Qaaf 50:30

Qaaf · from ayah 30

50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَتَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ ۟يَوۡمَ نَـقُوۡلُ لِجَهَـنَّمَ هَلِ امۡتَلَـئْتِ وَتَقُوۡلُ هَلۡ مِنۡ مَّزِيۡدٍ

اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

On the Day We will say to Hell, "Have you been filled?" and it will say, "Are there some more,"

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Qaaf

All translations of 50:30

وہ دن جبکہ ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی کیا اور کچھ ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر چکی؟ وه جواب دے گی کیا کچھ اور زیاده بھی ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ وقت (یاد رکھو) جب ہم جہنم سے کہیں گے کہ : کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کہ : کیا کچھ اور بھی ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن ہم جہنم سے فرمائیں گے کیا تو بھر گئی وہ عرض کرے گی کچھ اور زیادہ ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس دن ہم دوزخ سے فرمائیں گے: کیا تو بھر گئی ہے؟ اور وہ کہے گی: کیا کچھ اور زیادہ بھی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ مزید ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے : کیا تو بھر گئی ؟ تو وہ کہے گی : کیا کچھ اور بھی ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس دن کو یاد رکھو جس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گی ! اور وہ جواب دے گی ابھی اور بھی ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(لوگو ! یاد کرو اس ہولناک دن کو کہ) جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کہ کیا تو بھر گئی ؟ تو وہ کہے گی کہ کیا کچھ اور بھی ہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

) اور انہیں یاد دلائیے) وہ دن جب ہم دوزخ سے کہیں گے کہ تو بھر بھی گئی ؟ اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن ہم پوچھیں گے جہنم سے کہ کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ ”کیا تو بھر گئی ”؟ وہ کہے گی ”کچھ اور بھی ہے ؟۔ ’

— محترمہ رفعت اعجاز

On that Day We shall ask Hell: “Are you full?” And it will reply: “Are there any more?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Remind them of) the Day when We will say to Jahannam (Hell), :Are you filled up? and it will say, :Are there some more?

— Muhammad Taqi Usmani

(Remind them of) the Day when We will say to Jahannam (Hell), :Are you filled up? and it will say, :Are there some more?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

On the Day when We will say to Hell: "Are you filled" It will say: "Are there any more"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

On the day when We say unto hell: Art thou filled? and it saith: Can there be more to come?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

On the Day We will say to Hell, "Have you been filled?" and it will say, "Are there some more,"

— Saheeh International

On that day We shall ask hell, "Are you full?" It will say, "Are there any more?"

— Muhammad Sarwar

On the day that We will say to hell: Are you filled up? And it will say: Are there any more?

— Muhammad Habib Shakir

Mention the Day whereon We shall say Unto the Hell: art thou filled? and it will say: is there yet any addition?

— Abdul Majid Daryabadi

One Day We will ask Hell, "Art thou filled to the full?" It will say, "Are there any more (to come)?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 50:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–35

متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لئے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہوگئی ؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس۔ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة قٓ 38 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ " میرے اندر اب مزید آدمیوں کی گنجائش نہیں ہے۔ " دوسرے یہ کہ " اور جتنے مجرم بھی ہیں انہیں لے آیئے " پہلا مطلب لیا جائے تو اس ارشاد سے تصور یہ سامنے آتا ہے کہ مجرموں کو جہنم میں اس طرح ٹھونس ٹھونس کر بھر دیا گیا ہے اس میں ایک سوئی کی بھی گنجائش نہیں رہی، حتیٰ کہ جب اس سے پوچھا گیا کی کیا تو بھر گئی تو وہ گھبرا کر چیخ اٹھی کہ کیا ابھی اور آدمی بھی آنے باقی ہیں ؟ دوسرا مطلب لیا جائے تو یہ تصور ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ جہنم کا غیظ اس وقت مجرموں پر کچھ اس بری طرح بھڑکا ہوا ہے کہ وہ ہل من مزید کا مطالبہ کیے جاتی ہے اور چاہتی ہے کہ آج کوئی مجرم اس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–31

