وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ كَرِیْمٍ ۟ۙوَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ
اور کھیتیاں اور نفیس مکان
— Fateh Muhammad Jalandhari
And crops and noble sites
— Saheeh International
Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ كَرِیْمٍ ۟ۙوَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ
اور کھیتیاں اور نفیس مکان
— Fateh Muhammad Jalandhari
And crops and noble sites
— Saheeh International
Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan
اور کھیت اور شاندار محل تھے جو وہ چھوڑ گئے
اور کھیتیاں اور نفیس مکان
اور کھیتیاں اور راحت بخش ٹھکانے
اور کتنے کھیت اور شاندار مکانات۔
او رکھیت اور عمدہ مکانات
اور زراعتیں اور عالی شان عمارتیں،
اور کھیتیاں اور عمدہ مقام۔
اور کھیت اور عمدہ عمارتیں بھی
کھیتیاں اور راحت بخش ٹھکانے
کھیتیاں اور عمدہ مکانات
اور کھیتاں اور عمدہ مکانات
اور کھیتیوں اور شاندار رہائش گاہوں کو
کھیتیاں اور نفیس مکان۔
and sown fields and splendid mansions,
_ and how many fields and noble sites,
_ and how many fields and noble sites,
And green crops (fields) and goodly places,
And the cornlands and the goodly sites
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And crops and noble sites
corn-fields, gracious mansions,
And cornfields and noble places!
And cornfields and goodly positions.
And corn-fields and noble buildings,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 17–33
قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
سورة الدُّخَان 24 حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کے بعد مصر کی سرزمین کا وارث بنادیا۔ اور قتادہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد دوسرے لوگ ہیں جو آل فرعون کے بعد مصر کے وارث ہوئے، کیونکہ تاریخوں میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں ملتا کہ مصر سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل کبھی وہاں واپس گئے ہوں اور وہاں اس زمین کے وارث ہوئے ہوں یہی اختلاف بعد کے مفسرین میں بھی پایا جاتا ہے۔ (تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، الشعراء، حاشیہ 45)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
(آیت) وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا (اور دریا کو سکون کی حالت میں چھوڑ دینا) ”رھو“ کے معنی ہیں ”ساکن ‘ دراصل حضرت موسیٰ ؑ اور آپ کے رفقاء کے پار ہوجانے کے بعد ان کی خواہش طبعی طور پر یہ ہونی چاہئے تھی کہ دریا دوبارہ اپنی اصلی حالت پر آجائے تاکہ فرعون کا لشکر پار نہ ہو سکے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ فرما دی کہ خود پار ہونے کے بعد سمندر کو اس کی ہئیت پر ساکن ہی چھوڑ دینا اور دوبارہ پانی کے جاری ہونے کی فکر مت کرنا، تاکہ فرعون خشک راستہ بنا ہوا دیکھ کر دریا کے بیچوں بیچ پہنچ جائے، اس وقت ہم دریا کو جاری کردیں گے اور یہ لشکر ڈوب جائے گا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
کم ترکوا من جنت وعیون وزروع ومقام کریم وقعمۃ کانوا فیھا فکھین (27-25) خدا کے خوف کے بغیر سامان پیش تیزی کا پیش خیمہ ہے یعنی جن باغوں اور چشموں، کھیتوں اور پر شکوت کو ٹھیوں اور عیش کے سامانوں نے ان کو استکبار میں مبتلا کیا، ان سے محروم ہو کر سمندر کی موجود کا لقمہ بنے۔ ان کا گمان تھا کہ یہ چیزیں ان کی کامیابی اور ترقی کی دل یل ہیں اور جو لوگ ان کی تباہی سے ڈراتے ہیں وہ بالکل بےخرد ہیں۔ لیکن ثابت ہوگیا کہ خدا کے خوف کے بغیر یہ چیزیں تباہی کا پیش چیمہ ہیں اور جب تباہی آتی ہے تو ان میں سے کوئی چیز بھی کام نہیں آتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
