Explained with ayahs 26–35
امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت
قریشی کفار نیکی اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفا حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی طرف منسوب تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بےتعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرات حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
سورة الزُّخْرُف 33
یعنی یہ سیم و زر، جس کا کسی کو مل جانا تمہاری نگاہ میں نعمت کی انتہا اور قدر و قیمت کی معراج ہے، اللہ کی نگاہ میں اتنی حقیر چیز ہے کہ اگر تمام انسانوں کے کفر کی طرف ڈھلک پڑنے کا خطرہ نہ ہوتا تو وہ ہر کافر کا گھر سونے چاندی کا بنادیا جاتا۔ اس جنس فرومایہ کی فراوانی آخر کب سے انسان کی شرافت اور پاکیزگی نفس اور طہارت روح کی دلیل بن گئی ؟ یہ مال تو ان خبیث ترین انسانوں کے پاس بھی پایا جاتا ہے جن کے گھناؤنے کردار کی سڑاند سے سارا معاشرہ متعفن ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسے تم نے آدمی کی بڑائی کا معیار بنا رکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
خلاصہ تفسیر
(اور یہ کافر لوگ مال و دولت کی زیادتی کو نبوت کی صلاحیت کی شرط سمجھتے ہیں حالانکہ نبوت ایک عظیم الشان چیز ہے اس لئے اس کی صلاحیت کی شرط بھی عظیم الشان ہونی چاہئے) اور (دنیا کی دولت و جاہ ہمارے نزدیک اس قدر حقیر ہے کہ) اگر یہ بات (متوقع) نہ ہوتی کہ (قریب قریب) تمام آدمی ایک ہی طریقے کے ہوجاویں گے (یعنی کافر ہوجائیں گے) تو جو لوگ خدا کے ساتھ کفر کرتے ہیں (اور خدا کے نزدیک سخت مبغوض ہیں) ہم ان (سب) کے لئے ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی کردیتے اور زینے بھی (چاندی کے کردیتے) جن پر چڑھا (اترا) کرتے اور ان کے گھروں کے کواڑ بھی (چاندی کے کردیتے) اور تخت بھی (چاندی کے کردیتے) جن پر تکیہ لگا…
Read the full tafseer →وزخرفاً وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا، والاخرۃ عند ربک للمتقین (35)
ذخرف، کا اعراب زخرف کے معنی زینت کے بھی آتے ہیں اور سونے کے بھی جو زینت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ تالیف کلام کے اعتبار سے اس کو منہ فضۃ کے محل پر عطف بھی کرسکتے ہیں اور فعل بھی محذوف مان سکتے ہیں یعنی لجعلنا لمن یکفربالرحمن زخرفاً مدعا میں کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوگا۔ یعنی اگر ہم چاہیں تو مذکورہ ساری چیزیں ان کے لئے سونے کی بھی بنا دیں یا ان کے لئے سونے کے ڈھیر اکٹھے کردیں۔
لما کی تحقیق
لما یہاں الا کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ اس ل کی جگہ پر ہے جو ان مخففہ اور ان نافیہ کے درمیان بطور علامت فرق کے آیا کرتا ہے۔ بعض جگہ اس ل کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
35۔ 1 جو شرک و معاصی سے اجتناب اور اللہ کی اطاعت کرتے رہے، ان کے لئے آخرت اور جنت کی نعمتیں ہیں جن کو زوال و فنا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
10: بتلانا یہ مقصود ہے کہ دنیا کا مال و دولت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی بےحقیقت چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں سے ناراض ہونے کے باوجود ان کے آگے سونے چاندی کے ڈھیر لگاسکتا ہے، اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ مال و دولت کی حقیقت نہ سمجھنے کی وجہ سے کافروں کی دولت دیکھ کر کافر ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کافروں کے گھر اور ان کے گھر کا سارا ساز و سامان سونے چاندی کا بنا دیتا ، کیونکہ وہ فنا ہونے والی چیزیں ہیں، اور اصل دولت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی ابدی زندگی کی خوش حالی ہے، جو پرہیزگاروں ہی کو نصیب ہوتی ہے، لہذا کسی دولت مند شخص پر نازل کرنے کا مطالبہ سراسر لغو مطالبہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