خلاصہ تفسیر (یہاں سے محشر کے بقیہ واقعات کا بیان ہے کہ وہ دن لوگوں کو یاد دلایئے) جس دن کہ ہم دوزخ سے (کفار کو اس میں داخل کرنے کے بعد) کہیں گے کہ تو بھر بھی گئی اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے (یہ پوچھنا شاید کفار کو اور زیادہ ڈرانے کے لئے ہو کہ جواب سن کر ان کے دل میں دوزخ کی اور بھی زیادہ ہول پیدا ہوجاوے کہ ہم کیسے غضب کے ٹھکانے پر پہنچنے ہیں جو سب کو کھا جانا چاہتا ہے اور جہنم کی طرف سے هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ کا جواب میں غالباً اسی غیظ و غضب کا مظاہرہ ہے جو جہنم کو خدا کے دشمن کفار کے ساتھ ہے جس کا ذکر سورة ملک میں ان الفظ سے آیا ہے (آیت) وھی تفور تکاد تمیز من الغیظ، جہنم نے جواب میں یہ نہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یوم نقول لجھنم ھل امتلئت وتقول ھل من مزید 30 اللہ تعالیٰ کی بےنیازی فرمایا کہ اس دن کو اچھی طرح یاد رکھو جس دن ہم دوزخ سے سوال کریں گے کہ تو اچھی طرح بھر گئی یا نہیں ! وہ جواب دے گی ابھی اور بھی ہیں ! یہ سوال و جواب صورتحال کی تعبیر بھی ہوسکتا ہے اور بیان واقعہ بھی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں بنائی ہیں وہ سب اس کے سوالوں کو سمجھتی بھی ہیں اور ان کے جواب بھی دیتی ہیں۔ وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے صامت چیزوں کو بھی ناطق بنا دے۔ قرآن میں ہے کہ جب مجرموں کے اعضاء وجوارح ان کے خلاف گواہی دیں گے تو وہ حیران ہو کر ان سے پوچھیں گے کہ ت نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ وہ جواب دیں گے انطقنا اللہ الذی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

30۔ 1 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ (لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13؀) 32۔ السجدہ :13)۔ میں جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دوں گا اس وعدے کا جب ایفا ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ کافر جن و انس کو جہنم میں ڈال دے گا، تو جہنم سے پوچھے گا کہ تو بھر گئی ہے یا نہیں ؟ وہ جواب دے گی، کیا کچھ اور بھی ہے ؟ یعنی اگرچہ بھر گئی ہوں لیکن یا اللہ تیرے دشمنوں کے لئے میرے دامن اب بھی گنجائش ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ پورا منظر ہی سوال و جواب کا منظر ہے ، یہاں مکالمے کے لئے جہنم کو پیش کیا جاتا ، یوں یہ عجیب و غریب اور خوفناک منظر ہے۔ تمام کفار معاند ، بھلائی سے روکنے والے ، حد سے گزر نے والے اور قیامت میں شک کرنے والے موجود ہیں۔ یہ سب جہنم میں کثرت سے پھینکے جا رہے ہیں اور جہنم میں ان کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد جہنم سے کہا جاتا ہے کہ کیا تم بھر گئی ہو اور کیا یہ لوگ تمہارے لیے کافی ہے لیکن وہ بڑی سختی سے جوش میں آکر اور جلتے ہوئے کہے گی۔ ھل من مزید (50 : 30) (کیا اور کچھ ہے ؟ ) اس طرح جس طرح بھوکا خونخوار منہ کھولے ہوئے کوئی درندہ ہوتا ہے۔ کیا ہی خوفناک منظر ہے یہ !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی دوزخ کا پھیلاؤ اس قدر لوگوں سے نہ بھرے گا اور شدت غیظ سے اور زیادہ کافروں اور نافرمانوں کو طلب کرے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 30{ یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امْتَلَئْتِ } ”جس دن ہم پوچھیں گے جہنم سے کہ کیا تو بھر گئی ؟“ { وَتَقُوْلُ ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ۔ } ”اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے ؟“ یعنی وہ کہے گی کہ ابھی تو میرے اندر بہت گنجائش ہے۔ ابھی مزید جنوں اور انسانوں کو میرے اندر ڈالا جائے تاکہ میں بھر جائوں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

35 قیامت کو جہنم کا کلام کرنا :۔ جہنم اگر زبان حال کی بجائے زبان قال سے بھی اللہ تعالیٰ کے سوال کا جواب دے تو اس میں بھی حیرت کی کوئی بات نہیں۔ اللہ جس چیز کو چاہے قوت گویائی عطا کرسکتا ہے۔ جہنم کے اس جواب سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ جہنم اس قدر بڑی اور وسیع ہوگی کہ تمام مستحقین جہنم کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد بھی اس میں جگہ بچ رہے گی خواہ یہ دوزخی انسانوں سے تعلق رکھتے ہوں یا جنوں اور شیطانوں سے۔ اور یہی بات درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتی ہے : سیدنا انس کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : دوزخی دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

