Explained with ayahs 43–50
زقوم ابو جہل کی خوراک ہوگا
منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابو جہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابو درداء ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ (اثیم) ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ نے اسے (طعام الفاجر) پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
سورة الدُّخَان 40
امن کی جگہ سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں کسی قسم کا کھٹکا نہ ہو۔ کوئی پریشانی، کوئی خطرہ اور اندیشہ، کوئی مشقت اور تکلیف لاحق نہ ہو۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا، " اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ یہاں تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے، ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے، ہمیشہ خوشحال رہو گے کبھی خستہ حال نہ ہو گے، ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہوگے " (مسلم بروایت ابوہریرہ و ابو سعید خدری)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
خلاصہ تفسیر
بیشک زقوم کا درخت (جس کی تحقیق سورة صافات کے دوسرے رکوع میں گزر چکی ہے) بڑے مجرم (یعنی کافر) کا کھانا ہوگا جو (صورت کے مکروہ ہونے میں) تیل کی تلچھن جیسا ہوگا (اور) وہ پیٹ میں ایسا کھولے گا جیسا تیز گرم پانی کھولتا ہے (اور فرشتوں کو حکم ہوگا کہ) اس کو پکڑو پھر گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے بیچوں بیچ تک لے جاؤ، پھر اس کے سر کے اوپر تکلیف دینے والا گرم پانی چھوڑو (اور اس سے بطور استہزاء کہا جائے گا کہ) لے چکھ، تو بڑا معزز مکرم ہے (یہ تیری تعظیم ہو رہی ہے جیسا تو دنیا میں اپنے آپ کو معظم و مکرم سمجھ کر ہمارے احکام سے عار کیا کرتا تھا اور دوزخیوں سے کہا جائے گا کہ) یہ وہی چیز ہے جس میں تم شک (و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
خذوہ فاعتلوہ الی سوآء الجحیم، ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم (48-47)
یہاں اتنی بات بر بنائے قرینہ و بتقاضائے بلاغت محذوف ہے کہ ان لوگوں کے باب میں بارگاہ خداوندی سے یہ حکم ہوگا اس کے بجائے اصل حکم کا حوالہ دیح دیا گیا ہے کہ دوزخ کے وارڈروں کو ہدایت ہوگی کہ ان کو پکڑو اور گھسیٹتے ہوئے جہنم کے بیچ میں لے جائو اور وہاں گرم پانی کے عذاب کے دونگڑے ان پر برسائو۔
Read the full tafseer →47۔ 1 یہ جہنم پر مقرر فرشتوں سے کہا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
12: یعنی دنیا میں تو اپنے آپ کو بڑا صاحب اقتدار اور بڑا با عزت سمجھتا تھا اور اس پر تجھے گھمنڈ تھا، آج اپنی یہ حالت دیکھ لے کہ تکبر، گھمنڈ اور حق کے انکار کا انجام کیا ہوتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–57
آیت نمبر 43 تا 57
یہ منظر زقوم کے درخت کے پیش کرنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ بدکاروں کی خوراک ہوگا۔ اور یہ اس قدر کڑوا ہوگا جس طرح تیل کی تلچھٹ کڑوی ہوتی ہے۔ یہ جہنمیو کی خوراک کی خوفناک تصویر کشی ہے اور یہ تلچھت پیٹ میں یوں جوش مارے گا جس طرح پتیلے میں پانی کھولتا ہے۔ ان بدکاروں کے پیٹ میں ، جو برتری دکھاتے تھے رب پر اور اس کے رسول ﷺ امین پر۔ فرمان الٰہی یوں ان ” شرفاء “ کے لئے صادر ہوتا ہے۔
