ یہ (کفار) بکتے ہیں اس پر صبر کرو اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

So be patient, [O Muhammad], over what they say and exalt [Allah] with praise of your Lord before the rising of the sun and before its setting,

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:39

پس اے نبیؐ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو، طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو جو کچھ یہ (کفار) بکتے ہیں اس پر صبر کرو اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس یہ جو کچھ کہتے ہیں آپ اس پر صبر کریں اور اپنے رب کی تسبیح تعریف کے ساتھ بیان کریں سورج نکلنے سے پہلے بھی اور سورج غروب ہونے سے پہلے بھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا (اے پیغمبر) جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں تم اس پر صبر کرو، اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہو، سورج نکلنے سے پہلے بھی، اور سورج ڈوبنے سے پہلے بھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو آپ اُن باتوں پر جو وہ کہتے ہیں صبر کیجئے اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروبِ آفتاب سے پہلے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سو اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس (اے نبی !) جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں اس پر صبر کیجیے اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ طلوع آفتاب اور غروب سے پہلے تسبیح کیجئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جو کچھ یہ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور اپنے رب کی تسبیح کرتے رہو، اس کی حمد کے ساتھ، سورج کے طلوع او اس کے غروب سے پہلے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں (اے پیغمبر !) ان تمام باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں (حق اور اہل حق کے خلاف) اور تسبیح کرتے رہو اپنے رب کی حمد (و ثنا) کے ساتھ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے بھی اور اس کے چھپنے سے پہلے بھی

— مولانا اسحاق مدنی

سو آپ ان کی باتوں پر صبر ہی کیجئے اور اپنے پروردگار کی حمد وتسبیح کرتے رہئے آفتاب نکلنے سے پہلے اور (اس کے) چھپنے سے پہلے بھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ آپ صبر کیجیے اس پر جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے سورج کے طلوع ہونے سے قبل اور غروب ہونے سے قبل۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو جو کچھ یہ کفار بکتے ہیں اس پر صبر کرو آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Hence bear with patience whatever they say, and celebrate your Lord's glory before the rising of the sun and before its setting;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, (O Prophet,) endure with patience what they say, and proclaim His purity, along with your Lord‘s praise, before sunrise and before sunset.

— Muhammad Taqi Usmani

So, (O Prophet,) endure with patience what they say, and proclaim His purity, along with your Lord‘s praise, before sunrise and before sunset.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So bear with patience all that they say, and glorify the praises of your Lord, before the rising of the sun and before (its) setting.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therefor (O Muhammad) bear with what they say, and hymn the praise of thy Lord before the rising and before the setting of the sun;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So be patient, [O Muhammad], over what they say and exalt [Allah] with praise of your Lord before the rising of the sun and before its setting,

— Saheeh International

(Muhammad), exercise patience against what they say. Glorify your Lord with His praise before sunrise and sunset.

— Muhammad Sarwar

Therefore be patient of what they say, and sing the praise of your Lord before the rising of the sun and before the setting.

— Muhammad Habib Shakir

So bear thou patiently with that which they say, and hallow the praise of thine Lord before the rising of the sun and before its setting.

— Abdul Majid Daryabadi

Bear, then, with patience, all that they say, and celebrate the praises of thy Lord, before the rising of the sun and before (its) setting.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–40

