Explained with ayahs 30–35
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ
چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لئے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہوگئی ؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس۔ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم…
Read the full tafseer →سورة قٓ 39
یعنی جونہی کسی شخص کے متعلق اللہ تعالیٰ کی عدالت سے یہ فیصلہ ہوگا کہ وہ متقی اور جنت کا مستحق ہے، فی الفور وہ جنت کو اپنے سامنے موجود پائے گا۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے اسے کوئی مسافت طے نہیں کرنی پڑے گی کہ پاؤں سے چل کر یا کسی سواری میں بیٹھ کر سفر کرتا ہو وہاں جائے اور فیصلے کے وقت اور دخول جنت کے درمیان کوئی وقفہ ہو۔ بلکہ ادھر فیصلہ ہوا اور ادھر متقی جنت میں داخل ہوگیا۔ گویا وہ جنت میں پہنچایا نہیں گیا ہے بلکہ خود جنت ہی اٹھا کر اس کے پاس لے آئی گئی ہے۔ اس سے کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عالم آخرت میں زمان و مکان کے تصورات ہماری اس دنیا کے تصورات سے کس قدر مختلف ہوں گے۔ جلدی اور دیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
خلاصہ تفسیر
(یہاں سے محشر کے بقیہ واقعات کا بیان ہے کہ وہ دن لوگوں کو یاد دلایئے) جس دن کہ ہم دوزخ سے (کفار کو اس میں داخل کرنے کے بعد) کہیں گے کہ تو بھر بھی گئی اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے (یہ پوچھنا شاید کفار کو اور زیادہ ڈرانے کے لئے ہو کہ جواب سن کر ان کے دل میں دوزخ کی اور بھی زیادہ ہول پیدا ہوجاوے کہ ہم کیسے غضب کے ٹھکانے پر پہنچنے ہیں جو سب کو کھا جانا چاہتا ہے اور جہنم کی طرف سے هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ کا جواب میں غالباً اسی غیظ و غضب کا مظاہرہ ہے جو جہنم کو خدا کے دشمن کفار کے ساتھ ہے جس کا ذکر سورة ملک میں ان الفظ سے آیا ہے (آیت) وھی تفور تکاد تمیز من الغیظ، جہنم نے جواب میں یہ نہیں…
Read the full tafseer →وازنفعت الجنۃ للمتقین غیر بعید 31
متقیوں کی عزت وافزائی
دوزخیوں کے بعد اب یہ متقیوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ان کی تشریف و تکریم اس طرح ہوگی کہ جنت، ایک پیشکش کی طرح، ان کے قریب لائی جائے گی، اس تک پہنچنے کے لئے انہیں کوئی زحمت سفر نہیں اٹھانا پڑے گی درآنحالیکہ وہ کچھ دور نہیں ہوگی غیر بعید میرے نزدیک جنت سے حال واقع ہے۔ اس حال کے لانے سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قریب لانے کے الفاظ سے کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ وہ بہت دور سے قریب لائی جائے گی جس میں کچھ وقفہ صرف ہوگا۔ بلکہ وہ بالکل قریب ہی ہوگی لیکن اہل جنت کی عزت افزائی کے لئے مزید قریب لائی جائے گی۔ لفظ بعید، اگرچہ مذکر ہے لیکن اس کا…
Read the full tafseer →31۔ 1 اور بعض نے کہا ہے کہ قیامت جس روز جنت قریب کردی جائے گے دور نہیں ہے کیونکہ وہ لامحالہ واقع ہو کر رہے گی اور کل ما ہوات فھو قریب اور جو بھی آنے والی چیز ہے وہ قریب ہی ہے دور نہیں (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
13: اس بات کی نگرانی کہ میرا کوئی کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف نہ ہو۔
Read the full tafseer →اور دوسری طرف ایک دوسرا خوبصورت منظر ہے ، پر محبت جس میں ہر کوئی راضی ہے ، سب متقی ایک جگہ جمع ہیں ، جنت ان کے قریب کردی گئی ہے اور ہر طرف سے مرحبا مرحبا کی صدائیں ہیں۔
وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید (31) ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ (32) من خشی ۔۔۔۔ بقلب منیب (33) ادخلوھا ۔۔۔۔۔ الخلود (34) لھم ما یشاءون فیھا ولدینا مزید (50 : 31 تا 35) ” اور جنت متقین کے قریب لے آئی جائے گی ، کچھ بھی دور نہ ہوگی۔ ارشاد ہوگا ” یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ، ہر اس شخص کے لئے جو بہت رجوع کرنے والا ، اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا ، جو بےدیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا ، اور جو دل گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے۔ داخل…
Read the full tafseer →4 یعنی جنت اس سے دور نہ ہوگی۔ بہت قریب سے اس کی تروتازگی اور بناؤ سنگار دیکھیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 31 { وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّـۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ۔ } ”اور جنت قریب لائی جائے گی اہل تقویٰ کے لیے ‘ کچھ بھی دور نہیں ہوگی۔“
Read the full tafseer →36 جنت اور دوزخ کا باہمی مکالمہ :۔ جن پرہیزگاروں کے حق میں جنت کا فیصلہ ہوجائے گا وہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے جنت کو زینت اور گونا گوں نعمتوں سے آراستہ و پیراستہ دیکھ لیں گے اور اس کی خوشگوار خوشبوئیں محسوس کرنے لگیں گے اگر فاصلہ زیادہ بھی ہوگا تو اسے سمٹا کر جنت کو ان کے قریب کردیا جائے گا۔ جنت میں کیسے لوگ داخل ہوں گے اور دوزخ میں کیسے ؟ یہ مندرجہ ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے :
سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جنت اور دوزخ آپس میں تکرار کرنے لگیں۔ دوزخ نے کہا کہ مجھ میں وہ لوگ آئیں گے جو متکبر اور جابر ہیں اور جنت کہے گی کہ مجھ میں تو کمزور اور ناتواں قسم کے لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
25۔ آیت میں بشارت ہے متقین کو، کہ جنت گو دور ہے لیکن تمہارے لیے نہیں۔ تمہیں وہاں پہنچنے میں تو کوئی تعب ومشقت ہوگی نہ تو قف وانتظار کرنا ہوگا۔ وہ تو خود ہی تم تک لے آئی جائے گی، یہ وعدہ تو بہرحال قطعی ہے، رہی اس کیفیت کی تفصیل تو اس کا علم حق تعالیٰ ہی کو ہے۔ (آیت) ” اواب “۔ یعنی اللہ اور احکام الہی کی طرف تہ دل سے رجوع ہونے والا۔ (آیت) ” حفیظ “۔ یعنی حدود الہی کا محافظ۔ اعمال و طاعات کی پابندی کرنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ترجمہ : جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر چکی ؟ (یوم) کا ناصب ظلام ہے، (نقول) نون ویاء کے ساتھ ہے استفہام، جہنم سے اس کے بھرنے کے وعدے کی تحقیق کے لئے ہے اور جہنم جواب دے گی، کیا کچھ اور زیادہ بھی ہے ؟ یعنی میرے اندر جو چھ بھرا گیا اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں یعنی میں بھر گئی اور جنت پرہیز گاروں کے لئے بالکل قریب کردی جائے گی، اتنی کہ ذرا بھی ان سے دور نہ ہوگی چناچہ وہ اس کو دیکھیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ جو کچھ نظر آرہا ہے وہی ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا گیا تھا، یاء اور تاء کے ساتھ اور للمتقین سے اس کا قول لکل اواب بدل ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی طاعت کی طرف رجوع کرنے…
Read the full tafseer →وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید
اور جنت متقیوں کے قریب لائی جائے گی ‘ کچھ بھی دور نہ ہوگی۔
لِلْمُتَّقِیْنَ : یعنی شرک سے بچنے والوں کے لیے۔
غَیْرَ بَعِیْدِ : موصوف محذوف ہے ‘ یعنی غَیْرَ مَکَانٍ بَعِیْدٍ یا غَیْرَ زَمَانٍ بَعِیْدٍ : یہ لفظ قرب کی مزید تاکید کے لیے ذکر کیا گیا ہے اگرچہ اُزْلِفَتْ کا لفظ بھی قرب پر ہی دلالت کر رہا ہے ‘ جیسے محاورہ میں بولا جاتا ہے فلاں مکان قریب ہے ‘ دُور نہیں۔ زید عزت والا ہے ‘ ذلیل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(30۔ 31) جس دن ہم دوزخ سے کہیں گے کہ جیسا کہ تجھ سے بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے تو بھر گئی ! اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ کہے گی کہ میں بھر گئی ہوں باقی کچھ اور بھی ہے تو اس میں ایک فرد کی بھی جگہ باقی نہ ہوگی۔ اور جنت کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کے قریب لائی جائے گی ان سے وہ کچھ دور نہ رہے گی۔
