41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 41:1–3

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

یہ کلام ہے نازل کیا گیا ہے رحمن رحیم کی طرف سے

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

یہ کتاب ہے جس کی آیتیں مفصل طریقہ پر بیان کی گئی ہیں یعنی یہ قرآن ہے جو عربی ہے ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں،

قرآن کی آیات مفصل ہیں، وہ بشیر ہے اور نذیر ہے، منکرین اس سے اعراض کرتے ہیں حٰمٓ یہ حروف مقطعات میں سے ہے اس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے اس کے بعد دو آیتوں میں قرآن مجید کی صفات بیان فرمائی، اول یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے جو رحمن ہے اور رحیم ہے یعنی بہت بڑا مہربان ہے بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے اس کی رحمت کا تقاضا ہوا کہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے کتاب نازل فرمائے دوم یہ کہ قرآن ایسی کتاب ہے جس کی آیات مفصل ہیں یعنی خوب صاف صاف بیان کی گئی ہیں سوم یہ فرمایا کہ یہ قرآن کی آیات ہیں جو عربی ہے اس کے اولین مخاطب اہل عرب ہیں اس کا سمجھنا ان کے لیے آسان ہے اور فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے چونکہ بہت اعلیٰ ہے اس لیے بطور معجزہ اہل عرب پر اس کے ذریعہ حجت قائم ہوچکی ہے اب جو شخص ایمان نہ لائے گا اپنا برا کرے گا یوں تو قرآن سب ہی کو حق کی دعوت دیتا ہے اور سب ہی پر اس کا ماننا اور اس پر ایمان لانا فرض ہے لیکن اہل علم ہی اس سے مستفید اور منتفع ہوتے ہیں اس لیے (لِقَوْمٍ یَعْلَمُوْنَ ) فرمایا چہارم (بَشِیرًا وَّنَذِیرًا) فرمایا کہ قرآن اپنے ماننے والوں کو بشارت دینے والا ہے اور منکرین کو ڈرانے والا ہے اس کے بعد لوگوں کی رو گردانی کا تذکرہ فرمایا باوجود یہ کہ قرآن اپنے ماننے والوں کو بشارت دینے والا ہے اور منکرین کو ڈرانے والا ہے اس کے بعد لوگوں کی رو گردانی کا تذکرہ فرمایا باوجود یہ کہ قرآن خوب اچھی طرح واضح طور پر بیان فرماتا ہے بشیر بھی ہے اور نذیر بھی اکثر لوگ اس کی طرف سے اعراض یعنی رو گردانی کرتے ہیں اور ساری سنی ان سنی کردیتے ہیں گویا کہ انہوں نے سنا ہی نہیں اسی کو فرمایا (فَاَعْرَضَ اَکْثَرُھُمْ فَہُمْ لاَ یَسْمَعُوْنَ ) اور نہ صرف یہ کہ ایمان نہ لائے اور جو کچھ سنا تھا اس کی طرف متوجہ نہ ہوئے بلکہ رسول اللہ ﷺ سے خطاب کرکے یوں کہنے لگے کہ ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے تمہاری دعوت نہ ہمارے کان سننے کو تیار ہیں اور نہ ہمارے دلوں کو اس کا قبول کرنا گواراہ ہے اور مزید یوں کہا کہ تم اگرچہ حسی اور جسمانی طور پر قریب ہو لیکن حقیقت میں ہمارے اور تمہارے درمیان بعد ہے اور پردہ ہے جو کچھ کہو ہم سننے اور ماننے والے نہیں ان لوگوں نے یہ بھی کہا (فَاعْمَلْ اِِنَّنَا عَامِلُوْنَ ) کہ آپ اپنا عمل کرتے رہیں ہم اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہیں گے اس میں یہ بھی داخل ہے کہ تمہارا کاٹ کریں گے یہ کہہ کر دعوت حق سننے اور قبول کرنے سے بالکل ہی انکاری ہوگئے۔ ان لوگوں نے جو یہ کہا کہ ہمارے دلوں پر پردے ہیں اور کانوں میں ڈاٹ ہے چونکہ اس سے اصرار علی الکفر مقصود تھا اس لیے (وَ جَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ اَکِنَّۃً اَنْ یَّفْقَھُوْہُ وَفِیْٓ اٰذَانِھِمْ وَقْرًا) اس کے منافی نہیں ہے جس میں جَعْلُ الْاَکِنَّۃِ عَلَی الْقُلُوْبِ کی نسبت اللہ جل شانہٗ کی طرف کی گئی ہے۔
Ayahs 41:4–6

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہے، سو ان میں سے اکثر لوگوں نے اعراض کیا سو وہ لوگ نہیں سنتے،

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا جس چیز کی طرف ہمیں بلاتے ہیں اس کے بارے میں ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ ہے، اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے، سو تم کام کیے جاؤ بیشک ہم کام کرنے والے ہیں۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے میں تو تمہارے ہی جیسا بشر ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے لہٰذا تم ٹھیک طریقہ پر اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور اس سے استغفار کرو، اور ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو شرک کرنے والے ہیں

آپ فرما دیجیے میں تمہارے ہی جیسا بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے، مشرکین کے لیے ہلاکت ہے اور اہل ایمان کے لیے ثواب ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا قرآن کے مخاطبین جو یہ کہتے تھے کہ ہم تمہیں کیسے اللہ کا نبی مانیں تم تو ہماری ہی طرح کے آدمی ہو اس کا جواب دے دیا کہ میں ہوں تو تمہارے ہی جیسا آدمی لیکن مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی فضیلت اور خصوصیت عطاء فرمائی ہے جو تم میں نہیں ہے اور وہ یہ کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت سے نوازا ہے چونکہ میں اللہ تعالیٰ کا پیغمبر ہوں اس لیے میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی بات پہنچاتا ہوں تمہارا معبود ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ شانہٗ جس نے سب کو پیدا فرمایا عقل صحیح کا بھی تقاضا ہے کہ خالق تعالیٰ شانہٗ کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے حکموں کو مانیں اور ہر طرح کی کجی اور بےراہی اور ٹیڑھے پن سے دور رہا جائے تم سیدھی راہ چلو اللہ تعالیٰ کو واحد مانو اور صحیح طریقہ پر اس کا دین اختیار کرو اور یہ نہ سمجھو کہ ہماری بخشش کیسے ہوگی، شرک اور کفر ہے تو بہت بڑی بغاوت لیکن جب کوئی کافر اور مشرک توبہ کرلے یعنی کفر اور شرک کو چھوڑ کر ایمان قبول کرلے تو پچھلا سب کچھ معاف ہوجاتا ہے لہٰذا تم ایمان قبول کرو اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو۔ اس کے بعد مشرکین کی ہلاکت اور بربادی بیان فرمائی (وَوَیْلٌ لِّلْمُشْرِکِیْنَ ) اور بربادی ہے مشرکوں کے لیے
Ayah 41:7

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں،

(الَّذِیْنَ لاَ یُؤْتُوْنَ الزَّکَٰوۃَ ) (جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے) نماز کی تو کیا پابندی کریں گے جو بڑا کام ہے وہ تو مال خرچ نہیں کرسکتے جو معمولی چیز ہے ہاتھ کا میل ہے بخل ان پر مسلط ہے (وَھُمْ بالْآخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ) اور وہ آخرت کے منکر ہیں۔ بعض حضرات نے (لاَ یُؤْتُوْنَ الزَّکَٰوۃَ ) کا معروف معنی نہیں لیا لغوی معنی لے کر اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ وہ اپنے نفسوں کو شرک سے پاک نہیں کرتے اور ایمان سے متصف نہیں ہوتے اس کے بعد اہل ایمان کا ثواب بتایا (اِِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔
Ayahs 41:8–9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے اجر ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے۔

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کیا تم ایسی ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا فرمایا اور تم اس کے لیے شریک تجویز کرتے ہو وہ سارے جہانوں کا رب ہے،

