Qaaf 50:38

Qaaf · from ayah 38

50:38

وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ۖۗ— وَّمَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ ۟وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِىۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ‌ۖ وَّمَا مَسَّنَا مِنۡ لُّغُوۡبٍ

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے سب کو چھ دن میں بنا دیا۔ اور ہم کو ذرا تکان نہیں ہوئی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We did certainly create the heavens and earth and what is between them in six days, and there touched Us no weariness.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:38

ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کر دیا اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہ ہوئی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے سب کو چھ دن میں بنا دیا۔ اور ہم کو ذرا تکان نہیں ہوئی

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کو (صرف) چھ دن میں پیدا کر دیا اور ہمیں تکان نے چھوا تک نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے سارے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا، اور ہمیں ذرا سی تھکاوٹ بھی چھو کر نہیں گزری۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا، اور تکان ہمارے پاس نہ آئی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور اُس (کائنات) کو جو دونوں کے درمیان ہے چھ زمانوں میں تخلیق کیا ہے، اور ہمیں کوئی تکان نہیں پہنچی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نے نہیں چھوا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا اور ہمیں تھکاوٹ محسوس تک نہ ہوئی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کو، چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور ان دونوں کے درمیان کی اس ساری کائنات کو چھ دنوں (کی مدت) میں اور ہمیں چھوا تک نہیں کسی قسم کی تکان نے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پید کردیا اور ہم کو تکان نے چھوا تک نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے پیدا کیا چھ دنوں میں۔ اور ہم پر کوئی تکان طاری نہیں ہوئی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو مخلوقات ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں بنا دیا اور ہم ذرا بھی نہیں تھکے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We created the heavens and the earth and all that is between them in six days, and weariness did not even touch Us.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We created the heavens and the earth and all that is between them in six days, and no weariness even touched Us.

— Muhammad Taqi Usmani

We created the heavens and the earth and all that is between them in six days, and no weariness even touched Us.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We created the heavens and the earth and all between them in six Days and nothing of fatigue touched Us.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And verily We created the heavens and the earth, and all that is between them, in six Days, and naught of weariness touched Us.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We did certainly create the heavens and earth and what is between them in six days, and there touched Us no weariness.

— Saheeh International

We created the heavens, the earth, and all that is between them in six days without experiencing any fatigue.

— Muhammad Sarwar

And certainly We created the heavens and the earth and what is between them in six periods and there touched Us not any fatigue.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We created the heavens and the earth and whatsoever is in between the twain in six days, and there touched Us naught of weariness.

— Abdul Majid Daryabadi

We created the heavens and the earth and all between them in Six Days, nor did any sense of weariness touch Us.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:38

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–40

بےسود کوشش ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں ؟ ان سے بہت زیادہ قوت وطاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ وبالا کرچکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں زمین میں خوب فساد کیا۔ لمبے لمبے سفر کرتے تھے ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی اللہ کی قضا و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا ؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آگیا بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لئے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ دھیان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پاسکتا ہے یعنی دل کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 49 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة حٰم السجدہ، حواشی نمبر 11 تا 15۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–38

حصول علم کے دو طریقے (آیت) لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہاں قلب سے مراد عقل ہے چونکہ عقل کا مرکز قلب ہی ہے اس لئے اس کو قلب سے تعبیر کردیا گیا، بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہاں قلب سے مراد حیات ہے، وہ بھی اسی لئے کہ حیات کا مدار قلب ہے، معنی آیت کے یہ ہوئے کہ اس سورت قرآن میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے نصیحت و عبرت کا فائدہ اسی شخص کو پہنچ سکتا ہے جس میں عقل ہو یا زندگی ہو بےعقل یا مردے کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ (آیت) اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيْدٌ، القاء سمع کے معنی کسی بات کی طرف کان لگانے کے آتے ہیں شہید بمعنی حاضر، معنی یہ ہیں کہ آیات مذکورہ کا فائدہ دو شخصوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام وما مسنا من لغوب، صابر علی مایقولون وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب، ومن الیل فسبحہ و ادبار السجود 40-38 نبی ﷺ کو صبر کی تلقین اب کلام کا رخ واضح طور پر نبی ﷺ کے لئے تسکین و تسلی اور تلقین صبر کے مضمون کی طرف مڑ گیا ہے۔ اس کی تمہید اس طرح اٹھائی ہے کہ ہم آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں تھک نہیں گئے ہیں کہ ان کو دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز رہ جائیں گے۔ اطمینان رکھو کہ جس دن سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے وہ آ کے رہے گا۔ ان کی باتوں پر صبر کرو اور اس صبر کے حصول کے لئے زیادہ سے زیاہ نماز کا اہتمام رکھو۔ فی متتہ ایام کا مطلب ولقد خلقنا السموت والارض…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 37–38