آیت نمبر 29 تا 35
اب سیاق کلام میں روئے سخن اچانک اہل مکہ کی طرف پھرجاتا ہے ، اسے اضراب کہتے ہیں اور یہ انداز عربوں میں رائج تھا۔
بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاء ھم الحق و رسول مبین ( 42 : 29) “ بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے پاس حق ، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا ”۔ گویا یوں کہا گیا کہ چھوڑو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو ، ان لوگوں کے ساتھ مناسبت اور نسبت ہی کیا رہ گئی ہے۔ ہمیں ان کے شب و روز کو دیکھنا چاہئے۔ ان کے حالات ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے تو ملتے نہیں۔ ان لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کو اور ان کے آباو اجداد کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
9 یعنی اللہ کے ہاں دنیاوی مال و دولت کی کوئی قدر نہیں نہ اس کا دیا جانا کچھ قرب و وجاہت عند اللہ کی دلیل ہے۔ یہ تو ایسی بےقدر اور حقیر چیز ہے کہ اگر ایک خاص مصلحت مانع نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ کافروں کے مکانوں کی چھتیں، زینے، دروازے، چوکھٹ، قفل اور تخت چوکیاں سب چاندی اور سونے کی بنا دیتا۔ مگر اس صورت میں لوگ یہ دیکھ کر کافروں ہی کو ایسا سامان ملتا ہے۔ عموماً کفر کا راستہ اختیار کرلیتے (الا ماشآء اللہ) اور یہ چیز مصلحت خداوندی کے خلاف ہوتی۔ اس لیے ایسا نہیں کیا گیا۔ حدیث میں ہے کہ اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر ایک مچھر کے بازو کے برابر ہوتی تو کافر کو ایک گھونٹ پانی کا نہ دیتا۔ بھلا جو چیز خدا…
Read the full tafseer →آیت 35 { وَزُخْرُفًا } ”اور سونے کی بھی بنا دیتے۔“
یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی ان چیزوں کی سرے سے کوئی وقعت ہے ہی نہیں۔ اس حوالے سے یہ حدیث نبوی ﷺ قبل ازیں متعدد بار دہرائی جا چکی ہے کہ اگر دنیا ومافیہا کی وقعت اللہ کی نگاہ میں مچھر کے َپر کے برابر بھی ہوتی تو دنیا میں وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔
چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی دولت اور زیب وزینت کی کوئی اہمیت ہے ہی نہیں ‘ اس لیے وہ تو اپنے سرکش اور نافرمان انسانوں کو بھی طرح طرح کی نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے۔
{ وَاِنْ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } ”اور یہ سب کچھ تو بس دنیا کی زندگی کا سازو سامان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
34 یعنی دنیا کا مال و دولت، سازو سامان اور سیم و زر، جس کو یہ لوگ کسی انسان کی عظمت کا معیار قرار دے رہے ہیں۔ اللہ کی نگاہ میں اتنی حقیر چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام کافروں کے گھر، ان کے دروازے، مکانوں کی چھتیں، ان کے تخت اور چارپائیاں، ان کی سیڑھیاں غرضیکہ ان کی ایک ایک چیز سونے، چاندی کا بنا دیتا۔ لیکن اس میں یہ خطرہ ضرور تھا کہ تمام انسان ہی کفر کا راستہ اختیار کرلیتے، کیونکہ انسان فطرتاً مال و دولت کے لیے بہت حریص واقع ہوا ہے۔ جبکہ اللہ کی مشیئت یہ ہے کہ کسی کو مال و دولت زیادہ دے کر اور کسی کو کم دے کر ہر طرح سے لوگوں کی آزمائش کرے۔ نیز دنیا میں رزق کی اس کمی بیشی سے ہی اس دنیا کا نظام چل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
25۔ مطلب یہ ہوا کہ دنیا میں اور اس کا سارا سازوسامان اللہ کے ہاں اس قدر حقیر وبے وقعت ہے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ خلقت کا رجحان تمامتر کفر کی جانب ہوجاتا ہے اور قریب قریب سب ہی ملت کفر اختیار کرنے لگتے تو اللہ صرف کافروں ہی کو دولت دنیوی و سامان مادی سے نواز دیتا۔ سب کو چاندی سونے کا بنا دیتا لیکن اگر ایسا ہوتا تو لوگ یہی سمجھنے لگتے کہ مقبولیت طریق کفر کو حاصل ہے، اور اسی طرف جھک پڑتے، والمقصود من ھذا الکلام تحقیر الدنیا وبیان ما فی المال والجاہ من المضار العظیمۃ وذلک لان کثرۃ المال والجاہ تجعل الانسان کالاعشی عن مطالعۃ ذکر اللہ تعالیٰ ومن صار کذلک صار جلیسا للشیطان (کبیر) آیت سے یہ بھی نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