زمین و آسمان کی تخلیق کا تذکرہ، ان دونوں سے اللہ تعالیٰ کا خطاب، اور ان کا فرمانبرداری والا جواب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کی دعوت دی ہے اور شرک کی شناعت اور قباحت بیان فرمائی نیز آسمان اور زمین کے پیدا فرمانے اور آسمان اور زمین سے متعلقہ امور بیان فرمائے۔ ارشاد فرمایا کیا تم اس ذات پاک کی توحید کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا فرما دیا اتنی بڑی زمین کا وجود سمجھدار عقلمند انسان کے لیے یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اس کا پیدا فرمانے والا وحدہ لا شریک ہے اس کی توحید کے قائل ہونے کی بجائے تم نے یہ کر رکھا ہے کہ اس کے لیے شریک ٹھہرا دئیے جنہیں تم اس کے برابر سمجھتے ہو انہوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ خود پیدا فرمانے والے کے پیدا کرنے سے وجود میں آئے ہیں وہ اپنے خالق کا برابر اور ہمسر اور شریک اور مقابل کیسے ہوسکتا ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے جس ذات پاک نے زمین کو پیدا فرمایا ہے وہ سارے جہانوں کا مالک ہے اور پروردگار ہے تم اور تمہارے باطل معبود اسی خالق جل مجدہٗ کی مخلوق اور مملوک ہیں۔ خالق کائنات جل مجدہ نے صرف زمین ہی کو پیدا نہیں فرمایا زمین میں طرح طرح کی چیزیں پیدا فرمائیں دیکھو اس نے زمین کے اوپر بوجھل اور بھاری پہاڑ پیدا فرما دئیے اور زمین میں برکت رکھ دی۔ صاحب روح المعانی ارشاد فرماتے ہیں : (قدر سبحانہ ان یکثر خیرھا بان یکثر فیھا النباتات و انواع الحیوانات التی من جمل تھا الانسان) (یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین میں خیر و برکت رکھ دی اور وہ اس طرح سے کہ اس میں طرح طرح کے نباتات اور حیوانات پیدا فرما دئیے جاندار چیزوں میں انسان بھی ہے۔ زمین میں غذائیں بھی رکھ دیں جو انسان اور حیوانوں کے کام آتی ہیں یہ غذائیں زمین سے نکلتی ہیں نیز اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے پھل میوے سبزیاں اور دیگر کھانے کی چیزیں پیدا فرمائیں اور پہلے سے تجویز فرما دیا کہ کتنی کتنی چیزیں پیدا ہوں گی اور کہاں کہاں کس کس علاقہ میں پائی جائیں گی اور کس کے حصہ میں کتنی خوراک آئے گی (فی روح المعانی بین کمی تھا واقدارھا وقال فی الارشاد ای حکم بالفعل بأن یوجد فیما سیأتی لاھلھا من الانواع المختلفۃ اقواتھا المناسبۃ لھا علی مقدار معین تقتضیہ الحکمۃ) (روح المعانی میں ہے کہ روزی کی مقدار و اندازہ واضح فرما دیا اور الارشاد میں ہے یعنی بالفعل حکم دے دیا کہ اہل زمین کے لیے مختلف انواع کی روزی جو ان کے مناسب ہوگی حکم کے مطابق معین مقدار میں موجود رہے گی۔ )
Ayah 41:10

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اس نے زمین میں پہاڑ بنا دئیے، جو اس کے اوپر موجود ہیں اور اس نے زمین میں برکت دی، اور اس نے زمین میں اس کی غذائیں مقرر کردیں چار دن میں، یہ پورے ہیں پوچھنے والوں کے لیے،

(فِیْ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍ ) یہ مذکورہ کام چار دن میں ہوئے یعنی دو دن میں زمین پیدا فرمائی اور دو دن میں پہاڑوں کی پیدائش فرمائی اور برکت کا رکھ دینا اور روزیوں کا مقرر فرمانا ہوا چونکہ دیگر آیات میں آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان چیزوں کی تخلیق چھ دن بتائی ہے اس لیے مفسرین کرام نے مذکورہ بالا تفسیر اختیار کی ہے دو دن زمین کے پیدا فرمانے کے اور دو دن دوسری چیزوں کے (جو مذکور ہوئیں) اور دو دن آسمانوں کی تخلیق کے جن کا ذکر ابھی آتا ہے۔ انشاء اللہ۔ (سَوَاءً لِّلَسَّاءِلِیْنَ ) یہ پورے چار دن ہیں پوچھنے والوں کے لیے۔ تفسیر درمنثور میں بحوالہ حاکم اور بیہقی حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بارے میں سوال کیا آپ نے انہیں جواب دیا پھر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی اور اس کے آخر میں فرمایا (سَوَاءً لِلَسَّاءِلِیْنَ ) کہ یہ چار دن ہیں پورے ان لوگوں کے جواب میں جو سوال کرنے والے ہیں۔
Ayah 41:11

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی اس حال میں کہ وہ دھواں تھا سو اس نے آسمان اور زمین سے فرمایا تم دونوں خوشی سے آؤ یا زبردستی سے، دونوں نے عرض کیا کہ ہم خوشی کے ساتھ حاضر ہیں،

اس کے بعد آسمانوں کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا (ثُمَّ اسْتَوٰی اِِلَی السَّمَآءِ وَھِیَ دُخَانٌ) (الآیتین) پھر آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور وہ اس وقت دھواں تھا یعنی اس کا مادہ دخان کی صورت میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا فرمایا اور زمین اور آسمان دونوں سے فرمایا کہ تم دونوں کو ہمارے حکم کے مطابق آنا لازم ہوگا خوشی سے آؤ یا زبردستی سے، یعنی ہمارے احکام تکوینیہ جو تم دونوں میں جاری ہوں گے ان کے مطابق ہی تمہیں رہنا لازم ہوگا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ (طَوْعًا اَوْ کَرْھًا) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے جو تمہارے اندر تاثیر ہوگی اسی کے مطابق ہوگا تم اس کے خلاف نہیں کرسکتے اور یہ مقصد نہیں ہے کہ انہیں ماننے نہ ماننے کا اختیار دے دیا (قَالَتَا اَتَیْنَا طَاءِعِیْنَ ) آسمانوں اور زمین دونوں نے عرض کیا کہ ہم خوشی کے ساتھ فرمانبرداری کے لیے حاضر ہیں۔
Ayah 41:12

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

سو اس نے دو دن میں سات آسمان بنا دئیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب حکم بھیج دیا، اور ہم نے قریب والے آسمان کو ستاروں سے زینت دے دی اور حفاظت کی چیز بنا دی یہ تقدیر ہے عزیز کی علیم کی۔

(فَقَضَاھُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ ) (سو اللہ تعالیٰ نے دو دن میں سات آسمان بنا دئیے) (وَاَوْحٰی فِیْ کُلِّ سَمَاءٍ اَمْرَھَا) (اور ہر آسمان میں اس کے مناسب اپنا حکم بھیج دیا) یعنی جن فرشتوں سے جو کام لینا تھا وہ ان کو بتادیا۔ (وَزَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِمَصَابِیحَ وَحِفْظًا) (اور ہم نے قریب والے آسمان کو ستاروں سے زینت دی اور ان ستاروں کو حفاظت کا ذریعہ بنا دیا) شیاطین اوپر کی باتیں سننے کے لیے اوپر جاتے ہیں تو یہ ستارے انہیں مارتے ہیں جیسا کہ سورة الملک کی آیت (وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنَاھَا رُجُوْمًا للشَّیَاطِینِْ ) میں بیان فرمایا ہے۔ (ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ ) (یہ تقدیر ہے یعنی طے کردہ امر ہے اس ذات پاک کی طرف سے جو عزیز یعنی زبردست ہے اور علیم ہے۔ ) سورۂ بقرہ کی آیت (ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا) ان سب کو ملانے سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے زمین کا مادہ بنایا اور اس کے اوپر بھاری پہاڑ پیدا فرما دئیے پھر سات آسمان بنا دئیے جو بنانے سے پہلے دھوئیں کی صورت میں تھے اس کے بعد زمین کے مادہ کو موجودہ صورت میں پھیلا دیا۔ قریش کے انکار وعناد پر رسول اللہ ﷺ کا آیات بالا پڑھ کر سنانا قرطبی ص 328: ج 15 میں لکھا ہے کہ ایک دن قریش نے آپس میں یوں کہا جن میں ابو جہل بھی تھا کہ محمد ﷺ کا معاملہ ہمارے لیے اشکال کا باعث بن گیا ہے (واضح طور پر ہم اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں) تم ایسا کرو کہ ایسے شخص کو تلاش کرو جو شاعر بھی ہو اور کاہن بھی اور ساحر بھی، ایسا شخص ان کے پاس جائے اور گفتگو کرکے واپس آئے اور ہمیں واضح طور پر بتادے کہ ان کے دعویٰ کی کیا حقیقت یہ سن کر عتبہ بن ربیعہ نے کہا کہ اللہ کی قسم میں کہانت اور شعر اور سحر تینوں سے واقف ہوں اگر ان تینوں میں سے کوئی چیز ہوگی تو مجھے پتہ چل جائے گا اور ان لوگوں نے کہا کہ اچھا تم محمد ﷺ کے پاس جاؤ اور بات چیت کرو۔ عتبہ بن ربیعہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے محمد آپ بہتر ہیں یا قصی بن کلاب ؟ آپ بہتر ہیں یا ہاشم ؟ آپ بہتر ہیں یا عبد المطلب ؟ آپ بہتر ہیں یا عبد اللہ ؟ (مطلب یہ تھا کہ یہ آپ کے آباؤ اجداد ہیں آپ ان کے دین کو باطل بتاتے ہیں) آپ ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اور ہمارے باپ دادوں کو گمراہ بتاتے ہیں اور ناسمجھ بتاتے ہیں اور ہمارے دین کو برا کہتے ہیں ان سب باتوں سے آپ کا مقصد کیا ہے اگر آپ سردار بننا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو سردار بنا لیتے ہیں جب تک آپ زندہ رہیں اور اس کے اظہار اور اعلان کے لیے جھنڈے کھڑے کردیتے ہیں اور اگر آپ کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی شادی ہوجائے تو ہم قریش کی دس لڑکیوں سے آپ کا نکاح کردیتے ہیں جنہیں آپ چاہیں اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو ہم آپ کے لیے اتنا مال جمع کردیں گے کہ اس کی وجہ سے آپ اور آپ کے بعد آنے والے آل اولاد سب کو بےنیاز کردیں گے اور اگر یہ بات ہے کہ جو کچھ آپ کی زبان سے نکلتا ہے یہ جنات کا کوئی اثر ہے تو بتا دیجیے ہم مال جمع کریں گے اور آپ کا علاج کرا دیں گے، رسول اللہ ﷺ یہ سب باتیں خاموشی کے ساتھ سنتے رہے جب عتبہ اپنی باتیں کہہ چکا تو آپ نے فرمایا کہ اے ابو ولید تو اپنی باتوں سے فارغ ہوگیا ؟ (ابو الولید عتبہ کی کنیت تھی) عتبہ نے کہا کہ ہاں میں کہہ چکا ! آپ نے فرمایا سن ! کہنے لگا سنائیے آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر سورة حم السجدۃ پڑھنا شروع کیا اور (فَاِِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ ) تک پڑھتے چلے گئے آپ یہاں تک پہنچے تھے کہ عتبہ کود پڑا اور آپ کے منہ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا اور اللہ کی قسم دی کہ آپ خاموش ہوجائیں اس کے بعد وہ اپنے گھر چلا گیا اور قریش کی مجلس میں نہ آیا بو جہل نے اس سے کہا کیا تو بےدین ہو کر محمد ﷺ کی طرف ڈھل گیا یا تجھے محمد ﷺ کا کھانا پسند آگیا، یہ سن کر عتبہ غصہ ہوگیا اور اس نے قسم کھائی کہ محمد ﷺ سے کبھی بھی بات نہ کروں گا۔ اس کے بعد عتبہ نے کہا اللہ کی قسم تم جانتے ہو کہ میں قریش میں سب سے زیادہ مال والے لوگوں میں سے ہوں (مال یا طعام کی وجہ سے میں خاموش نہیں ہوا) لیکن بات یہ ہے کہ جب میں نے محمد ﷺ سے گفتگو کی انہوں نے جو مجھے جواب دیا اس سے میں نے یہ سمجھ لیا کہ نہ وہ شعر ہے، نہ کہانت ہے نہ جادو ہے۔ اس کے بعد عتبہ نے (مِّثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ ) تک آیات سنا دیں جو رسول اللہ ﷺ سے سنی تھیں اور اس نے بتایا کہ میں نے ان کا منہ پکڑلیا اور قسم دی کہ آگے نہ پڑھیں، سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے عتبہ نے مزید کہا کہ تم جانتے ہو کہ محمد ﷺ نے جب کبھی بھی کوئی بات کہی ہے جھوٹ نہیں بولا میں ڈر گیا کہ تم لوگوں پر عذاب نازل نہ ہوجائے۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عتبہ بن ربیعہ کے سامنے سورة حم سجدہ کے شروع سے آیت سجدہ تک تلاوت کی، عتبہ کان لگا کر سنتا رہا آنحضرت ﷺ نے جب قرأت ختم کردی تو فرمایا اے ابو الولید تو نے سن لیا جو میں نے کہا آگے تو جانے (یا تو ایمان لائے یا نہ لائے، عذاب میں گرفتار ہو تو ہوجائے۔ ) عتبہ آنحضرت ﷺ کے پاس سے اٹھا اور قریش کی مجلس میں پہنچا وہ اس کی صورت دیکھتے ہی کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ! ابو ولید کا رخ بدلا ہوا ہے یہ دوسرا چہرہ لے کر آیا ہے اس کے بعد عتبہ سے قریش نے کہا اے ابو الولید تو کیا خبر لایا ؟ کہنے لگا اللہ کی قسم محمد ﷺ سے میں نے ایسا کلام سنا ہے کہ اس جیسا کبھی نہیں سنا میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ نہ شعر ہے نہ کہانت ہے لہٰذا اس مسئلہ میں تم میری بات مان لو محمد کو ان کے حال پر چھوڑ دو ﷺ اور انہیں کچھ نہ کہو اللہ کی قسم میں سمجھتا ہوں کہ ان کی باتوں کا ضرور چرچا ہوگا۔ اگر اہل عرب نے ان کو ختم کردیا تو دوسروں کے ذریعہ تمہارا کام چل جائے گا اور اگر محمد ﷺ بادشاہ بن گئے یا ان کی نبوت کا مظاہرہ ہوگیا تو تمہیں اس کی سعادت پوری طرح نصیب ہوجائے گی کیونکہ ان کا ملک تمہارا ہی ملک ہوگا اور ان کا شرف تمہارا ہی شرف ہے یہ سن کر قریش کہنے لگے۔ اے ابو الولید محمد ﷺ نے تجھ پر جادو کردیا ہے عتبہ نے کہا کہ یہ میری رائے ہے آگے تم جو چاہو کرو۔
Ayah 41:13

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر اگر وہ اعراض کریں تو آپ فرما دیجیے کہ میں تمہیں ایسی آفت سے ڈراتا ہوں جیسی آفت عاد وثمود پر آئی

حق سے اعراض کرنے والوں کو تنبیہ اور تہدید عاد وثمود کی بربادی کا تذکرہ ان آیات میں قرآن کریم کے مخاطبین کو تنبیہ فرمائی ہے کہ تمہارے سامنے واضح طور پر دلائل آچکے ہیں نشانیاں دیکھ چکے ہو ان سب کے باوجود پھر بھی اعراض کرتے ہو ایمان نہیں لاتے لہٰذا سمجھ لو کہ عذاب آجائے گا تم سے پہلے ایسی امتیں گزری ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا پھر ان کو عذاب نے آدبایا، عاد وثمود دو قومیں گزر چکی ہیں انہوں نے اپنے اپنے رسول کی تکذیب کی پھر مبتلائے عذب ہوئے اور ہلاک ہوئے ان پر جو عذاب کی مصیبت آئی میں تمہیں اس جیسی آفت سے ڈراتا ہوں، اللہ تعالیٰ کے پیغمبر (علیہ السلام) ان کے پاس آئے انہوں نے ان کو توحید کی دعوت دی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہ لوگ دلیل سے دین توحید کی تردید نہ کرسکے اور حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی شخصیات پر اعتراض کرنے لگے، کہنے لگے کہ تم تو آدمی ہو جیسے ہم ویسے تم اگر اللہ تعالیٰ کو رسول بھیجنے ہی تھے تو کیا اس کے لیے تم ہی رہ گئے ہو اگر وہ چاہتا تو فرشتوں کو رسول بنا کر بھیج دیتا تم جو یہ کہتے ہو کہ ہم اللہ کے پیغمبر ہیں اور ایسے ایسے احکام لے کر آئے ہیں اور توحید کی دعوت ہمارا کام ہے ہم ان سب باتوں کے منکر ہیں۔ یہ تو دونوں قوموں کی مشترکہ باتیں تھیں اب الگ الگ بھی ان کا حال سنیں قوم عاد بڑے ڈیل ڈول والے تھے انہیں اپنی قوت اور طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا اس کی وجہ سے انہوں نے تکبر کی راہ اختیار کی اور بڑے غرور کے ساتھ کہنے لگے کہ (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ) (کہ وہ کون ہے جو طاقت میں ہم سے بڑھ کر ہے) انسان کے بےوقوفی دیکھو کہ وہ دنیا میں اموال و اولاد اور قوت اور طاقت پر گھمنڈ کرلیتا ہے اور تکبر میں آکر بڑی بڑی باتیں کہہ جاتا ہے فرض کرو موجودہ مخلوق میں کوئی بھی مقابل نہ ہو تو جس نے پیدا فرمایا اس کی قوت تو بہرحال سب سے زیادہ ہے اور بہت زیادہ ہے ان لوگوں نے اپنے خالق تعالیٰ شانہٗ پر نظر نہ کی اور تکبر کی بات کہہ دی ان کی اس بیوقوفی کو ظاہر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَہُمْ ھُوَ اَشَدُّ مِنْہُمْ قُوَّۃً ) (کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ طاقت کے اعتبار سے بہت زیادہ ہے جس نے انہیں پیدا فرمایا۔ ) (وَّکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ ) (اور یہ لوگ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے) واضح دلائل دیکھتے ہوئے اور جانتے بوجھتے انہوں نے حق سے منہ موڑا اور اس کے قبول کرنے سے انکار کیا۔
Ayahs 41:14–16

