Explained with ayahs 36–45
شیطان سے بچو
ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بےرغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں (عشی فی العین) کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت (وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا01105ۧ) 4۔ النسآء :115) ، یعنی جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
سورة الزُّخْرُف 35
یعنی اس امر میں تمہارے لیے تسلی کا کوئی پہلو نہیں ہے کہ تمہیں غلط راہ پر ڈالنے والے کو سزا مل رہی ہے، کیونکہ وہی سزا گمراہی قبول کرنے کی پاداش میں تم بھی پا رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
خلاصہ تفسیر
اور جو شخص اللہ کی نصیحت (یعنی قرآن اور وحی) سے (جان بوجھ کر) اندھا بن جاوے (جیسے یہ کفار ہیں کہ کافی شافی دلائل کے ہوتے ہوئے تجاہل سے کام لیتے ہیں) ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں، سو وہ (ہر وقت) اس کے ساتھ رہتا ہے اور وہ (ساتھ رہنے والے شیاطین) ان (قرآن سے اعراض کرنے والوں) کو (برابر) راہ (حق) سے روکتے رہتے ہیں (اور تسلط کا یہی اثر ہے) اور یہ لوگ (باوجود راہ حق سے دور ہونے کے) یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ (یعنی ہم) راہ (راست) پر ہیں (سو جس کی گمراہی کی یہ صورت اور یہ حالت ہو اس کے راہ پر آنے کی کیا امید ہے۔ سو غم کیوں کیا جائے اور یہ بھی تسلی رکھئے کہ ان کا یہ تغافل جلدی ہی ختم…
Read the full tafseer →وانھم لیصدونھم عن السبیل ویسحبون انھم مھتدون 37
زبان کے بعض استعمالات
اوپر والی آیت میں حرف من چونکہ مبہم ہے، واحد اور جمع دونوں ہی کے لئے آسکتا ہے، نیز لفظ شیطان بھی عام ہے، اس سے شیاطین جن بھی مراد ہو سکتے ہیں اور شیاطین انس بھی، اس وجہ سے آیت زیر بحث میں ضمیریں جمع آئیں۔ یہاں حال ایک پورے گروہ کا بیان ہو رہا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اس طرح شیطان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ان کا حشر یہ ہوتا ہے کہ شیاطین تو ان کو سیدھی راہ سے روک دیتے ہیں لیکن ان کے پھندوں میں پھنسے ہوئے لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ بالکل سیدھی راہ پر چل رہے ہیں۔
یہاں ضمیروں کا انتشار بھی قابل توجہ ہے۔ انھم کی ضمیر کا مرجع تو شیاطین ہیں…
Read the full tafseer →37۔ 1 یعنی وہ شیطان ان کے حق کے راستے کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں اور اس سے انہیں روکتے ہیں اور انہیں برابر سمجھاتے رہتے ہیں کہ تم حق پر ہو، حتٰی کہ وہ واقعی اپنے بارے میں یہی گمان کرنے لگ جاتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں یا کافر شیطانوں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہیں اور ان کی اطاعت کرتے رہتے ہیں (ابن کثیر)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
12: دنیا میں یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک ہی قسم کی تکلیف بہت سے آدمیوں کو ایک ساتھ ہورہی ہو تو اس سے ہر ایک کے دل میں تکلیف کا احساس کچھ کم ہوجاتا ہے کہ اس تکلیف میں میں تنہا نہیں ہوں، بلکہ دوسرے بھی میرے ساتھ شریک ہیں، لیکن دوزخ میں ایسا نہیں ہوگا، کیونکہ ہر ایک کی تکلیف اتنی زیادہ ہوگی کہ دوسروں کے اسی تکلیف میں مبتلا ہونے کے احساس سے بھی اس میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
آیت نمبر 36 تا 39
