Qaaf 50:32

Qaaf · from ayah 32

50:32

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ ۟ۚهٰذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيۡظٍ‌ۚ

یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (یعنی) ہر رجوع لانے والے حفاظت کرنے والے سے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[It will be said], "This is what you were promised - for every returner [to Allah] and keeper [of His covenant]

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:32

ارشاد ہوگا "یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو بہت رجوع کرنے والا اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (یعنی) ہر رجوع لانے والے حفاظت کرنے والے سے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ ہے جس کا تم سے وعده کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے واﻻ اور پابندی کرنے واﻻ ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اور کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے یہ وعدہ کیا جاتا تھا کہ وہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ سے خوب لو لگائے ہوئے ہو، (اور) اپنی نگرانی رکھنے والا ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ ہے وہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو ہر رجوع لانے والے نگہداشت والے کے لیے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اور اُن سے ارشاد ہوگا): یہ ہے وہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا (کہ) ہر توبہ کرنے والے (اپنے دین اور ایمان کی) حفاظت کرنے والے کے لئے (ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر اس شخص کے لیے جو بہت رجوع والا، خوب حفاظت کرنے والا ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ یہ ہر رجوع کرنے والے اور نگہداشت کرنے والے کے لئے ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر رجوع کرنے والے اور حدود الٰہی کی حفاظت کرنے والے کے لئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور ان سے کہا جائے گا ان کے سرور کو دوبالا کرنے کے لئے کہ) یہ ہے وہ چیز جس کا تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لئے جو بہت رجوع رہنے والا اور بڑا پابندی کرنے والا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا کہ وہ ہر رجوع ہوجانے والے پابندی رکھنے والے کے لئے ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جس کا وعدہ تم لوگوں سے کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لیے جو (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا اور حفاظت کرنے والا ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر رجوع لانے والے حفاظت کرنے والے سے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

it will be said: “This is what you were promised, a promise made to everyone who turned much (to Allah) and was watchful of his conduct,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(And it will be said,) :This is what you were promised for everyone who was oft-returning to Allah, vigilant (against sins),

— Muhammad Taqi Usmani

(And it will be said,) :This is what you were promised for everyone who was oft-returning to Allah, vigilant (against sins),

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(It will be said): "This is what you were promised -- (it is) for those returning in sincere repentance, and Hafiz."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(And it is said): This is that which ye were promised. (It is) for every penitent and heedful one,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[It will be said], "This is what you were promised - for every returner [to Allah] and keeper [of His covenant]

— Saheeh International

(and they will be told), "This is what you were promised. It is for everyone who turned in repentance to God, kept his promise,

— Muhammad Sarwar

This is what you were promised, (it is) for every one who turns frequently (to Allah), keeps (His limits);

— Muhammad Habib Shakir

This is that which ye were promised: for every oft- returning heedful one.

— Abdul Majid Daryabadi

(A voice will say:) "This is what was promised for you,- for every one who turned (to Allah) in sincere repentance, who kept (His Law),

