Explained with ayahs 30–35
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ
چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لئے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہوگئی ؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس۔ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم…
Read the full tafseer →سورة قٓ 45
یعنی جو کچھ وہ چاہیں گے وہ تو ان کے ملے گا ہی، مگر اس پر مزید ہم انہیں وہ کچھ بھی دیں گے جس کا کوئی تصور تک ان کے ذہن میں نہیں آیا ہے کہ وہ اس کے حاصل کرنے کی خواہش کریں۔
Read the full tafseer →(آیت) لَهُمْ مَّا يَشَاۗءُوْنَ فِيْهَا (یعنی اہل جنت کو جنت میں ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے) یعنی اہل جنت جس چیز کی خواہش کریں گے وہ فوراً حاضر تیار ملے گی، دیر و انتظار کی زحمت نہ ہوگی مسند احمد میں حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں اگر کسی شخص کو اولاد کی خواہش ہوگی تو حمل اور وضع حمل، پھر بچے کا بڑھنا یہ سب ایک ساعت میں ہوجائے گا (ابن کثیر) وَلَدَيْنَا مَزِيْدٌ، یعنی ہمارے پاس ایسی نعمتیں بھی ہیں جن کی طرف انسان کا وہم و خیال بھی نہیں جاسکتا اس لئے وہ ان کی خواہش بھی نہیں کرسکتا، حضرت انس اور جابر نے فرمایا کہ یہ مزید نعمت حق تعالیٰ کی زیارت بلا…
Read the full tafseer →لھم مایشآء ون فیھا ولدینا مزید 35
اس میں ان کو وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس مزید بھی ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ جو وہ چاہیں گے وہ تو ان کو ملے گا ہی لیکن ہمارے پاس ایسی نعمتیں بھی ہوں گی جن کا ان کو کوئی تصور بھی نہیں ہوگا کہ وہ ان کے ارمان کرسکیں لیکن ہم ان کے چاہے بغیر ہی وہ نعمتیں بھی ان کو دیں گے۔ اسی حقیقت کی طرف دوسرے الفاظ میں یوں بھی اشارہ فرما گیا گیا ہے : فلا تعلم نفس مآ اخفی لھم من قوۃ اعین (السجدۃ :17) (پس کوئی بھی نہیں جانتا ہے اس کے لئے آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔)
Read the full tafseer →35۔ 1 اس سے مراد رب تعالیٰ کا دیدار ہے جو اہل جنت کو نصیب ہوگا۔ (لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ) 10۔ یونس :26)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
14: جنت کی نعمتوں کی کچھ اجمالی جھلک تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف آیتوں میں بیان فرمائی ہے، لیکن جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں، کسی کان نے سنی نہیں، اور کسی شخص کے دل میں اس کا خیال بھی پیدا نہیں ہوا، یہاں بڑے بلیغ انداز میں اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہمارے پاس کچھ اور زیادہ بھی ہے، انہی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی ہے، مزید دیکھیے سورة یونس (10۔ 26)
Read the full tafseer →لھم م یشاءون فیھا ولدینا مزید (50 : 35) ” وہاں ان کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی بہت کچھ ہے ان کے لئے “۔ وہ جس قدر چاہیں اللہ کے انعامات کی انتہا تک نہیں جاسکتے اور اللہ کے ہاں جو مزید ہے وہ لامحدود ہے ۔
Read the full tafseer →7 یعنی جو چاہیں گے وہ ملے گا اس کے علاوہ وہ نعمتیں ملیں گی جو ان کے خیال میں بھی نہیں۔ مثلاً دیدارِ الٰہی کی لذت بےقیاس اور ممکن ہے " وَلَدَیْنَا مَزِیْد " سے یہ غرض ہو کہ ہمارے پاس بہت ہے، جنتی کتنا ہی مانگیں سب دیا جائے گا۔ اللہ کے ہاں اتنا دینے پر بھی کوئی کمی نہیں آتی، نہ اس کے لیے کوئی رکاوٹ ہے۔ پس اتنی بےحساب و بیشمار عطایا کو مستبعد نہ سمجھو۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 35{ لَہُمْ مَّا یَشَآئُ وْنَ فِیْہَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ۔ } ”ان کے لیے اس میں وہ سب کچھ ہوگاجو وہ چاہیں گے ‘ اور ہمارے پاس مزید بھی بہت کچھ ہے۔“
