41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة حم السجدۃ یہ سورت اس مجموعے کا ایک حصہ ہے جسے حوامیم کہا جاتا ہے، اور جس کا تعارف پیچھے سورة مومن کے شروع میں گزرچکا ہے، اس سورت کے مضامین بھی دوسری مکی سورتوں کی طرح اسلام کے بنیادی عقائد کے اثبات اور مشرکین کی تردید پر مشتمل ہیں، اس سورت کی آیت نمبر : ٣٨ آیت سجدہ ہے، یعنی اس کے پڑھنے اور سننے سے سجدہ واجب ہوتا ہے، اس لئے اس کو حم السجدہ کہا جاتا ہے، اس کا دوسرا نام فصلت بھی ہے، کیونکہ اس کی پہلی آیت میں یہ لفظ آیا ہے، نیز اسے سورة المصابیح اور سورة الاقوات بھی کہا جاتا ہے۔ ( روح المعانی) ۔

Ayah 41:1
Ayah 41:2

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

یہ کلام اس ذات کی طرف سے نازل کیا جارہا ہے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے

Ayah 41:3

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

عربی قرآن کی شکل میں یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں علم حاصل کرنے والوں کے لیے تفصیل سے بیان کی گئی ہیں

Ayah 41:4

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

یہ قرآن خوشخبری دینے والا بھی ہے، اور خبردار کرنے والا بھی پھر بھی ان میں سے اکثر لوگوں نے منہ موڑ رکھا ہے جس کے نتیجے میں وہ سنتے نہیں ہیں

Ayah 41:5

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور (پیغمبر ﷺ سے) کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو اس کے لیے ہمارے دل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں ہمارے کان بہرے ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ لہذا تم اپنا کام کرتے رہو۔ ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔

Ayah 41:6

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ میں تو تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ (البتہ) مجھ پر یہ وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے۔ لہذا تم اپنا رخ سیدھا اسی کی طرف رکھو، اور اسی سے مغفرت مانگو۔ اور بڑی تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے۔

Ayahs 41:7–9

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے (1) ان کا حال یہ ہے کہ آخرت کے وہ بالکل ہی منکر ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

(البتہ) جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کے لیے بیشک ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

کہہ دو کہ : کیا تم واقعی اس ذات کے ساتھ کفر کا معاملہ کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو ؟ وہ ذات تو سارے جہانوں کی پرورش کرنے والی ہے

1: یہ سورت مکی ہے اور اس کے علاوہ بعض دوسری مکی سورتوں میں بھی زکوٰۃ کا ذکر آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ مکہ مکرمہ ہی میں فرض ہوچکی تھی، البتہ اس کے تفصیلی احکام مدینہ منورہ میں آئے ہیں۔
Ayah 41:10

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اس نے زمین میں جمے ہوئے پہاڑ پیدا کیے جو اس کے اوپر ابھرے ہوئے ہیں اور اس میں برکت ڈال دی (2) اور اس میں توازن کے ساتھ اس کی غذائیں پیدا کیں۔ سب کچھ چار دن میں (3) تمام سوال کرنے والوں کے لیے برابر (4)

