41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 41:1–8

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

(یہ کتاب اللہ) بہت بڑے مہربان نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

(ایسی) کتاب جس کی آیتیں واضح ہیں۔ قرآن جو عربی (زبان) میں ہے ان لوگوں کے لئے ہے جو سمجھ رکھتے ہیں

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا سو اکثر لوگوں نے (اس سے) روگردانی کی پس وہ سنتے ہی نہیں

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں جس بات کی طرف آپ ہم کو بلاتے ہو ہمارے دل اس سے پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ (بہرا پن) ہے اور ہمارے درمیان اور آپ کے درمیان پردہ ہے سو آپ اپنا کام کریں ہم اپنا کام کرتے ہیں

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

فرما دیجئے بیشک میں بھی تمہاری طرح آدمی ہوں (ہاں) مجھ پر وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود معبود واحد ہے سو اس کی طرف سیدھے رہو اور اس سے بخشش چاہو اور شرک کرنے والوں کے لئے بڑی خرابی ہے

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور آخرت کا بھی انکار کرتے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے بلا شبہ ان کے لئے کبھی ختم نہ ہونے والا صلہ ہے

آیات 1 تا 8 اسرار ومعارف۔ حم سے شروع ہونے والی سات سورتیں ہیں جنہیں اٰل حم یاحوامیم کہا جاتا ہے الگ پہچان کے لیے ان کے ناموں کے ساتھ کچھ الفاظ شامل کرلیے جاتے ہی جیسے حم مومن ، یاحم سجدہ ، یاحم فصلت یہ آخری وہ نام اس سورة مبارکہ کے مشہور ہیں۔ کفار کو اپنے علوم پر ناز تھا اور اس کے مطابق اپناعقیدہ طرز حیات اور نظام ترتیب دے رکھا تھا جس طرح کہ پہلی امتوں میں بھی یہی کچھ پیش آیا جبکہ نبی (علیہ السلام) ایک نیا اور منفرد عقیدہ پیش فرما رہے تھے جس کے مطابق نہ صرف نظر یہ تبدیل کرنا پڑتا تھا بلکہ سارانظام معاشرت سیاست اور عدالت تک از سرنواستوار کرنا پڑتے تھے لہذا وہ اپنے حال پر اڑ گئے اگرچہ جب عذاب نازل ہوئے تو انہیں توبہ کا احساس ہوا مگر وقت گزر چکا تھا گزشتہ قوموں کے ساتھ اہل عرب اور اہل مکہ کاموازنہ فرماتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ تمہارامرض بھی وہی ہے مگر اس کا علاج یہ نعمت ہے جو بہت بڑے مہربان کی مہربانی کا ثمر ہے اور بہت بڑے رحم کرنے والے کی رحمت کا خزانہ ۔ حم کے بعد ارشاد ہے کہ یہ کلام رحمن ورحیم کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے کہ تمہارے انکار اور نافرمانی کے باوجود تم پر کرم فرمارہا ہے اور تمہارے علم کا خزانہ یہ کتاب جس کی ہدایت شک وشبہ سے بالاتر اور ہر بات کو الگ الگ بیان کرتی ہے نیز عربی زبان میں نازل کی گئی ہے کہ اس کے سب سے پہلے مخاطب چونکہ عرب ہیں اگرچہ نازل ساری انسانیت کے لیے ہوتی ہے تو انہیں سمجھنے اور آسانی ہو اور دوسروں تک پہچانے کی سعادت سے بہر ورہوسکیں مگر یہ اعلم علم کو ہی مفید ہے ۔ علم کی تعریف۔ علم سے مراد جاننا ہے مگر جاننے کے مختلف درجے ہیں اگر جو بات جانی جائے وہ حق نہ ہو تو وہ حقیقی علم نہ ہوگا لہذا محض جاننا نہ ہو بلکہ جو کچھ جاناجائے وہ حق بھی ہو نیزعلم وہ ہے جو بندے کا حال بن جائے اور ایسابندہ حقیقی عالم ہوگ اور نہ محض جاننا تو خبر کے درجہ میں ہے تو جس مفادات کا تحفظ کیا جائے اور اصولا یہ خبر ہی غلط تھی کہ حصول رزق میں دوسروں کا حق مارنے یاحصول اقتدار کے ناجائز ذرائع اختیار کرتے تھے تو ان علوم کے ساتھ جن پر ان کو فخر تھا نہیں جاہل قرار دیا اور فرمایا کہ اگرچہ قرآن تمہاری مادری یعنی عربی زبان میں ہے مگر فائدہ وہی حاصل کرسکیں گے جو اہل علم یعنی حقیقی علم رکھنے والے یا اس کے متلاشی ہوں گے یہ کتاب محض راستے نہیں بتاتی یہ تو ایسی حقیقت بیان کرتی ہے کہ نتائج تک ارشاد فرمادیتی ہے عمل کرنے والے کو کامیابی کی نوید سناتی ہے اور انکار کے انجام بد کی خبر دیتی ہے مگر کفار کی اکثریت اس سے روگردانی اختیار کیے ہوئے ہے گویا انہیں یہ بات سنائی ہی نہیں دیتی بلکہ وہ کہتے ہیں کہ کہ ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں بلکہ ہمارے اور آپ کے درمیان گویا بہت بڑا پردہ ہے کہ جس طرح آپ دعوت دیتے ہیں وہ الگ دنیا ہے اور جہاں ہم رہتے ہیں وہ الگ۔ لہذا آپ اپنا کام کیجئے ہم اپنا کیے جا رہے ہیں۔ ارشاد ہوا ان سے کہیے کہ تمہاری طرح کا انسان ہوں کوئی فرشتہ نہیں کہ میری اور تمہاری ضرورتیں الگ الگ ہوں وہی سردی کرمی ، بھوک پیاس ، یا جان ومال کی ضروریات میری ہیں جو تمہاری ہیں بات یہ ہے کہ مجھے اللہ نے وحی سے یعنی اپنے کلام سے سرفراز فرمایا ہے اور تمہارے لیے پیغام دیا ہے کہ اپنی پسند سے اللہ کی کائنات میں جیناچھوڑ دو اپنی پسند کے نظام اور طریقے مسلط نہ کرو کہ یہ باطل ہیں اللہ کی عظمت یعنی اس کی توحید اور اس کی الوہیت کا اقرار کرو جس کی دلیل یہ ہے کہ عملا راست بازی اختیاری کرو اور بالکل سیدھے ہوجاؤ نیز آج تک جو کچھ کرتے رہے ہو یا آئندہ جو کوتاہی سرزد ہو اس کے لیے معافی طلب کرو مگر وائے ہے مشرکین پر یعنی کس قدر بدقسمت ہیں کہ وہ مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے یعنی مادی فوائد کو چھوڑ نہیں سکتے لہذا آخرت ہی کا انتظار کیے بیٹھے ہیں۔ کیاغیر مسلم فرع احکام کا مکلف ہے ؟ جیسے یہاں ارشاد ہے لایوتون الزکوۃ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا غیرمسلم زکوۃ یا عبادات کا مکلف ہے تو علماء کا ایک طبقہ اس کا قائل ہے مگر دوسرا طبقہ جس کی رائے میں ایمان قبول کرنے کے احکام کا مکلف ہوگا کے لیے یہ سوال ہے کہ پھر یہاں لایوتون الزکوۃ کیوں فرمایا گیا تو ان کے نزدیک مراد کفر کا سبب بیان کرنا ہے ۔ اسلامی معیشت اور کافرانہ نظام۔ کہ اسلامی معاشی نظام کی بنیاد دوسروں کے حقوق نہ مارنا اور دوسروں کی مدد کرنے پر استوار ہے مسلمان اپنی زندگی دوسروں کے لیے جیتا ہے اور دینی فکر علمی اور مالی اعتبار سے ان کی مدد کرتا ہے ان سب میں مشکل مال کا ایثار ہے اگر اس کی محبت میں گرفتار ہو اور دوسروں سے چھیننے کا خواہش مند ہو تو پہلی باتوں سے بھی انکار کردیتا ہے یعنی مال کی محبت ان کے کفر پر قائم رہنے کا سبب بن رہی ہے یہی بات آج کے مسلمان کو عملی اسلام سے دور لے جارہی ہے کہ دعوی اسلام کے ساتھ اپنے نظام کو اسلامی نہیں کرنا چاہتا کہ وہاں کچھ دینا پڑتا ہے اور غیر اسلامی نظام میں دوسروں کا حق چھیناجاتا ہے۔ اور یہ یقینی بات ہے کہ جن لوگوں نے اس کتاب کو مان لیا جنہیں ایمان نصیب ہوگیا اور انہوں نے اپنا طرز عمل اس کے مطابق درست کرلیا ان کو ایسے انعامات سے نوازاجائے گا جو کبھی منقطع نہ ہوں گے کہ جنت کی نعمتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہیں اور یہ بھی فرمایا گیا کہ باعمل مسلمان اگر بیماری یامجبوری کی وجہ سے عمل نہ بھی کرسکے تو بھی اس کے نامہ اعمال میں ایسے ہی اعمال لکھے جاتے ہیں جیسے وہ معذوری سے پہلے کیا کرتا تھا۔
Ayahs 41:9–17