العشی کے معنی ہوتے ہیں نظر کا دیکھ نہ سکنا ، بالعموم یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب تیز روشنی سے آنکھیں دو چار ہوں ، جس میں آنکھوں کو کھولنا ممکن نہ ہو۔ نیز عشی کی وجہ سے شام کے اندھیرے میں کمزور نظر کے لوگ صحیح طرح معلوم نہیں کرسکتے۔ اور ایک خاص بیماری کی وجہ سے بھی یہ ہوتا ہے۔ یہاں مقصد غفلت اور اللہ کی یاد سے منہ موڑنا اور دل سے یہ شعور محو کردینا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔
ومن یعش عن ذکر الرحمٰن نقیض لہ شیطنا فھو لہ قرین (43 : 36) “ جو شخص رحمٰن کے ذکر سے تغافل برتتا ہے ، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ اس کا رفیق بن جاتا ہے ”۔ اللہ کی مشیت نے فطرت انسان میں یہ بات رکھ دی…
Read the full tafseer →3 یعنی شیطان ان کو نیکی کی راہ سے روکتے رہتے ہیں، مگر ان کی عقلیں ایسی مسخ ہوجاتی ہیں کہ اسی کو ٹھیک راستہ سمجھتے ہیں۔ بدی اور نیکی کی تمیز بھی باقی نہیں رہتی۔
Read the full tafseer →آیت 37 { وَاِنَّہُمْ لَیَصُدُّوْنَہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّـہُمْ مُّہْتَدُوْنَ } ”اور وہ شیاطین ان کو روکتے ہیں سیدھے راستے سے ‘ اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔“
ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی منصوبہ بندی بڑی کامیاب ہے ‘ کاروبار خوب جم رہا ہے ‘ دولت تیزی سے بڑھ رہی ہے ‘ پہلے ایک فیکٹری تھی ‘ پھر دو ہوئیں اور اب تین ہوگئی ہیں۔ وہ اپنی انہیں کامیابیوں پر نازاں وفرحاں مسلسل دنیا سمیٹنے میں لگے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →37 یہ شیطان جو ہر وقت اس کے ساتھ لگا رہتا ہے کوئی جن بھی ہوسکتا ہے اور انسان بھی۔ اور یہ اسے کسی وقت نیکی کی طرف یا اللہ کے راستہ کی طرف نہیں آنے دیتا پھر لطف کی بات یہ ہے کہ اس کی ایسی مت ماری جاتی ہے کہ اس میں نیکی اور بدی کی تمیز ہی باقی نہیں رہتی۔ وہ اپنے برے کاموں کو ہی اچھا سمجھنے لگتا ہے۔ اور اسے اپنی یہ بدروی اور گمراہی ہی صحیح راہ معلوم ہونے لگتی ہے۔
Read the full tafseer →28۔ (اور اس غلط اطمینان اور تغافل کی بدولت کبھی ضرورت ہی مزید تحقیق و کاوش کی نہیں سمجھتے) کیا حد ہے ان کی گمراہی کی عین گمراہی کو ہدایت سمجھ رہے ہیں ! (آیت) ” وانھم .... السبیل “۔ لوگوں کو راہ حق سے روکنا بھی تسلط شیطانی ہے۔ (آیت) ’ انھم “۔ میں ضمیر ھم شیاطین کی طرف ہے۔ (آیت) ” یحسبون انھم مھتدون “۔ اس میں ضمیریں سب انہیں اندھے بن جانے والے انسانوں کی طرف ہیں۔ اے العاشون (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
آیت نمبر 36 تا 45
ترجمہ : اور جو شخص رحمٰن کے ذکر یعنی قرآن سے اعراج کرے تو ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں سو وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے کہ اس سے جدا نہیں ہوتا اور بلاشبہ وہ شیاطین ان اعراض کرنے والوں کو ہدایت کے راستہ سے روکتے ہیں اور یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں جمع لانے میں مَنْ کے معنی کی رعایت ہے یہاں تک کہ جب وہ اعراض کرنے والا اپنے ساتھی کے ساتھ قیامت کے روز ہمارے پاس آئے گا تو اپنے ساتھی سے کہے گا، کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق ومغرب کی دوری ہوتی یعنی جس قدر مشرق ومغرب کے درمیان دوری ہے یا تنبیہ کے لئے ہے تو میرا بڑا برا ساتھ ہے، (اے) اعراض کرنے والو ! آج ہرگز تم…
Read the full tafseer →وانھم لیصدونھم عن السبیل ویحسبون انھم مھتدون اور حقیقت یہ ہے کہ شیطان انکو راہ ہدایت
سے روکتے ہیں اور وہ (بہکے ہوئے لوگ) خیال کرتے ہیں کہ ہم راہ ہدایت پر ہیں۔
