Explained with ayahs 9–12
تخلیق کائنات کا مرحلہ وار ذکر۔
ہر چیز کا خالق ہر چیز کا مالک ہر چیز پر حاکم ہر چیز پر قادر صرف اللہ ہے۔ پس عبادتیں بھی صرف اسی کی کرنی چاہئیں۔ اس نے زمین جیسی وسیع مخلوق کو اپنی کمال قدرت سے صرف دو دن میں پیدا کردیا ہے۔ تمہیں نہ اس کے ساتھ کفر کرنا چاہے نہ شرک۔ جس طرح سب کا پیدا کرنے والا وہی ایک ہے۔ ٹھیک اسی طرح سب کا پالنے والا بھی وہی ایک ہے۔ یہ تفصیل یاد رہے کہ اور آیتوں میں زمین و آسمان کا چھ دن میں پیدا کرنا بیان ہوا ہے۔ اور یہاں اس کی پیدائش کا وقت الگ بیان ہو رہا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ پہلے زمین بنائی گئی۔ عمارت کا قاعدہ یہی ہے کہ پہلے بنیادیں اور نیچے کا حصہ تیار کیا جاتا ہے پھر اوپر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 11
زمین کی برکتوں سے مراد وہ بےحد و حساب سر و سامان ہے جو کروڑہا کروڑ سال سے مسلسل اس کے پیٹ سے نکلتا چلا آ رہا ہے اور خورد بینی کیڑوں سے لے کر انسان کے بلند ترین تمدن تک کی روز افزوں ضروریات پوری کیے چلا جا رہا ہے۔ ان برکتوں میں سب سے بڑی برکتیں ہوا اور پانی ہیں جن کی بدولت ہی زمین پر نباتی، حیوانی اور پھر انسانی زندگی ممکن ہوئی۔
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 12
اصل الفاظ ہیں قَدَّرَ فِیْھَآ اَقْوَاتَھَا فِیْ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍ سَوَآءً للسَّآئِلِیْنَ۔ اس فقرے کی تفسیر میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں
بعض مفسرین اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ " زمین میں اس کے ارزاق مانگنے والوں کے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ (ان لوگوں سے) فرمائیے کہ کیا تم لوگ ایسے خدا کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو (باوجود اس کی بڑی وسعت کے) دو روز (کی مقدار وقت) میں پیدا کردیا اور تم اس کے شریک ٹھہراتے ہو یہی (خدا جس کی قدرت معلوم ہوئی) سارے جہاں کا رب ہے اور اس نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنا دیئے اور اس (زمین) میں فائدہ کی چیزیں رکھ دیں (جیسے نباتات وحیوانات وغیرہ) اور اس (زمین) میں اس کے رہنے والوں کی غذائیں تجویز کردیں (جیسا کہ مشاہدہ ہے کہ ہر حصہ زمین کے رہنے والوں کے مناسب الگ الگ غذائیں ہیں یعنی زمین میں ہر قسم کے غلے میوے پیدا کردیئے کہیں کچھ کہیں کچھ جن کا سلسلہ برابر جاری ہے۔ یہ سب) چار دن میں (ہوا۔ دو…
Read the full tafseer →نظام کائنات میں توحید کے شواہد
اب یہ آسمان و زمین کے نظام کے اندر خالق کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور اس کی توحید کے جو آثارنمایاں ہیں ان کی طرف توجہ دلائی ہے اور آگے آیت 12 میں اس بحث کا خلاصہ یہ نکالا ہے کہ ’ ذلک تقدیر العزیز العلیم ‘ یعنی جو شخص اس کائنات کے ان پہلوئوں پر غور کرے گا وہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ یہ نہ تو ایک حادثہ کے طور پر آپ سے آپ وجود میں آگئی ہے، نہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشا ہے اور نہ یہ مختلف دیویوں دیوتائوں کی بازی گاہ یا رزم گاہ ہے بلکہ یہ خدائے عزیز وعلیم کی منصوبہ بندی اور اس کے علم و حکمت سے وجود میں آئی ہے۔ یہ مضمون چار آیتوں میں پھیلا ہوا ہے اس وجہ سے قارئین…
Read the full tafseer →9۔ 1 قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا یہاں اس کی کچھ تفصیل بیان فرمائی گئی ہے فرمایا زمین کو دو دن میں بنایا اس سے مراد ہیں یوم الاحد اتوار اور یوم الاثنین سورة نازعات میں کہا گیا ہے والارض بعد ذلک دحہا جس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ زمین کو آسمان کے بعد بنایا گیا ہے جب کہ یہاں زمین کی تخلیق کا ذکر آسمان کی تخلیق سے پہلے کیا گیا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ تخلیق اور چیز ہے اور دحی جو اصل میں دحو ہے بچھانا یا پھیلانا اور چیز زمین کی تخلیق آسمان سے پہلے ہوئی جیسا کہ یہاں بھی بیان کیا گیا اور دحو کا مطلب ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
