Explained with ayahs 30–35
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ
چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لئے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہوگئی ؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس۔ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم…
Read the full tafseer →سورة قٓ 42
یعنی باوجود اس کے کہ رحمان اس کو کہیں نظر نہ آتا تھا، اور اپنے حواس سے کسی طرح بھی وہ اس کو محسوس نہ کرسکتا تھا، پھر بھی وہ اس کی نافرمانی کرتے ہوئے ڈرتا تھا۔ اس کے دل پر دوسری محسوس طاقتوں اور علانیہ نظر آنے والی زور آور ہستیوں کے خوف کی بہ نسبت اس اَن دیکھے رحمان کا خوف زیادہ غالب تھا۔ اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ رحمٰن ہے، اس کی رحمت کے بھروسے پر وہ گناہ گار نہیں بنا بلکہ ہمیشہ اس کی ناراضی سے ڈرتا ہی رہا۔ اس طرح یہ آیت مومن کی دو اہم اور بنیادی خوبیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایک یہ کہ وہ محسوس نہ ہونے اور نظر نہ آنے کے باوجود خدا سے ڈرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ خدا کی صفت رحمت سے اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(آیت) وَجَاۗءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِ ، ابوبکر وراق فرماتے ہیں کہ منیب کی علامت یہ ہے کہ وہ حق تعالیٰ جل شانہ کے ادب کو ہر وقت مستحضر رکھے اور اس کے سامنے تواضع اور عاجزی سے رہے اور اپنے نفس کی خواہشات کو چھوڑ دے۔
Read the full tafseer →من خشی الرحمٰن بالغیب وجآء بقلب منیب (33)
اوپر مستحقین دوزخ کے بارے میں یہ بات ارشاد ہوئی ہے کہ وہ درباب قیامت مبتلائے شک رہے اور اللہ کے مقابل میں انہوں نے دوسرے سہارے بنا لئے۔ وہاں ہم نے بیان کیا ہے کہ یہی دونوں چیزیں درحقیقت ام الامراض کی حیثیت رکھتی ہیں یہاں اس کے مقابل میں اہل جنت کے باب میں فرمایا کہ یہ اس قسم کے کسی وہم میں نہیں مبلا ہوئے بلکہ غیب میں رہتے، خدائے رحمان سے ڈرتے رہے اور چونکہ انہوں نے خدا کے سوا کوئی اور سہارا تلاش نہیں کیا اس وجہ سے اپنے رب کے حضور میں ایک ایسے دل کے ساتھ حاضر ہوئے جس کی ساری توجہ اپنے رب ہی کی طرف رہی اس لئے کہ ان کی ساری ساری امیدیں اسی سے وابستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
33۔ 1 مُنِیْبِ ، اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور اس کا اطاعت گزار دل۔ یا بمعی سلیم ، شرک و مصیت کی نجاستوں سے پاک دل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
14: جنت کی نعمتوں کی کچھ اجمالی جھلک تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف آیتوں میں بیان فرمائی ہے، لیکن جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں، کسی کان نے سنی نہیں، اور کسی شخص کے دل میں اس کا خیال بھی پیدا نہیں ہوا، یہاں بڑے بلیغ انداز میں اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہمارے پاس کچھ اور زیادہ بھی ہے، انہی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی ہے، مزید دیکھیے سورة یونس (10۔ 26)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ (50 : 32) من خشی ۔۔۔۔۔ بقلب منیب (50 : 33) ” یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا ، جو بےدیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا اور جو دل گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے “۔ تو عالم بالا سے ان کی یہ تعریف کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اللہ کے پیمانے کے مطابق یہ اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں اور اپنے نفس کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں ، یہ رحمان سے ڈرنے والے ہیں اور انہوں نے اسے کبھی دیکھا نہ تھا۔ اللہ کی طرف ان کے دل لگے ہوئے ہیں اور وہ اس کے مطیع فرمان ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