خذوہ فاعتلوہ الی سواء الجحیم (44 : 47) ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم (44 : 48) ” پکڑو اسے اور رگیدنے ہوئے لے جاؤ اس کو جہنم کے بیچوں بیچ اور انڈیل دو اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب “۔ یعنی پکڑو اسے سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
12 یہ حکم فرشتوں کو ہوگا جو تعذیب مجرمین پر مامور ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 47 { خُذُوْہُ فَاعْتِلُوْہُ اِلٰی سَوَآئِ الْجَحِیْمِ۔ } ”پھر کہا جائے گا : پکڑو اس کو اور دھکیلتے ہوئے لے جائو اسے عین جہنم کے بیچوں بیچ۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
34 جب اہل دوزخ کی یہ گت بنائی جارہی ہوگی تو اس وقت دوزخ کا فرشتہ ان سے مخاطب ہو کر کہے گا۔ ارے تم تو دنیا میں بڑے معزز اور شریف بنے پھرتے تھے۔ رسولوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ اللہ کے احکام کے مقابلہ میں اکڑ بیٹھے تھے اور سرکشی اور شرارتیں کیا کرتے تھے۔ اور جب تمہیں اس برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا تو رسولوں کا اور اس دن کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ کیا آج بھی تمہیں اس معاملہ میں کچھ شک باقی رہ گیا ہے ؟ اس آیت کا روئے سخن دراصل ان معزز سرداران قریش کی طرف ہے جنہیں نبی کے مقابلہ میں معزز سمجھا جاتا تھا جو مظلوم مسلمانوں کو ایک کمتر درجہ کی مخلوق سمجھ کر ان کے ساتھ بیٹھنا بھی گوارا نہ کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
26۔ عذاب جسمانی کے ساتھ ساتھ اہل جہنم کی اذیت قلب کے بڑھانے کو یہ بھی بطور طعن و استہزاء کہا جائے گا ..... دوزخیوں کے مقدر میں تو ہر قسم کی انتہائی اذیت ہے۔ جسمانی ومادی کے علاوہ ذہنی وقلبی بھی۔ (آیت) ” الاثیم “۔ بڑے مجرم سے مراد کافر ہے۔ اے الکثیر الاثام والمراد بہ الکافر لدلالۃ ماقبلہ وما بعدہ علیہ (بیضاوی) الاثیم اے فی قولہ وفعلہ وھو الکافر (ابن کثیر) (آیت) ” الاثیم “۔ کے صیغہ مفرد سے مراد جنس کافر ہے کوئی مخصوص فرد یا متعین شخصیت مراد نہیں۔ المراد بہ جنس الکافر لاواحد بعینہ (روح) اور یہ جو بعض اقوال میں آیا ہے کہ اس سے مراد ابوجہل یا فلاں متعین کافر ہے، سو یہ قول خلاف تحقیق وبلادلیل ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
آیت نمبر 43 تا 59
ترجمہ : بیشک زقوم (تھوہڑ) کا درخت جو کڑوا اور خبیث ترین ہے تہامہ میں پیدا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں پیدا فرمائے گا، مجرموں کا کھانا ہے یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا جو بڑا گنہگار ہیں، اور وہ سیاہ تیل (تارکول) کی تلچھٹ کے مانند ہے (کالمھل) ثانی خبر ہے، وہ تیز گرم پانی کے مانند پیٹ میں کھولتا رہتا ہے (تغلی) تاء فوقانیہ کے ساتھ تیسری خبر ہے اور یاء تحتانیہ کے ساتھ المھل سے حال ہے جہنم پر مقرر فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ مجرم کو پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچا دو (فاعتلوہ) کسرۂ اور ضمہ تاء کے ساتھ یعنی اس کو سختی اور شدت کے ساتھ کھینچو، پھر اس کے سر پر…