بےسود کوشش ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں ؟ ان سے بہت زیادہ قوت وطاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ وبالا کرچکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں زمین میں خوب فساد کیا۔ لمبے لمبے سفر کرتے تھے ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی اللہ کی قضا و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا ؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آگیا بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لئے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ دھیان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پاسکتا ہے یعنی دل کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 50 یعنی امر واقعہ یہ ہے کہ یہ پوری کائنات ہم نے چھ دن میں بنا ڈالی ہے اس کو بنا کر ہم تھک نہیں گئے ہیں کہ اس کی تعمیر تو کرنا ہمارے بس میں نہ رہا ہو۔ اب اگر یہ نادان لوگ تم سے زندگی بعد موت کی خبر سن کو تمہارا مذاق اڑاتے ہیں اور تمہیں دیوانہ قرار دیتے ہیں تو اس پر صبر کرو۔ ٹھنڈے دل سے ان کی ہر بیہودہ بات کو سنو اور جس حقیقت کے بیان کرنے پر تم مامور کیے گئے ہو اسے بیان کرتے چلے جاؤ۔ اس آیت میں ضمناً ایک لطیف طنز یہود و نصاریٰ پر بھی ہے جن کی بائبل میں یہ افسانہ گھڑا گیا ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو بنایا اور ساتویں دن آرام کیا (پیدائش 2 2) اگرچہ اب مسیحی پادری اس بات سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ ، سبح تسبیح سے مشتق ہے، اس کے حقیقی معنی اللہ کی تسبیح کرنا یعنی پاکی بیان کرنا ہے، وہ زبانی تسبیح کو بھی شامل ہے اور عبادت نماز کو بھی اسی لئے بعض حضرات نے فرمایا کہ تسبیح قبل طلوع الشمس سے مراد نماز فجر ہے اور تسبیح قبل الغروب سے مراد نماز عصر ہے، حضرت جریربن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک طویل حدیث کے ضمن میں) فرمایا ان استطعتم ان لا تغلبوا علیٰ صلوٰة قبل طلوع الشمس و قبل غروبھا یعنی العصر و الفجر ثم قرا جریر وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ (بخاری و مسلم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فاصبر علی مایقولون یہ نبی ﷺ کو تلقین صبر ہے کہ یہ جو کچھ تمہاری تکذیب میں کر رہے ہیں اس پر صبر کرو۔ مایقولون سے اشارہ مکذبین کی اسی طرح کی باتوں کی طرف ہے جس کی ایک مثال آیات 3-2 میں گزر چکی ہے۔ فقال الکفرون ھذا شیء عجیبۃ واذا متنا وکنا تراباً ذلک وجع بعید (3-2) (تو کافروں نے کہا یہ تو نہایت عجیب تا ہے ! کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے تو ہم از سر نو اٹھائے جائیں گییہ لوٹایا جانا تو نہایت مستبعد ہے ! !) مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا جو اللہ نے اس اہتمام سے پیدا کی ہے وہ لازماً اپنی غایت کو پہنچ کر رہے گا۔ ہم اس کو پیدا کر کے تھک نہیں گئے ہیں کہ اس کو دوبارہ نہ پیدا کرسکیں لیکن جو لوگ دل کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

39۔ 1 یعنی صبح وشام اللہ کی تسبیح بیان کرو یا عصر اور فجر کی نماز پڑھنے کی تاکید ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–40

16: تسبیح سے یہاں مراد نماز ہے۔ چنانچہ طلوع آفتاب سے پہلے کے الفاظ میں نماز فجر، غروب سے پہلے کے الفاظ میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں، اور رات کے حصوں میں تسبیح کرنے کے الفاظ میں مغرب، عشاء اور تہجد کی نمازیں۔ 17: سجدوں سے مراد فرض نمازیں ہیں، اور ان کے بعد تسبیح کرنے سے مراد نفلی نمازیں ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے اس کی یہی تفسیر منقول ہے (روح المعانی)

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 39–40

فاصبر علی ما یقولون ۔۔۔۔۔۔ قبل الغروب (39) ومن الیل ۔۔۔۔ السجود (50 : 39 تا 40) ” پس اے نبی ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو ، اور پنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو۔ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کرو اور سجدہ ریزیوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی “۔ سورج کا طلوع و غروب اور غروب کے بعد رات کا منظر ، یہ سب آسمان اور زمین کے مناظر اور حرکات کے ساتھ منسلک ہیں۔ تسبیح و ثنا اور رکوع و سجود کو ان کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور تلقین یہ کی گئی ہے کہ ان لوگوں کی باتوں پر صبر کرو ، کیونکہ یہ ناحق حشر ونشر اور دوبارہ زندہ کرنے کو جھٹلاتے ہیں۔ یہاں گویا رات اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی ایسی موٹی باتوں کو یہ لوگ نہ سمجھیں تو آپ غمگین نہ ہوں۔ بلکہ ان کی بیہودہ بکواس پر صبر کرتے رہیں۔ اور اپنے پروردگار کی یاد میں دل لگائے رکھیں جو تمام زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا اور ہر چیز کے بنانے اور بگاڑنے پر قدرت رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39{ فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَـقُوْلُوْنَ } ”تو اے نبی ﷺ آپ صبر کیجیے اس پر جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں“ { وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَـبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَـبْلَ الْغُرُوْبِ۔ } ”اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے سورج کے طلوع ہونے سے قبل اور غروب ہونے سے قبل۔“ جیسا کہ قبل ازیں ذکر ہوچکا ہے ‘ زیر مطالعہ سورتیں مکی دور کے ابتدائی چار سال کے دوران نازل ہوئی تھیں۔ اس وقت تک پنج گانہ نماز کا باقاعدہ نظام وضع نہیں ہوا تھا۔ پنج گانہ نماز تو معراج کے موقع پر 10 نبوی ﷺ میں فرض ہوئی تھی۔ اس سے پہلے تو بس صبح وشام اللہ کا ذکر کرنے کی بار بار تلقین و تاکید کی جاتی تھی ‘ جیسا کہ سورة طٰہ کی آیت 130…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