5 یعنی جنہوں نے دنیا میں خدا کو یاد رکھا اور گناہوں سے محفوظ ہو کر اس کی طرف رجوع ہوئے، اور بےدیکھے اس کے قہرو جلال سے ڈرے اور ایک پاک و صاف رجوع ہونے والا دل لے کر حاضر ہوئے، اس جنت کا وعدہ ایسے لوگوں سے کیا گیا تھا وقت آگیا ہے کہ سلامتی و عافیت کے ساتھ اس میں داخل ہوں۔ فرشتے ان کو سلام کریں اور ان کے پروردگار کا سلام پہنچائیں۔
6 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " اس دن جس کو جو کچھ ملا سو، ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس سے پہلے ایک بات پر ٹھہراؤ نہ تھا۔ "
Read the full tafseer →آیت 33 { مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ } ”جو ڈرتا رہا رحمن سے غیب میں ہونے کے باوجود۔“
{ وَجَآئَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِ۔ } ”اور لے کر آیا رجوع کرنے والا دل۔“
قلب منیب سے بھی یہاں قلب سلیم ہی مراد ہے۔ یہ ایسے شخص کا ذکر ہے جو دنیا میں اللہ کا فرمانبردار بندہ بن کر رہا۔ اللہ کی امانت کو اس نے پوری حفاظت اور سلامتی کے ساتھ رکھا اور صحیح و سلامت حالت میں لوٹایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
39 اگرچہ اس کی صفت رحمن ہے پھر بھی اس کی عظمت و جلال کی وجہ سے وہ اس سے ڈرتا رہا۔ اس خیال سے کہ شاید اس کا عمل اللہ کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کرتا ہے یا نہیں۔
40 منیب۔ اناب کے معنی گناہ کے کاموں سے لوٹنا یا باز آنا۔ گناہ کا اعتراف اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرنا۔ یعنی اس کا دل ہی ایسا تھا جسے گناہ کے کاموں سے نفرت تھی اور اگر اتفاق سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا تو فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
26۔ یعنی آج کی نعمتوں کو نہ فناء ہے نہ زوال۔ (آیت) ” بالغیب “۔ یعنی جنت کی نعمتیں اور دوزخ کی سختیاں دنیا میں تو سب غیب ہی میں تھیں۔ یہ لوگ دنیاہی میں ان دھمکیوں کو حقائق جان کر ان سے پوری طرح متاثر ہوچکے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
من خشی الرحمٰن بالغیب وجاء بقلب منیب ” خشیت بالغیب “ کا مطلب دنیا میں ڈرنا ہے، جہاں نار و نعیم دونوں غائب ہیں اور قلب منیب سے قل سلیم مراد ہے۔
فنقبوا فی البلاد ھل من محیص نقبوا تنقیب سے ہے اس کے اصل معنی سوراخ کرنے اور پھاڑنے کے ہیں محاورات میں دور دراز ملکوں کے سفر کرنے کو بھی کہتے ہیں۔ (کمافی القاموس)
محیض ظرف مکان ہے، پناہ گاہ، لوٹنے کی جگہ، آیت کا مطلب یہ ہے کہ ال لہ تعالیٰ نے تم سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا جو قوت و طاقت میں تم سے کہیں زیادہ تھیں اور مختلف ملکوں اور خطوں میں تجارت وغیرہ کے لئے پھرتی رہیں مگر دیکھو کہ انجام کا ران کو موت آئی اور ہلاک ہوئیں، نہ ان کو کہیں پناہ ملی اور…
Read the full tafseer →من خشی الرحمن بالغیب وجاء بقلب منیب
جو شخص بےدیکھے رحمن سے ڈرتا ہو اور رجوع ہونے والا دل لے کر آیا ہو
مُّنِیْبٍ : مخلص۔ دل سے اللہ کی طرف متوجہ۔
بالغیب : یعنی اللہ کے عذاب سے ڈرتا تھا ‘ جب کہ وہ اللہ سے غائب تھا یعنی دنیا میں تھا۔ اللہ کو نہیں دیکھا تھا یا اللہ کے عذاب سے غائب تھا یا وہ خود غائب تھا کسی کی نظر کے سامنے نہیں تھا۔
ضحاک ‘ سدی اور حسن نے کہا : یعنی وہ تنہائی میں اللہ سے ڈرتا تھا۔ جبکہ کوئی بھی اس کو نہیں دیکھتا تھا۔ (القھار یا المنتقم کی جگہ) الرحمن کا لفظ ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ جہاں وہ اللہ سے ڈرتے ہیں ‘ اس کی رحمت کے امیدوار بھی ہیں یا اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ کی رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