28۔ 1 بعض کے نزدیک اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ لیکن بعض کے نزدیک بنی اسرائیل کا دوبارہ مصر آنا تاریخی طور پر ثابت نہیں، اس لئے ملک مصر کی وارث کوئی اور قوم بنی، بنی اسرائیل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–33
9: اس سے مراد وہ انعامات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل پر فرمائے، مثلاً من وسلوی نازل کرنا، پتھر سے چشمے نکال دینا وغیرہ، جن کا ذکر سورة بقرہ : 47 تا 58 میں فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت نمبر 17 تا 33 اس وادی کے دروازے ہی پر یہ خوفناک اعلان لکھا ہوا ہے کہ یاد رکھو ، کسی قوم کی طرف رسول کا بھیجا جانا اس کی آزمائش ہوتی ہے۔ مکذبین کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ وقت بہت تھورا ہے ، اس میں تم تکذیب بھی کرسکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، مومنین پر ظلم و ستم بھی ڈھا سکتے ہو لیکن آخر میں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے اور تم جو رسول اللہ ﷺ کو طیش دلاتے ہو ، ان کا پیمانہ صبر لبریز کرتے ہو ، لیکن آپ ﷺ بدستور صبر کا پیکر بنے ہوئے ہیں اور تمہاری ہدایت ہی کے امیدوار ہیں ، اس کا انجام برا بھی ہو سکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
10 یعنی بنی اسرائیل کے ہاتھوں میں دے دیا۔ جیسا کہ سورة شعراء میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرعون کے غرق ہوئے بعد مصر میں نبی اسرائیل کا دخل ہوا۔ اور اگر یہ ثابت نہ ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جس قسم کے سامان فرعونیوں نے چھوڑے تھے اسی طرح کے ہم نے بنی اسرائیل کو دیے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت 25 ‘ 26 { کَمْ تَرَکُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ۔ وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ۔ ”انہوں نے کتنے ہی باغوں ‘ چشموں ‘ کھیتوں اور شاندار رہائش گاہوں کو چھوڑا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
20 یہ دوسری قوم کون تھی جو فرعون اور اٰل فرعون کے محلات، باغات، چشموں اور کھیتوں کی وارث بنی تھی ؟ اس کے متعلق بھی اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بنی اسرائیل ہی کے کچھ لوگ مصر میں باقی رہے گئے تھے۔ جو فرعون اور آل فرعون کے اقتدار کے خاتمہ کے بعد ان چیزوں کے وارث بن گئے تھے۔ اور بعض کا خیال ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے علاوہ کوئی اور لوگ تھے۔ قرآن کریم سے دو باتوں کی تائید ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ یہاں بھی (قَوْمًا اٰخَرِیْنَ ) کے الفاظ دوسری صورت کی تائید کرتے ہیں۔ نیز تاریخ سے بھی فرعون کی غرقابی کے بعد مصر میں بنی اسرائیل کی حکومت ثابت نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
18۔ یعنی اسی نسل کی بعد ایک دوسری نسل مصر اور اس کے سارے تعیشات پر حکاکم و متصرف ہوگئی اور ان لذتوں اور راحتوں کے سامان پر فرعونیوں کو دوام نہ ہوسکا۔ (آیت) ” کم ترکوا “۔ کم اظہار کثرت کیلئے ہے۔ کم عبارۃ عن الکثرۃ (مدارک) (آیت) ” قوما اخرین “۔ اس سے اشارہ اگر بنی اسرائیل ہی کی طرف سمجھا جائے جیسا کہ بعض مفسرین نے سمجھا ہے تو (آیت) ” اور ثنھا “۔ سے مراد یہ نہ رہے گی کہ انہیں بعینہ فرعونیوں ہی کی چھوڑی ہوئی نعمتیں عطا کیں، بلکہ مراد نفس وہ نعمتیں (سرسبز کھیتیاں، شاداب باغ بہتے ہوئے چشمے وغیرہ) ہوں گی، جو بنی اسرائیل کو شام و فلسطین یا کہیں بھی عطا ہوئی ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیت نمبر 1 تا 29 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…