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جبکہ ان کے پاس ان کے آگے سے اور پیچھے سے رسول آئے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے نازل فرما دیتا سو بلاشبہ ہم اس چیز کے منکر ہیں جو تم دے کر بھیجے گئے ہو،

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

پھر وہ لوگ جو عاد والے تھے انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور کہنے لگے کہ قوت میں ہم سے زیادہ کون ہے کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس ذات نے انہیں پیدا فرمایا وہ قوت میں ان سے زیادہ ہے اور وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے،

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

سو ہم نے ان کے اوپر منحوس دنوں میں تیز ہوا بھیج دی تاکہ ہم انہیں دنیا والی زندگی میں ذلت کا عذاب چکھا دیں، اور یہ بات واقعی ہے کہ آخرت کا عذاب اس سے بڑھ کر رسوائی والا ہے اور ان کی مدد نہ کی جائے گی،

(فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ ریحًا صَرْصَرًا) (سو ہم نے ان پر تیز ہوا بھیج دی) (فِیْ اَیَّامٍ نَحِسَاتٍ ) (منحوس دنوں میں) (لِنُذِیقَہُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا) (تاکہ انہیں دنیا والی زندگی میں ذلت کا عذاب چکھائیں) اور اسی عذاب پر بس نہیں ان کے لیے آخرت میں بھی عذاب ہے اور وہ اس دنیا والے عذاب سے بڑھ کر زیادہ ذلت اور رسوائی والا ہوگا (وَھُمْ لاَ یُنْصَرُوْنَ ) اور وہاں ان کی مدد نہ کی جائے گی یہ جو مال و دولت اور افرادو اولاد پر گھمنڈ ہے سب دھرا رہ جائے گا سورة الحاقہ میں فرمایا ہے (سَخَّرَھَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمَانِیَۃَ اَیَّامٍ حُسُومًا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعَی کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ ) (قوم عاد پر جو تیز ہوا بھیجی تھی وہ سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط فرما دی تھی سو اے مخاطب تو اس قوم کو اس طرح گرا ہوا دیکھتا کہ گویا وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں) یہ لوگ بڑے ڈیل ڈول والے تھے اپنی قوت پر گھمنڈ کیے ہوئے تھے تند و تیز ہوا نے بالکل ہی ان کا ناس کھو دیا کھجوروں کے تنوں کی طرح زمین پر گرگئے سورة القمر میں اسی کو (کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ ) فرمایا ہے۔ احادیث شریفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نحوست کوئی چیز نہیں ہے حضرت سعد بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو گھر میں اور گھوڑے میں اور عورت میں ہوتی (رواہ ابو داؤد کما فی المشکوٰۃ 392) قوم عاد کے بارے میں جو یہ فرمایا کہ منحوس دنوں میں ان پر تیز ہوا بھیج دی یہ ان کے ساتھ خاص ہے یہ بات نہیں ہے کہ وہ دن سب کے لیے منحوس ہیں اگر ایسا ہوتا تو سارے ہی دن منحوس ہوتے کیونکہ ان پر ایک ہفتہ سے زیادہ تیز ہوا چلی۔
Ayah 41:17

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو قوم ثمود والے تھے سو ہم نے انہیں ہدایت دی تو انہوں نے ہدایت کے مقابلہ میں اندھے پن کو پسند کیا سو انہیں عذاب کی آفت نے پکڑ لیا جو سراپا ذلت تھا ان کی بدکرداریوں کی وجہ سے،

اس کے بعد قوم ثمود کا حال بیان فرمایا (وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَہَدَیْنَاھُمْ ) اور رہے ثمود سو ہم نے انہیں ہدایت دی یعنی ان کی طرف نبی بھیجا جس نے انہیں حق کا راستہ بتایا اور توحید کی دعوت دی انہوں نے سمجھ سے کام نہ لیا ہدایت کو اختیار نہ کیا اور اندھا رہنے کو یعنی گمراہی کو ترجیح دی جب ہدایت کو نہ مانا تو انہیں عذاب کی مصیبت نے پکڑ لیا اور وہ اپنے برے کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کردئیے گئے، صاعقہ کا اصل معنی بجلی کا ہے، جو بارش کے دنوں میں چمکتی ہے اور کبھی کبھی اس سے مطلق آفت بھی مراد لے لیتے ہیں۔
Ayah 41:18

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دے دی جو ایمان لائے اور ڈرا کرتے تھے۔

(وَنَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ) (اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور ڈرتے تھے) یعنی اللہ تعالیٰ کا خوف کھاتے تھے۔ )
Ayah 41:19