37۔ 1 یعنی دل بیدار، جو غور و فکر کر کے حقائق کا ادراک کرلے۔ 37۔ 2 یعنی توجہ سے وہ وحی الٰہی سنے جس میں گزشتہ امتوں کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ 37۔ 3 یعنی قلب اور دماغ کے لحاظ سے حاضر ہو۔ اس لئے کہ جو بات ہی کو نہ سمجھے، وہ موجود ہوتے ہوئے بھی ایسے ہے جیسے نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–40

16: تسبیح سے یہاں مراد نماز ہے۔ چنانچہ طلوع آفتاب سے پہلے کے الفاظ میں نماز فجر، غروب سے پہلے کے الفاظ میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں، اور رات کے حصوں میں تسبیح کرنے کے الفاظ میں مغرب، عشاء اور تہجد کی نمازیں۔ 17: سجدوں سے مراد فرض نمازیں ہیں، اور ان کے بعد تسبیح کرنے سے مراد نفلی نمازیں ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے اس کی یہی تفسیر منقول ہے (روح المعانی)

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولقد خلقنا السموت ۔۔۔۔۔ من لغوب (50 : 38) ” ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کردیا اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہ ہو “۔ تو پہلی بات پر یہاں ایک مزید حقیقت کا اضافہ کردیا گیا۔ وما مسنا من لغوب (50 : 38) ” اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی “۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ نے اس عظیم کائنات کو نہایت آسانی کے ساتھ پیدا کردیا۔ مردوں کا زندہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ان ہولناک آسمانوں کے مقابلے میں تو یہ ایک بہت چھوٹا کام ہے۔ ایک مزید ہدایت بطور سبق آموزی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 اس کا بیان پہلے کئی جگہ گزر چکا ہے۔ 11 جب پہلی مرتبہ بنانے سے نہ تھکے تو دوسری مرتبہ کیوں تھکیں گے۔ اور تباہ و برباد کردینا تو بنانے سے کہیں آسان ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 38{ وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ق } ”اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے پیدا کیا چھ دنوں میں۔“ { وَّمَا مَسَّنَا مِنْ لُّــغُوْبٍ۔ } ”اور ہم پر کوئی تکان طاری نہیں ہوئی۔“ یہ مضمون موجودہ تورات میں کچھ اس طرح بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کر کے تھکن دور کی۔ اسی وجہ سے یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاں ”ویک اینڈ“ کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دن کام کرنے کے بعد ساتویں دن آرام کیا تھا ‘ لہٰذا تم لوگ بھی چھ دن کام کر کے ساتویں دن آرام کرو۔ اس آیت میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

44 یہود و نصاریٰ کا اللہ تعالیٰ پر الزام ساتویں دن آرام کیا :۔ یہ یہود و نصاریٰ کا اللہ تعالیٰ پر من گھڑت الزام ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا۔ اور بائیبل میں اب بھی کتاب پیدائش (2: 2) میں ایسی عبارت موجود ہے۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے ہی جیسا سمجھ لیا کہ جیسے ہم کام کرتے کرتے تھک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی تھک گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی یا کسی اور چیز کی مثل قرار دینا ہی سب سے بڑی گمراہی ہے۔ اس آیت میں ان کے اسی الزام کی تردید کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