24۔ جہنم کی شدت غیظ ظاہر کرنے کو ہے اور مقصود اس سے کافروں کے دل میں مزید دہشت بٹھانا ہے۔ (آیت) ” ھل امتلات “۔ یعنی ان کافروں سے جو تیرے اندر پہنچ چکے ہیں، تو بالکل بھر گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–31

ترجمہ : جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر چکی ؟ (یوم) کا ناصب ظلام ہے، (نقول) نون ویاء کے ساتھ ہے استفہام، جہنم سے اس کے بھرنے کے وعدے کی تحقیق کے لئے ہے اور جہنم جواب دے گی، کیا کچھ اور زیادہ بھی ہے ؟ یعنی میرے اندر جو چھ بھرا گیا اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں یعنی میں بھر گئی اور جنت پرہیز گاروں کے لئے بالکل قریب کردی جائے گی، اتنی کہ ذرا بھی ان سے دور نہ ہوگی چناچہ وہ اس کو دیکھیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ جو کچھ نظر آرہا ہے وہی ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا گیا تھا، یاء اور تاء کے ساتھ اور للمتقین سے اس کا قول لکل اواب بدل ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی طاعت کی طرف رجوع کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوم نقول لجھنم ھل امتلئت و تقول ھل من مزید . جس روز ہم دوزخ سے کہیں گے تو بھر بھی گئی اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔ عطاء ‘ مجاہد اور مقاتل بن سلیمان کے نزدیک ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ میں سوال انکاری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں بھر گئی۔ میرے اندر کوئی جگہ ایسی نہیں رہی جو بھری ہوئی نہ ہو۔ اب زیادتی ممکن نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ استفہام زیادتی کی طلب کو ظاہر کر رہا ہے کیونکہ شیخین نے صحیحین میں حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہنم کے اندر برابر مسلسل مخلوق ڈالی جاتی رہے گی اور وہ کہتی رہے گی : ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ آخر رب العزت اپنا قدم اس میں رکھ دے گا۔ ربّ العزت کے قدم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 30–31

(30۔ 31) جس دن ہم دوزخ سے کہیں گے کہ جیسا کہ تجھ سے بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے تو بھر گئی ! اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ کہے گی کہ میں بھر گئی ہوں باقی کچھ اور بھی ہے تو اس میں ایک فرد کی بھی جگہ باقی نہ ہوگی۔ اور جنت کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کے قریب لائی جائے گی ان سے وہ کچھ دور نہ رہے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(یوم نقول لجھنم ھل امتلات …: یعنی یہ سب کچھ اس دن واقع ہوگا جب ہم جہنم سے کہیں گے کیا تم بھر گئی۔ اس کی سب سے صحیح تفسیر وہ ہے جو انس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے نقل کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا :(یلقی فی النار و تقول ھل من مزید حتی یضع قدمہ فتقول قط قط) (بخاری، التفسیر، سورة ق، باب قولہ :(وتقول ھل من مزید): 3838)”جہنم میں لوگ ڈالے جائیں گے اور وہ یہی کہتی رہے گی، کیا کچھ اور بھی ہے ؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی، بس بس۔“ بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق جہنم یہ بات زبان حال سے کہے گی، مگر اس تاویل کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں حقیقت ممکن نہ ہو اور یہاں تو ہر چیز کو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 30–35

یوم نقول لجھنم ھل امتلاوتقول ھل من مزید نافع اور ابوبکر نے یوم یقول یعنی یاء کے ساتھ پڑھا ہے وہ اسے لا تختصموالدی پر قیاس کرتے ہیں باقی نے نون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خطاب ہے یہ عظمت کا نون ہے۔ حضرت حسن بصری نے یوم اقول پڑھا ہے۔ حضرت مسعود اور دوسرے علماء نے اسے یوم یقال پڑھا ہے یوم کو نصب دی ہے کیونکہ اس کا معنی یہ بنتا ہے میرے ہاں اس روز قول نہیں بدلا جائے گا جس روز ہم جہنم سے کہیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں عامل فعل مقدر ہے وہ منذرھم ہے کیونکہ پہلے وعدہ گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے بھرے گا۔ اس استفہام کا یہ مدعا ہے کہ خبر کی تصدیق کی جائے، وعدہ کو ثابت کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

