Explained with ayahs 66–73
جنت میں جنت کے حقدار
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
سورة الزُّخْرُف 60
اصل میں ازواج کا لفظ استعمال ہوا ہے جو بیویوں کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے اور ایسے لوگوں کے لیے بھی جو کسی شخص کے ہم مشرب، ہم جولی، اور ہم جماعت ہوں۔ یہ وسیع المعنی لفظ اسی لیے استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس کے مفہوم میں دونوں داخل ہوجائیں۔ اہل ایمان کی مومن بیویاں بھی ان کے ساتھ ہوں گی اور ان کے مومن دوست بھی جنت میں ان کے رفیق ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
معارف و مسائل
دوستی درحقیقت وہی ہے جو اللہ کے لئے ہو
(آیت) اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ (تمام دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے بجز خدا سے ڈرنے والوں کے) اس آیت نے یہ بات کھول کر بتادی کہ یہ دوستانہ تعلقات جن پر انسان دنیا میں ناز کرتا ہے اور جن کی خاطر حلال و حرام ایک کر ڈالتا ہے قیامت کے روز صرف یہ کہ کچھ کام نہ آئیں گی بلکہ عداوت میں تبدیل ہوجائیں گی۔ چناچہ حافظ ابن کثیر نے اس آیت کے تحت حضرت علی کا یہ ارشاد مصنف عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم کی روایت سے نقل کیا ہے کہ دو دوست مومن تھے اور دو کافر، مومن دوستوں میں سے ایک کا انتقال ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
یعباد لاخوف علیکم الیوم ولا انتم تحزنون، الذین امنوا بایتنا وکانوا مسلمین، ادخلوا الجنۃ انتم وازواجکم تبرون (70-68)
اللہ تعالیٰ کی طرف سے متقی بندوں کو مبارکباد
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان متقی بندوں کو مبارکباد دی جائے گی کہ اے میرے بندو ! اب تم خوف اور حزن کے دارالابتلاء سے نکل کر اس ابدی بادشاہی میں داخل ہوگئے جس میں نہ تم کو کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ تم کسی حزن میں مبتلا ہو گے۔ ہم دوسرے محل میں وضاحت کرچکے ہیں کہ خوف مستقبل کے خطرات کا ہوتا ہے اور حزن حاضر و ماضی کی ناکامیوں اور صدمات کا جنت ایسی جگہ ہے جہاں اہل ایمان ان دونوں ہی چیزوں سے محفوظ ہوں گے اس وجہ سے جنت کی تعبیر کے لئے یہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
70۔ 1 اَ زْوَاجُکُمْ سے بعض نے مومن بیویاں، بعض نے مومن ساتھی اور بعض نے جنت میں ملنے والی حورعین بیویاں مراد لی ہیں۔ یہ سارے ہی مفہوم صحیح ہیں کیونکہ جنت میں یہ سب کچھ ہی ہوگا۔ تُحْبَرُونَ حَبْر سے ماخوذ ہے یعنی وہ فرحت و مسرت جو انہیں جنت کی نعمت و عزت کی وجہ سے ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
19: دوزخ کی نگرانی پر جو فرشتہ مقرر ہے، اس کا نام مالک ہے۔ دوزخی لوگ عذاب کی شدت سے تنگ آ کر مالک سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرو کہ وہ ہمیں موت ہی دیدے۔ جواب میں مالک کی طرف سے کہا جائے گا کہ تمہیں اسی دوزخ میں زندہ رہنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–77
جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔
آیت نمبر 66 تا 77
یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔
ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک…
Read the full tafseer →4 یعنی دل سے یقین کیا اور جوارح سے اس کے حکمبردار رہے۔ یہاں سے ایمان اور اسلام کا فرق ظاہر ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث جبرائیل میں اس کا مفصل بیان ہوا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 69 { اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَکَانُوْا مُسْلِمِیْنَ } ”یعنی وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان لائے اور فرماں بردار تھے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