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–35

متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لئے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہوگئی ؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس۔ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 40 اصل میں لفظ اَوّاب استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے جس نے نافرمانی اور خواہشات نفس کی پیروی کا راستہ چھوڑ کر طاعت اور اللہ کی رضا جوئی کا راستہ اختیار کرلیا ہو، جو ہر اس چیز کو چھوڑ دے جو اللہ کو ناپسند ہے، اور ہر اس چیز کو اختیار کرلے جو اللہ کو پسند ہے، جو راہ بندگی سے ذرا قدم ہٹتے ہی گھبرا اٹھے اور توبہ کر کے بندگی کی راہ پر پلٹ آئے، جو کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والا اور اپنے تمام معاملات میں اس کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ سورة قٓ 41 اصل میں لفظ " حفیظ " استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں " حفاظت کرنے والا "۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے جو اللہ کے حدود اور اسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل اواب کون لوگ ہیں ؟ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيْظٍ ، یعنی جنت کا وعدہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو اواب اور حفیظ ہو، اواب کے معنی رجوع ہونے والے کے ہیں، مراد وہ شخص ہے جو معاصی سے اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اور شعبی اور مجاہد نے فرمایا کہ اواب وہ شخص ہے جو خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کرے اور ان سے استغفار کرے اور حضرت عبید بن عمیر نے فرمایا کہ اواب وہ شخص ہے جو اپنی ہر مجلس اور ہر نشست میں اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت مانگے اور فرمایا کہ ہمیں یہ بتلایا گیا ہے کہ اواب اور حفیظ وہ شخص ہے جو اپنی ہر مجلس سے اٹھنے کے وقت یہ دعا پڑھے، سبحان اللہ وبحمدہ اللھم انی استغفرک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ (32) ۃ ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد سوم، صفحات :607-606 یعنی جنت کو قریب لا کر ان الفاظ کے ساتھ اہل جنت کو اس میں داخل ہونے کا پروانہ دیا جائے گا کہ یہ ہے وہ صلہ جس کا آپ لوگوں سے دنیا میں نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ اب اس وعدے کا ایفاء ہو رہا ہے۔ مضارع سے پہلے عربیت کے قاعدے کے مطابق فعل ناقص محذوف ہے، یعنی ماکنتم توعدون ھذا سے اشارہ اسی جنت کی طرف ہے لیکن یہاں عربیت کے قاعدہ کے مطابق اس سے علی سبیل التاویل صلہ اور انعام مراد ہے۔ اس اسلوب کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ لکل اواب حفیظ یہ اہل جنت کے اس کردار کا بیان ہے جس کی بنا پر وہ جنت کے حق دار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

32۔ 1 یعنی اہل ایمان جب جنت کا اور اس کی نعمتوں کا قریب سے مشاہدہ کریں گے تو کہا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کا وعدہ ہر اواب اور حفیظ سے کیا گیا تھا اواب، بہت رجوع کرنے والا یعنی اللہ کی (طرف کثرت سے توبہ استغفار اور تسبیح و ذکر الٰہی کرنے والا خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے ان سے توبہ کرنے والا، یا اللہ کے حقوق اور اس کی نعمتوں کو یاد رکھنے والا یا اللہ کے اوامر نواہی کو یاد رکھنے والا گیا تھا۔ فتح القدیر

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 31–32

13: اس بات کی نگرانی کہ میرا کوئی کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 32–33

ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ (50 : 32) من خشی ۔۔۔۔۔ بقلب منیب (50 : 33) ” یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا ، جو بےدیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا اور جو دل گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے “۔ تو عالم بالا سے ان کی یہ تعریف کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اللہ کے پیمانے کے مطابق یہ اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں اور اپنے نفس کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں ، یہ رحمان سے ڈرنے والے ہیں اور انہوں نے اسے کبھی دیکھا نہ تھا۔ اللہ کی طرف ان کے دل لگے ہوئے ہیں اور وہ اس کے مطیع فرمان ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 32–34

5 یعنی جنہوں نے دنیا میں خدا کو یاد رکھا اور گناہوں سے محفوظ ہو کر اس کی طرف رجوع ہوئے، اور بےدیکھے اس کے قہرو جلال سے ڈرے اور ایک پاک و صاف رجوع ہونے والا دل لے کر حاضر ہوئے، اس جنت کا وعدہ ایسے لوگوں سے کیا گیا تھا وقت آگیا ہے کہ سلامتی و عافیت کے ساتھ اس میں داخل ہوں۔ فرشتے ان کو سلام کریں اور ان کے پروردگار کا سلام پہنچائیں۔ 6 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " اس دن جس کو جو کچھ ملا سو، ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس سے پہلے ایک بات پر ٹھہراؤ نہ تھا۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32 { ہٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ } ”ان سے کہا جائے گا یہ ہے جس کا وعدہ تم لوگوں سے کیا جاتا تھا“ { لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ۔ } ”ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور حفاظت کرنے والا ہو۔“ یعنی اس امانت کی حفاظت کرنے والا جو ہم نے اس کے سپرد کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان میں جو روح پھونکی ہے وہ اس کے پاس اللہ کی امانت ہے ‘ جیسا کہ سورة الاحزاب کی اس آیت سے واضح ہوتا ہے : { اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُط } آیت 72 ”ہم نے اس امانت کو پیش کیا آسمانوں پر اور زمین پر اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

