Explained with ayahs 36–40
بےسود کوشش
ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں ؟ ان سے بہت زیادہ قوت وطاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ وبالا کرچکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں زمین میں خوب فساد کیا۔ لمبے لمبے سفر کرتے تھے ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی اللہ کی قضا و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا ؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آگیا بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لئے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ دھیان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پاسکتا ہے یعنی دل کو…
Read the full tafseer →سورة قٓ 48
بالفاظ دیگر جو یا تو خود اپنی گرہ کی اتنی عقل رکھتا ہو کہ صحیح بات سوچے، یا نہیں تو غفلت اور تعصب سے اتنا پاک ہو کہ جب دوسرا کوئی شخص اسے حقیقت سمجھائے وہ کھلے کانوں سے اس کی بات سنے۔ یہ نہ ہو کہ سمجھانے والے کی آواز کان کے پردے پر سے گزر رہی ہے اور سننے والے کا دماغ کسی اور طرف مشغول ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
حصول علم کے دو طریقے
(آیت) لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہاں قلب سے مراد عقل ہے چونکہ عقل کا مرکز قلب ہی ہے اس لئے اس کو قلب سے تعبیر کردیا گیا، بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہاں قلب سے مراد حیات ہے، وہ بھی اسی لئے کہ حیات کا مدار قلب ہے، معنی آیت کے یہ ہوئے کہ اس سورت قرآن میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے نصیحت و عبرت کا فائدہ اسی شخص کو پہنچ سکتا ہے جس میں عقل ہو یا زندگی ہو بےعقل یا مردے کو کیا فائدہ پہنچے گا۔
(آیت) اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيْدٌ، القاء سمع کے معنی کسی بات کی طرف کان لگانے کے آتے ہیں شہید بمعنی حاضر، معنی یہ ہیں کہ آیات مذکورہ کا فائدہ دو شخصوں…
Read the full tafseer →ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب اوالقی السمع وھو شھید 37
قریش کو تنبیہ اور آنحضرت کو تسلی
ذلک کا اشارہ انہی قوموں کی سرگزشت کی طرف ہے جن کا بالاجمال اوپر کی آیت میں حوالہ دیا گیا ہے۔ فرمایا کہ ان قوموں کی سرگزشت میں کافی سامان عبرت موجود ہے بشرطیکہ عبرت حاصل کرنے والے دل اور بات کو توجہ کے ساتھ سننے والے کان ہوں۔
لفظ قلب اپنے حقیقی یعنی دل زندہ کے معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قلب کو احساس کرنے عبرت حاصل کرنے اور سوچنے سمجھنے کے لئے بنایا ہے۔ جب تک آدمی کا دل یہ کام کرتا ہے اس وقت تک اس کا دل زندہ ہے اور جب تک دل زندہ ہے اس وقت تک آدمی بھی زندہ ہے۔ اس لئے کہ آدمی کی حقیقی زندگی اس کے دل کی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
37۔ 1 یعنی دل بیدار، جو غور و فکر کر کے حقائق کا ادراک کرلے۔
37۔ 2 یعنی توجہ سے وہ وحی الٰہی سنے جس میں گزشتہ امتوں کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔
37۔ 3 یعنی قلب اور دماغ کے لحاظ سے حاضر ہو۔ اس لئے کہ جو بات ہی کو نہ سمجھے، وہ موجود ہوتے ہوئے بھی ایسے ہے جیسے نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
16: تسبیح سے یہاں مراد نماز ہے۔ چنانچہ طلوع آفتاب سے پہلے کے الفاظ میں نماز فجر، غروب سے پہلے کے الفاظ میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں، اور رات کے حصوں میں تسبیح کرنے کے الفاظ میں مغرب، عشاء اور تہجد کی نمازیں۔
17: سجدوں سے مراد فرض نمازیں ہیں، اور ان کے بعد تسبیح کرنے سے مراد نفلی نمازیں ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے اس کی یہی تفسیر منقول ہے (روح المعانی)