45 جب کوئی مسلمان اپنے اعداء کی شماتت، تمسخر، تضحیک، ایذا رسانیوں سے تنگ آجائے یا کسی اور وجہ سے مشکلات میں گھر جائے تو اسے صبر و برداشت سے کام لینا چاہئے اور اپنے پروردگار سے لو لگانا چاہئے اسی کو اپنا سہارا سمجھنا چاہئے۔ اسی کی تسبیح و تہلیل اور یاد میں مشغول رہنا چاہئے اس سے اس کی ذہنی کوفت بہت حد تک دور اور ہلکی ہوجائے گی یہی وہ نسخہ کیمیا ہے جس کی نبی اکرم کو تلقین کی جارہی ہے اور سب مسلمانوں کو بھی متعدد مقامات پر ایسی ہی تلقین کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

29۔ (کہ اس ذکر الہی میں لگے رہنے سے آپ کی توجہ ہی ان کافروں کے معاندانہ اقوال و اعمال کی طرف کم رہے گی، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں صاف دلالت اس پر ہے کہ شدائد میں تسلی کا قوی ترین ذریعہ اللہ کی طرف توجہ ہے۔ (آیت) ” قبل طلوع الشمس “۔ اشارہ نماز فجر کی طرف ہے بمعنی صلاۃ الصبح (معالم) (آیت) ” وسبح بحمد ربک “۔ تسبیح سے یہاں مراد نماز ہی ہے۔ ارادبہ الصلوۃ (جصاص) اے فصل لہ (ابن کثیر) اے صل حمدا اللہ (معالم)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 38–40

ولقد خلقنا السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام و ما مسنا من غلوب امر واقعہ یہ ہے کہ یہ پوری کائنات ہم نے چھ دن میں بنا ڈلای اور اس کو بنا کر ہم تھک نہیں گئے کہ اس کی تعمیر نو ہمارے بس میں نہ رہی ہو، اب اگر یہ نادان لوگ آپ سے زندگی بعد الموت کی خبر سن کر تمہارا مذاق اڑاتے ہیں اور تمہیں دیوانہ قرار دیتے ہیں تو اس پر صبر کرو، ٹھنڈے دل سے ان کی ہر بیہودہ بات کو سنو اور جس حقیقت کے بیان کرنے پر آپ مامور کئے گئے ہیں اس کو بیان کرتے چلے جائیں۔ اس آیت میں ضمنی طور پر یہود و نصاریٰ پر ایک لطیف طنز بھی ہے، جس کا بائبل میں یہ افسانہ گھڑا گیا ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو بنایا اور (ہفتہ کو)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاصبر علی ما یقولون . سو آپ ﷺ ان کی باتوں پر صبر کیجئے۔ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ : یعنی یہودیوں کے اس قول پر کہ اللہ تھک گیا ‘ پھر اس نے آرام لیا ‘ صبر کیجئے یا مشرک جو انکار قیامت کرتے ہیں اس پر صبر کیجئے کیونکہ جو خدا ابتدائی تخلیق عالم پر قادر ہے ‘ وہ ان کو دوبارہ زندہ کرنے اور ان سے انتقام لینے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔ وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس و قبل الغروب . وَ سَبِّحْ : یعنی نماز پڑھو۔ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَمْسِ : یعنی فجر کی نماز۔ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِ : یعنی عصر کی نماز۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قبل الغروب ‘ ظہر اور عصر۔ شاید حضرت ابن عباس کی یہ تفسیر اسی قول پر مبنی ہے کہ دونوں نمازوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

سو آپ ان یہودیوں کی باتوں پر یا ان پانچ مذاق اڑانے والے گروہوں کی باتوں پر جن کا ہم نے دوسرے مقام پر تذکرہ کیا ہے صبر کیجیے اور آپ اپنے پروردگار کے حکم سے نماز پڑھتے رہیے آفتاب نکلنے سے پہلے مثلا صبح کی نماز اور اس کے غروب ہونے سے پہلے یعنی ظہر و عصر۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 39–40