Read the full tafseer →خذوہ فاعتلوہ الی سواء الجحیم۔ اس کو پکڑو ‘ پھر گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے بیچوں بیچ تک لے جاؤ ‘
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
(43۔ 48) زقوم کا درخت دوزخ میں بڑے فاجروں یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا کھانا ہوگا تیل کی تلچھٹ جیسا سیاہ یا کہ پگھلی ہوئی چاندی کی طرح سخت گرم ہوگا وہ پیٹ میں ایسا کھولے گا جیسا تیز گرم پانی کھولتا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ اس ابو جہل کو پکڑو اور گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان میں لے جاؤ اور اس کے سر کو لوہے کے گرزوں سے مارنے کے بعد جلتا ہوا گرم پانی ڈالو۔
شان نزول : اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ (الخ)
سعد بن منصور نے ابو مالک سے روایت کیا ہے کہ ابو جہل کھجور اور مکھن لے کر آتا تھا اور کہتا تھا کہ اس کو کھاؤ یہ وہی زقوم ہے جس سے محمد تمہیں ڈراتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
اور…
Read the full tafseer →خذوہ فاعتلوہ الی سوآء الجحیم :”عتل یعتل“ (ض، ن) سختی سے گھسیٹ کرلے جانا۔”سوآئ“ کا معنی درمیان ہے، کیونکہ درمیان کی چیز ہر طرف سے برابر ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
زبانیہ سے کہا جائے گا، اسے پکڑ لو یعنی گناہ کو پکڑ لو، اسے کھینچو اور اسے ہانکو، عقل سے مراد ہے کہ آدمی کا گریبان پکڑے اور اسے اپنی طرف کھینچے تاکہ تو اسے قید خانہ اور یا کسی اور امتحان کی طرف لے جائے۔ جب تو اسے سختی کے ساتھ کھینچے رجل معتل ہے۔ شاعر نے گھوڑے کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا :
ہم اس گھوڑے کی لگام کھینچ کر روک لیتے ہیں ہم اسے گھسیٹتے ہیں۔ اس میں دو لغتیں ہیں۔ عتلہ عتنہ۔ یہ ابن سکیت نے کہا : کو فیوں اور ابو عمرو نے کہا : یعنی تاء کے نیچے کسرہ پڑھا اور باقی قراء نے اسے ضمہ دیا ہے۔ یعنی جحیم کے وسط میں مقاتل نے کہا : مالک فرشتہ جو جہنم کا خازن ہے وہ ابو جہل کے سر پر لوہے کا ہنڑ مارے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
5:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” خذوہ فاعتلوہ “ (اس کو پکڑو اور اس کو گھسیٹو) یعنی اس کو دفع کرو۔
Read the full tafseer →خُذُوْهُ [ تم لوگ پکڑو اس کو ] فَاعْتِلُوْهُ [ پھر گھسیٹو اس کو ] اِلٰى سَوَاۗءِ الْجَحِيْمِ [ دوزخ کے بیچ (مرکز ) کی طرف ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
دوزخیوں کے لیے طرح طرح کا عذاب ہے، زقوم ان کا کھانا ہوگا، سروں پر گرم پانی ڈالا جائے گا
گذشتہ آیات میں منکرین قیامت کا انکار ذکر فرمایا پھر قیامت کا اثبات فرمایا قیامت قائم ہونے پر جو کافروں کی دوزخ میں بدحالی ہوگی ان آیات میں اس کو بیان فرمایا۔ دوزخیوں کو جہنم میں سخت بھوک لگے گی اور وہ کھانے کے لیے طلب کریں گے انہیں کھانے کے لیے جو چیزیں دی جائیں گی ان میں سے زقوم کا درخت بھی ہوگا۔ سورة صافات میں بیان ہوچکا ہے کہ یہ درخت دوزخ کے درمیان میں سے نکلے گا اس کے گھپے ایسے ہوں جیسے سانپوں کے پھن ہوتے ہیں یہ بہت زیادہ کڑوا ہوگا جب ان کو کھانے کو دیا جائے گا تو تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا (کسی بوتل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–59
