Qaaf 50:34

Qaaf · from ayah 34

50:34

١دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ ؕ— ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ ۟اۨدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ‌ؕ ذٰلِكَ يَوۡمُ الۡخُلُوۡدِ

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Enter it in peace. This is the Day of Eternity."

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:34

داخل ہو جاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ" وہ دن حیات ابدی کا دن ہوگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تم سب اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ وہ دن ابدی زندگی کا دن ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان سے فرمایا جائے گا جنت میں جاؤ سلامتی کے ساتھ یہ ہمیشگی کا دن ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ، یہ ہمیشگی کا دن ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یہی ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ یہ دن حیات ابدی کا دن ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

داخل ہو جائو اس جنت میں سلامتی کے ساتھ ! یہ ہمیشگی کا دن ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(سو ایسوں کو ارشاد ہوگا کہ) داخل ہوجاؤ تم اس (جنت) میں سلامتی کے ساتھ یہ ہے ہمیشہ رہنے (اور حیات ابدی سے سرفراز ہونے) کا دن

— مولانا اسحاق مدنی

) اس کو حکم ہوگا کہ) داخل ہوجاؤ اس جنت میں سلامتی کے ساتھ یہ دن ہمیشگی کا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان سے کہا جائے گا :) داخل ہو جائو اس (جنت) میں سلامتی کے ساتھ اب یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Enter this Paradise in peace.” That will be the Day of Eternity.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Enter it in peace. That is the Day of Eternity.

— Muhammad Taqi Usmani

Enter it in peace. That is the Day of Eternity.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Enter you therein in peace and security -- this is a Day of eternal life!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Enter it in peace. This is the day of immortality.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Enter it in peace. This is the Day of Eternity."

— Saheeh International

(They will be told), "Enter Paradise in peace and, therein, you will live forever".

— Muhammad Sarwar

Enter it in peace, that is the day of abiding.

— Muhammad Habib Shakir

Enter it in peace. This is the Day of Abidence.

— Abdul Majid Daryabadi

"Enter ye therein in Peace and Security; this is a Day of Eternal Life!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–35

متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لئے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہوگئی ؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس۔ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 44 اصل الفاظ ہیں اُدْخُلُوْھَا بِسَلامٍ۔ سلام کو اگر سلامتی کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قوم کے رنج اور غم اور فکر اور آفات سے محفوظ ہو کر اس جنت میں داخل ہوجاؤ۔ اور اگر اسے سلام ہی کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ آؤ اس جنت میں اللہ اور اس کے ملائکہ کی طرف سے تم کو سلام ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ صفات بتادی ہیں جن کی بنا پر کوئی شخص جنت کا مستحق ہوتا ہے، اور وہ ہیں (1) تقویٰ ، (2) رجوع الی اللہ، (3) اللہ سے اپنے تعلق کی نگہداشت۔ (4) اللہ کو دیکھے بغیر اور اس کی رحیمی پر یقین رکھنے کے باوجود اس سے ڈرنا، اور (5) قلب منیب لیے ہوئے اللہ کے ہاں پہنچنا، یعنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–34

(آیت) وَجَاۗءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِ ، ابوبکر وراق فرماتے ہیں کہ منیب کی علامت یہ ہے کہ وہ حق تعالیٰ جل شانہ کے ادب کو ہر وقت مستحضر رکھے اور اس کے سامنے تواضع اور عاجزی سے رہے اور اپنے نفس کی خواہشات کو چھوڑ دے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ادخلوھا بسلم ذلک یوم الخلود (34) ابدی بادشاہی یعنی ان سے کہا جائے گا کہ اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جائو۔ اب نہ اس میں تمہارے لئے ماضی کا کوئی پچھتاوا ہوگا نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ، ابدی بادشاہی کا جو وعدہ تم سے کیا گیا تھا اس کے دیئے جانے کا وقت آگای۔ یہ بادشاہی تم سے کبھی چھینی نہیں جائے گی اور نہ کبھی اس میں کوئی دخنہ پیدا ہوگا۔ سورة حجر کی آیت 46 میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے۔ ادخلوھا بسلم امنین راس میں داخل ہو جائو، کامل سلامتی کے ساتھ، ہر اندیشہ سے نچنت ہو کر) قرآن میں اس بات کا ذکر بھی جگہ جگہ آیا ہے کہ فرشتے سلام کے ساتھ اہل جنت کا خیر مقدم کریں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کے سلام و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 33–34