اما قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' یوم نقول لجھنم ھل امتلات وتقول ھل من مزید '' 32:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے فرمایا (آیت ) '' یوم نقول لجھنم ھل امتلات وتقول ھل من مزید '' (جس روز ہم دوزخ سے کہیں گے تو بھر گئی اور وہ کہے گی کیا کچھ اور ابھی ہے) یعنی جہنم کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔ 33:۔ سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) نے آیت کے بارے روایت کیا کہ یہاں تک کہ وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔ 34:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ اس کو ضرور ضرور بھرے گا اور فرمایا میں تجھ سے وعدہ کو ضرور پورا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ [ جس دن ہم کہیں جہنم سے ] هَلِ امْتَلَاْتِ [ کیا تو بھر گئی ] وَتَقُوْلُ [ اور وہ کہے گی ] هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ [کیا کچھ مزید ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دوزخ سے اللہ تعالیٰ کا خطاب ! کیا تو بھر گئی ؟ اس کا جواب ہوگا کیا کچھ اور بھی ہے ان آیات میں جنت اور دوزخ کا حال بتایا ہے دوزخ کی وسعت اور لمبائی، چوڑائی اور گہرائی مجموعی حیثیت سے اتنی زیادہ ہوگی کہ کروڑوں افراد جنات میں سے اور انسانوں میں سے داخل کیے جانے کے بعد بھی خالی ہی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا ﴿ھَلِ امْتَلاَْتِ﴾ (کیا تو بھر گئی) اس کا جواب ہوگا کیا کچھ اور بھی ہے ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت اور دوزخ میں آپس میں مباحثہ ہوا دوزخ نے (فخر کے طور پر) کہا کہ تکبر والے اور تجبر والے میرے اندر داخل ہوں گے، اور جنت نے کہا کیا بات ہے کہ میرے اندر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–45

شدت عذاب خداوندی بر مجرمین وعزت واکرام مطیعین :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یوم نقول لجھنم ....... الی .... من یخاف وعید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ خداوند عالم کا علم جملہ احوال بشریہ کو محیط ہے کہ کوئی مجرم نہ اس کے احاطہ علم سے غائب ہوسکتا اور نہ اس کی قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے تو اب ان آیات میں مجرمین کے عذاب کی شدت بیان کی جارہی ہے اور ساتھ ہی اہل ایمان اور مطیعین پر جو کچھ انعام وکرم ہوگا اس کا ذکر ہے کہ وہ کس اعزاز کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے اسی کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت اور قبول حق کا دارومدار قلب کی سلامتی اور رجوع الی الحق پر ہے اگر قلب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

16:۔ ” یوم نقول۔ الایۃ “ یوم فعل مقدرا انذر کا مفعول ہے یا ظلام سے متعلق ہے یعنی اس دن سے لوگوں کو ڈرا دیا جس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا کفار و مشرکین سے تیرا پیٹ بھر گیا ہے اور تو سیر ہوگئی ہے اور وہ عرض کرے گی میرا پیٹ تو ابھی نہیں بھرا کیا ابھی مزید کفار و مشرکین ہیں ؟ اس دن ہم بندوں سے بےانصافی نہیں کریں گے اور کسی کو بلا قصور سزا نہیں دیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–38