قرآن کے مختلف مقامات پر جنت کی نعمتوں کا جو تعارف ملتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کی نعمتوں کے تین درجے ہیں۔ نفس انسانی کے بنیادی تقاضوں کی تسکین کا بھرپور سامان تو جنت میں پہلے سے موجود ہوگا۔ اس کے علاوہ ہر شخص اپنی پسند ‘ ذوق اور خواہش کے مطابق جو کچھ طلب کرے گا وہ بھی اسے فراہم کیا جائے گا۔ ظاہر ہے ہر شخص کی طلب اپنے ذوق اور معیار کے مطابق ہوگی۔ ایک سادہ لوح دیہاتی اپنی پسند کے مطابق کوئی چیز مانگے گا اور ایک حکیم و فلسفی اپنے ذوق کی تسکین…
Read the full tafseer →41 جنت کی سب سے بڑی نعمت اللہ کی رضامندی :۔ یعنی وہ کچھ تو ملے گا ہی جس کی وہ خواہش کریں گے علاوہ ازیں کچھ ایسی نعمتیں بھی انہیں ملیں گی جو ان کے تصور میں بھی نہ ہوں گی۔ چناچہ سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا اے اہل جنت ! وہ کہیں گے : ہمارے پروردگار ! ہم حاضر اور تیری خدمت کے لئے مستعد ہیں۔ بھلائی تیرے ہی دونوں ہاتھوں میں ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اب تم خوش ہو ؟ وہ جواب دیں گے : پروردگار ! ہم کیوں خوش نہ ہوں گے۔ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرما دیا ہے جو اپنی مخلوق میں سے اور کسی کو عطا نہیں فرمایا اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا میں تمہیں ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
27۔ یعنی جو لوگ قلب سلیم رکھتے ہیں، ان کے لیے تو یہ سارے حکایات وقصص ذخیرۂ عبرت رکھتے ہی ہیں، باقی جو لوگ محض توجہ سے ان تذکروں کو سن لیں تو ان کیلئے بھی ان کے اندر کافی سامان ہدایت موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
من خشی الرحمٰن بالغیب وجاء بقلب منیب ” خشیت بالغیب “ کا مطلب دنیا میں ڈرنا ہے، جہاں نار و نعیم دونوں غائب ہیں اور قلب منیب سے قل سلیم مراد ہے۔
فنقبوا فی البلاد ھل من محیص نقبوا تنقیب سے ہے اس کے اصل معنی سوراخ کرنے اور پھاڑنے کے ہیں محاورات میں دور دراز ملکوں کے سفر کرنے کو بھی کہتے ہیں۔ (کمافی القاموس)
محیض ظرف مکان ہے، پناہ گاہ، لوٹنے کی جگہ، آیت کا مطلب یہ ہے کہ ال لہ تعالیٰ نے تم سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا جو قوت و طاقت میں تم سے کہیں زیادہ تھیں اور مختلف ملکوں اور خطوں میں تجارت وغیرہ کے لئے پھرتی رہیں مگر دیکھو کہ انجام کا ران کو موت آئی اور ہلاک ہوئیں، نہ ان کو کہیں پناہ ملی اور…
Read the full tafseer →لھم ما یشاء ون فیھا ولدینا مزید .‘ ان کو جنت میں سب کچھ ملے گا جو کچھ چاہیں گے اور ہمارے پاس اور بھی زیادہ (نعمت) ہے۔
وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ : یعنی ایسی نعمتیں ہیں جن کا تصور نہ کسی کے دل میں آیا ‘ نہ کسی آنکھ نے ان کو دیکھا ‘ نہ کسی کان نے (ان کا بیان) سنا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے اندر تمہارا کم سے کم یہ مرتبہ ہوگا کہ (اللہ کی طرف سے) حکم ہوگا اپنی (اپنی) تمنا کرو مخاطب اپنی تمنا (اپنے دل میں) کرے گا ‘ ارشاد ہوگا کیا تم نے اپنی تمنا کرلی ؟ بندہ کہے گا : جی ہاں ! اللہ فرمائے گا تمہارے لیے وہ سب کچھ (دیا جاتا) ہے جس کی تم نے تمنا کی اور اتنا ہی اور بھی (تم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
(32۔ 35) اور ان سے کہا جائے گا یہ فضیلت وہ ہے جس کا تم سے دنیا میں اس طرح وعدہ کیا جاتا تھا کہ یہ ہر ایسے شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاع کی طرف رجوع ہونے والا ہو اور خلوت میں احکام خداوندی یا یہ کہ نمازوں کی پابندی کرنے والا ہو، غرض کہ جو شخص اللہ کی بغیر دیکھے عبادت کرتا ہوگا اور اللہ کے پاس خلوص والی عبادت اور توحید لے کر آئے گا ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جنت میں عذاب سے مامون و مطمئن ہو کر داخل ہوجاؤ۔