1: یہ سورت مکی ہے اور اس کے علاوہ بعض دوسری مکی سورتوں میں بھی زکوٰۃ کا ذکر آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ مکہ مکرمہ ہی میں فرض ہوچکی تھی، البتہ اس کے تفصیلی احکام مدینہ منورہ میں آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت نمبر 9 تا 12
اے پیغمبر ان سے کہو کہ تم جب کفر کرتے ہو اور لاپرواہی میں یہ عظیم بات کہہ جاتے ہو ، یہ تو تم ایک بہت ہی بڑے جرم کا ارتکاب کرتے ہو ، یہ نہایت ہی قبیح اور ناپسندیدہ فعل ہے ، تم ایک ایسی ذات کا انکار کرتے ہو ، جس نے زمین کو پیدا کیا ، اس کے اندر پہاڑ پیدا کیے ، ان کے اندر برکات پیدا کیں ، اس زمین کے اندر رزق کی تمام ضروریات پوری پوری رکھ دیں ، جس نے آسمانوں کو پیدا کیا اور یہ سب کام اس نے چار دنوں میں سرانجام دیئے اور تمام مانگنے والوں کے لیے ان کی ضروریات مہیا کردیں جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ، منظم کیا ، خصوصاً دنیا سے قریب والے آسمان کو خوب مزین کیا ، زمین اور آسمان نے اس کے…
Read the full tafseer →1 یعنی کس قدر تعجب کا مقام ہے کہ رب العالمین کی وحدانیت اور صفات کمالیہ کا انکار کرتے اور دوسری چیزوں کو اس کے برابر سمجھتے ہو جو ایک ذرہ کا اختیار نہیں رکھتیں۔
Read the full tafseer →آیت 9 { قُلْ اَئِنَّکُمْ لَـتَـکْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ } ”اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہیے کہ کیا تم لوگ کفر کر رہے ہو اس ہستی کا جس نے زمین کو بنایا دو دنوں میں ؟“
{ وَتَجْعَلُوْنَ لَہٗٓ اَنْدَادًاط ذٰلِکَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ } ”اور تم اس کے لیے مدمقابل ٹھہرا رہے ہو ! وہ ہے تمام جہانوں کا رب۔“
اَنْدَاد کا واحد ”نِدّ“ ہے جس کے معنی مد مقابل کے ہیں۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا ہے تو اس کا مالک اور اصل حاکم بھی وہی ہے۔ لہٰذا دنیا میں اگر کوئی حاکم بنے گا تو اسے اللہ کا تابع اور ماتحت بن کر رہنا ہوگا۔ اس حیثیت سے وہ اللہ کا خلیفہ ہوگا۔ لیکن اگر کوئی اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
7 مَنَّ کا لغوی مفہوم :۔ َغیْرَ مَمْنُوْنٍ کے بھی دو معنی ہیں۔ مَنَّ کا معنی کسی چیز کا آہستہ آہستہ کم ہو کر ختم ہوجانا اور اس کا سلسلہ منقطع ہوجانا بھی ہے اور اس کا دوسرا معنی احسان کرنا اور احسان جتلانا بھی ہے۔ پہلے معنی تو ترجمہ سے واضح ہیں۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ اہل جنت کو جو نعمتیں بھی میسر ہوں گی ان کا کبھی احسان نہیں جتلایا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
7۔ وہ کوئی چھوٹا موٹا دیوتا نہیں، وہ تو سارے عالم ومافی العالم کا واحد خالق و پروردگار ہے ! تم ایسے عظیم الشان وجلیل القدر آفرید گار کے باب میں اس کے تفرد کے قائل نہیں، اب اس سے بڑھ کر کھلی ہوئی حماقت وسفاہت اور کیا ہوگی (آیت) ” فی یومین “۔ یوم پر حاشیہ فی ستۃ ایام کے تحت میں گزر چکا ہے کہ اس سے مراد یہ ہمارا متعارف 24 گھنٹہ کا دن نہیں جس کا وجود آفرینش کائنات کے بعد ہی ہوسکا ہے بلکہ مطلق دو مختلف وقت مراد ہیں۔ (آیت) ” ائنکم لتکفرون “ ، ائن اور ل معنی کفر کی تاکید کیلئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
آیت نمبر 9 تا 18