تہدید وتنبیہ از روز قیامت وبیان نجات و کامیابی مومنین ومتقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان یوم الفصل ...... الی ........ فارتقب انھم مرتقبون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین کی سزاؤں اور ان کے عبرت ناک انجام کا بیان تھا جس کے بعد ان کے بالمقابل مطیعین کے انعام واکرام کا ذکر فرمایا گیا تو اب اختتام مضمون پر مزید یوم آخرت کی عظمت ومصیبت کا بیان فرماتے ہوئے اہل ایمان وتقوی پر حق تعالیٰ کے جو انعامات ہوں گے ان کا ذکر کیا گیا ،
اور کافر ونافرمان کیسی شدت و تکلیف اور مصیبتوں میں مبتلا ہوں گے اس کو بھی واضح کرتے ہوئے فیصلہ فرمایا گیا کہ اصل کامیابی اور کامرانی حق تعالیٰ پر ایمان لانے اور آنحضرت ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
26:۔ ” ان المتقین “ تا ” ذلک ھو الفوز العظیم “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” فی جنت و عیون “ مقام امین سے بدل ہے متقی اور پرہیز گار لوگ اور شرک سے بچنے والے قیامت کے دن پر امن مقام یعنی باغات جنت اور چشموں میں ہوں گے جہاں وہ ہر قسم کے خوف و ہراس اور تکلیف و عذاب سے محفوظ و مامون ہوں گے اور انہیں زندگی کی ہر راحت و آسائش میسر ہوگی۔ یلبسون من سندس الخ، وہاں وہ باریک اور موٹے ریشم کے کپڑے پہنیں گے یعنی جس قسم کا لباس چاہیں گے انہیں ملے گا۔ سندس، باریک ریشم۔ استبرق، موٹا ریشم۔ سندس مارق من الدیباج و استبرق ما غلظ منہ (مدارک ج 4 ص 100) ۔ وہ جنت میں محبت و الفت اور مسر و شادمانی کے اظہار کے لیے ایک دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–59
ربط آیات
پہلے قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان کی۔ پھر توحید کا مسئلہ سمجھایا ، مشرکین کی قباحت ، شرک کا رد اور پھر اس کا انجام بھی بیان ہوا۔ حق کی مخالفت کرنے والوں میں فرعون اور اس کے حواریوں کا تذکرہ ہوا اور پھر ان کی غرقابی کا ذکر بھی ہوا اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعن کی غلامی سے نجات دلائی اور ان کو اپنے زمانے میں ہاں بھر میں فضیلت عطا کی ، پھر قریش مکہ اور مشرکین عرب کو تنبیہ کی گئی کہ تم سے پہلے قوم تبع جیسے بڑے بڑے ساز و سامان اور دولت والے لوگ گزر چکے ہیں ، ان کے حالات سے عبرت پکڑو تم کس بنا پر قیامت کا انکار کر رہے ہو ، فرمایا ہم نے ارض و سما اور ان کے درمیان کی اشیاء کو محض لہو و لہب کے…
Read the full tafseer →خُذُوْہُ فَاعْتِلُوْہُ اِلٰى سَوَاۗءِ الْجَحِيْمِ 47 ۖۤ
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
دارِ آخرت کا ثبوت کرکے اب کچھ وہاں کے حالات بیان فرماتا ہے۔ سب سے پہلے بدکاروں کی سزا بیان کرتا ہے فقال ان شجرۃ الزقوم گناہگاروں کا کھانا تھور ہوگا جو نہایت تلخ اور بدمزہ چیز ہے لاچار ہو کر اسی کو کھاویں گے وہ پیٹ میں جا کر گرم پانی کی طرح کھولے گا مہل تلچھٹ یا تانبا سیسہ وغیرہ پگھلا ہوا۔ مہل پر جملہ تمام ہوگیا پھر یغلی سے اس کے غلیان کی کیفیت شروع ہوتی ہے۔ بعض کالمہل کو یغلی سے بھی ربط دیتے ہیں۔ اس کے لیے یہ بھی فرشتوں کو حکم دیا جاوے گا کہ اس کو پکڑو اور دھکے دیتے ہوئے جہنم میں لے جاؤ اور اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالو اور کہو چکھ کیونکہ تو اپنے زعم میں بڑا عزت والا ‘ زبردست سمجھا ہوا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