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

فرمائیے کہ کیا تم اس (ہستی) سے انکار کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین کو پیدا فرمایا اور تم اس کے شریک ٹھہراتے ہو۔ وہی تو سارے جہانوں کا پروردگار ہے

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اس نے اس (زمین) میں ، اس کے اوپر پہاڑ بنادیئے اور اس میں برکت رکھی اور چار دنوں میں اس میں ، اس کا سب سامان معیشت مقرر فرمایا ، تمام طلب گاروں کے لئے یکساں

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور وہ دھواں سا تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں خوشی سے آؤ یا زبردستی ہے۔ دونوں نے عرض کیا ہم خوشی سے حاضر ہیں

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

سو دور روز میں اس کے سات آسمان بنا دیئے اور ہر آسمان میں اس کے کام کا حکم ارسال فرمادیا اور ہم نے قریب والے آسمان کو چراغوں سے سجا دیا اور محفوظ فرمایا۔ یہ غالب علم والے کے مقررہ اندازے ہیں

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو فرمادیجئے میں نے تم کو ایسی چنگھاڑ (عذاب) سے ڈرایا جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑ (عذاب) تھی

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب ان کے پاس ان کے آگے اور ان کے پیچھے سے پیغمبر آئے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو (تو) کہنے لگے کہ اگر ہمارے پروردگار چاہتے تو ضرور فرشتے اتاردیتے۔ سو جو آپ دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

پھر جو عاد تھے سو وہ زمین (دنیا) میں ناحق تکبر کرنے لگے اور کہنے لگے ہم سے بڑھ کر کون طاقت والا ہے ؟ کیا انہیں یہ نظر نہیں آیا کہ اللہ جس نے ان کو پیدا فرمایا وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ ہے۔ اور وہ ہماری آیتوں کا (ضد سے) انکار کرتے رہے

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

سو ہم نے ان پر نحوست کے دنوں میں بہت زور کی ہوا چلائی تاکہ ہم ان کو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں۔ اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور ان کی مدد بھی نہ کی جائے گی

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور جو ثمود تھے تو ان کو ہم نے سیدھا راستہ بتایا سو انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنے (گمراہی) کو پسند کیا تو ان کی بدکرداریوں کی سزا میں ان کو کڑک کے ذلت والے عذاب نے آپکڑا