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس کے اثبات میں عقلی اور نفلی دلائل پیش کیے۔ پھر مختلف اقوام کا اجمالی حال اور انکو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ پھر انسان کے حالات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو بیان فرمایا ۔ انسانوں کے اعمال کی حفاظت اور ان کی بارگاہ الٰہی میں پیشی کا حال ذکر کیا ۔ مجرموں کے جہنم میں داخلے اور ان کی آپس میں الزا م تراشیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ فرمائے گا میرے پاس مت جھگڑا کرو ۔ میں نے تمہیں دنیا میں ہر نیک و بد سے آگاہ کردیا تھا اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ تمہیں اپنے عقیدے اور عمل کا بھگتان کرنا ہوگا ۔ ہل من مزید جب دوزخی اپنے اپنے ٹھکانے میں پہنچ جائیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَوْمَ نَقُوْلُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امْتَلَاْتِ وَتَقُوْلُ ہَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ۝ 30 جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام وقال أبو مسلم : كهنّام ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ مِلْء) بهرنا) مقدار ما يأخذه الإناء الممتلئ، يقال : أعطني ملأه ومِلْأَيْهِ وثلاثة أَمْلَائِهِ. الملأ کسی چیز کی اتنی مقدار جس سے کوئی بر تن بھر جائے محاورہ ہے : ۔ اعطنی ملاءہ وملاء بہ وثلاثۃ املائہ زاد الزِّيادَةُ : أن ينضمّ إلى ما عليه الشیء في نفسه شيء آخر، يقال : زِدْتُهُ فَازْدَادَ ، وقوله وَنَزْداد كَيْلَ بَعِيرٍ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 30–37

تفسیر : جب دوزخیوں کو دوزخ میں ڈال چکے گا تو دوزخ سے پوچھے گا، ہل امتلئت کیا تو بھرگئی، وہ کہے گی اور کچھ ہے ؟ یعنی اور بھی ہو تو لایئے بخاری و مسلم ترمذی وغیرہ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ جہنم ہل من مزید ہل من مزید کہے گی، یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا پائوں رکھ دے گا تو کہے گی۔ بس بس۔ قدم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ خود اس کی اشتہاء کو فرو کردے، یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ یہاں تک دوزخیوں کا حال تھا، اب جنتیوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید کہ پرہیز گاروں کے سامنے جنت لائی جاوے گی، جس کو وہ عرصات میں آنکھوں سے سامنے دیکھیں گے، فرمایا جاوے گا یہ وہ ہے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَوْمَ نُقُوْلُ لِجَھَنَّمَ ھَلِ امْتَـلَاْتِ وَتَقُوْلُ ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ ۔ (قٓ: 30) (اس دن کو یاد کرو جس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کا جہنم سے سوال اور جہنم کے جواب کا مفہوم یوں تو جہنم ایک بہت بڑا آتش کدہ ہے جسے تمام مجرمین کی سزا کے لیے بنایا گیا ہے۔ جس طرح زمین پر انسانوں کے قیام کے دورانیہ کا ہم اندازہ نہیں کرسکتے اور یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ قیامت کے دن محشر میں لائے جانے والوں کی تعداد کیا ہوگی جنھیں جہنم میں ڈالا جائے گا۔ اسی طرح کوئی شخص اس کا بھی اندازہ نہیں کرسکتا کہ جہنم کی وسعت کا عالم کیا ہوگا۔ لیکن اس سب کچھ کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–30

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کو جہنم میں داخل ہونے کا حکم ہونے کے ساتھ ہی اس کا ساتھی اس سے برأت کا اعلان کردے گا۔ جونہی جہنمی کو جہنم میں داخل ہونے کا حکم ہوگا تو خوف کے مارے اس کا ساتھی پکار اٹھے گا کہ اے ہمارے رب ! میں نے اسے گمراہ نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی صراط مستقیم سے بھٹک گیا تھا۔ اس کے جواب میں رب ذوالجلال فرمائے گا کہ میرے حضور بحث نہ کرو کیونکہ میں نے پہلے ہی تمہیں جہنم کے بارے میں انتباہ کردیا تھا۔ اب جہنم میں داخل ہوجاؤ اور یاد رکھو ! کہ میرا فرمان تبدیل نہیں ہوتا اور نہ ہی میں اپنے بندوں پر زیاتی کرنے والا ہوں۔ جہنمی کے ساتھی سے مراد اس کے برے ساتھی اور رشتہ دار ہیں جن میں سب سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 30 : یَوْمَ نحو : یہ ظلام کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ مضمر فعل اذکر ٗ انذر وغیرہ کی وجہ سے منصوب ہے۔ جہنم پکارے گی کیا کچھ اور ہے…: نَقُوْلُ ۔ قراءت : ابوبکر و نافع نے یقول پڑھا ہے۔ ای یقول اللّٰہ۔ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امْتَلَاْتِ وَتَقُوْلُ ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ (جس دن کہ ہم دوزخ سے کہیں گے کہ تو بھر بھی گئی اور وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے) مزید یہ المجید کی طرح مصدر ہے۔ مطلب یہ ہے۔ وہ بھر جانے کے بعد کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔ یعنی کیا مجھ میں کوئی ایسی جگہ ہے جو بھری نہ ہو ؟ یعنی میں بھر چلی۔ یا جہنم اور طلب کرے گی۔ اور اس میں اضافہ کی گنجائش ہوگی۔ یہ اس صورت میں ہے کہ جہنم جب واقعی کلام کرے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