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے ! کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو، اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین دو روز میں پیدا کردی یعنی اتوار اور پیر میں اَئِنَّکُمْ میں دوسرے ہمزہ کی تحقیق و تسہیل کے ساتھ اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کرکے تمام جہانوں کا مالک وہی ہے عالمین عالَم کی جمع اور وہ اللہ کے علاوہ ہے عالمین عالَمْ مختلف الانواع ہونے کی وجہ سے جمع اور ذوی العقول کو (غیر ذوی العقول پر) غلبہ دینے کی وجہ سے یاء ونون کے ساتھ لایا گیا ہے، اور اس نے زمین میں اس کے اوپر جمے رہنے والے پہاڑ رکھ دیئے یہ جملہ مستانفہ ہے، اس کا عطف الذی کے صلہ پر فصل بالاجنبی کی وجہ سے جائز…
Read the full tafseer →قل ائنکم لیکفرون بالذی خلق الارض فی یومین وتجعلون لہ اندادا ذلک رب العلمین
آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم لوگ ایسے خدا (کی توحید) کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو (باوجود اتنی بڑی لمبائی چوڑائی کے) دو دن میں پیدا کردیا اور تم اس کے شریک ٹھہراتے ہو ؟ یہی سارے جہان کا رب ہے۔
اَءِنَّکُمْ استفہام زجری ہے۔ یہ جملہ جواب ہے ایک محذوف سوال کا ‘ گویا رسول اللہ ﷺ نے سوال کیا کہ اگر وہ استقامت اختیار نہ کریں اور استغفار نہ کریں تو میں ان سے کیا کہوں۔
فِیْ یَوْمَیْنِ یعنی دو دن کی مقدار کے برابر وقت میں ‘ ان دو دنوں کا نام یک شنبہ اور دو شنبہ رکھا گیا ہے۔
ذٰلِکَ یعنی یہ جس نے زمین دو دن کی مدت میں بنائی۔
رَبُّ…
Read the full tafseer →آپ اہل مکہ سے فرما دیجیے کہ کیا تم لوگ ایسے اللہ کی توحید کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو اتوار اور پیر کے دن میں پیدا کیا اور تم بتوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو اور وہ ہر ایک جاندار کا پروردگار ہے۔
Read the full tafseer →(1) قل ابنکم لتکفرون …: مشرکین کا آخرت کا انکار ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے اس پر قادر ہونے، بلکہ ہر چیز پر قادر ہونے کے دلائل کا ذکر شروع فرمایا اور دلیل میں ان چیزوں کے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا جو ان کی آنکھوں کے سامنے تھیں اور جن کا خلاق وہ خود اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے۔ بات کا آغاز ہمزہ استفہام، ”ان“ اور لام کی تاکید کے ساتھ ہوا ہے۔ اس میں ان کے شرک پر تعجب اور ڈانٹ بھی ہے اور اس بات کا اظہار بھی کہ یقیناً تم شرک کی کمینی حرکت کرتے ہو، حالانکہ کوئی عقل مند سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی انسان زمین و آسمان کے خالق کے ساتھ کفر کرے گا اور اس کے ساتھ شریک بنئاے گا۔ تعجب اور ڈانٹ کے ساتھ ساتھ زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
(قل ائنکم لتکفرون۔۔۔۔ )
1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 169
قل ائنکم لتفکرون بالذی خلق الارض فی فومین ائنکم دو ہمزوں کے ساتھ ہے دوسرا ہمزہ بین بین ہے اور دو ہمزوں کے درمیان الف ہے اس کا معنی شرمندہ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو حکم دیا تاکہ انہیں شرمندہ کیا جائے اور ان کے فعل پر تعجب کا اظہار کیا جائے معنی ہے تم کیوں اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہو جبکہ وہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ؟ یومین سے مراد اتوار اور سوموار ہے انداد ًاکا معنی اضداد اور شریک ہیں وجعل فیھا ھا ضمیر سے مراد زمین ہے، رواسی سے مراد پہاڑ ہیں۔ وہب نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو اسے پانی پر پھیلا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
1:۔ ابن جریر ونحاس (رح) (فی ناسخہ) وابوالشیخ (رح) فی العظمہ) اور حاکم (رح) (وصححۃ) وابن مردویہ اور بیہقی (رح) نے (الاسماء والصفات میں) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے آسمان اور زمین کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ زمین کو اتوار اور پیر کے دن پیدا فرمایا اور پہاڑوں کو اور ان میں جو منافع ہیں وہ منگل کے دن پیدا فرمایا اور بدھ کے دن درخت، پانی، شہر، آبادی، کھنڈرات کو پیدا فرمایا یہ چار دن ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین وتجعلون لہ اندادا، ذلک رب العلمین (9) وجعل فیھا رواسی من فوقھا وبرک فیھا وقدر فیھا…