اور اہل جنت، جنت میں ہمیشہ رہیں گے ان کو جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے اور ان کو دیدار خداوندی بھی نصیب ہوگا یا یہ کہ ہر ایک دن اور ہر گھڑی پر ان کے ثواب…
Read the full tafseer →(1) لھم مایشآء و ن فیھا : اس کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة حم السجدہ (31) اور سورة زخرف (71)۔
(2) ولدینا مرید : یعنی جو کچھ وہ چاہیں گے وہ بھی ملے گا اور ہمارے پاس مزید بھی بہت کچھ ہے، جس مں وہ چیزیں ہیں جن کا خیال تک کسی کو نہیں آیا۔ (دیکھیے سجدہ : 17) اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی۔ دیکھیے سورة یونس (26)۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
یوم نقول لجھنم ھل امتلاوتقول ھل من مزید نافع اور ابوبکر نے یوم یقول یعنی یاء کے ساتھ پڑھا ہے وہ اسے لا تختصموالدی پر قیاس کرتے ہیں باقی نے نون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خطاب ہے یہ عظمت کا نون ہے۔ حضرت حسن بصری نے یوم اقول پڑھا ہے۔ حضرت مسعود اور دوسرے علماء نے اسے یوم یقال پڑھا ہے یوم کو نصب دی ہے کیونکہ اس کا معنی یہ بنتا ہے میرے ہاں اس روز قول نہیں بدلا جائے گا جس روز ہم جہنم سے کہیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں عامل فعل مقدر ہے وہ منذرھم ہے کیونکہ پہلے وعدہ گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے بھرے گا۔ اس استفہام کا یہ مدعا ہے کہ خبر کی تصدیق کی جائے، وعدہ کو ثابت کیا…
Read the full tafseer →اماقولہ تعالیٰ : (آیت ) '' لہم ما یشآء ون فیھا ولدینا مزید ''
10:۔ البزار وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) واللالکانی فی سننہ اور بیہقی (رح) نے البعث والنشور میں انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ولدینا مزید '' (اور ہمارے پاس اور بھی زیادہ نعمت ہے) یعنی ان کے لئے رب عزوجل تجلی فرمائیں گے۔
11:۔ الشافعی فی الام وابن ابی شیبہ والبزار وابو یعلی وابن ابی الدنیا فی صفۃ الجنۃ وابن جریر (رح) وابن المنذر والطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ والآجری فی شریعۃ والبیہقی (رح) نے الرؤیہ واب النصر السجزی فی الابانۃ جیدہ طرق سے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبرائیل (علیہ…
Read the full tafseer →لَهُمْ مَّا [ ان کے لیے ہوگا وہ جو ] يَشَاۗءُوْنَ [ وہ لوگ چاہیں گے ] فِيْهَا [ اس (جنت ) میں ] وَلَدَيْنَا مَزِيْدٌ [ اور ہمارے پاس مزید ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
جنت اور اہل جنت کا تذکرہ :
اس کے بعد جنت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ متقیوں سے قریب کردی جائے گی کچھ دور نہ رہے گی پھر وہ جنت میں داخل کردیئے جائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتوں اور لذتوں کی وہ جگہ ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا رہا، یہ وعدہ ہر اس شخص سے تھا جو اواب یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف خوب رجوع کرنے والا ہے اور حفیظ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا خاص دھیان رکھنے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگا رہتا تھا۔ اہل جنت کی مزید صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ بن دیکھے اللہ سے ڈرتے تھے۔ دنیا میں اس حالت پر رہے اور یہاں جو پہنچے تو قلب منیب لے کر آئے ان کا دل اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–45
شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
18:َ ” من خشی۔ الایۃ “ یہ المتقین یا اواب سے بدل ہے (بحر، روح) ۔ اس صورت میں ادخلوھا سے پہلے ” یقال لہم “ مقدر ہوگا یا مبتدا ہے اور ادخلوھا بتقدیر یقال لہم اس کی خبر ہے (مدارک) ۔ یا منادی ہے اور حرف نداء محذوف ہے ای یا من خشی الرحمن الخ، اور ادخلوھا الخ، مقصود بالنداء ہے (الشیخ (رح) تعالیٰ ) ۔ ” بالغیب “ یعنی اللہ کو دیکھے بغیر اس کے عذاب سے ڈرتا رہا یعی خشی عقابہ وھو غائب من اللہ تعالیٰ یعنی فی الدنیا حین لم یرہ (مظیر ج 9 ص 73) ۔ ” قلب منیب “ اللہ کی طرف رجوع وانابت کرنے والا دل۔ یعنی یہ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو بغیر دیکھے خدا کے عذاب سے ڈرتے رہے اور اللہ ہی سے لو لگائے رکھی، اس کے اوامر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس کے اثبات میں عقلی اور نفلی دلائل پیش کیے۔ پھر مختلف اقوام کا اجمالی حال اور انکو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ پھر انسان کے حالات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو بیان فرمایا ۔ انسانوں کے اعمال کی حفاظت اور ان کی بارگاہ الٰہی میں پیشی کا حال ذکر کیا ۔ مجرموں کے جہنم میں داخلے اور ان کی آپس میں الزا م تراشیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ فرمائے گا میرے پاس مت جھگڑا کرو ۔ میں نے تمہیں دنیا میں ہر نیک و بد سے آگاہ کردیا تھا اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ تمہیں اپنے عقیدے اور عمل کا بھگتان کرنا ہوگا ۔
ہل من مزید
جب دوزخی اپنے اپنے ٹھکانے میں پہنچ جائیں…
Read the full tafseer →لَہُمْ مَّا يَشَاۗءُوْنَ فِيْہَا وَلَدَيْنَا مَزِيْدٌ 35
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] .
الثاني :
نكرة . نحو : نِعِمَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
تفسیر : جب دوزخیوں کو دوزخ میں ڈال چکے گا تو دوزخ سے پوچھے گا، ہل امتلئت کیا تو بھرگئی، وہ کہے گی اور کچھ ہے ؟ یعنی اور بھی ہو تو لایئے بخاری و مسلم ترمذی وغیرہ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ جہنم ہل من مزید ہل من مزید کہے گی، یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا پائوں رکھ دے گا تو کہے گی۔ بس بس۔ قدم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ خود اس کی اشتہاء کو فرو کردے، یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ یہاں تک دوزخیوں کا حال تھا، اب جنتیوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید کہ پرہیز گاروں کے سامنے جنت لائی جاوے گی، جس کو وہ عرصات میں آنکھوں سے سامنے دیکھیں گے، فرمایا جاوے گا یہ وہ ہے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ادْخُلُوْھَا بِسَلٰمٍ ط ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ ۔ لَہُمْ مَّا یَشَآئُ وْنَ فِیْھَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ۔ (قٓ: 34، 35)
(داخل ہوجاؤ اس جنت میں سلامتی کے ساتھ، یہ ہمیشگی کا دن ہے۔ وہاں ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے، اور ہمارے پاس مزید بھی ہے۔ )
ان صفات کے حاملین کا اعزاز
ان صفات کے حاملین سے کہا جائے گا کہ اس جنت میں داخل ہوجاؤ سلام کے ساتھ۔ سلام کے دو معنی ہیں ایک ہے سلامتی، اور دوسرا ہے وہ اصطلاحی سلام جسے ہم آپس میں ملتے ہوئے زبان سے ادا کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے دونوں معنوں میں اس لفظ کو استعمال کیا ہے۔ سورة حجر میں ارشاد ہے اُدْخُلُوْھَا بِسَلاَمٍ آمِنِیْنَ ” اس جنت میں داخل ہوجاؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