29 ۔” ما یبدل القول لدی “ میرے قول کے لئے کوئی تبدیلی نہیں ہے اور وہ اس کا قول ” لا ملان جھنم من الجنۃ والناس اجمعین “ ہے اور ایک قوم نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” مایبدل القوی لدی “ کا معنی یہ ہے یعنی میرے نزدیک قول کی تکذیب نہیں کی جاتی اور قول کو تبدیل نہیں کیا جاتا۔ اس لئے کہ میں عالم الغیب ہوں اور یہ کلبی (رح) کا قول ہے اور فراء کا اختیار کردہ ہے اس لئے کہ اس نے کہا ” مایبدل القول لدی “ اور یہ نہیں کہا ” ما یبدل لی “ …” وما انا بظلام للعبید “ کہ ان کو بغیر جرم کے سزادوں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 30–35

30۔ 35۔ مسند امام احمد اور صحیحین 2 ؎ میں حضرت انس ؓ بن مالک کی روایت سے خود صاحب وحی ﷺ نے جو تفسیر اس آیت کی فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن دوزخ میں پڑنے کے قابل لوگوں کے گروہ دوزخ میں پڑتے جائیں گے اور دوزخ میں سے یہ آواز آتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے۔ ؟ یہاں تک کہ آخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم مبارک دوزخ میں رکھ دے گا۔ جب اس وقت دوزخ میں سے بس بس کی آواز آئے گی۔ اور جنت میں جو جنتی لوگوں کے جانے کے بعد جگہ خالی رہ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کرکے ان لوگوں سے جنت کی اس خالی جگہ کو بھر دے گا۔ بخاری میں اس طرح کی روایت ابوہریرہ ؓ سے بھی ہے۔ آلم سجدہ میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–35

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہوئے فرماتا ہے : (یوم نقول لجھنم ھل امتلات) ” اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گئی ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، جہنم میں ڈالے گئے لوگوں کی کثرت کی وجہ سے ہوگا (وتقول ھل من مزید) ” وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے ؟ “ یعنی جہنم اپنے رب کی خاطر ناراضی اور کفار پر غیظ و غضب کی وجہ سے اپنے اندر مجرموں کے اضافے کا مطالبہ کرتی رہے گی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا : (لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین) (السجدۃ : 32/13) ” میں جن ہم کو جنات اور انسانوں سے ضرور بھروں گا۔ “ حتی کہ اللہ رب العزت اپنا قدم کریم، جو تشبیہ سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–38

کافر، معرفتِ حق سے عاری بلکہ الجھنوں میں پڑا رہتا ہے قول باری ہے (بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج، بلکہ ان لوگوں نے تو حق کو جس وقت وہ ان کے پاس آگیا اسی وقت صاف جھٹلادیا، غرض یہ لوگ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (فھم فی امر مریج) کی تفسیر میں نقل کیا کہ جو شخص حق اور سچائی کو ترک کردے گا اس کی رائے میں الجھائو پیدا ہوجائے گا اور اس کا دین گڈمڈ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 41] دوزخ کی وسعت و پہنائی کا ذکر وبیان، والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس دن کو یاد رکھو جس دن کہ ہم دوزخ سے کہیں گے کہ کیا تو بھرگئی ہے ؟ تو وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے ؟ سو اس سے اس دوزخ کی بےپناہ عظمت و وسعت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، کہ اولاد آدم میں سے اتنی لاتعداد دنیا کو اپنے اندر لے لینے کے باوجود وہ " ہل من مزید " [ کچھ اور بھی ہے ] کی صدالگا رہی ہوگی، جیسا کہ صحیح بخاوی ومسلم وغیرہ کی صحیح احادیث میں وارد ہے کہ پھر حق تعالیٰ ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس میں اپنا قدم رکھیں گے، جس سے وہ سمٹ اور سکڑ کر رہ جائیگی اور کہے گی قط قط [ بس بس ] یعنی اب گنجائش نہیں [ ابن جریر، ابن کثیر،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