Read the full tafseer →قُلْ اَىِٕنَّكُمْ [ آپ کہئے کیا واقعی تم لوگ ] لَتَكْفُرُوْنَ [ قطعی ناشکری کرتے ہو ] بِالَّذِيْ [ اس (ہستی ) کی جس نے ] خَلَقَ الْاَرْضَ [ پیدا کیا زمین کو ] فِيْ يَوْمَيْنِ [ دو دنوں میں ] وَتَجْعَلُوْنَ لَهٗٓ [ اور بناتے ہو اس کے لئے ] اَنْدَادًا ۭ[ کچھ ہم پلہ ] ذٰلِكَ [ وہ ] رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کا رب ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
زمین و آسمان کی تخلیق کا تذکرہ، ان دونوں سے اللہ تعالیٰ کا خطاب، اور ان کا فرمانبرداری والا جواب
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کی دعوت دی ہے اور شرک کی شناعت اور قباحت بیان فرمائی نیز آسمان اور زمین کے پیدا فرمانے اور آسمان اور زمین سے متعلقہ امور بیان فرمائے۔
ارشاد فرمایا کیا تم اس ذات پاک کی توحید کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا فرما دیا اتنی بڑی زمین کا وجود سمجھدار عقلمند انسان کے لیے یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اس کا پیدا فرمانے والا وحدہ لا شریک ہے اس کی توحید کے قائل ہونے کی بجائے تم نے یہ کر رکھا ہے کہ اس کے لیے شریک ٹھہرا دئیے جنہیں تم اس کے برابر سمجھتے ہو انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
استعجاب وتوبیخ برکفر خالق کائنات وتہدید بذکرانجام مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض ........ الی ......... وکانوایتقون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور اثبات رسالت نبی کریم ﷺ ، بطور تمہید ان امور کو ذکر کرکے اب ان آیات میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس امر پر اظہار تعجب کیا جارہا ہے کہ خالق کائنات (جس کی قدرت وخالقیت اور الوہیت کے دلائل روزروشن سے زائد واضح ہیں) کا انکار کوئی بھی صاحب عقل انسان کیونکر کرتا ہے، جب بھی انسان عقل اور فطرت کے معیار پر اس بات کو پرکھے گا کبھی بھی انکار خدا اور شرک کے امکان کا تصور بھی نہیں کرسکتا، اس ذلیل میں…
Read the full tafseer →7:۔ ” قل ائنکم “ تا ” ذلک تقدیر العزیز العلیم “ یہ پہلی عقلی دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی متصرف اور مالک و مختار نہیں۔ حاصل دلیل یہ ہے کہ کیا تم اس قادر و مطلق کے ساتھ کفر کرتے اور غیروں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہو جو یہ سب کام سرانجام دینے والا ہے اور جن کو تم اس کے سوا متصرف اور کارساز سمجھ کر پکارتے ہو وہ ان کاموں میں سے کوئی کام بھی نہیں کرسکتے۔ ” وتجعلون لہ اندادا “ یہ تکفرون بالذی الخ “ کی تفسیر ہے واؤ تفسیر یہ ہے اور دوسرے جملے کا پہلے جملے پر عطف تفسیری ہے کیونکہ مشرکین مکہ ذات باری تعالیٰ کے منکر نہیں تھے۔ جیسا کہ ” لیقولن اللہ “ سے ان کا اعتراف ظاہر ہے۔ ” ذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ربط آیات
پہلے قرآن حکیم کی حقانیت و صداقت اور اس کا وحی الٰہی ہونا بیان کیا اور ساتھ یہ بھی کہ یہ مفصل کتاب ہے ۔ جو عربی زبان میں نازل ہوئی ہے۔ اللہ نے اس کی غر ض وغایت بیان کی اور ساتھ مشرکوں کا رد فرمایا ۔ پھر پیغمبر (علیہ السلام) کی زبان مبارک سے کہلوایا کہ میں تو تم جیسا انسان ہوں اور میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تمہارا معبود بر حق ایک ہی معبود ہے۔ اس کے بعد اللہ نے استقامت علی الدین کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی ترغیب دی ۔ مشرکین کا شکوہ بیان ہوا کہ وہ پاکیزگی اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ ان کے بر خلاف ایمان اور نیکی والوں کے لیے اللہ کے…