(1) فاصبر علی مایقولون وسبح بحمد ربک …: اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة طہ (130) کی تفسیر۔ (2) وادبار السجود : صظحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا :(امرۃ ان یسبح فی ادبار الصلوات کلھما یعنی قولہ :(وادبار السجود) (بخاری، التفسیر، باب قولہ :(وسبح بحمد ربک…): 3852)”واذبار السجود“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ تمام نمازوں کے بعد تسبیح پڑھا کریں۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس (33) دفعہ سبحان اللہ، تینتیس (33) دفعہ الحمد للہ اور تینتیس (33) دفعہ اللہ اکبر کہے تو یہ ننانوے (99) ہوگئے اور سو (100) پورا کرنے کے لئے کہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 39–40

مسئلہ نمبر 1 ۔ فاصبر علی مایقو لون یہ نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے مشرک جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرنے کا حکم دیا، یعنی ان کے امر کو اپنے اوپر آسان کر دیجئے۔ یہ جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے نازل ہوئی یہ منسوخ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ نبی کریم ﷺ اور آپ کی امت کے لئے ثابت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے یہودی جو کہتے ہیں ان کے قول پر صبر کیجئے کہ ان کا قول یہ تھا : اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے روز آرام کیا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ وسمح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب، ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد پانچ نمازیں ہیں۔ ابو صالح نے کہا : طلوع شمس سے پہلے صبح کی نماز ہے، غروب سے پہلے عصر کی نماز ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 38–39

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اتوار، پیر، منگل، بدھ، خمیس، اور جمعہ کو پیدا فرمایا اور ہفتہ کے دن آرام فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی '' ولقد خلقنا السموت والارض وما بینہما فی ستۃ ایام، وما مسنا من لغوب '' (اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور ہم کو تھکان نے چھوا تک نہیں۔ اللہ تعالیٰ ضعف و کمزوری سے پاک ہے : 2:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاصْبِرْ عَلٰي مَا [ تو آپ صبر کریں اس پر جو ] يَقُوْلُوْنَ [ یہ لوگ کہتے ہیں ] وَسَبِّــحْ [ اور آپ تسبیح کریں ] بِحَمْدِ رَبِّكَ [ اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ [ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے ] وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ [ اور (اس کے ) غروب کے پہلے ] نوٹ۔ 2: آیات 39 ۔ 40 ۔ میں وہ ذریعہ بتایا گیا ہے جس سے آدمی کو یہ طاقت حاصل ہوتی ہے کہ دعوت حق کی راہ میں اسے خواہ کیسے ہی دل شکن اور روح فرسا حالات سے سابقہ پیش آئے ، اس کی کوشش کا کوئی نتیجہ نکلتا بھی نظر نہ آئے ، پھر بھی وہ پورے عزم کے ساتھ زندگی بھر کلمہ حق بلند کرنے اور دنیا کو خیر کی طرف بلانے کی جدوجہد جاری رکھے ۔ رب کی حمد…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿فَاصْبِرْ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ0039﴾ (اور اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے جس کے ساتھ حمد بھی ہو سورج نکلنے اور سورج چھپنے سے پہلے) مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے فجر اور عصر کی نماز مراد ہے ان دونوں کی حدیث مبارکہ میں خاص فضیلت وارد ہوئی ہے، عمارہ بن روبیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی ایسا شخص دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور چھپنے سے پہلے نماز پڑھی۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 62)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–45

شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 39–40

22:۔ ” فاصبر “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ طلوع آفتاب سے قبل نماز فجر، غروب آفتاب سے قبل نماز ظہر اور عصر، اور من اللیل نماز مغرب اور عشاء اور ادبار السجود، فرائض کے بعد سنن و نوافل (خازن، مظہری، مدارک وغیرہ) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے وقت صرف دو نمازیں فجر اور عصر اور رات کو نماز تہجد مشروع تھی قبل طلوع الشمس سے نماز فجر، قبل الغروب سے نماز عصر، من اللیل سے نماز تہجد اور ادبار السجود سے نوافل مراد ہیں۔ یعنی مشرکین کی بےتکی باتوں اور ان کے بےجا مطاعن و اعتراضات پر آپ صبر کریں اور اللہ کی تسبیح وتحمید بجا لاتے رہیں۔” سبح بحمد ربک “ میں عذاب الٰہی سے بچنے کے لیے توحید کا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 39–45