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جمع کیے جائیں گے

اللہ کے دشمنوں کا دوزخ کی طرف جمع کیا جانا ان کے اعضاء کا ان کے خلاف گواہی دینا اور عذاب سے کبھی چھٹکارا نہ ہونا ان آیات میں اللہ کے دشمنوں یعنی کافروں کی مصیبت بیان فرمائی کہ قیامت کے دن انہیں دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا جماعتیں جماعتیں بن کر اس کے قریب پہنچیں گے ایک جماعت آئے گی وہ روک لی جائے گی پھر دوسری جماعت آئے گی وہ بھی روک لی جائے گی جب یہ جماعتیں جمع ہوجائیں گی اور دوزخ کے قریب پہنچ جائیں گے تو ان کے خلاف ان کے کان اور آنکھیں اور کھالیں گا ہی دیں گی دنیا میں جو جو حرکتیں کی تھیں یہ اعضاء سب بتادیں گے کہ اس شخص نے ہمیں ایسے ایسے کاموں میں استعمال کیا آنکھیں اور کان تو اعضاء ہیں اس دن کھالیں یعنی چمڑے بھی گواہی دیں گے کہ یہ لوگ ایسے ایسے اعمال کرتے تھے۔ چمڑا تو پورے بدن کو گھیرے ہوئے ہے اور وہ ہر گناہ میں استعمال ہوتا ہے سورة النور اور سورة یٰسین میں ہاتھوں اور پاؤں کی گواہی کا بھی ذکر ہے جب کافروں کے اعضاء ہی ان کے خلاف گواہی دے دیں گے جن کے بارے میں انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا تو وہ کہیں گے کہ (لِمَ شَہِدْتُمْ عَلَیْنَا) کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی اس گواہی کا نتیجہ یہ ہے کہ تمہیں بھی عذاب ہوگا اور ہمیں بھی، کیونکہ ہمارے جسم کے اجزاء میں تم بھی شامل ہو ہمارے برے اعمال سے منکر ہونا تمہارے بچانے کے لیے ہی تو تھا اگر گواہی دے کر تم عذاب سے بچ جاتے تو تمہیں گواہی دینے کا کچھ فائدہ پہنچ جاتا۔ اعضاء کہیں گے کہ ہماری کیا مجال تھی کہ نہ بولتے اور خاموش رہ کر گواہی کو چھپالیتے ؟ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں زبان دے دی اور حکم دے کر کہلوایا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ ہم گواہی نہ دیتے تمہارا جو خیال تھا کہ ہم بول نہیں سکتے یہ خیال غلط تھا اللہ جسے چاہے بولنے کی قوت دے سکتا ہے جس نے ہر ہر بولنے والی چیز کو بولنے والا بنایا اسی نے ہمیں بھی قوت گویائی عطا فرما دی۔ صحیح مسلم میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے آپ کو ہنسی آگئی آپ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو میں کس بات سے ہنس رہا ہوں ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں آپ نے فرمایا (قیامت کے دن) بندہ جو اپنے رب سے مخاطب ہوگا اس کی وجہ سے مجھے ہنسی آگئی بندہ کہے گا اے رب کیا آپ نے مجھے اس بات کا وعدہ نہیں دے دیا کہ مجھ پر ظلم نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا ہاں تجھ سے یہ وعدہ ہے اس پر وہ کہے گا کہ بس تو میں اپنے خلاف کسی کی گواہی کو تسلیم نہیں کرتا سوائے ایسے گواہ کے جو مجھ ہی میں سے ہو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ آج تیرا نفس ہی تیرے خلاف گواہی دینے کو کافی ہے، اور کراماً کاتبین بھی تیرے خلاف گواہی دینے کو کافی ہیں، اس کے بعد اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء سے کہا جائے گا کہ بولو لہٰذا اس کے اعضاء اس کے اعمال کی گواہی دیں گے پھر اسے بولنے کی قوت دے دی جائے گی۔ لہٰذا وہ اپنے اعضاء سے کہے گا کہ دور ہو تمہارے لیے ہلاکت ہے تمہاری ہی طرف سے تو میں جھگڑا کر رہا تھا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 485) یعنی میں نے جو یہ کہا تھا کہ اپنے نفس کے خلاف کسی کی گواہی قبول نہیں کروں گا الایہ کہ میرے اندر کی کوئی چیز ہو اس کا مقصد ہی تو یہ تھا کہ تم عذاب سے بچ جاؤ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ منافق قیامت کے دن یوں کہے گا کہ اے رب میں آپ پر ایمان لایا اور آپ کی کتاب اور آپ کے رسولوں پر ایمان لایا اور میں نے نمازیں پڑھیں، روزے رکھے اور صدقات دئیے اور جہاں تک ممکن ہوگا اپنی تعریف کرے گا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا یہاں ابھی پتہ چل جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوگا کہ ہم ابھی گواہ پیش کرتے ہیں اس پر وہ اپنے نفس میں سوچے گا کہ کون ہے جو میرے خلاف گواہی دے گا پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران سے اور گوشت اور ہڈیوں سے کہا جائے گا کہ بولو ! لہٰذا اس کی ران اور اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال پر گواہی دیں گی یہ گفتگو اس لیے کرائی جائے گی کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی اعتراض نہ رہے یہ جو کچھ مذکور ہوا منافق سے متعلق ہے اس سے اللہ تعالیٰ کو ناراضگی ہوگی۔ (صحیح مسلم ص 409) یہاں جو سوال پیدا ہوتا ہے کہ سورة النور میں فرمایا کہ مجرمین کی زبانیں بھی گواہی دیں گی اور سورة یٰسین میں اور مسلم شریف کی حدیث میں فرمایا کہ منہ پر مہریں لگا دی جائیں گی اس میں بظاہر تعارض ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ مختلف احوال کے اعتبار سے ہے بعض احوال میں زبانیں گواہی دیں گی اور بعض مواقع میں ان پر مہر لگا دی جائے گی۔ (وَّھُوَ خَلَقَکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّاِِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ (اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہلی بار دنیا میں پیدا فرمایا پھر مرجاؤ گے اور اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے) اسی نے دنیا میں زبان کو بولنا سکھایا آخرت میں دوسرے اعضاء کو بھی بولنے کی طاقت دیدے گا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔
Ayahs 41:20–22

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب دوزخ کے پاس آجائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور کھالیں ان کے خلاف ان کاموں کی گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ وہ جواب میں کہیں گے کہ ہمیں اللہ نے بولنے والا بنا دیا جس نے ہر چیز کو بولنے والا بنایا ہے اور اس نے تمہیں پہلی بار پیدا فرمایا اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے،

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم اس وجہ سے پوشیدہ نہیں ہوتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں گے اور لیکن تم نے یہ خیال کیا تھا کہ اللہ بہت سے ان اعمال کو نہیں جانتا جنہیں تم کرتے ہو،

(وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ ) (الآیۃ) یہ بھی کافروں سے خطاب ہے وہاں ان سے کہا جائے گا کہ تم دنیا میں جو کام کرتے تھے اس کا تمہیں ذرا بھی احتمال نہ تھا کہ قیامت کے دن تمہارے کان اور آنکھیں چمڑے تمہارے خلاف گواہی دیدیں گے لہٰذا تم ان سے نہ چھپتے تھے نہ چھپ سکتے تھے جس کی وجہ سے تم دلیری کے ساتھ گناہ کرتے تھے تم سمجھتے تھے کہ ہمارے خلاف گواہی دینے والا کوئی نہ ہوگا مخلوق کے بارے میں تو تمہارا خیال تھا ہی تم نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی یہی خیال کر رکھا تھا کہ وہ تمہارے بہت سے اعمال کو نہیں جانتا۔ قال القرطبی و معنی ” تَسْتَتِرُوْنَ “ تستخفون فی قول اکثر العلماء أی ما کنتم تستخفون من أنفسکم حذرًا من شھادۃ الجوارح علیکم، لأن الانسان لایمکنہ أن یخفی من نفسہ علمہ، فیکون الاستخفاء بمعنی ترک المعصیۃ وقیل : الاستتار بمعنیٰ الاتقاء أی ما کنتم تتقون فی الدنیا أن تشھد علیکم جوار حکم فی الاخرۃ فتترکوا المعاصی خوفا من ھذہ الشھادۃ (علامہ قرطبی نے کہا اکثر علماء کے قول کے مطابق ” تَسْتَتِرُوْنَ “ کا معنی ہے ” تم چھپتے تھے “ یعنی تم جو اپنے آپ سے چھپتے تھے اعضاء کی اپنے خلاف گواہی کے خوف سے، چونکہ انسان کے لیے اپنے عمل کو اپنے آپ سے چھپانا ممکن نہیں ہے اس لیے یہاں استخفاء معصیت کے ترک کے معنی میں ہوگا، اور بعض نے کہا الاستتار بمعنی اتقاء ہے یعنی تم جو دنیا میں بچتے تھے اس سے کہ آخرت میں تمہارے اعضاء تمہارے خلاف گواہی دیں لہٰذا اس گواہی کے خوف سے تم نے گناہ چھوڑ دئیے۔ ) صحیح بخاری میں ہے کہ عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمایا کہ میں کعبہ شریف کے پردوں میں چھپا ہوا تھا تین آدمی آئے ان میں سے ایک ثقفی تھا اور دو قریشی تھے ان کے پیٹ بھاری تھے اور کم سمجھ تھے انہوں نے کچھ ایسی باتیں کیں جنہیں میں (ٹھیک سے) نہ سن سکا ان میں سے ایک نے کہا کہ بتاؤ اللہ ہماری باتوں کو سنتا ہے دوسرے نے کہا بلند آواز ہو تو سنتا ہے اور بلند نہ ہو تو نہیں سنتا تیسرے نے کہا کہ اگر وہ سنتا ہے تو سب کچھ سنتا ہے میں نے یہ قصہ رسول اللہ ﷺ کو سنا دیا تو اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ ) سے (مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ) تک آیت کریمہ نازل فرمائی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا ہے اور اس کے سننے اور جاننے کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ تمہارے اعضاء بھی تمہارے خلاف گواہی دے دیں گے لہٰذا ایمان اور اعمال صالحہ سے متصف ہونا ضروری ہے۔
Ayah 41:23

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور تمہارا یہ گمان جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا اس نے تمہیں ہلاک کردیا، سو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگئے،

کافروں کو ان کے گمان بد نے ہلاک کیا (وَذٰلِکُمْ ظَنُّکُمْ الَّذِیْ ظَنَنتُمْ بِرَبِّکُمْ اَرْدَاکُمْ ) اور یہ تمہارا گمان کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بہت سے اعمال کو نہیں جانتا اس نے تمہیں ہلاک کردیا (فَاَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ) (سو تم خسارے والے ہوگئے) تم نے جو یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے بہت سے اعمال کا علم نہیں ہے اسی گمان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے رہے اگر اللہ تعالیٰ کو علم والا جانتے اور یہ یقین کرتے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے تو خلوتوں میں اور جلوتوں میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے اور اس نے جو اعضاء کی نعمتیں دی تھیں ان کو نیکیوں میں استعمال کرتے، تم نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط گمان کیا اور اعضاء کو بھی غلط استعمال کیا آج یہاں خسارہ میں یعنی پوری ہلاکت میں پڑگئے۔
Ayah 41:24