Read the full tafseer →امم سابقہ کے عروج وزوال میں بہت بڑی نصیحت ہے لیکن یہ صرف اس شخص کے لئے ہے جو دل و دماغ رکھتا ہو ، تاریخ امم جس دل کو حرکت نہیں دے سکتی وہ مردہ ہے ، یا وہ شخص دل و دماغ رکھتا ہی نہیں ہے۔ بلکہ نصیحت حاصل کرنے اور عبرت لینے کے لئے تو یہ بھی کافی ہے کہ انسان خاموشی سے داستان عروج وزوال امم سن لے۔ یہ داستان خود ہی بتا دے گی۔ سچ یہ ہے کہ یہ ایک عظیم حقیقت ہے۔ نفس انسانی پر امم ماضیہ کے قصص کا بہت ہی بڑا اثر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں معمولی سی بیداری اور معمولی سی قلبی کشادگی ہی یادوں اور تصورات سے اثر لیتی ہے اور انسان پر بہت اثر ہوتا ہے اور اس میں بہت سی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔
اس سے قبل اس کائنات کی کتاب…
Read the full tafseer →9 یعنی ان عبرتناک واقعات میں غور و فکر کر کے وہ ہی لوگ نصیحت حاصل کرسکتے ہیں جن کے سینہ میں سمجھنے والا دل ہو کہ از خود ایک بات کو سمجھ لیں، یا کم ازکم کسی سمجھانے والے کے کہنے پر دل کو حاضر کر کے کان دھریں۔ کیونکہ یہ بھی ایک درجہ ہے کہ آدمی خود متنبہ نہ ہو، تو دوسرے کے متنبہ کرنے پر ہوشیار ہوجائے۔ جو شخص نہ خود سمجھے نہ کسی کے کہنے پر توجہ کے ساتھ کان لگائے اس کا درجہ اینٹ پتھر سے زیادہ نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 37{ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَـہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْــقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدٌ۔ } ”یقینا اس میں یاد دہانی ہے اس کے لیے جس کا دل ہو یا جو توجہ سے سنے حاضر ہو کر۔“
اپنے مضمون کے اعتبار سے یہ قرآن مجید کا بہت اہم مقام ہے۔ یاد دہانی کے حوالے سے اس آیت میں دو طرح کے لوگوں کا ذکر ہوا ہے۔ یہ یاد دہانی یا تو ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو ”دل“ رکھتے ہیں ‘ یا پھر وہ جو پوری توجہ سے اس کو سنیں۔ گویا یہاں قرآن کی ہدایت تک پہنچنے کے دو الگ الگ طریقوں اور راستوں approaches کا ذکر ہے۔ ایک ان لوگوں کا راستہ ہے جو دل رکھتے ہیں۔ یہ دراصل وہ لوگ ہیں جن کی روح زندہ ہے۔ روح کا مسکن چونکہ قلب…
Read the full tafseer →43 یعنی ہدایت اور نصیحت کے حصول کے لئے دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے یا تو وہ خود اتنی عقل اور سمجھ رکھتا ہو کہ اقوام سابقہ کے حالات سن کر ان سے کوئی صحیح نتیجہ اخذ کرسکے یا اگر کوئی دوسرا اسے سمجھائے تو پوری توجہ سے سننے کے لئے تیار ہو۔ اور جس شخص میں یہ دونوں باتیں نہ ہوں اس کا کسی واقعہ سے سبق حاصل کرنا محال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
27۔ یعنی جو لوگ قلب سلیم رکھتے ہیں، ان کے لیے تو یہ سارے حکایات وقصص ذخیرۂ عبرت رکھتے ہی ہیں، باقی جو لوگ محض توجہ سے ان تذکروں کو سن لیں تو ان کیلئے بھی ان کے اندر کافی سامان ہدایت موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
من خشی الرحمٰن بالغیب وجاء بقلب منیب ” خشیت بالغیب “ کا مطلب دنیا میں ڈرنا ہے، جہاں نار و نعیم دونوں غائب ہیں اور قلب منیب سے قل سلیم مراد ہے۔
فنقبوا فی البلاد ھل من محیص نقبوا تنقیب سے ہے اس کے اصل معنی سوراخ کرنے اور پھاڑنے کے ہیں محاورات میں دور دراز ملکوں کے سفر کرنے کو بھی کہتے ہیں۔ (کمافی القاموس)
محیض ظرف مکان ہے، پناہ گاہ، لوٹنے کی جگہ، آیت کا مطلب یہ ہے کہ ال لہ تعالیٰ نے تم سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا جو قوت و طاقت میں تم سے کہیں زیادہ تھیں اور مختلف ملکوں اور خطوں میں تجارت وغیرہ کے لئے پھرتی رہیں مگر دیکھو کہ انجام کا ران کو موت آئی اور ہلاک ہوئیں، نہ ان کو کہیں پناہ ملی اور…
Read the full tafseer →ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب او القی السمع وھو شھید .