67 ازواج کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے اور اس کا دوسرا مطلب تمہاری ہی طرح کے تمہارے دوسرے ساتھی اور دوست، جن کی دنیا میں دوستی کی بنیاد محض تقویٰ پر تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
58۔ (جس سے اب کبھی بےدخل نہ ہوگے) یہ منظر سب جنت کے ہیں۔ ہر نعمت، ہر سرور، ہر لذت، مادی ومعنوی، جسمانی وروحانی ہر قسم کی اہل جنت کو حاصل ہوگی، اس میں کوئی استثناء ہی نہیں۔ (آیت) ” وفیھا “۔ ضمیر ھا جنت کی طرف ہے۔ (آیت) ” وانتم فیھا خلدون “۔ اور پھر یہ نعمتیں علاوہ بےاندازو بےحساب ہونے کے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دائمی ہوں گی جن کے قطع ہونیکا کبھی خطرہ ہی نہیں۔ (آیت) ” فیھا ..... الاعین “۔ نفس وعین “۔ کی لذات کی اس تصریح نے حسی وبصری لذات کی اس صراحت نے ان باطل فرقوں کی جڑ کاٹ دی جو سمجھتے ہیں کہ جنت صرف کیفیات روحانی کا محل ہے۔ اور لذات مادی کا وہاں پتہ نشان بھی نہ ہوگا (آیت) ” اور ثتموھابما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیت نمبر 68 تا 89
ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…
Read the full tafseer →الذین امنوا بایتنا وکانوا مسلمین ‘ یعنی وہ بندے جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تھے اور (ہمارے) فرمانبردار تھے۔
ھَلْ یَنْظُرُوْنَ یعنی قریش یا وہ لوگ جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ‘ منتظر نہیں ہیں مگر قیامت کے ناگہاں آ پڑنے کے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت تو بہرحال یقیناً آئے گی ‘ اب گویا یہ لوگ اس کے آنے کے منتظر ہیں۔
اِلاَّ الْمُتَّقِیْنَ مگر وہ دوست جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ بغوی نے اس آیت کے ذیل میں حضرت علی کا ارشاد نقل کیا ہے ‘ آپ نے فرمایا : دو دوست مؤمن اور دو دوست کافر ہوتے ہیں۔ ایک مؤمن مرجاتا ہے ‘ وہ عرض کرتا ہے : اے میرے رب ! فلاں شخص مجھے تیری اور تیرے رسول کی اطاعت کا مشورہ دیتا تھا ‘ مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
(68۔ 69) سوائے ان حضرات کے جو کہ کفر و شرک اور ہر قسم کی برائیوں سے ڈرنے اور بچنے والے ہیں۔ جیسا کہ خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام وہ اس طرح پر نہ ہوں گے جس وقت ان کے علاوہ اور لوگوں کو خوف و غم نہ ہوگا تو اللہ کی جانب سے ان کو پکارا جائے گا کہ اے میرے بندو آج کوئی خوف نہیں اور نہ تم غمگین ہوگے۔
Read the full tafseer →الذین امنوا بایتنا …: اس میں ان لوگوں کی چند صفات بیان فرمائیں جو قیامت کے دن خوف اور غم سے آزاد ہوں گے۔ آیت کے الفاظ سے یہاں ایمان اور اسلام کا الگ الگ ہونا ظاہر ہے۔ (دیکھیے حجرات : 14) البتہ جب کہیں اکیلے ایمان یا اسلام کا ذکر آئے تو دونوں ایک ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ ہماری آیات پر یقین کے ساتھ ساتھ عمل طور پر بھی پوری طرح تابع فرمان تھے۔
Read the full tafseer →زجاج نے کہا : عبادی کی صفت کے طور پر محل نصب میں ہے کیونکہ عبادی منادی مضاف ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : مبتدا مخدوف کی خبر ہے یا یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر مخدوف ہے تقدیر کلام یہ ہے
ابو بکر اور زربن حبیش نے یا عبادی پڑھا ہے یاء مفتوح ہے اور دونوں حالتوں میں ثابت ہے اسی وجہ سے نافع، ابن عامر، ابو عمرو اور رویس نے دونوں حالتوں میں یاء کو ساکنہ کو ثابت کر رکھا ہے باقی قراء نے دونوں حالتوں میں یاء کو حذف کیا ہے کیونکہ اہل شام اور اہل مدینہ کے مصاحف میں یاء ثابت ہے کسی اور مصحف میں یاء نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے سعد بن معاذ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کا دن ہوگا۔ تو (آپس میں) رشتہ داریاں ختم ہوجائیں گی اور نسبت کمزور پڑجائیں گی اور بھائی چارہ بھی جاتا رہے گا مگر اللہ کے لئے جو بھائی چارہ تھا (وہ باقی رہے گا) اسی کو فرمایا (آیت) ” الا خلآء یومئذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین “ (تمام دنیوی دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے خدا سے ڈرنے والوں کے)