37 یعنی ایسا شخص جس کا معمول ہی یہ بن گیا ہو کہ اپنے ہر قسم کے حالات میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرے اور اللہ کی رضا کے مطابق ہی عمل کرے۔ 38 اس میں ہر قسم کی حفاظت اور محافظت شامل ہے۔ یعنی اپنے عہد و پیمان کی محافظت کرنے والا خواہ یہ عہد اللہ سے ہو یا لوگوں سے۔ نیز اپنی نمازوں کی نگہداشت کرنے والا ہو۔ حدود اللہ کا دھیان رکھنے والا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 31–32

25۔ آیت میں بشارت ہے متقین کو، کہ جنت گو دور ہے لیکن تمہارے لیے نہیں۔ تمہیں وہاں پہنچنے میں تو کوئی تعب ومشقت ہوگی نہ تو قف وانتظار کرنا ہوگا۔ وہ تو خود ہی تم تک لے آئی جائے گی، یہ وعدہ تو بہرحال قطعی ہے، رہی اس کیفیت کی تفصیل تو اس کا علم حق تعالیٰ ہی کو ہے۔ (آیت) ” اواب “۔ یعنی اللہ اور احکام الہی کی طرف تہ دل سے رجوع ہونے والا۔ (آیت) ” حفیظ “۔ یعنی حدود الہی کا محافظ۔ اعمال و طاعات کی پابندی کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

اور اب کون لوگ ہیں ؟ لکل اواب حفیظ یعنی جنت کا وعدہ ہر اس شخص سے ہے جو اواب اور حفیظ ہواواب کے معنی ہیں رجوع کرنے والا اور مراد وہ شخص ہے جو معاصی سے ال لہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اور شعبی اور مجاہد نے فرمایا کہ اواب وہ شخص ہے جو خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کرے اور ان سے استغفار کرے، اور حضرت عبید بن عمیر نے فرمایا اواب وہ شخص ہے جو اپنی ہر مجلس اور ہر نشست میں اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت مانگے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی مجلس سے اٹھنے کے وقت یہ دعاء پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے سب گناہ معاف فرما دیں گے جو اس مجلس میں سر زد ہوئے، دعا یہ ہے : سبحانک اللھم وبحمدک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھذا ما تو عدون لکل اواب حفیظ . یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ہر اس شخص کے لیے جو رجوع کرنے والا ‘ پابندی کرنے والا ہو۔ اَوَّابٍ : اللہ کے سوا ہر چیز سے اللہ کی طرف لوٹنے والا ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی یا گناہوں سے طاعت کی طرف لوٹنے والا۔ سعید بن مسیّب نے کہا : اوّاب وہ شخص ہے جو گناہ کرے پھر توبہ کرلے۔ شعبی اور مجاہد نے کہا : اوّاب وہ شخص ہے جو خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے معافی کا طلبگار ہو۔ ضحاک نے اوّاب کا معنی تو اب ‘ (بکثرت توبہ کرنے والا) ہی بیان کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور عطاء نے اوّاب کا ترجمہ کیا پاکی بیان کرنے والا۔ جیسے آیت : یَا جِبَالُ اَوِّبِیْ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 32–35