Read the full tafseer →قُلْ اَىِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَہٗٓ اَنْدَادًا 0 ۭ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 9ۚ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ترکیب : قرء الجمہور بھمزتین للاستفہام بالھمزۃ وان واللام بعدھا لتا کید الانکار والتشنیع و تجعلون لہ اندادًا الجملۃ معطوفۃ علی تکفرون داخلۃ تحت الاستفہام وجعل فیہا معطوف علی خلق وقیل مستانف لوقوع الفصل بینھما بالاجنبی فی اربعۃ ایام ای فی تتمۃ اربعۃ ایام۔ سوائً منصوب علی انہ مصدر موکد لفعل محذوف ھو صفۃ لایام ای استوت الاربعۃ سواء للسائلین متعلق بہ محذوف تقدیرہ اے قدر فیھا الاقوات للطالبین طوعا اوکرھا مصدران فی موضع الحال اتینا بالقصر بمعنی جئینا و بالمد بمعنی اعطینا الطائعۃ طالُعین حال و حفظا مصدر۔
تفسیر : پہلے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا تھا کہ کہہ دو ویوحیٰ الی انما الہکم الٰہ واحد کہ میری طرف…
Read the full tafseer →قُلْ اَئِنَّکُمْ لَـتَـکْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَـہُٓ اَنْدَادًا ط ذَلِکَ رَبُّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 9)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ کیا تم اس ہستی سے کفر کرتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنایا اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو، وہی تو تمام عالم کا رب ہے۔ )
فکری تضاد کفر کا سبب ہے
گزشتہ آیات میں مشرکین کے تمام تر مطالبات اور آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مقابلے میں ان کی ہٹ دھرمیوں اور لن ترانیوں کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ میں تو تمہاری طرح ایک بشر ہوں، میں نہ تمہارے مطالبات کو پورا کرسکتا ہوں اور نہ تمہارے اعذار کو ختم کرسکتا ہوں۔ میں تو تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کو اپنے لیے بوجھ قرار دینے والوں کو نبی محترم ﷺ کا جواب۔
جو شخص گمراہی اور اپنی جہالت کا اعتراف کرنے کے باوجود اس پر اترائے۔ اس کے ساتھ جھگڑنے یا اس پر مزید وقت صرف کرنے کی بجائے اس سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے۔ اسی کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے فرما دیں کہ بحیثیت انسان میں بھی تمہارے جیسا ایک بشر ہوں۔ فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول منتخب کیا اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر واضح کروں کہ ہر قسم کی عبادت کے لائق صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ اس کا حکم ہے کہ ادھر ادھر کے راستوں کو چھوڑ کر صرف اسی کے راستے پر پکے ہوجاؤ۔ اپنے…
Read the full tafseer →نمونہ ہائے قدرت، نہ آسمان و زمین کی تخلیق :
قُلْ اَىِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ (کہہ دیجیے کیا تم ایسے اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو روز میں پیدا کردیا) یومین سے اتوار اور سوموار مراد ہیں۔ مخلوق کو حوصلہ و ترتیب کی تعلیم دینے کیلئے اور اگر ان کو ایک لحظہ میں پیدا کرنا چاہتا تو کرسکتا ہے۔ وَتَجْعَلُوْنَ لَهٗٓ اَنْدَادًا (اور تم اس کے شریک بناتے ہو) شریک اور مشابہ۔ ذٰلِكَ (یہ) جس نے ما سبق مخلوق بنائی۔ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ (سارے جہاں کا رب ہے) ۔ تمام موجودات کا خالق ہے اور انکا مالک و مربی ہے۔
Read the full tafseer →اجرغیر ممنون کی وضاحت