بلاشبہ اس میں اس شخص کیلئے بڑی عبرت ہے جو سمجھدار) دل رکھتا ہو یا (کم سے کم) متوجہ ہو کر بات کی طرف کان ہی لگائے۔
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ : یعنی اس سورة میں یا امم ہالکہ کے کھنڈروں کی سیر میں۔
لَذِکْرٰی : بلاشبہ عبرت اور نصیحت ہے۔
لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ : یعنی اس شخص کے لیے جس کا دل تمام کثافتوں سے پاک صاف ہو تجلّیات صفات کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اللہ کی یاد میں ڈوبا رہتا ہو اور غیر اللہ کی طرف متوجہ نہ ہو۔ اس مضمون کی تائید ایک حدیث قدسی سے ہوتی ہے (اللہ نے فرمایا :) نہ میری زمین مجھے سما سکتی ہے ‘ نہ میرا آسمان مجھے سما سکتا ہے ‘…
Read the full tafseer →ہلاک ہونے والوں کے اس واقعہ میں آپ کی قوم کے لیے بڑی عبرت ہے جس کے پاس فہیم دل ہو یا وہ کم از کم دل سے متوجہ ہو کر قرآن کریم سننے کی طرف کان ہی لگا دیتا ہو۔
Read the full tafseer →ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب …:”قلب“ نکرہ ہے، اس لئے ترجمہ ”کوئی دل“ کیا گیا ہے۔ نصیحت حاصل کرنے کے دو ہی ذریعے ہیں، یا تو آدمی خود غور و فکر کرے اور عقل سے کام لے یا کسی خیر خواہ کی بات توجہ سے سن کر اس پر عمل کرلے۔ یعنی اس سورت میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے نصیحت ویہ حاصل کرسکتا ہے جو کوئی دل رکھتا ہو جس کے ساتھ اس پر غور و فکر کرے۔”کوئی دل“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ دل کے ساتھ معلولی سا غور و فکر بھی کرے، یا دل کی حاضری کے ساتھ ان آیات کو سن لے۔ مگر کفار کی حال یہ ہے :(لھم قلوب لایفقھون بھا ، ولھم اعین لایبصرون بھا ولھم اذان لایسمعون بھا) (الاعراف : 189)”ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
وکم اھلکنا قبلھم من قرن یعنی محمد ! ﷺ آپ کی قوم سے پہلے کتنی قوموں کو ہم نے ہلاک کیا جب کہ ان سے زیادہ طاقت اور قوت والے تھے۔ فنقبوا فی البلاد وہ شہروں میں چلے تاکہ بھاگ جانے کی کوئی جگہ تلاش کریں۔ ایک قول یہ کیا گیا : انہوں نے شہروں میں اثرات چھوڑے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : انہوں نے سفر کیا اور چکر لگایا۔ نضر بن شمیل نے کہا : انہوں نے چکر لگایا۔ قتادہ نے کہا : انہوں نے طواف کیا۔ معرج نے کہا : وہ دور تک چلے گئے اسی معنی میں امراء القیس کا شعر ہے :
وقد نقبت فی الافاق حتی رضیت من الغنیمۃ بالایاب (2)
میں آفاق میں دور تک گیا یہاں تک کہ میں غنیمت کی بجائے لوٹ آنے پر راضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فنقبوافی البلاد '' (شہروں میں گھومتے پھرتے تھے) یعنی وہ شہروں میں رہنے کو ترجیح دیتے تھے (کبھی اس شہر کو ترجیح دی اور کبھی اس شہرکو)
2:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' فنقبوافی البلاد '' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ یمن کی لغت میں اس کا معنی ہے ہدبوا یعنی وہ شہروں میں گھومتے پھرتے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے عدی بن زید کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
نقبوافی البلاد من حذرالموت وجالوافی الارض ای مجال :
ترجمہ : وہ لوگ شہروں میں…