(32۔ 35) اور ان سے کہا جائے گا یہ فضیلت وہ ہے جس کا تم سے دنیا میں اس طرح وعدہ کیا جاتا تھا کہ یہ ہر ایسے شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاع کی طرف رجوع ہونے والا ہو اور خلوت میں احکام خداوندی یا یہ کہ نمازوں کی پابندی کرنے والا ہو، غرض کہ جو شخص اللہ کی بغیر دیکھے عبادت کرتا ہوگا اور اللہ کے پاس خلوص والی عبادت اور توحید لے کر آئے گا ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جنت میں عذاب سے مامون و مطمئن ہو کر داخل ہوجاؤ۔ اور اہل جنت، جنت میں ہمیشہ رہیں گے ان کو جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے اور ان کو دیدار خداوندی بھی نصیب ہوگا یا یہ کہ ہر ایک دن اور ہر گھڑی پر ان کے ثواب…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ :”اواب“ ”اب یووب اوباً“ (ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے بہت رجوع کرنے والا ، جو ہر معاملے میں اللہ کی طرف بہت رجوع کرے اور کوئی قدم اپنی خواہش کی بنا پر نہ اٹھائے، اسی طرح ہر لغزش کے بعد اللہ کی طرف رجوع کر کے توبہ و استغفار کرے۔ ”حفیظ“ جو اللہ کے احکامات کی خوب حفاظت اور پابندی کرنے والا ہو۔ یعنی جنتیوں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جنت جس کا تم سے ہر ایسے شخص کے لئے وعدہ کیا جاتا تھا جو اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والا، اس کے احکام کی خوب پابندی کرنے والا ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 30–35

یوم نقول لجھنم ھل امتلاوتقول ھل من مزید نافع اور ابوبکر نے یوم یقول یعنی یاء کے ساتھ پڑھا ہے وہ اسے لا تختصموالدی پر قیاس کرتے ہیں باقی نے نون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خطاب ہے یہ عظمت کا نون ہے۔ حضرت حسن بصری نے یوم اقول پڑھا ہے۔ حضرت مسعود اور دوسرے علماء نے اسے یوم یقال پڑھا ہے یوم کو نصب دی ہے کیونکہ اس کا معنی یہ بنتا ہے میرے ہاں اس روز قول نہیں بدلا جائے گا جس روز ہم جہنم سے کہیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں عامل فعل مقدر ہے وہ منذرھم ہے کیونکہ پہلے وعدہ گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے بھرے گا۔ اس استفہام کا یہ مدعا ہے کہ خبر کی تصدیق کی جائے، وعدہ کو ثابت کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–34

3:۔ البیہقی (رح) نے شعب الایمان میں سعید بن سنان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لکل اواب حفیظ '' (ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا پابندی کرنے والا ہو کہ جس نے اپنے گناہوں کی حفاظت کی اور پھر ان سے ایک ایک کرکے توبہ کرلی۔ 4:۔ سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' اواب '' وہ ہے جو گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کا خاتمہ توبہ کے ساتھ کرتا ہے۔ گناہ یاد کرکے استغفار کرنا : 5:۔ ابن ابی شیبہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ھٰذَا مَا [ یہ وہ ہے جو ] تُوْعَدُوْنَ [تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا تھا ] لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيْظٍ [ (یہ ) ہر بار بار رجوع کرنے والے ہمیشہ حفاظت کرنے والے کے لیے ہے ] نوٹ ۔ 1: اواب کے معنی رجوع ہونے والے کے ہیں مراد وہ شخص ہے جو معاصی (گناہوں) سے اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو حضرت عبید بن عمیر ؓ نے فرمایا کہ اواب وہ شخص ہے جو اپنی ہر مجلس اور ہر نشست میں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنی مجلس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھے تو اللہ اس کے وہ سب گناہ معاف فرما دیں گے جو اس مجلس میں سرزد ہوئے ۔ دعا یہ ہے ۔ سبحانک اللہم وبحمدک لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–35