ربط آیات اللہ نے اس سورة مبارکہ میں وقوع قیامت کے بعض دلائل بیان کیے اور اس کے منکرین کا رد کیا ۔ پھر قیامت کی مختلف کیفیات اور مجرموں کا انجام ذکر کیا ۔ بعض سابقہ اقوام کی نافرمانی اور ان کی ہلاکت کا تذکر ہ کیا ۔ پھر ارض و سماء کی تخلیق اور خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ اور اس کی بےنیازی کا بیان ہوا ۔ اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون ذکر کیا ہے۔ کفار و مشرکین اہل ایمان پر طرح طرح کے الزامات لگاتے تھے اور ان کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے ۔ مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی تکالیف پہنچاتے تھے اس کے علاوہ یہود و نصاریٰ اور منافقین کی ریشہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاصْبِرْ عَلٰي مَا يَقُوْلُوْنَ وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ۝ 39 ۚ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–45

ترکیب : من لغوب من زائدۃ لغوب تعب و اعیاء یقال لعب یلعب بالضم لغوباً من اللیل ای بعض اللیل فانہ مفعول لفعل مضمر معطوف علی سبح بحمد ربک یفسرہ فسبحہ و من للتبعیض۔ ادبارالسجودای سبحہ اعقاب اصلوٰۃ قرء الجمہور بفتح الھمزۃ جمع و بردقری بکسرھا علی المصدر من ادبرالشیء ادبارا۔ فھی ظرف لسبحہ۔ یوم یسمعون بدل من یوم ینادی یوم تشقق ظرف للضمیر او بدل من یوم الاول سراعا حال ای یخرجون مسرعین۔ واستمع ابرم نادی المناد فیہ ثلاثہ بوجہ اھما ان تبرک مفعولہ راسا وکیون المقصود کن سمنعاً ثانیھا استمع لما یوحی الیک وثالثھا استمع لکسناوی فعلی الاول العامل فی یوم ما یدل علیہ قولہ یوم الخر فی تقدیرہ یخرجون یوم ینادی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 38–40

وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ صلے ق وَّمَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ ۔ فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ ۔ وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ وَاَدْبَارَالسُّجُوْدِ ۔ (قٓ: 38 تا 40) (اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دنوں میں پیدا کیا، اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی۔ پس اے نبی ! جو کچھ یہ کہتے ہیں ان پر صبر کیجیے، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہئے طلوعِ آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے۔ اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کیجیے، اور سجدہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–40

فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کی ابتدائی آیات میں انسان کے مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرنے کا ثبوت دیا گیا ہے اب فرمایا کہ کیا لوگوں نے اس بات پر غور نہیں کیا ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو کس طرح بلندیوں پر کھڑا کر رکھا ہے اور زمین کو کس طرح پھیلایا اور بچھایا ہے۔ سورت کا اختتام بھی اسی بات سے کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور ان کے بنانے اور پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کو کسی قسم کی کوئی تھکاوٹ اور اکتاہٹ محسوس نہیں ہوئی اگر یہ لوگ ٹھوس اور واضح دلائل کو نہیں مانتے اور قیامت کا مذاق اڑاتے اور اللہ تعالیٰ کی گستاخی کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 39 : فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ (پس ان کی باتوں پر صبرکیجئے) یعنی یہود کی باتوں پر جو کہ کفریات اور تشبیہ وغیرہ بکتے ہیں۔ نمبر 2۔ بعث کے متعلق جو مشرکین کہتے ہیں۔ پس جو ذات ساری کائنات کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ وہ ان کو اٹھانے اور انتقام لینے پر بلاشبہ قادر ہے۔ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ (اور اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہیے) اس حال میں کہ آپ اپنے رب کی حمد وثناء کرنے والے ہوں۔ التسبیح۔ نمبر 1۔ اپنے ظاہری مراد پر ہے۔ نمبر 2۔ نماز مراد ہے۔ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ (طلوع آفتاب سے پہلے) نماز فجر وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ (اور غروب سے پہلے) ظہر و عصر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

