41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 41:1
حم۔
Ayah 41:2

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

(یہ کتاب خدائے) رحمٰن ورحیم (کی طرف) سے اُتری ہے

تنزیل من الرحمن الرحیم۔ حٰمٓ مبتداء ہے اور تنزیلٌ خبر ‘ لیکن اگر حٰآ سے مراد حروف ہجاء ہوں تو تنزیل مبتداء محذوف کی خبر ہوگی۔ اخفش کے نزدیک تنزیل چونکہ موصوف ہے ‘ اسلئے باوجود نکرہ ہونے کے مبتداء ہے اور کتابٌ خبر ہے۔ ان ساتوں سورتوں کا آغاز حٰآسے کیا گیا ہے اور سب ہی کا نام حٰآ رکھا گیا اور کتاب سے افتتاح کیا گیا ہے ‘ کیونکہ ان سب کا آغاز عبارت کے لحاظ سے بھی ملتا جلتا ہے اور معنی کے اعتبار سے بھی یکسانیت ہے یعنی اللہ ‘ رحمن ‘ رحیم کی طرف سے اتاری ہوئی ایک کتاب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : موسیٰ کی الواح (تختیوں) سے مجھے طٰہٰ اور طوسین (طٰسٓمّٓ والی سورتیں) اور حوامیم (حٰمٓ والی سورتیں) عطا کی گئی ہیں ‘ رواہ الحاکم فی المستدرک والبیہقی عن معقل بن یسار۔ الرحمن اور الرحیم کی طرف تنزیل کی نسبت بتارہی ہے کہ تمام دنیوی اور دینی مصالح کا مدار ‘ اس قرآن پر ہے (کیونکہ یہ رحمن و رحیم خدا کا اتارا ہوا ہے) ۔
Ayah 41:3

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

کتاب جس کی آیتیں واضح (المعانی) ہیں (یعنی) قرآن عربی ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں

کتب فصلت ایتہ یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں صاف صاف بیان کردی گئی ہیں۔ یعنی احکام ‘ قصص اور مواعظ واضح طور پر تفصیل کے ساتھ اس میں بیان کر دئیے گئے ہیں۔ قرانا عربیا (یعنی) ایسا قرآن ہے جو عربی (زبان میں) ہے۔ یعنی یہ اللہ کا عربوں پر احسان ہے کہ اس نے قرآن عربی میں نازل کیا جس کو پڑھنا ان کیلئے دشوار نہیں اور سمجھنا آسان ہے۔ اگر دوسری زبان میں نازل ہوتا تو عربوں کیلئے سمجھنا دشوار ہوتا۔ لقوم یعلمون اہل علم کیلئے (اس ترجمہ پر یعلمون بجائے فعل لازم کے مانا جائے گا) یا مفعول محذوف ہے ‘ یعنی ان لوگوں کیلئے جو قرآن کے معانی و مطالب جانتے اور سمجھتے ہیں۔
Ayah 41:4

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

جو بشارت بھی سناتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے لیکن ان میں سے اکثروں نے منہ پھیر لیا اور وہ سنتے ہی نہیں

بشیرا ونذیرا (ا اللہ کے دوستوں کو) بشارت دینے والا اور (ا اللہ کے دشمنوں کو عذاب سے) ڈرانے والا۔ فاعرض اکثرھم سو اکثر لوگوں نے (قران پر غور کرنے اور اس کو ماننے سے) رخ پھیرلیا۔ فھم لا یسمعون اسلئے وہ کان لگا کر (محض ضد اور دشمنی کی وجہ سے) نہیں سنتے۔ یا لاَ یَسْمَعُوْنَکا مطلب ہے قبول نہیں کرتے۔ عربی محاورہ میں کہا جاتا ہے : میں نے فلاں شخص کی سفارش کی مگر اس نے میری بات نہیں سنی ‘ یعنی نہیں مانی۔
Ayah 41:5

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ (یعنی بہراپن) ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے تو تم (اپنا) کام کرو ہم (اپنا) کام کرتے ہیں

وقالوا اور انہوں نے (یعنی مشرکین مکہ نے) کہا۔ قلوبنا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ وفی اذاننا وقرو من بیننا و بینک حجاب فاعمل اننا عملون 1 ؂ جس چیز کی طرف آپ ہم کو بلاتے ہیں اسکی طرف سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگ رہی ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک پردہ پڑا ہوا ہے ‘ سو آپ اپنا کام کئے جائیے ‘ ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔ قُلُوْبُنَا فِیْٓ اَکِنَّۃٍ - اکنِّۃ ‘ کنان کی جمع ہے ‘ پردے ‘ سرپوش۔ مِّمَّا تَدْعُوْنَا یعنی جس توحید کی طرف تم ہم کو بلا رہے ہو ‘ اسکی طرف سے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہیں ‘ اسلئے تمہاری بات ہم نہیں سمجھتے۔ وَفِیْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ ۔ وقر ‘ ثقل ‘ گرانی ‘ ڈاٹ۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے کان بند ہیں ‘ اسلئے تمہاری بات نہیں سنتے ‘ یعنی تمہاری دعوت ہم قبول نہیں کرتے ‘ اس طرح جیسے کوئی بےعقل اور مکمل بہرا ہو جو نہ کچھ سمجھتا ہو نہ سنتا ہو۔ حِجَابٌ یعنی ہمارے اور تمہارے دمیان دین کا اختلاف ہے جو ہم کو تمہارے ساتھ جڑ جانے اور مل جانے سے روکتا ہے اور یہ حجاب بھی ایسا ہے جو ہم دونوں کی درمیانی مسافت کو پر کردینے والا ہے ‘ دونوں کے درمیان کوئی خلا نہیں ہے کہ ایک فریق دوسرے کی طرف بڑھ سکے اور مائل ہو سکے۔ آیت مذکورہ میں ترک قبول اور انقطاع کلی کو تمثیلی رنگ میں بیان کیا گیا ہے۔ فَاَعْمَلْ سو آپ اپنے مذہب کے مطابق کام کریں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ آپ ہمارے افکار و اعمال کے خلاف کام کئے جائیں۔ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ ہم اپنے مذہب پر عمل کریں گے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ آپ کے دین کو باطل کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔
Ayah 41:6

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں بھی آدمی ہوں جیسے تم۔ (ہاں) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود خدائے واحد ہے تو سیدھے اسی کی طرف (متوجہ) رہو اور اسی سے مغفرت مانگو اور مشرکوں پر افسوس ہے

قل (اے محمد ﷺ ! آپ ان کے جواب میں) کہہ دیجئے۔ انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الھکم الہ واحد کہ میں بھی تم ہی جیسا بشر ہوں ‘ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے (تھانوی) ۔ حسن نے کہا : اللہ نے آپ کو تواضع کی تعلیم دی ‘ یعنی میں تم میں سے ہی ایک شخص ہوں ‘ اگر میرے پاس وحی نہ آتی تو مجھے وہ علم حاصل نہ ہوتا جو تم دیکھ رہے ہو۔ میرے پاس وحی ہی تو آئی ہے جس نے بتایا ہے کہ تمہارا سب کا معبود ایک ہی معبود ہے ‘ اسلئے تم پر لازم ہے کہ اسکو کان لگا کر سنو اور قبول کرو۔ یا انما انا بشر مثلکمکا یہ مطلب ہے کہ میں فرشتہ نہیں ہوں ‘ نہ جن ہوں کہ تم اس سے تعلیم حاصل نہ کرسکو ‘ نہ خلاف عقل باتوں کی میں تم کو تعلیم دیتا ہوں بلکہ توحید کی طرف بلا رہا ہوں جو بالکل تقاضاء عقل کے بھی مطابق ہے اور نقل کے بھی موافق ہے۔ فاستقیموا الیہ واستغفروہ سو اس (معبود برحق) کی طرف سیدھ باندھ لو ‘ اور اس سے معافی مانگو۔ یعنی خالص توجہ کے ساتھ اللہ کی طاعت کرو اور اللہ کی طاعت سے رخ موڑ کر کسی دوسرے کی طاعت کی طرف نہ جاؤ اور ہر طرح کے شرک و گناہ کی معافی کی درخواست اللہ سے کرو۔ اس سے آگے نافرمانوں کو عذاب کی دھمکی دی اور فرمایا : وویل للمشرکین۔ اور ایسے مشرکوں کیلئے بڑی خرابی ہے
Ayah 41:7

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰة نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں

الذین لا یوتون الزکوۃ وھم بالاخرۃ ھم کفرون جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہی رہتے ہیں۔ وَیْلٌ عذاب کا لفظ ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : لاَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃ سے مراد یہ ہے کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار نہیں کرتے ‘ توحید کا اقرار ہی نفس کی (زکوٰۃ یعنی) طہارت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ توحید کا اقرار کر کے وہ شرک کی نجاست سے اپنے نفسوں کو پاک نہیں کرتے۔ حسن اور قتادہ کے نزدیک (زکوٰۃ سے مالی زکوٰۃ ہی مراد ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ) زکوٰۃ واجب ہونے کا وہ اقرار نہیں کرتے۔ ایک مقولہ (بصورت فرمان) تھا کہ زکوٰۃ اسلام کا پل ہے ‘ جس نے اس پل کو طے کرلیا وہ (گرنے سے) بچ گیا اور جو نہ طے کرسکا وہ تباہ ہوگیا۔ مقاتل اور ضحاک نے لا یؤتون الزکٰوۃ کا یہ مطلب بیان کیا کہ وہ اللہ کی فرمانبرداری کی راہ میں مال صرف نہیں کرتے اور خیرات نہیں دیتے۔ مجاہد نے کہا : (زکوٰۃ سے مراد اعمال کی پاکی ہے ‘ یعنی) وہ اپنے اعمال کو پاک نہیں کرتے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ (زکوٰۃ مالی مراد ہو یا طہارت اعمال ‘ دونوں صورتوں میں) آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ کفار (جس طرح ایمان کے مکلف ہیں ‘ اسی طرح) فروع ایمان کے بھی مکلف ہیں (لیکن حضرت ابن عباس نے جو اول الذکر مطلب بیان کیا ہے کہ زکوٰۃ سے زکوٰۃ نفس یعنی اقرار توحید مراد ہے ‘ اس مطلب پر بیضاوی کا استنباط اور استدلال غلط ہوگا۔ مترجم) ہم نے سورة المدثر کی آیت لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ کی تفسیر میں یہ مسئلہ بیان کردیا ہے ‘ یعنی زکوٰۃ نہ دینے کی علت یہ ہے کہ وہ آخرت کے منکر ہیں۔ جو شخص آخرت کا منکر ہو اور زکوٰۃ کے اخروی ثواب کا عقیدہ نہ رکھتا ہو ‘ وہ غریبوں کی مالی امداد کو تضییع مال کے سوا اور کچھ نہیں سمجھتا۔ شرک باللہ اور انکار آخرت کے ساتھ اللہ نے آیت مذکورہ میں زکوٰۃ نہ دینے کا ذکر اسلئے کیا کہ مال سے انسان کو بہت زیادہ محبت ہوتی ہے ‘ مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ایمان کی اول ترین علامت ہے۔ آیت میں (درپردہ) مؤمن کو اداء زکوٰۃ کی ترغیب دی گئی ہے اور زکوٰۃ نہ دینے پر سخت تہدید کی گئی ہے۔
Ayah 41:8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے (ایسا) ثواب ہے جو ختم ہی نہ ہو

ان الذین امنوا وعملوا الصلحت لھم اجر غیر ممنون جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ‘ ان کیلئے اجر ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگا۔ حضرت ابن عباس نے غَیْرُ مَمْنُوْنٍکا ترجمہ کیا : غیر منقطع۔ مقاتل نے کہا : غیر ناقص (یعنی کامل) مجاہد نے کہا : بےحساب۔ بعض نے ترجمہ کیا : بےاحسان دھرے۔ مَنٌّ احسان رکھنا۔ سدی نے کہا : جو بیمار ‘ اپاہج اور بوڑھے لوگ (جوانی کی طرح) عبادت سے عاجز ہوگئے ہوں ‘ ان کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا ‘ مطلب یہ ہے کہ جوانی اور صحت کی حالت میں وہ نیک عمل کرتے تھے ‘ کمزوری اور مجبوری کے زمانہ میں بھی ان کے اعمال ویسے لکھے جاتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بندہ جب اچھے طریقہ سے عبادت کرتا رہتا ہے ‘ پھر بیمار ہوجاتا ہے تو اعمال نویس فرشتے کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس کے ویسے ہی اعمال تحریر کر جیسے وہ صحت کی حالت میں کیا کرتا تھا ‘ یہ حکم اس وقت تک کیلئے دیا جاتا ہے جبکہ اللہ اس کو بیماری سے آزاد کر دے ‘ رواہ البغوی فی تفسیرہ و شرح السنۃ۔ حضرت ابو موسیٰ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بندہ جب بیمار ہوجاتا ہے ‘ یا سفر کی حالت میں ہوتا ہے تو اس کیلئے ویسے ہی اعمال لکھے جاتے ہیں جیسے وہ وطن میں قیام اور صحت کی حالت میں کیا کرتا تھا ‘ رواہ البخاری۔ حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب مسلمان کسی جسمانی دکھ میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اللہ فرشتے کو حکم دیتا ہے کہ اس کے وہی نیک اعمال لکھ جو (صحت کی حالت میں) وہ کیا کرتا تھا۔ اب اگر اللہ اس کو تندرستی دے دیتا ہے تو اللہ (اس بیماری کی وجہ سے) اس کے گناہ دھو دیتا اور پاک کردیتا ہے اور اگر اس کی روح قبض کرلیتا ہے تو اس کی مغفرت کردیتا ہے اور اس کو رحمت سے نوازتا ہے ‘ رواہ البغوی فی شرح السنۃ۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : بیماری کی حالت میں بندہ کیلئے وہ ثواب لکھا جاتا ہے جو بیمار ہونے سے پہلے اسکے اعمال کا لکھا جاتا تھا اور اب بیماری کی وجہ سے ان اعمال کو کرنے سے قاصر ہوگیا ہو ‘ رواہ زرین۔
Ayah 41:9

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

کہو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا۔ اور (بتوں کو) اس کا مدمقابل بناتے ہو۔ وہی تو سارے جہان کا مالک ہے

قل ائنکم لیکفرون بالذی خلق الارض فی یومین وتجعلون لہ اندادا ذلک رب العلمین آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم لوگ ایسے خدا (کی توحید) کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو (باوجود اتنی بڑی لمبائی چوڑائی کے) دو دن میں پیدا کردیا اور تم اس کے شریک ٹھہراتے ہو ؟ یہی سارے جہان کا رب ہے۔ اَءِنَّکُمْ استفہام زجری ہے۔ یہ جملہ جواب ہے ایک محذوف سوال کا ‘ گویا رسول اللہ ﷺ نے سوال کیا کہ اگر وہ استقامت اختیار نہ کریں اور استغفار نہ کریں تو میں ان سے کیا کہوں۔ فِیْ یَوْمَیْنِ یعنی دو دن کی مقدار کے برابر وقت میں ‘ ان دو دنوں کا نام یک شنبہ اور دو شنبہ رکھا گیا ہے۔ ذٰلِکَ یعنی یہ جس نے زمین دو دن کی مدت میں بنائی۔ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ یعنی تمام ممکنات موجودہ کا خالق اور سب کو آہستہ آہستہ نقطۂ ارتقاء تک پہنچانے والا ہے۔ عالم کی انواع مختلف ہیں ‘ اسی لئے عَالَمِیْن بصیغۂ جمع ذکر کیا اور اہل عقل کو بےعقل مخلوق پر ذکر میں ترجیح دی۔
Ayah 41:10

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اسی نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور اس میں سب سامان معیشت مقرر کیا (سب) چار دن میں۔ (اور تمام) طلبگاروں کے لئے یکساں

وجعل فیھا رواسی من فوقھا وبرک فیھا وقدرفیھا اقواتھا فی اربعۃ ایام سواء للسائلین اور اس نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنا دئیے اور اس (زمین) میں فائدہ کی چیزیں رکھ دیں اور اس میں اسکے رہنے والوں کی غذائیں تجویز کردیں ‘ چار دن میں (یہ سب کچھ ہوا جو شمار میں) پورے ہیں پوچھنے والوں کیلئے۔ وَجَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَ یعنی زمین میں پہاڑ پیدا کئے جو جمے ہوئے ہیں ‘ زمین میں گڑے ہوئے ہیں۔ مِنْ فَوْقِھَا یعنی زمین کے اوپر سے اٹھے ہوئے ہیں۔ وَبٰرَکَ فِیْھَا یعنی زمین میں دریا ‘ نہریں ‘ درخت ‘ پھل اور جانور پیدا کئے۔ وَقَدَّرَ فِیْھَآ اَقْوَاتَھَا اور زمین کے باشندوں کی روزی زمین میں ہی مقرر فرما دی۔ اَقَواتَھا میں مضاف محذوف ہے ‘ یعنی اقوات اہلہا۔ حسن نے کہا : اللہ نے زمین میں انسانوں اور چوپایوں کی روزی الگ الگ مقرر کردی ‘ جو چیز جس کیلئے مناسب اور ذریعۂ زندگی تھی ‘ وہ اس کو دے دی۔ عکرمہ اور ضحاک نے کہا : ہر شہر میں وہ چیز پیدا کی جو دوسرے شہر میں نہیں پیدا کی تاکہ ایک شہر والے ‘ دوسرے شہر کو لے جائیں اور اس طرح باہم تجارت کر کے زندگی بسر کریں۔ کلبی نے کہا کہ کسی طرف والوں کو روٹی ‘ کسی سمت والوں کو (صرف) جوار ‘ کسی کو چھوارے اور کسی جانب کے رہنے والوں کو مچھلیاں عطا کیں (یعنی ہر سمت کے رہنے والوں کو خاص خاص قسم کی کھانے کی چیزیں عنایت کیں) ۔ فِیْ ‘ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍط یعنی یہ سب کچھ مزید دو دنوں میں کیا جو پہلے دنوں سے متصل ہیں ‘ یعنی سہ شنبہ اور چہار شنبہ ‘ اس طرح چار روز پورے ہوگئے۔ محاورہ میں کہا جاتا ہے : میں بصرہ سے بغداد تک دو دن میں پہنچا اور کوفہ تک تین دن میں ‘ یعنی دو دن پہلے اور ایک دن مزید۔ سَوَآءً یعنی یہ ٹھیک چار دن میں ہوا۔ لِّلسَّآءِلیْنَ قتادہ اور سدی نے کہا : اس کا تعلق ایک محذوف فعل سے ہے ‘ یعنی جو لوگ دریافت کریں کہ زمین اور کائنات زمین کی تخلیق کتنی مدت میں ہوئی تو ان کیلئے یہ پوری گنتی بیان کردی گئی ‘ یا اس کا تعلق قَدَّرَ محذوف سے ہے ‘ یعنی طلبگاروں کیلئے زمین میں یہ روزی چار دن میں بنا دی گئی۔
Ayah 41:11