2: زمین میں برکت ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں مخلوقات کے فائدے کی چیزیں پیدا فرمائیں، اور ایسا نظام بنادیا کہ وہ زمین سے ضرورت کے مطابق مناسب مقدار میں نکلتی رہیں۔ 3: ان چار دنوں میں زمین کی تخلیق بھی شامل ہے جس کے بارے میں پیچھے فرمایا گیا تھا کہ وہ دو دن میں مکمل فرمائی، لہذا دو دن میں زمین پیدا کی گئی اور دو دن میں اس زمین پر پہاڑ اور دوسری انسانی ضروریات کی چیزیں اور خوارک وغیرہ پیدا کرنے کا انتظام فرمایا گیا، اس طرح زمین اور اس کے اوپر کی اشیاء پیدا کرنے میں کل چار دن استعمال فرمائے گئے۔ اور دو دن میں ساتوں آسمان پیدا فرمائے گئے۔ اس طرح کائنات کی تخلیق کل چھ دن میں مکمل ہوئی، جیسا کہ سورة اعراف : 54، سورة یونس : 3، سورة ہود : 7 سورة فرقان : 59 سورة الم السجدہ : 4 اور سورة حدید : 4 میں مذکور ہے۔ سورة اعراف میں ہم یہ عرض کرچکے ہیں کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب دنوں کا حساب سورج کے طلوع و غروب کے بجائے کسی اور معیار پر ہوتا تھا جس کا ٹھیک ٹھیک علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، اور اگرچہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ بھی تھا کہ وہ ایک ہی لمحے میں سب کچھ پیدا فرما دیتے، لیکن اس عمل کے ذریعے انسان کو بھی جلد بازی کے بجائے اطمینان اور وقار کے ساتھ کام کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، نیز اس میں اور بھی نہ جانے کیا کیا مصلحتیں ہوں گی جن کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ 4: اس جملے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ جو لوگ بھی زمین و آسمان کی تخلیق کے بارے میں سوال کریں، ان سب کے لیے یہ یکساں جواب ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ ”سوال کرنے والوں“ سے مراد وہ ساری مخلوقات ہیں جو زمین سے غذائیں حاصل کرنا چاہیں، چاہے وہ انسان ہوں، یا جنات، یا جانور۔ ان سب کو اللہ تعالیٰ نے یہ موقع عطا فرمایا ہے کہ وہ زمین سے اپنی اپنی عذا حاصل کرسکیں۔ مختلف مفسرین نے اس جملے کی یہ دونوں تفسیریں کی ہیں، چنانچہ ترجمے میں بھی دونوں کی گنجائش ہے۔
Ayah 41:11

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ اس وقت دھویں کی شکل میں تھا (5) اور اس سے اور زمین سے کہا : چلے آؤ چاہے خوشی سے یا زبردستی۔ دونوں نے کہا : ہم خوشی خوشی آتے ہیں (6)

5: شروع میں اللہ تعالیٰ نے آسمان کا مادہ پیدا فرما دیا تھا جو دھویں کی شکل میں تھا، پھر دو دن میں اسے سات آسمانوں کی صورت میں تبدیل فرما کر اس کا مستقل نظام قائم فرمایا۔ 6: ”چلے آؤ“ کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے حکم کے تابع بن جاؤ، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا گیا کہ تم خوشی سے ہمارے حکم کے تابع بننا نہ چاہو، تب بھی تمہیں زبردستی تابع بننا ہی پڑے گا، یعنی زمین اور آسمان میں وہی کام ہوں گے جن کا اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق تکوینی طور پر ہم حکم دیں گے، تمہارے اندر یہ قدرت پیدا نہیں کی گئی ہے کہ تم ہمارے تکوینی احکام کی مخالفت کرسکو، لہذا اگر تم خوشی سے نہیں چاہو گے تو زبردستی تمہیں کرنا وہی ہوگا جو ہمارا حکم ہے۔ اس میں یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ انسان کا معاملہ کائنات کی دوسری مخلوقات سے مختلف ہے، انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قسم کے احکام کا پابند ہے، ایک تکوینی احکام ہیں، مثلا یہ کہ وہ کب پیدا ہوگا، کتنی عمر پائے گا، اسے کونسی بیماریاں لاحق ہوں گے، اس کی کتنی اولاد ہوگی، یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں، اور ان معاملات میں انسان کائنات کی دوسری مخلوقات کی طرح اللہ تعالیٰ کے احکام کے تابع رہنے پر مجبور ہے۔ یہاں آسمان و زمین سے یہ مکالمہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے، اور مجازی بھی، لیکن انسان کو بتانا یہ مقصود ہے کہ ان تکوینی احکام میں چونکہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلنے پر مجبور ہے، اس لیے وہ ان احکام پر خوشی سے چلے، یا ان پر ناخوش ہو، ہوگا وہی جو اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ لہذا ایک بندہ ہونے کی وجہ سے انسان کو وہی طرز عمل اختیار کرنا چاہیے جو زمین اور آسمان نے کیا کہ انہوں نے کہ ہم تو خوشی خوشی اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے تابع رہیں گے۔ لہذا غیر اختیاری معاملات میں جو بات بھی پیش آئے، انسان کو اس پر اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر کم از کم عقلی طور پر راضی رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی ایک قسم اور ہے جنہیں تشریعی احکام کہا جاتا ہے، یعنی کونسی چیز حلال ہے، کونسی حرام، اللہ تعالیٰ کو کونسا کام پسند ہے، کونسا ناپسند۔ انسان کو حکم یہ دیا گیا ہے کہ وہ وہی کام کرے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں، لیکن اس بات پر اسے اس طرح مجبور نہیں کیا گیا جیسے تکوینی احکام پر وہ مجبور ہے، بلکہ یہ احکام دینے کے بعد اسے یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو ان پر عمل کرے، اور اگر چاہے تو نافرمانی کا راستہ اختیار کرلے، اور یہی اس کا امتحان ہے جس کے نتیجے میں اس کے لیے جنت یا جہنم کا فیصلہ ہوگا۔ چونکہ دوسری مخلوقات کو اس امتحان میں نہیں ڈالا گیا، اس لیے ان کو نہ تشریعی احکام دئیے گئے ہیں، اور نہ نافرمانی کا اختیار دیا گیا ہے۔ ان احکام پر بھی انسان کو خوشی خوشی عمل کرنا چاہیے، کیونکہ اس کی ابدی زندگی کی صلاح و فلاح اسی پر موقوف ہے۔
Ayah 41:12

