41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsانوار البیان

Ayah 41:1
(41:1) حم : حروف مقطعات۔ ان سے کیا مراد ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔
Ayah 41:2

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

(یہ کتاب خدائے) رحمن و رحیم (کی طرف) سے اتری ہے

(41:2) تنزیل : بروزن تفعیل مصدر ہے اتارنا۔ نازل کرنا۔ تنزیل اور انزال میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو یکے بعد دیگرے اور متفرق طور پر نازل کرنے کے ہوتے ہیں اور انزال کا مطلب یہ ہے جو یکے بعد دیگرے ترتیب سے اتارنے کے لئے بھی آتا ہے اور ایک ہی دفعہ مکمل طور پر کسی چیز کو نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے۔ یہاں تنزیل سے مراد قرآن مجید ہے جیسا کہ اگلی آیت سے ظاہر ہے۔ تنزیل مبتداء محذوف کی خبر ہے ای ھذا تنزیل من الرحمن الرحیم (یہ قرآن) اتارا گیا ہے (خدائے) رحمن و رحیم کی طرف سے۔ من الرحمن الرحیم متعلق خبر ہے۔
Ayah 41:3

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

(ایسی) کتاب جس کی آیتیں واضح (المعانی) ہیں (یعنی) قرآن عربی ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں

(41:3) کتب بروزن فعال بمعنی مفعول ہے ای مکتوب وانما قیل لہ کتاب لانہ مکتوب فی اللوح المحفوظ۔ اسے کتاب اسلئے کہا گیا ہے کہ وہ لوح محفوظ پر مکتوب ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے بل ھو قرآن مجید فی لوح محفوظ (85:22) کتب مبتدا محذوف کی خبر ہے ای ھذا کتب۔ فصلت ایتہ : فصلت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب تفصیل (تفعیل) مصدر سے۔ ایتہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی آیات : فصلت ایتہ جس کی آیات کھول کھول کر بیان کردی گئی ہیں۔ یہ متعلق خبر (کتب) ہے۔ قرانا عربیا : موصوف و صفت، موصوف بوجہ ایتہ سے حال ہونے کے ہے ای فصلت ایتہ فی حال کونہ قرانا عربیا : جس کی آیات کھول کھول کر بیان کردی گئی ہیں درآنحالیکہ یہ قرآن عربی زبان میں ہے۔ (یعنی یہ عربوں پر احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن عربی میں نازل فرمایا جس کا پڑھنا اور سمجھنا ان کے لئے دشوار نہیں اگر دوسری زبان میں نازل ہوتا تو عربوں کے لئے سمجھنا دشوار ہوتا۔ اگر عربیا کے معنی فصیح و بلیغ کے لئے جائیں تو پھر یہ خطاب تمام نبی نوع انسان کے لئے ہوگا۔ لیکن نفع اس سے برحال وہی اٹھائیں گے جو علم و فہم سے کام لیتے ہیں (یعنی اہل علم) ۔ لقوم یعلمون : اگر اسے فعل لازم مانا جائے تو ترجمہ ہوگا : اہل علم کے لئے ۔ یا اس کا مفعول محذوف ہے اور عبارت ہے لقوم یعلمون مانیہ۔ اس قوم کے لئے جو اس کے معانی جانتی ہے۔ (یعنی اہل عرب جو اس قرآن کے مخاطبین اول ہیں) ۔ لام تعلیل کا ہے یا اختصاص کا۔
Ayah 41:4

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

جو بشارت بھی سناتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے لیکن ان میں سے اکثروں نے منہ پھیرلیا اور وہ سنتے ہی نہیں

(41:4) بشیرا ونذیرا۔ یہ ہر دو صفات ہیں جن کا موصوف قرانا ہے۔ (یہ قرآن) اہل اطاعت کے لئے مژدہ سنانے والا ہے اور اہل معصیت کے ڈرانے والا ہے۔ فاعرض۔ ماضی صیغہ واحد مذکر غائب اس نے اعراض کیا۔ اس نے روگردانی کی۔ اس نے منہ پھیرلیا۔ اس نے کنارہ کیا۔ اعراض (افعال) مصدر ۔ فاعرض اکثرھم۔ یعنی چاہیے تو یہ تھا کہ ان صفات کے پیش نظر سب اس پر ایمان لے آتے لیکن ہوا یہ کہ ان میں سے اکثر لوگوں نے اس سے روگرانی کی۔ اکثرھم مضاف مضاف الیہ۔ ان میں سے اکثر۔ ہم ضمیر کا مرجع قوم ہے۔ فھم لا یسمعون ۔ عربی محاورہ ہے تشفعت الی فلان فلم یسمع تولی : میں نے فلاں کو سفارش کے لئے کہا لیکن اس نے میری بات نہ سنی۔ یعنی میری بات نہ مانی۔ یعنی قرآن اس کے احکام بجا لانے والوں کو خوشخبری سنانے والا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو انجام بد سے ڈرانے والا ہے لیکن ان لوگوں نے بشارت یا انذار کو سنا ہی نہیں یعنی اس کو مانا ہی نہیں ۔ قبول ہی نہیں کیا۔
Ayah 41:5

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ (یعنی بہرا پن ہے) اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے تو تم (اپنا) کام کرو ہم (اپنا) کام کرتے ہیں

(41:5) اکنۃ۔ پردے۔ غلاف۔ کنان کی جمع۔ ک ن ن مادہ کے حروف ہیں۔ اس معنی میں اور جگہ قرآن میں ہے وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ (6:25) اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں کہ اس کو سمجھ نہ سکیں۔ الکن ہر وہ چیز جس میں کسی چیز کو محفوظ رکھا جائے۔ کننت الشیء کنا کسی چیز کو کن میں محفوظ کردینا۔ اس کن کی اکنان آتی ہے اسی سے محفوظ رکھی ہوئی چیز کو مکنون کہیں گے جیسے کانھم لؤلؤ مکنون (52:24) جیسے چھپائے ہوئے موتی۔ مما تدعونا الیہ : من حرف جار ما اسم موصول تدعونا مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر نا ضمیر مفعول جمع متکلم الیہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما موصولہ ہے۔ وقر اسم مصدر۔ ثقل ۔ گرانی۔ بہرہ پن۔ اعمل اننا عملون۔ آپ اپنا کام کریں۔ یعنی آپ اپنے دین پر چلتے رہئے ، ہم اپنا کام کرتے ہیں یعنی ہم اپنے دین پر ثابت قدم رہتے ہیں یا یہ کہ آپ اپنی دعوت سے باز نہیں آتے تو ٹھیک ہے آپ اپنا عمل جاری رکھیں ہم بھی آپ کی مخالفت کو جاری رکھیں گے اور جو کچھ ہو سکے گا آپ کے خلاف کرتے رہیں گے۔
Ayah 41:6

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں (بھی) آدمی ہوں جیسے تم (ہاں) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود خدائے واحد ہے تو سیدھے اسی کی طرف (متوجہ) رہو اور اسی سے مغفرت مانگو اور مشرکوں پر افسوس ہے

(41:6) قل : ای قل یا محمد ﷺ ۔ انما : بےشک، تحقیق ، بجز اس کے نہیں۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور ما کافہ ہے حصر کے معنی دیتا ہے اور ان کو عمل سے روکتا ہے ، یعنی ان یا ان کا اسم بجائے منصوب ہونے کے مرفوع ہوگا اور اس طرح ان یا ان کا عمل کہ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے رک جائے گا۔ جیسے انما الصدقت للفقراء (9:60) تحقیق صدقات (یعنی زکوۃ و خیرات) مفلسوں کے لئے ہے۔ انما۔ وہی معانی ہیں جو اوپر انما کے بیان ہوئے ہیں۔ فائدہ : ان اور ان کے استعمال میں فرق یہ ہے کہ ان (مکسورہ) صدر کلام میں آتا ہے اور اپنے اسم و خبر سے مل کر کلام تام بن جاتا ہے۔ جیسے ان زیدا قائم اس جگہ ان اپنے اسم و خبر سے مل کر کلام تام بن جاتا ہے۔ جیسے ان زیدا قائم اس جگہ ان اپنے اسم و خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہے ان وسط کلام میں آتا ہے اور اپنے اسم و خبر سے مل کر مفرد کے حکم میں ہوتا ہے اور ایک فعل یا اسم کا اس سے پہلے آنا ضروری ہے۔ جس کا یہ ان فاعل یا مفعول یا کوئی اور جز و جملہ بن سکے۔ جیسے بلغی ان زیدا قائم ان کے مابعد کا جملہ (اسم اور خبر سے مل کر) بلغ کا فاعل ہے مفرد کے معنی میں ہے۔ مجھے زید کے قیام کی خبر پہنچی۔ یا ۔ علمت ان زیدا فاضل اس میں ان زیدا فاضل، ان بمعنی اپنے اسم اور خبر کے مل کر علمت کا مفعول ہے اور مفرد کے حکم میں ہے ۔ استقیموا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر استفہامۃ (اسفتعال) مصدر ۔ تم سیدھے رہو۔ تم سیدھا راستہ اختیار کرو۔ استقام الی (گنہگار کا اللہ کی طرف) رجوع کرنا قوم مادہ۔ فاستقیموا الیہ۔ سو تم اسی کی طرف سیدھ باندھے رکھو۔ استغفروہ : امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ استغفار (استفعال) مصدر۔ تم اسی سے بخشش (گناہوں کی مغفرت) طلب کرو۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الہکم ہے۔ ویل اسم مرفوع، ہلاکت۔ عذاب۔ دوزخ کی ایک وادی کا نام۔
Ayah 41:7