مَنْ یَّعْشُ میں مَنْ کا لفظ مفرد ہے لیکن معنی کے لحاظ سے جمع ہے ‘ اسلئے یصدونھم میں ہم ضمیر جمع اور یحسبون میں صیغۂ جمع ذکر کیا۔
Read the full tafseer →اور وہ شیاطین اس کو راہ حق و ہدایت سے ہٹاتے رہتے ہیں اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم راہ حق پر ہیں۔
Read the full tafseer →(1) وانھم لیصدونھم عن السبیل :”انھم“ میں ضمیر شیاطین کی طرف اور ”لیصدونھم“ میں ضمیر ”ھم“ رحمان کے ذکر سے غفلت کرنے والوں کی طرف جا رہی ہے، حالانکہ پچھلی آیت میں دونوں کا ذکر واحد کی ضمیر کے ساتھ آیا ہے، لیکن وہاں بھی لفظ ”من“ واحد ہونے کے باوجود معنی کے لحاظ سے جمع ہے۔ یعنی اس کی یاد سے جان بوجھ کر غفلت کرنے والوں کو کوئی نہ کوئی شیطانی چمٹ جاتے ہیں، خواہ انسانی شیطان ہوں یا ابلیس کی اولاد، وہ ان کے لئے گناہوں کو خوبصورت کر کے دکھاتے ہیں، ان کی نفسانی خواہشات کو ابھارتے اور انہیں اللہ کی نافرمانی میں مشغول کردیتے ہیں، حتیٰ کہ انہیں صراط مستقیم سے بالکل روک دیتے ہیں اور جہنم میں پہنچا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ومن یعش عن ذکر الرحمٰن نقص لہ شیطناً فھولہ قرین۔ حضرت ابن عباس اور عکرمہ نے ومن یعش پڑھا ہے (1) اس کا معنی اندھا ہونا ہے اسی معنی میں ہے عشق یعشی عشا جب وہ اندھا ہو، رجل اعشق، امراۃ عشواء جب وہ دیکھتا نہ ہو اس معنی میں اعشی کا قول ہے :
رات رجلاً غائب الوافدین مختلف الخلق اعشق ضریرا
اس نے ایک ایسا آدی دیکھا جس کے ساتطھ جا چکے تھے شکل و صورت بڑی عیجب اور وہ اندھا تھا۔
باقی قرئا نے اسے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ عشایعشو سے مشتق ہے جب اسے ایصا عارضہ لاحق ہو جو اندھے کو لاحق ہوتا ہے خلیل نے کہا : عشو سے مراد کمزور نظر دیھکنا (1) : اور یہ شعر پڑھا :
متی تاتہ تغشو الی ضو نارہ تجد خیر نار عندھا خیر موقد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
اللہ کے نافر مانوں پر شیطان کا مسلط ہونا :
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے محمد بن عثمان مخزومی (رح) سے روایت کیا کہ قریش نے باہم مشورہ کیا کہ محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے ہر ایک پر آدمی مقرر کردو تاکہ ہو جاکر اس کو پکڑ لے۔ حضرت ابوبکر ؓ کے لئے طلحہ بن عبداللہ کو مقرر کیا گیا۔ طلحہ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے ابوبکر ؓ نے پوچھا تو مجھے کس بات کی دعوت دیتا ہے ؟ طلحہ نے کہا میں تجھے لات اور عزی کی پوجا کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا لات کیا ہے ؟ طلحہ نے کہا ہمارا رب۔ پوچھا عزی کیا ہے ؟ طلحہ نے کہا یہ الہ کی بیٹیاں ہیں ابوبکر نے پوچھا ان کی ماں کون تھی ؟ طلحہ…
Read the full tafseer →وَاِنَّهُمْ [ اور بیشک وہ سب (شیطان ) ] لَيَصُدُّوْنَهُمْ [ یقینا روکتے ہیں ان سب (جی چرانے والوں ) کو ] عَنِ السَّبِيْلِ [ اصل راہ سے ] وَيَحْسَبُوْنَ [ اور وہ (جی چرانے والے ) لوگ گمان کرتے ہیں ] اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ [ کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
﴿اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ ﴾ (الآیۃ) کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں یا اندھوں کو راہ پر لاسکتے ہیں جو صریح گمراہی میں ہیں اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ جو لوگ بہرے اور اندھے ہیں اور صریح گمراہی میں ہیں آپ انہیں ہدایت پر نہیں لاسکتے یعنی ان کو ہدایت دینا آپ کے اختیار سے خارج ہے اور آپ اپنی دعوت کا کام جاری رکھیں آپ کی اتنی ہی ذمہ داری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