آیات 9 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ ان سے کہیے کہ تم اس ذات کو ماننے سے انکار کر رہے ہو جس نے دو روز میں زمین کو پیدا فرمایا اور اس کے مقابل دوسروں کو لاتے ہو اور انہیں معبود مانتے ہو جو کچھ پیدا تو کیا کرتے الٹا خود مخلوق کو یہی ذات سارے جہانوں کی پیدا کرنے والی بھی ہے اور پالنے والی بھی یہ اس کی حکمت کہ اس نے دوروز میں زمین بنائی پھر اس میں بھاری پہاڑ اور بیشمار برکات بےحساب نعمتیں رکھیں اپنی ہر ہرمخلوق کے لیے اس میں غذائیں سمودیں اور یہ ساراکام چار روز میں مکمل فرمایا کہ ساری مخلوق کی ہر ضرورت کو ہمیشہ پورا کرتی رہے گی اور یہ معنی بھی ہے کہ یہود مدینہ نے آپ سے زمین وآسمان کی تخلیق کے بارے میں جو سوال کیا ہے اس کا شافی جواب ہے پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو ابتداء ایک دھواں سا تھا ، اور زمین وآسمان سے ان کے شعور ادراک کے مطابق سوال فرمایا کہ تمہارے اندر میرے فیصلے نافذ ہوں گے جو تم نہیں روک سکو گے ہاں یہ اختیار ہے کہ خوشی سے یہ صورت حال قبول کرویامجبورا کرنا پڑے تو دونوں نے جوابا عرض کیا کہ ہمیں بصد خوشی قبول ہے بعض حضرات نے یہاں مجازی معنی مراد لیا ہے مگر حق یہ ہے کہ اللہ کی ساری مخلوق اس کی بارگاہ میں ہم کلام ہوتی ہے لہذا زمین وآسمان نے بھی اقرار اطاعت سے کیا چناچہ اس نے فیصلہ فرمایا اور دونوں میں سات آسمان بنادیے اور ہر آسمان میں وہاں کے امور مکمل فرمادیے اور اس قریبی آسمان کو چراغوں سے مزین کردیا جوا س کی حفاظت کا کام بھی کرتے تھے اور یہ سب تجویز کردہ ہے اس قادر مطلق کا جو سب پر غالب ہے اور ہر بات کا علم رکھتا ہے۔ زمین وآسمان کی تخلیق میں ترتیب۔ یہود مدینہ جو اکثر سوال کیا کرتے تھے انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ ارض وسماء کی تخلیق اور اس کی ترتیب بتائیے کہ کس طرح سے ہے تو یہ آیات اس کا جواب دے رہی ہیں کہ پہلے زمین کا مادہ بنایا جس پر دوروز کا وقت منظور تھا حالانکہ وہ قادر مطلق آن واحد میں کرسکتا ہے مگر یہ اس کی حکمت تھی کہ پھر آسمان کا مادہ بنایا جو دھویں کی شکل میں تھا پھر زمین کی موجودہ ہئیت پہاڑ دریا اور ہرچیز مکمل فرمائی اور پھر آسمانوں کو مکمل فرمایا اور یوں چھ روز میں یہ سب عمل مکمل ہوگیا اب اگر اس جواب کے بعد بھی وہ بات نہ سمجھنا چاہیں تو ان سے کہہ دیجئے کہ انکارپرمتب ہونے والے سخت عذاب کی اطلاع میں نے تمہیں پہنچادی جس طرح عاد وثمود پر عذاب ٹوٹ پڑا تھا۔ عتبہ بن ربیعہ کا واقعہ۔ ایک روز سرداران قریش میں سے عتبہ بن ربیعہ بیت اللہ کے ایک طرف بیٹھا تھا جس کے ساتھ بہت سے لوگ تھے اور آپ بیت اللہ کے ساتھ اکیلے تشریف رکھتے تھے تو اس نے کہا کہ اگر تم لوگ اجازت دوت میں ان سے بات کروں اور انہیں لالچ دوں کہ جب اسلام میں سیدناعمر اور حضرت حمزہ جیسے بہادروں کا آنا ہوا تو قریش نے پالیسی اور لالچ دینے لگے انہوں نے کہا ابوالولید بہت اچھی بات ہے وہ آپ کے پاس اور کہنے لگا