Read the full tafseer →وزروع ومقام کریم۔ اور کھیتیاں اور عمدہ مکانات
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
(25۔ 27) اور وہ لوگ کتنے ہی باغ اور کتنے ہی ان باغوں میں نہریں اور کتنی ہی کھیتیاں اور کتنے ہی عمدہ مکانات اور کتنے ہی آرام کے سامان جس میں وہ خوش رہا کرتے تھے چھوڑ گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
کم ترکوا من جنت وعیون…: ان آیات کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة شعراء کی آیات کی (55 تا 59) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
کم کثرت بیان کرنے کے لئے سورة شعراء میں اس آیت کے معنی کے متعلق گفتگو گزر چکی ہے۔ نون کے فتحہ کے ساتھ ہے جس کا معنی تنعیم ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر انعام کیا تو وہ اچھی و خوشحالی زندگی گزارنے لگا نعمۃ کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی احسان ہے جو تجویز کیا جاتا ہے اسی طرح نعمی ہے اگر تو نون کو فتح دے گا تو اسے مدہ پڑھے گا تو کہے گا نعماء نعم اس کی مثل ہے اس کے پاس وسیع مال ہے یہ سب اقوال جوہری کی صحاح سے منقول ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : سے مراد دریائے نیل ہے (1) ابن لہیعہ نے کہا : فیوم ہے، ابن زیاد نے کہا : مصر کی سرزمین ہے جس میں بہت زیادہ منافع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے فرمایا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو آزمایا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ یعنی ہم نے اس کو آزمائش میں مبتلا کردیا (آیت ) ” قبلھم قوم فرعون وجاء ھم رسول کریم “ (ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آیا تھا فرمایا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) تھے (آیت) ” ان ادوا الی عباد اللہ “ (اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو) یعنی بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ (آیت ) ” وان لا تعلوا علی اللہ “ اور تم خدا سے سرکشی مت کرو) یعنی اللہ تعالیٰ پر بڑائی کا اظہار نہ کرو (آیت ) ”…
Read the full tafseer →وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيْمٍ [ اور کھیتیاں اور باعزت ٹھہرنے کی جگہ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
اہل دنیا کو اپنی دنیا اور حالت پر کھیتیوں پر باغوں پر مال و خزانوں پر بہت غرور اور گھمنڈ ہوتا ہے فرعونیوں کو بھی بڑا گھمنڈ تھا جب ڈوب گئے تو سب کچھ دھرا رہ گیا فرمایا ﴿ كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍۙ0025﴾ اور وہ لوگ کتنے ہی باغ کتنے ہی چشمے اور کتنی ہی کھیتیاں اور کتنے ہی عمدہ مکانات اور کتنے ہی آرام کے سامان چھوڑ گئے جن میں وہ خوش رہا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔ (ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
19:۔ ” فما بکت “ یہ کنایہ ہے اس سے کہ فرعون کی ہلاکت کوئی اہم اور بڑا حادثہ نہیں ہے، بلکہ ایک حقیر اور معمولی سی بات تھی ان کی ہلاکت سے کوئی فرق نہیں آیا۔ مجاز عن عدم الاکتراث بھلاکہم والاعتداد بوجودھم (بیضاوی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–29
ربطہ آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے زمانے کے مشرکین بالخصوص مشرکین مذکر انداز کیا ، ان کی نافرمانی کا حال بیان کیا اور پھر ان پر آن والی گرفت کا ذکر کیا۔ اللہ نے ان پر دھوئیں کی شکل میں قحط مسلط کیا۔ انہوں نے عہد کیا کہ یہ مصیبت دور ہوجائے تو وہ ایمان لے آئیں۔ مگر جب انہیں قحط سے نجات مل گئی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ کفر و شرک میں منہمک ہوگئے۔ اللہ نے بھی فرما دیا کہ ہم تھوڑی مدت کے لئے ان سے تکلیف کو ہٹائیں گے لیکن نافرمانی کی صورت میں بڑی گرفت میں لے لیں گے۔ چناچہ اللہ نے بدر کے مقام پر بہت سے سرکردہ مشرکین کو ہلاک کیا ، بعض قیدی بنے اور بعض شکست کھا کر بھاگ گئے۔ قوم فرعون کی…