Read the full tafseer →اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَذِكْرٰى [ یقینا بڑی نصیحت ہے ] لِمَنْ [ اس کے لیے ] كَانَ لَهٗ [ جس کے لیے ہو ] قَلْبٌ [ ایک دل (تفقہہ والا )] اَوْ اَلْقَى [ یا وہ ڈالے (دھرے ) ] السَّمْعَ [ کان (بات پر ) ] وَهُوَ [ اس حال میں کہ وہ ] شَهِيْدٌ [ معائنہ کرنے والا ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
اس کے بعد فرمایا ﴿ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِيْدٌ0037﴾ (یہ جو کچھ سابق مضمون بیان کیا گیا اس میں اس شخص کے لیے نصیحت ہے جس کے پاس دل ہو جو سمجھتا ہو اور حقائق سے آگاہ ہو یا ایسی حالت میں کان لگاتا ہو کہ وہ وہاں اپنے دل سے حاضر ہو) یہ بطریقہ مانعۃ الخلو ہے، جو لوگ نصیحت حاصل کرنے والے دل نہیں رکھتے اور صحیح طریقہ پر حضور قلب کے ساتھ بات نہیں سنتے ایسے لوگ عبرت اور نصیحت حاصل کرنے سے دور رہتے ہیں۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان دوسری مخلوق ہے ان سب کو چھ دن میں پیدا فرمایا اور ذرا سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–45
شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…
Read the full tafseer →20:۔ ” ان فی ذلک۔ الایۃ “۔ قلب، عقل۔ القی السمع، غور سے سا۔ اقوام گذشتہ کی تباہی میں ہر اس شخص کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو صاحب عقل وہوش ہو اور دل کو حاضر کر کے غور سے سننے کا عادی ہو (خازن) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس کے اثبات میں عقلی اور نفلی دلائل پیش کیے۔ پھر مختلف اقوام کا اجمالی حال اور انکو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ پھر انسان کے حالات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو بیان فرمایا ۔ انسانوں کے اعمال کی حفاظت اور ان کی بارگاہ الٰہی میں پیشی کا حال ذکر کیا ۔ مجرموں کے جہنم میں داخلے اور ان کی آپس میں الزا م تراشیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ فرمائے گا میرے پاس مت جھگڑا کرو ۔ میں نے تمہیں دنیا میں ہر نیک و بد سے آگاہ کردیا تھا اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ تمہیں اپنے عقیدے اور عمل کا بھگتان کرنا ہوگا ۔
ہل من مزید
جب دوزخی اپنے اپنے ٹھکانے میں پہنچ جائیں…
Read the full tafseer →اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَہُوَشَہِيْدٌ 37
ذكر ( نصیحت)
وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق بين قوله : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] ، وبین قوله : اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] : إنّ قوله : فَاذْكُرُونِي مخاطبة لأصحاب النبي صلّى اللہ عليه وسلم الذین حصل لهم فضل قوّة بمعرفته تعالی، فأمرهم بأن يذكروه بغیر واسطة، وقوله تعالی: اذْكُرُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
تفسیر : جب دوزخیوں کو دوزخ میں ڈال چکے گا تو دوزخ سے پوچھے گا، ہل امتلئت کیا تو بھرگئی، وہ کہے گی اور کچھ ہے ؟ یعنی اور بھی ہو تو لایئے بخاری و مسلم ترمذی وغیرہ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ جہنم ہل من مزید ہل من مزید کہے گی، یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا پائوں رکھ دے گا تو کہے گی۔ بس بس۔ قدم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ خود اس کی اشتہاء کو فرو کردے، یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ یہاں تک دوزخیوں کا حال تھا، اب جنتیوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید کہ پرہیز گاروں کے سامنے جنت لائی جاوے گی، جس کو وہ عرصات میں آنکھوں سے سامنے دیکھیں گے، فرمایا جاوے گا یہ وہ ہے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا…