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

سو اگر صبر کریں تو آگ ٹھکانہ ہے ان کے لیے، اور اگر راضی کرنا چاہیں تو ان کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی،

(فَاِِنْ یَصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًی لَہُمْ ) سو یہ لوگ جو دوزخ میں داخل کرنے کے لیے جمع کردئیے گئے ہیں ان کو دوزخ میں داخل ہونا ہی ہے اور انہیں اس میں رہنا ہی ہے اور ہمیشہ رہنا ہے صبر کریں یا نہ کریں دوزخ ہی ان کا ٹھکانہ ہے یہ نہ سمجھیں کہ دنیا میں تکلیف پر صبر کرلیتے تھے تو بعد میں اچھی حالت آجاتی تھی وہاں صبر کرنا کوئی کام نہیں دے گا (وَاِنْ یَسْتَعْتِبُوْا فَمَا ھُمْ مِنَ الْمُعْتَبِیْنَ ) (اور اگر وہ چاہیں کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرلیں اور اس کے لیے درخواست کریں تو ان کی یہ درخواست منظور نہیں کی جائے گی) راضی کرنے کا موقع موت سے پہلے تھا، ایمان لاتے اعمال صالحہ کرتے نافرمانیوں سے بچتے تو آج عذاب کا منہ نہ دیکھنا پڑتا۔
Ayah 41:25

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے لیے ساتھیوں کو مسلط کردیا سو انہوں نے ان کے لیے ان چیزوں کو مزین کردیا جو ان کے آگے اور پیچھے ہیں اور ان پر بات ثابت ہوگئی ان جماعتوں میں شامل ہو کر جو ان سے پہلے جنات میں سے اور انسانوں میں سے گزر چکی ہے بیشک وہ خسارہ والے ہیں۔

مشرکین اور کافرین پر برے ساتھی مسلط کردئیے گئے (وَقَیَّضْنَا لَہُمْ قُرَنَاءَ ) (اور ہم نے ان کے اوپر ساتھی مسلط کردئیے) جو انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنات میں سے بھی اور ان کے ساتھ لگے رہتے ہیں (فَزَیَّنُوْا لَہُمْ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ ) ان ساتھیوں نے ان کے اعمال کو مزین کردیا اور ان کو اچھا بتا کر پیش کیا گناہوں کو اچھا کرکے دکھایا لذتوں پر ابھارا شہوتوں میں پڑنے کی ترغیب دی اور انہیں یہ بھی سمجھایا جو مزے اور اڑا سکتے ہو اڑا لو موت کے بعد نہ جی اٹھنا ہے نہ جنت ہے نہ دوزخ، ان ساتھیوں کی باتوں میں آکر کفر و شرک اختیار کیا گناہوں میں منہمک رہے۔ لہٰذا عذاب کے مستحق ہوئے (مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ ) کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ پہلے لفظ سے آخرت مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ انہیں یہ سمجھایا کہ حساب کتاب اور جنت دوزخ کچھ نہیں اور (وَمَا خَلْفَہُمْ ) کے بارے میں فرمایا کہ اس سے دنیا والی زندگی مراد ہے انہوں نے اس دنیا میں کفر کو اچھا بتایا اور خواہشوں اور لذتوں پر ڈالا اور ابھارا۔ سورۃ الزخرف میں فرمایا (وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہٗ شَیْطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیْنٌ وَاِِنَّہُمْ لَیَصُدُّونَہُمْ عَنْ السَّبِیْلِ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُہْتَدُوْنَ ) (اور جو شخص اندھا بنتا ہے رحمن کی یاد سے ہم اس پر تعینات کردیا کرتے ہیں ایک شیطان سو وہ اس کے ساتھ رہتا ہے شیاطین ان کو روکتے ہیں راہ سے اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ راہ پر ہیں) (وَحَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ فِیْ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِِنسِ ) اور ان پر عذاب والی بات ثابت ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ طے کردیا گیا کہ ان کو عذاب میں داخل ہونا ہے، ان سے پہلے جو امتیں جنات میں سے اور انسانوں میں سے گزر چکی ہیں یہ بھی انہیں میں شامل کردئیے گئے یعنی وہ بھی عذاب میں داخل ہوئے، اور یہ بھی (اِِنَّہُمْ کَانُوْا خَاسِرِیْنَ ) (بلاشبہ یہ سب لوگ خسارے والے تھے) دنیا میں آئے زندگی ملی جان ملی اعضا دئیے گئے، اموال کے مالک ہوئے لیکن سب کچھ کھو دیا اور ضائع کردیا اب تو عذاب ہی عذاب ہے۔
Ayah 41:26

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے کہا کہ اس قرآن کو مت سنو اور اس کے درمیان شور مچایا کرو، شاید تم غالب رہو،

کافروں کا قرآن سننے سے روکنا اور شور و شغب کرنے کا مشورہ دینا یہ سات آیات کا ترجمہ ہے اول کی چار آیتوں میں کافروں کی شرارت اور حماقت کا اور ان کے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے اور آپس میں جو وہاں بڑوں اور چھوٹوں میں دشمنی کا مظاہرہ ہوگا اس کو بیان کیا ہے، رسول اللہ ﷺ جب قرآن مجید تلاوت کرتے اور لوگوں کو سناتے تو مکہ کے مشرکین میں سے جو بڑے بڑے لوگ تھے وہ اپنے نیچے والوں کو حکم دیتے تھے کہ اس قرآن کو نہ تو خود سنو اور نہ دوسروں کو سننے دو جب محمد رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھیں تو تم لوگ اس میں شور و غل مچاؤ، لایعنی باتیں کرو، بےتکی آوازیں نکالو لہٰذا وہ لوگ آنحضرت ﷺ کی تلاوت کے وقت سیٹیاں بجاتے تھے اور تالیاں پیٹتے تھے اور شور کرتے تھے اور اونچی آواز سے اشعار بھی پڑھتے تھے رؤسا مشرکین جو اپنے نیچے کے لوگوں کو ان باتوں کو حکم دیتے تھے ان کا مقصد یہ تھا کہ قرآن کی آواز دب جائے اور چیخ پکار کرنے والے غالب ہوجائیں تاکہ قرآن آگے نہ بڑھے اور اس کے ماننے والوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہو۔
Ayah 41:27

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

سو جن لوگوں نے کفر کیا ہم انہیں ضرور ضرور سخت عذاب چکھا دیں گے اور ضرور ضرور انہیں برے کاموں کی سزا دیں گے جنہیں وہ کیا کرتے تھے۔

مشرکین کی حرکتوں کو بیان فرمانے کے بعد جن کا وہ دنیا میں ارتکاب کرتے تھے ان کی سزا بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ ہم انہیں سخت عذاب چکھائیں گے یہ لوگ جو برے اعمال کیا کرتے تھے انہیں ضرور ان کی سزا دیں گے آیت کریمہ میں عذاب دنیا یا عذاب آخرت کا ذکر نہیں ہے مطلق عذاب کی وعید ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس سے دونوں جہان کا عذاب بھی مراد ہوسکتا ہے اور دونوں میں سے کسی ایک کا بھی پھر حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ (عَذَابًا شَدِیْدًا) سے غزوہ بدر کا عذاب مراد ہے اور (اَسْوَاَ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) سے آخرت کا عذاب مراد ہے مطلب یہ ہے کہ اپنی حرکتوں کی وجہ سے دنیا میں بھی سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے اور آخرت میں بھی برے اعمال کی سزا پائیں گے۔
Ayah 41:28

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ سزا ہے اللہ کے دشمنوں کی جو آگ ہے، ان کے لیے اس میں ہمیشہ کا رہنا ہے اس بات کے دلہ میں کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے،

