Explained with ayahs 17–33
قبطیوں کا انجام
ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو…
Read the full tafseer →سورة الدُّخَان 25
یعنی جب وہ حکمراں تھے تو ان کی عظمت کے ڈنکے بج رہے تھے۔ ان کی حمد وثناء کے ترانوں سے دنیا گونج رہی تھی۔ خوش آمدیوں کے جم گھٹے انکے آگے اور پیچھے لگے رہتے تھے۔ ان کی وہ ہوا باندھی جاتی تھی کہ گویا ایک عالم ان کے کمالات کا گرویدہ اور ان کے احسانات کا زیر بار ہے۔ اور ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی مقبول نہیں، مگر جب وہ گرے تو کوئی آنکھ ان کے لیے رونے والی نہیں تھی، بلکہ دنیا نے ایسا اطمینان کا سانس لیا کہ گویا ایک کانٹا تھا جو اس کے پہلو سے نکل گیا۔ ظاہر ہے کہ انہوں نے نہ خلق خدا کے ساتھ کوئی بھلائی کی تھی کہ زمین والے ان کے لیے روتے، نہ خدا کی خوشنودی کا کوئی کام کیا تھا کہ آسمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
زمین میں آسمان کا رونا۔ (آیت) فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ (پس ان پر آسمان و زمین کو رونا نہیں آیا) مطلب یہ ہے کہ انہوں نے زمین پر کوئی ایسا عمل صالح نہیں کیا تھا کہ ان کے مرجانے سے زمین روئے، اور نہ ان کا کوئی نیک عمل آسمان تک پہنچا تھا کہ ان پر آسمان روئے اور یہ بات متعدد روایات سے ثابت ہے کہ کسی نیک بندے کی موت پر آسمان و زمین روتے ہیں۔ حافظ ابویعلی نے حضرت انس کی روایت سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ آسمان میں ہر بندے کے لئے دو دروازے مقرر ہیں، ایک سے اس کا رزق نازل ہوتا ہے دوسرے سے اس کا عمل اور اس کی گفتگو اوپر پہنچتی ہے۔ چناچہ جب وہ بندہ مرتا ہے تو یہ دروازے…
Read the full tafseer →فما بکت علیھم السمآء والارض وما کانوا منظرین (29)
یعنی جب تک وہ اقتدار میں رہے اس وقت تک تو سمجھیت رہے کہ وہ ایک عظیم تمدن کے بانی ہیں اور ساری دنیا ہمیشہ ان کی کنونڈی رہے گی لیکن ان کی تباہی پر نہ آسمان رویا، نہ زمین ہی نے دو آنسو بہائے بلکہ ہر ایک نے اطمینان کا سانس لیا کہ خس کم جہاں پاک !
یہ امر یہاں واضح رہے کہ ایک مظلوم کی موت پر تو آسمان بھی کبیدہ خاطر ہوتا ہے اور زمین بھی فریاد کرتی ہے۔ تورات میں لکھا ہے کہ خداوند نے فرمایا کہ زمین سے مجھے ہابیل کا خون پکارتا ہے۔ لیکن ظالموں اور نافرمانوں کی بربادی پر آسمان اور زمین سب خوش ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ان نافرمانوں کی تباہی پر جن پر اللہ نے…
Read the full tafseer →29۔ 1 یعنی ان فرعونیوں کے نیک اعمال ہی نہیں تھے جو آسمان پر چڑھتے اور ان کا سلسلہ منقطع ہونے پر آسمان روتے، نہ زمین پر ہی وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے کہ اس سے محرومی پر زمین روتی۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین میں کوئی بھی ان کی ہلاکت پر رونے والا نہیں تھا (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–33
9: اس سے مراد وہ انعامات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل پر فرمائے، مثلاً من وسلوی نازل کرنا، پتھر سے چشمے نکال دینا وغیرہ، جن کا ذکر سورة بقرہ : 47 تا 58 میں فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت نمبر 17 تا 33