خُذُوْہُ فَاعْتِلُوْہُ اِلٰی سَوَآئِ الْجَحِیْمِ ۔ ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِہٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِ ۔ (الدخان : 47، 48)
(اسے پکڑو اور گھسیٹتے ہوئے جہنم کے بیچ تک لے جاؤ۔ پھر انڈیلو ان کے سر کے اوپر کھولتے پانی کا عذاب۔ )
مجرموں کے عذاب کی تفصیل
سیاقِ کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے کارکنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا جائے گا کہ ان میں سے ایک ایک گنہگار کو پکڑو اور کھینچتے ہوئے دھکیلتے ہوئے جہنم کے بیچ تک لے جاؤ تاکہ انھیں اندازہ ہو کہ جسم کی جن قوتوں اور رعنائیوں کو انھوں نے اسلام کیخلاف استعمال کیا ان کی ٹھیک جگہ جہنم کے بیچ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں انسان بنا کر اور جسم و جان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–51
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ کائنات کو کھیل تماشا سمجھتے ہیں اور آخرت کا انکار کرتے ہیں انہیں جہنّم میں داخل کیا جائے گا جس میں انہیں یہ سزائیں دی جائیں گی۔
جہنمی جہنّم میں اس لیے جائیں گے کہ انہوں نے اپنے رب کی نافرمانی کی انتہا کی ہوگی۔ ایسے نافرمانوں کو کھانے کے لیے تھوہر کا درخت دیا جائے گا وہ اسے کھانے کی کوشش کریں گے لیکن ان کے حلق میں اٹک جائے گا۔ اسے حلق سے اتارنے کے لیے پانی طلب کریں گے انہیں پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی اور جہنمیوں کی پیپ دی جائے گی۔ جونہی تھوہر کا درخت ان کے حلق سے نیچے اترے گا تو وہ اس طرح ان کے پیٹوں میں ہول پیدا کرے گا جس طرح پگھلا ہوا تانبا زمین پر انڈیلا جائے…
Read the full tafseer →آیت 47 : خُذُوْہُ (اس کو پکڑو) اس گناہگار کو فَاعْتِلُوْہُ (پھر اس کو گھسیٹتے ہوئے لے جائو) اس کو زبردستی دھکے دے کر سختی سے چلائو۔
قراءت : مکی ٗ نافع ٗ شامی ٗ سہل و یعقوب نے فاعتُلوہ پڑھا ہے۔
اِلٰی سَوَآئِ الْجَحِیْمِ (جہنم کے وسط تک) اس کے درمیان اور بڑے حصہ میں۔
Read the full tafseer →46، کغلی الحمیم ، گرم پانی کی طرح جب وہ خوب جوش مارے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی (رح) اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے ڈروجی سے اس سے ڈ رنے کا حق ہے۔ پس ا گرز قوم درخت کا ایک قطرہ زمین پر ٹپکادیاجائے تو اہل دنیا پر ان کی معیشت کڑوی کردے۔ پس کیسے حال ہوگا اس کا جس کا وہ کھانا ہوگا اور ان کے لیے اس کے علاوہ کوئی کھانانہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–50
37۔ 50۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم کو برا فرمایا خاص تبع کو برا نہیں فرمایا معتبر سند سے مسند 1 ؎ امام احمد اور طبرانی میں سہل ؓ بن سعد سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تبع کو برا نہ کہو تبع مسلمان ہوگیا تھا اور نیک آدمی تھا 2 ؎ عبد الرزاق وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایت ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو معلوم نہیں تبع ملعون شخص تھا یا اچھا ‘ اس روایت پر دارقطنی اور علما نے اعتراض کیا ہے حاصل یہ ہے کہ حشر کے انکار کے سبب سے پہلی قومیں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں اگر یہ قریش ان کے سے کام کریں گے تو ان کا بھی وہی انجام ہوگا ‘ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