دنیا میں اللہ کی نافرمانی کرنے والے آپس میں دشمن ہوں گے :
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا خلآء یومئذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین “ سے مراد ہے دنیا میں اللہ کی…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ جو لوگ ایمان لائے ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں پر ] وَكَانُوْا مُسْلِمِيْنَ [اور وہ لوگ تھے فرمانبرداری کرنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
اہل جنت کے انعامات بتاتے ہوئے ﴿وَ تَلَذُّ الْاَعْيُنُ ﴾ بھی فرمایا کہ جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی یعنی جنت میں ایسی کوئی چیز سامنے نہ آئے گی جس کا دیکھنا ناگوار ہو، جو بھی کچھ ہوگا جس پر نظر پڑے گی آنکھوں کو مزہ ہی آئے گا وہاں ایسے مواقع نہ ہوں گے کہ کوئی چیز سامنے آئے اور اس کے دیکھنے سے روکا جائے یہ ابتلا اور امتحان دنیا میں ہی ہے وہاں بد نظری کا کوئی موقعہ نہ ہوگا بلکہ نظر ہی بد نہ ہوگی مزید فرمایا ﴿ وَ اَنْتُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَۚ0071﴾ (اور تم اس جنت میں ہمیشہ رہو گے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–89
تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔
(ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
41:۔ ” یعباد لا خوف “ تا ” تاکلون “ بشارت اخرویہ ہے۔ قیامت کے دن جب میدان حشر میں سب لوگ جمع ہوں گے تو سب پریشان اور گھبرائے ہوں اس وقت اللہ کی طرف سے منادی کرنے والا اعلان کرے گا کہ اے میرے بندو ! تم پر آج کوئی کونہیں اور نہ تمہیں کوئی غم ہوگا، آج تم ہر قسم کے خوف و ہراس اور غم واندوہ سے آزاد ہو۔ یہ اعلان سن کر کافر بھی اس کے امیدواروں میں شامل ہوجائیں گے اس کا دوسرا اعلان ہوگا۔ ” الذین امنوا بایاتنا وکانوا مسلمین “ یعنی میرے وہ بندے خوف و غم سے آزاد ہیں جو دنیا میں میری وحدانیت اور تمام ایمانیات پر ایمان لائے اور میرے فرمانبردار رہے۔ یہ اعلان سن کر کفار مایوس ہوجائیں گے اور ایمان والے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–76
ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر اور ساتھ مشرکین کا رد فرمایا۔ پھر نبوت و رسالت کے سلسلہ میں پہلے موسیٰ (علیہ السلام) اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اور ان کی بعثت کا مقصد واضح کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ مان کر جو لوگ شرک میں مبتلا ہوئے ان کا انجام بیان فرمایا۔ پھر ایسے لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے بارے میں فرمایا کہ کیا اب یہ قیامت کے منتظر ہیں جو اچانک آجائے گی اور ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ اس وقت لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور ایک دسورے کی صورت دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے۔ البتہ جو لوگ کفر ، شرک ، معاصی اور بدعقیدگی سے بچتے رہے۔ ان کی دوستی قیامت والے دن بھی…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا مُسْلِـمِيْنَ 69 ۚ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–78
تفسیر : اس کے بعد خود عیٰسی ( علیہ السلام) کے اقوال نقل کرتا ہے کہ اس نے بھی اپنے آپ کو خدا اور خدا کا بیٹا نہیں کہا بلکہ ولما جاء عیٰسی بالبنیات الخ کہ جب وہ نشانیاں یعنی معجزات لے کر آئے تو لوگوں سے یہ کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت یعنی وہ باتیں لے کر آیا ہوں جو انسان کی شائستگی کا باعث ہیں اور اس لیے بھی آیا ہوں کہ موسوی شریعت کی اصلاح کروں جو لوگوں نے اختلاف کر کے بگاڑ رکھی ہے سخت احکام کو اٹھائوں اور سیدھا رستہ دکھائوں۔ بنی اسرائیل میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے پہلے عجائب خرابیاں و اختلافات پھیلے ہوئے تھے۔ فرقہ صدوقی قیامت کا منکر تھا اور فقیہوں اور فریسیوں نے عجب عجب باتیں گھڑ رکھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