اس وادی کے دروازے ہی پر یہ خوفناک اعلان لکھا ہوا ہے کہ یاد رکھو ، کسی قوم کی طرف رسول کا بھیجا جانا اس کی آزمائش ہوتی ہے۔ مکذبین کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ وقت بہت تھورا ہے ، اس میں تم تکذیب بھی کرسکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، مومنین پر ظلم و ستم بھی ڈھا سکتے ہو لیکن آخر میں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے اور تم جو رسول اللہ ﷺ کو طیش دلاتے ہو ، ان کا پیمانہ صبر لبریز کرتے ہو ، لیکن آپ ﷺ بدستور صبر کا پیکر بنے ہوئے ہیں اور تمہاری ہدایت ہی کے امیدوار ہیں ، اس کا انجام برا بھی ہو سکتا…
Read the full tafseer →11 روایات میں ہے کہ مومن کے مرنے پر آسمان کا وہ دروازہ روتا ہے جس سے اس کی روزی اترتی تھی یا جس سے اس کا عمل صالح اوپر چڑھتا تھا۔ اور زمین روتی ہے جہاں وہ نماز پڑھتا تھا یعنی افسوس وہ سعادت ہم سے چھن گئی۔ کافر کے پاس عمل صالح کا بیج ہی نہیں، پھر اس پر آسمان یا زمین کیوں روئے۔ بلکہ شاید خوش ہوتے ہوں گے کہ چلو پاپ کٹا۔ " خس کم جہاں پاک "
Read the full tafseer →آیت 29 { فَمَا بَکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَآئُ وَالْاَرْضُ وَمَا کَانُوْا مُنْظَرِیْنَ } ”تو نہ ان پر آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت دی گئی۔“
Read the full tafseer →21 زمین اور آسمان کے رونے کے مختلف مفہوم :۔ زمین اور آسمان کے نہ رونے سے مراد یہ ہے کہ ان پر نہ زمین کی مخلوق کو رونا آیا یا افسوس لگا اور نہ آسمان میں بسنے والی مخلوق کو۔ بلکہ زمین والے تو ایسے ظالموں کے مرنے پر خوشی مناتے ہیں کہ ان کے ظلم و تشدد سے جان چھوٹی اور خس کم جہاں پاک کے مصداق اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں وہ بھلا روئیں گے کیوں ؟ یہی حال آسمانوں کی مخلوق کا ہے۔ ایسے لوگوں کی روح کو جب مرنے کے بعد اوپر لے جایا جاتا ہے تو ان کے لیے آسمان کا دروازہ کھلتاہی نہیں وہ ایسی ارواح پر پھٹکار بھیجتے ہیں وہ ان کی موت پر کیسے رو سکتے یا افسوس کرسکتے ہیں۔ تاہم اگر ان الفاظ کو ان کے ظاہری مفہوم پر ہی…
Read the full tafseer →19۔ پہلے یہ حقیقت ذہن نشین کرلی جائے، کہ کائنات کی کوئی سی بھی شے ہو، بڑی سے بڑی یا چھوٹی سے چھوٹی۔ احساس و شعور کسی نہ کسی درجہ میں ضرور رکھتی ہے۔ اس کے بعد یہ سمجھئے کہ آسمان اور زمین میں بھی ان کے مرتبہ کے لائق شعور موجود ہے۔ اسی سے وہ مومن کے مرتبہ کا ادراک کرکے اس کی وفات پر غمگین ہوتے ہیں۔ حکیم کائنات ودانائے فطرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے :۔ مامن عبد الاولہ فی السماء بابان باب یخرج منہ رزقہ وباب یدخل منہ عملہ وکلامہ فاذا مات فقداہ وب کیا علیہ (جامع ترمذی) مومن جب مرجاتا ہے تو آسمان کا وہ دروازہ جس سے اس کے عمل کا صعود ہوتا تھا اور وہ دروازہ جس سے اس کے رزق کا نزول ہوتا تھا اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیت نمبر 1 تا 29
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…