آیت 43
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا، نیز یہ بھی واضح فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا تو اس کے بعد فرمایا کہ بندے دو گروہوں میں تقسیم ہوں گے، ان میں سے ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں اور جہنم میں جانے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا اور (ان) ” بیشک “ ان کا کھانا (شجرت الزقوم) ” زقوم کا درخت ہوگا۔ “ جو بدترین اور سب سے گندا درخت ہے۔ اس درخت کا ذائقہ (کالمھل) بدبو دار پیپ کے مانند ہے جس کی بو اور ذائقہ انتہائی گندا اور وہ سخت گرم ہوگا۔ وہ ان کے پیٹوں میں اسطرح جشو کھائے گا (کغلی الحمیم) ” جس طرح کھولتا ہوا پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
49 اہل دوزخ کی تذلیل کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے کہا جائے گا کہ اب تو اس کا مزہ چکھ کہ دنیا میں تو بڑا عزت دار بنا ہوا تھا "۔ یعنی دنیا میں تو تو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھا کرتا تھا۔ اور اسی وجہ سے تو حق کا انکار کرتا تھا۔ اور اس سے محروم رہا تھا۔ سو اب تو مزہ چکھ لے اپنے کفر و انکار اور اپنے کئے کرائے کا۔ یہ اس بدبخت کی تحقیر و تذلیل کے لئے اس سے کہا جائے گا۔ اور اس طرح وہ دوزخ کی ظاہری آگ کے ساتھ ساتھ تحقیر و تذلیل اور حسرت و یاس کی اس باطنی آگ میں بھی جلے گا۔ اور عذاب در عذاب میں مبتلا ہوگا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ العزیزالغفَّارَ مِن کل نَوْعٍ مِّنْ اَنْواعِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
گنہگاروں کا حال اور نیکو کاروں کا حال
تشریح : قیامت، حساب کا دن اور پھر بدلے کا دن۔ یہ سب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ ایک بار پھر ہم اس پر غور کرتے ہیں بیشک انسانی تاریخ میں حق شناسی کی چنگاریاں بھی ملتی ہیں۔ مگر اس کا بڑا حصہ حق تلفی کی رو داد سے بھرا پڑا ہے۔ مورخ کو بڑی مایوسی ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ انسان کا ضمیر جو کچھ چاہتا ہے دنیا کے واقعی حالات اس کے خلاف ہیں یہاں ہم چند اقوال نقل کرتے ہیں۔
والٹر : ” انسانی تاریخ محض جرائم اور مصائب کی تصویر ہے “۔
ہربرٹ اسن پر : ” تاریخ محض بےفائدہ گپ ہے “۔
نپولین : ” تاریخ تمام کی تمام لایعنی قصے کا نام ہے “۔
کیا انسانیت کا یہ عظیم الشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
آیات 43 تا 59۔
اسرار ومعارف۔
کفار کا یہ حال ہوگا کہ کھانے کو انہیں زقوم (تھوہر کیکٹس) ملے گا اور بدکاروں کا کھاناایسا ہی ہوناچاہیے پھر وہ زقوم دوزخ کا ہوگا جبکہ دنیا کا بھی بہت کڑوا کسیلا اور بدشکل کانٹوں سے بھرپور ہوتا ہے وہ تو پیٹ میں ایسے کھولے گا جیسے پگھلا ہواتانبا ہو یا جی سے پانی کھولتا ہے اور حکم ہوگا کہ انہیں پکڑ لو اور گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان لے جاؤ اور ان پر دوزخ کے جلتے پانی کا عذاب چھوڑ دو اور انہیں کہو اب اپنی کرتوتوں کا مزہ چکھو کہ تم تو بہت بڑے آدمی بنتے تھے اور تمہیں اللہ کی اطاعت اور نبی کی اتباع کرنے میں عار آتی تھی یہ وہی دوزخ ہے جس کا تمہین یقین نہ آتا تھا اور وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