38 ۔” ولقد خلقنا السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام وما مسنا من لغوب “ تھکاوٹ۔ یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا اے محمد ! ﷺ ہمیں بتائیں کہ ان چھ دنوں میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے کیا پیدا کیا ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اتوار اور سوموار کے دن زمین کو پیدا کیا اور منگل کے دن پہاڑوں اور نہروں ، شہروں اور روزیوں کو بدھ کے دن اور آسمانوں اور فرشتوں کو جمعرات کے دن جمعہ کی تین گھڑیوں تک اور تین گھڑیوں میں سے پہلی میں مدتوں کو اور دوسری میں آفت کو اور تیسری میں آدم (علیہ السلام) کو۔ انہوں نے کہا آپ (علیہ السلام) نے سچ کہا اگر آپ مکمل کرتے۔ آپ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–40

36۔ 40۔ دوزخ کے عذاب کے ذکر کے بعد دنیا کے عذاب سے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو ڈرایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کچھ قیامت پر ہی موقوف نہیں ہے۔ دنیا کے طرح طرح کے عذابوں سے بھی بہت سی پہلی ایسی قومیں ہلاک ہوچکی ہیں جو حال کے لوگوں سے قوت ثروت سب میں زیادہ تھیں۔ پھر باوجود اس قوت و ثروت کے اللہ کے عذاب سے بچنے کا کوئی ٹھکانہ انہوں نے نہ پایا حال کے لوگ بھی اگر اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو ایک دن یہی نتیجہ ان کا ہوگا پھر فرمایا ہر شخص صاحب عقل نصیحت کو کان لگا کر سننے والے کو یہ پچھلی قوموں کی ہلاکت کے قصے سن کر بڑی عبرت پکڑنی چاہئے تاکہ کہیں یہی دن اس کے آگے نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 38–40

یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی قدرت عظیم اور مشیت نافذہ کے بارے میں خبر ہے، جن کے ذریعے سے اس نے سب سے بڑی مخلوق کو وجود بخشا۔ (السموت والارض وما بینھما فی سءۃ ایام) ” آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، چھ دن میں (پیدا کیا) ۔ “ پہلا دن اتوار تھا اور آخری یعنی چھٹا دن جمعہ تھا، اس کو کسی مشقت کا سامنا کرنا پڑا نہ تھکن کا اور اسے کوئی لاغری لاحق ہوئی نہ لاچاری۔ پس وہ اللہ، جو زمین و آسمان کو، ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وجود میں لایا، اس کا مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونا زیادہ اولیٰ اور زیادہ لائق ہے۔ (فاصبر علی ما یقولون) ” پس جو کچھ یہ کہتے ہیں، اس پر صبر کیجئے۔ “ وہ آپ کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

نماز فجر اور عصر کی اہمیت قول باری ہے (وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقیل الغروب۔ اور طلوع آفتاب اور غروب سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہیے) حضرت جریر بن عبداللہ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان استطعتم ان لا تغلبوا علی صلوٰۃ قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا فافعلوا۔ اگر تم یہ کرسکو کہ اپنی مصروفیات کو طلوع آفتاب سے قبل کی ایک نماز نیز غروب آفتاب سے قبل کی ایک نماز پر غالب نہ آنے دو تو ایسا ضرور کرلو) اس کے ساتھ آپ نے درج بالا آیت کی تلاوت بھی فرمائی۔ ابن عباس ؓ اور قتادہ سے مروی ہے کہ ان سے فجر اور عصر کی نمازیں مراد ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 58] راہ حق میں سبر و ثبات کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے پیغمبر کو اور ان کے واسطے سے ان کی امت کے داعی حق کو راہ حق میں صبر و ضبط کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے { فاصبر } میں فاء تفریعیہ ہے یعنی جب خداوند قدوس کی قدرت لامتناہیہ کا عالم یہ ہے، تو پھر یہ مکذبین اس کی پکڑ اور سزا سے کیونکر بچ سکتے ہیں ؟ پس آپ اے پیغمبر ! ان کو دکھ دہ اور دلآزار باتوں پر صبر و برداشت ہی سے کام لیتے رہیں، کہ آپ ﷺ بہرحال حق پر ہیں اور ان ناہنجاروں سے خدائے پاک خود ہی نپٹ لے گا۔ { فذرنی ومن یکذب بھذا الحدیث ط سنستدرجھم من حیث لا یعلمون } [ القلم : 44 پ 29] بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 37–45

