Explained with ayahs 36–40
بےسود کوشش
ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں ؟ ان سے بہت زیادہ قوت وطاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ وبالا کرچکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں زمین میں خوب فساد کیا۔ لمبے لمبے سفر کرتے تھے ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی اللہ کی قضا و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا ؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آگیا بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لئے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ دھیان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پاسکتا ہے یعنی دل کو…
Read the full tafseer →سورة قٓ 46
یعنی صرف اپنے ملک ہی میں وہ زور آور نہ تھیں بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی وہ جا گھسی تھیں اور ان کی تاخت (طاقت) کا سلسلہ روئے زمین پر دور دور تک پہنچا ہوا تھا۔
سورة قٓ 47
یعنی جب خدا کی طرف سے ان کی پکڑ کا وقت آیا تو کیا ان کی وہ طاقت ان کو بچا سکی ؟ اور کیا دنیا میں پھر کہیں ان کو پناہ مل سکی ؟ اب آخر تم کس بھروسے پر یہ امید رکھتے ہو کہ خدا کے مقابلے میں بغاوت کر کے تمہیں کہیں پناہ مل جائے گی ؟
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہم ان (اہل مکہ) سے پہلے بہت سی امتوں کو (ان کے کفر کی شامت سے) ہلا کرچکے ہیں جو قوت میں ان سے (کہیں) زیادہ تھے اور (دنیا کا سامان بڑھانے کے لئے) تمام شہروں کو چھانتے پھرتے تھے (یعنی قوت کے ساتھ اسباب معیشت میں بھی بڑی ترقی کی تھی، لیکن جب ہمارا عذاب نازل ہوا تو ان کو) کہیں بھاگنے کی جگہ بھی نہ ملی (یعنی کس طرح بچ نہ سکے) اس (واقعہ اہلاک) میں اس شخص کیلئے بڑی عبرت ہے، جس کے پاس (فہیم) دل ہو یا (اگر فہیم نہ ہو تو کم از کم یہی ہو کہ) وہ (دل سے) متوجہ ہو کر (بات کی طرف) کان ہی لگا دیتا ہو (اور سننے کے بعد اجمالاً حقانیت کا معتقد ہو کر اس بات کو قبول کرلیتا ہو) اور (اگر قیامت کا…
Read the full tafseer →-4 آگے آیات 45-36 کا مضمون
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ پہلے قریش کو تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ اپنی موجودہ قوت و صولت کے غرے میں خدا سے لڑنے کی جسارت نہ کرو تم سے پہلے کتنی ہی قومیں گزر چکی ہیں جو قوت و صولت میں تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہوئی ہیں لیکن جب خد نے ان کو پکڑا تو وہ اپنے کو بچا نہ سکیں۔ اگر تمہارے پاس سمجھنے والے دل اور سننے والے کان ہیں تو ان کی سرگزشتوں میں تمہارے لئے بڑا دسر عبرت ہے۔
اس کے بعد نبی ﷺ کو تسلی دی گی ہے کہ یہ مخالفین جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو۔ یا مت شدنی ہے۔ ہم آسمان و زمین کو پیدا کر کے تھک نہیں گئے کہ مرنے کے بعد لوگوں کو دوبارہ نہ زندہ کرسکیں گے۔ پس کان لگائے ہی…
Read the full tafseer →36۔ 1 (فَنقبُوْفِی الْبِلَادِ) (شہروں میں چلے پھرے) کا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اہل مکہ سے زیادہ تجارت و کاروبار کے لئے مختلف شہروں میں پھرتے تھے۔ لیکن ہمارا عذاب آیا تو انہیں کہیں پناہ اور راہ فرار نہ ملی۔
Read the full tafseer →15: یعنی ان کی خوش حالی کا عالم یہ تھا کہ وہ تجارت اور سیاحت کے لیے شہر شہر گھومتے تھے۔ اور اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے عذاب سے بچنے کے لیے مختلف بستیوں میں بہت ہاتھ پاؤں مارے، لیکن عذاب الٰہی سے بچ نہیں سکے۔
Read the full tafseer →درس نمبر 249 ایک نظر میں