تفسیر 8۔ ، ان (رح) الذین امنوا وعملوا الصحات لھم اجرغیر ممنون، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ختم نہ ہونے والا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ کم نہ ہوگا اور اسی سے ممنون ہے اس لیے کہ وہ انسان کا احسان اور قوت کم کرتا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان پر اس کا احسان نہیں جتایاجائے گا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ حساب نہ ہوگا اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت مریضوں اور اپاہجوں اور بوڑھوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب وہ طاعت سے عاجز ہوجائیں تو ان کے لیے تندرستی میں جو اعمال کرتے تھے اسی کی طرح اجرلکھاجائے گا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
9۔ 12۔ ان آیتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین اور پہاڑ اور جو کچھ زمین میں پیداوار کی چیزیں ہیں پہلے چار روز میں یہ سب کچھ پیدا کیا گیا ہے اور پھر دور و زمین آسمان پیدا کئے گئے اور دالنازعات کی آیت ولارض بعد ذلک دحھا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کے پیدا ہونے کے بعد زمین پھیلائی گئی ہے اسی واسطے اکثر مفسرین نے ان دونوں آیتوں کو ملا کر یہ اعتراض کیا ہے کہ ایک آیت سے زمین کا آسمان سے پہلے پیدا کرنا معلوم ہوتا ہے اور دوسری آیت سے آسمان کے بعد پھر طرح طرح سے اس اعتراض کا جواب بھی دیا ہے اور یہ اعتراض کچھ آج کل کا نیا اعتراض نہیں ہے کیونکہ صحیح بخاری 1 ؎ میں (1 ؎ بخاری شریف تفسیر سورة حم السجدۃ ص 712…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت 9
اللہ تبارک و تعالیٰ تعجب کے ساتھ کفار کے کفر کا انکار کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ہر سر گھڑ رکھے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا ہوا ہے، ان کی عبادت کرتے ہیں، انہیں رب عظیم اور مالک کریم کے برابر گردانتے ہیں، جس نے اتنی بڑی زمین کو صرف دو دن میں پیدا کیا، پھر دو دن میں اس کو ہموار کیا، اس کے اندر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اسے مٹنے، ہلنے اور عدم استقرار سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کی تکمیل کی، پھر پھیلا کر ہموار کیا، اس میں سے خوراک اور اس کی توابعات نکالیں (آیت) ” چار دن میں، سوال کرنے والوں کے لئے یکساں ہے۔ “ یہ اس بارے میں سوال کرنے والوں کے لئے ٹھیک ٹھیک جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
15 آثارِ کائنات میں غور و فکر کی دعوت : سو زمین کے آثار و نشانات میں غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ کیا تم لوگ اس وحدہ لا شریک کے ساتھ کفر کرتے ہو اور اس کے لیے من گھڑت شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین کے اس عظیم الشان کرے کو دو دنوں کے اندر پیدا فرمایا ہے "۔ یعنی عجائب وغرائب اور بےحد و حساب نعمتوں سے بھر پور یہ زمین بنانا اور دو دنوں میں بنادینا ایک طرف اس کے کمال قدرت کی نشانی ہے اور دوسری طرف یہ اس کے بےپایاں کرم و احسان کا جیتا جاگتا ثبوت بھی ہے۔ پھر ایسے خدائے پاک کے ساتھ کفر کرنا جس قدر بڑا اور سنگین جرم ہوسکتا ہے اس کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ سو باز آجاؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–18
دنیا کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آخرت پر دھیان دینا ضروری ہے۔
اللہ کا حکم نبی ﷺ کی زبانی
تشریح : ان آیات کو پڑھنے سے مسلمان کے خصوصی اعتقادات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ رسول کو عام انسانوں پر فوقیت کیوں دی گئی۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کی بہترین مثال ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دے۔ سب سے پہلے وہ اللہ کی وحدانیت کا حکم سناتا ہے وہ واحد اس لیے ہے کہ اس جیسا خالق، مہربان، منتظم، انصاف کرنے والا اور باخبر اور کوئی نہیں جن، بشر یا فرشتے کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اس کی بنائی ہوئی تمام مخلوقات بہترین، مکمل اور نقص سے پاک ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
