Explained with ayahs 9–12
تخلیق کائنات کا مرحلہ وار ذکر۔
ہر چیز کا خالق ہر چیز کا مالک ہر چیز پر حاکم ہر چیز پر قادر صرف اللہ ہے۔ پس عبادتیں بھی صرف اسی کی کرنی چاہئیں۔ اس نے زمین جیسی وسیع مخلوق کو اپنی کمال قدرت سے صرف دو دن میں پیدا کردیا ہے۔ تمہیں نہ اس کے ساتھ کفر کرنا چاہے نہ شرک۔ جس طرح سب کا پیدا کرنے والا وہی ایک ہے۔ ٹھیک اسی طرح سب کا پالنے والا بھی وہی ایک ہے۔ یہ تفصیل یاد رہے کہ اور آیتوں میں زمین و آسمان کا چھ دن میں پیدا کرنا بیان ہوا ہے۔ اور یہاں اس کی پیدائش کا وقت الگ بیان ہو رہا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ پہلے زمین بنائی گئی۔ عمارت کا قاعدہ یہی ہے کہ پہلے بنیادیں اور نیچے کا حصہ تیار کیا جاتا ہے پھر اوپر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 11
زمین کی برکتوں سے مراد وہ بےحد و حساب سر و سامان ہے جو کروڑہا کروڑ سال سے مسلسل اس کے پیٹ سے نکلتا چلا آ رہا ہے اور خورد بینی کیڑوں سے لے کر انسان کے بلند ترین تمدن تک کی روز افزوں ضروریات پوری کیے چلا جا رہا ہے۔ ان برکتوں میں سب سے بڑی برکتیں ہوا اور پانی ہیں جن کی بدولت ہی زمین پر نباتی، حیوانی اور پھر انسانی زندگی ممکن ہوئی۔
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 12
اصل الفاظ ہیں قَدَّرَ فِیْھَآ اَقْوَاتَھَا فِیْ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍ سَوَآءً للسَّآئِلِیْنَ۔ اس فقرے کی تفسیر میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں
بعض مفسرین اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ " زمین میں اس کے ارزاق مانگنے والوں کے…
Read the full tafseer →پھر الگ کر کے فرمایا (آیت) (وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبٰرَكَ فِيْهَا وَقَدَّرَ فِيْهَآ اَقْوَاتَهَا فِيْٓ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ) اس میں اس پر تو سبھی مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ اربعة ایام ان پہلے دو دنوں کو شامل کر کے ہیں۔ اس سے الگ چار دن نہیں۔ ورنہ مجموعہ آٹھ دن ہوجائے گا جو تصریح قرآنی کے خلاف ہے۔
اب یہاں غور کرنے سے بظاہر مقتضیٰ مقام کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ فرمانے کے بعد پہاڑوں وغیرہ کی تخلیق کو بھی فی یومین کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا تھا تو اس کا مجموعہ چار دن ہونا خود بخود معلوم ہوجاتا مگر قرآن کریم نے عنوان تعبیر اس کے بجائے یہ رکھا کہ زمین…
Read the full tafseer →زمین اور اس کے بعض آثار
یہ زمین کی برکات کی تفصیل بیان ہو رہی ہے کہ اللہ ہی نے اس کے اندر پہاڑ گاڑے۔ ان پہاڑوں کے گاڑنے کی ایک حکمت دوسرے مقام میں بیان فرمائی ہے کہ یہ زمین کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں ورنہ اندیشہ ہے کہ یہ تمام مخلوقات سمیت کسی طرف کو لڑھک جائے۔ ’ من فوقھا ‘ کے الفاظ سے مقصود ان کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی یہ نشانیاں کچھ ڈھکی چھپی نہیں ہیں بلکہ یہ زمین کے اوپر ہی موجود ہیں جن کو ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ سورة غاشیہ میں بھی پہاڑوں کی طرف اسی پہلو سے توجہ دلائی گئی ہے : ’ افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت وقف والی السماء کیف رفعت وقف قوالی الجبال کیف نصبت وقف والی…
Read the full tafseer →10۔ 1 یعنی پہاڑوں کو زمین میں سے ہی پیدا کر کے ان کو اس کے اوپر گاڑ دیا تاکہ زمین ادھر یا ادھر نہ ڈولے۔
10۔ 2 یہ اشارہ ہے پانی کی کثرت، انواع و اقسام کے رزق، معدنیات اور دیگر اسی قسم کی اشیاء کی طرف یہ زمین کی برکت ہے، کثرت خیر کا نام ہی برکت ہے
10۔ 3 اقوات، قوت غذا، خوراک کی جمع ہے یعنی زمین پر بسنے والی تمام مخلوقات کی خوارک اس میں مقدر کردی ہے یا بندوبست کردیا ہے اور رب کی اس تقدیر یا بندوبست کا سلسلہ اتنا وسیع ہے کہ کوئی زبان اسے بیان نہیں کرسکتی کوئی قلم اسے رقم نہیں کرسکتا اور کوئی کیلکولیٹر اسے گن نہیں سکتا بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ہر زمین کے دوسرے حصوں میں پیدا نہیں ہوسکتیں…
Read the full tafseer →2: زمین میں برکت ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں مخلوقات کے فائدے کی چیزیں پیدا فرمائیں، اور ایسا نظام بنادیا کہ وہ زمین سے ضرورت کے مطابق مناسب مقدار میں نکلتی رہیں۔