تنبیہ وتوبیخ برغفلت واعراض از ذکر خداوندی و حسرت وندامت مجرمین در آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن یعش عن ذکر الرحمن ....... الی ...... الھۃ یعبدون “۔
(ربط) اس قبل آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ایک خاص اسوہ یعنی توحید خداوندی پر استقامت اور کفر وشرک سے براء توبیزاری کا بیان فرمایا گیا تھا، ساتھ ہی دنیا کے سازوسامان اور اس کی آرائش و آسائش کی بےوقعتی کا ذکر تھا اور یہ کہ اصل شرف اور عظمت انسان کو صرف وحی الہی ہی کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے، اب ان آیات میں حق تعالیٰ کے ذکر اور اس کی یاد سے غفلت واعراض پر تنبیہ وتوبیخ کی جارہی ہے، اور یہ کہ ایسے غافلوں اور بےحس لوگوں کا انجام نہایت ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
24:۔ ” ومن یعش “ یہ زجر مع تخویف اخروی ہے اور مشرکین کے نہ ماننے کی وجہ کا بیان ہے۔ جو شخص جان بوجھ کر اللہ کے قرآن سے اندھا بن جائے گا اور محض ضد وعناد کی وجہ سے اس کا انکار کرے، تو ہم اس سے قبول حق کی صلاحیت سلب کرلیتے ہیں اور شیاطین کو ان پر مسلط کرلیتے ہیں اور شیاطین کو ان پر مسلط کردیتے ہیں جو ہر وقت ان کے ساتھ رہتے اور انہیں راہ توحید سے گمراہ کرتے ہیں مختلف حیلوں سے اور جھوٹی آزوئیں دلا کر انہیں غیر اللہ کی عبادت اور پکار پر اکساتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت ایفتہ ہیں اور سیدھی راہ پر چل رہے ہیں ہیں۔ ” حتی اذا جاءنا الخ “ یعنی اب تو مشرکین آنکھیں بند کر کے شیاطین کی پیروی کر رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
ربط آیات
پہلے توحید اور جزائے عمل کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے رسالت کا ذکر فرمایا وکذلک ما ارسلنا من قبلک …81 (آیت 23- ) اسی طرح آپ سے پہلے ہم نے جس بستی میں بھی رسول یا نبی بھیجا تو وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے اس کا انکار کیا اور اپنے آبائو اجداد کی فرسودہ رسوم پر کاربند رہنے پر اصرار کیا۔ قالوا انا بما ارسلتم بہ کفرون (آیت 24- ) کہنے لگے کہ جس چیز کو تم لے کر آئے ہو ، ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔ عرب کے مشرکوں کا بھی یہی حال ہوا کہ جب بھی ان کے پاس حق بات ائٓی قالوآ ھذا سحر وانا بہ کفرون (آیت 30- ) کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں۔ اگر یہ واقعی خدا کا کلام ہے تو اسے یکسر…
Read the full tafseer →وَاِنَّہُمْ لَيَصُدُّوْنَہُمْ عَنِ السَّبِيْلِ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُّہْتَدُوْنَ 37
صدد
الصُّدُودُ والصَّدُّ قد يكون انصرافا عن الشّيء وامتناعا، نحو : يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً
، [ النساء/ 61] ، وقد يكون صرفا ومنعا نحو : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24]
( ص د د ) الصدود والصد
۔ کبھی لازم ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رو گردانی اور اعراض برتنے کے ہیں جیسے فرمایا ؛يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] کہ تم سے اعراض کرتے اور کے جاتے ہیں ۔ اور کبھی متعدی ہوتا ہے یعنی روکنے اور منع کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ترکیب : عظیم بالجبر بدل من رجل لبیوتہم بدل باعادۃ الجارای لبیوت من کفروجمیع الضمیر فی بیوتہم و افردہ فی یکفر باعتبار معنی من ونفلھا، سقفاقرلہ الجمہوربضم السین و القاف فھی جمع سقف کر ھن ورھن وقال الفراء ھو جمع سقیف کر غیف ورغف وقیل جمع سقوف فیکون جمعاللجمع۔ وقرء بفتح السین و اسکان القاف فھو واحدفی معنی الجمع و معارج جمع معرج بفتح المیم وکسرھا۔ ابوابا و سررا (جمع سریرا) منصوبان بجعلنا ای جعلنا البیوتھم ابواباسر رالمابا لتخفیف و قری بالتشدید فعلی الاولی ان مخففہ من الثقیلۃ و علی الثانیۃ ھی النافیۃ ولمابمعنی الا۔