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں

ثم استوی الی السماء وھی دخان پھر آسمان (کے بنانے) کی طرف توجہ کی اور وہ اس وقت دھواں (سا) تھا۔ ثُمَّ اسْتَوٰی پھر براہ راست وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا ‘ یعنی آسمان کا قصد کیا۔ استوٰی الٰی مکانٍ کذا فلاں مقام کا اس نے براہ راست قصد کیا ‘ کسی دوسری جگہ کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔ ثُمَّ کا اس جگہ استعمال تاخیر زمانہ کیلئے نہیں ہے ‘ کیونکہ پہاڑوں کی تخلیق زمین کو بچھانے اور ہموار کرنے کے بعد ہوئی ‘ اسلئے تاخیر زمانی تو مراد نہیں ہوسکتی بلکہ دونوں تخلیقوں میں تفاوت کے اظہار کیلئے ثُمَّ کا استعمال کیا۔ وَھِیَ دُخَانٌ شاید دخان سے مرادہ مادۂ دخان اور وہ چھوٹے ننھے اجزاء ہوں جن سے آسمان بنایا گیا ہے۔ آسمان کا مادہ ‘ دخان یعنی آبی بخارات ہیں ‘ کذا قال البغوی (فلاسفۂ یونان اور علماء طبیعیات کے نزدیک دخان نام ہے ارضی اور آتشی اجزاء کے مخلوط امتزاجی قوام کا اور بخار نام ہے آبی و ہوائی اجزاء کے مرکب امتزاجی کا ‘ لیکن بغوی کے قول پر دخان سے مراد آبی بخارات ہیں) ۔ فقال لھا وللارض ائتیا طوعا اوکرھا سو اس سے اور زمین سے فرمایا : تم دونوں خوشی سے آؤ یا زبردستی سے۔ یعنی جو تاثیر و تاثر میں نے تمہارے اندر پیدا کیا ہے ‘ اس کو لے کر آجاؤ اور جو مختلف اوصناع اور طرح طرح کی کائنات تمہارے اندر میں نے ودیعت کردی ہیں ‘ ان کو ظاہر کرو ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جس چیز کو میں تمہارے اندر سے پیدا کرنے والا ہوں ‘ اس چیز کو نمودار کر دو ۔ طاؤس نے حضرت ابن عباس کا تفسیری قول اس طرح نقل کیا ہے : میں نے بندوں کی مصلحت کیلئے جو منافع تم دونوں کے اندر پیدا کئے ہیں ‘ ان کو ظاہر کرو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے آسمان سے ارشاد فرمایا : اے آسمان ! اپنے سورج ‘ چاند اور ستاروں کو نمودار کر ‘ اور اے زمین ! اپنے اندر دریاؤں کو رواں کر اور درختوں اور پھلوں کو برآمد کر۔ طَوْعًا اَوْکَرْھًا چار و ناچار۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اللہ نے آسمان و زمین سے ارشاد فرمایا : میں نے جو حکم تم کو دیا ہے ‘ اس کی تعمیل کرو ‘ ورنہ میں تم کو مجبور کر کے اپنے حکم کی تعمیل کراؤں گا۔ آسمان و زمین نے اس کے جواب میں کہا : قالتا اتینا طائعین دونوں نے کہا : ہم بخوشی حاضر ہیں۔ طَاءِعِیْنَ جمع مذکر کا صیغہ استعمال کیا ‘ طائعتین بصیغۂ تثنیہ مؤنث نہیں فرمایا ‘ اسلئے کہ حکم کی اطاعت کا قول کرنے والے آسمان و زمین اور ان کی ساری کائنات تھی ‘ اسلئے جمع کا صیغہ استعمال کیا اور جب آسمان و زمین کی طرف قول کی نسبت کی اور قول کی نسبت ذی عقل کی طرف کی جاتی ہے ‘ اسلئے آسمان و زمین کو ذی عقل مان کر وہ صیغہ استعمال کیا جو ذی عقل کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ کلام مبنی بر استعارہ ہے (حقیقی قول مراد نہیں ہے) ۔ اَتَیْنَا سے مراد ہے قدرت کاملہ کا اظہار اور مراد خداوندی کا یقینی ‘ قطعی وقوع اور اتینا سے مراد ہے فوراً متأثر ہوجانا۔ جس طرح حاکم و فرمانروا کے حکم کی تعمیل فرمانبردار فوراً کرتا ہے ‘ اسی طرح آسمان و زمین نے فرمان پذیری کا مظاہرہ کیا۔ آیت کُنْ فَیَکُوْن میں بھی یہی فوری فرمان پذیری ہی مراد ہے۔
Ayah 41:12

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس (کے کام) کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے مزین کیا اور (شیطانوں سے) محفوظ رکھا۔ یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں

فقضہ من سبع سموت فی یومین سو دو روز میں ان کو سات آسمان بنا دیا۔ ھُنَّکی ضمیر سماء کی طرف راجع ہے ‘ کیونکہ سماء معنی کے لحاظ سے جمع ہے ‘ ضمیر مبہم ہے اور سبع سمٰوٰتاسکی توضیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے سات آسمان ایجاد کر دئیے ‘ یعنی مطلق عدم سے وجود میں لے آیا اور ان کو محکوم کردیا۔ یَوْمَیْن یعنی پنچ شنبہ اور جمعہ۔ محلی نے لکھا ہے : جمعہ کی آخری ساعت میں تخلیق کائنات سے فارغ ہوگیا۔ اسی آخری ساعت میں اللہ نے آدم کو پیدا کیا ‘ اسی لئے اس جگہ سواءً نہیں فرمایا۔ میں کہتا ہوں : شاید محلی کے اس قول کا مدار اس حدیث پر ہے جو مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کی ہے ‘ حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اللہ نے مٹی کو سنیچر کے دن پیدا کیا اور پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا اور درختوں کو سوموار کے دن پیدا کیا اور مصائب کو منگل کے دن پیدا کیا اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور زمین پر چوپایوں کو جمعرات کے دن پھیلایا اور آدم کو جمعہ کے دن عصر کے بعد آخری ساعت میں سب سے آخر میں پیدا کیا۔ آخری ساعت عصر اور رات کے درمیان والی ساعت ہوتی ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس حدیث کو نقل کرنے میں راوی سے غلطی ہوئی ہے ‘ کیونکہ یہ قرآنی صراحت کے خلاف ہے۔ قرآن کی صراحت ہے کہ اللہ نے زمین و آسمان چھ روز میں پیدا کئے اور اس حدیث میں سات روز کا ذکر ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آغاز تخلیق اتوار کے دن سے ہوا ‘ لیکن اس حدیث میں سنیچر کے دن ابتداء تخلیق قرار دی گئی ہے۔ آیت جَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَالخ سے معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑوں وغیرہ کی پیدائش تیسرے اور چوتھے دن (منگل اور بدھ کو) ہوئی ‘ لیکن حدیث میں پہاڑوں کی پیدائش اتوار کے دن اور درختوں کی پیدائش پیر کے دن بتائی گئی ہے ‘ تخلیق آدم کے قصہ کی رفتار بتارہی ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق سے بہت مدت کے بعد آدم کی تخلیق ہوئی۔ اللہ نے فرمایا : اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلآءِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃ الخ پھر تخلیق آدم کے بیان میں آیا ہے کہ آدم کی مٹی چالیس روز گوندھی گئی ‘ اب حدیث مذکور کی رو سے اگر آدم کی پیدائش جمعہ کی آخری ساعت میں قرار دی جائے تو آغاز تخلیق جمعہ کے دن سے ہوگی۔ واوحی فی کل سماء امرھا اور ہر آسمان میں اس کے مناسب (فرشتوں کو) حکم بھیج دیا۔ عطاء نے حضرت ابن عباس کا قول اس طرح نقل کیا ہے کہ اللہ نے ہر آسمان کے اندر اسکی مخلوق یعنی ملائکہ ‘ دریا ‘ پہاڑ ‘ زمہریر اور وہ سب چیزیں پیدا کردیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قتادہ اور سدی نے کہا : یعنی آسمان میں سورج ‘ چاند اور ستارے پیدا کر دئیے۔ مقاتل نے کہا : اللہ نے جو امر و نہی دینی چاہی ‘ وہ آسمان کو وحی کردی۔ بعض نے کہا : آسمان میں جو مخلوق تھی اسکو طاعت کا حکم دے دیا۔ وزینا السماء الدنیا بمصابیح وحفظا ذلک تقدیر العزیز العلیم اور ہم نے اسی قریبی آسمان کو ستاروں سے زینت دی اور اس کی حفاظت کی۔ یہ تجویز ہے زبردست ‘ واقف (کل) کی۔ بِمَصَابِیْحَ ۔ مصابیح سے مراد ہیں ستارے۔ وَحِفْظًاط (یہ مفعول مطلق ہے) یعنی ہم نے آفات یا چوری کرنے والوں سے اسکو محفوظ کردیا ‘ یا حفظًا مفعول لہ ہے یعنی زینت اور حفاظت کیلئے ہم نے آسمان دنیا میں ستارے پیدا کر دئیے۔ الْعَزِیْزِ اپنی حکومت میں غالب۔ الْعَلِیْمِ اپنی مخلوق سے واقف۔
Ayah 41:13