Read the full tafseer →اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَـہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَھُوَ شَھِیْدٌ۔ (قٓ: 37)
(بےشک اس میں عبرت ہے اس شخص کے لیے جس کے پاس دل ہو یا جو کان لگائے متوجہ ہوکر۔ )
عبرت حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ صفات
اس آیت میں ذٰلِکَ کا اشارہ ان قوموں کی تباہی کی طرف ہے جن کا ذکر پہلی آیت میں کیا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان قوموں کی تاریخ سے قریش بہت حد تک واقف تھے۔ اسی لیے بجائے ان کی تاریخ بیان کرنے کے اشارہ کردیا گیا ہے کہ ان کی تاریخ میں ان لوگوں کے لیے بہت عبرت کا سامان ہے۔ یہ ان قوموں کی قوت سے واقف ہیں۔ ان کے بڑے بڑے ملکوں اور مضبوط حکومتوں کی باتیں بھی انھوں نے سن رکھی ہیں اور پھر آج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ جہنم کی وعید اور جنت کی نوید سننے کے باوجود اپنے رب کی طرف قلباً اور عملاً رجوع نہیں کرتے ان کا دنیا میں انجام۔
قرآن مجید کے پہلے مخاطب اہل مکہ تھے اس لیے انہیں بتلایا کہ تم سے پہلے کتنی جماعتیں گزرچکی ہیں جو جسمانی قوت اور وسائل کے لحاظ سے تم سے زیادہ طاقت ور تھیں اور وہ بہت سے شہروں اور علاقوں میں پھرنے والے تھے۔ لیکن ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو انہیں پناہ لینے کے لیے کوئی جگہ میسر نہ آئی۔ ” فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ “ کے اہل تفسیر نے دو معانی کیے ہیں۔ 1 ۔ وہ اس قدر طاقت ور تھے کہ انہوں نے کئی شہر اور علاقے فتح کیے اور ان میں پوری عیش و عشرت کے ساتھ رہتے…
Read the full tafseer →آیت 37 : اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بلاشبہ اس میں) اس مذکور میں لَذِکْرٰی (بڑی عبرت و نصیحت ہے) لِمَنْ کَانَ لَہٗٗ قَلْبٌ (جس کے پاس دل ہو) سمجھنے والا۔ کیونکہ جس کا دل قبول نہیں کرتا۔ گویا اس کا دل ہی نہیں۔ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ (یا کان لگا دیتا ہو) مواعظ پر کان دھرے۔ وَہُوَ شَہِیْدٌ (متوجہ ہو کر) وہ اپنی فطانت کو حاضر باش کرنے والا ہو۔ کیونکہ جو اپنے ذہن کو حاضر نہیں کرتا وہ غائب کی طرح ہے۔
Read the full tafseer →36 ۔” وکم اھلکنا قبلھم من قرن ھم اشد منھم بطشا فنقبوا فی البلاد “ انہوں نے سفر کیا، انہوں نے چکر لگایا اور اس کی اصل نقب سے ہے اور وہ راستہ ہے گویا کہ وہ ہر راستہ پر چلے۔ ” ھل من محیص “ پس انہوں نے اللہ کے امر سے کوئی جائے فرار نہ پائی اور کہا گیا ہے کہ ” ھل من محیص موت سے جائے فرار ؟ پس انہوں نے اس میں نہ پایا۔ اہل مکہ کو ڈرانا ہے اور بیشک وہ ان کے راستہ کی مثل پر ہیں وہی موت سے جائے فرار نہ پائیں گے مرجائیں گے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرف لوٹیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