ترکیب : ومن شرطیۃ یعش العشوالاعراض والعدول ھذا قول الفراء والزجاج وقال الخلیل النظر…
Read the full tafseer →وَاِنَّھُمْ لَیَصُدُّوْنَھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُّھْتَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 37)
(اور بیشک وہ شیاطین ان لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور وہ اپنی جگہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ہدایت پر چل رہے ہیں۔ )
گزشتہ مضمون کی وضاحت
اس آیت کریمہ میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں، ایک تو یہ بات کہ گزشتہ آیت کا آغاز مَنْ سے ہوا تھا جو واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور شیطان کا لفظ بھی مفرد استعمال ہوا ہے جبکہ شیاطین دو طرح کے ہیں، شیاطینِ جن اور شیاطینِ اِنس۔ اور انسان کی گمراہی میں دونوں ہی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں جمع کی ضمیریں لا کر یہ بات کھول دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کو سب کچھ سمجھنے والا شخص نہ صرف آخرت کو فراموش کرتا ہے بلکہ اپنے رب کی یاد سے بھی غافل ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں شیطان اس کا ساتھی بنا دیا جاتا ہے۔
جو شخص اپنے رب کی یاد سے غافل ہوجائے اللہ تعالیٰ اس پر شیطان مسلط کردیتا ہے اور وہ اس کا مستقل ساتھی بن جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو شیطان نیکی کے کاموں سے روک لیتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ سمجھتے ہیں۔ ہم صحیح راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ موت کے بعد جب اس کی حاضری اپنے رب کے حضور ہوگی تو وہ افسوس کے ساتھ اس بات کا اظہار کرے گا کہ کاش ! دنیا میں میرے اور شیطان کے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی۔ اس کے ساتھ ہی شیطان کو مخاطب کرتے…
Read the full tafseer →آیت 37: وَاِنَّہُمْ (اور وہ شیاطین ان انسانوں کو روکتے ہیں) لَیَصُدُّوْنَہُمْ (وہ ان کو روکتے رہتے ہیں) وہ ان اندھا بننے والوں کو روکتے رہتے ہیں۔ عَنِ السَّبِیْلِ (راستہ سے) یعنی راہ ہدایت سے وَیَحْسَبُوْنَ (اور یہ اندھا پن والے خیال کرتے ہیں) اَنَّہُمْ مُّہْتَدُوْنَ (کہ وہ راہ پر ہیں)
نحو : ہم ضمیر جو مَنْ کی طرف راجع ہے اور وہ ضمیر جو شیطان کی طرف راجع ہے وہ جمع لائی گئی ہے۔ کیونکہ مَنْ اندھا پن والے کی مبہم جنس کے لئے ہے۔ اور اس کے لئے اس جنس کا مبہم شیطان مقرر ہے۔ پس ان کی طرف مجموعہ کا لحاظ کر کے ضمیر جمع لانی جائز ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر 36۔ ، ومن یعش عن ذکرالرحمان، یعنی رحمان کے ذکر سے اعراض کرے۔ پس اس کی سزا سے نہ ڈرے اور اس کے ثواب کی امید نہ کرے ۔ کہاجاتا ہے، عشوت الی النار اعشواعشوا، جب تو اس کا ارادہ کرے اس کے ذریعے رہنمائی کے لیے اور ، عشوت عنھا، یعنی میں نے اس سے اعراض کیا۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے، عدلت الی فلان، (میں فلاں کی طرف مائل ہوا) ، وعدلت عنہ، (میں نے اس سے اعراض کیا) قرظی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اپنی پیٹھ کو رحمن کے ذکر یعنی قرآن سے پھیر تا ہے۔ ابوعبید ہ اور اخفش رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی نگاہ اس سے پھیر کر ظلم کرتا ہے۔ خلیل بن احمد (رح) فرماتے ہیں کہ عشو کی اصل کمزورنگاہ سے دیکھنا ہے اور ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