28۔ (تو ایسے قادر مطلق وہمہ تواں کے لیے اعادۂ خلق کیا دشوار ہے ؟ (آیت) ” ستۃ ایام “۔ مراد چھ متعارف دن نہیں۔ بلکہ محض چھ زمانے یا چھ وقت ہیں۔ ملاحظہ ہوں سورة الاعراف (پ 8) آیت متعلقہ کے حاشیے۔ (آیت) ” وما مسنا من لغوب “۔ دنیا کے کروڑوں مسیحیوں اور یہودیوں کو ایمان آج تک یہ چلا آرہا ہے کہ حق تعالیٰ نے چھ دن میں آسمان و زمین کی آفرینش کے بعد ساتویں دن آرام کیا۔ قرآن مجید کو اسی گمراہی کی تردید مقصود ہے۔ توریت مروجہ میں ہے :۔” خداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین، دریا اور سب کچھ جو ان میں ہے بنایا اور ساتویں دن آرام کیا۔ (خروج۔ 20: 11) ” چھ دن میں خداوند نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 38–40

ولقد خلقنا السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام و ما مسنا من غلوب امر واقعہ یہ ہے کہ یہ پوری کائنات ہم نے چھ دن میں بنا ڈلای اور اس کو بنا کر ہم تھک نہیں گئے کہ اس کی تعمیر نو ہمارے بس میں نہ رہی ہو، اب اگر یہ نادان لوگ آپ سے زندگی بعد الموت کی خبر سن کر تمہارا مذاق اڑاتے ہیں اور تمہیں دیوانہ قرار دیتے ہیں تو اس پر صبر کرو، ٹھنڈے دل سے ان کی ہر بیہودہ بات کو سنو اور جس حقیقت کے بیان کرنے پر آپ مامور کئے گئے ہیں اس کو بیان کرتے چلے جائیں۔ اس آیت میں ضمنی طور پر یہود و نصاریٰ پر ایک لطیف طنز بھی ہے، جس کا بائبل میں یہ افسانہ گھڑا گیا ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو بنایا اور (ہفتہ کو)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام و ما مسنا من لغوب اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس سب کو چھ دن (کی برابر وقت) میں پیدا کیا اور ہم کو تھکان نے چھوا تک نہیں۔ مِنْ لُّغُوْبٍ : یعنی تکان۔ لغوب بمعنی تعب۔ تھکن۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے جو حدیث بیان کی ہے اس میں نہ یہودیوں کے سوال کا ذکر ہے ‘ نہ سبب نزول کا۔ حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : اللہ نے خاک کو سنیچر کے دن پیدا کیا اور پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا اور درختوں کو سوموار کے دن پیدا کیا اور مصیبتوں کو منگل کے دن پیدا کیا اور نور کو بدھ کے دن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور تمام مخلوق کو چھ دن کی مقدار کے موافق زمانہ میں پیدا کیا ہر ایک دن ان ایام کے مطابق ہزار سال کے برابر تھا اول ان دنوں میں اتوار اور آخری جمعہ کا دن تھا اور ہمیں تھکاوٹ نے چھوا تک نہیں۔ جیسا کہ اللہ کے دشمن یہودی اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے کہ معاذ اللہ جب اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو پیدا کر کے فارغ ہوا تو اس نے ایک پیرو دوسرے پیر پر رکھا اور ہفتہ کے دن آرام کیا۔ شان نزول : وَلَــقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (الخ) امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے بیان کرتے ہیں کہ یہودی رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے انہوں نے آسمانوں اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام…: قیامت کی دلیل کے طور پر آسمان و زمین کی پیدا کرنے کا دوبارہ ذکر فرمایا کہ بلاشبہ یقینا ہم نے یہ سارے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کئے اور ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نے چھوا تک نہیں، تو ہم انسان کو دوبارہ کیوں زندہ نہیں کرسکتے ؟ یہی بات پہلے فرمائی تھی :(افعیینا بالخلق الاول) (ق : 15)”تو کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کیساتھ تھک کر رہ گئے ہیں ؟“ دوبارہ اس لئے ذکر فرمائی کہ بار بار دہرانے سے بات ذہن میں بیٹھ جاتی ہے۔ (2) وما مسنا من لغوب : اس میں یہود و نصاری کا رد بھی ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھا کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 36–38