جنت اور اہل جنت کا تذکرہ : اس کے بعد جنت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ متقیوں سے قریب کردی جائے گی کچھ دور نہ رہے گی پھر وہ جنت میں داخل کردیئے جائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتوں اور لذتوں کی وہ جگہ ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا رہا، یہ وعدہ ہر اس شخص سے تھا جو اواب یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف خوب رجوع کرنے والا ہے اور حفیظ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا خاص دھیان رکھنے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگا رہتا تھا۔ اہل جنت کی مزید صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ بن دیکھے اللہ سے ڈرتے تھے۔ دنیا میں اس حالت پر رہے اور یہاں جو پہنچے تو قلب منیب لے کر آئے ان کا دل اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–45

شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–32

17:۔ ” وازلفت۔ تا۔ ولدینا مزید “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” غیر بعید “ مصدر محذوف کی صفت ہے اور ازلفت کا مفعول مطلق ہے برائے تاکید۔ ای ازلافا غیر بعید (روح) ۔ جو لوگ شرک اور معاصی سے بچنے والے ہیں جنت بالکل ان کے قریب اور سامنے کردی جائیگی۔ ” ھذا ما توعدون۔ الایۃ “ اس سے پہلے ” ویقال لہم “ مقدر ہے اور ان سے کہا جائیگا یہ ہے وہ جنت جس کا تم میں سے ہر اللہ کی طرف رجوع کرنے والے اور اپنی گناہوں کو یاد کر کے توبہ کرنے والے کے لیے وعدہ کیا جاتا تھا۔ قال لی مجاھد : الا انبئک بالاواب الحفیظ ؟ ھو الرجل یذکر ذنبہ اذا خلا فیستغفر اللہ تعالیٰ منہ۔ (روح ج 26 ص 189) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–38

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس کے اثبات میں عقلی اور نفلی دلائل پیش کیے۔ پھر مختلف اقوام کا اجمالی حال اور انکو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ پھر انسان کے حالات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو بیان فرمایا ۔ انسانوں کے اعمال کی حفاظت اور ان کی بارگاہ الٰہی میں پیشی کا حال ذکر کیا ۔ مجرموں کے جہنم میں داخلے اور ان کی آپس میں الزا م تراشیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ فرمائے گا میرے پاس مت جھگڑا کرو ۔ میں نے تمہیں دنیا میں ہر نیک و بد سے آگاہ کردیا تھا اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ تمہیں اپنے عقیدے اور عمل کا بھگتان کرنا ہوگا ۔ ہل من مزید جب دوزخی اپنے اپنے ٹھکانے میں پہنچ جائیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيْظٍ۝ 32 ۚ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 30–37

تفسیر : جب دوزخیوں کو دوزخ میں ڈال چکے گا تو دوزخ سے پوچھے گا، ہل امتلئت کیا تو بھرگئی، وہ کہے گی اور کچھ ہے ؟ یعنی اور بھی ہو تو لایئے بخاری و مسلم ترمذی وغیرہ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ جہنم ہل من مزید ہل من مزید کہے گی، یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا پائوں رکھ دے گا تو کہے گی۔ بس بس۔ قدم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ خود اس کی اشتہاء کو فرو کردے، یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ یہاں تک دوزخیوں کا حال تھا، اب جنتیوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید کہ پرہیز گاروں کے سامنے جنت لائی جاوے گی، جس کو وہ عرصات میں آنکھوں سے سامنے دیکھیں گے، فرمایا جاوے گا یہ وہ ہے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ ۔ (قٓ: 32) (یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر اس شخص کے لیے جو بہت رجوع کرنے والا اور بہت حدودالٰہی کی حفاظت کرنے والا تھا۔ ) آیت میں فعل مضارع سے پہلے عربیت کے قاعدے کے مطابق فعل ناقص محذوف ہے۔ اصل عبارت یوں ہے مَا کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ یعنی دنیا میں رسولوں کی معرفت اہل تقویٰ سے جس جنت کا وعدہ کیا جاتا تھا یہ وہی جنت ہے۔ جنت چونکہ مؤنث ہے اس لیے یہاں جنت سے صلہ اور انعام مراد ہے۔ اس تاویل کی رو سے ہٰذَا کا اشارہ جنت کی طرف صحیح ہے۔ تقویٰ سے پیدا ہونے والی صفات کے حاملین کا ذکر جس طرح اس سے پہلے اہل جہنم کی دو بنیادی صفات کا ذکر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–35