(32۔ 35) اور ان سے کہا جائے گا یہ فضیلت وہ ہے جس کا تم سے دنیا میں اس طرح وعدہ کیا جاتا تھا کہ یہ ہر ایسے شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاع کی طرف رجوع ہونے والا ہو اور خلوت میں احکام خداوندی یا یہ کہ نمازوں کی پابندی کرنے والا ہو، غرض کہ جو شخص اللہ کی بغیر دیکھے عبادت کرتا ہوگا اور اللہ کے پاس خلوص والی عبادت اور توحید لے کر آئے گا ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جنت میں عذاب سے مامون و مطمئن ہو کر داخل ہوجاؤ۔
اور اہل جنت، جنت میں ہمیشہ رہیں گے ان کو جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے اور ان کو دیدار خداوندی بھی نصیب ہوگا یا یہ کہ ہر ایک دن اور ہر گھڑی پر ان کے ثواب…
Read the full tafseer →(1) من خشی الرحمٰن بالغیب : یعنی رحمان کو دیکھے بغیر اس سے ڈرتا ہے اور اس وقت بھی ڈرتا ہے جب وہ ولگوں سے غائب ہوتا ہے، کوئی اس کے پاس نہیں ہوتا۔ یہاں ایک سوال ہے کہ خشیت کے ساتھ لفظ ”رحمان“ لانے میں کیا حکمت ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ رحمان کا لفظ لانے میں اس شخص کی تعریف مقصود ہے کہ وہ اللہ کی رحمت اور اس کے معافک ر دینے کی صفت کا علم رکھنے کے باوجود اس سے ڈرتا ہے۔ (زمخشری) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(سبعۃ یظلھم اللہ تعالیٰ فی ظلہ یوم لا ظل الا ظلہ)”سات آدمی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دے گا جب اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔“ ان میں سے پانچویں کے بارے میں فرمایا :(ورجل دعتہ امراۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
یوم نقول لجھنم ھل امتلاوتقول ھل من مزید نافع اور ابوبکر نے یوم یقول یعنی یاء کے ساتھ پڑھا ہے وہ اسے لا تختصموالدی پر قیاس کرتے ہیں باقی نے نون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خطاب ہے یہ عظمت کا نون ہے۔ حضرت حسن بصری نے یوم اقول پڑھا ہے۔ حضرت مسعود اور دوسرے علماء نے اسے یوم یقال پڑھا ہے یوم کو نصب دی ہے کیونکہ اس کا معنی یہ بنتا ہے میرے ہاں اس روز قول نہیں بدلا جائے گا جس روز ہم جہنم سے کہیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں عامل فعل مقدر ہے وہ منذرھم ہے کیونکہ پہلے وعدہ گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے بھرے گا۔ اس استفہام کا یہ مدعا ہے کہ خبر کی تصدیق کی جائے، وعدہ کو ثابت کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
3:۔ البیہقی (رح) نے شعب الایمان میں سعید بن سنان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لکل اواب حفیظ '' (ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا پابندی کرنے والا ہو کہ جس نے اپنے گناہوں کی حفاظت کی اور پھر ان سے ایک ایک کرکے توبہ کرلی۔
4:۔ سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اواب '' وہ ہے جو گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کا خاتمہ توبہ کے ساتھ کرتا ہے۔
گناہ یاد کرکے استغفار کرنا :
5:۔ ابن ابی شیبہ…
Read the full tafseer →مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ [ جو ڈرا رحمن سے ] بِالْغَيْبِ [ بن دیکھے ] وَجَاۗءَ [اور وہ آیا ] بِقَلْبٍ مُّنِيْبِۨ [ ایک متوجہ ہونے والے دل کے ساتھ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
جنت اور اہل جنت کا تذکرہ :
اس کے بعد جنت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ متقیوں سے قریب کردی جائے گی کچھ دور نہ رہے گی پھر وہ جنت میں داخل کردیئے جائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتوں اور لذتوں کی وہ جگہ ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا رہا، یہ وعدہ ہر اس شخص سے تھا جو اواب یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف خوب رجوع کرنے والا ہے اور حفیظ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا خاص دھیان رکھنے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگا رہتا تھا۔ اہل جنت کی مزید صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ بن دیکھے اللہ سے ڈرتے تھے۔ دنیا میں اس حالت پر رہے اور یہاں جو پہنچے تو قلب منیب لے کر آئے ان کا دل اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–45
شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
18:َ ” من خشی۔ الایۃ “ یہ المتقین یا اواب سے بدل ہے (بحر، روح) ۔ اس صورت میں ادخلوھا سے پہلے ” یقال لہم “ مقدر ہوگا یا مبتدا ہے اور ادخلوھا بتقدیر یقال لہم اس کی خبر ہے (مدارک) ۔ یا منادی ہے اور حرف نداء محذوف ہے ای یا من خشی الرحمن الخ، اور ادخلوھا الخ، مقصود بالنداء ہے (الشیخ (رح) تعالیٰ ) ۔ ” بالغیب “ یعنی اللہ کو دیکھے بغیر اس کے عذاب سے ڈرتا رہا یعی خشی عقابہ وھو غائب من اللہ تعالیٰ یعنی فی الدنیا حین لم یرہ (مظیر ج 9 ص 73) ۔ ” قلب منیب “ اللہ کی طرف رجوع وانابت کرنے والا دل۔ یعنی یہ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو بغیر دیکھے خدا کے عذاب سے ڈرتے رہے اور اللہ ہی سے لو لگائے رکھی، اس کے اوامر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس کے اثبات میں عقلی اور نفلی دلائل پیش کیے۔ پھر مختلف اقوام کا اجمالی حال اور انکو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ پھر انسان کے حالات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو بیان فرمایا ۔ انسانوں کے اعمال کی حفاظت اور ان کی بارگاہ الٰہی میں پیشی کا حال ذکر کیا ۔ مجرموں کے جہنم میں داخلے اور ان کی آپس میں الزا م تراشیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ فرمائے گا میرے پاس مت جھگڑا کرو ۔ میں نے تمہیں دنیا میں ہر نیک و بد سے آگاہ کردیا تھا اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ تمہیں اپنے عقیدے اور عمل کا بھگتان کرنا ہوگا ۔
ہل من مزید
جب دوزخی اپنے اپنے ٹھکانے میں پہنچ جائیں…
Read the full tafseer →مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاۗءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِۨ 33 ۙ
خشی
الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28]
( خ ش ی ) الخشیۃ
۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔
إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
تفسیر : جب دوزخیوں کو دوزخ میں ڈال چکے گا تو دوزخ سے پوچھے گا، ہل امتلئت کیا تو بھرگئی، وہ کہے گی اور کچھ ہے ؟ یعنی اور بھی ہو تو لایئے بخاری و مسلم ترمذی وغیرہ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ جہنم ہل من مزید ہل من مزید کہے گی، یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا پائوں رکھ دے گا تو کہے گی۔ بس بس۔ قدم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ خود اس کی اشتہاء کو فرو کردے، یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ یہاں تک دوزخیوں کا حال تھا، اب جنتیوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید کہ پرہیز گاروں کے سامنے جنت لائی جاوے گی، جس کو وہ عرصات میں آنکھوں سے سامنے دیکھیں گے، فرمایا جاوے گا یہ وہ ہے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا…
Read the full tafseer →مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَجَآئَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِ نِ ۔ (قٓ: 33)
(جو بےدیکھے رحمن سے ڈرتا تھا، اور متوجہ رہنے والے دل کے ساتھ حاضر ہوا۔ )
اور تیسری صفت اس کی یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ رحمن کو دیکھ نہیں سکتا اور رحمن اسے کہیں دکھائی نہیں دیتا اور نہ اپنے حواس کے ذریعے اس کو محسوس کرسکتا ہے، لیکن اس کی نافرمانی کرنے سے ڈرتا ہے۔ دوسری محسوس طاقتیں جن کی قوت و شوکت اور جن کے نافع و ضار ہونے کے شواہد اس کی آنکھوں کے سامنے ہیں۔ لیکن اگر وہ رحمن کی نافرمانی کی طرف اسے بلاتی ہیں تو وہ ان سے نہیں ڈرتا بلکہ رحمن سے ڈر کر اس کے احکام کی ہمیشہ بجاآوری کرتا ہے۔ اس کے لیے سب سے بڑا نقصان نفع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