فہم القرآن
ربط کلام : جہنم کے ذکر اور جہنمیوں کے انجام کے بعد جنت اور اس کے مہمانوں کا ذکر۔
قرآن مجید اپنے بہترین اسلوب کے مطابق یہاں بھی جہنم کے بعد جنت کا تذکرہ کرتا ہے۔ ایک طرف جہنمی جہنم میں جھونکے جارہے ہوں گے اور دوسری طرف رب کریم جنت کو جنتیوں کے قریب تر کردے گا۔ جنتی جنت کو دیکھتے اور اس کی خوشبو پاتے ہی خوش ہوجائیں گے۔ جونہی ان کے چہروں پر مسکراہٹیں نمایاں ہوں گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوگا یہی وہ جنت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ جسے ” اللہ “ کی طرف رجوع کرنے والے اور گناہوں سے بچنے والے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جنت ایسے شخص کے لیے ہے جو بِن دیکھے رب رحمٰن سے ڈرتا ہے اور…
Read the full tafseer →مزید کی مراد :
آیت 35 : لَہُمْ مَّا یَشَآئُ وْنَ فِیْہَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ (ان کو بہشت میں سب کچھ ملے گا) جو جو چاہیں گے اور ہمارے پاس اور بھی
زیادہ ہے۔ اس سے جو وہ چاہیں گے۔
قول الجمہور :
مزید سے مراد رؤیت باری تعالیٰ کا بلا کیف میسر آنا۔
Read the full tafseer →34 ۔” ادخلوھا “ یعنی ان صفات والوں کو کہا جائے گا ۔ تم جنت میں داخل ہوجائو۔ ” بسلام “ عذاب اور غموں سے سلامتی کے ساتھ اور کہا گیا ہے اللہ اور اس کے فرشتوں کی طرف سے ان پر سلام کے ساتھ اور کہا گیا ہے نعمتوں کے زوال سے سلامتی کے ساتھ۔ ” ذلک یوم الخلود “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
30۔ 35۔ مسند امام احمد اور صحیحین 2 ؎ میں حضرت انس ؓ بن مالک کی روایت سے خود صاحب وحی ﷺ نے جو تفسیر اس آیت کی فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن دوزخ میں پڑنے کے قابل لوگوں کے گروہ دوزخ میں پڑتے جائیں گے اور دوزخ میں سے یہ آواز آتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے۔ ؟ یہاں تک کہ آخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم مبارک دوزخ میں رکھ دے گا۔ جب اس وقت دوزخ میں سے بس بس کی آواز آئے گی۔ اور جنت میں جو جنتی لوگوں کے جانے کے بعد جگہ خالی رہ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کرکے ان لوگوں سے جنت کی اس خالی جگہ کو بھر دے گا۔ بخاری میں اس طرح کی روایت ابوہریرہ ؓ سے بھی ہے۔ آلم سجدہ میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہوئے فرماتا ہے : (یوم نقول لجھنم ھل امتلات) ” اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گئی ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، جہنم میں ڈالے گئے لوگوں کی کثرت کی وجہ سے ہوگا (وتقول ھل من مزید) ” وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے ؟ “ یعنی جہنم اپنے رب کی خاطر ناراضی اور کفار پر غیظ و غضب کی وجہ سے اپنے اندر مجرموں کے اضافے کا مطالبہ کرتی رہے گی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا : (لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین) (السجدۃ : 32/13) ” میں جن ہم کو جنات اور انسانوں سے ضرور بھروں گا۔ “ حتی کہ اللہ رب العزت اپنا قدم کریم، جو تشبیہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–38
کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے
قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں)
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →[ 50] اہل جنت کی ہر خواہش کی تکمیل کی بشارت کا ذکر وبیان :