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں

(41:7) یہ آیت مشرکین کی صفت ہے (1) زکوۃ ادا نہیں کرتے۔ یہاں زکوۃ بطور اصطلاح فقہی نہیں ہے لفظی معنی میں ہے یعنی ایک راہ میں خرچ کرنا۔ اور یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ اپنے آپ کو شرک کی نجاست سے پاک نہیں کرتے ہیں (2) آخرت کے منکر ہیں۔ یہاں ہم کی تکرار اور کفرون پر بالاخرۃ کی تقدیم تاکید کلام کے لئے ہے۔
Ayah 41:8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے (ایسا) ثواب ہے جو ختم ہی نہ ہو

(41:8) غیر ممنون : غیر حرف استثناء ممنون مستثنیٰ (مستثنیٰ غیر کے بعد واقع ہو تو مجرور ہوگا) ۔ ممنون اسم مفعول واحد مذکر۔ من مادہ۔ (باب نصر) کم کیا ہوا۔ قطع کیا ہوا۔ غیر ممنون (یعنی وہ اجر) جو نہ کم ہوگا اور جو نہ منقطع (ختم) ہوگا۔ من (باب نصر) الشیء کسی چیز کو کم کرنا۔ من الحبل رسی کاٹنا۔ اسی سے المنون بمعنی موت ہے کہ عمر کو قطع کرتی ہے تعداد کو گھٹاتی ہے۔ مجاہد نے کہا ہے بےحساب ، بعض نے ترجمہ کیا ہے بےاحسان دھرے۔ من احسان رکھنا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے لاتبطلوا صدقتکم بالمن و والاذی (2:264) (مومنو ! ) اپنے صدقات (و خیرات) کو احسان رکھنے سے اور ایذاء دینے سے برباد نہ کردینا۔
Ayah 41:9

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

کہو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور (بتوں کو) اس کا مدمقابل بناتے ہو وہی تو سارے جہانوں کا مالک ہے

(41:9) ائنکم لتکفرون : ائنکم استفہام زجری ہے یہ جملہ جواب ہے ایک سوال محذوف کا۔ گویا رسول اللہ ﷺ نے سوال کیا کہ اگر وہ استقامت نہ اختیار کریں اور استغفار نہ کریں تو میں ان سے کیا کہوں ؟ (ارشاد ہوا) آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم ایسے خدا (کی توحید) کا انکار کرتے ہو جس نے ۔۔ الخ (تفسیر مظہری) ۔ لتکفرون میں لام تاکید کفر کے لئے ہے۔ اندادا : ند کی جمع ہے بمعنی مقابل ۔ برابر۔ ند اور مثل میں فرق یہ ہے کہ مثل عام ہے اس کا استعمال ہر قسم کی شرکت میں ہوتا ہے اور ند خاص ہے اور اس کا استعمال کسی شے کی ذات اور جوہر میں شرکت کے لئے ہوتا ہے۔ منصوب بوجہ مفعول ہے۔ ذلک رب العلمین : ذلک اسم اشارہ بعید اس کا مشار الیہ الذی خلق الارض فی یومین۔ ہے یعنی وہ ذات جس نے زمین کو دو روز میں پیدا کیا۔ رب العلمین مضاف مضاف الیہ۔ اس ذات کی صفت ہے۔ یعنی وہ ذات رب العالمین (تمام جہانوں کو پالنے والی) ہے۔ فائدہ : یہاں یومین (دو دن) میں یوم سے مراد وہ متعارف چوبیس گھنٹوں والا تو ہو نہیں سکتا۔ کہ یہ خود نتیجہ ہے حرکت ارض یا حرکت شمس کا اور بیان اس وقت کا ہو رہا ہے جب یہ چاند۔ سورج۔ زمین ۔ آسمان سرے سے موجود ہی نہ تھے۔ بلکہ مراد یہاں مطلق زمانہ ہے یعنی دو مختلف اوقات میں (ملاحظہ ہو تفسیر ماجدی حاشیہ نمبر 75 بر آیت 7:54 ۔ و آیت ہذا : 41:9)
Ayah 41:10

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اسی نے زمین میں اسکے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور اس میں سب سامان معیشت مقرر کیا (سب) چار دن میں (اور تمام) طلبگاروں کے لئے یکساں

(41:10) رواسی : راسیۃ کی جمع ہے بمعنی بوجھ۔ پہاڑ۔ رواسی کا استعمال ٹھہرے ہوئے پہاڑوں کے لئے آتا ہے۔ رسو (باب نصر) سے اسم فاعل واحد مؤنث راسیۃ اس بڑی دیگ کو کہتے ہیں جو ثقیل ہونے کی وجہ سے ایک ہی جگہ پڑی رہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے وقد ور راسیت (34:13) اور بھاری دیگیں جو چولہوں پر جمی رہتیں ۔ لہٰذا رواسی سے وہ پہاڑ مراد ہیں جو ایک ہی جگہ بوجہ بوجھ وحبثہ جمے رہیں۔ بارک : ماضی واحد مذکر غائب مبارکۃ (باب مفاعلۃ) مصدر۔ اس نے برکت دی۔ مطلب یہ کہ اس نے اس میں بڑی برکتیں (برکت والی چیزیں) رکھ دیں مثلا : آگ، پانی، ہوا۔ قدر۔ ماضی واحد مذکر غائب تقدیر (تفعیل) مصدر۔ مقدر کردیا۔ اندازے کے مطابق مقرر کردیا۔ تجویز کردیں۔ اقواتھا : اقوات کی ہے قوت کی جسکے معنی خوراک کے ہیں آیت ہذا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب ہر جگہ الارض کیلئے ہے۔ اقواتھا سے مراد اقوات اہلہا ہے (زمین پر رہنے والوں کی غذائیں) لہٰذا اقوات مضاف ہے اور اہلہا مضاف مضاف الیہ اقوات کا مفعول الیہ۔ فی اربعۃ ایام چار دن میں۔ یعنی یہ سب کچھ مزید دونوں میں کیا جو پہلے دو دنوں سے متصل ہیں۔ اس طرح تخلیق ارض کے دو آیام اور اس میں برکات واقوات مہیا کردینے کے دو ایام مل کر کل چار ایام ہوگئے۔ محاورہ میں کہا جاتا ہے میں بصرہ سے بغدار تک دو دن میں پہنچا اور کوفہ تک تین دن میں یعنی دو دن پہلے اور ایک دن مزید۔ سواء للسائلین : جملہ ماقبل فی اربعۃ ایام میں ایام پر وقف مطلق ہے۔ لہٰذا سواء للسائلین الگ جملہ ہے لیکن یہاں پہلا مضمون ختم نہیں ہوا۔ اور بات کہنے والا ابھی کچھ اور کہنا چاہتا ہے ۔ لا محالہ بات اسی موضوع کے متعلق ہی ہوگی جو پیچھے سے چلا آرہا ہے۔ بات برکات اور اقوات کی ہو رہی تھی لہٰذا اس جملہ کا مطلب اسی روشنی میں لیا جائے گا ۔ گومفسرین کے اس فقرہ کے متعلق اقوال ہیں لیکن اولیٰ یہی ہے کہ زمین میں ابتدائے آفرنیش سے لے کر قیامت تک جس جس قسم کی جتنی مخلوق بھی اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا تھا۔ ہر ایک کی مانگ اور حاجت کے مطابق غذا کا ٹھیک پورا سامان حساب لگا کر زمین کے اندر رکھ دیا ۔ یہاں سائلین سے مراد صرف انسان ہی نہیں بلکہ مختلف قسم کی وہ سب مخلوقات ہیں جنہوں زندہ رہنے کے لئے غذا کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا اس آیت سوشلسٹ نظام کی تائید کا استدلال بےمحل ہے۔
Ayah 41:11