Read the full tafseer →(واز لقت الجنۃ للمتقین غیر بعید : قرآن کے عام اسلوب کے مطابق جہنمیوں کے ساتھ اہل جنت کا ذکر بھی فرمایا۔ یعنی متفی لوگوں کی تکریم کے لئے جنت ان کے قریب لائی جائے گی، تاکہ انہیں چلنے کی تکلیف نہ اٹھانا پڑے۔
”غیر بعید ‘ ‘ کا لفظ تاکید کے لئے ہے ، جیسے فرمایا :(واصل فرعون قومہ وما ھدی) (طہ : 89)”اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور سیدھے راستے پر نہ ڈالا۔“ اور رسول اللہ ں نے بارش کی دعا میں فرمایا :(نافعاً غیر ضار عاجلاً غیر اجل) (ابو داؤد، صلاۃ الاستسقاء باب رفع الیدین فی الستسقاء : 1169)”(اے اللہ ! وہ بارش ، نفع آور ہو، کسی ضرر کا باعث نہ بنے اور جلدی آئے ، دیر نہ کرے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
یوم نقول لجھنم ھل امتلاوتقول ھل من مزید نافع اور ابوبکر نے یوم یقول یعنی یاء کے ساتھ پڑھا ہے وہ اسے لا تختصموالدی پر قیاس کرتے ہیں باقی نے نون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خطاب ہے یہ عظمت کا نون ہے۔ حضرت حسن بصری نے یوم اقول پڑھا ہے۔ حضرت مسعود اور دوسرے علماء نے اسے یوم یقال پڑھا ہے یوم کو نصب دی ہے کیونکہ اس کا معنی یہ بنتا ہے میرے ہاں اس روز قول نہیں بدلا جائے گا جس روز ہم جہنم سے کہیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں عامل فعل مقدر ہے وہ منذرھم ہے کیونکہ پہلے وعدہ گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے بھرے گا۔ اس استفہام کا یہ مدعا ہے کہ خبر کی تصدیق کی جائے، وعدہ کو ثابت کیا…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وازلفت الجنۃ '' (اور جنت قریب لائی جائے گی) یعنی جنت کو سجایا جائے گا۔
2:۔ ابن جریر (رح) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں تمیمی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' اواب حفیظ '' کے بارے میں پوچھا فرمایا جس نے اپنے گناہوں کی حفاظت کی یہاں تک کہ ان سے رجوع کرلیا (یعنی گناہوں سے باز آگیا)
Read the full tafseer →وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ [ اور نزدیک کی جائے گی جنت ] لِلْمُتَّقِيْنَ [متقی لوگوں کے لیے ] غَيْرَ بَعِيْدٍ [ دور ہوئے بغیر ]
آیات ۔ 31 تا 33 ، میں اللہ تعالیٰ نے وہ صفات بتادی ہیں جن کی بنا پر کوئی شخص جنت کا مستحق ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں ۔ (1) تقوی (2) رجوع اللہ ۔ (3) اللہ سے اپنے تعلق کی حفاظت (4) اللہ کی دیکھے بغیر اور اس کی رحیمی پر یقین رکھنے کے باوجود اس سے ڈرنا ۔ اور (5) قلب منیب لیے ہوئے اللہ کے ہاں پہنچنا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
جنت اور اہل جنت کا تذکرہ :
اس کے بعد جنت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ متقیوں سے قریب کردی جائے گی کچھ دور نہ رہے گی پھر وہ جنت میں داخل کردیئے جائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتوں اور لذتوں کی وہ جگہ ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا رہا، یہ وعدہ ہر اس شخص سے تھا جو اواب یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف خوب رجوع کرنے والا ہے اور حفیظ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا خاص دھیان رکھنے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگا رہتا تھا۔ اہل جنت کی مزید صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ بن دیکھے اللہ سے ڈرتے تھے۔ دنیا میں اس حالت پر رہے اور یہاں جو پہنچے تو قلب منیب لے کر آئے ان کا دل اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–45
شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
17:۔ ” وازلفت۔ تا۔ ولدینا مزید “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” غیر بعید “ مصدر محذوف کی صفت ہے اور ازلفت کا مفعول مطلق ہے برائے تاکید۔ ای ازلافا غیر بعید (روح) ۔ جو لوگ شرک اور معاصی سے بچنے والے ہیں جنت بالکل ان کے قریب اور سامنے کردی جائیگی۔ ” ھذا ما توعدون۔ الایۃ “ اس سے پہلے ” ویقال لہم “ مقدر ہے اور ان سے کہا جائیگا یہ ہے وہ جنت جس کا تم میں سے ہر اللہ کی طرف رجوع کرنے والے اور اپنی گناہوں کو یاد کر کے توبہ کرنے والے کے لیے وعدہ کیا جاتا تھا۔ قال لی مجاھد : الا انبئک بالاواب الحفیظ ؟ ھو الرجل یذکر ذنبہ اذا خلا فیستغفر اللہ تعالیٰ منہ۔ (روح ج 26 ص 189) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس کے اثبات میں عقلی اور نفلی دلائل پیش کیے۔ پھر مختلف اقوام کا اجمالی حال اور انکو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ پھر انسان کے حالات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو بیان فرمایا ۔ انسانوں کے اعمال کی حفاظت اور ان کی بارگاہ الٰہی میں پیشی کا حال ذکر کیا ۔ مجرموں کے جہنم میں داخلے اور ان کی آپس میں الزا م تراشیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ فرمائے گا میرے پاس مت جھگڑا کرو ۔ میں نے تمہیں دنیا میں ہر نیک و بد سے آگاہ کردیا تھا اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ تمہیں اپنے عقیدے اور عمل کا بھگتان کرنا ہوگا ۔
ہل من مزید
جب دوزخی اپنے اپنے ٹھکانے میں پہنچ جائیں…
Read the full tafseer →وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِيْنَ غَيْرَ بَعِيْدٍ 31
زلف
الزُّلْفَةُ : المنزلة والحظوة «2» ، وقوله تعالی: فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً [ الملک/ 27]
وقیل لمنازل اللیل : زُلَفٌ قال : وَزُلَفاً مِنَ اللَّيْلِ [هود/ 114]
( ز ل) الزلفۃ
اس کے معنی قریب اور مرتبہ کے ہیں چناچہ آیت : ۔ فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً [ الملک/ 27] سو جب وہ قریب دیکھیں گے ۔ اور منازل لیل یعنی رات کے حصوں کو بھی زلف کہا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَزُلَفاً مِنَ اللَّيْلِ [هود/ 114] اور رات کے کچھ حصوں میں۔
جَنَّةُ :
كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
تفسیر : جب دوزخیوں کو دوزخ میں ڈال چکے گا تو دوزخ سے پوچھے گا، ہل امتلئت کیا تو بھرگئی، وہ کہے گی اور کچھ ہے ؟ یعنی اور بھی ہو تو لایئے بخاری و مسلم ترمذی وغیرہ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ جہنم ہل من مزید ہل من مزید کہے گی، یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا پائوں رکھ دے گا تو کہے گی۔ بس بس۔ قدم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ خود اس کی اشتہاء کو فرو کردے، یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ یہاں تک دوزخیوں کا حال تھا، اب جنتیوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید کہ پرہیز گاروں کے سامنے جنت لائی جاوے گی، جس کو وہ عرصات میں آنکھوں سے سامنے دیکھیں گے، فرمایا جاوے گا یہ وہ ہے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا…
Read the full tafseer →وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ ۔ (قٓ: 31)
(اور جنت متقیوں کے قریب لائی جائے گی، کچھ بھی دور نہ ہوگی۔ )
اہلِ تقویٰ کی عزت افزائی
اہلِ جہنم کے ذکر کے بعد اب متقیوں کا انجام بیان کیا جارہا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے دنیا میں تقویٰ کی زندگی گزاری اور ان کے پیش نظر دنیا نہیں بلکہ ہمیشہ آخرت رہی ہے۔ اور ان کی زندگی کا ہدف سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول رہا۔ تو جب یہ لوگ حشر میں لائے جائیں گے اور جب اللہ تعالیٰ کی عدالت سے یہ فیصلہ ہوجائے گا کہ فلاں شخص متقی ہے اور جنت کا استحقاق اس کے لیے ثابت ہوگیا ہے تو فوراً اس کے ساتھ اکرام کا سلوک ہوگا اسے ادا کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