آیت نمبر 26 تا 35
ترجمہ : اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو بجز اس ذات کے کہ جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے اپنے دین کی ہدایت بھی دے گا اور اس کو یعنی کلمہ توحید کو جو کہ اس کے قول اِنَّنِی تا سَیَھْدِیْنِ سے مفہوم ہے، اپنی اولاد میں باقی رہنے والی بات کر گئے چناچہ ہمیشہ ان میں توحید پرست رہیں گے تاکہ اہل مکہ اپنے موجودہ دین کو چھوڑ کر اپنا ابّا، ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی طرف آجائیں بلکہ میں نے ان مشرکوں کو اور ان کے آباء کو سامان راحت دیا، اور ان کی سزا میں جلدی نہیں کی، یہاں…
Read the full tafseer →وزخرفا وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا والاخرۃ عند ربک للمتقین اور نہیں ہے یہ سب (چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں اور دروازے اور تخت اور سامان آرائش) مگر دنیوی زندگی کا سر و سامان اور آخرت آپ کے رب کے نزدیک پرہیزگاروں کیلئے ہے۔
وَاِنْ- اِنْ نافیہ ہے۔ لِمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا۔ لَمَّا استثنائیہ ہے یعنی نہیں ہے ‘ مذکورہ بالا سارا سامان مگر اس زندگی کا اسباب عیش ہے۔ جو قریب زوال ہے ‘ باقی رہنے والی نہیں ہے ‘ اللہ کی نظر میں اس کی کوئی وقعت نہیں۔
الاٰخِرَۃ دار آخرت ‘ پچھلا مکان۔ عِنْدَ رَبِّکَ یعنی اللہ کے علم اور فیصلہ میں۔ لِلْمُتَّقِیْنَ یعنی ان لوگوں کیلئے دار آخرت ہے جو شرک و معاصی…
Read the full tafseer →باقی یہ سازو سامان صرف دنیوی زندگی کی چند روزہ کامیابی ہے اور جنت جو کہ کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کے لیے ہے وہ اس دنیوی کامرانی سے بہتر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
(1) ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ…:”سفاً“”سقف“ کی جمع ہے، چھتیں۔ ”معارج“ (سیڑھیاں)”معرج“ یا ”معراج“ کی جمع ہے، جیسے ”مقاتح“ اور مفاتیح“ ”مفتاح“ کی جمع ہیں۔ ”سرراً“ ”سریر“ کی جمع ہے، چار پائیاں ، تخت۔ ”ازخرفاً“ کا معنی سونا ہے، جیسا کہ کفار نے نبی ﷺ سے کہا تھا :(اویکون لک بیت من اخرف) (بنی اسرائیل : 93)”یا تیرے لئے سونے ایک گھر ہو۔“ اس کا معنی زینت و آرائش بھی ہے، جیسا کہ فرمایا :(حتی اذا اخذت الارض زخرفھا وازینت) (یونس : 23)”یہاں تک کہ جب زمین نے اپنی آرائش حاصل کرلی اور خوب مزین ہوگئی۔“”زخرفاً“ منصوب ہونے کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ یہ اصل میں ”سقفاً من فضۃ ومن زخرف“ ہے، حرف جار حذف…
Read the full tafseer →وزحرفاً یہاں زخرف سے مراد سونا ہے (1) حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے اویکون لک بیت من زخرف یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔
ابن زید نے کہا، اس سے مراد وہ سامان ہے جو لوگ اپنے گھروں میں رکھتے ہیں (2) حضرت حسن بصری نے کہا، اس سے مراد نقوش ہیں (3) اس کا اصل معنی زینت ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : زخرفت الدار۔ میں نے گھر کو مزید کیا تزحرف فلان۔ فلاں مزین ہوا۔ زخرفاً کو نصب اس لئے دی گئی کہ اس کی تعبیر یوں ہے وجعلنا لھم مع ذلک زخرفا اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ان کے لئے زینت بنا دی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ حرف جار کے حذف کے ساتھ منصوب ہے معنی ہے ہم نے ان کے لئے چھت، دروازے، سونے اور چاندی کے پلنگ بنائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرا مومن بندہ گھبرانہ جاتا تو میں کافر کو لوہے کی پٹی میں لپیٹ دیتا (یعنی مال کی کثرت سے) تو وہ ذرا بھی شکایت نہ کرتا اور میں انڈیل دیتا اس پر دنیا کو انڈیلتا ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کی مثل کو قرآن میں اپنے اس قول میں بیان فرمایا (آیت ) ” ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ لجعلنا لمن یکفر بالرحمن “ (اگر بات نہ ہوتی کہ تمام آدمی ایک ہی طریقہ کے یعنی کافر ہوجائیں گے جو لوگ رحمان کا انکار کرتے ہیں )
2:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت…
Read the full tafseer →وَزُخْرُفًا ۭ [ اور سونے کا (بھی کردیتے ) ] وَاِنْ كُلُّ ذٰلِكَ [ اور نہیں یہ سب کچھ ] لَمَّا [ مگر ] مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ [ اس دنیوی زندگی کا سامان ] وَالْاٰخِرَةُ [اور آخرت ] عِنْدَ رَبِّكَ [ آپ کے رب کے پاس ] لِلْمُتَّقِيْنَ [ تقوی اختیار کرنے والوں کیلئے ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
﴿وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا 1ؕ﴾ (اور یہ سب دنیا والی زندگی کے سامان کے سوا کچھ نہیں دنیا حقیر ہے اور فانی ہے یہ چیزیں بھی حقیر ہیں اور فانی ہیں۔
﴿وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِيْنَ (رح) 0035﴾ (اور آخرت یعنی اس کی باقی رہنے والی نعمتیں آپ کے رب کے نزدیک متقین کے لیے ہیں) وہ وہاں ان سے متمتع ہوں گے اور وہ نعمتیں دائمی ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
بیان استقامت ابراہیم (علیہ السلام) بر توحید خداوندی ونفرت وبرات از شرک :
قال اللہ تعالیٰ : واذ قال ابرھیم لابیہ وقومہ ....... الی ....... عند ربک للمتقین “۔
(ربط) ” گذشتہ آیات میں مشرکین ومنکرین کے عناد وتعصب اور ان کے قبول حق سے انکار ونفرت کا بیان تھا، اب ان آیات میں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) جن کا لقب ہی حنیف مسلم تھا ایک رنگ بیان کیا جارہا ہے کہ وہ کسی طرح توحید پر مضبوطی کے ساتھ قائم تھے اور انہوں نے اسی جذبہ توحید میں اپنی قوم اور اپنے باپ سے بھی نفرت وبراءت کا اعلان کردیا، حقیقت یہ ہے کہ توحید وشرک در متناقض چیزیں ہیں، ظاہر ہے کہ جس کے دل میں ایمان و توحید کا رنگ رچ گیا ہو وہ شرک اور…
Read the full tafseer →23:۔ ” وان کل ذلک۔ الایۃ “ یہ ماقبل کا ثمرہ ہے۔ ان نافیہ اور لما بمعنی الا ہے۔ (بحر ج 8 ص 15) یہ سب کچھ چند روزہ دنیوی زنگی کی فانی متاع اور ایک عارضی نفع ہے اور دار آخرت کی دائمی اور لازوال نعمتیں ان لوگوں کے لیے مکصوص ہیں جنہوں نے تقوی کو اپنا شعار بنایا۔ شرک اور تمام معاصی سے اجتناب کیا اور امر الٰہی کی تعمیل میں سرگرم رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ربط آیات
گزشتہ آیات میں دین کے بنیادی اصولوں میں سے رسالت کا ذکر تھا کافر اور مشرک لوگوں کا نظریہ یہ تھا کہ ہم ایسے نبی اور رسول ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں جس کی مالی پوزیشن اچھی نہ ہو۔ رسول تو نمایاں حیثیت کا آدمی ہونا چاہئے۔ جس کے پاس دنیاوی زندگی کے آرام و آسائش کی تمام سہولتیں موجود ہوں۔ اگر خدا نے کوئی رسول بنانا تھا تو مکہ اور طائف کی بستیوں میں سے کسی صاحب حیثیت آدمی کو بنایا ہوتا اور اس پر یہ قرآن بذریعہ وحی نازل کیا جاتا۔
نبی کی امتیازی حیثیت
کفار و مشرکین نبی کی امتیازی حیثیت کو تسلیم کرتے تھے مگر دنیاوی اعتبار سے یعنی اس کے پاس مال و دولت ، کوٹھی اور باغات ، لونڈی غلام ، مویشی اور…
Read the full tafseer →وَزُخْرُفًا 0 ۭ وَاِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا 0 ۭ وَالْاٰخِرَۃُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِيْنَ 35 ۧ
زخرف
الزُّخْرُفُ : الزّينة المزوّقة، ومنه قيل للذّهب : زُخْرُفٌ ، وقال : أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَها [يونس/ 24] ، وقال : بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ [ الإسراء/ 93] ، أي : ذهب مزوّق، وقال : وَزُخْرُفاً [ الزخرف/ 35] ، وقال : زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً [ الأنعام/ 112] ، أي : المزوّقات من الکلام .