یٰعِبَادِ لاَخَوْفٌ عَلَیْـکُمُ الْیَوْمَ وَلَآ اَنْـتُمْ تَحْزَنُوْنَ ۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰـتِنَا وَکَانُوْا مُسْلِمِیْنَ ۔ اُدْخُلُوا الْجَنَّـۃَ اَنْـتُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ تُحْبَرُوْنَ ۔ (الزخرف : 68 تا 70)
(اے میرے بندو ! آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تم غمگین ہو۔ جو لوگ ایمان لائے اور مطیع فرمان بن کر رہے۔ داخل ہوجاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے۔ )
قیامت کے روز ایمان کا رشتہ باقی رہے گا
گزشتہ آیت کریمہ میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے روز تمام رشتے ٹوٹ جائیں گے، بجز ان لوگوں کے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہے۔ ایسے لوگ قیامت کے دن بھی ایک دوسرے کے ہمدرد و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
فہم القرآن
ربط کلام : عیسائیوں میں شرک کی ابتدا حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی محبت میں غلو کی بنا پر ہوئی۔ جس وجہ سے قیامت کے دن کے بارے میں بتلایا ہے کہ اس دن متقین کی دوستی کے علاوہ کسی کی دوستی اور محبت باقی نہیں رہے گا۔
قیامت کے لمحات کے بارے میں قرآن مجید نے بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔
قیامت کے تین مراحل جب کوئی کسی کو یاد نہیں کریگا :
(عَنْ عَاءِشَۃ أَنَّہَا ذَکَرَتِ النَّارَ فَبَکَتْ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَا یُبْکِیک قالَتْ ذَکَرْتُ النَّارَ فَبَکَیْتُ فَہَلْ تَذْکُرُونَ أَہْلِیکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَمَّا فِی ثَلاَثَۃِ مَوَاطِنَ فَلاَ یَذْکُرُ أَحَدٌ…
Read the full tafseer →آیت 69: اَلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا بِاٰیٰتِنَا (یعنی وہ بندے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے) : الذین یہ محلاً منصوب ہے۔ کیونکہ عبادی کی صفت ہے۔ اور وہ منادی مضاف ہے جو منصوب ہوا کرتا ہے۔
ٰامنوا بٰایاتنا کا مطلب ہماری آیات میں تصدیق کی۔ وَکَانُوْا مُسْلِمِیْنَ (اور وہ فرمانبردار تھے) یعنی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والے تھے۔
Read the full tafseer →68، یاعباد، یعنی پس ان کو کہاجائے گا اے میرے بندو ! خوف علیکم الیوم ولاانتم تحزنون، معتمربن سلیمان نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا ہے کہ جب لوگ اٹھائے جائیں گے تو کوئی شخص ایسانہ ہوگا جس کو گھبراہٹ نہ ہو، پھر ایک آواز لگانے والا آواز لگائے گا۔ ، یاعباد لاخوف علیکم الیوم ولا انتم تحزنون، پس تمام لوگ اس کی امید کریں گے ۔ پس اس کے پیچھے چلیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
68۔ 73۔ قتادہ کا قول ہے کہ قیامت کے دن نیک لوگوں سے فرشتے پکار پکار کر یہ کہیں گے جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ اسے ایماندار بندوں تم آج کے دن ہر طرح کے ڈر اور غم سے بچے ہوئے ہو تم اپنی نیک بیبیوں کو ساتھ لے کر جنت میں چلے جاؤ پھر جنتیوں کی نعمتوں کا ذکر فرمایا کہ وہاں سونے کے برتنوں میں کھانے کی چیزیں اور سونے کے آب خوروں میں پینے کی چیزیں لے کر خدمت گار حاضر اور کثرت سے طرح طرح کے میوے موجود ہوں گے اور ہر طرح کا راحت و آرام کا سامان مہیا ہوگا۔ ابن 1 ؎ ماجہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے واسطے ایک مکان جنت میں اور ایک دوزخ میں بنایا ہے قیامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–73
آیت 66