اے بھتیجئے اگر سنناپسند کرو تو بات کروں آپ ﷺ نے اجازت دی تو کہنے لگا کہ ہم بہت عزت دار لوگ ہیں اور آپ ہم میں عالی نسب ہیں ایک شاندار نظام چل رہا ہے مگر اب آپ کی دعوت سے سب ابتر ہوگیا عقیدہ وغلط ٹھہرا طریقہ عدل بھی ظلم بن گیا اور باپ دادا تک کفر کی زد میں آگئے اگر آپ اس طرح دولت جمع کرنا چاہتے ہیں تو ہم دولت جمع کردیتے ہیں اگر اقتدار کی طلب ہوتوہم آپ کو بادشاہ قبول کرتے ہیں اور اگر آپ پر کوئی آسیب ہے توکہیے ہم اس کا علاج کرادیں غرض بہت طویل بات کی آپ ﷺ سنتے رہے جب چپ ہوا تو فرمایا اب سنو۔ آپ ﷺ نے حم سے تلاوت شروع کی جب ان آیات پہ پہنچے ، مثل صعقۃ عاد وثمود تو اس نے آپ ﷺ کے منہ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا بس بس اپنی قوم کو ایسی تباہی کی خبر نہ دو اور اٹھ کر چلا گیا لوگوں نے پوچھا کیا ہواتوکہنے لگا کہ میں نے وہ کلام سنا جو نہ شاعری ہے نہ کہانت۔ اے قریش اگر ایمان نہیں لاتے تو ان کا راستہ نہ روکو۔ عربوں کو ان سے نبٹ لینے دو اگر انہیں شکست ہوئی تو تمہارا کام بن گیا اور اگر انہوں نے فتح کرلیا تو وہ حکومت تمہاری بھی ہوگی مگر وہ کہنے لگے کہ تم پر بھی ان کا جادوچل گیا ہے ۔ عاد وثمود کی تباہی کا سبب یہ تھا کہ ان کے پاس پے درپے اللہ کے رسول آئے اور یہ پیغام پہنچاتے رہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ عبادت۔ عبادت سے مراد مکمل اطاعت بھی ہے محض نماز روزہ ہی نہیں بلکہ نظام حیات اور طرز عمل بھی شامل ہے اور یہی بات سب کو مشکل لگا کرتی تھی چناچہ کہنے لگے کہ انسان تو کوئی ہم سے بہتر نہیں سوچ سکتا ہاں اگر اللہ کو منظور ہوتا اور اسے ہمارا طریقہ پسند نہ ہوتا جو انسانوں میں سب سے اعلی ہے تو وہ فرشتے روانہ کرتا غالبا وہ کوئی بہتر معاشرت یاسیاست یا نظام عدل بیان کرتے ورنہ جو کچھ آپ کہتے ہو ہم اسے تو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور عاد تو ناحق اکڑے ہوئے تھے متکبرانہ انداز میں بولے بھلا ہم سے بھی کوئی طاقتور ہوگاجس کے عذاب سے ہمیں ڈراتے ہو اور یہ تک نہ سمجھے کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے اور ایک طاقتور قوم بنایا ہے بھلاخود اس کی طاقت کس قدر عظیم ہوگی بلکہ عقلی اور علمی اعتبار سے جانتے تھے صرف ضد میں آکرماننے سے انکار کیے ہوئے تھے۔ لہذاہم نے ان پر بڑے زوروں کی ہوامسلط کردی کہ اب ان کے برے دن آچکے تھے۔ منحوس دن۔ کوئی بھی دن منحوس نہیں ہے یہاں مراد ان کے زندگی کے وہ ایام ہیں جو ان کی بداعمالی کے باعث ان کے لیے منحوس ثابت ہوئے اور یہ عذاب انہیں دنیا میں سزا دے کر ذلیل و خوار کرنے کے لیے تھا کہ آخرت کا عذاب تو بہت ہی بڑی رسوائی کا سبب بھی ہوگا اور وہاں کوئی ان کی مدد بھی نہ کرسکے گا۔ ہم نے ثمود کو راستہ دکھایا مگر انہوں نے حق کے راستے پر چلنے کی بجائے اپنے اندھے پن اور ظالمانہ رویے پہ ، اصرار کیا اور اسے پسند کرلیا چناچہ اس قدر تباہی ہوئی کہ نیست ونابود ہوگئے۔
Ayahs 41:18–25