( زخ رف )
الزخرف اصل میں اس زینت کو کہتے ہیں جو ملمع سے حاصل ہو اسی سے سونے کو بھی زخرف کہا جاتا ہے ( کیونکہ یہ زیبائش کے کام آتا ہے ) ۔ قرآن میں ہے :۔ أَخَذَتِ الْأَرْضُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
تفسیر : کفار مکہ کا آنحضرت ﷺ کی نبوت پر یہ بھی ایک بیہودہ شبہ تھا جس کو یہاں نقل کر کے جواب دیتا ہے فقال وقالوا الولانزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں کے کسی بڑے شخص پر کیوں نہ نازل ہوا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قریتین سے مراد ان کی دو شہر تھے مکہ اور طائف اور رجل عظیم یعنی بڑے عظیم شخص سے مراد وہ کہ جو بڑا مالدار ‘ صاحب شوکت وجاہ ہو۔ مکہ میں ایسا شخص جو منصب نبوت کا مستحق ‘ دنیاوی مال وجاہ کے لحاظ سے ان حمقاء کے نزدیک سمجھا گیا تھا ولید بن المغیرہ تھا اور طائف والوں میں سے عروہ بن مسعود ثقفی۔ یہ کہنا تو ان کا درست تھا کہ کسی بڑے شخص پر قرآن اترنا تھا مگر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
وَلَوْلَآ اَنْ یَّکُوْنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّـکْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِہِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّۃٍ وَّمَعَارِجَ عَلَیْھَا یَظْھَرُوْنَ ۔ وَلِبُیُوْتِہِمْ اَبْوَابًا وَّسُرُرًا عَلَیْھَا یَتَّـکِؤُنَ ۔ وَزُخْرُفًا ط وَاِنْ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ط وَلْاٰخِرَۃُ عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ (الزخرف : 33 تا 35)
(اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ ایک ہی طریقے پر چل پڑیں گے تو ہم ان لوگوں کے لیے جو اللہ رحمن کے منکر ہیں ان کے گھروں کی چھتوں کو چاندی کی بنا دیتے، اور ان کی سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں۔ اور ہم ان کے گھروں کے دروازوں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
فہم القرآن
ربط کلام : جس مال کو لوگ جمع کرتے ہیں اور جس کی محبت میں مرے جاتے ہیں اس کی حقیقت۔
قرآن مجید نے بار بار لوگوں کو یہ حقیقت بتلائی اور سمجھائی ہے کہ دنیا اور دنیا کی ہر چیز عارضی اور ناپائیدار ہے۔ ہمیشہ رہنے والی آخرت ہے اس دن سچا ایمان اور صالح اعمال کام آئیں گے۔ جہاں تک دنیا کے وسائل اور اس کی زیب وزینت کا معاملہ ہے۔ اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ دنیا کی خاطر سب کے سب لوگ کفر پر اکٹھے ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کفار کے گھر ہی نہیں ان کے مکانوں کی چھتیں، سیڑھیاں، گھروں کے دروازے اور جہاں وہ تکیہ لگائے اپنی مجالس کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی سونے چاندی کے بنا دیتا۔ یعنی اس قدر انہیں…
Read the full tafseer →آیت 35: وَزُخْرُفًا (اور سونے کے بھی) یعنی ہم کفار کو ایسی چھتیں اور سیڑھیاں ٗ دروازے تمام کے تمام چاندی کے مہیا کردیتے اور ان کے لئے زینت دے دیتے یعنی ہر چیز کی زینت۔ الزخرف۔ سونا اور زینت۔ یہ بھی درست ہے کہ اصل اس طرح ہو۔ چھتیں چاندی اور سونے کی کچھ حصہ چاندی اور کچھ حصہ سونے کا۔
نحو : زخرفا یہ من فضۃٍ کے محل پر معطوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ لبیوتہم یہ لمن یکفر کا بدل الاشتمال ہے۔
قراءت : سقفًا جنس قرار دے کر مکی ٗ ابوعمرو ٗ یزید نے پڑھا ہے المعارج جمع معرج کی ہے۔ بلندی پر چڑھنے والا زینہ۔ علیہا یظہرون۔ ای علی المعارج یظہرون السطوح۔ سیڑھیوں سے چھتوں پر چڑھتے۔ وَاِنْ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا…
Read the full tafseer →34، ولبیو تھم ابوابا، چاندی کے، وسررا، یعنی اور ہم ان کے لیے چاندی کے تخت بناتے ۔ ، علیھا یتکئون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