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو ایسے چنگھاڑ (کے عذاب) سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑ (کا عذاب آیا تھا)

فان اعرضوا فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود پھر اگر (دلائل توحید سن کر) یہ لوگ (توحید سے) اعراض کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ تم کو ایسی آفت سے ڈراتا ہوں جیسی آفت قوم عاد وثمود پر آئی تھی۔ یعنی اس بیان کے بعد بھی اگر کفار مکہ ایمان سے روگردانی کریں تو ان کو اس ہلاکت آفریں عذاب شدید سے ڈرائیے جیسا قوم عاد وثمود پر آیا تھا۔ صَاعِقَۃ ہر مہلک چیز۔
Ayah 41:14

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اُتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

اذجاء تھم الرسل من بین ایدیھم ومن خلفھم الا تعبدوا الا اللہ قالوا لو شاء ربنا لا نزل ملئکۃ فانا بما ارسلتم بہ کفرون جبکہ ان کے پاس ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی پیغمبر آئے کہ بجز اللہ کے اور کسی کو مت پوجو۔ انہوں نے جواب دیا : اگر ہمارے رب کو یہ منظور ہوتا (کہ کسی کو پیغمبر بنا کر بھیجے) تو فرشتوں کو بھیجتا ‘ سو ہم اس توحید کے منکر ہیں جس کو دے کر (بزعم خود) تم بھیجے گئے ہو۔ اِذْجَآءَتْھُمُ الرُّسُلُ جب قوم عاد وثمود کے پاس ان کے پیغمبر آئے۔ مِنْم بیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَمنْ خَلْفِھِمْآگے سے بھی اور پیچھے سے بھی ‘ یعنی ہر طرف سے پہنچے اور ان کو ہدایت کرنے کی انتہائی کوشش کی ‘ یا آگے پیچھے مراد ہے گذرا ہوا اور آنے ولا زمانہ۔ گذشتہ کافروں پر کیا گذرا ‘ وہ بھی بتایا اور آئندہ آخرت میں ان پر کیسا عذاب ہوگا ‘ اس سے بھی ڈرایا۔ یا آگے پیچھے سے مراد ہے پہلا پچھلا ‘ پہلے لوگوں کے احوال کی اطلاع ان کو تھی اور حضرت ہود و حضرت صالح نے ان کو پچھلے لوگوں کے احوال سے بھی باخبر کردیا اور اس طرح ایمان کی دعوت دی۔ مِنْم بیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَمنْ خَلْفِھِم سے مراد ہے کثرت ‘ جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : یَاْتِبْھَا رِزْقُھَا رَغَدًا مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ ۔ قَالُوْا یعنی قوم عاد وثمود نے جواب دیا۔ فَاِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ یعنی تم جو رسول ہونے کے مدعی ہو اور کہہ رہے ہو کہ تم کو تبلیغ توحید کیلئے بھیجا گیا ‘ ہم اس کو نہیں مانتے۔ تم بھی ہماری طرح آدمی ہی ہو ‘ تم کو ہم پر کوئی برتری حاصل نہیں۔ بغوی نے حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ابوجہل نے اور قریش کے کچھ سرداروں نے کہا : محمد ﷺ کا معاملہ ہماری سمجھ میں ٹھیک ٹھیک نہیں آتا ‘ کسی ایسے آدمی کو تلاش کرو جو شاعری اور کہانت اور جادو سے واقف ہو ‘ وہ جا کر محمد ﷺ سے گفتگو کرے ‘ پھر آکر ہم کو صاف صاف بتائے۔ عقبہ بن ربیعہ بولا : وا اللہ ! میں نے شعر بھی سنے ہیں اور کہانت و سحر کے الفاظ بھی اور ممجھے اس سے کچھ واقفیت بھی ہے ‘ اگر اس میں سے کوئی بات ہوئی تو مجھ سے چھپی نہیں رہے گی۔ غرض عقبہ وہاں سے اٹھ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور حضور ﷺ سے کہنے لگا : محمد ! ﷺ تم بہتر ہو یا ہاشم ‘ تم بہتر ہو یا عبدالمطلب ‘ تم بہتر ہو یا عبدا اللہ ؟ تم ہمارے معبودوں کو کیوں برا کہتے اور اور کیوں ہمارے اسلاف کو گمراہ قرار دیتے ہو ؟ اگر تم سرداری کے خواستگار ہو تو ہم اپنے جھنڈے تم کو دے دیں گے اور اگر عورت کے خواہشمند ہو تو قریش کی دس عورتوں سے جن کو تم پسند کرو ‘ تمہارا نکاح کردیں گے اور اگر تم مال کے طلبگار ہو تو ہم تمہارے لئے اتنا مال جمع کردیں گے کہ تم بھی دولت مند ہوجاؤ گے اور تمہارے بعد آنے والی نسل بھی۔ عقبہ کہتا رہا اور رسول اللہ ﷺ خاموشی سے سنتے رہے ‘ جب وہ کہہ چکا تو رسول اللہ ﷺ نے پڑھنا شروع کیا : بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ- حٰمٓ- تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنَ الرَّحِیْمِ- کِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُہٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا۔ آپ نے یہ آیت مثل صٰعقہ عاد وثمود تک پڑھیں۔ عقبہ نے (ڈر کر) فوراً حضور ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور رشتہ داری کی قسم دے کر خاموش ہوجانے کی درخواست کی۔ پھر لوٹ کر سیدھا اپنے گھر پہنچ گیا ‘ قریش کے پاس نہیں گیا ‘ اپنے گھر میں بیٹھ رہا۔ یہ بات دیکھ کر ابوجہل نے کہا : اے قریش والو ! خدا کی قسم ! ہم کو یہ نظر آتا ہے کہ عتبہ ‘ محمد ﷺ کی طرف جھک گیا اور محمد ﷺ کے کھانے پر ریجھ گیا ‘ اس کی وجہ صرف یہی ہوسکتی ہے کہ وہ مفلس ہوگیا ہے۔ ذرا اس کے پاس تو چلو۔ قریش والے عتبہ کے پاس گئے اور ابوجہل نے اس سے کہا : عتبہ ! خدا کی قسم ! ہم کو تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تم جو ہمارے پاس نہیں آئے ‘ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تمہارا جھکاؤ محمد ﷺ کی طرف ہوگیا اور تم ان کے کھانے پر ریجھ گئے۔ اگر تم ضرورت مند ہو تو ہم تمہارے لئے اتنا مال جمع کردیں گے جو محمد ﷺ کے کھانے سے تم کو بےنیاز کر دے۔ یہ بات سن کر عتبہ کو غصہ آگیا اور قسم کھا کر کہا : آئندہ محمد ﷺ سے وہ بات بھی نہیں کرے گا اور بولا : تم لوگ واقف ہو کہ میں قریش کے اندر بڑے مالدار لوگوں میں سے ہوں ‘ بات یہ ہوئی کہ میں ان کے پاس گیا تھا اور ان سے پورے حالات بیان کئے تھے ‘ لیکن انہوں نے مجھے ایسا جواب دیا کہ خدا کی قسم ! نہ وہ شعر ہے ‘ نہ کہانت اور نہ جادو (کے الفاظ) پھر عتبہ نے یہ سورت پڑھ کر سنائی۔ یہ کلام سن کر میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموش کردیا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر کہا کہ وہ چپ ہوجائیں۔ تم جانتے ہو کہ محمد ﷺ جب کوئی بات کہتا ہے تو جھوٹ نہیں کہتا ‘ اس سے مجھے ڈر ہوگیا کہ کہیں تم پر عذاب آجائے۔ محمد بن کعب قرظی کا بیان ہے کہ ہم سے کہا گیا ہے کہ عتبہ بڑا دانش مند سردار تھا۔ قریش کی مجلس میں ایک روز بیٹھا ہوا تھا اور رسول اللہ ﷺ اس وقت تنہا مسجد (کعبہ) میں تشریف فرما تھے ‘ عتبہ نے کہا ؛ اے گروہ قریش ! کیا میں محمد ﷺ کے پاس جا کر ان سے کچھ گفتگو کروں اور چند باتیں ان کے سامنے رکھوں ‘ شاید وہ ہماری کوئی بات قبول کرلیں اور ہم ان کی وہ بات پوری کردیں اور وہ پھر ہم سے کچھ تعرض نہ کریں۔ یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے کہ حضرت حمزہ مسلمان ہوچکے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بڑھتے جا رہے تھے۔ قریش نے کہا : ابو الولید ! ایسا ہی کرو ‘ ان کے پاس جاؤ اور بات کرو۔ عتبہ اٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا اور کہنے لگا : میرے بھتیجے ! تم جانتے ہو کہ تمہارا کنبہ وسیع ہے اور نسبی لحاظ سے بھی تمہارا ایک خاص مقام ہے ‘ لیکن تم نے ایک بری بات کی ہے جس سے قریش کی جماعت میں تم نے پھوٹ ڈال دی اور سب کو بیوقوف قرار دیا اور ان کے معبودوں کی خرابیاں بیان کیں اور ان کے گذشتہ باپ دادا کو کافر بتایا۔ ذرا کان لگا کر میری بات سنو ‘ میں چند چیزیں تمہارے سامنے رکھتے ہوں ‘ تم ان پر غور کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابو الولید ! کہو کیا باتیں ہیں ؟ عتبہ نے کہا : بھتیجے ! اگر تم جو کہتے ہو اس سے تمہارا مقصد مال کا حصول ہے تو ہم تمہارے لئے اتنا مال جمع کردیں گے کہ تم ہم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ گے اور اگر سرداری کے طلبگار ہو تو ہم تم کو اپنا سردار بنا لیں گے اور اگر تم کو کچھ دکھائی دیتا ہے (یعنی جنون یا جن کا اثر ہے) تو ہم تمہارا علاج تلاش کریں گے اور ممکن ہے یہ شعر ہوں جو تمہارے سینہ سے ابلتے ہوں (اور تم ان کو روک نہ سکتے ہو) تو اے نبی مطلب ! تم کو اس (شاعری) پر وہ قدرت حاصل ہے جو دوسروں کو نہیں ہے۔ جب عتبہ بات ختم کرچکا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابو الولید ! کیا تم اپنی بات پوری کرچکے ؟ عتبہ نے کہا : جی ہاں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تو اب میری سنو۔ عتبہ نے کہا : سناؤ۔ حضور ﷺ نے پڑھنا شروع کیا : بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ- حٰمٓ- تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنَ الرَّحِیْمِ- کِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُہٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا۔ حضور ﷺ پڑھ رہے تھے اور عتبہ اپنے دونوں ہاتھ پشت کے پیچھے ٹکائے ‘ ان پر سہارا لگائے خاموشی کے ساتھ کان لگائے سن رہا تھا۔ جب حضور ﷺ آیت سجدہ پر پہنچے تو آپ نے سجدہ کیا اور فرمایا : ابو الولید ! یہ تمہاری بات کا جواب ہے۔ عتبہ فوراً اٹھ گیا اور اپنے ساتھیوں کی طرف چل دیا۔ اہل مجلس میں سے ایک نے دوسرے سے خدا کی قسم کھا کر کہا : ابو الولید ! جو خیال لے کر گیا تھا ‘ اس کے خلاف خیال لے کر واپس آ رہا ہے۔ جب عتبہ آکر بیٹھ گیا تو لوگوں نے پوچھا : ابو الولید ! کیا خبر لائے ؟ عتبہ نے کہا : : یہ خبر ہے کہ میں ایسا کلام سنا کہ خدا کی قسم ! میں نے ویسا کلام کبھی نہیں سنا ‘ نہ وہ شعر ہے ‘ نہ جادو ‘ نہ کہانت۔ برادران قریش ! میرا کہا مانو ‘ اس شخص کو یونہی چھوڑ دو ‘ جو کچھ کر رہا ہے کرنے دو ‘ تم کچھ تعریف نہ کرو ‘ اس سے علیحدہ رہو۔ جس بات میں نے اس سے سنی ہے ‘ خدا کی قسم ! اس کی کچھ حقیقت ہو کر رہے گی۔ اگر عرب اس پر کامیاب ہوجائیں گے تو تمہارا کام ہوجائے گا اور اگر یہ عرب پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمہاری حکومت اور اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی ‘ اس کی وجہ سے تم بڑے خوش نصیب ہوجاؤ گے۔ قریش نے کہا : ابو الولید ! وا اللہ ‘ اس نے تیرے اوپر جادو کردیا ہے۔ عتبہ نے کہا : میرا تمہارے لئے یہی مشورہ ہے ‘ اب تم جو چاہو کرو۔
Ayah 41:15