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں

(41:11) ثم : حرف عطف ہے بمعنی پھر۔ یہ دو طرح مستعمل ہے (1) ماقبل سے مابعد کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے بروئے زمانہ ۔ اسے تراخی زمانی کہتے ہیں۔ (2) فرق مرتبہ کے لئے۔ (یعنی ادنی سے اعلیٰ کی طرف ترقی کو ظاہر کرنے کے لئے) تراخی رتبہ (تراخی، دیر، فاصلہ) ۔ ارض و سماء کی تخلیق و ترتیب کے بیان میں مفسرین نے ہر دو معانی اختیار کئے ہیں۔ اور اپنے اپنے قول کی تائید میں براہین و دلائل دے کر طویل بحث کی ہے ۔ یہاں اس لمبی چوڑی بحث سے اجتناب ہی بہتر سمجھا گیا ہے۔ استوی۔ مادہ سوی سے باب افتعال سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس نے قصد کیا۔ اس نے قرار پکڑا۔ وہ قائم ہوا۔ وہ سنبھل گیا۔ وہ سیدھا بیٹھا۔ جب اس کا تعدیہ علیٰ کے ساتھ ہو تو اس کے معنی چڑھنے ، قرار پکڑنے اور قائم ہونے کے آتے ہیں۔ مثلا واستوت علی الجودی (11:44) اور (کشتی کوہ) جودی پر جا ٹھہری۔ اور اگر تعدیہ الیٰ کے ساتھ ہو تو اس کے معنی قصد کرنے اور پہنچنے کے ہوتے ہیں مثلا ثم استوی الی السماء (آیت ہذا) پھر اس نے آسمان کا قصد کیا۔ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا۔ یستوی بمعنی برابر ہونا بھی ہے جیسے لایستوی اصحب النار واصحب الجنۃ (59:20) اہل دوزخ اور اہل بہشت برابر نہیں۔ نیز بمعنی سنبھلنا، درست ہونا اور سیدھا رہنا بھی ہے۔ مثلا فاستوی وھو بالافق الاعلی (53:6-7) پھر وہ سیدھا اور درست (یعنی اپنی اصلی صورت میں اور پوری طرح) بیٹھا اور وہ آسمان کے اونچے کنارے پر تھا۔ اور سنبھلنے کے معنی میں جیسے ولما بلغ اشدہ واستوی (28:14) اور جب وہ پہنچ گیا اپنی جوانی کو اور سنبھل گیا۔ یعنی پختہ طور پر جوان ہوگیا۔ وہی دخان : واؤ حالیہ ہے ہی ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے دخان دھواں۔ اس کی جمع ادخنۃ ہے۔ فقال لہا وللارض پھر اس نے آسمان اور زمین دونوں کو کہا۔ ائتیا : امر کا صیغہ تثنیہ مذکر حاضر اتیان مصدر سے۔ تم دونوں آؤ۔ تم دونوں حاضر ہوجاؤ۔ اتی مادہ۔ یعنی میں نے جو برکات ، خوبیاں یا صلاحیتیں تمہارے اندر پیدا کی ہیں ان سب کو بھرپور اپنے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے پیش کردو۔ جب جہاں اور جس طرح مشیت ایزدی ہے۔ طاعا او کرھا : خوشی سے یا زبردستی، الطوع کے معنی بطیب خاطر تابعدار ہوجانا۔ الکرہ ضد ہے الطوع کی۔ کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سرانجام دینا۔ طوعا وکرھا : یہاں ترکیب میں طائعین وکارھین کے مرادف ہیں۔ یعنی اگرچہ مصدر ہیں لیکن ان کا استعمال موقع حال پر ہوا ہے۔ وھما مصدر ان وقعا موقع الحال (بیضاوی) اور کشاف میں ہے : وانتصابھا علی الحال دونوں بوجہ حال منصوب ہیں اتینا طائعین۔ ہم بخوشی حاضر ہیں (تعمیل ارشاد کے لئے) اتینا ماضی کا صیغہ جمع متکلم۔ ہم آگئے ہیں۔ ہم حاضر ہیں۔ اگر اتیان مصدر کا تعدیہ باء کے ساتھ ہو تو لانے اور پہنچانے کے معنی ہوں گے۔ طائعین : طوع سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ اپنی خوشی سے کہا ماننے والے ۔ فرماں بردار۔ طائع واحد۔
Ayah 41:12

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس کے (کام) کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے مزین کیا اور (شیطانوں) سے محفوظ رکھا یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں

(41:12) فقضھن۔ فاء عاطفہ ہے جملہ ہذا کا عطف جملہ سابقہ ثم استوی الی السماء پر ہے۔ قضی : ای خلق اواتم او جعل : اس نے پیدا کر دئیے۔ اس نے مکمل کر دئیے۔ اس نے بنا دئیے۔ ھن ضمیر جمع مؤنث غائب ۔ السماء کی طرف راجع ہے ، جو یہاں بطور اسم جنس استعمال ہوا ہے اور بمعنی السموت ہے۔ سبع سموت : سبع اسم عدد قضی کا مفعول بہ سموت تمیز سبع کی۔ تقدیر کلام یوں ہے : قضی منھن سبع سموت : ای اتمھن سبع سموت اور ان کو مکمل سات آسمان بنادیا۔ واوحی : اس کا عطف فقضھن پر ہے۔ امرھا : مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع سماء ہے۔ اس کا کام ۔ ای اوحی الی اہلہا باوامرہ ونواہیہ اور ہر ایک آسمان کی مخلوق کے لئے احکام بھیج دئیے۔ وزینا السماء الدنیا۔ واؤ عاطفہ ہے زینا ماضی جمع متکلم تزئین (تفعیل) مصدر۔ ہم نے زینت دی۔ ہم نے مزین کیا۔ ہم نے سنوارا۔ السماء الدنیا موصوف وصفت مل کر زینا کا مفعول۔ الدنیا دانیۃ سے اسم تفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے اس کی جمع دنی ہے جس طرح کبری کی جمع کبر ہے السماء الدنیا۔ نزدیک ترین آسمان آسمان دنیا۔ مصابیح : مصابح کی جمع۔ قندیل ، لالٹین۔ چراغ۔ لیمپ۔ یہ جمع منتہی الجموع کے وزن پر ہونے کی وجہ سے قائم مقام دو سببوں کے ہے۔ لہٰذا غیر منصرف ہے بدیں وجہ ح پر بجائے کسرہ کے فتح لائی گئی ہے۔ مصابیح سے مراد یہاں ستارے کواکب ہیں۔ فائدہ : یہاں التفات ضمائر (واحد مذکر غائب سے جمع متکلم کی طرف) سموت اور ان کی تزئین کی عظمت کی وجہ سے ہے۔ وحفظا : واؤ عاطفہ ہے۔ حفظا فعل مقدرہ کا مفعول مطلق ہے ای حفظناھا حفظا۔ جملہ ہذا کا عطف جملہ سابقہ زینا السماء الدنیا پر ہے۔ اور ہم نے اس کو (آسمان دنیا کو) خوب محفوظ کردیا (ہر قسم کی بیرونی دخل اندازی و شکست وریخت سے) ۔ ذلک : اسم اشارہ بعید۔ یعنی یہ تمام چیزیں جن کا اوپر تفصیلی ذکر ہوا ہے زمین کی تخلیق اور اس میں اہل زمین کے لئے مناسب مقدار میں اقوات کی بہم رسانی ۔ تخلیق سماوات ان کی تزئین و تحفظ وغیرہ وغیرہ۔ تقدیر (یعنی نظام ارض و سماوات) مضاف ہے۔ العزیز مضاف الیہ ۔ ہمہ تواں۔ غالب۔ زبردست، قوی۔ العلیم۔ ہمہ دان ۔ بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ ہر دو ۔ العزیز، والعلیم فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں۔
Ayah 41:13

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو ایسی چنگھاڑ (کے عذاب) سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑ (کا عذاب آیا تھا)

(41:13) فان اعرضوا : پس اگر وہ (پھر بھی) روگردانی کریں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اتنے دلائل کے باوجود بھی اقرار توحید سے انکار اور اعراض کریں (جملہ شرطیہ ہے) ۔ فقل : فاء جواب شرط کے لئے ہے قل فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو آپ کہہ دیجئے۔ انذرتکم : انذرت ماضی کا صیغہ واحد متکلم۔ انذار (افعال) مصدر سے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں نے تم کو ڈرا دیا۔ یا ڈر سنا دیا۔ ڈر سے متنبہ کردیا ۔ صاحب ضیاء القرآن رقمطراز ہیں :۔ انذرت کا عام مفہوم اتنا ہی بیان کیا جاتا ہے کہ میں نے ڈرایا۔ حالانکہ نذر کے مادہ کا اطلاق اس ڈرانے پر ہوتا ہے جس میں کم از کم دو خصوصیتیں ہوں۔ (1) ایک تو وہ ڈرانا بروقت ہو۔ یوں نہیں کہ جب پتھر آسمان سے برسنے شروع ہوجائیں تو خطرہ کا الارم بجنے لگے۔ (2) دوسری بات یہ ہے کہ انذار سے مقصد صرف عذاب کی خبر دینا نہیں ہوتا ۔ بلکہ اصل مقصد اس شخص کی خیر خواہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچاؤ کا انتظام کرلے۔ لسان العرب میں ہے کہ :۔ عرب کہتے ہیں انذرت القوم مسیر العد والیہم فنذروا۔ ای علمتھم ذلک فعلموا وتحرزوا۔ یعنی میں نے قوم کو دشمن کے حملے سے خبردار کیا۔ پس انہوں نے اپنا بچاؤ کرلیا۔ صعقۃ۔ بادل کی اس شدید کڑک کو کہتے ہیں جس کے ساتھ بجلی بھی ہوتی ہے یہ اس کے لغوی معنی ہیں لیکن اس کا اطلاق ہر مہلک عذاب پر بھی ہوتا ہے خواہ اس کی نوعیت کسی بھی قسم کی ہو۔ صعقۃ : صعق یصعق (باب فتح) سے مصدر ہے۔ لازم اور متعدی دونوں طرح مستعمل ہے۔ (آسمانی) بجلی کا گرنا۔ (آسمان کا) بجلی گرانا۔ یا صعق یصعق (باب سمع) (گرج سے بیہوش ہوجانا ۔ مرجانا۔ سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے کڑک اور گرج کے ساتھ آسمان سے گرنے والی آگ۔ مہلک عذاب اس کی جمع صواعق ہے۔ قرآن مجید میں ہے فاخذتکم الصعقۃ (51:44) سو تم کو موت نے آپکڑا۔ اور آگ اور بجلی کی کڑک کے معنی میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ ویرسل الصواعق فیصیب بھا من یشاء (13:13) اور وہی بجلیاں (یا آگ) بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے۔ آیت ہذا (41:13) میں بمعنی سخت عذاب ہے۔ صعقۃ منصوب بوجہ مفعول ثانی انذرت کے ہے کم ضمیر جمع مذکر حاضر اس کا مفعول اول ہے۔ مثل صعقۃ عاد وثمود (میں تم کو ایسے سخت عذاب سے ڈراتا ہوں) جو قوم عاد وقوم ثمود کے عذاب کی مثل ہوگا۔ یہاں صعقۃ سے مراد وہ عذاب نہیں جو آسمان سے بجلی کی کڑک اور آگ کی صورت میں نازل ہوا ہو بلکہ اس سے مراد اس کی شدت و ہلاکت ہر دو صورتوں میں ایک جیسی تھی جیسے آگے آئیگا۔ قوم عاد پر عذاب تیز و تند سرد، دہشت ناک ، سرسراتی ہوئی سخت آندھی کی صورت میں مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک جاری رہا ۔ اور قوم ثمود پر ایک زبردست کلیجے پھاڑ دینے والی چنگھاڑ اور دل پاش پاش کردینے والے زلزلے کی صورت میں نازل ہوا تھا۔
Ayah 41:14