یہ اس سورت کا آخری سبق ہے ۔ گویا یہ آخری زمزمہ ہے اور نہایت ہی زور دار آواز میں بتایا جاتا ہے کہ سنو انسانی تاریخ میں امم سابقہ کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے۔ اس میں کائنات کی ایک جھلک بھی ہے اور حشر ونشر کے بارے میں بھی ایک منظر پیش کیا گیا ہے اور قرآن کے بارے میں بھی ہدایت ہے کہ آپ کام جاری رکھیں۔ قلب و نظر کے لئے بھی کئی ہدایات ہیں ، اس سبق میں۔
یہ تمام جھلکیاں اس پوری سورت میں بھی گزری ہیں لیکن آخر میں یہ ایک نئے ٹچ کے ساتھ دہرائی گئی ہیں ۔ نہایت تیزی کے ساتھ نکتہ وار ، انہی باتوں کو دہرایا گیا ہے لیکن ایک نئے ذوق اور نئے انداز میں اور یہی قرآن کا اعجاز ہے کہ وہ ایک بات…
Read the full tafseer →8 پہلے کفار کی تعذیب اخروی کا بیان تھا۔ درمیان میں ان کے مقابلہ پر اہل جنت کے تنعم کا ذکر آگیا۔ اب پھر کفار کی سزا دہی کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی آخرت سے پہلے دنیا ہی میں ہم کتنی شریر و سرکش قوموں کو تباہ کرچکے ہیں جو زور و قوت میں موجود اقوام کفار سے بڑھ چڑھ کر تھیں۔ اور جنہوں نے بڑے بڑے شہر چھان مارے تھے۔ پھر جب عذاب الٰہی آیا تو بھاگ جانے کو روئے زمین پر کہیں ٹھکانہ نہ ملا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عذاب کے وقت اپنی بستیوں میں کھوج لگانے لگے کہ کہیں پناہ ملے۔ مگر کوئی ٹھکانہ نہ پایا۔ وہذا ہوالظاہر من الترجمۃ والا ول ما اختارہ جمہور المفسرین۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 36 { وَکَمْ اَہْلَکْنَا قَـبْلَہُمْ مِّنْ قَرْنٍ ہُمْ اَشَدُّ مِنْہُمْ بَطْشًا فَنَقَّــبُوْا فِی الْبِلَادِ ط ہَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ۔ } ”اور کتنی ہی قوموں کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا ہے جو قوت میں ان سے بڑھ کر تھیں ‘ سو انہوں نے ملکوں کے ملک فتح کیے ! پھر کیا وہ کوئی جائے فرار پا سکے ؟“
نَقَبَ کا معنی ہے نقب لگانا ‘ یعنی دیوار میں سوراخ کرنا ‘ جبکہ نَقَّبَ فِی الْاَرْضِ باب تفعیل کا مفہوم ہے : بھاگ دوڑ کرتے ہوئے کسی ملک میں جا گھسنا ‘ یعنی کسی علاقے کو فتح کرلینا۔ وہ لوگ اتنے زور آور تھے کہ اپنی فتوحات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں گھستے چلے گئے اور ملکوں پر ملک فتح کرتے چلے…
Read the full tafseer →42 اس کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ یہ قومیں اتنی طاقتور اور جنگجو تھیں کہ انہوں نے اپنے ملک پر ہی اکتفا نہیں کیا تھا۔ بلکہ اردگرد کے بھی کئی ملکوں کو تاخت و تاراج کیا تھا۔ پھر جب ہمارا عذاب آیا تو انہیں کہیں بھی پناہ کی جگہ نہ مل سکی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
27۔ یعنی جو لوگ قلب سلیم رکھتے ہیں، ان کے لیے تو یہ سارے حکایات وقصص ذخیرۂ عبرت رکھتے ہی ہیں، باقی جو لوگ محض توجہ سے ان تذکروں کو سن لیں تو ان کیلئے بھی ان کے اندر کافی سامان ہدایت موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
من خشی الرحمٰن بالغیب وجاء بقلب منیب ” خشیت بالغیب “ کا مطلب دنیا میں ڈرنا ہے، جہاں نار و نعیم دونوں غائب ہیں اور قلب منیب سے قل سلیم مراد ہے۔
فنقبوا فی البلاد ھل من محیص نقبوا تنقیب سے ہے اس کے اصل معنی سوراخ کرنے اور پھاڑنے کے ہیں محاورات میں دور دراز ملکوں کے سفر کرنے کو بھی کہتے ہیں۔ (کمافی القاموس)
محیض ظرف مکان ہے، پناہ گاہ، لوٹنے کی جگہ، آیت کا مطلب یہ ہے کہ ال لہ تعالیٰ نے تم سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا جو قوت و طاقت میں تم سے کہیں زیادہ تھیں اور مختلف ملکوں اور خطوں میں تجارت وغیرہ کے لئے پھرتی رہیں مگر دیکھو کہ انجام کا ران کو موت آئی اور ہلاک ہوئیں، نہ ان کو کہیں پناہ ملی اور…
Read the full tafseer →وکم اھلکنا قبلھم من قرن ھم اشد منھم بطشا فنقبوا فی البلاد ھل من محیصٍ .