33۔ 1 مُنِیْبِ ، اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور اس کا اطاعت گزار دل۔ یا بمعی سلیم ، شرک و مصیت کی نجاستوں سے پاک دل۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 33–35

14: جنت کی نعمتوں کی کچھ اجمالی جھلک تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف آیتوں میں بیان فرمائی ہے، لیکن جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں، کسی کان نے سنی نہیں، اور کسی شخص کے دل میں اس کا خیال بھی پیدا نہیں ہوا، یہاں بڑے بلیغ انداز میں اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہمارے پاس کچھ اور زیادہ بھی ہے، انہی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی ہے، مزید دیکھیے سورة یونس (10۔ 26)

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ اور کبھی بھی اس سے تم نے نکلنا نہیں ہے۔ ادخلوھا بسلم ذلک یوم الخلود (50 : 34) ” داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ “۔ وہ دن حیات ابدی کا دن ہوگا۔ پھر عالم بالا میں ان کی عزت افزائی کے لئے اعلان ہوگا کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کے لئے ان کے رب کے نزدیک اور بہت کچھ ہے اور وہ غیر محدود ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 32–34

5 یعنی جنہوں نے دنیا میں خدا کو یاد رکھا اور گناہوں سے محفوظ ہو کر اس کی طرف رجوع ہوئے، اور بےدیکھے اس کے قہرو جلال سے ڈرے اور ایک پاک و صاف رجوع ہونے والا دل لے کر حاضر ہوئے، اس جنت کا وعدہ ایسے لوگوں سے کیا گیا تھا وقت آگیا ہے کہ سلامتی و عافیت کے ساتھ اس میں داخل ہوں۔ فرشتے ان کو سلام کریں اور ان کے پروردگار کا سلام پہنچائیں۔ 6 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " اس دن جس کو جو کچھ ملا سو، ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس سے پہلے ایک بات پر ٹھہراؤ نہ تھا۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 34{ نِ ادْخُلُوْہَا بِسَلٰمٍ ط ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ۔ } ”ان سے کہا جائے گا : داخل ہو جائو اس جنت میں سلامتی کے ساتھ ‘ اب یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔“ اب ایسا کوئی مرحلہ نہیں آئے گا کہ تمہیں جنت سے نکلنا پڑے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 33–34

39 اگرچہ اس کی صفت رحمن ہے پھر بھی اس کی عظمت و جلال کی وجہ سے وہ اس سے ڈرتا رہا۔ اس خیال سے کہ شاید اس کا عمل اللہ کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کرتا ہے یا نہیں۔ 40 منیب۔ اناب کے معنی گناہ کے کاموں سے لوٹنا یا باز آنا۔ گناہ کا اعتراف اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرنا۔ یعنی اس کا دل ہی ایسا تھا جسے گناہ کے کاموں سے نفرت تھی اور اگر اتفاق سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا تو فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–34

26۔ یعنی آج کی نعمتوں کو نہ فناء ہے نہ زوال۔ (آیت) ” بالغیب “۔ یعنی جنت کی نعمتیں اور دوزخ کی سختیاں دنیا میں تو سب غیب ہی میں تھیں۔ یہ لوگ دنیاہی میں ان دھمکیوں کو حقائق جان کر ان سے پوری طرح متاثر ہوچکے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–37