Read the full tafseer →فما بکت علیھم السماء والارض وما کانوا منظرین پس ان پر نہ تو آسمان و زمین کو رونا آیا اور نہ
ان کو مہلت دی گئی۔
فَمَا بَکَتْ یعنی کافروں کو ہلاک کردیا ‘ پھر ان پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین۔ آسمان و زمین کے نہ رونے سے مجازاً یہ مراد ہے کہ نہ ان کی زندگی کوئی اہمیت رکھتی تھی ‘ نہ ان کے مرنے کی کسی کو پروا تھی۔ کوئی فائدہ رساں اہم شخص مرجاتا ہے تو کہتے ہیں : اس پر آسمان رو پڑا اور سورج گرہن ہوگیا۔ پس آیت میں فرعون اور فرعونیوں کی موت و زندگی کا غیر اہم ہونا بیان کیا گیا ہے۔
بعض اہل تفسیر نے کہا کہ نہ رونے سے مراد حقیقی معنی ہے ‘ کیونکہ حدیث مبارک میں آیا ہے کہ جب مؤمن مرتا ہے تو اس پر آسمان و…
Read the full tafseer →نہ فرعون اور اس کی قوم پر آسمان کا دروازہ رویا اور نہ زمین پر نماز کی جگہ روئی، کیونکہ جب مومن مرتا ہے تو اس پر آسمان کا دروازہ جس سے اس کا عمل چڑھتا اور اس کا رزق اترتا ہے اور زمین پر اس کی نماز پڑھنے کی جگہ روتی ہے اور فرعون اور اس کی قوم پر یہ مقامات نہیں روئے کیونکہ ان کے عمل چڑھنے کے لیے نہ تو آسمان پر کوئی دروازہ تھا اور نہ زمین پر ان کی نماز پڑھنے کی کوئی جگہ تھی اور نہ ان کو غرق ہونے سے کوئی مہلت دی گئی۔
Read the full tafseer →(1) فما بکت علیھم السمآء والارض : اس آیت کی تفسیر میں تین قول ہیں، تینوں میں سے جو بھی مراد لے لیں درست ہے۔ ایک یہ کہ ”السمآئ“ سے پہلے لفظ ”اھل“ محذوف ہے، جیسے یوسف ؑ کے بھائیوں نے والد کو جا کر بتایا کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے، جس کی وجہ سے عزیز مصر نے اسے اپنے پاس روک لیا ہے۔ پھر یقین دلانے کے لئے کہا :(وسئل القریۃ التی کنا فیھا والعیر التی اقبلنا فیھا) (یوسف :82)”اور آپ اس بستی سے پوچھ لیں جن میں ہم تھے اور اس قافلے سے بھی جس میں ہم آئے ہیں۔“ مطلب یہ ہے کہ اس بستی والوں سے پوچھ لیں۔ اسی طرح یہاں مطلب یہ ہے کہ نہ ان پر آسمان والے روئے اور نہ زمین والے ، بلکہ ہر ایک نے اطمینان کا سانس لیا…
Read the full tafseer →ان پر آسمان اور زمین میں ان کے کفر کے باعث نہ روئے، اور انہیں غرق ہونے میں مہلت نہ دی۔ عرب اپنے سردار کی موت کے وقت کہا کرتے تھے۔ اس کی مصیبت تمام اشیاء کو عام ہوگئی یہاں تک کہ آسمان اور بجلی بھی نہ روئے۔ اس کے لئے موسم سرما کی راتیں روئیں۔ شاعر نے کہا :
ہوا اپنے غم کو روتی ہے اور بجلی بادل چمکتی ہے
اور ایک اور شاعر نے کہا
سورج طلوع ہے وہ گرہن میں نہیں تجھ پر رات کے ستارے اور چاند رو رہے ہیں۔
خارجیہ نے کہا :
اے خابور کے درخت ! کیا وجہ ہے تو پتے نکالے ہوئے ہے گویا تو ابن طریف پر غمگین نہیں۔
یہ تمثیل اور تخییل کا طریقہ جزع کرنے اور رونے میں مبالغہ کے لئے ہے اس کا معنی ہے وہ ہلاک ہوئے نہ ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
فرعونیوں کی بےکسی میں ہلاکت :