قرآن بندے کے لیے ہدایت کی کتاب ہے تشریح : اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ قرآن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہترین، مکمل اور لاجواب کتاب ہے۔ اس میں ہر قسم کا علم انسان کو دے دیا گیا ہے۔ خود انسان کے اپنے بارے میں جو کچھ وہ تھا یعنی عالم ارواح پھر جو کچھ وہ ہے یعنی حال اور سامنے موجود حالات و واقعات انسان کی قدرو قیمت، انسان کے لیے ہر چیز کے بارے میں علوم و فنون کی نشاندہی کائنات کا نظم و ضبط، یعنی ان تمام چیزوں کی گنتی بار بار کی گئی ہے تاکہ بندہ اپنے خالق ومالک کی بہترین صفات عظمت، رحمت، صنعت، خلقت کبریائی اور حسن و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–45

آیات 30 تا 45۔ دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اواب اور حفیظ ۔ اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی میں نہیں بھری کچھ اور لائو صحیحین میں حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دوزخ میں لوگ ڈالے جاتے رہیں گے اور وہ برابر کہتی رہے گی ’ ’ ھل من مزید ؟ “ یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا قدم رکھے گا اس سے وہ سکڑ جائے گی اور کہے گی ” بس بس ! “ مجھے تیرے غلبہ اور کر مکی قسم اور جنت میں خالی جگہ بچ رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک اور مخلوق پیدا کرے گا اور اسے جنت کی خالی بچی ہوئی جگہوں میں ٹھہرائے گا۔ یہ مضمون متعدد و احادیث میں بیان ہوا ہے۔ (ابن کثیر) دوزخ کے اس کلام کو بعض مفسرین نے تمثیلی قرار دیا ہے لیکن اگر اسے حقیقت پر معمول کرلیا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(50:30) ہل امتلئت : ہل حرف استفہام ہے امتلئت ماضی واحد مؤنث حاضر، امتلاء (افتعال) مصدر بمعنی بھر جانا۔ پر ہوجانا۔ کیا تو پر ہوگئی ہے کیا تو پھر گئی ہے۔ وتقول : تقول مضارع واحد مؤنث غائب قول (باب نصر) مصدر اور وہ کہے گی۔ ہل من مزید۔ اس کے متعلق علماء کے دو قول ہیں اول یہ کہ ہل استفہام انکاری ہے ہل امتلئت کے جواب میں جہنم کہے گی کیا ابھی اور بھی ہیں میں تو یا رب العزت بھر گئی ہوں میرے اندر کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جو بھری ہوئی نہ ہو۔ اب میرے میں اور گنجائش نہیں ہے۔ دوم یہ کہ یہ استفہام زیادتی کی طلب کو ظاہر کر رہا ہے ، یعنی جہنم کہے گی یا رب کچھ اور بھی ہے لایا جائے میں حاضر ہوں فائدہ : بعض…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–35

لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 35 : ھل امتلات (کیا تو بھر گئی) ازلفت (قریب لائی گئی) ‘ اواب (جھکنے والا) ‘ الخلود (ہمیشہ رہنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 35 : جب میدان حشر میں ہر شخص کے اعمال کے مطابق فیصلہ کردیا جائے گا۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو جہنم میں داخل ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگی کہ جہنم پکار اٹھے گی کہ کیا ابھی اور اللہ کے نافرمان ہیں جنہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا ؟ مفسرین نے اس کے معنی یہ بھی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود ہی جہنم سے سوال فرمائیں گے کہ کیا اب بھی جہنم میں اور جگہ موجود ہے ؟ کیا اس کے علاوہ اور بھی جہنم والے ہیں۔ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 30–35

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بروز قیامت ہم کافروں کو دوخ میں ڈال چکیں گے تو دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی اور وہ جواب میں کہے گی کہ اور بھی جو کافر ہوں وہ بھی سہی، برابر لاؤ، لاؤ، کہے گی اور دریافت کرے گی کہ کافروں میں اور بھی کوئی رہا یا نہیں ، اگر رہا تو لاؤ، یہاں تک دوزخیوں کا حال بیان ہوا اب جنتیوں کا حال ذکر کرتا ہے کہ جس طرح اہل دوزخ کے دکھانے کے لیے دوزخ کو محشر کے میدان میں لایاجائے گا اسی عرش معلی کی دائیں طرف کی جگہ محشر کے میدان کے سامنے کردی جائے گی ، جس سے اہل جنت میدان محشر میں سے جنت کو دیکھ لیں گے اور ان سے کہا جائے گا جنہوں نے دنیا میں خدا کو یاد رکھا اور گناہوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 30–31