وکم اھلکنا قبلھم من قرن یعنی محمد ! ﷺ آپ کی قوم سے پہلے کتنی قوموں کو ہم نے ہلاک کیا جب کہ ان سے زیادہ طاقت اور قوت والے تھے۔ فنقبوا فی البلاد وہ شہروں میں چلے تاکہ بھاگ جانے کی کوئی جگہ تلاش کریں۔ ایک قول یہ کیا گیا : انہوں نے شہروں میں اثرات چھوڑے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : انہوں نے سفر کیا اور چکر لگایا۔ نضر بن شمیل نے کہا : انہوں نے چکر لگایا۔ قتادہ نے کہا : انہوں نے طواف کیا۔ معرج نے کہا : وہ دور تک چلے گئے اسی معنی میں امراء القیس کا شعر ہے : وقد نقبت فی الافاق حتی رضیت من الغنیمۃ بالایاب (2) میں آفاق میں دور تک گیا یہاں تک کہ میں غنیمت کی بجائے لوٹ آنے پر راضی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 38–39

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اتوار، پیر، منگل، بدھ، خمیس، اور جمعہ کو پیدا فرمایا اور ہفتہ کے دن آرام فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی '' ولقد خلقنا السموت والارض وما بینہما فی ستۃ ایام، وما مسنا من لغوب '' (اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور ہم کو تھکان نے چھوا تک نہیں۔ اللہ تعالیٰ ضعف و کمزوری سے پاک ہے : 2:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَــقَدْ خَلَقْنَا [ اور یقینا ہم نے پیدا کیا ہے ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [ آسمانوں کو اور زمین کو ] وَمَا بَيْنَهُمَا [ اور اس کی جو ان دونوں کے درمیان ہے ] فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ڰ [ چھ دنوں میں ] وَّمَا مَسَّنَا [ اور ہم کو نہیں چھوا ] مِنْ لُّغُوْبٍ [ذرا سی بھی تھکان نے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 38 ۔ میں یہود و نصاری پر ایک لطیف طنز ہے جن کی بائبل میں یہ افسانہ گھڑا گیا ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو بنایا اور ساتویں دن آرام کیا ۔ اگرچہ اب مسیحی پادری اس بات سے شرمانے لگے ہیں اور انھوں نے کتاب مقدس کے اردو ترجمہ میں ” آرام کیا “ کو ” فارغ ہوا “ سے بدل دیا ہے مگر کنگ جیمس کی مستند…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 37–38

اس کے بعد فرمایا ﴿ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِيْدٌ0037﴾ (یہ جو کچھ سابق مضمون بیان کیا گیا اس میں اس شخص کے لیے نصیحت ہے جس کے پاس دل ہو جو سمجھتا ہو اور حقائق سے آگاہ ہو یا ایسی حالت میں کان لگاتا ہو کہ وہ وہاں اپنے دل سے حاضر ہو) یہ بطریقہ مانعۃ الخلو ہے، جو لوگ نصیحت حاصل کرنے والے دل نہیں رکھتے اور صحیح طریقہ پر حضور قلب کے ساتھ بات نہیں سنتے ایسے لوگ عبرت اور نصیحت حاصل کرنے سے دور رہتے ہیں۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان دوسری مخلوق ہے ان سب کو چھ دن میں پیدا فرمایا اور ذرا سی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–45

شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

21:۔ ” ولقد خلقنا۔ الایۃ “ یہ ثبوت قیامت کے لیے دوسری اور مختصر عقلی دلیل ہے۔ لغوب، تھکاوٹ۔ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان جو مخلوق ہے سب کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس سے ہمیں کسی قسم کی تھکن اور کمزوری لاحق نہیں ہوئی۔ جو ذات قادر و توانا ساری کائنات کو پیدا کر کے بھی نہ تھکے اور کمزور نہ ہو مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ من قدر علی خلق العالم فھو قادر علی بعثہم والانتقام منہم (مظہری ج 9 ص 75) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–38