1:۔ الترمذی وابن ابی الدنیا فی ذکر الموت وابویعلی ابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) وابو نعیم فی الحلیہ والخطیب نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بندے کے لئے آسمان دو دروازے ہیں ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کا عمل اوپر جاتا ہے اور دوسرا دروازہ جس سے اس کا رزق اترتا ہے جب وہ مرجاتا ہے تو دونوں دروازے اسے نہیں پاتے اور اس پر روتے ہیں اور یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) ” فما بکت علیہم السمآء والارض “ (کہ ان پر آسمان و زمین نہیں روئی) اور (یہ بات بھی) بتائی گئی کہ وہ لوگ زمین پر نیک عمل نہیں کرتے تھے جو ان پر روتا آسمان کی طرف کوئی پاکیزہ کلمہ اوپر نہیں چڑھتا…
Read the full tafseer →فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ [ تو نہیں روئے ان پر ] السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ [ زمین و آسمان ] وَمَا كَانُوْا [ اور نہ وہ تھے ] مُنْظَرِيْنَ [ مہلت دیے جانے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
پھر فرمایا ﴿فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ (رح) 0029﴾ (سو ان پر آسمان اور زمین کو رونا نہ آیا اور وہ مہلت دئیے جانے والے نہ تھے) یعنی اللہ تعالیٰ نے مبغوض اور مغضوب علہیم ہونے کی وجہ سے ہلاک فرما دیا اور یہ لوگ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے مبغوض تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو بھی ان سے بغض تھا گو تکوینی طور پر بامر الٰہی ان پر بارش ہوتی تھی اور زمین بھی ان کا رزق اگاتی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے عظیم آسمان و زمین ان سے راضی نہ تھے لہٰذا ان کے بیک وقت غرق ہونے پر انہیں ذرا بھی ترس نہ آیا اور ان کی ہلاکت کی وجہ سے وہ ذرا بھی نہ روئے۔
مومن کی موت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔
(ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
19:۔ ” فما بکت “ یہ کنایہ ہے اس سے کہ فرعون کی ہلاکت کوئی اہم اور بڑا حادثہ نہیں ہے، بلکہ ایک حقیر اور معمولی سی بات تھی ان کی ہلاکت سے کوئی فرق نہیں آیا۔ مجاز عن عدم الاکتراث بھلاکہم والاعتداد بوجودھم (بیضاوی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–29
ربطہ آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے زمانے کے مشرکین بالخصوص مشرکین مذکر انداز کیا ، ان کی نافرمانی کا حال بیان کیا اور پھر ان پر آن والی گرفت کا ذکر کیا۔ اللہ نے ان پر دھوئیں کی شکل میں قحط مسلط کیا۔ انہوں نے عہد کیا کہ یہ مصیبت دور ہوجائے تو وہ ایمان لے آئیں۔ مگر جب انہیں قحط سے نجات مل گئی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ کفر و شرک میں منہمک ہوگئے۔ اللہ نے بھی فرما دیا کہ ہم تھوڑی مدت کے لئے ان سے تکلیف کو ہٹائیں گے لیکن نافرمانی کی صورت میں بڑی گرفت میں لے لیں گے۔ چناچہ اللہ نے بدر کے مقام پر بہت سے سرکردہ مشرکین کو ہلاک کیا ، بعض قیدی بنے اور بعض شکست کھا کر بھاگ گئے۔
قوم فرعون کی…
Read the full tafseer →فَمَا بَكَتْ عَلَيْہِمُ السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ وَمَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ 29 ۧ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] .