فہم القرآن
ربط کلام : جہنم کے ذکر اور جہنمیوں کے انجام کے بعد جنت اور اس کے مہمانوں کا ذکر۔
قرآن مجید اپنے بہترین اسلوب کے مطابق یہاں بھی جہنم کے بعد جنت کا تذکرہ کرتا ہے۔ ایک طرف جہنمی جہنم میں جھونکے جارہے ہوں گے اور دوسری طرف رب کریم جنت کو جنتیوں کے قریب تر کردے گا۔ جنتی جنت کو دیکھتے اور اس کی خوشبو پاتے ہی خوش ہوجائیں گے۔ جونہی ان کے چہروں پر مسکراہٹیں نمایاں ہوں گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوگا یہی وہ جنت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ جسے ” اللہ “ کی طرف رجوع کرنے والے اور گناہوں سے بچنے والے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جنت ایسے شخص کے لیے ہے جو بِن دیکھے رب رحمٰن سے ڈرتا ہے اور…
Read the full tafseer →آیت 33 : مَنْ یہ اواب کا بدل ہے اور محلاً مجرور ہے۔ نمبر 2۔ یہ مبتدأ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور اس کی خبر ادخلوہا ہے جبکہ یقال لہم کو مقدر مانیں کیونکہ مَن معنی کے لحاظ سے جمع ہے۔ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ (جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوگا) الخشیۃ : اپنی غلطی دیکھ کر دل کی بیقراری۔ اللہ تعالیٰ نے خشیت کے ساتھ اپنا وسیع رحمت والا اسم گرامی ملا کر ذکر کیا۔ اس سے خشیت والے کی خوب تعریف کردی کہ یہ بیقرار ہے باوجود اس بات کے جان لینے کے کہ میرا رب وسیع رحمت والا ہے اور وہ ڈر رہا ہے باوجود اس بات کہ جس ذات سے ڈر رہا ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے اس سے غائب ہے۔ بِالْغَیْبِ (بن دیکھے) نحو : نمبر 1۔ یہ مفعول…
Read the full tafseer →32 ۔” ھذا ماتوعدون “ ابن کثیر (رح) نے یاء کے ساتھ اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان کو کہا جائے گا یہ جو تم دیکھ رہے ہو وہ ہے جو تم سے انبیاء (علیہم السلام) کی زبانوں سے وعدہ کیا گیا تھا۔ ” لکل اواب “ معاصی سے طاعت کی طرف رجوع کرنے والوں کے لئے۔
سعید بن مسیب فرماتے ہیں وہ ایسا شخص جو گناہ کرے، پھر توبہ کرے ، پھر گناہ کرے، پھر توبہ کرے۔ شعبی اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں جو تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کرکے ان سے استغفار کرے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں وہ بہت زیادہ توبہ کرنے والا۔ ابن عباس ؓ اور عطائؒ فرماتے ہیں تسبیح کرنے والا۔ یہ اس کے قول ” یا جبال اوبی معہ “ سے ہے۔ اور قتادہ (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
30۔ 35۔ مسند امام احمد اور صحیحین 2 ؎ میں حضرت انس ؓ بن مالک کی روایت سے خود صاحب وحی ﷺ نے جو تفسیر اس آیت کی فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن دوزخ میں پڑنے کے قابل لوگوں کے گروہ دوزخ میں پڑتے جائیں گے اور دوزخ میں سے یہ آواز آتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے۔ ؟ یہاں تک کہ آخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم مبارک دوزخ میں رکھ دے گا۔ جب اس وقت دوزخ میں سے بس بس کی آواز آئے گی۔ اور جنت میں جو جنتی لوگوں کے جانے کے بعد جگہ خالی رہ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کرکے ان لوگوں سے جنت کی اس خالی جگہ کو بھر دے گا۔ بخاری میں اس طرح کی روایت ابوہریرہ ؓ سے بھی ہے۔ آلم سجدہ میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہوئے فرماتا ہے : (یوم نقول لجھنم ھل امتلات) ” اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گئی ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، جہنم میں ڈالے گئے لوگوں کی کثرت کی وجہ سے ہوگا (وتقول ھل من مزید) ” وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے ؟ “ یعنی جہنم اپنے رب کی خاطر ناراضی اور کفار پر غیظ و غضب کی وجہ سے اپنے اندر مجرموں کے اضافے کا مطالبہ کرتی رہے گی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا : (لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین) (السجدۃ : 32/13) ” میں جن ہم کو جنات اور انسانوں سے ضرور بھروں گا۔ “ حتی کہ اللہ رب العزت اپنا قدم کریم، جو تشبیہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–38
کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے
قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں)
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →[ 46] اہل جنت کی تیسری بڑی اور خاص صفت خوف و خشیت خداوندی، وباللہ التوفیق :
سو نعیم جنت سے سرفراز ہونے والے ان خوش نصیبوں کی یہاں پر تیسری صفت یہ بیان فرمائی گئی کہ جو بن دیکھے ڈرتا رہا رحمن سے۔ یعنی خدائے رحمن سے۔ یعنی خدائے رحمن کو اس نے دیکھا نہیں لیکن اپنے ایمان و یقین کی بنا پر وہ اس سے ڈرتا رہا کہ وہ مجھ سے ناراض نہ ہوجائے اور اس کی مجھ سے کوئی نافرمانی نہ ہوجائے۔ سو وہ اس سے تنہائی میں بھی ڈرتا رہا۔ جب کوئی اس کو دیکھتا نہیں کہ خدائے رحمن مجھے دیکھ رہا ہے، اس لئے اس سے میرا معاملہ صحیح ہو، اور وہ مجھ سے ناراض نہ ہوجائے، کہ اس کا حق سب سے مقدم اور سب سے بالا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، سو جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–45
آیات 30 تا 45۔
دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔
اواب اور حفیظ ۔
اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
ف 5 یعنی تمہیں کبھی موت نہ آئیگی اور نہ تم جنت سے نکلو گے۔
Read the full tafseer →(50:33) من خشی الرحمن بالغیب : جوبن دیکھے رحمن سے ڈرتا ہے (رحمن اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے) یہ جملہ یا تو اواب حفیظ سے بدل ہے یا اس کی صفت کہ اواب حفیظ وہ شخص ہے جو کہ بن دیکھے خدا وند تعالیٰ سے ڈرے۔
وجاء بقلب منیب : یہ بھی اواب کی صفت میں ہے اور جو قلب منیب لے کر آیا ہے۔ قلب منیب موصوف و صفت منیب اسم فاعل واحد مذکر انابۃ (افعال) مصدر لوب مادہ۔ اللہ کی طرف خلوص سے رجوع کرنے والا۔ ہر طرف سے لوٹ کر اللہ کی طرف مڑنے والا۔ بار بار ۔ اللہ کی طرف لوٹنے والا۔ خلوص دل کے ساتھ اللہ سے توبہ کرنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 35 :
ھل امتلات (کیا تو بھر گئی) ازلفت (قریب لائی گئی) ‘ اواب (جھکنے والا) ‘ الخلود (ہمیشہ رہنے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 30 تا 35 :
جب میدان حشر میں ہر شخص کے اعمال کے مطابق فیصلہ کردیا جائے گا۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو جہنم میں داخل ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگی کہ جہنم پکار اٹھے گی کہ کیا ابھی اور اللہ کے نافرمان ہیں جنہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا ؟ مفسرین نے اس کے معنی یہ بھی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود ہی جہنم سے سوال فرمائیں گے کہ کیا اب بھی جہنم میں اور جگہ موجود ہے ؟ کیا اس کے علاوہ اور بھی جہنم والے ہیں۔ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بروز قیامت ہم کافروں کو دوخ میں ڈال چکیں گے تو دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی اور وہ جواب میں کہے گی کہ اور بھی جو کافر ہوں وہ بھی سہی، برابر لاؤ، لاؤ، کہے گی اور دریافت کرے گی کہ کافروں میں اور بھی کوئی رہا یا نہیں ، اگر رہا تو لاؤ، یہاں تک دوزخیوں کا حال بیان ہوا اب جنتیوں کا حال ذکر کرتا ہے کہ جس طرح اہل دوزخ کے دکھانے کے لیے دوزخ کو محشر کے میدان میں لایاجائے گا اسی عرش معلی کی دائیں طرف کی جگہ محشر کے میدان کے سامنے کردی جائے گی ، جس سے اہل جنت میدان محشر میں سے جنت کو دیکھ لیں گے اور ان سے کہا جائے گا جنہوں نے دنیا میں خدا کو یاد رکھا اور گناہوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