اور ہم ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں جو قوت میں ان سے بہت زیادہ تھے اور تمام شہروں کو چھانتے پھرتے تھے کہیں بھاگنے کی جگہ نہ ملی۔
قَبْلَھُمْ : یعنی آپ کی قوم سے پہلے۔ بَطْشًا : یعنی قوم میں۔ جیسے قوم عاد ‘ قوم فرعون وغیرہ۔
فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ : صاحب قاموس نے لکھا ہے نَقَّبَ فِی الْاَرْضِ زمین پر گیا (گھوما پھرا) اَنْقَبَ اور نَقَّبَ کا بھی یہی معنی ہے۔
میں کہتا ہوں اس جگہ باب تفعیل کا استعمال کثرت فعل کو ظاہر کررہا ہے ‘ یعنی وہ ملکوں ملکوں ہر قسم کا تصرف کرنے اور فائدہ اندوزی کیلئے خوب گھومے پھرے۔…
Read the full tafseer →اور ہم آپ کی قوم سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں جو قوت میں آپ کی قوم سے کہیں زیادہ تھے اور اپنی تجارتوں کے سلسلہ میں تمام شہروں کا سفر کرتے اور ان کو چھانتے پھرتے تھے۔
لیکن جب ہمارا عذاب ان پر نازل ہوا تو انہیں کوئی جائے پناہ اور بھاگنے کی جگہ تک نہ ملی یا یہ کہ ان میں سے کیا کوئی باقی رہا۔
Read the full tafseer →(1) وکم اھلکنا قبلھم من قرب …:”فتقبوا“ نقب کا معنی سوراخ ہے۔”نقب (ن) فی الارض“ زمین میں گھوما پھرا۔ ”نقب تنقیباً“ (تفعیل) میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ ہے، خوب گھوما پھرا۔ نقب (سوراخ) کی مناسب سے ”فنقبوا فی البلاد“ کا ترجمہ کیا گیا ہے :”پس انہوں نے شہروں کو چھان مارا۔“ اس سے پہلے کفار کو آخرت میں دیئے جانے والے عذاب کا ذکر فرمایا : درمیان میں ایمان والوں کے حسن انجام کا ذکر کرنے کے بعد اب کفار کو دنیا میں دیئے جانے والے ہولناک عذابوں کا ذکر فرمایا۔ مقصود کفار کو ڈرانا اور رسول اللہ ﷺ اور ایمان والوں کو تسلی دلانا ہے کہ وہ کفار کی شان و شوکت سے مرعوب نہ ہوں۔
(2) یعنی ہم نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
وکم اھلکنا قبلھم من قرن یعنی محمد ! ﷺ آپ کی قوم سے پہلے کتنی قوموں کو ہم نے ہلاک کیا جب کہ ان سے زیادہ طاقت اور قوت والے تھے۔ فنقبوا فی البلاد وہ شہروں میں چلے تاکہ بھاگ جانے کی کوئی جگہ تلاش کریں۔ ایک قول یہ کیا گیا : انہوں نے شہروں میں اثرات چھوڑے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : انہوں نے سفر کیا اور چکر لگایا۔ نضر بن شمیل نے کہا : انہوں نے چکر لگایا۔ قتادہ نے کہا : انہوں نے طواف کیا۔ معرج نے کہا : وہ دور تک چلے گئے اسی معنی میں امراء القیس کا شعر ہے :
وقد نقبت فی الافاق حتی رضیت من الغنیمۃ بالایاب (2)
میں آفاق میں دور تک گیا یہاں تک کہ میں غنیمت کی بجائے لوٹ آنے پر راضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فنقبوافی البلاد '' (شہروں میں گھومتے پھرتے تھے) یعنی وہ شہروں میں رہنے کو ترجیح دیتے تھے (کبھی اس شہر کو ترجیح دی اور کبھی اس شہرکو)
2:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' فنقبوافی البلاد '' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ یمن کی لغت میں اس کا معنی ہے ہدبوا یعنی وہ شہروں میں گھومتے پھرتے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے عدی بن زید کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
نقبوافی البلاد من حذرالموت وجالوافی الارض ای مجال :
ترجمہ : وہ لوگ شہروں میں…
Read the full tafseer →وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ [ اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کیں ان سے پہلے ] مِّنْ قَرْنٍ [ قومیں ] هُمْ [ وہ لوگ ] اَشَدُّ مِنْهُمْ [ ان سے زیادہ سخت تھے ] بَطْشًا [ بلحاظ گرفت کرنے کے ] فَنَقَّبُوْا [ تو انہوں نے بھاگ دوڑ کی ] فِي الْبِلَادِ ۭ [ شہروں میں ] هَلْ [ (کہ ) کیا ] مِنْ مَّحِيْصٍ [ کوئی بھی بچنے کی جگہ ہے ]