سو یہ اہل جنت کیلئے ارشاد کیلئے ایک منفرد اور بےمثال انعام ہوگا کہ ان کی وہاں پر ہر خواہش پوری ہوگی۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے وہاں وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ سبحان اللّٰہ ! جنت کی یہ نعمت ہر جنتی کو نصیب ہوگی۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس دنیا ساری ہی کی آخرت اور جنت کے مقابلے میں حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ اور جس شخص کا ایمان و یقین اس جنت پر ہوگا اس کے سامنے یہ دنیا چیز ہی کیا ہے ؟ جس کیلئے ابناء دنیا لڑلڑ کر مرتے ہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان و یقین کی یہ عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–45
آیات 30 تا 45۔
دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔
اواب اور حفیظ ۔
اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی جو کھ وہ چاہیں گے وہ تو انہیں ملے گا ہی اس کے علاو ہہم انہیں اتنا کچھ اور دیں گے جس کا تصور تک ان کے ذہن میں نہیں آیا کہ وہ اس کی خواہش کریں … یا ” مزید “ سے مراد دیدار الٰہی ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا للذین احسنوا الحسنی کی وزیادۃ جنہوں نے نیک کی ان کو بھلائی ملے گی اور کچھ بڑھ کر بھی یونس 26 حضرت انس فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر روز انہیں اپنی تجلی سے نوازے گا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(50:35) مایشاء ون : ما موصولہ۔ یشاء ون مضارع جمع مذکر غائب صلہ۔ مشیۃ (باب فتح) مصدر وہ چاہتے ہیں یاد و چاہیں گے
فیہا : ای فی الجنۃ۔ جنت میں۔
الدنیا مزید : واؤ عاطفہ لدینا مضاف مضاف الیہ ۔ ہمارے پاس ۔ مزید زیادہ ۔ زیادتی۔ زیادۃ سے مصدر میمی۔ یہ جملہ سابقہ جملہ سے حال ہے اور حال یہ ہے کہ ہمارے پاس (ان کے لئے) اس سے بھی زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 35 :
ھل امتلات (کیا تو بھر گئی) ازلفت (قریب لائی گئی) ‘ اواب (جھکنے والا) ‘ الخلود (ہمیشہ رہنے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 30 تا 35 :
جب میدان حشر میں ہر شخص کے اعمال کے مطابق فیصلہ کردیا جائے گا۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو جہنم میں داخل ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگی کہ جہنم پکار اٹھے گی کہ کیا ابھی اور اللہ کے نافرمان ہیں جنہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا ؟ مفسرین نے اس کے معنی یہ بھی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود ہی جہنم سے سوال فرمائیں گے کہ کیا اب بھی جہنم میں اور جگہ موجود ہے ؟ کیا اس کے علاوہ اور بھی جہنم والے ہیں۔ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بروز قیامت ہم کافروں کو دوخ میں ڈال چکیں گے تو دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی اور وہ جواب میں کہے گی کہ اور بھی جو کافر ہوں وہ بھی سہی، برابر لاؤ، لاؤ، کہے گی اور دریافت کرے گی کہ کافروں میں اور بھی کوئی رہا یا نہیں ، اگر رہا تو لاؤ، یہاں تک دوزخیوں کا حال بیان ہوا اب جنتیوں کا حال ذکر کرتا ہے کہ جس طرح اہل دوزخ کے دکھانے کے لیے دوزخ کو محشر کے میدان میں لایاجائے گا اسی عرش معلی کی دائیں طرف کی جگہ محشر کے میدان کے سامنے کردی جائے گی ، جس سے اہل جنت میدان محشر میں سے جنت کو دیکھ لیں گے اور ان سے کہا جائے گا جنہوں نے دنیا میں خدا کو یاد رکھا اور گناہوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
[11] یعنی اللہ کو یاد کرنے والا اور اپنے تمام معاملات میں اسی کی طرف رجوع کرنے والا۔
[12] یعنی اللہ کی مقرر کردہ حدود وقیود کی حفاظت کرنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
عجیب ترین بات