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اسکو نہیں مانتے

(41:14) اذ جاء تھم الرسل ۔۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ (1) یہ انذرتکم کا ظرف زمان ہے۔ (2) یہ الصاعقۃ الاولی کی صفت ہے۔ (3) یہ الصاعقۃ الاولی کی صفت ہے۔ (4) یہ صعقۃ عاد سے حال ہے۔ متعدد مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ من بین ایدیہم ومن خلفھم کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) آگے سے بھی اور پیچھے سے بھی یعنی رسول ہر طرف سے ان کے پاس پہنچے۔ یعنی ان کو ہر پہلو سمجھانے کی کوشش کی۔ اور ان کو راہ راست پر لانے کے لئے کوئی تدبیر اختیار کرنے میں کسر نہ اٹھا رکھی۔ ای اجتھدوا بھم واتو بجمیع الوجوہ۔ (2) ان کے پاس یکے بعد دیگرے رسول آتے رہے۔ یعنی رسولوں کی کثیر تعداد ان کو سمجھانے کے لئے بھیجی جاتی رہی۔ (3) آگے پیچھے سے مراد ہے گزرا ہوا زمانہ اور آنے والا زمانہ ۔ گزشتہ کافروں پر کیا گزرا۔ وہ بھی بتایا اور آئندہ آخرت میں ان پر کیسا عذاب ہوگا اس سے بھی ڈرایا۔ ؎ الا تعبدوا : ای ان لا تعبدوا۔ اس میں ان مصدریہ ہے لاتعبدو فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ کہ تم پوجامت کرو۔ الا اللّٰہ : اللّٰہ مستثنیٰ بحالت مفعول ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ فائدہ : الا تعبدوا الا اللّٰہ۔ یہ پندار تھا جس کو ذہن نشین کرانے کے لئے پیغمبران الٰہی قوم عاد وثمود کو مختلف دلائل وبراہین کے ساتھ کوشاں رہے۔ قالوا : یعنی قوم عاد وثمود نے جواب میں کہا۔ فانا بما ارسلتم بہ کفرون ۔ فائ۔ النتیجۃ السببیۃ ہے بما میں ما موصولہ ہے اور باء کفرون کے ساتھ ہے۔ کفرب۔ کسی چیز سے انکار کرنا ارسل ب کسی کو پیغام دے کر بھیجنا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما موصولہ ہے پس ہم اس پیغام سے منکر ہیں جسے دے کر تم بھیجے گئے ہو۔ فائدہ : آیت ہذا میں ذکر ہو رہا ہے عاد وثمود کا۔ لیکن آیت میں ان دونوں کے لئے بجائے تثنیہ کے صیغہ جمع کا استعمال کیا گیا ہے۔ مثلا جاء تھم۔ من بین ایدیھم ومن خلفھم۔ الا تعبدوا۔ قالوا۔ یہ اس لئے ہے کہ عاد وثمود سے مراد قوم عاد وثمود ہے لہٰذا تثنیہ پر جمع کا اطلاق کیا گیا ہے۔
Ayah 41:15

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے ؟ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے

(41:15) فاما : اما حرف شرط ہے اور اس کے حرف شرط ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد حرف فاء کا آنا لازم ہے۔ جیسا کہ آیت ہذا میں آیا ہے :۔ فاما عاد فاستکبروا۔ یہ اکثر تفصیل کے لئے آتا ہے جیسا کہ آیت ہذا میں ہے اور کبھی تاکید کے لئے بھی مستعمل ہوتا ہے جہاں تک عاد کی بات ہے سو۔ رہا عاد کا ذکر سو ۔۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ اما السفینۃ فکانت لمسکین (18:79) ۔ رہی کشتی کی بات سو وہ غریب لوگوں کی تھی کبھی ابتداء کلام کے لئے آتا ہے مثلا اما بعد فانہ کذا۔ فاستکبروا :جواب شرط کے لئے ہے۔ استکبروا ماضی جمع مذکر غائب استکبار (استفعال) مصدر۔ انہوں نے تکبر کیا۔ گھمنڈ کیا۔ غرور کیا۔ بغیر الحق : ناحق ۔ بغیر استحقاق کے۔ بندوں کے لئے استکبار تو ہمیشہ ہی ناجائز ہے۔ بغیر الحق کے اضافہ نے بتادیا کہ ان لوگوں کے پاس استکبار کی کوئی بنیاد ان کے معیار سے بھی نہ تھی۔ (الماجدی) من اشد مناقوۃ : من استفہامیہ ہے۔ کون ۔ اشد افعل التفضیل کا صیغہ ہے شدۃ مصدر سے۔ اسدمنا ہم سے زیادہ سخت ہم سے قوی تر۔ قوۃ تمیز ہے یعنی بلحاظ قوت کے۔ ازروئے قوت کے ۔ یہ جملہ استفہام انکاری ہے یعنی ہم سے زیادہ طاقت ور کوئی نہیں ہے اولم یروا۔ یعنی کیا انہوں نے نہیں جانا۔ یہ بھی استفہام انکاری ہے اور فعل محذوف پر عطف ہے یعنی کیا انہوں نے یہ بات کہی اور یہ نہ جانا کہ ۔۔ وکانوا بایتنا یجحدون۔ اس جملہ کا عطف فاستکبروا پر ہے۔ کانوا یجحدون : ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ وہ انکار کرتے رہے۔ جحد و جحود مصدر (باب فتح) انکار کرنا۔ الجحود : الانکار مع العلم جان بوجھ کر انکار کرنا۔ بایتنا ہماری آیات سے، ہمارے معجزات سے۔ مطلب یہ کہ وہ ناحق تکبر و گھمنڈ کرنے لگے اور ہماری آیات سے انکار کرتے رہے
Ayah 41:16

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ انکو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور (اس روز) انکو مدد بھی نہ ملے گی

(41:16) ریحا صرصرا : موصوف و صفت۔ منصوب بوجہ مفعول ارسلنا متحرک ہوا جو کہ زمین و آسمان کے درمیان مسخر ہے اسے ریح کہتے ہیں ۔ بوکو بھی ریح کہتے ہیں۔ کیونکہ کسی چیز کی بو ہوا ہی کے ذریعہ ہی ناک تک پہنچتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ انی لاجد ریح یوسف (12:94) میں یوسف کی بو پا رہا ہوں۔ اور کبھی اس کا استعمال غلبہ کے لئے بھی ہوتا ہے۔ مثلا وتذھب ریحکم (8:46) اور تمہاری ہوا ہی جاتی رہے گے۔ یعنی تمہارا غلبہ ختم ہوجائے گا۔ یہ روح یا ر ی ح مادہ سے ہے اور ارواح وریاح آتی ہے۔ مفردات القرآن میں ہے : عام طور پر جن مواضع میں ارسال الریح صیغہ مفرد کے ساتھ مذکور ہے ۔ چناچہ ریح کے متعلق فرمایا : فارسلنا علیہم ریحا (33:9) تو ہم نے ان پر آندھی چلائی۔ اور ریاح جمع کے لفظ کے متعلق فرمایا :۔ ان یرسل الریاح مبشرات (30:46) کہ وہ ہواؤں کو اس غرض سے بھیجتا ہے کہ لوگوں کو بارش کی خوشخبری پہنچائیں۔ صرصرا : امام راغب (رح) رقمطراز ہیں :۔ ریحا صرصرا میں صرصر کا لفظ صر سے ہے جس کے معنی باندھنے کے ہیں۔ اور صرۃ اس تھیلی کو کہتے ہیں جس میں نقدی باندھ کر رکھ دی جاتی ہے گویا سخت سرد ہونے کی وجہ سے اس میں بستگی پائی جاتی ہے۔ لسان العرب میں ہے کہ :۔ شدیدۃ البرد وقیل شدیدۃ الصوت (صرصر) سخت ٹھنڈی ہوا کو کہتے ہیں اور سخت شور مچانے والی ہوا کو بھی۔ لہٰذا ریحا صرصرا سے مراد سناٹے کی ٹھنڈی ہوا۔ ہوائے تندوتیز و سخت سرد۔ ایسی تیز آندھی جس میں سخت سردی اور شور کرنے والی آواز بھی ہو (تفسیر مظہری) ۔ اپنے موصوف ریحا کی رعایت سے منصوب ہے۔ فی ایام نحسات لنذیقہم : ایام نحسات موصوف و صفت۔ منحوس دنوں میں۔ نحسات۔ نحوسۃ کی جمع ہے منحوس دن۔ یعنی جو ان کے حق میں سخت منحوس واقع ہوئے۔ دن تو سب مبارک ہیں مگر برے عملوں کی وجہ سے عذاب کا سبب بن گئے۔ اس لئے ان کو یوم منحوس سے تعبیر کیا ۔ لنذیقہم : میں لام تعلیل کا ہے نذیق مجارع کا صیغہ جمع متکلم۔ ھو ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تاکہ ہم ان کو چکھائیں۔ اذاقۃ (افعال) مصدر سے۔ اخزی : افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ رسوا۔ زیادہ شرمسار۔ خزی رسوائی ، ذلت۔ لاینصرون : مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ مدد نہیں کئے جائیں گے۔ ان کی مدد نہیں کی جائے گی (عذاب سے بچانے کے لئے) ای بدفع العذاب عنہم۔
Ayah 41:17