الثاني…
Read the full tafseer →ا ؎ بعض نادانوں نے اس مقام پر دو اعتراض کئے ہیں اول یہ کہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے ان مقامات کے کبھی وارث نہیں ہوئے وہ قلزم عبور کرنے کے بعد ملک شام میں حاکمانہ طور پر آئے اس بات کی تواریخ موافق و مخالف شاہد ہیں۔ اس کا جواب جیسا کہ مفسر نے اشارۃً بتایا ہے کہ اگر قوما آخرین سے بنی اسرائیل ہی مراد لیے جائیں تو ان چیزوں کے وارث کیے جانے سے یہ مراد نہیں کہ خاص انہیں چیزوں کا ان کو وارث بنا دیا ہے بلکہ ایسے ہی سازوسامان کا ملک شام میں وارث کردیا جیسا بولتے ہیں وہی باغ وہی کھیت دیے۔ ناز و نعیم جو ہمارے پاس ہیں ہمارے پاس بھی ہیں حالانکہ بالخصوص نہیں ہوتے بلکہ ان جیسے اشتراک جنسی کے لحاظ سے اس اس جنس…
Read the full tafseer →فَمَابَـکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَآئُ وَالْاَرْضُ وَمَا کَانُوْا مُنْظَرِیْنَ ۔ (الدخان : 29)
(پس نہ ان پر آسمان رویا اور نہ زمین نے آنسو بہائے، اور نہ انھیں ذرا سی مہلت دی گئی۔ )
کسی کا یہ قول درست معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بیخبر انسان وقت کا حکمران ہوتا ہے۔ اور سب سے بےحس وہ لوگ ہوتے ہیں جو حالات کی پیداوار اور حُبِ دنیا کے اسیر ہوتے ہیں۔ جب تک وہ برسراقتدار رہتے ہیں تو وہ نہ جانے اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں اور خوشامدی ہمیشہ انھیں گھیرے رہتے ہیں اور ان کے دماغوں میں یہ بات ڈالتے رہتے ہیں کہ اس سرزمین پر اہل زمین کی قسمتوں کا مالک آپ کے سوا کوئی نہیں۔ آپ ایک عظیم تمدن کے بانی ہیں اور آپ نے انسانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کے بارے میں موسیٰ (علیہ السلام) کی بدعا قبول فرمائی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہجرت کرنے کا حکم دیا۔
یاد رہے کہ ہجرت معمولی کام نہیں کہ پیغمبر کا دل اکتائے اور وہ اپنی قوم کو چھوڑ کر کہیں اور چلاجائے۔ یہ مشکل ترین کام ہے جسے انتہائی مشکل ترین حالات میں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس پیغمبر کو بھی ہجرت کی اجازت دی گئی اس کے حالات اتنے پرکٹھن تھے کہ پیغمبر کا مزید وہاں رہنا سود مند نہیں تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبروں کو ہجرت کرنے کی اجازت دی جاتی تھی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں…
Read the full tafseer →آیت 29 : فَمَا بَکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَآئُ وَالْاَرْضُ (پس نہ تو ان پر آسمان و زمین کو رونا آیا) کیونکہ وہ کفر پر مرے اور مومن جب مرتا ہے تو اس پر آسمان و زمین روتے ہیں۔ مومن پر اس کے نماز پڑھنے کی جگہ روتی ہے۔ اور آسمان کا وہ مقام ہوتا ہے جہاں سے اس کے اعمال چڑھتے ہیں۔
قولِ حسن (رح) :
اہل السماء والارض یہاں مضاف محذوف ہے یعنی اہل آسمان و اہل زمین روتے ہیں۔
وَمَا کَانُوْا مُنْظَرِیْنَ (اور نہ ان کو مہلت دی گئی) ان کو دوسرے وقت تک مہلت نہ دی گئی اور نہ چھوڑا گیا۔
Read the full tafseer →تفسیر 28۔ ، کذلک، کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اسی طرح میں کرتا ہوں اس کے ساتھ جو میری نافرمانی کرے۔ ، وارثنا ھاقوما آخرین، یعنی بنی اسرائیل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
24۔ 29۔ اوپر گزر چکا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر قلزم دریا کے کنارہ پر پہنچے تو دریا میں راستہ پیدا ہوجانے کے لئے حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا تھا کہ دریا میں اپنا عصا ماریں اب اس آیت کی تفسیر حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس نے یہ فرمائی 3 ؎ ہے کہ دریا سے پار ہوجانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چاہا تھا کہ اس قصد سے دریا میں پھر عصا ماریں کہ پہلی دفعہ دریا میں عصا مارنے سے دریا میں جو راستہ پیدا ہوگیا ہے وہ راستہ دوسری دفعہ عصا کے مارنے سے جاتا رہے تاکہ اس راستہ سے فرعون اور اس کے ساتھی دریا سے پار ہو کر بنی اسرائیل کا پیچھا نہ کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت 17