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

چنانچہ اس نے دو دن میں اپنے فیصلے کے تحت ان کے سات آسمان بنا دئیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب حکم بھیج دیا (7) اور ہم نے اس قریب والے آسمان کو چراغوں سے سجایا اور اسے خوب محفوط کردیا۔ یہ اس ذات کی نپی تلی منصوبہ بندی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کا علم بھی مکمل

7: یعنی آسمانوں کو نظام چلانے کے لیے جو احکام مناسب تھے، وہ متعلقہ مخلوقات کو عطا فرمادئیے۔
Ayahs 41:13–15

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو کہہ دو کہ میں تمہیں اس کڑکے سے خبر دار کردیا ہے جیسا کڑکا عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کے پاس پیغمبر (کبھی) ان کے آگے سے اور (کبھی) ان کے پیچھے سے یہ پیغام لے کر آئے کہ اللہ کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ : اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے بھیجتا۔ لہذا جس بات کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے۔ ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

پھر عاد کا قصہ تو یہ ہوا کہ انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کا رویہ اختیار کیا، اور کہا کہ : کون ہے جو طاقت میں ہم سے زیادہ ہو۔ بھلا کیا ان کو یہ نہیں سوجھا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ طاقت میں ان سے کہیں زیادہ ہے اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے

8: یہ ایک محاورہ ہے، اور مطلب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے ہر رخ سے اپنی قوموں کو سمجھانے کی کوشش کی۔
Ayahs 41:16–19

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

چنانچہ ہم نے کچھ منحوس دنوں میں (9) ان پر آندھی کی شکل میں ہوا بھیجی تاکہ انہیں دنیوی زندگی میں رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھائیں اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ رسوا کرنے والا ہے۔ اور ان کو کوئی مدد میسر نہیں آئے گی۔

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

رہے ثمود، تو ہم نے انہیں سیدھا راستہ دکھایا تھا۔ لیکن انہوں نے سیدھا راستہ اختیار کرنے کے مقابلے میں اندھا رہنے کو زیادہ پسند کیا، چنانچہ انہوں نے جو کمائی کر رکھی تھی، اس کی وجہ سے ان کو ایسے عذاب کے کڑ کے نے آپکڑا جو سراپا ذلت تھا

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لے آئے تھے اور تقویٰ اختیار کیے ہوئے تھے ان کو ہم نے نجات دے دی