من خشی الرحمٰن بالغیب وجاء بقلب منیب ” خشیت بالغیب “ کا مطلب دنیا میں ڈرنا ہے، جہاں نار و نعیم دونوں غائب ہیں اور قلب منیب سے قل سلیم مراد ہے۔ فنقبوا فی البلاد ھل من محیص نقبوا تنقیب سے ہے اس کے اصل معنی سوراخ کرنے اور پھاڑنے کے ہیں محاورات میں دور دراز ملکوں کے سفر کرنے کو بھی کہتے ہیں۔ (کمافی القاموس) محیض ظرف مکان ہے، پناہ گاہ، لوٹنے کی جگہ، آیت کا مطلب یہ ہے کہ ال لہ تعالیٰ نے تم سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا جو قوت و طاقت میں تم سے کہیں زیادہ تھیں اور مختلف ملکوں اور خطوں میں تجارت وغیرہ کے لئے پھرتی رہیں مگر دیکھو کہ انجام کا ران کو موت آئی اور ہلاک ہوئیں، نہ ان کو کہیں پناہ ملی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ادخلوھا بسلم . ‘ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ اُدْخُلُوْھَا : یعنی ان سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ بِسَلٰمٍ : یعنی عذاب ‘ افکار اور زوال نعمت سے مامون رَہ کر یا یہ مطلب ہے کہ اللہ اور ملائکہ کی طرف سے ان کو پیام سلامتی ملے گا۔ ذلک یوم الخلود یہ دن ہے ہمیشہ رہنے کا ذٰلِکَ : یہ جنت میں داخلہ کا دن وُ ہ دن ہوگا ‘ جب جنت کے اندر ہمیشہ رہنے کا حکم ہوگا۔ دوسری آیت میں یہی مضمون آیا ہے : فَاَدْخُلُوْھَا خٰلِدِیْنَ : جنت میں داخل ہوجاؤ ‘ ایسی حالت میں کہ تمہارے لیے جنت میں ہمیشہ رہنا مقدر کردیا گیا ہے۔ شیخین نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اہل جنت ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 32–35

(32۔ 35) اور ان سے کہا جائے گا یہ فضیلت وہ ہے جس کا تم سے دنیا میں اس طرح وعدہ کیا جاتا تھا کہ یہ ہر ایسے شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاع کی طرف رجوع ہونے والا ہو اور خلوت میں احکام خداوندی یا یہ کہ نمازوں کی پابندی کرنے والا ہو، غرض کہ جو شخص اللہ کی بغیر دیکھے عبادت کرتا ہوگا اور اللہ کے پاس خلوص والی عبادت اور توحید لے کر آئے گا ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جنت میں عذاب سے مامون و مطمئن ہو کر داخل ہوجاؤ۔ اور اہل جنت، جنت میں ہمیشہ رہیں گے ان کو جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے اور ان کو دیدار خداوندی بھی نصیب ہوگا یا یہ کہ ہر ایک دن اور ہر گھڑی پر ان کے ثواب…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ادخلوھا بسلم…: یعنی ان کی عزت افزائی کے لئے کہا جائے گا کہ سلام کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ۔ سلام کا مطل یہ ہے کہ ہر قسم کے خوف، غم اور فکر سے سلامت رہ کر اس میں داخل ہوجاؤ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس میں اس حال میں داخل ہوجاؤ کہ تم پر فرشتوں اور پوردگار کی طرف سے سلام ہے، جیسا کہ فرمایا :(سلم قولا من رب رحیم) (یٰسین : 58) ”سلام ہو۔ اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بےحد مہربان ہے۔“ اب تم ہمیشہ یہاں رہو گے، کبھی اس سے نکالے نہیں جاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 30–35

یوم نقول لجھنم ھل امتلاوتقول ھل من مزید نافع اور ابوبکر نے یوم یقول یعنی یاء کے ساتھ پڑھا ہے وہ اسے لا تختصموالدی پر قیاس کرتے ہیں باقی نے نون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خطاب ہے یہ عظمت کا نون ہے۔ حضرت حسن بصری نے یوم اقول پڑھا ہے۔ حضرت مسعود اور دوسرے علماء نے اسے یوم یقال پڑھا ہے یوم کو نصب دی ہے کیونکہ اس کا معنی یہ بنتا ہے میرے ہاں اس روز قول نہیں بدلا جائے گا جس روز ہم جہنم سے کہیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں عامل فعل مقدر ہے وہ منذرھم ہے کیونکہ پہلے وعدہ گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے بھرے گا۔ اس استفہام کا یہ مدعا ہے کہ خبر کی تصدیق کی جائے، وعدہ کو ثابت کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–34