Read the full tafseer →گزشتہ امتوں کی ہلاکت سے عبرت حاصل کرنے کا حكم
اول تو ان آیات میں گزشتہ اقوام کی بربادی کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے قرآن کے مخاطبین سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا وہ لوگ گرفت کرنے میں ان لوگوں سے زیادہ سخت تھے، جیسا کہ قوم عاد کے بارے میں فرمایا ﴿ وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَۚ00130﴾ (اور جب تم پکڑتے ہو تو بڑے جابر بن کر پکڑتے ہو) ۔
اور سورة ٴ محمد میں فرمایا ﴿ وَ كَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِيَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْۤ اَخْرَجَتْكَ 1ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ 0013﴾ (اور بہت سی بستیاں ایسی تھیں جو قوت میں آپ کی اسی بستی سے بڑھی ہوئی تھیں جس کے رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–45
شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…
Read the full tafseer →19:۔ ” وکم اھلکنا یہ تخویف دنیوی ہے۔ بطشا، قت یا شدید گرفت۔ نقبوا فی البلاد، انہوں نے مختلف حیلوں اور تدبیروں سے شہروں پر قبضہ جمایا اور ان کو تابع کرلیا۔ اس صورت میں ھل من محیص علیحدہ جملہ ہوگا یعنی انہوں نے شہروں کو تو تابع کرلیا۔ لیکن کیا ہمارے عذاب سے بھی بچ سکے ؟ یا مطلب یہ ہے کہ ہمارے عذاب کے وقت اس سے بچنے کے لیے بہت حیلے کیے، لیکن کیا ہمارے عذاب سے خلاصی ہوئی ؟ اب یہ جملہ ما قبل کے ساتھ مرتبط ہوگا۔ دور درواز شہروں کے سفر کرتے رہے۔ سارو فیہا یبتغون الارزاق والمتاجر والمکاسب اکثر مما تخاطقتم انتم بھا ؟ (ابن کثیر ج 4 ص 229) ۔ مکہ والوں سے پہلے ہم نے بہت سی قوموں کو ہلاک کیا ہے جو قوت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس کے اثبات میں عقلی اور نفلی دلائل پیش کیے۔ پھر مختلف اقوام کا اجمالی حال اور انکو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ پھر انسان کے حالات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو بیان فرمایا ۔ انسانوں کے اعمال کی حفاظت اور ان کی بارگاہ الٰہی میں پیشی کا حال ذکر کیا ۔ مجرموں کے جہنم میں داخلے اور ان کی آپس میں الزا م تراشیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ فرمائے گا میرے پاس مت جھگڑا کرو ۔ میں نے تمہیں دنیا میں ہر نیک و بد سے آگاہ کردیا تھا اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ تمہیں اپنے عقیدے اور عمل کا بھگتان کرنا ہوگا ۔
ہل من مزید
جب دوزخی اپنے اپنے ٹھکانے میں پہنچ جائیں…
Read the full tafseer →وَكَمْ اَہْلَكْنَا قَبْلَہُمْ مِّنْ قَرْنٍ ہُمْ اَشَدُّ مِنْہُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِي الْبِلَادِ 0 ۭ ہَلْ مِنْ مَّحِيْصٍ 36
كم
كَمْ : عبارة عن العدد، ويستعمل في باب الاستفهام، وينصب بعده الاسم الذي يميّز به نحو : كَمْ رجلا ضربت ؟ ويستعمل في باب الخبر، ويجرّ بعده الاسم الذي يميّز به . نحو :
كَمْ رجلٍ. ويقتضي معنی الکثرة، وقد يدخل «من» في الاسم الذي يميّز بعده . نحو : وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها[ الأعراف/ 4] ، وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] ، والکُمُّ : ما يغطّي الید من القمیص، والْكِمُّ ما يغطّي الثّمرةَ ، وجمعه : أَكْمَامٌ. قال :