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کے ذکر اور جہنمیوں کے انجام کے بعد جنت اور اس کے مہمانوں کا ذکر۔ قرآن مجید اپنے بہترین اسلوب کے مطابق یہاں بھی جہنم کے بعد جنت کا تذکرہ کرتا ہے۔ ایک طرف جہنمی جہنم میں جھونکے جارہے ہوں گے اور دوسری طرف رب کریم جنت کو جنتیوں کے قریب تر کردے گا۔ جنتی جنت کو دیکھتے اور اس کی خوشبو پاتے ہی خوش ہوجائیں گے۔ جونہی ان کے چہروں پر مسکراہٹیں نمایاں ہوں گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوگا یہی وہ جنت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ جسے ” اللہ “ کی طرف رجوع کرنے والے اور گناہوں سے بچنے والے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جنت ایسے شخص کے لیے ہے جو بِن دیکھے رب رحمٰن سے ڈرتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 32 : ہٰذَا۔ نحو : یہ مبتدأ ہے۔ اس کا مشارالیہ الثواب ہے۔ نمبر 2۔ ازلفت کے مصدر کی طرف اشارہ ہے۔ مَا تُوْعَدُوْنَ (جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا) نحو : یہ مبتدأ کی صفت ہے۔ قراءت : مکی نے یاء سے یوعدون پڑھا ہے۔ لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ (یہ وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا) اواب : جو اللہ تعالیٰ کی یاد کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ نحو : یہ خبر مبتدأ ہے۔ حفیظ۔ جو حدود اللہ کی حفاظت کرنے والا ہو۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ جس نے دن کی ابتداء میں چار رکعات پر مواظبت کی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اواب و حفیظ لکھا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

31 ۔” وازلفت الجنۃ “ قریب کی گئی۔ ” للمتقین “ شرک سے۔” غیر بعید “ وہ اس کی طرف داخل ہونے سے پہلے دیکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 30–35

30۔ 35۔ مسند امام احمد اور صحیحین 2 ؎ میں حضرت انس ؓ بن مالک کی روایت سے خود صاحب وحی ﷺ نے جو تفسیر اس آیت کی فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن دوزخ میں پڑنے کے قابل لوگوں کے گروہ دوزخ میں پڑتے جائیں گے اور دوزخ میں سے یہ آواز آتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے۔ ؟ یہاں تک کہ آخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم مبارک دوزخ میں رکھ دے گا۔ جب اس وقت دوزخ میں سے بس بس کی آواز آئے گی۔ اور جنت میں جو جنتی لوگوں کے جانے کے بعد جگہ خالی رہ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کرکے ان لوگوں سے جنت کی اس خالی جگہ کو بھر دے گا۔ بخاری میں اس طرح کی روایت ابوہریرہ ؓ سے بھی ہے۔ آلم سجدہ میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–35

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہوئے فرماتا ہے : (یوم نقول لجھنم ھل امتلات) ” اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گئی ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، جہنم میں ڈالے گئے لوگوں کی کثرت کی وجہ سے ہوگا (وتقول ھل من مزید) ” وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے ؟ “ یعنی جہنم اپنے رب کی خاطر ناراضی اور کفار پر غیظ و غضب کی وجہ سے اپنے اندر مجرموں کے اضافے کا مطالبہ کرتی رہے گی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا : (لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین) (السجدۃ : 32/13) ” میں جن ہم کو جنات اور انسانوں سے ضرور بھروں گا۔ “ حتی کہ اللہ رب العزت اپنا قدم کریم، جو تشبیہ سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 44] ۔ اہل جنت کی صفت اوابیت کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہر اس شخص کے لیے جو بہت رجوع کرنے والا ہوگا یعنی یہ کرم و عنایت کسی ذات پات، یا شکل وصورت اور رنگ ونسل وغیرہ پر موقوف نہیں بلکہ یہ انعام و اکرام ہر اس شخص کے لیے ہے جس میں یہ اور یہ صفتیں پائی جاتی ہوں، خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو، کسی بھی رنگ ونسل اور شکل وصورت کا مالک ہو، کہ مدارو انحصار ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار پر ہے۔ اللھم وفقنا لما تحب وترضی۔ سو اوابیت یعنی اپنے رب کی طرف رجوع رہنے اور ہمیشہ اس کی رضاء خوشنودی کو پیش نظر رکھنے کی صفت سب سے اہم اولین اور ایک عظیم الشان صفت ہے اسی لیے یہاں پر اس کو سب سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–45