3:۔ البیہقی (رح) نے شعب الایمان میں سعید بن سنان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لکل اواب حفیظ '' (ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا پابندی کرنے والا ہو کہ جس نے اپنے گناہوں کی حفاظت کی اور پھر ان سے ایک ایک کرکے توبہ کرلی۔ 4:۔ سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اواب '' وہ ہے جو گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کا خاتمہ توبہ کے ساتھ کرتا ہے۔ گناہ یاد کرکے استغفار کرنا : 5:۔ ابن ابی شیبہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ادْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ ۭ [ تم لوگ ہوجاؤ اس میں سلامتی کے ساتھ ] ذٰلِكَ يَوْمُ الْخُلُوْدِ [ یہ ہمیشہ ایک حالت میں رہنے کا دن ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–35

جنت اور اہل جنت کا تذکرہ : اس کے بعد جنت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ متقیوں سے قریب کردی جائے گی کچھ دور نہ رہے گی پھر وہ جنت میں داخل کردیئے جائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتوں اور لذتوں کی وہ جگہ ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا رہا، یہ وعدہ ہر اس شخص سے تھا جو اواب یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف خوب رجوع کرنے والا ہے اور حفیظ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا خاص دھیان رکھنے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگا رہتا تھا۔ اہل جنت کی مزید صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ بن دیکھے اللہ سے ڈرتے تھے۔ دنیا میں اس حالت پر رہے اور یہاں جو پہنچے تو قلب منیب لے کر آئے ان کا دل اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–45

شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–35

18:َ ” من خشی۔ الایۃ “ یہ المتقین یا اواب سے بدل ہے (بحر، روح) ۔ اس صورت میں ادخلوھا سے پہلے ” یقال لہم “ مقدر ہوگا یا مبتدا ہے اور ادخلوھا بتقدیر یقال لہم اس کی خبر ہے (مدارک) ۔ یا منادی ہے اور حرف نداء محذوف ہے ای یا من خشی الرحمن الخ، اور ادخلوھا الخ، مقصود بالنداء ہے (الشیخ (رح) تعالیٰ ) ۔ ” بالغیب “ یعنی اللہ کو دیکھے بغیر اس کے عذاب سے ڈرتا رہا یعی خشی عقابہ وھو غائب من اللہ تعالیٰ یعنی فی الدنیا حین لم یرہ (مظیر ج 9 ص 73) ۔ ” قلب منیب “ اللہ کی طرف رجوع وانابت کرنے والا دل۔ یعنی یہ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو بغیر دیکھے خدا کے عذاب سے ڈرتے رہے اور اللہ ہی سے لو لگائے رکھی، اس کے اوامر کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–38

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس کے اثبات میں عقلی اور نفلی دلائل پیش کیے۔ پھر مختلف اقوام کا اجمالی حال اور انکو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ پھر انسان کے حالات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو بیان فرمایا ۔ انسانوں کے اعمال کی حفاظت اور ان کی بارگاہ الٰہی میں پیشی کا حال ذکر کیا ۔ مجرموں کے جہنم میں داخلے اور ان کی آپس میں الزا م تراشیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ فرمائے گا میرے پاس مت جھگڑا کرو ۔ میں نے تمہیں دنیا میں ہر نیک و بد سے آگاہ کردیا تھا اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ تمہیں اپنے عقیدے اور عمل کا بھگتان کرنا ہوگا ۔ ہل من مزید جب دوزخی اپنے اپنے ٹھکانے میں پہنچ جائیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ادْخُلُوْہَا بِسَلٰمٍ۝ 0 ۭ ذٰلِكَ يَوْمُ الْخُلُوْدِ۝ 34 دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ سلام السِّلْمُ والسَّلَامَةُ : التّعرّي من الآفات الظاهرة والباطنة، قال : بِقَلْبٍ سَلِيمٍ [ الشعراء/ 89] ، أي : متعرّ من الدّغل، فهذا في الباطن، وقال تعالی: مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 30–37

تفسیر : جب دوزخیوں کو دوزخ میں ڈال چکے گا تو دوزخ سے پوچھے گا، ہل امتلئت کیا تو بھرگئی، وہ کہے گی اور کچھ ہے ؟ یعنی اور بھی ہو تو لایئے بخاری و مسلم ترمذی وغیرہ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ جہنم ہل من مزید ہل من مزید کہے گی، یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا پائوں رکھ دے گا تو کہے گی۔ بس بس۔ قدم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ خود اس کی اشتہاء کو فرو کردے، یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ یہاں تک دوزخیوں کا حال تھا، اب جنتیوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید کہ پرہیز گاروں کے سامنے جنت لائی جاوے گی، جس کو وہ عرصات میں آنکھوں سے سامنے دیکھیں گے، فرمایا جاوے گا یہ وہ ہے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 34–35