31۔ 35۔ جب قریش ان باتوں میں بالکل لاجواب ہوگئے کہ جس طریقے پر وہ تھے وہ طریقہ ملت ابراہیمی کے سرتاپا مخالف ہے عمرو بن لحی کے زمانہ سے بت پرستی اور بتوں کے نام پر جانوروں کا چھوڑنا یہ سب کفر کی رسمیں جاری ہو کر ملت ابراہیمی کی کوئی بات ان لوگوں میں باقی نہیں رہی تو لاجواب اور قائل ہونے کے بعد قریش نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ہم لوگ مالدار اور عزت دار ہیں اس واسطے کسی مالدار شخص کو جیسا کہ مثلاً مکہ میں ولید ؓ بن مغیرہ اور طائف میں عمروہ ؓ بن مسعود ہے ایسے لوگوں کو ہم اپنا سرگروہ بنانا چاہتے ہیں اس لئے یہ قرآن جو محمد ﷺ پر اترتا ہے ولید یا عروہ جیسے کسی مالدار شخص پر نازل ہوتا تو خوب ہوتا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
آیت 33
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس کے نزدیک دنیا کی کوئی حیثیت نہیں، اگر اپنے بندوں پر اس کا لطف و کرم اور اس کی رحمت نہ ہوتی جس کے سامنے ہر چیز ہیچ ہے تو ان لوگوں پر جنہوں نے کفر کیا، دنیا کو بہت زیادہ کشادہ کردیتا اور بنا دیتا (لبیوتھم سقفا من فضۃ ومعارج) ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی اور سیڑھیاں بھی چاندی کی (علیھا یظھرون) جس کے ذریعے سے وہ اپنی چھتوں پر چڑھتے ہیں۔ (ولبیوتھم ابواباً و سررا علیھا یتکؤن) اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت، جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں، سب چاندی کے ہوتے اور اللہ تعالیٰ ان کے لئے بنا دیتا (زخرفاً ) سونا “ یعنی مختلف انواع کی خوبصورتی کے ذریعے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
43 متاع دنیا کی حقارت اور بےحقیقتی کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ ایک ہی ڈگر پر چل پڑیں گے تو ہم ان لوگوں کے لیے جو خدائے رحمان کے ساتھ کفر کرتے ہیں ان کے گھروں کی چھتوں کو چاندی کا بنا دیتے اور ان کی ان سیڑھیوں کو بھی جن پر یہ لوگ اترتے چڑھتے ہیں۔ اور ان کے گھروں کے دروازوں کو بھی اور ان کے ان تختوں کو بھی چاندی کا بنا دیتے جن پر یہ لوگ ٹیک لگاتے ہیں اور یہ سب چیزیں سونے کی بھی کردیتے "۔ دوسرے معنیٰ " زخرف " کے زینت سے بھی کئے گئے ہیں۔ جس میں سونا، چاندی، ہیرے، جواہر وغیرہ سب ہی کچھ آجاتا ہے۔ یعنی ہم انہیں طرح طرح کے نہایت عمدہ اور بیش قیمت سامان زیب وزینت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
دنیا و آخرت کی بڑائی کفر و شرک کا انجام
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو دنیاوی اور آخروی نعمتوں، برکتوں، مال و اسباب اور اجر وثواب کا مقابلہ کیا گیا ہے۔ اول تو مال و دولت اور درجات کی تقسیم اللہ تعالیٰ نے اپنے منصوبے، پروگرام اور نظام دنیا کی بہترین طریقہ سے چلانے کے لحاظ سے مقرر کر رکھا ہے۔ تفصیلات پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو دیکھیں تو مسئلہ بڑی آسانی سے سمجھ آسکتا ہے۔ مثلاً باہر کے کام مشکل ہوتے ہیں تو مرد کو جسمانی لحاظ سے مضبوط بنا دیا گھر کے اندر ہلکے اور نازک کام ہوتے ہیں تو عورت کو نرم و نازک اور نسبتاً کمزور طاقت والا بنا دیا گھر میں کام کاج میں مدد کے لیے کم حیثیت یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
آیات 26 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
اور انہیں باپ دادا ہی کی بات قبول تھی تو ابراہیم (علیہ السلام) کی بات قبول کرتے جنہوں نے باپ دادا کی رسومات قبول کرنے کے بجائے اللہ کی طرف سے عطا کردہ دین اپنایا اور انہیں صاف بتادیا کہ یہ جو کچھ رسومات تم کرتے ہو میں ان سے الگ اور بےزار ہوں بلکہ جس قادر مطلق نے مجھے پیدا فرمایا ہے وہ ہدایت کا راستہ بھی بتائے گا کہ وہ محض پیدا کرکے چھوڑ نہیں دے گا بلکہ انہوں نے نہ صرف پہلوں کے کفر وشرک کی تردید کی بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی حق اور توحید کی اس قدر تاکید فرماگئے کہ ان کے بعد صدیوں تک لوگ عقیدہ توحید پر قائم رہے اور آج تک یعنی بعثت نبوی تک بعض عرب اس پر قائم تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ف 9 یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں اس دنیوی مال و دولت کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے بلکہ یہ اس کی نظر میں اس قدر حقیر چیز ہے کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ دنیا میں تمام لوگ کفر کی راہ اختیار کرلیں گے تو ہر کافر کا گھر سونے چاندی کا بنادیا جاتا اور اسے ہر قسم کا عیش و آرام فراہم کردیا جاتا۔ نہایت احمق ہے وہ شخص جو اس دنیوی مال و دولت کو عزت و شرافت کا معیار سمجھتا ہے۔ حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کافر کو ایک گھونٹ پانی نہ دیتا۔ ( شوکانی بحوالہ ترمذی، ابن ماجہ)
Read the full tafseer →(43:35) وزخرفا۔ واؤ عاطفہ ، زخرف کے متعلق لغات القرآن میں ہے ملمع۔ سنہری۔ سونا۔ آراستہ۔ زینت اور کسی شے کے کمال حسن کو زخرف کہتے ہیں لیکن جب قول ہوں گے ۔ جیسے ارشاد ہے زخرف القول غرورا (6:112) ملمع کی باتیں فریب کی۔
امام راغب (رح) لکھتے ہیں الزخرف اصل میں اس زینت کو کہتے ہیں جو کہ ملمع سے حاصل ہو۔ اسی سے سونے کو بھی زخرف کہا جاتا ہے کیونکہ یہ زیبائش کے کام آتا ہے۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے واخذت الارض زخرفھا (10:24) یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی۔ اور سونے کے معنی میں :۔ بیت من زخرف (17:93) سونے کا گھر۔
بظاہر زخرفا کا عطف سقفا پر ہے اس صورت میں اس کا معنی نقش و نگار زیب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 35 : برائ (بیزار ہوتا) فطرنی ( اس نے مجھے پیدا کیا) کلمۃ باقیۃ (باقی رہنے والا پیغام) عقب (پیچھے) متعت ( میں نے سامان دیا) قریتین (دو بستیاں ( مکہ و طائف) یقسمون ( وہ تقسیم کرتے ہیں) معیشت (روزی) سخریا ( ذلیل ، ذلت) سقف ( چھتیں) فضۃ ( چاندی) معارج ( معراج) (سیڑھیاں) سرر ( سریر) تخت ، بیٹھنے کی جگہیں) زخرف (سونا)
تشریح : آیت نمبر 26 تا 35 : اوپر کی آیات میں گمراہ باپ دادا کے نقش قدم پر چلنے ، اللہ کے پیغمبروں کی تعلیمات سے منہ پھیر کر زندگی گزارنے ، حق و صداقت کا انکار کرنے والے کے سامنے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر وہ قریش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
(ف 1) کافروں نے ہم لوگ مالدار ارعزت دار ہیں اس واسطے کسی مالدار شخص کو جیسا کہ مثلا مکہ میں ولید بن مغیرہ اور طائف میں عروہ بن مسعود ہے ایسے لوگوں کو ہم اپناسردار بنانا چاہتے ہیں اس واسطے یہ قرآن جو محمد ﷺ پر اترتا ہے ولید یاعروہ جیسے مالدار شخص پر نازل ہوتا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں کئی طرح دیا ہے۔ (1) ایک تو یہ کہ ان لوگوں کو کس نے مختار بنادیا ہے جو یہ اللہ کی رحمت کے حصے اپنی غرض کے موافق لگا رہے ہیں کیا نبوت کی کنجیاں انکے ہاتھ میں ہیں کہ جس کو چاہیں دیدیں کس قدر جاہلانہ بات کہتے ہیں اللہ نے اپنی حکمت کے موافق جس شخص کو نبوت کے قابل پایا اس کو نبوت عطا کی ان لوگوں کو اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
[14] یہاں متاع دنیا کی بےحقیقتی واضح کی گئی ہے جس کے غرور نے کفار کو اس خبط میں مبتلا کردیا تھا کہ وہ سمجھنے لگ گئے جب دنیا کی ساری شوکت و عظمت ہم کو حاصل ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ اللہ کو کوئی کتاب اتارنی ہوتی تو اس کے لئے وہ ہمارے سوا کسی اور کو تلاش کرتا۔ فرمایا کہ دنیا کے جس سروسامان پر ان کو ناز ہے اس کی حقیقت اللہ کی کی نگاہ میں کچھ بھی نہیں ہے اور اگر ایک خاص مصلحت مانع نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ کافروں کے مکانوں کی چھتیں، زینے، دروازے اور تخت سونے چاندی کے بنا دیتا لیکن اس نے ایسا اس لئے نہیں کیا کہ یہ آزمائش لوگوں کے لئے بہت سخت ہوجاتی۔ عام لوگ جب یہ دیکھتے کہ کافروں کو یہ کچھ حاصل ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