36۔ 40۔ دوزخ کے عذاب کے ذکر کے بعد دنیا کے عذاب سے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو ڈرایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کچھ قیامت پر ہی موقوف نہیں ہے۔ دنیا کے طرح طرح کے عذابوں سے بھی بہت سی پہلی ایسی قومیں ہلاک ہوچکی ہیں جو حال کے لوگوں سے قوت ثروت سب میں زیادہ تھیں۔ پھر باوجود اس قوت و ثروت کے اللہ کے عذاب سے بچنے کا کوئی ٹھکانہ انہوں نے نہ پایا حال کے لوگ بھی اگر اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو ایک دن یہی نتیجہ ان کا ہوگا پھر فرمایا ہر شخص صاحب عقل نصیحت کو کان لگا کر سننے والے کو یہ پچھلی قوموں کی ہلاکت کے قصے سن کر بڑی عبرت پکڑنی چاہئے تاکہ کہیں یہی دن اس کے آگے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کو، جو رسول اکرم ﷺ کو جھٹلاتے ہیں، ڈراتے ہوئے فرماتا ہے : (وکم اھلکنا قبلھم من قرن) ” ہم نے ان سے پہلے کئی امتیں ہلاک کر ڈالیں۔ “ یعنی بہت سی قوموں کو ہلاک کیا (ھم اشد) ” وہ زیادہ تھے “ ان لوگوں سے (بطشا) ” قوت میں۔ “ یعنی زمین میں، قوت اور آثار میں ان سے بڑھ کر تھے، بنابریں فرمایا : (فنقبوا فی البلاد) ” پس انہوں نے شہروں کا گشت کیا۔ “ یعنی انہوں نے نہایت مضبوط قلعے اور بلند عمارتیں تعمیر کیں، باغات لگائے، نہریں نکالیں، کھیت اگائے، زمین کو آباد کیا اور ہلاک ہوگئے۔ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی آیات کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دردناک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–38
کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے
قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں)
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
[ 52] تاریخ سے درس عبرت کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان :
سو اس ارشاد سے دور حاضر کے کفار و منکرین کو تاریخ سے سبق لینے کیلئے تنبیہ و تذکیر اور تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جو دولت اور طاقت کے اعتبار سے ان سے کہیں بڑھ کر تھیں، اور انہوں نے چھان مارا تھا ملکوں کو۔ اسی لئے انہوں نے اس گھمنڈ میں مبتلا ہو کر قبول حق سے انکار کردیا اور کہا۔ من اشد مناقو۔ کہ " ہم سے بڑھ کر طاقت اور کس کی ہوسکتی ہے ؟ " اور اللہ پاک نے ان کے اس متکبرانہ اور سرکشانہ زعم اور گھمنڈ کے جواب میں وہی ارشاد فرمایا { اولم یرو ان اللّٰہ الذی خلقہم ھو اشد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
سمجھنے والے اللہ کی قدرت کو دیکھتے ہیں
تشریح : سب سے پہلے تو اس بات پر توجہ دلائی گئیـ ہے کہ قرآن کو سمجھنا اور اللہ کا ادراک یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جو اس طرف رجحان رکھتے ہیں۔ جن کی طبیعت میں پاکی اور روحانیت کا کچھ حصہ موجود ہوتا ہے۔ وہ قرآن کے مضامین سے ہدایت حاصل کرلیتے ہیں اس سے اللہ کی طرف سے اعجاز سمجھتے ہیں ان کو اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت دکھائی دیتی ہے وہ اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے اس کی تمام صفات کو پہچان لیتے ہیں۔ اس کی وحدانیت، خلاقی، عظمت، حسن و خوبی، قدرت اور لافانیت۔ سب کچھ ان کو خود اپنے جسموں کی بناوٹ میں آسمانوں، زمین، پھول، پھل رات دن، ہوا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–45
آیات 30 تا 45۔
دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔
اواب اور حفیظ ۔
اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
ف 8 اس آیت سے مقصود ان یہودیوں کی تردید ہے جو کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں بنایا اور وہ ساتویں دن تھک کرلیٹ گیا۔