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا راستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنا پسند کیا تو انکے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا اور وہ ذلت کا عذاب تھا

(41:17) واما ثمود : رہی ثمود کی بات (ملاحظہ ہو آیت 41:15 متذکرۃ الصدر۔ فھدینھم : فاء جواب شرط کے لئے ہے۔ ھدینا ماضی جمع متکلم ای بینالہم طریقی الرشد والضلالۃ۔ ہم نے ان کے لئے راست روی اور گمراہی ہر دو کے طریقے واضح کر دئیے۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد ہے باری تعالیٰ کا :۔ وھدینہ النجدین (90:10) اور ہم نے اس کو (خیر وشر کے) دونوں راستے بھی دکھا دئیے۔ فاستحبوا العمی علی الھدی۔ ای اختاروا الکفر علی الایمان۔ ان العمی الکفر۔ یعنی انہوں نے ایمان کے مقابلہ میں جہالت اور کفر کو پسند کیا۔ العمی بمعنی کفر ہے۔ العمی عمی یعمی (باب سمع) سے مصدر ہے۔ اندھا پن ۔ اندھا ہونا ۔ فاخذتھم۔ اس میں فاء سببیہ ہے۔ یعنی انہوں نے اندھے پن کو ہدایت کے مقابلہ میں اختیار کیا اور بدیں سبب ان کے عذاب نے آپکڑا۔ فائدہ : قرآن مجید میں قوم ثمود کے عذاب کو مختلف الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ مثلا (1) صعقۃ : جس کے لگوی معنی ہیں۔ بادل کی وہ شدید کڑک جس کے ساتھ بجلی بھی گرے۔ لیکن اس کا اطالق ہر مہلک عذاب پر بھی ہوتا ہے خواہ اس کی نوعیت کسی قسم کی ہو۔ (41:13-41:17) (2) صیحۃ : چیخ، کڑک۔ چنگھاڑ۔ چونکہ زور کی آواز سے آدمی گھبرا اٹھتا ہے اس لئے بمعنی عذاب اور گھبراہٹ کے بھی مستعمل ہے ۔ (11:94:15:83-18:31) (3) الرجفۃ : زلزلہ۔ بھونچال۔ اضطراب شدید۔ (7:87) (4) تدمیر : ہلاک کرنا۔ تباہی ڈالنا۔ اکھاڑ مارنا۔ (27:51) (5) الطاغیۃ : حد سے تجاوز کرنا۔ (قوت میں ہلاکت میں) (69:5) (6) دمدمۃ : تباہی ڈالنا۔ ہلاکت دینا۔ (91:14) (7) العذاب : (26:158) ومعنی ھذہ العبارات کلہا راجع الیٰ شیء واحد، وھو ان اللّٰہ ارسل علیہم صیحۃ اہلکتھم والصیحۃ الصوت المزجع المہلک۔ ان تمام عبارات کے معنی کا مرجع ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان (قوم ثمود) پر صیحۃ نازل فرمائی جس نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ اور الصیحۃ وہ آواز ہے جو مضطرب کر دے اور ہلاک کر ڈالے۔ صعقۃ العذاب الھون : صعقۃ مضاف، العذاب الھون موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ۔ صعقۃ کڑک۔ بجلی کی کڑک۔ نیز ملاحظہ ہو (41:13) متذکرۃ الصدر۔ الھون (باب فتح) سے مصدر۔ ذلت۔ رسوائی ، خواری۔ عذاب کو مصدر سے وصف مبالغہ کے لئے کیا گیا ہے۔ گویا عذاب عین رسوائی اور ذلت تھا۔ ترجمہ آیت کا ہوگا :۔ تو ایک سخت عذاب کی کڑک نے ان کو آپکڑا اور یہ عذاب سراپا ذلت و رسوائی تھا۔ بما کانوا یکسبون : باء سببیہ۔ ما موصولہ۔ کانوا یکسبون ۔ ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر غائب ۔ کسب مصدر (باب ضرب) بہ سبب ان کرتوتوں کے جو دہ کیا کرتے تھے۔ نجینا۔ ای نجینا من تلک الصعقۃ اور ہم نے اس کڑک سے یا اس کڑک والی آفت سے بچا لیا۔ نجینا۔ تنجیۃ (تفعیل) مصدر سے ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہم نے نجات دی۔ ہم نے بچا لیا۔
Ayah 41:18

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے ان کو ہم نے بچا لیا

(41:18) وکانوا یتقون۔ واؤ عاطفہ ہے۔ اور کانوا یتقون ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر غائب ، اور وہ ہم سے ڈرتے رہتے تھے۔
Ayah 41:19

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کر لئے جائیں گے

(41:19) ویوم : واؤ عاطفہ ہے اور اس کا عطف قل انذرتکم صعقۃ آیت 13 متذکرہ بالا۔ پر ہے۔ یوم منصوب بوجہ فعل مقدرہ کے مفعول ہونے کے ہے۔ ای اذکر یوم : اور (ان کو) یاد دلائیے وہ دن کہ ۔۔ یا یہ یحشر کا مفعول فیہ (ظرف زمان) ہے۔ یحشر ۔۔ الی : مضارع مجہول واحد مذکر غائب ۔ جمع کرکے لے جائے جائیں گے۔ فہم یوزعون فاء تفصیلیہ ہے (یعنی فاء ترتیب ذکری جو مفصل کو مجمل پر عطف کرنے کو کہتے ہیں ۔ اس کی مثال : ونادی نوح ربہ فقال رب ۔۔ الآیۃ (11:45) الاتقان جلد اول نوع چالیسویں الفائ۔ یوزعون : مضارع مجہول واحد مذکر غائب وزع مصدر (باب فتح) ان کو جمع کیا جائے گا۔ وزع کے اصل معنی ہیں روک دینا۔ اور وزع الجیش (غیر ترتیبی اور انتشار سے روک کر) فوج کو ترتیب وار صفوں میں رکھنا ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے وحشر لسلمین جنودہ من الجن والانس والطیر فہم یوزعون (27:17) اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور وہ قسم وار کئے گئے تھے۔ بعض نے یوزعون کے یہ معنی کئے ہیں کہ لشکر کا اگلا حصہ پچھلے کی خاطر رکا رہتا تھا۔ آیت ہذا میں بھی دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف (لیجائے جانے کے لئے) جمع کئے جائیں گے پھر روکے جائیں گے (تاکہ باقی لوگ بھی آجائیں) اور ترتیب وار کر لئے جائیں گے۔
Ayah 41:20

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور چمڑے (یعنی دوسرے اعضاء) ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے

(41:20) حتی۔ یہاں تک (انتہایا غایت کے لئے ہے) اذاما : میں ما زائدہ ہے تاکید کے لئے آیا ہے۔ جب۔ جاء وھا : ھا ضمیر واحد مؤنث غائب النار (دوزخ) کے لئے ہے۔ جاء وھا : ای حضروھا (یہاں تک کہ جب) وہ اس کے قریب (دوزخ کے قریب) جا پہنچیں گے۔ شھد علیہم۔ وہ ان کے خلاف شہادت دیں گے۔
Ayahs 41:21–22

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور وہ اپنے چمڑوں (یعنی اعضاء) سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی ؟ وہ کہیں گے کہ جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی گویائی دی اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم اس (بات کے خوف) سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے بلکہ تم یہ خیال کرتے تھے کہ خدا کو تمہارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں

(41:21) لم یہ لفظ مرکب ہے لام تعلیل اور ما استفہامیہ سے۔ ما کے الف کو تخفیفاً ساقط کردیا گیا ہے۔ کیوں ؟ کس لئے ؟ کس وجہ سے ؟ انطقنا : انطق ماضی واحد مذکر غائب۔ انطاق (افعال) مصدر گویائی عطا کرنا۔ بولنے کی قابلیت عطا کرنا۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم، اس نے ہم کو قوت گویائی عطا کی۔ نطق مادہ۔ وھو خلقکم اول مرۃ والیہ ترجعون ۔ یہ جملہ اعضاء کے کلام کی جزء بھی ہوسکتا ہے اور جملہ مستانفہ (ابتدائیہ، نیا) بھی ہوسکتا ہے اس کے بعد جو کلام آرہا ہے اس میں بھی یہ دونوں احتمال جائز ہیں۔
Ayah 41:23