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس کے اثبات میں عقلی اور نفلی دلائل پیش کیے۔ پھر مختلف اقوام کا اجمالی حال اور انکو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ پھر انسان کے حالات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو بیان فرمایا ۔ انسانوں کے اعمال کی حفاظت اور ان کی بارگاہ الٰہی میں پیشی کا حال ذکر کیا ۔ مجرموں کے جہنم میں داخلے اور ان کی آپس میں الزا م تراشیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ فرمائے گا میرے پاس مت جھگڑا کرو ۔ میں نے تمہیں دنیا میں ہر نیک و بد سے آگاہ کردیا تھا اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ تمہیں اپنے عقیدے اور عمل کا بھگتان کرنا ہوگا ۔ ہل من مزید جب دوزخی اپنے اپنے ٹھکانے میں پہنچ جائیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَــقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَہُمَا فِيْ سِـتَّۃِ اَيَّامٍ۝ 0 ۤ ۖ وَّمَا مَسَّـنَا مِنْ لُّغُوْبٍ۝ 38 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–45

ترکیب : من لغوب من زائدۃ لغوب تعب و اعیاء یقال لعب یلعب بالضم لغوباً من اللیل ای بعض اللیل فانہ مفعول لفعل مضمر معطوف علی سبح بحمد ربک یفسرہ فسبحہ و من للتبعیض۔ ادبارالسجودای سبحہ اعقاب اصلوٰۃ قرء الجمہور بفتح الھمزۃ جمع و بردقری بکسرھا علی المصدر من ادبرالشیء ادبارا۔ فھی ظرف لسبحہ۔ یوم یسمعون بدل من یوم ینادی یوم تشقق ظرف للضمیر او بدل من یوم الاول سراعا حال ای یخرجون مسرعین۔ واستمع ابرم نادی المناد فیہ ثلاثہ بوجہ اھما ان تبرک مفعولہ راسا وکیون المقصود کن سمنعاً ثانیھا استمع لما یوحی الیک وثالثھا استمع لکسناوی فعلی الاول العامل فی یوم ما یدل علیہ قولہ یوم الخر فی تقدیرہ یخرجون یوم ینادی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 38–40

وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ صلے ق وَّمَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ ۔ فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ ۔ وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ وَاَدْبَارَالسُّجُوْدِ ۔ (قٓ: 38 تا 40) (اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دنوں میں پیدا کیا، اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی۔ پس اے نبی ! جو کچھ یہ کہتے ہیں ان پر صبر کیجیے، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہئے طلوعِ آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے۔ اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کیجیے، اور سجدہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–40

فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کی ابتدائی آیات میں انسان کے مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرنے کا ثبوت دیا گیا ہے اب فرمایا کہ کیا لوگوں نے اس بات پر غور نہیں کیا ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو کس طرح بلندیوں پر کھڑا کر رکھا ہے اور زمین کو کس طرح پھیلایا اور بچھایا ہے۔ سورت کا اختتام بھی اسی بات سے کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور ان کے بنانے اور پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کو کسی قسم کی کوئی تھکاوٹ اور اکتاہٹ محسوس نہیں ہوئی اگر یہ لوگ ٹھوس اور واضح دلائل کو نہیں مانتے اور قیامت کا مذاق اڑاتے اور اللہ تعالیٰ کی گستاخی کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

یہود کے عقیدہ کی تردید : آیت 38 : وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ (اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ چھ دن میں پیدا کیا اور ہم کو تھکان نے چھوا تک نہیں) لغوب : تھکن و عجز۔ ایک قول یہ ہے : یہ یہود کے متعلق نازل ہوئی۔ ان کی اس بات کی تکذیب میں جو انہوں نے کہی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا ان میں پہلا یوم الاحد اور آخر یوم الجمعہ تھا۔ اور ہفتہ کے دن آرام کیا۔ اور عرش پر لیٹ گیا۔ علماء نے فرمایا کہ اس امت میں تشبیہ کا عقیدہ یہود سے نقل ہو کر آیا۔ یہود اپنے ہاں آلتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