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور اس دن کا دھیان رکھو جب اللہ کے دشمنوں کو جمع کر کے آگ کی طرف لے جایا جائے گا، چنانچہ انہیں ٹولیوں میں بانٹ دیا جائے گا۔

9: قرآن و سنت کے متعدد دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ تمام دن اللہ ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں، اور کسی بھی دن میں بذات خود کوئی عمومی نحوست نہیں ہوتی، اس لیے یہاں منحوس دنوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ دن ان لوگوں کے لیے منحوس ثابت ہوئے۔
Ayahs 41:20–21

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ اس (آگ) کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے خلاف گواہی دیں گی کہ وہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں (10)

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی۔ وہ کہیں گی کہ ہمیں اسی ذات نے بولنے کی طاقت دے دی ہے جس نے ہر چیز کو گویائی عطا فرمائی ہے۔ اور وہی ہے جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور اسی کی طرف تمہیں واپس لے جایا جا رہا ہے۔

10: شروع میں مشرک لوگ بوکھلاہٹ کے عالم میں یہ جھوٹ بول جائیں گے کہ ہم نے تو کبھی شرک نہیں کیا تھا، جیسا کہ قرآن کریم نے سورة انعام : 23 میں بیان فرمایا ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ خود انہی کے جسم کے مختلف حصوں سے ان کے خلاف گواہی دلوائیں گے۔
Ayahs 41:22–24

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم (گناہ کرتے وقت) اس بات سے تو چھپ ہی نہیں سکتے تھے کہ تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں لیکن تمہارا گمان یہ تھا کہ اللہ کو تمہارے بہت سے اعمال کا علم نہیں ہے (11)

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اپنے پروردگار کے بارے میں تمہارا یہی گمان تھا جس نے تمہیں برباد کیا، اور اسی کے نتیجے میں تم ان لوگوں میں شامل ہوگئے جو سراسر خسارے میں ہیں۔

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

اب ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر یہ صبر کریں تب بھی آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے اور اگر یہ معذرت چاہیں تو یہ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جن کی معذرت قبول کی جاتی ہے

11: صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ بعض احمق کافر یہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ کوئی گناہ چھپ کر کریں گے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا علم نہیں ہوگا، اس وقت وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے گناہ کا نہ کوئی گواہ ہے، اور نہ (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کو اس کا پتہ چلے گا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ تو ہر بات کا گواہ ہے ہی، خود ان کے جسم کے یہ اعضاء بھی ان کے خلاف گواہ بن جائیں گے۔
Ayahs 41:25–28

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے (دنیا میں) ان پر کچھ ساتھی مسلط کردئیے تھے جنہوں نے ان کے آگے پیچھے کے سارے کاموں کو خوشنما بنادیا تھا (12) چنانچہ جو دوسرے جنات اور انسان ان سے پہلے گذر چکے ہیں ان کے ساتھ مل کر عذاب کی بات ان پر بھی سچی ہوئی۔ یقینا وہ سب خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہیں

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور یہ کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں کہ : اس قرآن کو سنو ہی نہیں، اور اس کے بیچ میں غل مچا دیا کرو تاکہ تم ہی غالب رہو

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

اس لیے ہم ان کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور یہ (دنیا میں) جو بدترین کام کیا کرتے تھے، اس کا پورا پورا بدلہ دیں گے

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہی ہے سزا اللہ کے دشمنوں کی جو آگ کی صورت میں ہوگی، اسی میں ان کا دائمی ٹھکانا ہوگا جو اس بات کا بدلہ ہوگا کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔

12: اس سے مراد وہ شیاطین بھی ہیں جو انسانوں کو گناہ پر آمادہ کرنے کے لیے گناہوں کے لیے بہکاتے تھے، اور ایسے انسان بھی جو گناہ کے کاموں کو مفید اور ضروری قرار دینے کے لیے طرح طرح کے دلائل گھڑتے اور ان کی بنیاد پر قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
Ayahs 41:29–33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور یہ کافر لوگ کہیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ان جنات اور انسانوں دونوں کی صورت دکھائیے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، تاکہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے ایسا روندیں کہ وہ خوب ذلیل ہوں (13)۔