وَالنَّخْلُ ذاتُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
تفسیر : جب دوزخیوں کو دوزخ میں ڈال چکے گا تو دوزخ سے پوچھے گا، ہل امتلئت کیا تو بھرگئی، وہ کہے گی اور کچھ ہے ؟ یعنی اور بھی ہو تو لایئے بخاری و مسلم ترمذی وغیرہ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ جہنم ہل من مزید ہل من مزید کہے گی، یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا پائوں رکھ دے گا تو کہے گی۔ بس بس۔ قدم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ خود اس کی اشتہاء کو فرو کردے، یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ یہاں تک دوزخیوں کا حال تھا، اب جنتیوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید کہ پرہیز گاروں کے سامنے جنت لائی جاوے گی، جس کو وہ عرصات میں آنکھوں سے سامنے دیکھیں گے، فرمایا جاوے گا یہ وہ ہے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا…
Read the full tafseer →وَکَمْ اَھْلَـکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْنٍ ھُمْ اَشَدُّ مِنْھُمْ بَطَشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلاَدِ ط ھَلْ مِنْ مَّحِیْضٍ ۔ (قٓ: 36)
(ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جو قوت میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھیں تو وہ دوسرے ملکوں میں پناہ کی تلاش میں چل کھڑی ہوئیں کہ ہے کوئی جائے پناہ۔ )
قریش کو تنبیہ
اب تاریخ کا آئینہ دکھا کر قریش کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ انھیں بڑی قوت و شوکت حاصل ہے اس لیے انھیں اپنی جگہ سے کون ہلا سکتا ہے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان سے پہلے کتنی قومیں ایسی گزری ہیں جو قوت و طاقت میں ان سے کہیں بڑھ کر تھیں۔ وہ اپنے وسیع ملک رکھتی تھیں اور بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ جہنم کی وعید اور جنت کی نوید سننے کے باوجود اپنے رب کی طرف قلباً اور عملاً رجوع نہیں کرتے ان کا دنیا میں انجام۔
قرآن مجید کے پہلے مخاطب اہل مکہ تھے اس لیے انہیں بتلایا کہ تم سے پہلے کتنی جماعتیں گزرچکی ہیں جو جسمانی قوت اور وسائل کے لحاظ سے تم سے زیادہ طاقت ور تھیں اور وہ بہت سے شہروں اور علاقوں میں پھرنے والے تھے۔ لیکن ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو انہیں پناہ لینے کے لیے کوئی جگہ میسر نہ آئی۔ ” فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ “ کے اہل تفسیر نے دو معانی کیے ہیں۔ 1 ۔ وہ اس قدر طاقت ور تھے کہ انہوں نے کئی شہر اور علاقے فتح کیے اور ان میں پوری عیش و عشرت کے ساتھ رہتے…
Read the full tafseer →آیت 36 : وَکَمْ اَہْلَکْنَا قَبْلَہُمْ (اور ہم ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے) آپ کی قوم قریش سے پہلے۔ مِنْ قَرْنٍ (ان زمانہ والوں کو جنہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلا دیا) ہُمْ اَشَدُّ مِنْہُمْ (جو قوت میں ان سے زیادہ تھے) ہم قریش مکہ سے بَطْشًا (قوت و دبدبہ) فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ (وہ تمام شہروں کو چھانتے پھرتے تھے) وہ ملکوں ملکوں ہر قسم کا تصرف کرنے اور فائدہ اندوزی کے لئے خوب گھومے پھرے۔ التنقیب : سی معاملے میں بحث وکرید اور طلب و تلاش فاء سببیہ اس پر داخل ہے۔ ہم اشد منہم بطشا کا سبب بیان کیا ہے۔ یعنی قوت کی زیادتی اور شدت ان کے کثرت سے گھومنے کا سبب تھی۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست…