36۔ 41۔ صحیح 5 ؎ مسلم اور ترمذی میں حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات ہے فرشتہ ہر وقت نیک کام کی صلاح دیتا رہتا ہے اور شیطان برے کام کی صلاح دیتا رہتا ہے صحیح 1 ؎ بخاری میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت آدمی اللہ تعالیٰ کی کچھ یاد اور ذکر الٰہی کرتا ہے تو آدمی کے ساتھ جو شیطان رہتا ہے وہ آدمی کی ہم نشینی سے الگ ہوجاتا ہے اور جب آدمی یاد الٰہی سے غافل ہوجاتا ہے تو وہ شیطان پھر آ کر آدمی کی ہم نشینی کو مستعد ہوجاتا ہے اور طرح طرح کے وسوسے آدمی کے دل میں ڈالنے شروع کردیتا ہے ان صحیح حدیثوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
آیت 36
جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے سخت سزا کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے : (ومن یعش) یعنی جو منہ موڑتا ہے (عن ذکر الرحمٰن) ” رحمان کے ذکر سے “ جو قرآن عظیم ہے جو سب سے بڑی رحمت ہے جس کے ذریعے سے اللہ رحمان نے اپنے بندوں پر رحم کیا ہے جو کوئی اس کو قبول کرے وہ بہترین عطیے کو قبول کرتا ہے اور وہ سب سے بڑے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور جو کوئی اس رحمت سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دے، وہ، خائب و خاسر ہوتا ہے، اس کے بعد وہ ہمیشہ کعے لئے سعادت سے محورم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ایک سرکش شیطان مسلط کردیتا ہے جو اس کے ساتھ رہتا ہے، وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →49 شیطان کا کام راہ حق سے روکنا ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " شیاطین طرح طرح سے روکتے ہیں اپنے دوستوں کو راہ حق سے "۔ پس جو راہ حق و صواب سے روکے وہ شیطان ہے خواہ وہ کسی بھی شکل و لباس میں ہو۔ اور ایسے " قرنا سوء " ۔ برے ساتھی ۔ انسان کو راہ حق و صواب سے طرح طرح سے روکنے اور اس کو محروم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اپنے طرح طرح کے من گھڑت اور خود ساختہ و بےبنیاد فلسفوں اور قسما قسم کی ملمع سازیوں کے ذریعے وہ اپنے زیغ و ضلال اور کفر و باطل کو ایسا بنا سنوار کر پیش کرتے ہیں کہ عام اور سادہ لوگوں کیلئے ان کے دام تزویر کے پھندے سے نکلنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
دنیا و آخرت کی بڑائی کفر و شرک کا انجام
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو دنیاوی اور آخروی نعمتوں، برکتوں، مال و اسباب اور اجر وثواب کا مقابلہ کیا گیا ہے۔ اول تو مال و دولت اور درجات کی تقسیم اللہ تعالیٰ نے اپنے منصوبے، پروگرام اور نظام دنیا کی بہترین طریقہ سے چلانے کے لحاظ سے مقرر کر رکھا ہے۔ تفصیلات پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو دیکھیں تو مسئلہ بڑی آسانی سے سمجھ آسکتا ہے۔ مثلاً باہر کے کام مشکل ہوتے ہیں تو مرد کو جسمانی لحاظ سے مضبوط بنا دیا گھر کے اندر ہلکے اور نازک کام ہوتے ہیں تو عورت کو نرم و نازک اور نسبتاً کمزور طاقت والا بنا دیا گھر میں کام کاج میں مدد کے لیے کم حیثیت یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
آیات 36 تا 45۔
اسرار ومعارف۔