رسول مصطفیٰ محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور ان کا قصہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ذکر فرمایا، نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں فرمایا : (آیت) ” یعنی ہم نے اپنے رسول کریم حضرت موسیٰ بن عمران کو ان کی طرف مبعوث کر کے انہیں آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
(ان ادوآ الی عباد اللہ) یعنی حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا ” اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ “ اس سے حضرت موسیٰ کی مراد بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →32 ظالموں پر نہ آسمان رویا نہ زمین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ان پر آسمان رویا اور نہ زمین "۔ عربوں کا کہنا تھا کہ جو کوئی بڑا آدمی مرجاتا ہے تو اس پر زمین و آسمان روتے ہیں۔ (الطبری، القرطبی، المراغی اور المحاسن وغیرہ) ۔ اور فرعونیوں کو اپنی بڑائی پر جو ناز تھا وہ مشہور و معروف ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کے اس انجام پر نہ کوئی رویا اور نہ کسی نے کوئی سوگ منایا۔ جیسا کہ خود ہمارے ملک ۔ پاکستان ۔ کے دور حاضر کے حکمرانوں میں سے ایک کا کہنا تھا کہ اگر مجھ پر ہاتھ ڈالا گیا، مجھے جیل بھیجا گیا اور مجھے کوئی تکلیف پہنچائی گئی تو ہمالیہ روئے گا۔ ملک خون میں نہا جائے گا اور اندھیرے میں ڈوب جائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے
تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں
لیلہ مبارکہ :
لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی غرق ہونے کے بعد آسمان و زمین کے رہنے والوں میں سے کسی نے ان کی تباہی پر دو آنسو نہ بہائے۔ یہی حشر ہر ظالم حکمران ٹولے کا ہوتا ہے۔
2 ” کہ توبہ کرلیتے بلکہ ان کی آن میں ڈبو دیئے گئے۔ “
Read the full tafseer →(44:29) مابکت علیہم : ماضی منفی واحد مؤنث غائب بکاء مصدر باب ضرب۔ نہ روئی۔ بمعنی نہ روئے ان پر۔
علیہم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع فرعون اور وہ لوگ ہیں جو اس کے ہمراہ غرق ہوگئے تھے۔
منظرین۔ اسم مفعول جمع مذکر منصوب بوجہ خبر کانوا۔ منظر واحد۔ مہلت دئیے گئے۔ مہلت یافتہ۔ اور نہ انہیں (مزید) مہلت دی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 33 : فتنا ( ہم نے آزمایا) لا تعلوا (تم نہ چڑھو) اعتزلون ( تم مجھ سے دور ہٹ جائو) اسر (تو راتوں رات چل) رھوا ( ٹھہرا ہوا) جند ( لشکر) مابکت (نہ روئی ، نہ رویا) منظرین (مہلت دیئے گئے) اخترانا ( ہم نے پسند کیا)
تشریح : آیت نمبر 17 تا 33 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق و صداقت کی سر بلندی اور ہدایت و تبلیغ میں ساری زندگی جدوجہد فرمائی فرعون اور آل فرعون نے جس طرح ان کی نافرمانی کی اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں عبرت و نصیحت کے لئے مختصر یا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہاں ایک مرتبہ پھر حضرت موسیٰ کی زندگی کے ایک اور پہلو کو بیان کرکے کفار قریش کو آگاہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–36
نافرمان قوموں کا انجام۔
(ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع بنی اسرائیل دریا کے پار ہوئے تو حضرت موسیٰ نے چاہا کہ دریا کو اپنے عصا سے ماریں کہ پھر ویسا ہی ہوجائے جیسا تھا، تاکہ اس راستہ سے فرعون اور اس کے ساتھی دریا سے پار ہوکربنی اسرائیل کا پیچھا نہ کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ دریاکواسی طرح بیچ میں خشک رہنے دو تاکہ فرعون اور اس کا لشکر دریا کی خشک زمین پر پہنچ جاویں تو پانی کا پاٹ ملادیاجائے اور ان سب کو غرق کردیاجائے، اسی قصہ کو مختصر طور پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے ساتھی اپنے باغ اور نہریں ، کھیتیاں، اچھے مکان اور راحت کا ہر طرح کا سامان مصر میں چھوڑ کر یہاں دریائے قلزم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–32
[8] یعنی یہ افضلیت اور اشرفیت یوں ہی اٹکل پچو بلاوجہ نہ تھی۔ یہ اس لئے تھی کہ اللہ کے علم میں اس وقت کی قوموں میں اس کے لئے موزوں ترین قوم بنی اسرائیل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
دھوئیں کا عذاب
1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…
Read the full tafseer →(29) پھر ان لوگوں پر نہ تو آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ان کو کوئی مہلت دی گئی۔ یعنی فرعونیوں کی تباہی پر نہ آسمان و زمین کو کوئی رنج ہوا اور نہ ان کو کی قسم کی مہلت دی گئی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حدیث میں فرمایا ہے کہ مسلمان کے مرنے پر روتا ہے درازہ آسمان کا جس سے اس کی روز اترتی تھی اور زمین جہاں وہ نماز پڑھتا تھا۔ یہ چونکہ نہ مسلمان تھے اور نہ نماز پڑھتے تھے اس لئے آسمان و زمین کو بھی ان سے کوئی ہمدردی نہ تھی۔
Read the full tafseer →ف 3۔ اور یہ اثر ہے مغبوضیت کا۔
4۔ یعنی اگر چندے جیتے تو عذاب نار سے اور بچے رہتے اور یہ مہلت نہ ملنا اثر ہے مبغوضیت کا۔
Read the full tafseer →پھر ان لوگوں پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ہی ان کو مزید مہلت ملی
92 ؎ جب وہ اقتدار میں تھے اور مصر کے سیاہ وسفید کے مالک بنے اور جو ان کے جی میں آیا انہوں نے کیا اور بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے نکلنے نہ دیا اور نہ ہی اس کو تسلیم کیا کہ ان کی حیثیت بھی ہماری قوم کی طرح ہے بلکہ وہ اکیلی قوم اپنی مرضی کے قوانین بناکر اپنی مرضی کے فیصلے بنی اسرائیل پر ٹھونستے رہے اور انہوں نے جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ اختیار کیا۔ لیکن جب اس کے ظلم کی رات ختم ہونے پر ائٓی تو کوئی زیادہ مدت نہ لگی اور ایک پل بھر میں ان غلاموں کے ہاتھ میں اقتدار دے دیا گیا جن کو قبطی اپنے غلام کہتے تھے کیونکہ یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
Weeping of the Sky and the Earth
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ "So, neither the sky and earth wept over them... (44:29) ". This means they did not perform any righteous deeds on earth which would weep for them when they died, nor did any of their righteous deeds ascend through the gates of heaven, so that the sky would weep on their death. There are several ahadith which confirm that when a righteous person dies, the heaven and earth weep. Hafiz Abu Ya` la reports on the authority of Sayyidna Anas ؓ that the Prophet of Allah ﷺ said: "For every person there are two gates in…
Read the full tafseer →25 That is, "When they were the rulers, they werc known for their glory and grandeur: hymns were sung of their praise, flatterers flatterted them to such an extent as if the whole world was devoted to them for their excellences and indebted to them for their favours and there was none more popular in the world than they. But when they fell there was none to shed a tear on their fall; rather the world felt relieved that a cause of distress had been removed. Obviously, they had neither done any good to the people that the dwellers of the earth might weep on them, nor anything for the sake of…
Read the full tafseer →