Read the full tafseer →35 ۔” لھم مایشائون فیھا “ اور وہ اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے حتیٰکہ ان کے سوال کی انتہا ہوجائے گی۔ پس جو چاہیں گے دیئے جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو اپنی طرف سے وہ چیز زیادہ دیں گے جس کا انہوں نے سوال نہیں کیا ہوگا اور وہ اس کا قول ” ولدینا مزید “ یعنی ان کے لئے ان نعمتوں میں زیادتی ہوگی جن کا کسی کے دل میں خیال بھی نہیں گزرا ہوگا اور جابر اور انس ؓ فرماتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے چہرے کی طرف نظر کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
36۔ 40۔ دوزخ کے عذاب کے ذکر کے بعد دنیا کے عذاب سے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو ڈرایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کچھ قیامت پر ہی موقوف نہیں ہے۔ دنیا کے طرح طرح کے عذابوں سے بھی بہت سی پہلی ایسی قومیں ہلاک ہوچکی ہیں جو حال کے لوگوں سے قوت ثروت سب میں زیادہ تھیں۔ پھر باوجود اس قوت و ثروت کے اللہ کے عذاب سے بچنے کا کوئی ٹھکانہ انہوں نے نہ پایا حال کے لوگ بھی اگر اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو ایک دن یہی نتیجہ ان کا ہوگا پھر فرمایا ہر شخص صاحب عقل نصیحت کو کان لگا کر سننے والے کو یہ پچھلی قوموں کی ہلاکت کے قصے سن کر بڑی عبرت پکڑنی چاہئے تاکہ کہیں یہی دن اس کے آگے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کو، جو رسول اکرم ﷺ کو جھٹلاتے ہیں، ڈراتے ہوئے فرماتا ہے : (وکم اھلکنا قبلھم من قرن) ” ہم نے ان سے پہلے کئی امتیں ہلاک کر ڈالیں۔ “ یعنی بہت سی قوموں کو ہلاک کیا (ھم اشد) ” وہ زیادہ تھے “ ان لوگوں سے (بطشا) ” قوت میں۔ “ یعنی زمین میں، قوت اور آثار میں ان سے بڑھ کر تھے، بنابریں فرمایا : (فنقبوا فی البلاد) ” پس انہوں نے شہروں کا گشت کیا۔ “ یعنی انہوں نے نہایت مضبوط قلعے اور بلند عمارتیں تعمیر کیں، باغات لگائے، نہریں نکالیں، کھیت اگائے، زمین کو آباد کیا اور ہلاک ہوگئے۔ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی آیات کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دردناک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–38
کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے
قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں)
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
[ 52] تاریخ سے درس عبرت کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان :
سو اس ارشاد سے دور حاضر کے کفار و منکرین کو تاریخ سے سبق لینے کیلئے تنبیہ و تذکیر اور تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جو دولت اور طاقت کے اعتبار سے ان سے کہیں بڑھ کر تھیں، اور انہوں نے چھان مارا تھا ملکوں کو۔ اسی لئے انہوں نے اس گھمنڈ میں مبتلا ہو کر قبول حق سے انکار کردیا اور کہا۔ من اشد مناقو۔ کہ " ہم سے بڑھ کر طاقت اور کس کی ہوسکتی ہے ؟ " اور اللہ پاک نے ان کے اس متکبرانہ اور سرکشانہ زعم اور گھمنڈ کے جواب میں وہی ارشاد فرمایا { اولم یرو ان اللّٰہ الذی خلقہم ھو اشد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–45
آیات 30 تا 45۔
دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔
اواب اور حفیظ ۔
اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…
Read the full tafseer →ف 7 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کاروبار کے سلسلہ میں دنیا بھر کا چکر کاٹتے تھے لیکن جب ہماری گرفت کا وقت آیاتو کیا انہیں کہیں پناہ مل سکی۔