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے

(41:23) ذلکم۔ یہ۔ یہی۔ اسم اشارہ بعید۔ مبتدائ۔ ظنکم الذی ظننتم بربکم : ظنکم مضاف مضاف الیہ۔ الذی ظننتم بربکم : ظن کی نعمت۔ سارا جملہ ذلک سے مبدل منہ ہے۔ اردکم مبتداء کی خبر۔ اردی یردی ارداء (افعال) مصدر بمعنی ہلاک کرنا۔ غارت کرنا۔ ر د ی مادہ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ترجمہ :۔ تمہارے اسی گمان نے جو تم اپنے رب کے بارے میں کیا کرتے تھے تمہیں غارت کردیا۔ فاصبحتم۔ فاء سببیہ ہے یعنی بسبب اس گمان کے جس نے تمہیں ہلاک کر ڈالا تم (گھاٹا پانے والوں میں سے) ہوگئے۔
Ayah 41:24

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

اب اگر یہ صبر کریں گے تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے اور اگر یہ توبہ کریں گے تو انکی توبہ قبول نہیں کی جائے گی

(41:24) فان یصبروا فالنار مثوی لہم : ان شرطیہ ہے اور فالنار میں فاء جواب شرط کے لئے ہے یصبروا کے بعد اولا تصبروا کلام مقدرہ ہے یعنی وہ صبر کریں یا نہ کریں آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے۔ ان یستعتبوا : ان شرطیہ ہے۔ یستعتبوا مضارع مجزوم کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے ۔ استعتاب (استفعال) مصدر بمعنی طلب اعتاب ، یعنی ناراضگی کو دور کرنے کی طلب ای طلب العتبی۔ یعنی اگر وہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے کوئی عذر پیش کریں گے (تو ان کی معذرت قبول نہ ہوگی) نیز ملاحظہ ہو 16:84 المعتبین : اسم مفعول جمع مذکر المعتب واحد عتب ومعتبۃ اسم ومصدر ناراضگی۔ ناراض ہونا۔ اعتاب (افعال) مصدر سے ہے ناراضگی کا اظہار کرنا۔ یا (باعتبار سلب مادہ) ناراضگی کو دور کرنا۔ منانا۔ رضا مندی حاصل کرنا۔ جن سے ناراضغی کو دور کیا گیا ہو۔ یعنی جن کی معذرت قبول کرکے ناراضگی دور کردی گئی ہو۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور اگر وہ اس وقت (یعنی روز قیامت) اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کی خاطر کوئی عذر پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول ہوکر ناراضگی دور نہیں کی جائے گی یعنی وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکیں گے۔
Ayah 41:25

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے (شیطانوں) کو ان کا ہم نشین مقرر کردیا تھا تو انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے اعمال ان کو عمدہ کر دکھائے تھے اور جنات اور انسانوں کی جماعتیں جو ان سے پہلے گزر چکیں ان پر بھی خدا (کے عذاب) کا وعدہ پورا ہوگیا بیشک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں

(41:25) قیضنا۔ ماضی جمع متکلم تقییض (تفعیل) مصدر۔ قیض مادہ۔ قیض کے معنی انڈے کا بالائی چھلکا۔ چھلکا انڈے کے ساتھ چسپاں ہوتا ہے اس مناسبت سے تقییض کے معنی ہوئے ساتھ لگا دینا۔ پیچھے لگا دینا۔ مسلط کردینا۔ یعنی ہم نے ان کے ساتھ لگا دیا۔ چمٹا دیا۔ یا مسلط کردیا۔ قرناء جمع اس کا واحد قرین ہے۔ ہمنشین، ساتھ رہنے والے۔ ساتھی وہم قرناء ہم من الشیطین علی التحقیق۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے شیاطین جن و انس میں سے بعض کو ان پر بطور ساتھیوں کے لگا رکھا تھا۔ جو ان کو راہ راست سے بھٹکائے رکھتے اور کفر و معاصی کو مزین کرکے ان کو دکھاتے تھے۔ ای ان اللّٰہ تعالیٰ سلط علی الکفرین قرناء من الشیاطین یضلونھم عن الھدی ویزینون لہم الکفر والمعاصی۔ زینوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تزین (تفعیل) مصدر۔ انہوں نے مزین کردیا۔ انہوں نے اچھا کرکے دکھایا۔ ما بین ایدیہم : جو ان کے سامنے تھا۔ یعنی من امور الدنیا دنیاوی کرتوتیں۔ اور وما خلفہم اور جو ان کے بعد تھا۔ یعنی امور الاخرۃ۔ صاحب مظہری رقمطراز ہیں :۔ ما بین ایدیہم سے مراد ہیں دنیوی چیزیں اور خواہشات کا اتباع۔ اور ما خلفھم سے مراد امر آخرت یعنی شیطانوں نے ان کو دنیا کا شیفتہ بنادیا اور آخرت کے انکار اور دوسری زندگی کی تکذیب کی دعوت دی۔ وحق علیہم القول : حق علی لازم ہونا۔ واجب ہونا۔ القول۔ کلمۃ العذاب : کلمہ عذاب اللہ تعالیٰ کا وہ قول جو اس نے شیطان کے بارے میں فرمایا تھا :۔ قال فالحق والحق اقول ۔ لاملئن جھنم منک و ممن تبعک منھم اجمعین (38: 84-85) (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا :۔ سچ ہے اور میں بھی سچ کہتا ہوں کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔ مطلب یہ کہ ان پر کلمہ عذاب متحقق ہوگیا۔ ثابت ہوگیا۔ یا واجب ہوگیا اور لازم ہوگیا۔ فی امم : فی بمعنی مع ہے ان قوموں کی طرح (جو ان سے قبل گزرچکی ہیں) یا منجملہ ان امتوں کے (جو ان سے پہلے گزر چکیں قدخلت : ماضی قریب واحد مؤنث غائب کا صیغہ خلو مصدر (باب نصر) وہ گزرگئی۔ یہاں یہ صیغہ امم (جمع) کے لئے آیا ہے یعنی وہ امتیں جو گزر چکیں ان سے پہلے۔ من الجن والانس : امم کی تعریف ہے یعنی جنوں اور انسانوں کی امتیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور منجملہ جن و انس کی ان امتوں کے جو ان سے پہلے گزر چکیں ان پر بھی فیصلہ عذاب چسپاں ہوکر رہا یا صادر ہوکر رہا۔ انھم کانوا خسرین : بیشک وہ سب نقصان اٹھانے والے تھے۔ اس میں ضمیر جمع مذکر غائب ہم کا مرجع حق علیہم القول۔ اور امم ہے۔
Ayah 41:26

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور کافر کہنے لگے کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور (جب پڑھنے لگیں تو) شور مچا دیا کرو تاکہ تم غالب رہو

(41:26) الذین کفروا سے مراد کفار مکہ اور مشرکین قریش ہیں۔ الغوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ لغو (باب نصر، سمع، فتح) سے مصدر۔ تم لغو باتیں کرو، فضول بےمعنی شور مچاؤ۔ بےہودہ بکواس کرو لغوا۔ بےہودہ۔ بےمعنی بات جو کسی شمار میں نہ ہو۔ اور جو سوچ سمجھ کر نہ کی جائے۔ فیہ : فی حرف جار ہے یہاں ظرفیت کے معنی دیتا ہے۔ ہ ضمیر کا مرجع قرآۃ قرآن ہے۔ یعنی جب قرآن پڑھا جائے تو تم اس وقت فضول بکواس اور شور و غوغا مچانا شروع کر دو ۔ یا فیہ بمعنی بہ ہے۔ تغلبون : مضارع جمع مذکر حاضر غلبۃ مصدر (باب ضرب) تم غالب آجاؤ، تم چھا جاؤ۔
Ayah 41:27

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

سو ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کے مزے چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی جو وہ کرتے تھے سزا دیں گے

(41:27) فلنذیقین : فاء بمعنی فواللّٰہ۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ نذیقن جمع متکلم مضارع تاکید بانون ثقیلہ۔ اذاقۃ (افعال) مصدر۔ ہم ضرور ضرور چکھائیں گے۔ الذین کفروا۔ اس کی بجائے محض ضمیر ہم سے کام لیا جاسکتا تھا۔ اور اس سے مراد وہ لوگ ہوئے جنہوں نے لغویات چیخنے چلانے کے لئے کہا اور جنہوں نے ان کے کہنے پر عملا بکواس کی ای لاغین والامرین باللغو لیکن بجائے ضمیر کے اسم ظاہر دو باتوں کی وجہ سے استعمال کیا :۔ (1) ان لوگوں کے کفر کی اس سے تصدیق ہوگئی ۔ اور (2) حکم میں عموم آگیا۔ یہ حکم ان کافروں کے لئے بھی ہوگیا اور دوسرے کافروں کے لئے بھی۔ عذابا شدیدا۔ موصوف و صفت مل کر فلنذیقین کا مفعول ثانی۔ الذین مفعول اول ہے۔ لنجزینھم : لام تاکید کا ہے۔ نجزین مضارع تاکید بانون ثقیلہ ۔ صیغہ جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم ضرور ضرور ان کا بدلہ دیں گے۔ یا سزا دیں گے۔ اسوا الذی کانوا یعملون : اسوأ (سوء برا ہونا) سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے سب سے برا۔ ہم ان کے سب سے برے عمل کی ان کو سزا دیں گے۔ یعنی کفر کی۔ یا ہم ان کو ان کے برے اعمال کی سزا دیں گے۔ اسوا بمعنی ایسے اعمال جو فی نفسہ برے ہوں۔
Ayah 41:28