ف 1 یعنی تو دنیا میں اپنے آپ کو بڑا زبردست عزت دار آدمی سمجھتا تھا اس لئے ہم آج بھی تیری یہ عزت کر رہے ہیں کہ دوسرے دوزخیوں سے بڑھ کر عذاب دے رہے ہیں۔ یہ فرشتے طنزاً کہیں گے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(44:47) خذوہ : امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب، اس کو پکڑو۔ ای یقال للزبانیۃ خذوہ ۔۔ جہنم کے فرشتوں سے کہا جائے گا۔ پکڑو اس کو ۔
فاعتلوہ :عاطفہ ہے اعتلوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ عتل باب نصر۔ ضرب۔ مصدر سے جس کے معنی چہار طرف سے پکڑ کر زبردستی کھینچنے اور دھکیلنے کے ہیں۔ اور اس زبردستی دھکیلتے اور کھینچتے لے جاؤ۔
سواء اسم مصدر ہے بمعنی استواء یعنی دونوں طرف سے بالکل برابر۔ عین درمیان میں اس کا نہ تثنیہ بنایا جاتا ہے نہ جمع۔ سواء الجحیم مضاف مضاف الیہ۔ جہنم کا وسط۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 59 : شجرت الزقوم ( زقوم ( جہنمیوں کی غذا) کا درخت) الاثیم ( گناہ گار) المھل (پگھلا ہوا تانبہ) یغلی (ابل رہا ہے ، کھول رہا ہے) البطون ( بطن) ( پیٹ) الحمیم (کھولتا پانی) اعتلوا ( گھسیٹتے لے جائو) صبوا (انڈیل دو ) ذق (چکھ) مقام امین ( امن و سکون کی جگہ) سندس ( باریک ریشم) استبرق (دبیر ریشم)
تشریح : آیت نمبر 43 تا 59 : اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نصیحت و عبرت کے لئے نہایت آسان اور سہل بنا کر بھیجا ہے جس میں اس حقیقت کو نہایت وضاحت سے بیان کردیا ہے کہ برے اور اچھے اعمال کا نتیجہ کیا ہے۔
جو لوگ دنیا میں زندگی بھر وقتی لذتوں ، خواہشوں ، تمناؤں اور جھوٹی عزت کے پیچھے دوڑتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
اہل دوزخ کا عذاب۔
(ف 1) اوپر قیامت کو فیصلہ کا دن فرماکراب اس دن کے فیصلے کا نتیجہ بیان فرمایا کہ دوزخ والے جب بھوکے ہوں گے تو دوز میں تھوہر کی صورت کا ایک درخت جو پیدا کیا گیا ہے اس کا پھل ان دوزخیوں کوکھلایاجائے گا جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح کھولتا ہوا ہوگا، مختصر طور پر فقط دوزخیوں کے کھانے کا ذکر ہے ۔ سورة والصافات میں گزرچکا ہے کہ تھوہر کے پھل کے کھلانے کے بعد کھولتا ہوا پانی بھی پلایاجائے گا اسی واسطے یہاں فرمایا کہ دوزخیوں کے پیٹ میں جس طرح وہ کھولتا ہوا پانی کھولے گا اسی طرح یہ تھوہر کا پھل کھولے گا اور ان دوزخیوں کے لیے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان دوزخیوں کو پکڑ کر زنجیروں میں جکڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–59
[13] یعنی یہ لوگ اگر نہ سمجھیں تو تم چندے انتظار کرو۔ ان کا انجام بد سامنے آجائے گا۔ یہ تو منتظر ہیں کہ تم پر کوئی افتاد پڑے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–57
حل لغات :۔ بلوء ۔ آزمائش ۔ انعام ۔
ہم نے کائنات کو بلا مقصد نہیں پیدا کیا