فہم القرآن
ربط کلام : جہنم کے ذکر اور جہنمیوں کے انجام کے بعد جنت اور اس کے مہمانوں کا ذکر۔
قرآن مجید اپنے بہترین اسلوب کے مطابق یہاں بھی جہنم کے بعد جنت کا تذکرہ کرتا ہے۔ ایک طرف جہنمی جہنم میں جھونکے جارہے ہوں گے اور دوسری طرف رب کریم جنت کو جنتیوں کے قریب تر کردے گا۔ جنتی جنت کو دیکھتے اور اس کی خوشبو پاتے ہی خوش ہوجائیں گے۔ جونہی ان کے چہروں پر مسکراہٹیں نمایاں ہوں گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوگا یہی وہ جنت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ جسے ” اللہ “ کی طرف رجوع کرنے والے اور گناہوں سے بچنے والے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جنت ایسے شخص کے لیے ہے جو بِن دیکھے رب رحمٰن سے ڈرتا ہے اور…
Read the full tafseer →آیت 31 : وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ (جنت متقین کے قریب لائی جائے گی۔ کچھ بھی دور نہ رہے گی)
نحو : غیر بعید۔ یہ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ای مکانا غیر بعید۔ نمبر 2۔ حال کی بناء پر نصب ہے۔ اور اس کو مذکر لانے کی وجہ یہ ہے۔ کہ یہ مصدر کے وزن پر ہے مثلاً الصلیل اور مصدر کے ذریعہ مؤنث ومذکر کی صفت لاسکتے ہیں۔
نمبر 3۔ موصوف محذوف ہے ای شیئًا غیر بعید۔ اور اس کا معنی تاکید والا ہوگا جیسا تم کہو۔ ہو قریب غیر بعید و عزیز غیر ذلیل۔
Read the full tafseer →30 ۔” یوم نقول لجھنم “ نافع اور ابوبکر رحمہما اللہ تعالیٰ نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے قول ” قال لا تحتصموا لدی “ کی وجہ سے ہے اور دیگر حضرات نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” ھل امتلات “ کیوں کہ پیچھے اللہ تعالیٰ کا جہنم سے وعدہ گزر چکا ہے کہ اس کو جنوں اور انسانوں سے بھردیں گے۔ یہ سوال اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی خبر کی تصدیق اور اس کے وعدہ کی تحقیق کے لئے ہوگا۔ ” وتقول “ جہنم ” ھل من مزید “ کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تحقیق میں بھر چکی ہہوں مجھ میں کوئی جگہ ایسی باقی نہیں رہی جو نہ بھری ہو۔ پس یہ استفہام انکاری ہے۔
یہ عطاء ، مجاہد، مقاتل بن سلیمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
30۔ 35۔ مسند امام احمد اور صحیحین 2 ؎ میں حضرت انس ؓ بن مالک کی روایت سے خود صاحب وحی ﷺ نے جو تفسیر اس آیت کی فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن دوزخ میں پڑنے کے قابل لوگوں کے گروہ دوزخ میں پڑتے جائیں گے اور دوزخ میں سے یہ آواز آتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے۔ ؟ یہاں تک کہ آخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم مبارک دوزخ میں رکھ دے گا۔ جب اس وقت دوزخ میں سے بس بس کی آواز آئے گی۔ اور جنت میں جو جنتی لوگوں کے جانے کے بعد جگہ خالی رہ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کرکے ان لوگوں سے جنت کی اس خالی جگہ کو بھر دے گا۔ بخاری میں اس طرح کی روایت ابوہریرہ ؓ سے بھی ہے۔ آلم سجدہ میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہوئے فرماتا ہے : (یوم نقول لجھنم ھل امتلات) ” اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گئی ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، جہنم میں ڈالے گئے لوگوں کی کثرت کی وجہ سے ہوگا (وتقول ھل من مزید) ” وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے ؟ “ یعنی جہنم اپنے رب کی خاطر ناراضی اور کفار پر غیظ و غضب کی وجہ سے اپنے اندر مجرموں کے اضافے کا مطالبہ کرتی رہے گی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا : (لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین) (السجدۃ : 32/13) ” میں جن ہم کو جنات اور انسانوں سے ضرور بھروں گا۔ “ حتی کہ اللہ رب العزت اپنا قدم کریم، جو تشبیہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–38
کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے
قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں)
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →[ 42] متقیوں کے اکرام کے ایک عظیم الشان مظہر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور متقی اور پرہیزگار لوگوں کے لئے ایک خاص اکرام کے ذکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جنت کو قریب کردیا جائے گا پرہیزگاروں کے۔ یعنی ان کے اکرام و اعزاز کے طور پر، اور اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے، کہ ان حضرات کو اس کے قریب پہنچا دیا جائے گا۔ جیسا کہ مثلاً کہا جاتا ہے کہ اب دبئی قریب آگئی ہے۔ حالانکہ قریب آنے والا خود وہ شخص ہوتا ہے، آرہا ہوتا ہے، نہ کہ دبی۔ بہرحال جو بھی ہو جنت کو پرہیزگاروں کے قریب کردیا جائے گا اور اتنا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کا باعث بن سکے، اور وہ اس کی نعمتوں سے بآسانی مستفید و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–45
آیات 30 تا 45۔
دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔
اواب اور حفیظ ۔
اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی قیامت کے روز وہ ان سے دور نہ ہوگی۔ حشر کے میدان میں کھڑے ہوئے اوہ اسے قریب سے دیکھے اور اس کی تروتازگی اور مہک پائیں گے۔
Read the full tafseer →(50:31) واذلفت : واؤ عاطفہ ازلفت ماضی مجہول جمع مؤنث غائب ازلاف (افعال) مصدر۔ جملہ کا عطف یا تو نفخ فی لاصور پر ہے یا وجاءت کل نفس ۔۔ پر ہے۔
جہنمیوں کے ذکر کے بعد ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جنہوں نے اپنی ساری زندگی زہد وتقوی اور احکام خداوندی کی تعمیل میں گزاردی۔ اذلاف بمعنی قریب لانا۔ (جنت متقیوں کے قریب لائی گئی یعنی لائی جائے گی) ۔ (ماضی بمعنی مستقبل)
غیر بعید : موصوف محذوف ہے ای غیر مکان بعید : او غیر زمان بعید یہ لفظ قرب کی مزید تاکید کے لئے لایا گیا ہے اگرچہ ازلفت کا لفظ بھی قرب پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ محاورہ میں بولا جاتا ہے کہ فلاں مکان قریب ہے دور نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 35 :
ھل امتلات (کیا تو بھر گئی) ازلفت (قریب لائی گئی) ‘ اواب (جھکنے والا) ‘ الخلود (ہمیشہ رہنے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 30 تا 35 :
جب میدان حشر میں ہر شخص کے اعمال کے مطابق فیصلہ کردیا جائے گا۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو جہنم میں داخل ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگی کہ جہنم پکار اٹھے گی کہ کیا ابھی اور اللہ کے نافرمان ہیں جنہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا ؟ مفسرین نے اس کے معنی یہ بھی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود ہی جہنم سے سوال فرمائیں گے کہ کیا اب بھی جہنم میں اور جگہ موجود ہے ؟ کیا اس کے علاوہ اور بھی جہنم والے ہیں۔ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بروز قیامت ہم کافروں کو دوخ میں ڈال چکیں گے تو دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی اور وہ جواب میں کہے گی کہ اور بھی جو کافر ہوں وہ بھی سہی، برابر لاؤ، لاؤ، کہے گی اور دریافت کرے گی کہ کافروں میں اور بھی کوئی رہا یا نہیں ، اگر رہا تو لاؤ، یہاں تک دوزخیوں کا حال بیان ہوا اب جنتیوں کا حال ذکر کرتا ہے کہ جس طرح اہل دوزخ کے دکھانے کے لیے دوزخ کو محشر کے میدان میں لایاجائے گا اسی عرش معلی کی دائیں طرف کی جگہ محشر کے میدان کے سامنے کردی جائے گی ، جس سے اہل جنت میدان محشر میں سے جنت کو دیکھ لیں گے اور ان سے کہا جائے گا جنہوں نے دنیا میں خدا کو یاد رکھا اور گناہوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