پھر فرمایا کہ اللہ کے دشمنوں کو (آخرت میں جو) سزا ملے گی آگ کی صورت میں ان کے سامنے آئے گی یعنی نار جہنم میں داخل ہوں گے اور ایسا نہیں کہ تھوڑے سے دن سزا بھگت لیں تو جان بخشی ہوجائے بلکہ انہیں اس آگ میں ہمیشہ رہنا ہوگا ان کا یہ عذاب اس کا بدلہ ہوگا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔ گمراہ لوگ درخواست کریں گے کہ ہمارے بڑوں کو سامنے لایا جائے، تاکہ قدموں سے روند ڈالیں دنیا میں تو یہ حال تھا کہ چھوٹے موٹے لوگ اپنے بڑے اور سرداروں کے بہکانے سے کفر پر جمے رہے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے رہے ان کے بہکانے والوں میں جنات بھی تھے اور انسان بھی تھے جو انہیں حق قبول نہیں کرنے دیتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ قرآن پڑھا جائے تو تم شور و غل کرو یہ لوگ ان کی بات مان لیتے تھے یہ تو ان کا دنیا میں حال تھا پھر جب آخرت میں حاضر ہوں گے تو اپنے بڑوں پر غصہ ہوں گے اور دانت پیسیں گے کہ انہوں نے ہمارا ناس کھویا لہٰذا بارگاہ خداوندی میں عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنات میں سے اور انسانوں میں سے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا انہیں ہمارے سامنے لائیے آج ہم انہیں بہکانے اور ورغلانے کا مزہ چکھا دیں، بتائیے وہ لوگ کہاں ہیں ہم انھیں اپنے پاؤں میں روند ڈالیں۔ انہوں نے ہمارا ناس کھویا آج ہم ان سے بدلہ لے لیں انہیں اپنے پاؤں کے نیچے مسل دیں اور کچل دیں تاکہ وہ خوب زیادہ ذلت والوں میں سے ہوجائیں۔
Ayahs 41:29–30

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنات میں سے اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا ہم کو انہیں دکھا دیجیے ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے کرلیں تاکہ یہ دونوں گروہ زیادہ ذلیلوں میں سے ہوجائیں،

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے یوں کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر مستقیم رہے ان پر فرشتے نازل ہوں گے کہ تم خوف نہ کرو اور رنج نہ کرو اور خوش ہوجاؤ جنت کی خبر سے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

اہل استقامت کو بشارت اس کے بعد اہل ایمان کی فضیلت بیان فرمائی اور ان کی اجمالی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور پھر ایمان پر جمے رہے یعنی اس کے تقاضوں کو پورا کرتے رہے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان کو بشارت دیتے ہیں کہ تم خوف نہ کرو اور رنج نہ کرو اور جنت کی خوشخبری سن لو جس کا تم سے اللہ کے نبی نے اور اللہ کی کتاب نے وعدہ کیا ہے۔ فرشتوں کے جس نزول اور بشارت کا ذکر ہے اس کا وقوع کب ہوتا ہے ؟ صاحب روح المعانی نے حضرت زید بن اسلم تابعی (رح) سے نقل کیا ہے کہ موت کے وقت اور قبر میں نازل ہوتے وقت فرشتے آتے ہیں اور مذکورہ بالا بشارت دیتے ہیں اور قیامت کے دن جب قبروں سے اٹھائے جائیں گے اس وقت بھی فرشتے یہ بشارت دیں گے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ بشارت مذکورہ بالا تینوں احوال کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ عام حالات میں بھی اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا رہتا ہے کہ فرشتے بطریقہ الہام ان کے دلوں میں سکون اور اطمینان کا القاء کرتے رہتے ہیں جس سے وہ اور زیادہ خیر کے کاموں میں آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ حضرت عطاء بن ابی رباح (رح) نے فرمایا کہ (اَلَّا تَخَافُوْا) کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری نیکیاں مقبول ہیں یہ خوف نہ کرو کہ وہ رد کردی جائیں گی اور (وَلاَ تَحْزَنُوْا) کا مطلب یہ ہے کہ گناہوں کے بارے میں رنجیدہ مت ہو وہ بخش دئیے جائیں گے۔
Ayah 41:31

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم دنیا والی زندگی میں تمہارے رفیق ہیں اور آخرت میں بھی، اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جس کی تمہارے نفسوں کو خواہش ہوگی اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے،

فرشتوں کا اہل ایمان سے خطاب (نَحْنُ اَوْلِیَاؤُکُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ ) فرشتے اہل استقامت مومنین سے یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم دنیا اور آخرت میں تمہارے ولی ہیں یعنی ہم تمہارے مددگار ہیں تمہارے دلوں میں حق کی بات ڈالتے ہیں اور تمہیں خیر و صلاح کا مشورہ دیتے رہتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ موت سے پہلے بھی ملائکہ کا نزول ہوتا رہتا ہے جو اہل ایمان کو تسلی دیتے ہیں اور خیر و صلاح کی باتیں بتاتے ہیں اور شرور سے بچاتے ہیں دنیا میں ان کی یہ دوستی ہے اور آخرت میں بھی دوستی کا ظہور ہوگا، شفاعت بھی کریں گے اور اکرام کے ساتھ پیش آئیں گے اور ان کے پاس پہنچیں گے اور (سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ) کہہ کر سلامتی کی دعا بھی دیں گے اور مبارکباد بھی۔ فرشتے جو جنت کے داخلے کی پیشگی بشارت دیں گے اس بشارت کے ساتھ اجمالی طور پر نعمتوں کا تذکرہ بھی فرمایا وہ کہیں گے کہ آخرت میں تمہیں جو جنت کا داخلہ ملے گا وہ داخلہ بہت بڑی نعمت ہے وہ ہر قسم کی خواہش پوری ہونے کی جگہ ہے جنت میں تمہاری جو بھی خواہش ہوگی وہ سب پوری کردی جائے گی اور وہاں جو بھی کچھ مانگو اور طلب کرو گے سب کچھ موجود ہوگا ایسا نہ ہوگا کہ کوئی خواہش رد کی رہ جائے اور کوئی مطلوبہ شے عطا نہ کی جائے۔
Ayah 41:32

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

یہ مہمانی کے طور پر ہے غفور رحیم کی طرف سے۔

غفور رحیم کی طرف سے مہمانی آخر میں فرمایا (نُزُلًا مِنْ غَفُوْرٍ رَحِیْمٍ ) وہاں جو کچھ عطا کیا جائے گا غفور رحیم کی طرف سے بطور مہمانی کے ہوگا دیکھو سب سے بڑی ذات کے مہمان بن رہے ہو جس نے تمہارے سب گناہ اور خطائیں معاف فرما دی ہیں اور مہربانی فرما کر تمہیں یہاں داخلہ دے دیا ہے جس ذات عالی کے مہمان ہو اس کی مہمانی اسی کے شان کے لائق ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ مہمان کی جو خواہش ہو پوری کی جائے اور جو کچھ طلب کرے وہ اسے دیا جائے۔
Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس سے اچھی کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیے اور یوں کہا کہ بلاشبہ میں مسلمین میں سے ہوں،

داعی الی اللہ کی فضیلت، اخلاق عالیہ کی تلقین، شیطان سے محفوظ ہونے کے لیے اللہ کی پناہ لینا ان آیات میں داعی الی اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے اشخاص و افراد کی فضیلت بیان فرمائی اور بعض امور پر تنبیہ کی ہے ارشاد فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کس کی بات اچھی ہوگی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور یوں کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں، اس میں یہ بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف جو شخص بلائے یعنی توحید کی دعوت دے اور اس کے دین اور احکام دین قبول کرنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دے اسے خود بھی اعمال صالحہ میں لگنا چاہیے جب خود عمل کرے گا تو دوسروں کو اعمال صالحہ کی دعوت دینا بھی مفید اور نافع ہوگا اور جو شخص داعی ہو اس میں تواضع بھی ہونی چاہیے حق کی دعوت بھی دے اور اپنے کو بڑا بھی نہ سمجھے اپنے بارے میں یوں کہے کہ میں بھی مسلمانوں میں سے ایک مسلمان ہوں اپنے علم کو تکبر اور غرور کا ذریعہ نہ بنالے جب کوئی شخص حق کی دعوت لیے کھڑا ہوتا ہے تو تکے بےت کے لوگوں سے سابقہ پڑتا ہے معاندین اور متکبرین سامنے آتے ہیں زبان سے اور ہاتھ سے تکلیف دیتے ہیں ایسے مواقع پر صبر کرنا درگزر کرنا مناسب ہوتا ہے اور ترکی بہ ترکی جواب دینا برائی کا بدلہ برائی سے دینا مناسب نہیں ہوتا، اگر برائی کا بدلہ برائی سے دیا جائے اور اسی قدر دیا جائے جتنی زیادتی دوسرے نے کی ہے تو یہ جائز تو ہے لیکن خوبی اور بہتری حلم اور برداشت ہی میں ہے۔ اسی کو فرمایا (وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلا السَّیِءَۃُ ) کہ اچھا برتاؤ اور برا برتاؤ برابر نہیں ہے پھر فرمایا (ادْفَعْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ) جو اچھی خصلت ہے اور عمدہ طریقہ ہے اس کو اختیار کیجیے اس کے ذریعہ مخالف کی بد معاملگی اور برے برتاو کو دفع کیجیے (فَاِِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ) جب ایسا کرو گے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ جس شخص سے آپ کی دشمنی تھی وہ آپ کا خالص دوست بن جائے گا۔
Ayahs 41:34–35