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ خدا کے دشمنوں کا بدلہ ہے (یعنی) دوزخ ان کے لئے اسی میں ہمیشہ کا گھر ہے یہ اس کی سزا ہے کہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے

(41:28) ذلک جزاء اعداء اللّٰہ النار۔ ذلک اشارہ ہے اس عذاب و سزا کی طرف جو آیہ سابقہ میں مذکور ہوئی ہے۔ مبتدا جزاء اعداء اللّٰہ : جزاء مضاف اعداء اللہ مضاف مضاف الیہ مل مضاف الیہ، خبر النار ۔ جزاء کا عطف بیان ہے یا مبدل منہ۔ یہ ہے سزا اللہ کے دشمنوں کی یعنی آگ (دوزخ جزاء بما کانوا بایتنا یجحدون : جزاء بوجہ مفعول مطلق فعل مقدر کے منصوب ہے ای یجزون جزاء ، بما میں باء سببیہ ہے ما موصولہ کانوا یجحدون : ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر غائب ان کو سزا دی گئی بسبب اس کے کہ وہ ہماری آیات (قرآن) کا انکار کیا کرتے تھے۔
Ayah 41:29

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا کہ ہم ان کو اپنے پاؤں کے تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ نہایت ذلیل ہوں

(41:29) ارنا الذین اضلنا : ار فعل امر واحد مذکر حاضر ، اراء ۃ (افعال) مصدر نا ضمیر جمع متکلم تو ہمیں دکھا۔ الذین الذی کا تثنیہ اسم موصول بحالت نصب۔ (وہ دو مرد) جنہوں (نے) اضلنا۔ اضلال (افعال) سے ماضی کا صیغہ تثنیہ مذکر غائب ہے۔ نا ضمیر جمع متکلم (ن) دونے ہمیں بہکایا یا گمراہ کیا۔ (تثنیہ کا صیغہ دو اشخاص کے لئے بھی آسکتا ہے اور دو گروہوں کے لئے بھی یعنی یہ بہکانے والے شیطان سیرت خواہ انسان میں سے ہوں یا جنات میں سے (ان کو ہمارے سامنے لے آ) نجعلہا : مضارع جمع متکلم مجزوم بوجہ جواب امر۔ ھما ضمیر مفعول تثنیہ مذکر غائب ہم ان دونوں کو کریں (اپنے قوموں کے نیچے) یعنی ان کو اپنے قدموں کے نیچے روند ڈالیں۔ اسفلین : اسفل کی جمع۔ اسفل افعل التفضیل کا صیغہ ہے بمعنی سب سے نیچا۔ اعلیٰ کی ضد ہے۔ فروترین، کہترین۔ ذلیل ترین، السفل بمعنی پست ہونا۔ حقیر ہونا۔
Ayah 41:30

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ

(41:30) ثم استقاموا : ثم تراخی وقت کے لئے بھی ہوسکتا ہے (التراخی الزمانی) کہ اقرار باللسان کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ استقامت میں بھی برقرار رہے۔ اور التراخی الرتبی کے لئے بھی ہوسکتا ہے کہ استقامت بہ نسبت اقرار باللسان کے زیادہ بلند اور مشکل امر ہے۔ یعنی زبانی اقرار کے بعد مسلسل اپنے قول اور فعل اور فرائض کی ادائیگی سے اس اقرار کو مستقل اور ثابت رکھے۔ استقاموا۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ استقامۃ (استفعال) مصدر وہ ثابت قدم رہے۔ وہ قائم رہے ای ثبتوا علی الاقرار ولم یرجعوا الی التشرک یعنی اپنے اقرار پر ثابت قدم رہے اور شرک کی طرف دوبارہ نہ مڑے۔ حدیث شریف میں ہے قل ربی اللّٰہ تعالیٰ ثم استقم : کہو اللہ تعالیٰ میرا پروردگار ہے اور پھر اس پر قائم رہو۔ تتنزل علیہم : تتنزل مضارع واحد مؤنث غائب وہ (فرشتوں کی جماعت) اترتی ہے۔ نازل ہوتی ہے تنزل (تفعل) مصدر سے جس کے معنی اترنے کے ہیں۔ الا مرکب ہے ان اور لا سے یہاں (1) ان مفسرہ ہے کیونکہ تتنزل کے اندر قول کا معنی پوشیدہ ہے۔ (2) یہاں ان مصدریہ ہے یعنی امر آخرت جو تمہارے سامنے آرہا ہے اس کا اندیشہ نہ کرو۔ لا ہر دو صورت میں نافیہ ہے۔ لا تخافوا۔ تم مت ڈرو۔ ولا تحزنوا اور تم غم مت کرو۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ ابشروا فعل امر جمع مذکر حاضر ابشار (افعال) مصدر سے جس کے معنی بشارت پانے کے ہیں۔ تم کو خوشخبری ہو۔ توعدون : مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ وعد مصدر۔ کنتم سے اس کے معنی ماضی استمراری کے ہوگئے۔ یعنی (جس جنت کا) تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ایۃ میں ان حرف مشبہ بالفعل۔ الذین اسم ام اور تتنزل خبر ان۔
Ayah 41:31

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی (تمہارے رفیق ہیں) اور وہاں جس (نعمت) کو تمہارا جی چاہے گا تم (کو ملے گی) اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے (موجود ہوگی)

(41:31) فیہا : ای فی الجنۃ۔ جنت میں۔ ما تشتھی : ما موصولہ ہے تشتہی مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب اشتھاء (افتعال) مصدر۔ یہاں واحد مؤنث کا صیغہ انفسکم (تمہاری جانیں، تمہارے دل۔ تمہارے جی) کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یعنی جسے تمہارے جی پسند کریں گے۔ یا۔ چاہیں گے ما تدعون : ما موصولہ۔ تدعون جمع مذکر حاضر مضارع معروف۔ ادعاء (افتعال) مصدر۔ جس کے معنی دعوی کرنے یا آرزو کرنے کے ہیں۔ یعنی تمہارے لئے وہاں ہر وہ چیز ہوگی جو تم مانگو گے یا جس کی تم آرزو کرو گے۔
Ayah 41:32

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

(یہ) بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے

(41:32) نزلا۔ اسم۔ مہمانی کا کھانا۔ طعام ضیافت۔ النزول کے اصل معنی ہیں بلند جگہ سے نیچے اترنا۔ چناچہ محاورہ ہے نزل عن دابتہ وہ سواری سے اتر پڑا۔ انزل باب افعال کسی کو بطور مہمان اتارنا۔ یا بطور مہمان ٹھہرانا۔ مہمانی کرنا۔ منزل اترنے کی جگہ مہمان خانہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فنزل من حمیم (56:93) (تو اس کے لئے) کھولتے پانی کی ضیافت ہے۔ کتاب کا منجانب اللہ نازل کیا جانا۔ وحی کا نازل ہونا۔ عذاب یا مصیبت کا نازل ہونا سب اسے مادہ (نزل) سے ہیں۔ نزلا حال ہے ما تدعون سے بدیں وجہ منصوب ہے۔
Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس شخص سے بات کا اچھا کون ہوسکتا ہے جو خدا کی طرف بلائے اور عمل نیک کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں ؟

(41:33) ومن احسن قولا : من سوالیہ ہے۔ احسن افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ قولا تمیز ہے احسن سے۔ قول کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔ اس شخص کے قول سے کس کا قول بہتر ہوسکتا ہے یا ہوگا۔ یہ جملہ استفہام انکاری ہے یعنی اس سے بہتر قول والا کوئی نہیں ہوسکتا۔ ممن۔ مرکب ہے من (حرف جر) اور من (اسم موصول) سے ۔ یعنی اس شخص سے دعا الی اللّٰہ ۔۔ الخ صلہ۔ جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا۔ بعض کے نزدیک اس دعوت الی اللہ سے مراد اذان ہے۔ پھر من دعا الی اللّٰہ سے متعلق متعدد اقوال ہیں :۔ (1) محمد بن سیرین اور سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد رسول کریم ﷺ کی ذات مبارک ہے۔ (2) حسن کے نزدیک ہر وہ مومن مراد ہے جس نے اللہ کی طرف دعوت دی۔ (3) اور حضرت ابو امامہ نے فرمایا کہ اس سے مراد مؤذن (اذان دینے والا) ہے۔
Ayah 41:34