سمجھنے والے اللہ کی قدرت کو دیکھتے ہیں تشریح : سب سے پہلے تو اس بات پر توجہ دلائی گئیـ ہے کہ قرآن کو سمجھنا اور اللہ کا ادراک یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جو اس طرف رجحان رکھتے ہیں۔ جن کی طبیعت میں پاکی اور روحانیت کا کچھ حصہ موجود ہوتا ہے۔ وہ قرآن کے مضامین سے ہدایت حاصل کرلیتے ہیں اس سے اللہ کی طرف سے اعجاز سمجھتے ہیں ان کو اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت دکھائی دیتی ہے وہ اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے اس کی تمام صفات کو پہچان لیتے ہیں۔ اس کی وحدانیت، خلاقی، عظمت، حسن و خوبی، قدرت اور لافانیت۔ سب کچھ ان کو خود اپنے جسموں کی بناوٹ میں آسمانوں، زمین، پھول، پھل رات دن، ہوا اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–45

آیات 30 تا 45۔ دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اواب اور حفیظ ۔ اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 39–40

ف 9 اس سے مراد نماز پڑھنا ہے۔ سورجن نکلنے سے پہلے فجر کی نماز ہے اور سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی نماز ہے اور رات کے وقت تہجد کی نماز ہے۔ ان اوقات میں نماز پڑھنا آنحضرت اور مسلمانوں پر فرض تھا پھر معراج کے موقع پر جب پانچ نمازیں فرض کی گئیں اور ان کے اوقات بھی متعین کردیئے گئے تو فجر اور عصر کی نمازیں تو بدستور فرض رہیں لیکن تہجد کی نماز نفلی قرار دے دی گئی۔ فجر اور عصر کی نماز کی قرآن و حدیث میں خاص طور پر ترغیب آئی ہے اور جو لوگ یہ دو نمازیں پابندی سے پڑھتے ہیں ان کو آخرت میں دیدار الٰہی نصیب ہوگا۔ (ابن کثیر) نماز بعد تسبیح سے مراد سبحان اللہ والحمد اللہ اللہ اکبر کلمات بھی ہوسکتے ہیں جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:39) سبح امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تسبیح (تفعیل) مصدر۔ تو تسبیح کر ، تو پاکی بیان کر، تو عبادت کر۔ بحمد ربک : ب حرف جار حمد مجرور۔ مضاف ربک مضاف مضاف الیہ مل کر حمد کا مضاف الیہ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ (اس کی پاکی بیان کر) ۔ قبل طلوع الشمس : طلوع الشمس مضاف مضاف الیہ مل کر قبل کا مضاف الیہ سورج کے طلوع سے قبل۔ قبل بوجہ ظرفیت (مفعول فیہ) منصوب ہے۔ وقبل الغروب۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے ای وسبح بحمد ربک قبل الغروب : اور تسبیح کر اپنے رب کی غروب آفتاب سے پہلے۔ ترکیب جملہ سابقہ کے مطابق۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 36–40

لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 40 : نقبوا (وہ بھاگے دوڑے) محیص ( پناہ کی جگہ) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) مامسنا ( ہم کو نہیں چھوا) ‘ لغوب (تھکاوٹ۔ تھکن) ‘ ادبار ( پیچھے۔ بعد میں) ۔ تشریح : آیت نمبر 36 تا 40 : اعلان نبوت کے بعد وہی لوگ جو نبی کریم ﷺ کو بہت چاہتے تھے اس طرح آپ کے دشمن بن گئے کہ آپ کا اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کا مکہ میں رہنا دشوار ہوگیا اور ان مکہ کی سرزمین کو تنگ کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے قوموں کے ابھرنے ‘ عروج و ترقی تک پہنچنے اور نافرمانیوں کی وجہ سہ مٹ جانے کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حق و صداقت کے راستے پر چلنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–40

(ف 1) شان نزول : یہ آیت یہود کے رد میں نازل ہوئی جو یہ کہتے تھے کہ اللہ تعای نے آسمان و زمین اور ان کے درمیانی کائنات کو چھ روز میں بنایا جن میں سے پہلا اتوار ہے پچھلا جمعہ پھر وہ معاذ اللہ تھک گیا اور ہفتہ کو اس نے عرش پر لیت کر آرام لیا، اس آیت میں ان کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ تھکے، وہ قادر ہے کہ ایک ان میں ساراعالم بنادے، ہر چیز کو حسب اقتضائے حکمت ہستی عطا فرماتا ہے شان الٰہی میں یہود کا یہ کلمہ نبی ﷺ کو بہت ناگوار ہوا، اور شدت غضب سے چہرہ مبارک پر سرخی نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسکین فرمائی اور یہ آیت نازل فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–39