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

(دوسری طرف) جن لوگوں نے کہا ہے کہ ہمارا رب اللہ ہے، اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے تو ان پر بیشک فرشتے (یہ کہتے ہوئے) اتریں گے کہ : نہ کوئی خوف دل میں لاؤ، نہ کسی بات کا غم کرو، اور اس جنت سے خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم دنیا والی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی تھے، اور آخرت میں بھی رہیں گے۔ اور اس جنت میں ہر وہ چیز تمہارے ہی لیے ہے جس کو تمہارا دل چاہے، اور اس میں ہر وہ چیز تمہارے ہی لیے جو تم منگوانا چاہو

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس ذات کی طرف سے پہلی پہل میزبانی ہے جس کی بخشش بھی بہت ہے جس کی رحمت بھی کامل

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس شخص سے بہتر بات کس کی ہوگی جو اللہ کی طرف دعوت دے، اور نیک عمل کرے، اور یہ کہے کہ میں فرماں برداروں میں شامل ہوں۔

13: دنیا میں انسان کے جو ساتھی اسے دین سے غافل کر کے گمراہ کرتے رہے، وہ بھی اس میں داخل ہیں، اور وہ شیطان جو اسے بہکاتا رہا، وہ بھی۔ ان دونوں کے بارے میں دوزخی شخص یہ کہے گا کہ مجھے یہ گمراہ کرنے والے نظر آجائیں تو میں انہیں پاؤں تلے روند ڈالوں۔
Ayahs 41:34–35

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی، تم بدی کا دفاع ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو (14) نتیجہ یہ ہوگا کہ جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایسا ہوجائے گا جیسے وہ (تمہارا) جگری دوست ہو

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ بات صرف انہی کو عطا ہوتی ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں اور یہ بات اسی کو عطا ہوتی ہے جو بڑے نصیب والا ہو

14:۔ یعنی جو شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کر رہا ہو، اگرچہ تمہارے لیے یہ بھی جائز ہے کہ اس سے برابر کا بدلہ لے لو، لیکن بہتر یہ ہے کہ اس کی برائی کا بدلہ اچھائی سے دو۔ ایسا کرو گے تو تمہارا دشمن بھی دوست بن جائے گا، اور تم نے اس کی برائی پر جو صبر کیا اس کا بہترین ثواب آخرت میں تمہیں ملے گا۔
Ayahs 41:36–37

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر تمہیں شیطان کی طرف سے کبھی کوئی کچوکا لگے تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو (15) بیشک وہ ہر بات سننے والا، ہر بات جاننے والا ہے

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند۔ نہ سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو اور سجدہ اس اللہ کو کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اگر واقعی تمہیں اسی کی عبادت کرتے ہو

15: شیطان کے کچوکے سے مراد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے دل میں کوئی گناہ کا یا کوئی برائی کرنے کا وسوسہ ڈالے تو تم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ لیا کرو جس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ یہ کہو : اَعوْذُ باللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔
Ayahs 41:38–39

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

پھر بھی اگر یہ (کافر) تکبر سے کام لیں، تو (کرتے رہیں) کیونکہ جو (فرشتے) تمہارے رب کے پاس ہیں۔ وہ دن رات اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ اکتاتے نہیں ہیں (16)

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ مرجھائی پڑی ہے۔ پھر جونہی ہم نے اس پر پانی اتارا، وہ حرکت میں آگئی، اور اس میں بڑھوتری پیدا ہوگئی، حقیقت یہ ہے کہ جس نے اس زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے۔ یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے

16: یہ آیت سجدہ ہے، یعنی جو شخص اس کی تلاوت کرے، یا کسی کو تلاوت کرتے ہوئے سنے، اس پر ایک سجدہ کرنا واجب ہے۔