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے

(41:34) لاتستوی مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ برابر نہیں ہوگی۔ برابر نہیں ہے۔ استواء (افتعال) مصدر۔ ولا السیئۃ میں لا نفی تاکید کے لیے آیا ہے۔ یہ لام زائدہ ہے محض نفی کی تاکید کے لئے آیا ہے مثلا اور جگہ قرآن مجید میں ہے وما یستوی الاعمی والبصیر ۔ ولا الظلمت ولا النور ۔ ولا الظل ولا الحرور ۔ (35:19-20) اور برابر نہیں اندھا اور آنکھ والا۔ اور نہ اندھیرا اور روشنی اور نہ سایہ اور دھوپ۔ ادفع۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو دفاع کر، تو تدارک کر۔ تو دور کر۔ احسن یہاں احسن (صیغہ اسم تفضیل) سے حسن اضافی یعنی بدی سے زیادہ اچھا ہونا مراد نہیں کیونکہ بدی بہرحال جدی ہے اس میں اچھائی ہوتی ہی نہیں نہ کم نہ زیادہ ۔ بلکہ احسن سے فی نفسہ زیادہ خوبی والی خصلت مراد ہے۔ علامہ پانی پتی اس آیت کی یوں تشریح فرماتے ہیں :۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا :۔ حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی غصہ کرے تو اس کے مقابلہ میں صبر کیا جائے اور کوئی جہالت کرے تو تحمل کیا جائے۔ اور کوئی بدسلوکی کرے تو معاف کیا جائے۔ بعض علماء نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ بدیاں سب ایک درجہ کی نہیں ہوتیں اسی طرح نیکیوں کے مراتب بھی مختلف ہوتے ہیں اب اگر کوئی دشمن کوئی بدی کرے تو اس کے مقابلہ میں بہترین اعلیٰ درجہ کی نیکی سے کام لیا جائے ۔ مثلا اگر کسی نے تمہارے ساتھ بدسلوکی کی ہو تو درگزر کرنا چاہیے۔ (یہ ایک درجہ کی نیکی ہے) لیکن اگر بدی کے عوض دشمن سے بہترین سلوک کیا جائے تو یہ احسن ہے۔ فاذ الذی ۔۔ حمیم : یہ نتیجہ ہے اس دفاع کا جس کا اوپر حکم ہوا ہے یعنی اگر تم بدی کا تدارک نیکی سے کرو گے تو تمہارا دشمن تمہارا درست بن جائے گا۔ فاء ترتیب کے لئے ہے اذا مفاجاتیہ ہے۔ فاذا۔ تولو۔ پس جونہی تم بدی کا بدلہ نیکی سے دو گے تمہارا دشمن تمہارے گہرے دوست کی طرح بن جائے گا۔ الذی بینک وبینہ عداوۃ وہ شخص جس کے اور تمہارے درمیان عداوت تھی۔ اس سارے جملہ کی بجائے عدوک (تمہارا دشمن) بھی استعمال ہوسکتا تھا لیکن یہ زیادہ بلیغ ہے لہٰذا باوجود عدوک کے اختصار کے اسے اختیار کیا گیا۔ کانہ : کان حرف مشبہ بالفعل ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ گویا وہ۔ ولی حمیم : گہرا دوست۔ جگری دوست۔
Ayah 41:35

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ بات انہیں لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں اور ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں

(41:35) مایلقھا۔ مضارع منفی مجہول واحد مذکر غائب ۔ تلقیۃ (تفعیل) مصدر وہ نہیں عطا کی جائے گی۔ لقی یلقی تلقیۃ ۔۔ فلان الشیء کوئی چیز کسی کی طرف پھینکنا دینا۔ عطا کرنا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وانک لتلقی القرآن (27:6) اور تم کو قرآن عطا کیا جاتا ہے۔ لقی مادہ۔ ذوحظ عظیم : ذو مضاف حظ عظیم موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ حظ حصہ ۔ نصیب۔ خوش قسمتی۔ ذوحظ عظیم بڑا خوش نصیب، یعنی جس کو تجلیات ذاتی و صفاتی کا بڑا حصہ ملتا ہے اسی کو یہ اعلیٰ خصلت عطا ہوتی ہے نفس پر جب اعلیٰ صفات جلوہ پاش ہوجاتی ہیں تو بری صفات نکل جاتی ہیں۔
Ayah 41:36

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر تمہیں شیطان کی جانب سے کوئی وسوسہ پیدا ہو تو خدا کی پناہ مانگ لیا کرو بیشک وہ سنتا (اور) جانتا ہے

(41:36) اما : ان شرطیہ اور ما زائدہ سے مرکب ہے۔ اگر ینزغنک مضارع واحد مذکر غائب بانون تاکید ثقیلہ ۔ نزغ (باب فتح) سے مصدر جس کے معنی عیب لگانا۔ لفظ کے ذریعے طعن و تشنیع کرنا۔ لوگوں کے درمیان فساد ڈالنا۔ برائی پر اکسانا کے ہیں۔ نزغ بینھم ان کے درمیان فساد ڈال دیا۔ وسوسہ پیدا کردیا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ مطلب یہ ہے کہ اگر شیطان کی طرف سے آپ کے دل میں وسوسہ پیدا ہو اور انتقام لینے پر اور برائی کے عوض برائی کرنے پر شیطان آپ کو ابھارے۔ فاستعذ باللّٰہ۔ فاء جواب شرط کے لئے ہے استعذ : فعل امر واحد مذکر حاضر۔ استعاذۃ (استفعال) بمعنی پناہ مانگنا۔ تو تو (اس کے شر سے) پناہ مانگ۔ سورة اعراف (7) کی آیت (200) میں بھی یہی آیت مذکور ہے۔
Ayah 41:37

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور رات اور دن اور سورج اور چاند اسکی نشانیوں میں سے ہیں تم لوگ نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ خدا ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم کو اس کی عبادت منظور ہے

(41:37) من ایتہ : من تبعیضیہ ہے۔ منجملہ اس کی نشانیوں میں سے۔ خلقھن ھن ضمیر جمع مؤنث غائب کا مرجع لیل و نہار، شمس و قمر چاروں ہی ہیں یا یہ ضمیر ایتہ کی طرف راجع ہوسکتی ہے۔ واسجدوا للّٰہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون ۔ یہاں سجدہ سے مراد عام اصطلاحی سجدہ اسلامی نماز کا مراد نہیں ہے بلکہ عام عبادت و پرستش مقصود ہے۔ ان کنتم ایاہ تعبدون اگر تمہیں صرف اسی کی عبادت کرنا مقصود ہے۔ جملہ شرطیہ جس کی جزاء مقدم ہے۔ الخازن فرماتے ہیں :۔ ان ناسا کانوا یسجدون للشمس والقمر والکواکب ویزعمون ان سجودھم لھذہ الکواکب ھو سجود للّٰہ عزوجل فنھوا عن السجود لھذہ الوسائط وامروا بالسجود للّٰہ الذی خلق ھذہ الاشیاء کلہا : لوگ، سورج چاند اور ستاروں کی پرستش کیا کرتے تھے ان کے خیال میں ان ستاروں کی پرستش خدا کی پرستش ہے ان کو ان واسطوں کی پرستش سے روکا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ صرف اللہ ہی کی پرستش کریں۔ جس نے ان تمام اشیاء کو پیدا کیا ہے۔
Ayah 41:38

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو خدا کو بھی انکی پرواہ نہیں جو (فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (کبھی) تھکتے ہی نہیں

(41:38) فان استکبروا : ان شرطیہ ہے۔ استکبروا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ استکبار (استفعال) مصدر بمعنی گھمنڈ کرنا۔ غرور کرنا۔ اگر پھر بھی وہ اپنے غرور پر اڑے رہیں۔ اس کے بعد اجزاء شرط محذوف ہے ای فلا یخل ذلک لعظمۃ ربک (ان کے اس فعل سے) تیرے رب کی عظمت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ (جزاء کے قائم مقام جزاء کی علت کو ذکر کیا گیا ہے) فالذین میں فاء تعلیل کی ہے یعنی ان کے استکبار سے خدا کی عظمت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ اس کی عظمت کے لئے تو کسی مخلوق کی عبادت کی بھی ضرورت نہیں لیکن اگر بالفرض عبادت گزاروں ہی کا ذکر ہے تو وہ ملائکہ مقربین جو اپنے مرتبہ و منزلت میں ان مستکبرین سے بدر جہا اعلیٰ وارفع ہیں اور ان گنت تعداد میں ہیں اس کی حمد و ثنا ہیں رات دن مشغول ہیں اور نہ تھکتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں۔ الذین اسم موصول جمع مذکر۔ عند ربک ای فی حضرۃ قدسہ عزوجل : جو رب العزت کی بارگاہ میں رہتے ہیں ۔ وہم لایسئمون : جملہ حالیہ ہے اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ کبھی (اس کی تسبیح سے) تھکتے نہیں ہیں۔ لایسئمون ۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ سأمۃ وسأم (باب سمع) مصدر سے س ء م مادہ۔ السامۃ کے معنی کسی چیز کے زیادہ عرصہ تک تہنے کی وجہ سے اس سے کبیدہ خاطر یا دل برداشتہ ہوجانا کے ہیں۔ اور یہ فعلا (کسی کام کو زیادہ عرصہ کرنے) اور انفعالا (کسی چیز سے زیادہ متاتر ہونے) دونوں طرح ہوتا ہے۔ اول الذکر کی مثال آیت ہذا ہے۔ ثانی الذکر کی مثال قول شاعر ؎ سئمت تکالیف الحیوۃ ومن یعش ثمانین حولا لا ابالک یسئام میں زندگی کی ناخوشگواریوں سے اکتا چکا ہوں۔ ہاں جو شخص اسی سال کی عمر کو پہنچ جائے وہ لامحالہ اکتاہی جاتا ہے۔