ف 1: ارشاد فرمایا : تمہارے نزدیک سونے اور چاندی کی بڑی قدرومنزلت ہے ۔ اور تم ان چیزوں کو معیار عظمت قرار دیتے ہو ۔ مگر ہم اس کو نہایت حقیر جانتے ہیں ۔ اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ کمزور عقل ودین والے ابتلاء اور آزمائش میں گرفتار ہوجائیں گے ۔ اور اپنے لئے کفر کو اختیار کرلیں گے ۔ تو ہم یہ ساری دولت اپنے دشمنوں کو دے دیتے ۔ ان کے گھرچاندی اور سونے کے ہوتے ۔ گھروں کی چھتیں چاندی اور سونے کی ہوتیں ۔ دروازے اور سیڑھیاں اور استعمال میں آنے کی تمام چیزیں چاندی اور سونے کی ہوتیں ۔ اور بحیثیت مجموعی ان کی زندگی بڑی آرائش اور ٹھاٹ کی ہوتی ۔ ہم اس متاع کو متاع غرور سمجھتے ہیں اور ہمارے پاکباز سندے بھی ان…
Read the full tafseer →(35) اور نہ صرف چاندی کے بلکہ سونے کے بھی کردیتے اور سب مذکور مال و دولت کے کچھ نہیں مگر دنیوی زندگی کی چند روزہ بہرہ مندی اور کامرانی ہے اور آخرت آپ کے پروردگار کے ہاں انہی کے لئے ہے جو ڈرتے ہیں اور متقی ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کافر کو اللہ نے پیدا کیا کہیں تو اس کو آرام دے آخرت میں تو عذاب ہے دنیا ہی میں آرام ملتا مگر ایسا ہو تو سب وہی کفر پکڑلیں۔
مطلب صاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی کوئی وقعت اور عزت نہیں اگر کافروں کو دنیا زیادہ دی گئی تو دنیا اور کافروں کی یہ عزت نہیں ہے منکروں کے پاس دنیا کی کثرت دیکھ کر یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ منکروں پر بڑے مہربان ہیں۔ دنیا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ف 6۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا واقع میں امر عظیم نہیں ہے، پس وہ منصب عظیم یعنی نبوت کی صلاحیت کی بنا پر بھی نہ ہوگی، بلکہ بناء اس کی صلاحیت کی ملکات فاضلہ موہوبہ من اللہ ہیں جو محمد ﷺ میں بدرجہ اکمل مجتمع ہیں، پس نبوت ان ہی کے لئے زیبا تھی نہ کہ مکہ و طائف کے رئیسوں کے لئے۔
7۔ پس جو چیز فانی ہو نہ وہ قابل قدر ہے نہ قابل طلب، البتہ آخرت جو کہ باقی ہے وہ اور اس کے تحصیل کے ذرائع کہ اعمال و طاعات ہیں وہ بیشک قابل اعتبار ہیں۔
Read the full tafseer →دنیوی زندگی کے سارے سروسامان عارضی اور ناپائیدار ہیں
35 ؎ انسان سمجھے یا نہ سمجھے بہرحال یہ دنیوی زندگی کے سارے سروسامان عارضی اور ناپائیدار ہیں ان کی مثال بالکل اس طرح سمجھ لو جس طرح حباب آب ہے کہ دیکھنے میں وہ کتنا ہی خوبصورت اور بہت بڑا نظر آتا ہے لیکن حقیقت اس کی کچھ بھی نہیں ہے کہ ابھی وہ ایک خوبصورت چیز نظر آ رہا تھا اور ابھی غائب ہوگیا اور پھر ایسا غائب ہوا کہ جیسے اس کا وجود کبھی قائم نہ ہوا تھا اور اب ایک لحظہ میں دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہوگیا۔ ہاں ! آخرت جو ربِّ ذوالجلال والا کرام نے مقرر فرما دی ہے اور موت کو موت دینے کے بعد زندگی کو ہمیشہ کے لیے قائم کر دیاجائے اور اس طرح جو حالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
Commentary
وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ (And whoever makes himself blind against the advice of the Rahman, We assign for him a devil who accompanies him all the time - 43:36) It means that whoever knowingly turns a blind eye towards Allah's advice i.e. the Holy Qur'an and wahy, Allah assigns to him a devil who accompanies him all the time in this world to prevent him from virtuous deeds, and to divert him towards evil. When such a man is resurrected in the Hereafter, his devil will also be with him, till they both are pushed in Hell. (Qurtubi).
We learn from this that the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
34 "Dhikr of the Merciful" : His remembrance as well as His admonition and the Qur'an.
Read the full tafseer →