[11] یعنی اللہ کو یاد کرنے والا اور اپنے تمام معاملات میں اسی کی طرف رجوع کرنے والا۔
[12] یعنی اللہ کی مقرر کردہ حدود وقیود کی حفاظت کرنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
عجیب ترین بات
1: اس سے قبل کی آیتوں میں جہنم والوں کا مرقع تھا ۔ اب ان آیات میں یہ بیان فرمایا ہے ۔ کہ اللہ کے پاکباز بندے جب اس کے حضور میں جائینگے ۔ تو وہ جنت کو بہت ہی قریب پائینگے ۔ اور دیکھیں گے ۔ کہ بلاکسی دقت اور کوفت کے وہ کس طرح ان نعمتوں سے بہرہ مند رہے ہیں ۔ جن کی نسبت ان سے دنیا میں کہا گیا تھا ۔ اس مقام مسرت وہجت میں وہ لوگ ہوں جو دنیا میں رجوع الی اللہ کے جذبات پاک سے مشرف ہیں ۔ جو ہر لمحہ اور ہر منزل اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے پر تیار ہوتے ہیں اور کوئی عزت ووقار کا سوال ان کو توبہ وانابت سے باز نہیں رکھ سکتا ۔ جو اس کے احکام اور اس کی بیان کردہ حدود کو اپنی نگاہ میں رکھتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →(33) جو رحمان سے بن دیکھے اور غائبانہ ڈرتا رہا اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں رجوع ہونے والا دل لے کر حاضر ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
ف 1۔ ازلاف جنت کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں، یا تو اس کی جگہ سے منتقل کر کے میدان قیامت میں لے آویں، اور اللہ کو سب قدرت ہے، تو اس صورت میں ادخلوھا فرمانا بایں معنی نہیں کہ ابھی چلے جاو بلکہ بشارت اور وعدہ ہے کہ تم بعد حساب و کتاب وغیرہ کے اس میں جانا، اور دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بعد فراغ حساب وغیرہ کے ان لوگوں کو جنت کے قریب پہنچا کر باہر ہی سے کہا جائے گا کہ فھذا ما تو عدون پھر اور قریب کر کے کہا جائے گا ادخلوھا۔
Read the full tafseer →وہ شخص جو رحمٰن سے ڈرنے والا اور رجوع کرنے والے دل کے ساتھ آتا ہے
33 ۔ رحمن کے نام سے مکہ کے لوگ اور خصوصاً قریش مکہ بہت الرجک تھے اس کی وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد ششم سورة الفرقان کی آیت 60 میں کرچکے ہیں اور یہ بات بھی بتا چکے ہیں کہ مکہ والوں نے چونکہ رحمٰن کے نام پر تعجب کیا تھا اس لیے ان کے اس اظہار کے بعد قرآن کریم نے رحمن کا لفظ بار بار استعمال کیا ہے کہ اگر ان کو اس سے چڑ آتی ہے تو آئے ہم اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی اس صفت کو بیان کرنے سے باز نہیں آسکتے اور نہ ہی حق سے باز آنے کا حق ہے کیونکہ اسلام کا منشا حق کو قبول کرنا اور لوگوں کو حق پہنچانا ہے نہ کہ حق سے باز رکھنا۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
In verse [ 33] we have the statement وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ (...and comes up with a heart oriented towards Him....50:33]. Abu Bakr Warraq (رح) says that the characteristics of a munib is that he always maintains respect for Allah and humbles himself to Him and gives up his sensual and base desires.
Read the full tafseer →42 That is, Although he could not see the Merciful God and could not perceive Him by his senses in any way, yet he feared His disobedience. His heart was more dominated by the fear of the unseen Merciful God than the fear of other perceptible powers and visible and mighty beings, and in spite of knowing that He is All-Merciful, he did not become a sinner, trusting His Mercy, but feared His displeasure in whatever he said and did. Thus, this verse points to two of the believer's important and basic characteristics: first, that he fears God although he cannot see and perceive Him; second, that…
Read the full tafseer →