آیات 9 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
ان سے کہیے کہ تم اس ذات کو ماننے سے انکار کر رہے ہو جس نے دو روز میں زمین کو پیدا فرمایا اور اس کے مقابل دوسروں کو لاتے ہو اور انہیں معبود مانتے ہو جو کچھ پیدا تو کیا کرتے الٹا خود مخلوق کو یہی ذات سارے جہانوں کی پیدا کرنے والی بھی ہے اور پالنے والی بھی یہ اس کی حکمت کہ اس نے دوروز میں زمین بنائی پھر اس میں بھاری پہاڑ اور بیشمار برکات بےحساب نعمتیں رکھیں اپنی ہر ہرمخلوق کے لیے اس میں غذائیں سمودیں اور یہ ساراکام چار روز میں مکمل فرمایا کہ ساری مخلوق کی ہر ضرورت کو ہمیشہ پورا کرتی رہے گی اور یہ معنی بھی ہے کہ یہود مدینہ نے آپ سے زمین وآسمان کی تخلیق کے بارے میں جو…
Read the full tafseer →ف 7 دو دنوں سے مراد دو عہد زمانے ہیں یا اتنی مقدار جو دو دن کے برابر ہو۔ کیونکہ زمین کی پیدائش سے پہلے موجود دن رات کا وجود نہ تھا بلکہ ان کا وجود زمین اور سورج کی پیدائش کے بعد نمل میں آیاد۔ ( شوکانی)
Read the full tafseer →(41:9) ائنکم لتکفرون : ائنکم استفہام زجری ہے یہ جملہ جواب ہے ایک سوال محذوف کا۔ گویا رسول اللہ ﷺ نے سوال کیا کہ اگر وہ استقامت نہ اختیار کریں اور استغفار نہ کریں تو میں ان سے کیا کہوں ؟ (ارشاد ہوا) آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم ایسے خدا (کی توحید) کا انکار کرتے ہو جس نے ۔۔ الخ (تفسیر مظہری) ۔ لتکفرون میں لام تاکید کفر کے لئے ہے۔
اندادا : ند کی جمع ہے بمعنی مقابل ۔ برابر۔ ند اور مثل میں فرق یہ ہے کہ مثل عام ہے اس کا استعمال ہر قسم کی شرکت میں ہوتا ہے اور ند خاص ہے اور اس کا استعمال کسی شے کی ذات اور جوہر میں شرکت کے لئے ہوتا ہے۔ منصوب بوجہ مفعول ہے۔
ذلک رب العلمین : ذلک اسم اشارہ بعید اس کا مشار الیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 18 : رواسی ( بھاری پہاڑ ، بوجھ) اقوات ( قوت) ( کھانے کی چیزیں) قدر (اس نے مقرر کیا ، اندازہ کیا) دخان ( دھواں) طوعا (خوشی خوشی) کرھا ( زبردستی) طالعین (کہا ماننے والے) قضی (اس نے فیصلہ کیا) زینا (ہم نے زینت دی ، خوبصورت بنایا) مصابیح (چراغ) صعقۃ (کڑک) اشد (زیادہ طاقت والا) یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں) ریح (ہوا) صرصر (سخت ، تند و تیز) نحسات (آفتوں والا) اخزی (زیادہ ذلیل کرنے والا) استحبوا (انہوں نے پسند کیا) الھون ( ذلیل و رسوال کرنا)
تشریح : آیت نمبر 9 تا 18 : ان آیات میں کفار و مشرکین کو ان کے کفر و شرک پر آگاہ کرتے ہوئے زمین ، آسمان اور ان کے درمیان جتنی بھی…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ۔
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ کس قدرتعجب کا مقام ہے کہ کفار اللہ کی وحدانیت اور صفات کمالیہ کا انکار کرتے جس صاحب قدرت اور صاحب علم نے زمین اور آسمان کو اور یہ سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا کہ جس میں اس کا کوئی شریک نہیں پھر یہ کفار اس کی تعظیم میں بتوں کو جو شریک کرتے ہیں جو ایک ذرہ کا بھی اختیار نہیں رکھتے، یہ ان لوگوں کی بڑی نادانی ہے پھر فرمایا اس صاحب قدرت نے زمین میں پہاڑوں کی بوجھل میخیں ٹھونک دیں جس سے زمین خوب جم گئی اور یہ پہاڑوں کی میخیں زمین کے اوپر کے رخ سے اس لیے ٹھونکی گئیں کہ ان کا بڑا حصہ باہر نکلا رہے، جس سے دریا اور ندیاں ان میں سے جاری ہوں…
Read the full tafseer →[4] یہاں دنوں سے مراد ہمارے دن نہیں بلکہ اللہ کے دن ہیں جو ہمارے شمار سے ہزار سال بلکہ بعض صورتوں میں پچاس ہزار سال کے بھی برابر ہوتے ہیں جیسا کہ سورة سجدہ میں اور سورة معارج میں مذکور ہے۔ اس وجہ سے ان کو ادوار کے معنی میں لینا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
میں ایک انسان ہوں