Read the full tafseer →(50:36) وکم اہلکنا قبلہم من قرن : واؤ عاطفہ ہے۔ کم دو طرح آتا ہے :۔
(1) سوالیہ : استفہام کے لئے آتا ہے، کتنی مقدار۔ کتنی تعداد۔ کتنی دیر۔ اس کی تمیز ہمیشہ مفرد منصوب ہوتی ہے کبھی مذکور ہوتی ہے جیسے کم درھما عندک تیرے پاس کتنے درہم ہیں اور کبھی محذوف ہوتی ہے جیسے قال کم لبثت (2:259) ای کم زمانا لبثت۔ تو کتنی مدت ٹھہرا ۔
(2) خبر یہ۔ جو مقدار بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے جیسے کم قریۃ اہلکناھا : ہم نے بہت سی بستیوں کو برباد کردیا۔ کبھی تمیز سے پہلے من آتا ہے جیسے وکم من قریۃ اہلکناہا (7:4) یا آیت ہذا۔ کم من قرن کتنی ہی قوموں کو، بہت سی قوموں کو۔
قبلہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 40 :
نقبوا (وہ بھاگے دوڑے) محیص ( پناہ کی جگہ) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) مامسنا ( ہم کو نہیں چھوا) ‘ لغوب (تھکاوٹ۔ تھکن) ‘ ادبار ( پیچھے۔ بعد میں) ۔
تشریح : آیت نمبر 36 تا 40 :
اعلان نبوت کے بعد وہی لوگ جو نبی کریم ﷺ کو بہت چاہتے تھے اس طرح آپ کے دشمن بن گئے کہ آپ کا اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کا مکہ میں رہنا دشوار ہوگیا اور ان مکہ کی سرزمین کو تنگ کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے قوموں کے ابھرنے ‘ عروج و ترقی تک پہنچنے اور نافرمانیوں کی وجہ سہ مٹ جانے کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حق و صداقت کے راستے پر چلنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(ف 1) دوزخ کے عذاب کے ذکر کے بعد دنیا کے عذاب سے ان آیتوں میں اللہ تعای نے کفار کو ڈرایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کچھ قیامت پر ہی موقوف نہیں ہے دنیا کے طرح طرح کے عذابوں سے ہزاروں گر وہیں زمانہ ہائے گذشتہ میں ہلاک کرڈالیں جو ان سے طاقت ، عزت ، شوکت، اسباب وہمت میں بدرجہا زائد تھیں، پھر باوجود اس قوت و ثروت کے اللہ کے عذاب سے بچنے کا کوئی ٹھکانہ انہوں نے نہ پایا، حال کے لوگ بھی اگر اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو ایک دن یہی نتیجہ ان کا ہوگا پھر فرمایا کہ ہر شخص صاحب عقل نصیحت کو کان لگا کر سننے والے کو یہ پچھلی قوموں کی ہلاکت کے قصے سن کر عبرت پکڑنی چاہیے اور مذہب اسلام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
[13] یعنی اللہ تعالیٰ نے جن قوموں کو ہلاک کیا ان میں سے جو لوگ ہلاک ہونے سے بچ رہے وہ تتر بتر ہوگئے اور مختلف ملکوں میں جدھر جس کا سینگ سمایا وہ ادھر کو جائے پناہ کی تلاش میں چل کھڑا ہوا۔ قرآن میں جن قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں ان میں سے بعض تو پوری کی پوری عذاب الٰہی سے ہلاک ہوگئیں مثلاً عاد اور ثمود وغیرہ۔ بعض قوموں کا یہ حال ہوا کہ ان کے مترفین و متکبرین تو ہلاک ہوگئے، رہے ان کے عوام تو وہ ادھر ادھر پراگندہ ہوگئے۔ فرعون اور اس کی قوم کی تباہی کی صورت یہی ہوئی۔ اسی سے ملتے جلتے حالات ملک سبا میں پیش آئے۔ بیشمار افراد تو سیلاب کی نذر ہوگئے اور جو بچ رہے وہ علاقہ کے بنجر ہونے اور معاشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 1: اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ مکہ والوں سے کہیں زیادہ طاقتور قوموں نے جب ہماری نافرمانی کی تو وہ مٹادیئے گئے ہیں ۔ اور باوجود اس کے کہ وہ قومیں کئی شہروں میں گھومتی پھرتی رہتی تھیں ۔ ان کو کہیں پناہ نہیں ملی ۔ اس لئے داد سے م مکہ کے یہ مغرور بھی سن رکھیں ۔ کہ ہمارا قانون مکافات جب حرکت میں آگیا ۔ تو پھر کوئی چیز اس کے درمیان حائل نہ ہوسکے گی ۔ وہ پیدا کرنے میں ذرائع کا محتاج ہے نہ وسائل کا ۔ وہ حاکم اور قادر ہے ۔ اور بیک جنبش ارادہ ہزار ہا خوالم کو ظہور پذیر کرسکتا ہے ۔ اس لئے اگر یہ لوگ اس طرح کی باتوں کو اس کی ذات والا صفات کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ تو آپ برداشت کیجئے ۔ اور اپنے فرائض…