1: مادیت کا نظریہ ہے ۔ کہ یہ کارگاہ حیات کا نتیجہ ہے ۔ محض بخت واخلاق کا اور مجازفۃ وتخمین کا ۔ یہ عالم حیات یونہی بلا کسی غرض اور غایت کے پیدا کردیا گیا ہے یا پیدا ہوگیا ہے ۔ اور اس کی تخلیق میں کسی اخلاقی ۔ نصب العین کو کوئی دخل نہیں ۔ قرآن حکیم اس نظریہ کی مخالفت کرتا ہے اور کہتا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو محض فعل عبث کے طور پر نہیں پیدا کیا ہے ۔ کہ اس کا کچھ مقصد بھی نہ ہو ۔ بلکہ ان کے بنانے میں حکمت ضرور ہے ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ زندگی کی تکمیل ہو ۔ اور انسان کو مواقع دیئے جائیں ۔ کہ وہ آخرت کے لئے تیاری…
Read the full tafseer →(47) حکم دیا جائے گا اس گناہگار کو پکڑو اور گھسیٹتے ہوئے جہنم کے درمیانی حصے تک لے جائو یعنی دوزخ کے بیچوں بیچ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
ف 1۔ یعنی استہزاء کہا جائے گا کہ یہ تیری تعظیم ہورہی ہے جیسا تو دنیا میں اپنے کو معظم ومکرم سمجھ کر ہمارے احکام سے عار کیا کرتا تھا۔
Read the full tafseer →اس طرح کے کھانے کھلانے کے بعد دوزخیوں کو دوزخ میں کھینچنے کا عذاب بھی ہوگا
74 ؎ (خذوہ) یعنی اس دوزخی کو پکڑلو (فاعتلوہ) پس اس کو دھکیلتے ہوئے لے جائو۔ اس کا اصل مادہ ع ت ل ہے۔ اعتلو اعتل سے ہے جس کے معنی چار طرف سے پکڑ کر زبردستی کھینچنے اور دھکیلنے کے ہیں امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ (سواء الجحیم ) جہنم کے بیچوں بیچ۔ یہ دوزخ کے بیچوں بیچ کھینچنے کا عذاب اس کو کیوں دیا جائے گا ؟ اس لیے کہ یہ خود (عتل) کا لفظ ایک ہی بار قرآن کریم میں آیا ہے جو سورة القلم کی آیت 31 میں ہے جس کے معنی سخت مزاج ، گردن کش ، اجڈ ، بسیار خور ، درشت ، ستمگار ، سخت گو اور سختی کے ساتھ کھینچنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
Commentary
Punishment and Reward of the Hereafter
In these verses, according to the style of the Qur'an, Allah describes Hell and the way the unbelievers will be punished, and Paradise and the way the believers will be rewarded.
Punishment of the Dwellers of Hell
"Indeed the tree of zaqqum... (44:43) ". Some necessary information regarding the reality of zaqqum has been given in Surah As-Saffat. Please see under (37:64-65). Here the Qur'an apparently indicates that the infidels will be given zaqqum to eat even before they enter Hell, because in this verse the Qur'an says that after having…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
40 "A secure place" : A place safe from every kind of fear, grief, worry and danger, hardship and trouble. According to a Hadith, the Holy Prophet said: "It will be proclaimed to the dwellers of Paradise: You will remain in good health, will never fall ill; will live for ever: will never die; will ever remain happy and prosperous and will never meet with a misfortune; will ever remain youthful, will never become old. " (Muslim, on the authority of Abu Hurairah and Abu Sa id Khudri).
Read the full tafseer →