2: فرمایا جہاں تک میری جسمانی ساخت اور طبیعت کا تعلق ہے محض ایک انسان ہوں ۔ اور کسی بات میں تھی تم سے ممتاز نہیں ۔ میرے بھی دوہاتھ اور دو پاؤں ہیں ۔ دو آنکھیں اور دو ہونٹ ہیں ۔ میں بھی ایک دماغ اور ایک دل رکھتا ہوں اور بھی زندگی کی ضروریات ہوتی ہیں مگر ایک بات میں مختلف ہوں ۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے مجھے رسالت کے عہدہ پر سرفراز کیا گیا ہے ۔ اور مجھ کو ایک بہت بڑی ذمہ داری کا حامل بنا کر بھیجا گیا ہے میں پیغمبر ہوں رسول ہوں ۔ اور اللہ کی طرف سے ایک پیغام مسرت لے کر آیا ہوں ۔ اور وہ یہ ہے کہ خدا ایک ہے ۔ معبود ایک ہے ۔ اسی کی طرف اپنی توجہات فکروعقیدت کو پھیر لو ۔ صرف…
Read the full tafseer →(9) آپ ان سے کہئے کیا تم اس خدا کی توحید کا انکار کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین کو پیدا کردیا تم دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہو یہی اللہ تعالیٰ تمام جہانوں اور تمام عالموں کا پروردگار ہے۔ یعنی جس زمین پر تم آباد ہو اس کے باوجود وسعت کے صرف اتنے وقت میں پیدا کردیا جو دو دن کی مقدار ہے اور بلا کسی کی شرکت کے پیدا کردیا پھر بھی اس کی توحید کا انکار کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو یہ اللہ تعالیٰ جس کے وصف بیان کئے گئے ہیں یہی تو رب العالمین ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ف 4۔ چناچہ مشاہد ہے کہ ہر حصہ ارض کے رہنے والوں کے مناسب الگ الگ غذائیں ہیں، یعنی زمین میں ہر قسم کے غلے میوے پیدا کردیئے، کہیں کچھ کہیں کچھ، جن کا سلسلہ اب تک چلا آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9 ؎ ذرا غور کرو کہ یہ زمین کتنی بڑی چیز ہے لیکن وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرم کی ذات کتنی طاقت وقوت رکھتی ہے جس نے اس کو صرف اور صرف دو ادوار میں پیدا کردیا اور یہ دو ادوار یا دو دن کا تصور بھی تمہاری تفہیم کے لیے ہے ورنہ کلمہ (کُن) پر کتنا وقت صرف ہوتا ہے بہرحال اتنی بڑی زمین کا بچھادینا اور اس میں قوت نمو اس قدر رکھ دینا کہ کوئی چیز جو قابل کاشت ہے اس میں کاشت کی اور ادھر بیج اُگ کر اس نے کئی گنا زیادہ واپس دینے کی تیاری شروع کردی لیکن تعجب ہے تم پر کہ تم خود یہ بات تسلیم بھی کرتے ہو کہ یہ سارے کام وہ اکیلا کررہا ہے اور پھر اس کے ساتھ شرک بھی کرتے جا رہے ہو حالانکہ تم بھی یہ سارے کام کرنے…
Read the full tafseer →Commentary
The real objective of these eloquent verses is to warn the people who, denying the Oneness of Allah, associate others with Him. With reference to the great creations of Allah Almighty in the form of heavens and the earth, and the wisdom underlying their creation, the Mushriks are reprimanded that they are so irrational in their beliefs that they believe such a Great and Omni-potent Creator to be in need of having partners in carrying out His divine functions. A reprimanding statement with a similar nature has also appeared in Surah Al-Baqarah in the following words:
كَيْفَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
11 "Blessings of the earth" imply those measureless and countless things which have been continuously coming out of it since millions and millions of years, and are fulfilling the ever increasing needs and requirements of all the creatures from the microscopic germs to the highly civilized man. Among these the principal blessings are the air and the water by which alone vegetable, animal and then human life became possible on the earth.
12 This sentence has been interpreted by the commentators in different ways: Some of them interpret it to mean: "The provisions of the earth were placed in it…
Read the full tafseer →