[10] جہنم کی شدت غیظ ظاہر کرنے کو ہے اور مقصود اس سے کافروں کے دل میں دہشت بٹھانا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–35

عجیب ترین بات 1: اس سے قبل کی آیتوں میں جہنم والوں کا مرقع تھا ۔ اب ان آیات میں یہ بیان فرمایا ہے ۔ کہ اللہ کے پاکباز بندے جب اس کے حضور میں جائینگے ۔ تو وہ جنت کو بہت ہی قریب پائینگے ۔ اور دیکھیں گے ۔ کہ بلاکسی دقت اور کوفت کے وہ کس طرح ان نعمتوں سے بہرہ مند رہے ہیں ۔ جن کی نسبت ان سے دنیا میں کہا گیا تھا ۔ اس مقام مسرت وہجت میں وہ لوگ ہوں جو دنیا میں رجوع الی اللہ کے جذبات پاک سے مشرف ہیں ۔ جو ہر لمحہ اور ہر منزل اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے پر تیار ہوتے ہیں اور کوئی عزت ووقار کا سوال ان کو توبہ وانابت سے باز نہیں رکھ سکتا ۔ جو اس کے احکام اور اس کی بیان کردہ حدود کو اپنی نگاہ میں رکھتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(30) وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کہ تو پر ہوگئی اور بھر بھی گئی اور وہ جواب دے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔ یعنی کچھ اور زیادہ اس سے ہے۔ بعض حضرات نے پہلے ہل کے معنی قد کے گئے ہیں اور دوسرے ہل کے معنی لا کے لیا ہے اس تقدیر پر ترجمہ اس طرح ہوگا تحقیق بھر گبی تو وہ جواب میں کہے گی اور زیادہ نہیں چاہتی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دوزخ کا پھیلائو اس قدر لوگوں سے نہ بھرے گا۔ خلاصہ : یہ کہ جمہور کا مذہب یہی ہے کہ اس سے سوال کیا جائے گا اور وہ زیادہ طلب کرے گی۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وتقول ھل من مزید کے جواب میں اپنا قدم جہنم میں رکھ دے گا جس پر وہ کہے گی بس بس۔ بہرحال…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ یہ پوچھنا شاید تہویل کفار کے لئے ہو کہ جواب سن کر ان کے دل میں دوزخ کا خوف اور ڈر پیدا ہوجائے کہ ہم کیسے غضب کے ٹھکانے پہنچے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی ؟ وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے ؟ 30 ۔ غور کرو کہ گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے واحد کے صیغے استعمال کیے گئے تھے اور زیر نظر آیت میں جمع کے صیغے استعمال کیے جا رہے ہیں جس سے کیا واضح ہوتا ہے یہی کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس وحدہ لاشریک لہ ہے اور وہ صیغوں کا پابند نہیں بلکہ صیغے اس کی ذات کے پابند ہیں اور ان کی پابندی یہی ہے کہ وہ چاہے تو واحد غائب سے چاہے تو واحد متکلم سے اور چاہے تو جمع متکلم یا جمع حاضر سے اپنی ذات کا ذکر کرے اس کی وحدانیت میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور یہ وہ زبان کا مسئلہ ہے کہ زبان گرائمر کی پابند نہیں بلکہ گرائمر ہی زبان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–31

مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ (The Word is not changed with Me, and I Am not a wrongdoer to My slaves." [ 50:29] That is, 'I have made my decision which will certainly be implemented: it will never be changed. I will not punish anyone, except on account of their sins after the proof has been established against them. This is an absolutely fair and just decision.'

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

38 This can have two meanings:(1) "There is no room in me for more men; " and (2) "bring all other culprits who may be there. " According to the first meaning the scene depicted would be that Hell has been so stuffed up with culprits that it cannot hold any more; so much so that when it was asked: "Are you full ?" it cried out, alarmed: "Are there still more culprits to come ?" According to the second meaning, the scene depicted before the mind is that the wrath of Hell is so flared up against the culprits that it is constantly demanding more and more of them to be cast into it so that no…

Read the full tafseer →