ادْخُلُوْھَا بِسَلٰمٍ ط ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ ۔ لَہُمْ مَّا یَشَآئُ وْنَ فِیْھَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ۔ (قٓ: 34، 35) (داخل ہوجاؤ اس جنت میں سلامتی کے ساتھ، یہ ہمیشگی کا دن ہے۔ وہاں ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے، اور ہمارے پاس مزید بھی ہے۔ ) ان صفات کے حاملین کا اعزاز ان صفات کے حاملین سے کہا جائے گا کہ اس جنت میں داخل ہوجاؤ سلام کے ساتھ۔ سلام کے دو معنی ہیں ایک ہے سلامتی، اور دوسرا ہے وہ اصطلاحی سلام جسے ہم آپس میں ملتے ہوئے زبان سے ادا کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے دونوں معنوں میں اس لفظ کو استعمال کیا ہے۔ سورة حجر میں ارشاد ہے اُدْخُلُوْھَا بِسَلاَمٍ آمِنِیْنَ ” اس جنت میں داخل ہوجاؤ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–35

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کے ذکر اور جہنمیوں کے انجام کے بعد جنت اور اس کے مہمانوں کا ذکر۔ قرآن مجید اپنے بہترین اسلوب کے مطابق یہاں بھی جہنم کے بعد جنت کا تذکرہ کرتا ہے۔ ایک طرف جہنمی جہنم میں جھونکے جارہے ہوں گے اور دوسری طرف رب کریم جنت کو جنتیوں کے قریب تر کردے گا۔ جنتی جنت کو دیکھتے اور اس کی خوشبو پاتے ہی خوش ہوجائیں گے۔ جونہی ان کے چہروں پر مسکراہٹیں نمایاں ہوں گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوگا یہی وہ جنت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ جسے ” اللہ “ کی طرف رجوع کرنے والے اور گناہوں سے بچنے والے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جنت ایسے شخص کے لیے ہے جو بِن دیکھے رب رحمٰن سے ڈرتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 34 : ادْخُلُوْہَا بِسَلٰمٍ (اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجائو) یعنی اس حال میں کہ تم نعمتوں کے زوال اور ناراضگی کے اترنے سے محفوظ رہو گے۔ ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ (اور یہ دن ہے ہمیشہ رہنے کا) یعنی ایسا دن جس کا اندازہ ہمیشگی ہے۔ جیسا فرمایا فادخلوہا خالدین۔ ] الزمر۔ 73[ یعنی تمہارے لئے ہمیشگی طے کردی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

33 ۔” من خشی الرحمن بالغیب “ یہ محل جر میں ہے اواب کی صفت ہونے کی وجہ سے اور کہا گیا ہے کہ مرفوع ہے استنئاف کی وجہ سی اور آیت کا معنی جو رحمن سے ڈرا اور بن دیکھے اس کی اطاعت کی۔ ضحاک اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی خلوت (تنہائی) میں کہ اس کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔ حسن (رح) فرماتے ہیں جب پردہ لٹکا دے اور دروازہ بند کردے۔ ” وجآء بقلب منیب “ مخلص اللہ تعالیٰ کی طاعت پر متوجہ ہونے والا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 30–35

30۔ 35۔ مسند امام احمد اور صحیحین 2 ؎ میں حضرت انس ؓ بن مالک کی روایت سے خود صاحب وحی ﷺ نے جو تفسیر اس آیت کی فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن دوزخ میں پڑنے کے قابل لوگوں کے گروہ دوزخ میں پڑتے جائیں گے اور دوزخ میں سے یہ آواز آتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے۔ ؟ یہاں تک کہ آخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم مبارک دوزخ میں رکھ دے گا۔ جب اس وقت دوزخ میں سے بس بس کی آواز آئے گی۔ اور جنت میں جو جنتی لوگوں کے جانے کے بعد جگہ خالی رہ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کرکے ان لوگوں سے جنت کی اس خالی جگہ کو بھر دے گا۔ بخاری میں اس طرح کی روایت ابوہریرہ ؓ سے بھی ہے۔ آلم سجدہ میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–35