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ؟ اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں ” قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو ؟ “ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنہوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔ (الاخل آپ یومئذ) یعنی کفر، تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن (بعضھم لبعض عدو) ” ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ “ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیر اللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ (الا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–85
قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
92 متقیوں کے لیے دخول جنت کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہا جائے گا کہ اب داخل ہوجاؤ جنت میں تم بھی اور تمہاری بیویاں بھی "۔ جنہوں نے اپنی دنیاوی زندگی ایمان و اطاعت کے ساتھ گزاری ہوگی۔ اور ان میں سے جو یکے بعد دیگرے مختلف شوہروں کے عقد میں رہی ہوں گی وہ اپنے آخری شوہر کو ملیں گی اگر وہ جنتی ہوا۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ بہرحال یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے مبارکباد ہوگی جو اس روز ان خوش نصیبوں کو سنائی جائے گی کہ اے میرے بندو اب تم خوف اور حزن کے دارالابتلاء سے نکل کر جنت کی اس ابدی بادشاہی میں داخل ہوگئے ہو جس میں تم پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر
تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیات 68 تا 89۔
اسرار ومعارف۔
اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔
آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
ف 10 ازواج سے مراد بیویاں بھی ہیں۔ یعنی وہ جنہوں نے نیک اعمال میں ان کا ساتھ دیا تھا اور ایسے لوگ جو دنیا میں ان کے ساتھی اور ہم مشرب رہے تھے۔
Read the full tafseer →(43:69) الذین امنوا بایتینا وکانوا مسلمین : اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) اللہ تعالیٰ نے یہاں متقین کی صفات بیان فرمائی ہیں جنہیں روز قیامت نہ خوف ہوگا نہ حزن۔ منجملہ دیگر صفات کے ان میں یہ دو صفات ہوں گے۔ (ا) ایمان بایت اللہ (ب) اور اسلام ۔ انہی معنوں میں سورة یونس می ارشاد ہے الا ان اولیاء اللّٰہ لاخوف علیہم ولاھم یحزنون : الذین امنوا وکانوا یتقون ۔ (10:62-63) یا ان کی اور صفت سورة الاحقاف میں یوں آئی ہے :۔ ان الذین قالوا ربنا اللّٰہ ثم استقاموا فل خوف علیہم ولا ہم یحزنون (41:13)
(2) الایمان بآیات اللہ صفت ہے متقین کی اور وکانوا یتقون حال ہے ضمیر امنوا سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–78
لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 78 : تحبرون ( تم خوش کئے جائو گے) صحاف ( پلٹیں، رکابیاں) لا یفتر (ہلکا نہ کیا جائے گا) مبلسون ( ناامید ہوجانے والے) ما کثون (ٹھہرنے والے ، رکنے والے)
تشریح : آیت نمبر 67 تا 78 : جو لوگ دنیا میں تقویٰ ، پرہیز گاری اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں اس کے بندے بن کر رہے تھے قیامت کے دن ان سے ارشاد فرمایا جائے گا کہ اے میرے بندو ! آج تمہارے لئے نہ تو ماضی کا خوف ہوگا اور نہ مستقبل کا رنج و غم ، تم اور تمہاری بیویاں اس جنت کے مستحق بنا دیئے گئے ہیں جن میں تمہاری ایسی خاطر تواضع کی جائے گی جس سے تم خوش ہو جائو گے اور خوشی کے آثار تمہارے چہروں پر نمایاں ہوں گے وہاں نو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
(ف 1) خدا قیامت کے دن کہے گا کہ اے ایماندار بندو، تم آج کے دن ہر طرح کے ڈر اور غم سے بچے ہوئے ہو، یہ وہ لوگ ہیں جو ہماری آیتوں پر اور رسول پر اور قرآن پر ایمان لائے۔ اب تم اور تمہاری بی بیاں سب جنت میں جاؤ، مکرم معظم نعمت راحت ناز عیش تحفے پاؤ اور ان کے پاس ان کے خادم حوروغلمان ، سونے کی رکابیاں، قسم قسم کے کھانوں اور میوؤں سے بھرے ہوئے ، اور طرح طرح کے کو زے، گول گلاس پیالے شرابوں اور شربتوں سے بھرے ہوئے لیے پھریں گے اور آپس میں بیٹھ کردورے ہوں گے، وہاں ان کو وہ ملے گا جو خیال میں گزرے گا، جو جی چاہے گا دل میں ارادہ آیا، اور چیز حاضر۔ اور وہ ملے گا جس سے آنکھوں کو لذت ملے گی یعنی دیدار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–72