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے

فاما عاد فاستکبروا فی الارض بغیر الحق وقالوا من اشد منا قوۃ پھر وہ جو عاد کے لوگ تھے ‘ وہ دنیا میں ناحق تکبر کرنے لگے اور کہنے لگے : وہ کون ہے ‘ جو طاقت میں ہم سے بڑھ کر ہے ؟ فَاسْتَکْبَرُوْا یعنی بغیر استحقاق کے دوسرے لوگوں سے اپنے کو بڑا اور برتر سمجھنے لگے اور جب ان کو عذاب سے ڈرایا گیا تو پندار کے نشے میں کہنے لگے۔ مِنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے ؟ یعنی ہر عذاب کو ہم اپنی طاقت سے دفع کردیں گے۔ (قوم عاد کی طاقت کی یہ حالت تھی کہ) پہاڑ کے بڑے بڑے پتھر اکھاڑ کر جہاں چاہتے تھے ‘ لے جاتے تھے۔ اللہ نے ان کی تردید میں فرمایا : اولم یوا ان اللہ الذی خلقھم ھو اشد منھم قوۃ وکانوا بایتنا یجحدون کیا ان کو یہ نظر نہ آیا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ‘ وہ ان سے طاقت میں بہت زیادہ ہے۔ اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے۔ اَوَلَمْ یَرَوْا یعنی کیا انہوں نے نہیں جانا۔ یہ استفہام انکاری ہے اور فعل محذوف پر عطف ہے ‘ یعنی کیا انہوں نے ایسی بات کہی اور یہ نہ جانا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ‘ وہ ان سے طاقت میں بہت زیادہ ہے۔ بِاٰیٰتِنَا آیات سے مراد ہیں معجزات۔ یَجْحَدُوْنَ یعنی حق جانتے ہوئے انکار کرتے رہے۔
Ayah 41:16

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ ان کو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں۔ اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور (اس روز) ان کو مدد بھی نہ ملے گی

فارسلنا علیھم ریحا صرصرا فی ایام نحسات لنذیقھم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا ولعذاب الاخرۃ اخزی تو ہم نے ان پر ایک طوفانی آندھی منحوس دنوں میں بھیج دی ‘ تاکہ اس دنیوی زندگی میں ہم ان کو رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی رسوائی کا سبب ہے۔ رِیْحًا صَرْصَرًا تیز آندھی جس میں سخت سردی اور شور کرنے والی آواز بھی ہو۔ صَرْ صَرْ ماخوذ ہے صَرْ سے ‘ صَرْ کا معنی ہے سردی ‘ یا صرۃ سے ماخوذ ہے اور صرۃ کا معنی ہے چیخ ‘ سخت آواز۔ نَحِسَاتٍ یعنی وہ دن جو ان کیلئے منحوس تھے۔ ضحاک نے کہا : تین سلا تک اللہ نے ان کو بارش سے محروم رکھا اور بغیر بارش کے تیز ہوائیں چلتی رہیں۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ طوفان آخر شوال میں بدھ سے شروع ہوا اور بدھ تک رہا ‘ اور جس امت پر عذاب آیا ‘ بدھ ہی کے دن آیا۔ عَذَابَ الْخِزْیِ ذلت کا عذاب ‘ یعنی ذلت والا عذاب۔ وھم لا ینصرون اور ان کو مدد نہیں پہنچے گی کہ عذاب دفع ہو سکے۔
Ayah 41:17

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا رستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا دھند رہنا پسند کیا تو ان کے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا۔ اور وہ ذلت کا عذاب تھا

واما ثمود فھدینھم فاستحبوا العمی علی الھدی فاخذتھم صعقۃ العذاب الھون بما کانوا یکسبون اور وہ جو قوم ثمود والے تھے تو (پیغمبر کے ذریعہ سے) ہم نے ان کو سیدھا راستہ بتادیا ‘ لیکن انہوں نے اندھے پن کو بہ نسبت ہدایت کے پسند کیا ‘ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک سراپا ذلت کے عذاب کی آفت نے ان کی بدکرداریوں کی پاداش میں ان کو آپکڑا۔ فَھَدَیْنٰھُمْ یعنی خیر و شر دونوں کے راستے بتا دئیے اور پیغمبروں کی وساطت سے ان کو سیدھا راستہ دکھا دیا ‘ کذا فسر ابن عباس۔ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰی عَلَی الْھُدٰی یعنی ایمان کے مقابلہ میں انہوں نے جہالت اور کفر کو پسند کیا۔ صٰعِقَۃُ الْعَذَابِ الْھُوْنِ یعنی آسمان کی طرف سے ایک ہلاکت آفریں چیخ۔ بِمَا کَانوُوْا یَکْسِبُوْنَ یعنی گمراہی اختیار کرنے کی پاداش میں۔
Ayah 41:18