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہوئے فرماتا ہے : (یوم نقول لجھنم ھل امتلات) ” اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گئی ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، جہنم میں ڈالے گئے لوگوں کی کثرت کی وجہ سے ہوگا (وتقول ھل من مزید) ” وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے ؟ “ یعنی جہنم اپنے رب کی خاطر ناراضی اور کفار پر غیظ و غضب کی وجہ سے اپنے اندر مجرموں کے اضافے کا مطالبہ کرتی رہے گی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا : (لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین) (السجدۃ : 32/13) ” میں جن ہم کو جنات اور انسانوں سے ضرور بھروں گا۔ “ حتی کہ اللہ رب العزت اپنا قدم کریم، جو تشبیہ سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 48] اہل جنت کیلئے دخول جنت کے اذن و ارشاد کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہا جائے گا کہ داخل ہوجاؤ تم لوگ اس جنت میں سلامتی کے ساتھ کہ نہ اس میں تمہیں کوئی تکلیف و ایذا پہنچے، اور نہ کبھی اس سے نکالے جاؤ۔ اور جہاں تم اپنے رب اور اس کے فرشتوں کی طرف سے سلام اور دعا کی دلنواز و روح پرور صدائیں بھی سنتے رہو گے، اور تمہیں ہر طرح کی اور ہر طرف سے سلامتی ہی سلامتی نسیب و میسر ہوگی۔ اللہ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔ سو ان کو اس ابدی بادشاہی سے نوازا جائے گا جس میں ان کیلئے نہ ماضی کا کوئی غم ہوگا اور نہ مستقبل کا کوئی خوف و اندیشہ۔ ان سے وہ بادشاہی نہ کبھی چھینی جائے گا اور نہ اس میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–45

آیات 30 تا 45۔ دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اواب اور حفیظ ۔ اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:34) ادخلوھا : امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ادخال (افعال) مصدر۔ تم داخل ہوجاؤ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الجنۃ (آیت نمبر 31) کی طرف راجع ہے۔ ادخلوھا سے قبل یقال لہم محذوف ہے ) ان سے کہا جائے گا۔ خطاب المتقین سے جن کی صفات اوپر مذکور ہوئی ہیں۔ بسلم : سلامتی کے ساتھ۔ فکر و عذاب سے محفوظ اور زوال نعمت سے بےخطر۔ یا یہ کہ تمہارے داخلہ پر جنت کے فرشتے سلام علیکم (تم پر سلامتی ہو) سے تمہارا خیر مقدم کریں گے۔ ذلک یوم الخلود : ای ذلک یوم ابتداء الخلود۔ یہ بقاء خلد کی ابتداء کا دن ہوگا۔ اس دن سے تم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بہشت میں رہو گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–35

لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 35 : ھل امتلات (کیا تو بھر گئی) ازلفت (قریب لائی گئی) ‘ اواب (جھکنے والا) ‘ الخلود (ہمیشہ رہنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 35 : جب میدان حشر میں ہر شخص کے اعمال کے مطابق فیصلہ کردیا جائے گا۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو جہنم میں داخل ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگی کہ جہنم پکار اٹھے گی کہ کیا ابھی اور اللہ کے نافرمان ہیں جنہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا ؟ مفسرین نے اس کے معنی یہ بھی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود ہی جہنم سے سوال فرمائیں گے کہ کیا اب بھی جہنم میں اور جگہ موجود ہے ؟ کیا اس کے علاوہ اور بھی جہنم والے ہیں۔ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 30–35

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بروز قیامت ہم کافروں کو دوخ میں ڈال چکیں گے تو دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی اور وہ جواب میں کہے گی کہ اور بھی جو کافر ہوں وہ بھی سہی، برابر لاؤ، لاؤ، کہے گی اور دریافت کرے گی کہ کافروں میں اور بھی کوئی رہا یا نہیں ، اگر رہا تو لاؤ، یہاں تک دوزخیوں کا حال بیان ہوا اب جنتیوں کا حال ذکر کرتا ہے کہ جس طرح اہل دوزخ کے دکھانے کے لیے دوزخ کو محشر کے میدان میں لایاجائے گا اسی عرش معلی کی دائیں طرف کی جگہ محشر کے میدان کے سامنے کردی جائے گی ، جس سے اہل جنت میدان محشر میں سے جنت کو دیکھ لیں گے اور ان سے کہا جائے گا جنہوں نے دنیا میں خدا کو یاد رکھا اور گناہوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–35