آیات 30 تا 45۔ دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اواب اور حفیظ ۔ اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:32) ھذا : اشارۃ الی الجنۃ۔ جنت کی طرف اشارہ ہے۔ ھذا صیغہ مذکر الجنۃ مؤنث کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فلما رأی الشمس بازغۃ قال ھذا ربی (6:79) ما توعدون ما موصولہ توعدون صلہ۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب وعد (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی وعدہ کرنا ۔ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اواب : بہت رجوع کرنے والا۔ فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے اواب (باب نصر) مصدر۔ بمعنی لوٹنا۔ اب الی اللّٰہ : توبہ کرنا۔ سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ :۔ اواب : ھو الذی یذنب ثم یتوب ثم یذنب ثم یتوب : اواب وہ ہے جو گناہ کرتا ہے پھر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر اللہ کی طرف رجوع کرتا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–35

لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 35 : ھل امتلات (کیا تو بھر گئی) ازلفت (قریب لائی گئی) ‘ اواب (جھکنے والا) ‘ الخلود (ہمیشہ رہنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 35 : جب میدان حشر میں ہر شخص کے اعمال کے مطابق فیصلہ کردیا جائے گا۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو جہنم میں داخل ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگی کہ جہنم پکار اٹھے گی کہ کیا ابھی اور اللہ کے نافرمان ہیں جنہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا ؟ مفسرین نے اس کے معنی یہ بھی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود ہی جہنم سے سوال فرمائیں گے کہ کیا اب بھی جہنم میں اور جگہ موجود ہے ؟ کیا اس کے علاوہ اور بھی جہنم والے ہیں۔ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 30–35

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بروز قیامت ہم کافروں کو دوخ میں ڈال چکیں گے تو دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی اور وہ جواب میں کہے گی کہ اور بھی جو کافر ہوں وہ بھی سہی، برابر لاؤ، لاؤ، کہے گی اور دریافت کرے گی کہ کافروں میں اور بھی کوئی رہا یا نہیں ، اگر رہا تو لاؤ، یہاں تک دوزخیوں کا حال بیان ہوا اب جنتیوں کا حال ذکر کرتا ہے کہ جس طرح اہل دوزخ کے دکھانے کے لیے دوزخ کو محشر کے میدان میں لایاجائے گا اسی عرش معلی کی دائیں طرف کی جگہ محشر کے میدان کے سامنے کردی جائے گی ، جس سے اہل جنت میدان محشر میں سے جنت کو دیکھ لیں گے اور ان سے کہا جائے گا جنہوں نے دنیا میں خدا کو یاد رکھا اور گناہوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–35

[11] یعنی اللہ کو یاد کرنے والا اور اپنے تمام معاملات میں اسی کی طرف رجوع کرنے والا۔ [12] یعنی اللہ کی مقرر کردہ حدود وقیود کی حفاظت کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–35