37 ۔” ان فی ذلک “ جو میں نے عبرتیں اور عذاب اور بستیوں کے ہلاک کرنے کا ذکر کیا ہے۔ ” لذکری “ نصیحت۔ ” لمن کان لہ قلب “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی عقل۔ فرائؒ فرماتے ہیں کہ یہ عربیۃ میں جائز ہے تو کہے گا ” مالک قلب وما قلبک معک “ یعنی تیرے ساتھ تیری عقل نہیں ہے اور کہا گیا ہے اس کے لئے حاضر دل ہے اللہ کے ساتھ۔ ” اوالقی السمع “ قرآن کو توجہ سے سنا اور جو اس کو کہا جائے گا اس کو توجہ سے سن اور اپنے دل میں کوئی اور خیال نہ لائے۔ عرب کہتے ہیں ” اوالقی السمع “ قرآن کو توجہ سے سنا جو اس کو کہا جائے گا اس کو توجہ سے سن اور اپنے دل میں کوئی اور خیال نہ لائے۔ عرب کہتے ہیں ” الق الی سمعک “ یعنی تو توجہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–40

36۔ 40۔ دوزخ کے عذاب کے ذکر کے بعد دنیا کے عذاب سے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو ڈرایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کچھ قیامت پر ہی موقوف نہیں ہے۔ دنیا کے طرح طرح کے عذابوں سے بھی بہت سی پہلی ایسی قومیں ہلاک ہوچکی ہیں جو حال کے لوگوں سے قوت ثروت سب میں زیادہ تھیں۔ پھر باوجود اس قوت و ثروت کے اللہ کے عذاب سے بچنے کا کوئی ٹھکانہ انہوں نے نہ پایا حال کے لوگ بھی اگر اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو ایک دن یہی نتیجہ ان کا ہوگا پھر فرمایا ہر شخص صاحب عقل نصیحت کو کان لگا کر سننے والے کو یہ پچھلی قوموں کی ہلاکت کے قصے سن کر بڑی عبرت پکڑنی چاہئے تاکہ کہیں یہی دن اس کے آگے نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 38–40

یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی قدرت عظیم اور مشیت نافذہ کے بارے میں خبر ہے، جن کے ذریعے سے اس نے سب سے بڑی مخلوق کو وجود بخشا۔ (السموت والارض وما بینھما فی سءۃ ایام) ” آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، چھ دن میں (پیدا کیا) ۔ “ پہلا دن اتوار تھا اور آخری یعنی چھٹا دن جمعہ تھا، اس کو کسی مشقت کا سامنا کرنا پڑا نہ تھکن کا اور اسے کوئی لاغری لاحق ہوئی نہ لاچاری۔ پس وہ اللہ، جو زمین و آسمان کو، ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وجود میں لایا، اس کا مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونا زیادہ اولیٰ اور زیادہ لائق ہے۔ (فاصبر علی ما یقولون) ” پس جو کچھ یہ کہتے ہیں، اس پر صبر کیجئے۔ “ وہ آپ کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 56] تخلیق کائنات کے چھ دنوں سے مقصود و مراد ؟: سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کی اس کائنات کو چھ دنوں میں۔ پس اس سے تم لوگ ہماری قدرت لامحدود کا اندازہ کرسکتے ہو۔ اے عقل و خرد رکھنے والو ! اور چھ دنوں سے یہاں پر مراد خدائی چھ دن ہیں، یعنی وہ مختلف ادوار جن کی حقیقت کا احاطہ اللہ پاک ہی کرسکتا ہے۔ اور وہ اس کے بعد بھی اپنی مخلوق میں جو چاہے اضافہ فرماتا رہتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { ویزیدُ فی الخلق ما یشائ } اس کی قدرت کی کرشمہ سازیاں کبھی ختم ہونے والی نہیں کہ اس کی شان { کل یومٍ ھو فی شان } کی شان ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور چھ دنوں کی اس قید کے ذکر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 37–45