[11] یعنی اللہ کو یاد کرنے والا اور اپنے تمام معاملات میں اسی کی طرف رجوع کرنے والا۔ [12] یعنی اللہ کی مقرر کردہ حدود وقیود کی حفاظت کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–35

عجیب ترین بات 1: اس سے قبل کی آیتوں میں جہنم والوں کا مرقع تھا ۔ اب ان آیات میں یہ بیان فرمایا ہے ۔ کہ اللہ کے پاکباز بندے جب اس کے حضور میں جائینگے ۔ تو وہ جنت کو بہت ہی قریب پائینگے ۔ اور دیکھیں گے ۔ کہ بلاکسی دقت اور کوفت کے وہ کس طرح ان نعمتوں سے بہرہ مند رہے ہیں ۔ جن کی نسبت ان سے دنیا میں کہا گیا تھا ۔ اس مقام مسرت وہجت میں وہ لوگ ہوں جو دنیا میں رجوع الی اللہ کے جذبات پاک سے مشرف ہیں ۔ جو ہر لمحہ اور ہر منزل اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے پر تیار ہوتے ہیں اور کوئی عزت ووقار کا سوال ان کو توبہ وانابت سے باز نہیں رکھ سکتا ۔ جو اس کے احکام اور اس کی بیان کردہ حدود کو اپنی نگاہ میں رکھتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(34) ان سے ارشاد ہوگا تم اس بہشت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجائو یہ ہمیشہ کے فیصلے اور ہمیشہ کے حکم کا دن۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 31–35

ف 1۔ ازلاف جنت کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں، یا تو اس کی جگہ سے منتقل کر کے میدان قیامت میں لے آویں، اور اللہ کو سب قدرت ہے، تو اس صورت میں ادخلوھا فرمانا بایں معنی نہیں کہ ابھی چلے جاو بلکہ بشارت اور وعدہ ہے کہ تم بعد حساب و کتاب وغیرہ کے اس میں جانا، اور دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بعد فراغ حساب وغیرہ کے ان لوگوں کو جنت کے قریب پہنچا کر باہر ہی سے کہا جائے گا کہ فھذا ما تو عدون پھر اور قریب کر کے کہا جائے گا ادخلوھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان سے کہا جائے گا سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائو اب تم کو اس میں ہمیشہ رہنا ہے 34 ۔ گزشتہ آیت میں (قلب منیب) کہہ کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کا ذکر کیا گیا تھا اور (منیب) کی اصل نوب ہے جس کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ، خلوص کے ساتھ توبہ کرنے والا ، ہر طرف سے مڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والا (اناب) اور (انیب) بھی اسی سے ہے زیر نظر آیت میں فرمایا جارہا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا دل لے کر آئے ہیں ان کو کہا جائے گا کہ اب تم جنت میں داخل ہوجائو کیونکہ تم اللہ تعالیٰ کی ذات سے بن دیکھے ڈرتے تھے اور اس دن کو بن دیکھے مانتے اور تسلیم کرتے تھے اور لوگوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–34

In verse [ 33] we have the statement وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ (...and comes up with a heart oriented towards Him....50:33]. Abu Bakr Warraq (رح) says that the characteristics of a munib is that he always maintains respect for Allah and humbles himself to Him and gives up his sensual and base desires.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

44 If the word salam in udkhulu-ha bi-salam-in is taken in the meaning of peace and security, it would mean: "Enter this Paradise safe and secure from every kind of grief, sorrow, anxiety and affiliation"; and if it is taken in the meaning of salam itself, it would mean: "Enter this Paradise you are welcomed here with the greeting of peace by Allah and his angels." In these verses Allah has mentioned the qualities because of which a person makes himself worthy of Paradise, and they are: (1) Tagva (piety), (2) Turning towards Allah, (3) watching over and guarding one's relationship with AIIah,…

Read the full tafseer →