عجیب ترین بات 1: اس سے قبل کی آیتوں میں جہنم والوں کا مرقع تھا ۔ اب ان آیات میں یہ بیان فرمایا ہے ۔ کہ اللہ کے پاکباز بندے جب اس کے حضور میں جائینگے ۔ تو وہ جنت کو بہت ہی قریب پائینگے ۔ اور دیکھیں گے ۔ کہ بلاکسی دقت اور کوفت کے وہ کس طرح ان نعمتوں سے بہرہ مند رہے ہیں ۔ جن کی نسبت ان سے دنیا میں کہا گیا تھا ۔ اس مقام مسرت وہجت میں وہ لوگ ہوں جو دنیا میں رجوع الی اللہ کے جذبات پاک سے مشرف ہیں ۔ جو ہر لمحہ اور ہر منزل اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے پر تیار ہوتے ہیں اور کوئی عزت ووقار کا سوال ان کو توبہ وانابت سے باز نہیں رکھ سکتا ۔ جو اس کے احکام اور اس کی بیان کردہ حدود کو اپنی نگاہ میں رکھتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(32) کہا جائے گا یہ وہ جنت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ یہ ہراس شخص کے لئے ہوگی اور ہر اس شخص کو ملے گی جو رجوع ہونے والا اور حقوق الٰہی کی حفاظت کرنے والا ہو۔ یعی یہ بہشت جو قریب کردی گئی ہے یہ وہی بہشت ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا تھا کہ یہ جنت اس شخص کے لئے ہوگی جو دل سے رجوع ہوکر نیک اعمال کا پابند ہو اور احکام الٰہی کی حفاظت کرنے والا یعنی ان کو اپنے وقت پر بجا لانے والا ہو۔ غرض یہ بہشت ہرای سے شخص کیلئے ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 31–35

ف 1۔ ازلاف جنت کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں، یا تو اس کی جگہ سے منتقل کر کے میدان قیامت میں لے آویں، اور اللہ کو سب قدرت ہے، تو اس صورت میں ادخلوھا فرمانا بایں معنی نہیں کہ ابھی چلے جاو بلکہ بشارت اور وعدہ ہے کہ تم بعد حساب و کتاب وغیرہ کے اس میں جانا، اور دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بعد فراغ حساب وغیرہ کے ان لوگوں کو جنت کے قریب پہنچا کر باہر ہی سے کہا جائے گا کہ فھذا ما تو عدون پھر اور قریب کر کے کہا جائے گا ادخلوھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل جنت سے کہا جائے گا کہ یہ وہ جنت ہے جس کا ماتم سے وعدہ کیا گیا تھا 32 ۔ اہل جنت کو جب جنت پیش کی جائے گی اور اس کو ان کے قدموں کے قریب کردیاجائے گا تو ساتھ ہی ان کے کانوں میں یہ بات بھی ڈال دی جائے گی کہ یہ وہ چیز ہے جس کا تم سے دنیا کی زندگی میں وعدہ کیا گیا تھا اور اس وقت بلاشبہ ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دنیا کی زندگی بسر کرتا رہا اور اپنی زندگی کی پوری نگرانی اس نے کی اور کوئی کام اس نے اپنی زندگی میں ایسا نہ کیا جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا کام تھا بلکہ اس نے دریا میں رہ کر مگرمچھوں سے بیر رکھا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ان کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتا رہا اس جگہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Analysis of "Awwab" and 'Hafiz' لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ (" This is what you were promised for everyone oft-returning to Allah, vigilant....50:32). That is to say, Paradise has been promised to every person who is awwab and hafiz. Awwab refers to the person who turns to Allah. Here it means who turns to Him in repentance against sins. Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud, Sha` bi and Mujahid ؓ said that Awwab refers to a person who recalls his sins in loneliness, private and secret, and seeks Allah's forgiveness. ` Ubaid Ibn ` Umair ؓ said that Awwab is one who seeks Allah's forgiveness of his sins…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

40 The word awwab is very extensive in meaning. It implies the person who might have adopted the way of obedience and Allah's goodwill instead of the way of disobedience and the flesh, who gives up everything that is disapproved by AIIah and adopts everything that is approved by him, who gets alarmed as soon as he swerves a little from the path of worship and obedience and repents and returns to the path of worship and obedience, who remembers Allah much and turns to Him in all matters of life. 41 The word hafiz means the "one who guards. " This implies the person who takes care of the bounds…

Read the full tafseer →