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے ان کو ہم نے بچا لیا

ونجینا الذین امنوا وکانوا یتقون اور (اس آفت سے) ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے اور (ہم سے) ڈرتے رہے۔
Ayah 41:19

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کرلیئے جائیں گے

ویوم یحشر اعداء اللہ الی النار فھم یوزعون۔ اور (یاد دلائیے ان کو) وہ دن کہ جب اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف (لے جانے کیلئے) جمع کئے جائیں گے ‘ پھر روکے جائیں گے
Ayah 41:20

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور چمڑے (یعنی دوسرے اعضا) ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے

حتی اذا ماجاؤھا شھد علیھم سمعھم وابصارھم وجلودھم بما کانوا یعلمون (تاکہ باقی لوگ بھی آجائیں) یہاں تک کہ جب وہ دوزخ کے قریب آجائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور کھالیں ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے۔ یُوْزَعُوْنَ یعنی ہنکائے جائیں گے اور دھکے دے کر دوز کی طرف لے جائے جائیں گے۔ قتادہ اور سدی نے کہا : آگے والوں کو روک دیا جائے گا تاکہ پچھلے لوگ آکر ان سے مل جائیں اور سب یکجا ہوجائیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے : اس سے مراد دوزخیوں کی کثرت کا اظہار ہے۔ جَآءَوْھَا یعنی جب دوزخ کے سامنے پہنچیں گے۔ آنے سے مراد ہے دوزخ کے سامنے پہنچ جانا۔ وَجُلُوْدُھُمْ سدی اور اہل تفسیر کی ایک جماعت نے لکھا : کھالوں سے مراد شرمگاہیں ہیں۔ مقاتل نے کہا : ہاتھ پاؤں بولیں گے۔ مسلم نے حضرت انس کی روایت سے لکھا ہے ‘ حضرت انس نے فرمایا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ‘ یکایک حضور ﷺ مسکرا دئیے اور فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ میں کس وجہ سے مسکرا رہا ہوں ؟ ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی جانے۔ فرمایا : میں اسلئے مسکرا رہا ہوں کہ بندہ اپنے رب سے مخاطب ہو کر عرض کرے گا : اے میرے رب ! کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دے دی ہے (یعنی کیا تو نے یہ نہیں فرما دیا ہے کہ کسی پر ظلم نہ ہوگا) اللہ فرئے گا : کیوں نہیں۔ بندہ عرض کرے گا : پھر میرے خلاف شہادت دینے والا کوئی میرا ہی جزء ہو ‘ کسی اور (باہر والے) کو میں اپنے خلاف شہادت دینے کی اجازت نہیں دوں گا۔ اللہ فرمائے گا : بس آج تیرا ہی نفس تیرے خلاف شہادت دے گا ‘ یا اعمال لکھنے والے ملائکہ شاہد ہوں گے۔ اس کے بعد اللہ اس کے منہ پر مہر لگا دے گا اور اعضا کو حکم دے گا : تم بولو۔ ہاتھ پاؤں اس کے اعمال بول کر بتائیں گے ‘ پھر اس کو بات کرنے کی آزادی دے دی جائے گی (یعنی منہ سے مہر ہٹا لی جائے گی) تو وہ (اعضاء سے) کہے گا : دور ہوجاؤ ‘ تمہارا ناس جائے ‘ تمہاری طرف سے ہی تو میں دفاع کر رہا تھا۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اس طرح بیان کیا ہے : اللہ اس کے منہ پر مہر کر دے گا اور اس کی ران کو بولنے کا حکم دے گا ‘ فوراً اس کی ران ‘ اس کا گوشت اور ہڈی بول پڑے گی اور اس کے اعمال بیان کرے گی۔
Ayah 41:21

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور وہ اپنے چمڑوں (یعنی اعضا) سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں شہادت دی؟ وہ کہیں گے کہ جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی گویائی دی اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

وقالوا لجلودھم لم شھدتم علینا اور (دوزخ کی طرف لے جانے والے کافر) اپنی کھالوں سے کہیں گے : تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی ‘ یعنی تم ہلاک ہوجاؤ ‘ تمہارا ناس جائے ‘ تمہاری طرف سے تو ہم مدافعت کر رہے تھے ‘ پھر تم نے ہی ہمارے خلاف شہادت دی۔ یہ سوال بطور توبیخ ہوگا۔ قالوا انطقنا اللہ الذی انطق کل شیء وہ جواب دیں گے : ہم کو اسی اللہ نے گویا بنا دیا جس نے ہر (بولنے والی) چیز کو گویا بنا دیا ہے۔ وھو خلقکم اول مرۃ والیہ ترجعون اور اسی نے پہلی بار پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹایا جائے گا۔ یہ جملہ اعضاء کے کلام کا جزء بھی ہوسکتا ہے اور جملہ مستانفہ (ابتدائیہ جدیدہ) بھی ہوسکتا ہے ‘ اس کے بعد جو کلام آ رہا ہے اس میں بھی یہ دونوں احتمال جائز ہیں۔ شیخین نے صحیحین میں نیز بغوی نے حضرت ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ کعبہ کے قریب دو ثقفی اور ایک قریشی یا دو قریشی اور ایک ثقفی شخص جمع ہوئے ‘ ان تینوں کے پیٹ تو موٹے تھے جن پر چربی کی تہہ جمی ہوئی تھی اور دلوں میں سمجھ کم تھی۔ ایک بولا : کیا تم کو معلوم ہے کہ اللہ ہماری باتیں سنتا ہے۔ دوسرا بولا : ہم چلا کر بولیں تو سنتا ہے اور چپکے چپکے بات کریں تو نہیں سنتا۔ تیسرے نے کہا : اگر وہ چلا کر بات کرنے کو سنتا ہے تو چپکے کی بات بھی ضرور سنے گا۔ بغوی نے لکھا ہے : یہ ثقفی شخص عبدیالیل تھا اور دونوں قریشی آدمی ربیعہ اور صفوان بن امیّہ تھے ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 41:22

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم اس (بات کے خوف) سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے بلکہ تم یہ خیال کرتے تھے کہ خدا کو تمہارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں

وما کنتم تسترون ان یشھد علیکم سمعکم ولا ابصارکم ولا جلودکم ولکن ظننتم ان ا اللہ لا یعلم کثیرا مما تعملون اور تم (دنیا میں) اس وجہ سے چھپا ہی نہیں سکتے تھے کہ تمہارے کان اور آنکھیں اور کھالیں تمہارے خلاف میں گواہی دیں ‘ لیکن تم اس گمان میں رہے کہ اللہ کو تمہارے بہت سے اعمال کی خبر بھی نہیں۔ تَسْتَتِرُوْنَ بغوی نے لکھا ہے : اکثر علماء نے اسکا ترجمہ کیا ہے : ” تم چھپا نہیں سکتے تھے “۔ مجاہد نے ترجمہ کیا : تم ڈرتے نہ تھے۔ قتادہ نے کہا : تم خیال بھی نہیں کرتے تھے کہ تمہارے ہاتھ اور پاؤں تمہارے خلاف شہادت دیں گے ‘ لیکن تمہارا خیال تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو خبر نہیں ہے ‘ اسی لئے تم اپنے برے اعمال بےباکی سے کرتے تھے۔
Ayah 41:23

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے

وذلکم ظنکم الذی ظننتم بربکم اردئکم فاصبحتم من الخسرین اور اسی تمہارے خیال نے جو تم نے اپنے رب کے متعلق کر رکھا تھا ‘ تم کو ہلاک کیا اور تم گھاٹا پانے والوں میں سے ہوگئے۔
Ayah 41:24

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

اب اگر یہ صبر کریں گے تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور اگر توبہ کریں گے تو ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی

فان یصبروا فالنار مثوی لھم وان یستعتبوا فماھم من المعتبین اب اگر وہ (دوزخ کے اندر) صبر کریں گے تو دوزخ ان کا ٹھکانا ہے ہی (کبھی وہاں سے نجات نہیں ملے گی) اور اگر معافی طلب کریں گے تو معافی یافتہ لوگوں میں سے نہ ہوں گے۔ وَاِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا یعنی اگر وہ رب کو راضی کرنے چاہیں گے اور خواستگار عقبیٰ ہوں گے۔ عقبیٰ کا معنی ہے اپنی پسندیدہ حالت کی طرف لوٹنا۔ فَمَا ھُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ تو ان کی یہ درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔
Ayah 41:25

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے (شیطانوں کو) ان کا ہم نشین مقرر کردیا تھا تو انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے اعمال ان کو عمدہ کر دکھائے تھے اور جنات اور انسانوں کی جماعتیں جو ان سے پہلے گذر چکیں ان پر بھی خدا (کے عذاب) کا وعدہ پورا ہوگیا۔ بےشک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں

وقیضنا لھم قرنا اور ہم نے دنیا میں ان کے ساتھ رہنے والے کچھ شیاطین مقرر کر رکھے تھے۔ وَقَیَّضْنَا یعنی ہم نے مقرر کر دئیے ہیں۔ مقاتل نے ترجمہ کیا : ہم نے فراہم کر دئیے ہیں ‘ تیار کر دئیے ہیں۔ لَھُمْ ان کافروں کیلئے۔ قُرَنَآء ساتھی۔ قرنا ‘ قرین کی جمع ہے جیسے کرماء ‘ کریم کی جمع ہے ‘ یعنی کافروں جیسے شیطان جنات جو ان پر ایسے مسلط اور محیط ہیں جیسے انڈے پر اس کا پوست۔ قیّض انڈے کے پوست کو کہتے ہیں۔ بعض نے کہا : قیّضکا اصل معنی ہے عوض۔ بیع مقالضہ (سامان کا سامان سے مبادلہ) اسی سے مشتق ہے۔ فزینوا لھم ما بین ایدھم وما خلفھم سو انہوں نے انکے اگلے پچھلے (انکی نظر میں) خوبصورت بنا دئیے تھے۔ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ سے مراد ہیں دنیوی چیزیں اور خواہشات کا اتباع ‘ اور ماَ خَلْفَھُمْ سے مراد ہیں امر آخرت یعنی شیطانوں نے ان کو (دنیا کا شیفتہ بنا دیا اور) آخرت کے انکار اور دوسری زندگی کی تکذیب کی دعوت دی۔ وحق علیھم القول فی امم قدخلت من قبلھم من الجن والانس انھم کانوا خسرین اور ان کے حق میں بھی ان لوگوں کے ساتھ اللہ کا قول (وعدۂ عذاب) پورا ہو رہا جو ان سے پہلے (کافر) جن و انس ہو گذرے ہیں ‘ بیشک وہ سب بھی خسارے میں رہے۔ الْقَوْلُ یعنی کلمۂ عذاب۔ فِیْٓ اُمَمٍ منجملہ ان امتوں کے جو ان سے پہلے گذر گئیں جن کے اعمال کی طرح انہوں نے بھی عمل کئے۔ کَانُوْا خٰسِرِیْنَ یعنی ان چیزوں کو اختیار کیا جو موجب عذاب ہیں اور ان چیزوں کو چھوڑا جو موجب رحمت ہیں۔
Ayah 41:26

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور کافر کہنے لگے کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور (جب پڑھنے لگیں تو) شور مچا دیا کرو تاکہ تم غالب رہو

وقال الذین کفروا لا تسمعوا لھذا القرآن والغوا فیہ لعلکم تغلبون اور ان لوگوں (یعنی کفار مکہ) نے کہا کہ قرآن کو نہ سنو اور اس میں گڑبڑ ڈال دو تاکہ تم (قرأت قرآن پر) غالب آجاؤ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : کچھ لوگ دوسروں سے کہتے تھے : جب محمد ﷺ کو تم قرآن پڑھتے دیکھو تو ان کے سامنے رجز اور شعر خوب پڑھو اور بیہودہ باتیں کرو۔ مجاہد نے کہا : گڑبڑ کرنے سے مراد ہے سیٹیاں اور تالیاں بجانا۔ ضحاک نے کہا : خوب باتیں کرو کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہوں ‘ اس میں گڑبڑ پیدا ہوجائے۔ سدی نے کہا : ان کے سامنے جا کر شور مچاؤ ‘ چیخو ‘ چلاؤ۔
Ayah 41:27

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

سو ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کے مزے چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی جو وہ کرتے تھے سزا دیں گے

فلنذیقن الذین کفروا عذابا شدیدا ولنجزینھم اسوا الذی کانوا یعملون تو ہم ان کافروں کو سخت عذاب کا ضرور مزہ چکھائیں گے اور جو حرکتیں یہ کرتے تھے ‘ ان کی بدترین سزا دیں گے۔ اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا بجائے ضمیر کے اسم ظاہر دو باتوں کی وجہ سے استعمال کیا : (ا) ان لوگوں کے کفر کی تصدیق ہوگئی (2) حکم میں عموم ہوگیا۔ یہ حکم ان کافروں کیلئے بھی ہوگیا اور دوسرے کافروں کیلئے بھی۔ اَسْوَاَ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ یعنی انکے برے اعمال کی سزا دیں گے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ ہم ان کے کفر کی سزا دیں گے جو انکے دنیوی اعمال میں سب سے برا عمل تھا۔
Ayah 41:28

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ خدا کے دشمنوں کا بدلہ ہے (یعنی) دوزخ۔ ان کے لئے اسی میں ہمیشہ کا گھر ہے۔ یہ اس کی سزا ہے کہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے

ذلک جزاء اعداء اللہ النار لھم فیھا دار الخلد جزاء بما کانوا بایتنا یجحدون یہ سزا ہے ا اللہ کے دشمنوں کی (یعنی) دوزخ ‘ جس کے اندر ان کیلئے (دوامی) قیام گاہ ہوگی ‘ بدلہ میں اس بات کے کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے۔ دَارُ الْخُلْدِ قیام گاہ ‘ رہنے کا مقام۔ بِاٰیٰتِنَا آیات سے مراد قرآن ہے۔ یَجْحَدُوْنَ یعنی حق کا انکار کرتے تھے ‘ یا حجود سے مراد ہے قرآن میں گڑبڑ کرنا۔ انکار قرآن گڑبڑ کرنے کا سبب تھا ‘ اسلئے سبب سے اس کا نتیجہ مراد لیا جاسکتا ہے۔
Ayah 41:29

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا کہ ہم ان کو اپنے پاؤں کے تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ نہایت ذلیل ہوں

وقال الذین کفروا ربنا ارنا الذین اضلنا من الجن والانس اور (دوزخ میں ڈالنے جانے کے بعد) کافر کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم کو وہ دونوں شیطان اور انسان دکھا دے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا۔ الَّذِیْنَ اَضَلّٰنَا یعنی جنات اور انسانوں میں سے جس نے ہم کو بہکایا اور گناہ پر آمادہ کیا ‘ ان کو ہمارے سامنے لے آ۔ بعض کے نزدیک دو بہکانے والوں سے مراد ہیں ا بلیس اور حضرت آدم کا بیٹا قابیل ‘ کفر و معصیت کی بنیاد ڈالنے والے یہی دونوں تھے۔ نجعلھما تحت اقدامنا لیکونا من الاسفلین ہم انکو اپنے پیروں تلے مل ڈالیں تاکہ وہ خوب ذلیل ہوں۔ لِیَکُوْنَا تاکہ وہ دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوجائیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : تاکہ ان کا عذاب ہمارے عذاب سے زیادہ ہو۔
Ayah 41:30

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اُتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ

ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا بیشک جن لوگوں نے کہا : ہمارا رب اللہ ہے ‘ پھر سیدھے راستہ پر قائم رہے۔ یعنی جن لوگوں نے اللہ کے رب ہونے کا اعتراف اور اس کی وحدانیت کا اقرار کیا (اور سیدھے راستہ سے انحراف نہیں کیا) ۔ محلی نے لکھا ہے : اس آیت کا نزول حضرت ابوبکر صدیق کے متعلق ہوا (ثم سے تاخیر زمانی مراد نہیں ہے بلکہ) ثُم اس جگہ ترتیب کی تاخیر کو ظاہر کر رہا ہے۔ اقرار توحید و ربوبیت سے استقامت کا درجہ مؤخر ہے ‘ استقامت سے مراد ہے اعتدال ‘ کسی طور پر حق سے منحرف نہ ہونا ‘ کج راہی اختیار نہ کرنا ‘ نہ اعتقاد میں ‘ نہ اخلاق میں ‘ نہ اعمامل میں۔ قاموس میں ہے : استقام اعتدل۔ قَوَّمْتُہ میں نے اس کو سیدھا کردیا۔ قویم اور مستقیم دونوں ہم معنی ہیں ‘ وہ ہموار سیدھا راستہ جو راہی کو منزل تک پہنچا دے ‘ اس کو صراط مستقیم اسی مناسبت سے کہا جاتا ہے۔ استقامت کا لفظ مختصر اور جامع ہے ‘ تمام احکام شریعہ کو حاوی ہے۔ اداء مامورات ہو یا منہیات و ممنوعات سے اجتناب ‘ اگر پابندی اور دوام کے ساتھ ہو تو استقامت کا لفظ اس کو محیط ہے۔ حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی نے خدمت گرامی میں عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اسلام کے سلسلہ میں مجھے کوئی ایسی بات بتا دیجئے کہ حضور ﷺ کے بعد پھر مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ ارشاد فرمایا : کہو : اَمَنْتُ بِ اللہ ِ (میں ان پر ایمان لایا) پھر استقامت رکھو (یعنی اس پر جمے رہو ‘ یا سیدھی چال چلتے رہو) رواہ مسلم۔ بغوی نے لکھا ہے : حضرت ابوبکر صدیق سے استقامت کے متعلق سوال کیا گیا ‘ فرمایا : (استقامت یہ ہے کہ) تم کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ قرار دو ۔ حضرت عمر بن خطاب سے استقامت کی بابت دریافت کیا گیا تو فرمایا : تم امر و نہی کی پابندی رکھو اور لومڑی کی طرح (ادھر ادھر) مڑ نہ جاؤ۔ 1 ؂ حضرت عثمان بن عفان نے استقاموا کا ترجمہ کیا : انہوں نے خالص اللہ کیلئے عمل کئے۔ حضرت علی نے فرمایا : پھر انہوں نے فرائض ادا کئے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : پھر وہ اداء فرائض پر قائم رہے۔ حسن نے کہا : پھر وہ امر الٰہی پر قائم رہے ‘ اللہ کی طاعت کرتے رہے اور نافرمانی سے بچتے رہے۔ مجاہد اور عکرمہ نے کہا : اللہ سے ملنے کے وقت یعنی مرتے دم تک لا الٰہ الا اللہ کی شہادت پر قائم رہے۔ مقاتل نے کہا : معرفت پر قائم رہے ‘ پھر (معرفت سے) نہیں پھرے۔ یہ تمام اقوال اسی مضمون کی مختلف تفسیریں ہیں جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔ حضرت عمر ‘ حضرت علی ‘ حضرت ابن عباس اور حسن کا قول ان تمام امور کو شامل ہے جن کا بجا لانا اللہ نے فرض کیا ہے اور ان امور کو بھی حاوی ہے جن سے اجتناب کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے خواہ ان اوامرو نواہی کا تعلق عقائد سے ہو ‘ یا اخلاق سے ‘ یا اعمال سے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان کا بیان کردہ مطلب بتارہا ہے کہ شہرت کی طلب اور دکھاوٹ کسی عمل میں وہ نہیں کرتے۔ مجاہد اور عکرمہ کے قول کا بھی یہی حاصل ہے۔ غرض استقامت بغیر فناء نفس و قلب کے نہیں حاصل ہوتی اور معرفت الٰہیہ کا حصول جو مقاتل کے قول میں آیا ہے ‘ اسی طریقہ سے ہوتا ہے جو صوفیہ نے اپنی اصطلاحات میں بیان کیا ہے۔ قتادہ کا بیان ہے : حسن جب یہ آیت پڑھتے تھے تو کہتے تھے : اے اللہ ! تو ہمارا رب ہے ‘ ہم کو استقامت نصیب کر۔ حسن ‘ صوفیہ کے سرگروہ تھے ‘ اکثر سلسلوں کا سرچشمہ وہی تھے۔ تتنزل علیھم الملئکۃ الا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم تو عدون ان پر فرشتے اتریں گے (اور یہ پیام دیں گے) کہ تم اندیشہ نہ کرو ‘ نہ رنج کرو اور جنت ملنے پر خوش رہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلآءِکَۃُ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مرتے وقت ملائکہ اترتے ہیں۔ قتادہ اور مقاتل نے کہا : جب قبروں سے اٹھیں گے تو ملائکہ ان پر نازل ہوں گے۔ وکیع بن جراح نے کہا : تین مقامات پر بشارت ملے گی : مرتے وقت ور قبر کے اندر اور قبر سے اٹھنے کے وقت۔ اَلاَّ تَخَافُوْا یہ جملہ تفسیریہ ہے ‘ کیونکہ تتنزل کے اندر قول کا معنی پوشیدہ ہے ‘ یا الاَّ تَخَافُوْا میں اَنْ مصدری ہے ‘ یعنی امر آخرت جو تمہارے سامنے آ رہا ہے ‘ اس کا اندیشہ نہ کرو۔ مجاہد کا یہی قول ہے۔ وَلاَ تَحْزَنُوْا یعنی جو اہل و عیال دنیا میں چھوڑ کر جا رہے ہو ان کا غم نہ کرو ‘ ہم انکی جگہ تمہارے کام آئیں گے۔ خوف اس اندیشہ کو کہتے ہیں جو کسی مصیبت کے آئندہ ہونے کا ہوتا ہے اور حزن اس غم کو کہتے ہیں جو کسی مفید امر کے فوت ہوجانے یا کسی ضرر رساں چیز کے آجانے سے پیدا ہوتا ہے۔ عطاء بن ابی رباح نے کہا : مطلب یہ ہے کہ اپنے گناہوں کا کچھ خوف و ملال نہ کرو ‘ یعنی عذاب کا اندیشہ نہ کرو اور گناہوں کی فکر نہ کرو ‘ اللہ سب گناہ معاف کر دے گا۔ وَاَبْشِرُوْا بالْجَنَّۃ یعنی دنیا میں پیغمبروں کی زبانی جس جنت کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا تھا ‘ اسکے ملنے سے خوش ہوجاؤ۔ ابو نعیم نے لکھا ہے کہ ثابت بنانی نے حٰمٓ السجدۃ پڑھی ‘ جب آیت تتنزل علیہم الملائکۃ پر پہنچے تو کہا : ہم کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ مؤمن بندے کو جب قبر سے اٹھایا جائے گا تو وہ فرشتے جو دنیا میں اسکے ساتھ رہتے تھے ‘ اس سے ملیں گے اور کہیں گے : تم کچھ خوف و رنج نہ کرو اور جس جنت کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اسکے حصول سے خوش ہوجاؤ۔ اس کے بعد اللہ خوف سے اس کو مامون کر دے گا اور اس کی آنکھوں کو ٹھنڈا رکھے گا۔
Ayah 41:31

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی (تمہارے رفیق ہیں) ۔ اور وہاں جس (نعمت) کو تمہارا جی چاہے گا تم کو (ملے گی) اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے (موجود ہوگی)

نحن اولیؤکم فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ ہم تمہارے رفیق تھے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی (تمہارے ساتھ) رہیں گے۔ یعنی دنیا میں ہم تمہارے ساتھی تھے ‘ اچھی باتیں تمہارے دل میں ڈالتے تھے اور شیطانوں سے تمہاری حفاظت کرتے تھے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ اس وقت تک رہیں گے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔ ولکم فیھا ما تشھی انفسکم ولکم فیھا ما تدعون تمہارے لئے اس جنت میں جو کچھ تمہارا جی چاہے گا ‘ موجود ہے اور جو مانگو گے ‘ وہ بھی تمہارے لئے تیار ہے۔ یعنی جنت کے اندر وہ لذتیں اور عزت ملے گی جو تمہارے دل چاہیں گے اور جن کے تم خواہش مند ہوگا۔ تَدّعُوْن دعاء سے ماخوذ ہے اور دعاء کے معنی ہیں طلب۔ مقدم الذکر سے مؤخر الذکر عام ہے۔
Ayah 41:32

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

(یہ) بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے

نزلا من غفور رحیم بطور مہمانی اس اللہ کی طرف سے جو بڑا بخشنے والا ‘ رحمت والا ہے۔ یعنی جو کچھ ان کی تمنا ہوگی اس کے مقابلہ میں جو کچھ دیا جائے گا وہ ایسا ہوگا جس کا خیال ان کے دلوں میں پیدا بھی نہ ہوا ہوگا اور عطیہ بطور مہمانی ہوگا (ا اللہ میزبان ہوگا اور اہل جنت مہمان) ۔ بزار ‘ ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم جنت کے اندر پرندوں کو دیکھ کر (ان کا گوشت کھانے کی) جونہی خواہش کرو گے ‘ فوراً وہ تمہارے سامنے بھنے بھنائے گرپڑیں گے۔ ابن ابی الدنیا نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا کہ جنتی آدمی (جونہی) جنت کے اندر پرندہ (کا گوشت کھانے) کی خواہش کرے گا ‘ فوراً وہ پرندہ جو بختی اونٹ کی طرح ہوگا ‘ جنت کے خوان پر گر پرے گا ‘ نہ اس کو دھواں لگا ہوگا ‘ نہ آگ نے اس کو چھوا ہوگا۔ جنتی آدمی اس میں سے پیٹ بھر کر کھالے گا ‘ پھر وہ پرندہ (صحیح سالم ‘ اصلی حالت میں) اڑ جائے گا۔ بیہقی اور ترمذی نے لکھا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کوئی مؤمن جنت کے اندر بچہ پیدا ہونے کی خواہش کرے گا ‘ فوراً گھڑی بھر میں بچہ اس کی خواہش سے پیدا ہوجائے گا۔ اس کی مدت حمل اور مدت پیدائش اور عمر ‘ سب کچھ ایک گھڑی میں ہوجائے گا۔ ہناد نے الزہد میں حضرت ابو سعید کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ حضرت ابو سعید نے فرمایا : ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اولاد تو آنکھوں کی ٹھنڈک اور تکملۂ مسرت ہوگی ‘ کیا جنت کے اندر جنتی کی اولاد ہوگی ؟ فرمایا : جب جنتی بچے کی خواہش کرے گا الخ۔ اصبہانی نے الترغیب میں غیر مرفوع حدیث حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کی ہے کہ جنتی آدمی (جب) بچہ پیدا ہونے کی خواہش کرے گا (تو بچہ فوراً پیدا ہوجائے گا) اس کے حمل ‘ شیرخوارگی اور دودھ چھڑانے کی مدت بس ایک گھڑی ہوگی۔ بیہقی نے مرفوعاً ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ہے : آدمی (جب) جنت میں بچہ پیدا ہونے کی خواہش کرے گا الخ۔