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور اچھائی اور برائی برابر نہیں ہوتی آپ ایسے برتاؤ کے ساتھ دفع کیجیے جو اچھا طریقہ ہو پھر یکایک ایسا ہوگا جس شخص کو آپ سے دشمنی تھی گویا کہ وہ خالص دوست ہے،

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور اس بات کا صرف انہیں لوگوں کو القا کیا جاتا ہے جو صبر والے ہیں اور اس بات کا القا اسی شخص کو ہوتا ہے جو بڑے نصیب والا ہو،

اس کے بعد اچھی خصلت یعنی حلم اور بردباری، حسن خلق عفو اور درگزر کے بارے میں فرمایا کہ یہ بہت عمدہ اور بہت بلند صفت ہے جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ (وَمَا یُلَقَّاھَا اِِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَمَا یُلَقَّاھَا اِِلَّا ذو حَظٍّ عَظِیْمٍ ) (اور یہ بلند اخلاقوں کی صف انہیں لوگوں کو دی جاتی ہے جو صبر کرنے والے ہوتے اور انہی کو دی جاتی ہے جو بڑے نصیب والے ہیں) (حَظٍّ عَظِیْمٍ ) (بڑا نصیب) کیا ہے بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے ثواب کا بڑا حصہ مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے جنت مراد ہے۔ (ذکر ہما فی الروح)
Ayah 41:36

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آنے لگے تو اللہ کی پناہ لیجیے، بیشک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔

جب کوئی شخص نیک کاموں میں لگتا ہے تو شیطان اس کے نفس میں برے برے وسوسے ڈالتا ہے اس کے بارے میں فرمایا (وَاِِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنْ الشَّیْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ باللّٰہِ ) (اور اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کچھ وسوسہ آنے لگے تو آپ اللہ کی پناہ مانگیں) (اِِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) (بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ ) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ لفظ نزغ عربی زبان میں کسی لکڑی یا انگلی سے چبھانے کے لیے بولا جاتا ہے جسے اردو کے محاورے میں کچو کہ دینا کہہ سکتے ہیں ذرا ذرا سے و سو سے تو آتے ہی رہتے ہیں شیطان کبھی زور دار وسوسہ بھی ڈال دیتا ہے اسی لیے اسے نزع سے تعبیر فرمایا جب کوئی شخص دعوت حق دے گا خیر کی بات کرے گا اور مخالف اور منکر کی تکلیف دہ باتوں پر صبر کرے گا تو شیطان اس موقع پر کچوکا دے گا مثلاً یوں سمجھائے گا کہ تم تو حق بات کہہ رہے ہو۔ تمہیں جھوٹا بننے اور دبنے کی کیا ضرورت ہے ایسے موقع پر اللہ کی پناہ لے اور (اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ) پڑھ کر آگے بڑھ جائے۔
Ayah 41:37

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور اللہ کی نشانیوں میں سے رات ہے اور دن ہے اور چاند ہے اور سورج ہے مت سجدہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو، اور سجدہ کرو اللہ کو جس نے ان کو پیدا فرمایا اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو،

رات اور دن چاند اور سورج اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ان کے پیدا کرنے والے کو سجدہ کرو ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر بعض دلائل قائم فرمائے ہیں اور غیر اللہ کو سجدہ کرنے اور غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے رات بھی ہے اور دن بھی ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت سے ایک دوسرے کے پیچھے آتے رہتے ہیں اور سورج اور چاند بھی اس کی نشانیوں میں سے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا فرمایا اور روشنی بخشی اور ان کے گردش کرنے کا مدار مقرر فرمایا اور طلوع و غروب کے اوقات مقرر فرمائے جس ذات پاک نے ان کو پیدا فرمایا صرف وہی مستحق عبادت ہے۔ (لاَ تَسْجُدُوْا للشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ ) یہ مشرکین کو خطاب ہے مطلب یہ ہے کہ تم سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو ان کو بڑی چیزیں سمجھ کر سجدہ کرتے ہو حالانکہ جس نے انہیں پیدا کیا وہ سب سے بڑا ہے اور صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اسی کو فرمایا (وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَہُنَّ ) (اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا) (اِِنْ کُنْتُمْ اِِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ) (اگر تم ان کے پیدا کرنے والے کی عبادت کرتے ہو) مطلب یہ ہے کہ اگر خالق کی عبادت کرتے ہو تو مخلوق کی عبادت نہ کرو خالق کی وہ عبادت معتبر نہیں جس کے ساتھ مخلوق کی بھی عبادت کی جاتی ہو لہٰذا شرک اختیار کرتے ہوئے تمہارا یہ دعویٰ کرنا کہ ہم اللہ کے عبادت گزار ہیں یہ غلط ہے۔
Ayah 41:38

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

سو اگر وہ تکبر کریں تو جو تیرے رب کے مقرب ہیں وہ رات دن اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اکتاتے نہیں ہیں

(فَاِِنْ اسْتَکْبَرُوْا) (الآیۃ) سو اگر وہ لوگ تکبر اختیار کریں اور آپ کی بات ماننے میں عار سمجھیں اور غیر اللہ کو سجدہ کرنے سے باز نہ آئیں تو انہیں بتادیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کی عبادت اور سجود کا محتاج نہیں ہے تم اسے سجدہ کرو یا نہ کرو اس کی ذات عالی صفات بہرحال بلند اور برتر ہے اس کی بارگاہ اقدس میں جو فرشتے حاضر ہیں وہ ہمہ تن اور ہر وقت تسبیح میں مشغول رہتے ہیں ذرا بھی نہیں اکتاتے اور اسے ان کی تسبیح اور عبادت کی بھی حاجت نہیں ہے۔ زمین کا خشک ہو کر زندہ ہوجانا بھی اللہ کی نشانی ہے
Ayah 41:39

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تو زمین کو دبی ہوئی حالت میں دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی نازل کردیتے ہیں تو وہ ابھر آتی ہے اور بڑھتی ہے بلاشبہ جس نے اس کو زندہ فرما دیا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کی نشانیوں میں سے زمین بھی ہے جس پر یہ لوگ رہتے ہیں اور اس پر جن تغیرات کا ظہور ہوتا رہتا ہے انہیں یہ لوگ دیکھتے رہتے ہیں انہی تغیرات میں سے ایک یہ ہے کہ زمین خشک ہوجاتی ہے سبزی بالکل نہیں رہتی سوکھی ہوئی حالت میں پڑی رہتی ہے پھر اللہ تعالیٰ بارش بھیجتا ہے بارش برستی ہے زمین پر پانی پڑتا ہے اور اندر پہنچتا ہے جیسے ہی یہ زمین پانی سے متاثر ہوتی ہے اس میں تازگی آجاتی ہے زمین پھولتی ہے اندر سے پودے زور لگاتے ہیں باہر نکلتے ہیں تھوڑا ہی سا وقت گزرتا ہے کہ زمین ہری بھری ہوجاتی ہے اس میں کھیتیاں بھی ہوتی ہیں جن سے انسانوں کو غذائیں ملتی ہیں بڑے بڑے درخت بھی ہوتے ہیں جن پر کچھ عرصے کے بعد پھل آتے ہیں ان میں سے انسان کھاتے ہیں اور گھاس بھی نکلتی ہے جو مویشیوں کی غذا بنتی ہے اس میں کئی طرح سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت بھی ظاہر ہوتی ہے اور توحید بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ ان تصرفات کا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس سے وقوع قیامت کا استبعاد بھی دور ہوجاتا ہے قیامت قائم ہونے اور زندہ ہو کر قبروں سے نکلنے اور دوبارہ زندگی حاصل ہونے کو جو لوگ بعید اور عجیب سمجھتے ہیں ان کے لیے زمین کی حالت بدلنا خشک زمین کا ترو تازہ ہوجانا اس میں پودے نکل آنا یہ اس بات کی نظیر ہے کہ انسان بھی مر کھپ کر اسی طرح زندہ ہو کر قبروں سے باہر آجائیں گے اسی کو فرمایا (اِِنَّ الَّذِیْ اَحْیَاھَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰی) (بلاشبہ جس نے اس زمین کو زندگی بخشی وہی مردوں کو زندہ فرمانے والا ہے) (اِِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