1: اس سے قبل کی آیتوں میں جہنم والوں کا مرقع تھا ۔ اب ان آیات میں یہ بیان فرمایا ہے ۔ کہ اللہ کے پاکباز بندے جب اس کے حضور میں جائینگے ۔ تو وہ جنت کو بہت ہی قریب پائینگے ۔ اور دیکھیں گے ۔ کہ بلاکسی دقت اور کوفت کے وہ کس طرح ان نعمتوں سے بہرہ مند رہے ہیں ۔ جن کی نسبت ان سے دنیا میں کہا گیا تھا ۔ اس مقام مسرت وہجت میں وہ لوگ ہوں جو دنیا میں رجوع الی اللہ کے جذبات پاک سے مشرف ہیں ۔ جو ہر لمحہ اور ہر منزل اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے پر تیار ہوتے ہیں اور کوئی عزت ووقار کا سوال ان کو توبہ وانابت سے باز نہیں رکھ سکتا ۔ جو اس کے احکام اور اس کی بیان کردہ حدود کو اپنی نگاہ میں رکھتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →(35) ان کو اس بہشت میں جو وہ چاہیں گے وہ ملے گا اور میسر ہوگا اور ہمارے پاس ان کی چاہی ہوئی چیزوں سے اور بھی زیادہ ہے حدیث میں آتا ہے جس شخص نے شروع دن میں اور دن کے ابتدائی حصے میں چاررکعتیں پڑھنے پر مداومت کی اور چاررکعتیں ہر روز پابندی سے پڑھتا رہا تو وہ شخص اداب حفیظ میں داخل ہے یہ نماز اشتراق کی چار رکعتیں ہیں گو اشراق کی نماز پر حفاظت رکھنے والے کو اداب حفیظ کہا گیا ہے۔
من خشی الرحمن یا تو اداب سے بدل ہے اور یا مبتدار ہے۔ بہرحال رحمان سے ڈرتا ہے اور باوجود اس علم کے کہ رحمان وسیع الرحمت ہے پھر بھی ڈرتا رہتا ہے۔ قلب منیب رجوع رکھنے والا دل یعنی صحیح عقیدہ رکھنے والا دل یا گناہوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
ف 1۔ ازلاف جنت کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں، یا تو اس کی جگہ سے منتقل کر کے میدان قیامت میں لے آویں، اور اللہ کو سب قدرت ہے، تو اس صورت میں ادخلوھا فرمانا بایں معنی نہیں کہ ابھی چلے جاو بلکہ بشارت اور وعدہ ہے کہ تم بعد حساب و کتاب وغیرہ کے اس میں جانا، اور دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بعد فراغ حساب وغیرہ کے ان لوگوں کو جنت کے قریب پہنچا کر باہر ہی سے کہا جائے گا کہ فھذا ما تو عدون پھر اور قریب کر کے کہا جائے گا ادخلوھا۔
Read the full tafseer →تمہارے لیے جو تم چاہو گے اور علاوہ ازیں بھی تم کو بہت کچھ ملے گا
35 ۔ جنت کے انعامات کا ذکر قرآن کریم نے باربار کیا ہے اور ان کے وہی نام رکھے جو اس دنیا میں انسان کو مرعوب ہیں اور انسان کی طبیعت تقاضا کرتی ہے کہ یہ چیز مجھے ملے اگر ان انعامات کا ذکر کسی ایسی صورت میں کیا جاتا جس سے انسان دنیا میں متعارف نہیں ہے تو جنت کی حقیقت کو چاہے کوئی عقیدتاً مان لیتا لیکن سمجھ سوچ کر نہایت دلجمعی سے کوئی شخص بھی اس کی خواہش نہ کرتا کیونکہ فطری طور پر انسان کو اس چیز کی طلب ہوتی ہے جو فطراً اللہ نے اس کے اندر ودیعت کردی ہے خواہ وہ کم ہے یا زیادہ اور جو چیز فطرت میں داخل نہیں انسان کبھی اس کی خواہش نہیں…
Read the full tafseer →Verse [ 35] depicts the delights of Paradise: The first part states لَهُم مَّا يَشَاءُونَ فِيهَا (For them there will be whatever they wish,,,,, 50:35]. In other words, the righteous will have whatever delights they wish brought forthwith without any delay. It is recorded in Musnad of Ahmad on the authority of Sayyidna Abu Said Khudri ؓ that the Holy Prophet ﷺ said: "If anyone in Paradise wishes for children, the conception, delivery of the baby and its growth will all take place in a short span of time." (Ibn Kathir)
The second part of the verse states: وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ (and with Us…
Read the full tafseer →45 That is, "They will certainly get whatever they desire, but in addition We will also give them that which they have never conceived and, therefore, could not desire."
Read the full tafseer →