سمجھنے والے اللہ کی قدرت کو دیکھتے ہیں تشریح : سب سے پہلے تو اس بات پر توجہ دلائی گئیـ ہے کہ قرآن کو سمجھنا اور اللہ کا ادراک یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جو اس طرف رجحان رکھتے ہیں۔ جن کی طبیعت میں پاکی اور روحانیت کا کچھ حصہ موجود ہوتا ہے۔ وہ قرآن کے مضامین سے ہدایت حاصل کرلیتے ہیں اس سے اللہ کی طرف سے اعجاز سمجھتے ہیں ان کو اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت دکھائی دیتی ہے وہ اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے اس کی تمام صفات کو پہچان لیتے ہیں۔ اس کی وحدانیت، خلاقی، عظمت، حسن و خوبی، قدرت اور لافانیت۔ سب کچھ ان کو خود اپنے جسموں کی بناوٹ میں آسمانوں، زمین، پھول، پھل رات دن، ہوا اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–45

آیات 30 تا 45۔ دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اواب اور حفیظ ۔ اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 37–38

ف 8 اس آیت سے مقصود ان یہودیوں کی تردید ہے جو کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں بنایا اور وہ ساتویں دن تھک کرلیٹ گیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:38) ما مسنا : ما نفی کا ہے مسنا میں مس فعل ماضی واحد مذکر غائب مس (باب نصر) مصدر سے دکھ پہنچانا۔ لاحق ہونا۔ لگ جانا۔ چھو جانا۔ نا ضمیر جمع متکلم۔ اس نے ہم کو نہیں چھوا۔ وہ ہم کو نہیں پہنچا۔ لغوب : مصدر۔ ٹھکنا۔ نیز اسم مصدر۔ تھکان، لغب (باب فتح، سمع، کرم ) بمعنی سخت تھک گیا۔ وما مسنا من لغوب اور ہم کو ذرا بھی تھکان نہیں ہوئی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 36–40

لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 40 : نقبوا (وہ بھاگے دوڑے) محیص ( پناہ کی جگہ) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) مامسنا ( ہم کو نہیں چھوا) ‘ لغوب (تھکاوٹ۔ تھکن) ‘ ادبار ( پیچھے۔ بعد میں) ۔ تشریح : آیت نمبر 36 تا 40 : اعلان نبوت کے بعد وہی لوگ جو نبی کریم ﷺ کو بہت چاہتے تھے اس طرح آپ کے دشمن بن گئے کہ آپ کا اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کا مکہ میں رہنا دشوار ہوگیا اور ان مکہ کی سرزمین کو تنگ کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے قوموں کے ابھرنے ‘ عروج و ترقی تک پہنچنے اور نافرمانیوں کی وجہ سہ مٹ جانے کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حق و صداقت کے راستے پر چلنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–40

(ف 1) شان نزول : یہ آیت یہود کے رد میں نازل ہوئی جو یہ کہتے تھے کہ اللہ تعای نے آسمان و زمین اور ان کے درمیانی کائنات کو چھ روز میں بنایا جن میں سے پہلا اتوار ہے پچھلا جمعہ پھر وہ معاذ اللہ تھک گیا اور ہفتہ کو اس نے عرش پر لیت کر آرام لیا، اس آیت میں ان کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ تھکے، وہ قادر ہے کہ ایک ان میں ساراعالم بنادے، ہر چیز کو حسب اقتضائے حکمت ہستی عطا فرماتا ہے شان الٰہی میں یہود کا یہ کلمہ نبی ﷺ کو بہت ناگوار ہوا، اور شدت غضب سے چہرہ مبارک پر سرخی نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسکین فرمائی اور یہ آیت نازل فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–39