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے ہم نے ان کو بچا لیا

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف لائے جائیں گے تو قسم قسم کرلیے جائیں گے

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ سب اس کے قریب آجائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے اعمال پر گواہی دیں گے

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور (اس وقت) وہ لوگ اپنے چمڑے (اعضاء) سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ وہ کہیں گے کہ ہم کو اس اللہ نے بولنے کی طاقت دی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا فرمایا تھا اور اسی کے پاس پھر لائے گئے ہیں

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم اس (بات کے) خوف سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ کہیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی نہ دیں ، بلکہ تم یہ سمجھتے رہے کہ اللہ کو تمہارے بہت سے اعمال کی خبر ہی نہیں

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے تم کو برباد کیا پس تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ صبر کریں تب بھی دوزخ ہی ان کا ٹھکانہ ہے ، اور اگر یہ عذر کریں تو بھی ان کا عذر قبول نہ کیا جائے گا

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے (دنیا میں) کچھ شیطانوں کو ان کے ساتھ مقرر کررکھا تھا سو انہوں نے ان کی نظر میں ان کے اگلے اور ان کے پچھلے اعمال خوب صورت کردیئے اور ان لوگوں کے ساتھ بھی ان کے حق میں (اللہ کا) وعدہ پورا ہو کر رہا جو ان سے پہلے جن و انسان (کفار) ہوگزرے ہیں (جیسا کہ ان کے ساتھ ہوا) بیشک وہ سب خسارہ میں رہے