Read the full tafseer →وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيْمٍ 26 ۙ زرع الزَّرْعُ : الإنبات، وحقیقة ذلک تکون بالأمور الإلهيّة دون البشريّة . قال : أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ [ الواقعة/ 64] ( ز ر ع ) الزرع اس کے اصل معنی انبات یعنی اگانے کے ہیں اور یہ کھیتی اگانا در اصل قدرت کا کام ہے اور انسان کے کسب وہنر کو اس میں دخل نہیں اسی بنا پر آیت کریمہ : أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ [ الواقعة/ 64] بھلا بتاؤ کہ جو تم بولتے ہو کیا اسے تم اگاتے ہو یا اگانے والے ہیں ۔ مَقامُ والمَقامُ يكون مصدرا، واسم مکان القیام، وزمانه . نحو : إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ترکیب : ان ادوا قیل ان مفسرۃ لان مجئی الرسول متضمن لمعنی القول وقیل مخفقذمن الثقیلۃ عباد اللہ اما مفعول بہ لا دوا ای ارسلوھم معی اوانہ مناوی والتقدیر ادوا الی یا عباد اللہ ماھو واجب علیکم من الایمان والاعمال الصالحۃ۔ تفسیر : کفار مکہ کو ان کی سرکشی پر ایک آنے والی بلا سے ڈرایا گیا تھا اب اس جگہ فرعونیوں کا قصہ سنایا جاتا ہے کہ وہ باوجودیکہ تم سے زیادہ مالدار ‘ طاقت ور تھے ان کو رسول نے سمجھایا مگر نہ مانا اور سرکشی سے باز نہ آئے۔ بنی اسرائیل کے پیچھے دوڑے آئے کہ پکڑلاویں اور غلامی میں رکھیں آخر اس کے فضل سے بنی اسرائیل بحرِقلزم سے خشک پار اتر گئے اور فرعونی غرق ہوگئے تمام باغ و مکان و آرایش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
کَمْ تَرَکُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ ۔ وَّنَعْمَۃٍ کَانُوْا فِیْھَا فٰـکِھِیْنَ ۔ کَذٰلِکَ قف وَاَوْرَثْنٰـھَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ ۔ (الدخان : 25 تا 28) (انھوں نے کتنے ہی باغ اور چشمے۔ اور کھیت اور شاندار محل۔ اور سامانِ عیش جن میں وہ مزے لوٹ رہے تھے اپنے پیچھے چھوڑے۔ ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں اور ہم نے دوسروں کو ان چیزوں کا وارث بنادیا۔ ) انکارِحق کا نتیجہ ان آیات کریمہ میں جن نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے یہ وہ اسبابِ عیش ہیں اور یہ وہ طاقت کا سامان ہے جس کی وجہ سے انسان ہمیشہ استکبار کا شکار ہوتا ہے۔ وہ انسانیت کو بھول کر خدائی کا ڈول ڈالنے لگتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کے بارے میں موسیٰ (علیہ السلام) کی بدعا قبول فرمائی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ یاد رہے کہ ہجرت معمولی کام نہیں کہ پیغمبر کا دل اکتائے اور وہ اپنی قوم کو چھوڑ کر کہیں اور چلاجائے۔ یہ مشکل ترین کام ہے جسے انتہائی مشکل ترین حالات میں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس پیغمبر کو بھی ہجرت کی اجازت دی گئی اس کے حالات اتنے پرکٹھن تھے کہ پیغمبر کا مزید وہاں رہنا سود مند نہیں تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبروں کو ہجرت کرنے کی اجازت دی جاتی تھی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں…
Read the full tafseer →آیت 26 : وَزُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ کَرِیْمٍ (اور کھیتیاں اور عمدہ مکانات) مقام سے خوبصورت مکانات ایک قول : منبر۔
Read the full tafseer →(25۔۔۔۔۔۔۔۔ کم ترکوا، یعنی غرق کے بعد۔ ، من جنات وعیون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