[10] جہنم کی شدت غیظ ظاہر کرنے کو ہے اور مقصود اس سے کافروں کے دل میں دہشت بٹھانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
عجیب ترین بات
1: اس سے قبل کی آیتوں میں جہنم والوں کا مرقع تھا ۔ اب ان آیات میں یہ بیان فرمایا ہے ۔ کہ اللہ کے پاکباز بندے جب اس کے حضور میں جائینگے ۔ تو وہ جنت کو بہت ہی قریب پائینگے ۔ اور دیکھیں گے ۔ کہ بلاکسی دقت اور کوفت کے وہ کس طرح ان نعمتوں سے بہرہ مند رہے ہیں ۔ جن کی نسبت ان سے دنیا میں کہا گیا تھا ۔ اس مقام مسرت وہجت میں وہ لوگ ہوں جو دنیا میں رجوع الی اللہ کے جذبات پاک سے مشرف ہیں ۔ جو ہر لمحہ اور ہر منزل اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے پر تیار ہوتے ہیں اور کوئی عزت ووقار کا سوال ان کو توبہ وانابت سے باز نہیں رکھ سکتا ۔ جو اس کے احکام اور اس کی بیان کردہ حدود کو اپنی نگاہ میں رکھتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →(31) اور جنت پرہیزگاروں کے نزدیک کردی جائیگی جو دور نہ ہوگی۔ یعنی اہل تقوی سے بہشت قریب کردی جائے گی غیر بعید تاکید کے طور پر فرمایا جیسے کہا کرتے ہیں عزیز غیر ذلیل یعنی جنت میں جانے سے پہلے اس کو دیکھ لیں جنت اتنی قریب لے آئی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
ف 1۔ ازلاف جنت کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں، یا تو اس کی جگہ سے منتقل کر کے میدان قیامت میں لے آویں، اور اللہ کو سب قدرت ہے، تو اس صورت میں ادخلوھا فرمانا بایں معنی نہیں کہ ابھی چلے جاو بلکہ بشارت اور وعدہ ہے کہ تم بعد حساب و کتاب وغیرہ کے اس میں جانا، اور دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بعد فراغ حساب وغیرہ کے ان لوگوں کو جنت کے قریب پہنچا کر باہر ہی سے کہا جائے گا کہ فھذا ما تو عدون پھر اور قریب کر کے کہا جائے گا ادخلوھا۔
Read the full tafseer →جنت پرہیز گاروں کے قریب کردی گئی کچھ بھی ان سے دور نہیں
31 ۔ گزشتہ آیت میں اہل دوزخ کا ذکر کیا گیا تھا اس لیے زیر نظر آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو متقی اور پرہیز گار تھے یعنی وہ لوگ جنہوں نے ہم سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی اور تمام عمر ہمارے احکام کی پیروی کرتے رہے قیامت کے روز ان کی یقیناً عزت افزائی اور پذیرائی کی جائے گی ان کو جنت میں داخل ہونے کا اذن ملے گا تو جنت تک کوئی لمبا چوڑا فاصلہ طے کرکے ان کو نہیں جانا پڑے گا بلکہ جنت ان کے قدموں میں پیش کردی جائے گی اور یہ ان کی عزت افزائی اور پذیرائی کا بیان ہے اور غور کرو کہ پیرایہ بیان کیا اختیار کیا گیا یہ نہیں فرمایا گیا کہ وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ (The Word is not changed with Me, and I Am not a wrongdoer to My slaves." [ 50:29]
That is, 'I have made my decision which will certainly be implemented: it will never be changed. I will not punish anyone, except on account of their sins after the proof has been established against them. This is an absolutely fair and just decision.'
Read the full tafseer →39 That is, "It is not My way to change the decisions once taken. The decision that I have taken to east you into Hell cannot be withdrawn, nor can the law that I had announced in the world be changed that the punishment for misleading and for being misled will be awarded in the Hereafter."
Read the full tafseer →