آیات 18 تا 25۔ اسرار ومعارف ۔ اور باوجود اس قدرتباہی اور بربادی کے ہم نے ان لوگوں کو محفوظ رکھا جو ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقوی اختیار کیا تھا یعنی خلوص دل سے اطاعت کی راہ اپنائی تھی یہ تو دنیا کا معاملہ تھا بات تو اس روز ہوگی جب دشمنان خدا جہنم میں جھونکنے کے لیے اکٹھاکرکے میدان حشر میں لائے جائیں گے جہاں یہ اپنے کردار کے بعض گھناؤ نے پہلوں سے انکار کریں گے کہ ہم نے ایسا نہ تو کیا تھا۔ اعضاء کی گواہی۔ توقدرت باری سے ان کے بدن کے اعضا بول اٹھیں گے اور جو کچھ فرشتوں نے اعمال نامے میں لکھ رکھا ہوگا اس کی تصدیق کریں گے یہ قدرت الٰہی ہے کہ اعضاء کی بات خود کافر تک سن رہا ہوگا اور اس سے سوال و جواب کرے گا یہ کمال کافر کے لیے میدان حشر میں مفید تو نہ ہوگا مگر اس بات پر دلیل ہے کہ نور ایمان مومن کامل دنیا میں یہ کمال حاصل کرسکتا ہے اور جمادات ونباتات یا اعضاء بدن سے بات کرنا ممکن ہے گواہی دینے والوں میں نہ صرف ہاتھ پاؤں بلکہ کان ، آنکھیں اور بدن کی کھال تک شامل ہوں گے اور سب حال کھول کر بیان کردیں گے تب کافران سے کہیں گے کہ تم ہمارے خلاف گواہی کس لیے دے رہے ہو حالانکہ یہ سب تمہاری ہی خاطر تو کیا گیا ہے اور پھر سزا سے تم کون سے بچ جاؤ گے تو ان کے اعضاء انہیں جواب دیں گے ہمیں اس قادر مطلق نے گواہی دینے کے لیے قوت گویائی بخشی ہے جس نے ہر بات کرنے والے کو بات کرنے کی طاقت عطا کی لہذا کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم گواہی نہ دیں اور خود تمہیں بھی تو پہلی زندگی اسی نے دی تھی اور اب بھی زندہ کرکے اس کی بارگاہ میں لائے گئے ہو دنیا میں تمہیں عظمت الٰہی کا احساس نہ تھا اور اپنے کفر کے باعث تم جانتے تھے کہ اللہ کو بھلا ہمارے کاموں کی خبر ہوسکے گی مگر اپنے اعضا وجوارح اور کان آنکھ کھال وغیرہ سے خود کو چھپانا تو تمہارے بس میں نہ تھا اور حضور الٰہی سے بےشعوری اور اپنے پروردگار کے بارے جو ہر آن تمہاری ہر ضرورت پوری کررہا ہے یہ گمان کہ اللہ ہمارے پاس موجود نہین تمہاری تباہی کا باعث بن گیا۔ حضور حق کا شعور ہی تصوف ہے۔ اور آج تم اس عظم خسارے میں پڑے ہوئے ہو ایمان کے بعد ذکر اور توجہ شیخ سے دل کو روشن کرکے یہ احساس و شعور حاصل کرنا کہ میرا رب ہر حال میں میرے ساتھ ہے تاکہ اعمال میں راستی پیدا ہویہی تصوف ہے۔ اب دار آخڑت میں اور میدان حشر میں پہنچ کر اس سب حال پہ صبر کریں تو بھی کوئی فائدہ نہ ہوگا بلکہ جہنم ہی ان کاٹھکانہ ہوگا اور اگر عذر معذرت کریں تے تو بھی کچھ حاصل نہ ہوگا کہ دارآخڑت دار جزا ہے عمل کی جگہ نہیں کہ کسی عمل پر اجرمرتب ہو اور یہ تو دنیا میں بھی اس قدر بدکار تھے شیاطین کا تسلط۔ ان کے گناہوں کے نتیجے میں ہم نے ان پر شیاطین جن اور انسان مسلط کردیے اور وہ شیاطین انہیں ان کے گمان ان کی برائیاں بھی بھلی کرکے دکھاتے تھے اور ان کے نتائج بھی خوبصورت کرکے دکھاتے تھے اور اللہ کا یہ فیصلہ کہ برائی کرنے والوں کو ایسی سزا دی جائے گی ان پر بھی لاگو ہوگیا جیسے ان سے پہلے گزرنے والے انسانوں اور جنوں کے حقو میں ہو اور یہ حقیقی خسارے میں رہے جنوں پر بھی شیاطین مسلط ہوتے ہیں۔ یہاں واضح ہوگیا کہ برائی کے نتیجے میں جس طرح انسانوں کو گمراہ کرنے والے اور جن مسلط کیے جاتے ہیں اسی طرح جنوں کو بھی برائی کے نتیجے میں شیطان اور بدکار جن دوستوں کی صورت نصیت ہوتے ہیں جو ان کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔
Ayahs 41:26–32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور کافر کہنے لگے اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور (جب سنانے لگیں تو) اس میں شور مچادیا کرو تاکہ تم غالب رہو

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

سو ہم ان کافروں کو سخت عذاب (کا مزہ) چکھائیں گے اور ان کو ان کے برے کاموں کی سزادیں گے

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہی سزا ہے اللہ کے دشمنوں کی (یعنی) دوزخ۔ ان کے لئے وہاں ہمیشہ رہنے کا ماقم ہوگا۔ اس چیز کا بدلہ کہ ہماری آیات سے (ضد کرکے) انکار کرتے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور کفار کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم کو وہ دونوں ، شیطان اور انسانوں میں سے دکھا دیجئے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا (تاکہ) ہم ان دونوں کو اپنے پاؤں تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ بہت ذلیل ہوں

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے کہ تم کوئی خوف نہ کرو اور نہ کوئی رنج کرو اور جنت پر خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی (ہیں) اور اس (جنت) میں جو تمہارا جی چاہے تمہارے لئے موجود ہے نیز اس میں تم جو مانگو گے وہ تمہیں ملے گا