24۔ 29۔ اوپر گزر چکا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر قلزم دریا کے کنارہ پر پہنچے تو دریا میں راستہ پیدا ہوجانے کے لئے حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا تھا کہ دریا میں اپنا عصا ماریں اب اس آیت کی تفسیر حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس نے یہ فرمائی 3 ؎ ہے کہ دریا سے پار ہوجانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چاہا تھا کہ اس قصد سے دریا میں پھر عصا ماریں کہ پہلی دفعہ دریا میں عصا مارنے سے دریا میں جو راستہ پیدا ہوگیا ہے وہ راستہ دوسری دفعہ عصا کے مارنے سے جاتا رہے تاکہ اس راستہ سے فرعون اور اس کے ساتھی دریا سے پار ہو کر بنی اسرائیل کا پیچھا نہ کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت 17 رسول مصطفیٰ محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور ان کا قصہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ذکر فرمایا، نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں فرمایا : (آیت) ” یعنی ہم نے اپنے رسول کریم حضرت موسیٰ بن عمران کو ان کی طرف مبعوث کر کے انہیں آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔ (ان ادوآ الی عباد اللہ) یعنی حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا ” اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ “ اس سے حضرت موسیٰ کی مراد بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
31 فرعونیوں کی دولت دوسروں کی میراث : سو اس عظیم الشان درس عبرت و بصیرت پر تنبیہ کرتے ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان چیزوں کا وارث بنادیا دوسروں کو "۔ یعنی فرعونیوں کے خاتمہ وزوال کے بعد ہم دوسری قوموں کو یکے بعد دیگرے اس ملک کا وارث بناتے چلے گئے۔ چناچہ کچھ عرصہ آشوریوں اور بابلیوں نے اس پر قبضہ جمایا۔ پھر حبشی قابض ہوگئے۔ ان کے بعد اہل فارس اور پھر یونانی اور رومی بھی۔ پھر ان کے بعد عرب، طولونی، اخشدی، فاطمی، ممالیک اور ترک بھی اپنی اپنی حکومتیں کر گئے۔ اور آخر میں فرانسیسی اور انگریزی سامراج نے اس پر پنجے گاڑے۔ اور بالآخر اب اس پر اہل وطن یعنی عرب مسلمانوں کی حکومت ہے۔ اور۔ { اَنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں لیلہ مبارکہ : لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
ف 7 دوسرے لوگوں کا لفظ اگرچہ عام ہے اور اسی لئے بعض مفسرین (رح) نے ان سے مصر کے دوسرے لوگ مراد لئے ہیں، لیکن صحیح یہ ہے کہ ان سے ماراد بنی اسرائیل ہی ہیں جیسا کہ سورة شعراء میں ہے ( کذلک و اور ثنا ھا بنی اسرائیل) اسی طرح اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنادیا) آیت 59) نیز دیکھئے سورة اعراف ( آیت 138) شاہ صاحب (رح) بھی لکھتے ہیں، بعض بنی اسرائیل کو جیسے سورة شعراء سے معلوم ہوتا ہے فرعون کے غرق ہوئے پیچھے بنی اسرائیل کا دخل ہوا مصر میں۔ ( موضح) ایک مطلب یہ بھی ممکن ہے کہ فراعنہ کی شان و شوکت کا وارث بنی اسرائیل کو بنایا، واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →(44:26) وزروع ومقام کریم : ای وکم من زروع ومقام کریم ترکوا۔ کتنے ہی کھیت اور عمدہ مکانات وہ پیچھے چھوڑ گئے۔ زروع زرع کی جمع ۔ کھیت کھتان۔ زرع (باب فتح) مصدر۔ کھیتی اگانا۔ مقام کریم موصوف و صفت کریم۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ۔ کرم (باب کرم) مصدر سے۔ معظم۔ شاندار۔ باعزت
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 33 : فتنا ( ہم نے آزمایا) لا تعلوا (تم نہ چڑھو) اعتزلون ( تم مجھ سے دور ہٹ جائو) اسر (تو راتوں رات چل) رھوا ( ٹھہرا ہوا) جند ( لشکر) مابکت (نہ روئی ، نہ رویا) منظرین (مہلت دیئے گئے) اخترانا ( ہم نے پسند کیا) تشریح : آیت نمبر 17 تا 33 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق و صداقت کی سر بلندی اور ہدایت و تبلیغ میں ساری زندگی جدوجہد فرمائی فرعون اور آل فرعون نے جس طرح ان کی نافرمانی کی اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں عبرت و نصیحت کے لئے مختصر یا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہاں ایک مرتبہ پھر حضرت موسیٰ کی زندگی کے ایک اور پہلو کو بیان کرکے کفار قریش کو آگاہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–36