[33] جنت کو میراث اس لئے فرمایا کہ سب کے باپ آدم (علیہ السلام) بہشت میں رہے اور وہی ان کا اصلی گھر تھا۔ اس سے تمام انسان آدم (علیہ السلام) کے رشتے سے جنت کے وارث ہیں بشرطیکہ ایمان رکھتے ہوں اور نیکوکار بھی ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–69
ف 2: ان آیات میں حضرت مسیح کی پہلی بعثت کا ذکر ہے ۔ کہ جب یہ تشریف لائے اور انہوں نے کہا ۔ کہ میں آیات وبراہین کے ساتھ آیا ہوں ۔ تاکہ تمہیں زندگی کے حکیمانہ نکات سے آگاہ کروں اور دین و مذہب کے نام سے جو تم نے اختلافات پیدا کر رکھے ہیں ان کو مٹادوں ۔ اور تقویٰ و اطاعت کے جذبات سے تم میں ترقی کی روح پھونک دوں ۔ دیکھو اللہ ایک ہے ۔ وہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے ۔ اس کی عبادت سے منہ نہ موڑو ۔ اس تک پہنچنے کی سیدھی راہ یہی ہے ۔ کہ توحید کے اسراء سے واقفیت حاصل کرو ۔ اور اپنے سر کو جبرا اس کے آشانہ جلال وقدس کے اور کسی کے سامنے نہ جھکاؤ۔
ان کی قوم نے یہ باتیں سنیں ۔ اور جب دستور ان کو کوئی اہمیت…
Read the full tafseer →(69) یہ بندہ وہ ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرماں بردار رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–79
ف 1۔ ظاہر ہے کہ خدائی انتظام کے سامنے ان کا انتظام نہیں چل سکتا، چناچہ آپ ﷺ محفوظ رہے اور وہ لوگ ناکام اور آخر کو بدر میں ہلاک ہوئے۔
Read the full tafseer →وہ بندے جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرمانبردار رہے
69 ؎ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اس طرح کی خوشخبری سنائے جانے والی ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ ہی کی فرمانبرداری کی جائے اور ہم کو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ورسول محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی اور فرمانبرداری میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور آپ ﷺ کی محبت میں اللہ کی محبت مسرک آسکتی ہے اور یہ بھی کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت ومانبرداری کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے میسر آسکتی ہے اور جو شخص ایمان میں جتنا کامل ہے بلاشبہ اس پر اتنا ہی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ یاد رہے کہ عشق اور محبت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–81
Commentary
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ (Had there been a son for the Rahman,
I would have been the first to worship - 43:81) It does not mean that, God forbid, there is any possibility of Rahman (Allah) having offspring. What is really being said is that the Holy Prophet t is not denying your beliefs due to enmity or obstinacy, but because they are illogical. If precise logical arguments could prove the existence of offspring of Allah, he would certainly have accepted it. But every intellectual argument contradicts this possibility, and therefore there…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
60 The word azwaj as used in the original can be used both for the wives and for those people who are a person's close associates, friends and peers. This comprehensive word has been used so as to cover both the meanings. The believers will be accompanied both by their believing wives and by their believing friends in Paradise.
Read the full tafseer →