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

(یہ) بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہوگی

آیات 26 تا 32۔ اسرار ومعارف۔ اور آج بھی جب کفار دلائل میں لاجواب ہوگئے تو کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھیں تو شوروغل کیا کرو تاکہ کوئی سن ہی نہ سکے اور قرآن کی برکات سے محروم رہے یوں تمہارا مقصد پورا ہو۔ تلاوت قرآن خاموشی سے سننا واجب ہے اور خاموش نہ رہنا کفار کی عادت اور مروجہ شبینہ ۔ معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ قرآن کا سننا واجب ہے اور آج کل ریڈیو پر تلاوت ہوتی ہے ہوٹلوں والے اپنے کام اور شوروغل میں لگے رہتے ہیں جو کفار کی عادت ہے چاہیے ریڈیو بند رکھیں یا تھوڑی دیر کے لیے کھولیں اور آرام سے سنیں اور دوسروں کو بھی سننے کا موقع دیں اس تناظر میں آج کل کے مروجہ شبیہ پہ نظر کی جائے کہ چند حفاظ کو جمع کرکے ساری رات لاؤڈ سپیکر پر تلاوت کرائی جاتی ہے تو اس کا جواز تو کیا ہو لوگوں کو ایسی حالت میں مبتلا کرنے کا موجب ہے جو ان کے بس میں نہیں لہذا ثواب تو کجا قرآن کریم کی بےادبی کا گناہ اہتمام کرنے والے اور پڑھنے والوں سب کے لیے وبال ہوگا ہاں اگر لاؤڈسپیکر ہٹادیاجائے سکون سے پڑھیں سننے والے آرام سے سنیں تو عام آدمی کو یامسجد اور گھر سے باہر آواز نہ جائے تو بہت مناسب ہے۔ اور ہم کافروں کو ان کی ایسی حرکتوں پر بہت سخت سزا دیں گے اور انہیں عذاب شدید بھگتنا ہوگا اور انہیں ہر ہربرائی کا بدلہ ضرور ملے گا دنیا میں بھی تباہی کا سامنا کریں گے اور آخرت میں یہ دشمنان الٰہی دوزخ کی آگ میں رہیں گے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہی ان کے انکار کی سزا ہے بلکہ دوزخ میں تو انہیں برے دوستوں سے نفرت بھڑک اٹھے گی اور دعا کریں گے کہ اے اللہ ہمیں وہ انسان اور جن و شیاطین دکھادے جو ہمارے یہاں پہنچنے کا باعث بنے کہ ہم انہیں پکڑ کر پاؤں کے نیچے دبائیں کہ وہ ہم سے زیادہ مصیبت پائیں ۔ ربوبیت باری عزا اسمہ۔ یادرکھو کامیاب لوگ وہ ہیں جنہوں نے اللہ کی ربوبیت کا اقرار کیا یعنی اللہ کو صرف الٰہ ہی نہیں مانا اپنی ساری ضرورتوں کا کفیل بھی مانا اور پھر کسی بھی لالچ یارعب میں آکر کسی دوسرے سے کوئی امید وابستہ نہ کی بلکہ ہمیشہ اللہ کی اطاعت پہ جمے رہے ، ثم استقامو۔ استقامت۔ استقامت یہ ہے کہ اپنے اس عقیدے کو کہ اللہ ہی میرا رب ہے اپنے عمل سے ثابت کرنے والا ہو جو سیدنا فاروق اعظم کے ارشاد کے مطابق امر کی اطاعت نہی سے اجتناب کرنے اور لومڑی کی طرح گناہ کرنے کے بہانے نہ تراشے۔ تو ایسے لوگوں پہ فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔ حیات زندگی میں قوت عمل یا صبر وغیرہ کی توفیق ان کے سبب سے ارزاں ہوتی ہے عندالموت قبر سے اٹھنے کے وقت اور جنت میں بھی موت کے وقت بھی کہتے ہیں کہ ڈرنے یاگھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ تم تو خوش ہوجاؤ کہ دار دنیا سے جو مصیبتوں کا گھر ہے دار جنت کو جارہے ہو جہاں راحت ہی راحت ہے اور جس کا اللہ نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا تھا ہم تو دنیا میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ ہوں گے اور جنت میں تو اللہ کی نعمتیں تمہاری منتظر ہیں کہ جو مانگو حاضر کیا جائے یا جس کا خیال تمہارے دل میں گزرے وہ نعمت فورا حاصل ہوجائے کہ آخرکو اللہ کی میزبانی ہے جو بہت معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