Read the full tafseer →(50:37) ذلک۔ اشارہ ہے ان کے ہلاک ہونے کی طرف۔ یا جو مضمون اس سورت میں بیان ہوا ہے اس کی طرف ۔
لذکری۔ لام تحقیق کے لئے ہے۔ ذکری پندو نصیحت، عبرت۔
قلب : سے مراد یہاں قلب سلیم ہے۔ جو حقائق پر غور کرے اور صرف سطحی نظر سے نہ دیکھے پھر غور کے بعد اس سے نصیحت پکڑے
القی السمع : القی ماضی واحد مذکر غائب القاء (افعال) مصدر اس نے ڈالا۔
القی السمع : ای اصغی الی ما یتلی علیہ من الوحی۔ جو وحی اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنتا ہے ۔ گوش ہوش سے سنتا ہے۔
وھو شھید : ای حاضر بذھنہ لیفھر معانیہ اور اپنے ذہن کو حاضر رکھے تاکہ اس کے معنی سمجھ سکے (بیضاوی)
یہ سورت اس شخص کے لئے عبرت و موعظت ہے جس کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 40 :
نقبوا (وہ بھاگے دوڑے) محیص ( پناہ کی جگہ) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) مامسنا ( ہم کو نہیں چھوا) ‘ لغوب (تھکاوٹ۔ تھکن) ‘ ادبار ( پیچھے۔ بعد میں) ۔
تشریح : آیت نمبر 36 تا 40 :
اعلان نبوت کے بعد وہی لوگ جو نبی کریم ﷺ کو بہت چاہتے تھے اس طرح آپ کے دشمن بن گئے کہ آپ کا اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کا مکہ میں رہنا دشوار ہوگیا اور ان مکہ کی سرزمین کو تنگ کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے قوموں کے ابھرنے ‘ عروج و ترقی تک پہنچنے اور نافرمانیوں کی وجہ سہ مٹ جانے کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حق و صداقت کے راستے پر چلنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(ف 1) دوزخ کے عذاب کے ذکر کے بعد دنیا کے عذاب سے ان آیتوں میں اللہ تعای نے کفار کو ڈرایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کچھ قیامت پر ہی موقوف نہیں ہے دنیا کے طرح طرح کے عذابوں سے ہزاروں گر وہیں زمانہ ہائے گذشتہ میں ہلاک کرڈالیں جو ان سے طاقت ، عزت ، شوکت، اسباب وہمت میں بدرجہا زائد تھیں، پھر باوجود اس قوت و ثروت کے اللہ کے عذاب سے بچنے کا کوئی ٹھکانہ انہوں نے نہ پایا، حال کے لوگ بھی اگر اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو ایک دن یہی نتیجہ ان کا ہوگا پھر فرمایا کہ ہر شخص صاحب عقل نصیحت کو کان لگا کر سننے والے کو یہ پچھلی قوموں کی ہلاکت کے قصے سن کر عبرت پکڑنی چاہیے اور مذہب اسلام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
[13] یعنی اللہ تعالیٰ نے جن قوموں کو ہلاک کیا ان میں سے جو لوگ ہلاک ہونے سے بچ رہے وہ تتر بتر ہوگئے اور مختلف ملکوں میں جدھر جس کا سینگ سمایا وہ ادھر کو جائے پناہ کی تلاش میں چل کھڑا ہوا۔ قرآن میں جن قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں ان میں سے بعض تو پوری کی پوری عذاب الٰہی سے ہلاک ہوگئیں مثلاً عاد اور ثمود وغیرہ۔ بعض قوموں کا یہ حال ہوا کہ ان کے مترفین و متکبرین تو ہلاک ہوگئے، رہے ان کے عوام تو وہ ادھر ادھر پراگندہ ہوگئے۔ فرعون اور اس کی قوم کی تباہی کی صورت یہی ہوئی۔ اسی سے ملتے جلتے حالات ملک سبا میں پیش آئے۔ بیشمار افراد تو سیلاب کی نذر ہوگئے اور جو بچ رہے وہ علاقہ کے بنجر ہونے اور معاشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 1: اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ مکہ والوں سے کہیں زیادہ طاقتور قوموں نے جب ہماری نافرمانی کی تو وہ مٹادیئے گئے ہیں ۔ اور باوجود اس کے کہ وہ قومیں کئی شہروں میں گھومتی پھرتی رہتی تھیں ۔ ان کو کہیں پناہ نہیں ملی ۔ اس لئے داد سے م مکہ کے یہ مغرور بھی سن رکھیں ۔ کہ ہمارا قانون مکافات جب حرکت میں آگیا ۔ تو پھر کوئی چیز اس کے درمیان حائل نہ ہوسکے گی ۔ وہ پیدا کرنے میں ذرائع کا محتاج ہے نہ وسائل کا ۔ وہ حاکم اور قادر ہے ۔ اور بیک جنبش ارادہ ہزار ہا خوالم کو ظہور پذیر کرسکتا ہے ۔ اس لئے اگر یہ لوگ اس طرح کی باتوں کو اس کی ذات والا صفات کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ تو آپ برداشت کیجئے ۔ اور اپنے فرائض…
Read the full tafseer →(37) بلا شبہ اس واقعہ میں اس شخص کے لئے بڑی نصیحت اور عبرت ہے کہ جس کے پہلو میں دل ہو یا وہ متوجہ ہوکر کان لگادیتا ہو۔ یعنی گزشتہ قوموں کی ہلاکت کے واقعات میں وہی لوگ عبرت وموعظت حاصل کرسکتے ہیں جن کے پہلو میں قلب سلیم اور فہیم ہو اور ان کا دل زندہ ہو یا کان لگا کر قرآن کو سنتے اور سمجھتے ہوں اور اپنا ذہن حاضر رکھتے ہوں یعنی دل اور دماغ دونوں میں صلاحیت ہو یا کم از کم ایک چیز میں بھی صلاحیت ہو تو کچھ نہ کچھ عبرت ہوجائے دل لگا کر سنتا بھی رہے تو فائدہ پہنچ جاتا ہے۔
حضرات صوفیانے بہت سے معنی بیان فرمائے ہیں اور بات بھی یہ ہے کہ جس کے دل میں اعتقاد نہ ہو وہ دل ایسا ہے جیسے دل نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
ف 2۔ یعنی قوت کے ساتھ اسباب معیشت میں بھی بڑی ترقی دی تھی۔
3۔ یعنی کسی طرح بچ نہ سکے۔
Read the full tafseer →اس میں تمہارے لیے نصیحت ہے بشرطیکہ تم نصیحت حاصل کرو اور بات کو سمجھو
37 ۔ گزشتہ تاریخی واقعات میں اور قوموں کی زندگیوں اور تباہیوں کے واقعات میں بہت بڑی عبرت مخفی ہوتی ہے لیکن کن کے لیے ؟ جو عبرت حاصل کرنا چاہیں اور دوسروں کو دیکھ کر اصلاح کرلیں قلب جب تک اپنا کام کررہا ہے یعنی لوٹ پوٹ ہوتا ہے اور چلتا رہتا ہے انسان کی حرکت جاری رہتی ہے اور دوسرے سارے اعضا اپنا اپنا کام کرتے رہتے ہیں اس لیے اسلام جب بھی عقل وفکر اور سمجھو سوچ کی بات کرتا ہے تو اس کے لیے قلب ہی کا نام لیتا ہے اور انہی معنوں میں اس جگہ بھی قلب کا لفظ آیا ہے کہ انسان کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا رہے لیکن دوسرے جانوروں اور الانعام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
Channels of Acquiring Knowledge
لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ ( who has a heart - 50:37). Ibn ` Abbas ؓ has said that here the word qalb [ heart ] means ` aql [ intellect ], because the centre of intellect is heart. Some scholars of Qur'an say that "heart" here refers to life, because the axis of life is heart. Thus the verse means only that person will be able to benefit from the advice and lesson of the Qur'an who has life or a sound understanding with which he comprehends. The one devoid of intellect cannot benefit from the Qur'an.
أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ (and gives ear [ to the…
Read the full tafseer →48 In ocher words, either one should have so much of native intelligence that one may think right of one's own accord, or if not so, one should be so free from prejudice and neglect that one may listen with attention when another person tries to make one understand the truth.
Read the full tafseer →