اور جو کوئی اس عظیم ذات جو کہ بہت بڑا رخم کرنے والا ہے اس کی یاد سے منہ پھیرے جیسے یہ کفار اللہ کے قرآن سے منہ پھیر رہے ہیں تو اس پر ایک شیطان مسلط کردیاجاتا ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے اور اسے نیکی اور بھلائی کے راستے سے روکتا ہے نیز وہ اپنی گمراہی کو ہدایت اور برائی کو کمال خیال کرنے لگتا ہے۔
ذکر الٰہی اور شیطان۔
ذکر الٰہی کی بنیاد ایمان ہے دوسرا درجہ عمل ہے اور تیسرا السانی کہ فرائض وواجبات کے بعد زبانی تسبیحات اور تلاوت کی جائے اور کامل درجہ ذکر قنبی ہے کہ کوئی لمحہ ضائع نہ جائے اور ترک ذکر پر جو شیطان مسلط ہوتا ہے یہ اس سے الگ ہے جوہر انسان کے ساتھ پہلے سے…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیتے ہیں کہ وہ بری راہ کو اچھی راہ سمجھتے ہیں۔ یا کافر گمان کرتے ہیں کہ شیطان سیدھی راہ پر ہیں۔
Read the full tafseer →(43:37) وانھم واؤ عاطفہ انھم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب شیاطین کی طرف راجع ہے۔ آیت 36 متذکرہ بالا میں ۔ شیطانا بطور جنس شیطان آیا ہے لہٰذا یہاں صیغہ جمع لایا گیا ہے مطلب یہ کہ وہ سارے شیطان جو ذکر رحمان سے اعراض کرنے والوں پر مقرر کر دئیے تھے اور جو ان کے ساتھی بن گئے تھے ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں۔
لیصدونہم : یصدون : مضارع جمع مذکر غائب شیاطین کی طرف راجع ہے جو لفظا مفرد ہے اور معنی جمع ہے۔
السبیل وہ راہ ہدایت جس کی طرف ذکر رحمن کی دعوت دیتا ہے۔
ویحسبون انھم مھتدون : یحسبون کی ضمیر فاعل جمع مذکر غائب اور ہم کا مرجع من ہے اور بوجہ مذکورہ جمع ہے۔
ترجمہ : اور حقیقت یہ ہے کہ شیطان ان کو راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 45 : یعش (جو اندھا بنتا ہے ( آنکھیں بند کرلیتا ہے) نقیض (ہم ساتھ لگا دیتے ہیں ، ہم مقرر کردیتے ہیں) قرین ( ساتھی) یصدون ( وہ روکتے ہیں) یلیت (اے کاش) استمسک (مضبوط تھام لے) تسئلون ( تم پوچھے جائو گے) ۔
تشریح : آیت نمبر 36 تا 45 : اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت و فرماں برداری اور دین کے سچے اصولوں کی پابندی انسان کی دنیا اور آخرت میں کامیابی اور نجات دلانے کا یقینی ذریعہ ہے لیکن جو لوگ ان سچائیوں سے منہ موڑ کر اللہ کی یاد سے غفلت اور کوتاہی اختیار کرتے ہیں ان پر قدرت کی طرف سے ایک ایسے شیطان کو مسلط کردیا جاتا ہے جو ہر وقت ان کے ساتھ رہ کر برے خیالات اور وسوسوں کے ذریعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
ہر انسان کے ساتھ دوپوشیدہ ہستیاں۔
(ف 1) صحیح مسلم اور ترمذی میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات ہے فرشتہ ہر وقت نیک کام کی صلاح دیتارہتا ہے اور شیطان بد کام کی صلاح دیتا رہتا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کہ جس وقت آدمی اللہ تعالیٰ کی کچھ یاد اور ذکرالٰہی کرتا ہے تو آدمی کے ساتھ جو شیطان رہتا ہے وہ آدمی کی ہم نشینی سے الگ ہوجاتا ہے اور جب آدمی یادالٰہی سے غافل ہوجاتا ہے تو وہ شیطان پر آن کر آدمی کو ہم نشینی کو مستعد ہوجاتا ہے اور طرح طرح کے وسوسے آدمی کے دل میں ڈالنے شروع کردیتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جو لوگ کبھی یاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
[16] یعنی مشرق و مغرب کے درمیان کا فاصلہ۔ یہ عربی محاورہ ہے جو اردو میں بھی اسی معنی میں استعمال ہوتا
ہے۔ مشرقین سے مراد دو مشرق نہیں بلکہ مشرق و مغرب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