[13] یعنی اللہ تعالیٰ نے جن قوموں کو ہلاک کیا ان میں سے جو لوگ ہلاک ہونے سے بچ رہے وہ تتر بتر ہوگئے اور مختلف ملکوں میں جدھر جس کا سینگ سمایا وہ ادھر کو جائے پناہ کی تلاش میں چل کھڑا ہوا۔ قرآن میں جن قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں ان میں سے بعض تو پوری کی پوری عذاب الٰہی سے ہلاک ہوگئیں مثلاً عاد اور ثمود وغیرہ۔ بعض قوموں کا یہ حال ہوا کہ ان کے مترفین و متکبرین تو ہلاک ہوگئے، رہے ان کے عوام تو وہ ادھر ادھر پراگندہ ہوگئے۔ فرعون اور اس کی قوم کی تباہی کی صورت یہی ہوئی۔ اسی سے ملتے جلتے حالات ملک سبا میں پیش آئے۔ بیشمار افراد تو سیلاب کی نذر ہوگئے اور جو بچ رہے وہ علاقہ کے بنجر ہونے اور معاشی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–45

ف 2: وما مسنا من لغوب ہے مراد یہ ہے کہ موسیٰ کی کتاب تکوین میں جو لکھا ہے ۔ کہ ساتویں دن خدا نے آرام کیا ۔ یہ تعریف انسانی ہے ۔ اللہ نے اس دنیائے حقیر کو پیدا کرکے بالکل تکان محسوس نہیں کی ۔ کیونکہ وہاں تھک جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہاں تو صرف اعادہ کی ضرورت ہے ۔ اور پھر آپ سے آپ کائنات منصف مشہود پر جلوہ گر ہوجاتی ہے ۔ حل لغات :۔ لغوب ۔ تکان ۔ تھکاوٹ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(38) بلا شبہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس سب کو چھ دن میں پیدا کیا ہے اور ہم کو تکان اور ماندگی نے چھوا تک بھی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مجازاۃ یعنی قیامت کے دن ہر شخص کو عمل کا بدلا ملنا ضروری ہے اس پر شبہ نہ کرنا چاہیے اسی سلسلے میں قدرت اور توانائی کا اظہار فرمایا جیسا کہ سورة احقاف کے آخر میں فرمایا تھا۔ ولم یعی بخلقھن اسی طرح یہاں فرمایا کہ ہم نے آسمان و زمین اور اس کے درمیانی چیزوں کو صرف چھ دن کی مقدار میں بنایا اور اس تعمیر سے ہم میں کوئی سہار کی ہدایت فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–39

ف 2۔ یعنی قوت کے ساتھ اسباب معیشت میں بھی بڑی ترقی دی تھی۔ 3۔ یعنی کسی طرح بچ نہ سکے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے آسمانوں زمین کو چھ ادوار میں پیدا کردیا اور کوئی تکان نہیں ہوئی 38 ۔ زیر نظر آیت سے کلام کا رخ نبی اعظم وآخر ﷺ کی تسلی اور تسکین کی طرف منتقل ہورہا ہے جس میں آپ ﷺ کو صبروثبات کی تلقین کی گئی ہے لیکن اس کا کوئی مطلب یہ نہ سمجھے کہ آپ ﷺ دل ہار رہے تھے یا دلبرداشتہ ہوچکے تھے یا تعلیم و تربیت میں کسی طرح کی سستی کا شکار تھے خاکم بدہن کہ میں ایسی کوئی بات کہوں یا سمجھوں یہ تسلی و تشفی محض دل کو بڑھانے اور یہ باور کرانے کے لیے ہوتی ہے کہ آپ ﷺ جس کام کو کر رہے ہیں اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھیں بلکہ ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں ہماری مدد تمہارے ساتھ ہے ذرا زور لگائو دیکھو کہ ان کا کیا حشر ہونے والا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–38

Channels of Acquiring Knowledge لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ ( who has a heart - 50:37). Ibn ` Abbas ؓ has said that here the word qalb [ heart ] means ` aql [ intellect ], because the centre of intellect is heart. Some scholars of Qur'an say that "heart" here refers to life, because the axis of life is heart. Thus the verse means only that person will be able to benefit from the advice and lesson of the Qur'an who has life or a sound understanding with which he comprehends. The one devoid of intellect cannot benefit from the Qur'an. أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ (and gives ear [ to the…

Read the full tafseer →