نافرمان قوموں کا انجام۔ (ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع بنی اسرائیل دریا کے پار ہوئے تو حضرت موسیٰ نے چاہا کہ دریا کو اپنے عصا سے ماریں کہ پھر ویسا ہی ہوجائے جیسا تھا، تاکہ اس راستہ سے فرعون اور اس کے ساتھی دریا سے پار ہوکربنی اسرائیل کا پیچھا نہ کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ دریاکواسی طرح بیچ میں خشک رہنے دو تاکہ فرعون اور اس کا لشکر دریا کی خشک زمین پر پہنچ جاویں تو پانی کا پاٹ ملادیاجائے اور ان سب کو غرق کردیاجائے، اسی قصہ کو مختصر طور پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے ساتھی اپنے باغ اور نہریں ، کھیتیاں، اچھے مکان اور راحت کا ہر طرح کا سامان مصر میں چھوڑ کر یہاں دریائے قلزم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–32
[8] یعنی یہ افضلیت اور اشرفیت یوں ہی اٹکل پچو بلاوجہ نہ تھی۔ یہ اس لئے تھی کہ اللہ کے علم میں اس وقت کی قوموں میں اس کے لئے موزوں ترین قوم بنی اسرائیل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
دھوئیں کا عذاب 1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…
Read the full tafseer →(26) اور کتنی ہی کھیتیاں اور عمدہ عمدہ مکان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
ف 2۔ مراد بنی اسرائیل ہیں۔
Read the full tafseer →اسی طرح اس نے اپنی کھیتیاں اور عزت والے مقام بھی چھوڑ دئیے 62 ؎ جن زرخیز زمینوں میں اس سکو ناز تھا اور جن رہائش گاہوں اور سروسامان کو وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے پش کرتا تھا وہ موسیٰ (علیہ السلام) کا پیچھے کرنے کی غرض سے ان سب کو چھوڑ کر مصر سے چل نکلا اور اس کو دوبارہ ان زمینوں ، کھیتوں ، باغوں اور کو ٹھیوں میں آباد ہونا نصیب نہ ہوا اور اس کی دنیا کے سارے سروسامان اسی جگہ دھرے کے دھرے رہ گئے اور رب اور الٰہ کہلانے والے کو اس کی موت کے وقت سب کچھ چھوڑ کر مصر سے نکل جانے پر مجبور کردیا اس کو کیا معلوم تھا کہ میں ان سارے سروسامان کو خود بنی اسرائیل کے لیے خالی چھوڑ کر چلا ہوں تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا "And leave the sea in the state of stillness; (44:24) " The word rahwan means 'to be still/calm/motionless'. When Prophet Musa (علیہ السلام) and his companions crossed the sea, Musa ill naturally desired for the sea to go back to its original state. So he wanted to strike it with his staff so that it would form a barrier between them and Fir'aun to prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and he should not fear either being overtaken by…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
24 Hadrat Hasan Basri says that "others" here implies the children of Israel, whom Allah made heirs of the land of Egypt after Pharaoh's people, and Qatadah says it implies the other people who inherited Egypt after the people of Pharaoh, for the Histories do not make any mention that the Israelites ever returned to Egypt after the exodus and inherited it. This same point has been disputed by the later commentators also. (For a detailed discussion, see AshShua'ra: 57-59 and the E.N.'s on it).
Read the full tafseer →