ف 1: ارشاد فرمایا : تمہارے نزدیک سونے اور چاندی کی بڑی قدرومنزلت ہے ۔ اور تم ان چیزوں کو معیار عظمت قرار دیتے ہو ۔ مگر ہم اس کو نہایت حقیر جانتے ہیں ۔ اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ کمزور عقل ودین والے ابتلاء اور آزمائش میں گرفتار ہوجائیں گے ۔ اور اپنے لئے کفر کو اختیار کرلیں گے ۔ تو ہم یہ ساری دولت اپنے دشمنوں کو دے دیتے ۔ ان کے گھرچاندی اور سونے کے ہوتے ۔ گھروں کی چھتیں چاندی اور سونے کی ہوتیں ۔ دروازے اور سیڑھیاں اور استعمال میں آنے کی تمام چیزیں چاندی اور سونے کی ہوتیں ۔ اور بحیثیت مجموعی ان کی زندگی بڑی آرائش اور ٹھاٹ کی ہوتی ۔ ہم اس متاع کو متاع غرور سمجھتے ہیں اور ہمارے پاکباز سندے بھی ان…
Read the full tafseer →(37) اور یہ ساتھی شیاطین ان منکروں کو راہ حق اور سیدھی راہ سے روکتے رہتے ہیں اور یہ منکر سمجھتے ہیں کہ وہ راہ ہیں اور راہ یافتہ ہیں۔ یعنی ان شیاطین کے تسلط کا نتیجہ ہوتا ہوے کہ وہ ان کے اعمال بد کی تزیین کرتے رہتے ہیں اور برے کاموں کو اچھا کرکے ان کو دکھاتے رہتے ہیں راہ حق سے ان کو روکتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ راہ حق یہی ہے کہ جس پر ہم چل رہے ہیں۔
شاید یاد ہوگا ہم نے بتایا ہے کہ شیطان کا تعین اور شیطان کی حوالگی کے الفاظ سے مجرم کی اس حالت کی جانب اشارہ ہے جب کوئی بدنصیب مجرم حد سے آگے نکل جائے اور حضرت حق جل مجدہ اس سے دست کش ہوجائیں اور اس کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھالیں تو ایسا مجرم آخر کار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ف 1۔ یعنی ان کی ہدایت آپ کے اختیار سے خارج ہے، آپ درپے نہ ہوں۔
Read the full tafseer →اس کا سب سے بڑا داؤ یہ ہے کہ وہ سیدھی راہ سے روکتا ہے اور انسان رُک جاتا ہے
37 ؎ انسان خواہ کتنا ہی برا کیوں نہہو جب تک اس کو اس کا دل برائی کی طرف سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے وہ سمجھ لے کہ ابھی اس کے اندر یقینا موجود ہے خواہ وہ کتنے ہی ادنیٰ درجہ کا کیوں نہ ہو لیکن جب وہ برائی پر اس طرح لگ جائے کہ اس کو یہ احساس ہی نہ رہے کہ وہ برائی کر رہا ہے تو ایسے انسان پر یقینا شیطان کا تسلط ہوچکا ہے خواہ وہ ابھی کتنے ہی کمزور درجے میں کیوں نہ ہو۔ لیکن خدا نہ کرے اگر اس کی حالت یہ ہوگئی کہ شیطان نے اس کو سیدھی راہ سے بالکل روک دیا اور اس کے باوجود وہ سمجھتا ہے کہ ابھی وہ سیدھی ہی راہ پر گامزن ہے اور ہدایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
وَلَن يَنفَعَكُمُ الْيَوْمَ ('Since you were wrongdoers, it will never benefit you today that you are sharing the punishment with each other.'...43:39) There can be two explanations of this verse. One is that since your 'kufr' and 'shirk' (disbelief and ascribing partners to Allah) has been proved, your longing in the Hereafter in the words, "Will that this devil had been away from me," will be of no avail, because all of you will be sharing the same punishment.
The other explanation could be that after getting in Hell, your sharing the punishment with the devil will not benefit you. In this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
35 That is, "In this there is no aspect of consolation for you that the one who misguided you is being punished, for you also are receiving the same punishment for accepting and following the deviation. "
Read the full tafseer →