Read the full tafseer →(36) اور ہم بہت سی امتوں اور قوموں کو ان کفار مکہ سے پہلے تباہ و برباد کرچکے ہیں جو وقت وزور میں اور دست درازی میں ان سے بہت زیادہ تھیں پھر وہ اپنی بستیوں میں تلاش کرتے پھرے اور شہروں کو چھانتے پھرے کہ کوئی پناہ کی جگہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قوموں نے یہ شیوہ اختیار کیا کہ پیغمبروں کی تکذیب کرتے تھے وہ ان سے قوت اور زور میں بھی زیادہ تھے۔
پھر جب عذاب آیا تو شہروں میں بھاگنے کی جگہ تلاش کرتے پھرے یا یہ ان کی قوت و طاقت کے ساتھ ان کا شہروں میں پھر کر دنیاوی سازو سامان میں ترقی کرنے کو ظاہر کیا گیا ہے کہ زور آور بھی اور سازوسامان میں بھی ان سے زیادہ تھے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
ف 2۔ یعنی قوت کے ساتھ اسباب معیشت میں بھی بڑی ترقی دی تھی۔
3۔ یعنی کسی طرح بچ نہ سکے۔
Read the full tafseer →ہم نے کتنی قومیں اور بستیں ہلاک کیں جو مکہ والوں سے شان و شوکت میں بہت زیادہ تھیں
36 ۔ اے پیغمبر اسلام ! ان اہل مکہ کو بتا دو کہ تم سے پہلے کتنی ہی قومیں اور بستیاں گزر چکی ہیں کہ انہوں نے اپنی قوت اور طاقت کے بل بوتے پر دوسرے ممالک پر لشکر کشی کی اور ان کی بزور اپنا زیر نگیں بنایا اور پھر ایک مدت تک ان کا ڈنکا بجتا رہا اور سکہ چلتا رہا اور وہ ایک ایک کی بجائے کتنے کتنے ممالک ملا کر سلطنتیں بناتے رہے اور انہوں نے مادی ترقیاں کیں اور منقوحہ علاقوں سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا ان کو دیکھ کر ان کے اردگرد کی قومیں ان پر رشک کرتی رہیں اور ان کی ٹھاٹھ باٹھ نے دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈالا لیکن جب…
Read the full tafseer →Warning the Disbelievers of the imminent Torment
In the concluding sentence of verse [ 36] نَقَّبُوا فِي الْبِلَادِ هَلْ مِن مَّحِيصٍ (and they searched out the cities: Was there any place to escape?), the verb نَقَّبُوا naqqabu is derived from the infinitive tanqib which literally means to make a hole, to perforate or pierce. Idiomatically, it connotes to go or go away through the distant land or country or journey or traverse. (al-Qamus).
The word mahis means asylum or a place of refuge. In this verse Allah poses a rhetorical question to the unbelievers: How many generations We have…
Read the full tafseer →46 That is, "They were not only powerful and strong in their own land but had also made incursions into other lands and brought under their sway far off lands as well. "
47 That is, "Could their power and might save them when the time appointed by Allah came for their seizure? And could they fmd shelter and refuge anywhere? Now, on what trust do you hope that you will get refuge somewhere in the world when you have rebelled against Allah ?"
Read the full tafseer →