[13] یعنی اللہ تعالیٰ نے جن قوموں کو ہلاک کیا ان میں سے جو لوگ ہلاک ہونے سے بچ رہے وہ تتر بتر ہوگئے اور مختلف ملکوں میں جدھر جس کا سینگ سمایا وہ ادھر کو جائے پناہ کی تلاش میں چل کھڑا ہوا۔ قرآن میں جن قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں ان میں سے بعض تو پوری کی پوری عذاب الٰہی سے ہلاک ہوگئیں مثلاً عاد اور ثمود وغیرہ۔ بعض قوموں کا یہ حال ہوا کہ ان کے مترفین و متکبرین تو ہلاک ہوگئے، رہے ان کے عوام تو وہ ادھر ادھر پراگندہ ہوگئے۔ فرعون اور اس کی قوم کی تباہی کی صورت یہی ہوئی۔ اسی سے ملتے جلتے حالات ملک سبا میں پیش آئے۔ بیشمار افراد تو سیلاب کی نذر ہوگئے اور جو بچ رہے وہ علاقہ کے بنجر ہونے اور معاشی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–45

ف 2: وما مسنا من لغوب ہے مراد یہ ہے کہ موسیٰ کی کتاب تکوین میں جو لکھا ہے ۔ کہ ساتویں دن خدا نے آرام کیا ۔ یہ تعریف انسانی ہے ۔ اللہ نے اس دنیائے حقیر کو پیدا کرکے بالکل تکان محسوس نہیں کی ۔ کیونکہ وہاں تھک جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہاں تو صرف اعادہ کی ضرورت ہے ۔ اور پھر آپ سے آپ کائنات منصف مشہود پر جلوہ گر ہوجاتی ہے ۔ حل لغات :۔ لغوب ۔ تکان ۔ تھکاوٹ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(39) سو اے پیغمبر آپ ان کفار کی باتوں پر اور جو کچھ یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے اور ان باتوں کی سہار کیجئے اور طلوع آفتاب سے قبل اور غروب آفتاب سے قبل اپنے پروردگار کی حمدوثنا کے ساتھ پاکی بیان کیا کیجئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–39

ف 2۔ یعنی قوت کے ساتھ اسباب معیشت میں بھی بڑی ترقی دی تھی۔ 3۔ یعنی کسی طرح بچ نہ سکے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو کچھ اہل مکہ کہتے ہیں آپ ﷺ صبروثبات کے ساتھ سن لیں اور صلوٰۃ کی زیادہ پابندی کریں 39 ۔ جیسا کہ گزشتہ آیت میں عرض کیا گیا ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کو صبروثبات کی تلقین اس لیے نہیں کی کہ آپ ﷺ کہیں بےصبرو بےثبات ہونے والے تھے نہیں اور ہرگز نہیں اس سے مراد وہی ہے جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہ کے کہ آپ ﷺ فکر نہ کریں اگر انہوں نے یہی روش رکھی تو ان سے نمٹ لیں گے کیونکہ ہماری مدد و نصرت آپ ﷺ کے ساتھ ہے ابھی ہم نے ان کو ڈھی دے رکھی ہے تاکہ ان کو بعد میں کوئی اعتراض نہ رہے آپ ﷺ کو صبروثبات کو بڑھانے کا نسخہ بھی ارشادفرما دیا کہ صبروثبات کو بڑھانے کا سب سے زیادہ کامیاب نسخہ صلوٰۃ ہے کہ کاس میں اذکار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَ‌بِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُ‌وبِ (and proclaim His purity along with your Lord's praise before sunrise and before sunset... 50:39). The imperative verb sabbih is derived from the infinitive tasbih which originally means to declare or proclaim the purity of Allah. This comprehends the verbal declaration or proclamation and the worship, such as prayer. Therefore, some scholars say that tasbih before sunrise refers to the morning prayer, and tasbih before sunset refers to ` Asr (late afternoon) prayer. Sayyidna Jarir Ibn ` Abdullah ؓ reports from the Holy…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

50 That is, "The fact of the matter is that We have made this entire Universe in six days and We did not become weary at the end so that We might be powerless to reconstruct it Now, if these ignorant people mock you when they hear the news of the life-after-death from you and call you a madman, have patience at it, listen to whatever nonsense they utter with a cool mind, and continue to preach the truth that you have been appointed to spread. " In this verse, there is a subtle taunt on the Jews and the Christians as well, in whose Bible the story has been fabricated chat God made the earth…

Read the full tafseer →