3: ان چار دنوں میں زمین کی تخلیق بھی شامل ہے جس کے بارے میں پیچھے فرمایا گیا تھا کہ وہ دو دن میں مکمل فرمائی، لہذا دو دن میں زمین پیدا کی گئی اور دو دن میں اس زمین پر پہاڑ اور دوسری انسانی ضروریات کی چیزیں اور خوارک وغیرہ پیدا کرنے کا انتظام فرمایا گیا، اس طرح زمین اور اس کے اوپر کی اشیاء پیدا کرنے میں کل چار دن استعمال فرمائے گئے۔ اور دو دن میں ساتوں آسمان پیدا فرمائے گئے۔ اس طرح کائنات کی تخلیق کل چھ دن میں مکمل ہوئی، جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت نمبر 9 تا 12
اے پیغمبر ان سے کہو کہ تم جب کفر کرتے ہو اور لاپرواہی میں یہ عظیم بات کہہ جاتے ہو ، یہ تو تم ایک بہت ہی بڑے جرم کا ارتکاب کرتے ہو ، یہ نہایت ہی قبیح اور ناپسندیدہ فعل ہے ، تم ایک ایسی ذات کا انکار کرتے ہو ، جس نے زمین کو پیدا کیا ، اس کے اندر پہاڑ پیدا کیے ، ان کے اندر برکات پیدا کیں ، اس زمین کے اندر رزق کی تمام ضروریات پوری پوری رکھ دیں ، جس نے آسمانوں کو پیدا کیا اور یہ سب کام اس نے چار دنوں میں سرانجام دیئے اور تمام مانگنے والوں کے لیے ان کی ضروریات مہیا کردیں جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ، منظم کیا ، خصوصاً دنیا سے قریب والے آسمان کو خوب مزین کیا ، زمین اور آسمان نے اس کے…
Read the full tafseer →2 " اور برکت رکھی اس کے اندر " یعنی قسم قسم کی کانیں، درخت، میوے، پھل، غلے اور حیوانات زمین سے نکلتے ہیں اور " ٹھہرائیں اس میں خوراکیں اس کی " یعنی زمین پر بسنے والوں کی خوراکیں ایک خاص اندازہ اور حکمت سے زمین کے اندر رکھ دیں۔ چناچہ ہر اقلیم اور ہر ملک میں وہاں کے باشندوں کی طبائع اور ضروریات کے موافق خوراکیں مہیا کردی گئی ہیں۔
3 یہ سب کام چار دن میں ہوا دو روز میں زمین پیدا کی گئی اور دو روز میں اس کے متعلقات کا بندوبست ہوا۔ جو پوچھے یا پوچھنے کا ارادہ رکھتا ہے اسے بتلا دو کہ یہ سب مل کر چار دن ہوئے بدون کسر اور کمی بیشی کے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یعنی پوچھنے والوں کا جواب پورا ہوا
تنبیہ :…
Read the full tafseer →آیت 10 { وَجَعَلَ فِیْہَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِہَا } ”اور اس میں اس نے بنائے پہاڑوں کے لنگر اس کے اوپر سے“
{ وَبٰرَکَ فِیْہَا وَقَدَّرَ فِیْہَآ اَقْوَاتَہَا فِیْٓ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍ } ”اور اس میں برکات پیدا کیں اور اس میں اندازے مقررکیے اس کی غذائوں کے ‘ چار دنوں میں۔“
یعنی دو دنوں میں زمین کو پیدا کیا جو بذات خود ایک بہت بڑی تخلیق ہے ‘ پھر مزید دو دنوں میں اس کے اوپر سے اس پر پہاڑ جما دیے اور زمین کی مٹی کو روئیدگی کے قابل بنایا۔ زمین ابتدا میں تو آگ کے ایک ُ کرے ّکی شکل میں تھی۔ آہستہ آہستہ یہ ٹھنڈی ہوئی۔ پہلے پہل اس کی مٹی میں صرف inorganic compounds پائے جاتے تھے۔ ہوتے ہوتے organic…
Read the full tafseer →8 زمین کی اشیاء سے انتفاع کا یکساں حق اور حق ملکیت :۔ بعض علماء نے (سَوَاۗءً لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ 10) 41 ۔ فصلت :10) کا یہ ترجمہ کیا ہے برابر ہے واسطے پوچھنے والوں کے (شاہ رفیع الدین) ٹھیک جواب پوچھنے والوں کو (احمد رضا خان) انسانی تاریخ کا ایک بنیادی اور اہم سوال یہ بھی رہا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کیونکر ہوئی ؟ ان آیات میں اسی بنیادی سوال کا جواب دے کر فرمایا کہ ایسا سوال کرنے والوں کے اطمینان کے لیے اتنا جواب کافی ہے۔ اور اس جملہ کا دوسرا ترجمہ جو اوپر درج کیا گیا ہے، بہت سے علماء اور مفسرین اس ترجمہ کے بھی موّید ہیں۔ اور اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی پیداوار سے انتفاع کا حق سب…
Read the full tafseer →8۔ روایات نزول میں آتا ہے کہ خلقت زمین و آسمان کی بابت سوال، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا، جواب قرآن کے ذریعہ سے مل رہا ہے۔ (آیت) ” رواسی “ پر حاشیہ پہلے گزر چکا۔ (آیت) ” فی اربعۃ ایام “۔ اوپر کی آیت کے یومین (دوروز) بھی اس مدت میں شامل ہیں۔ اس سے الگ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
آیت نمبر 9 تا 18
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے ! کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو، اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین دو روز میں پیدا کردی یعنی اتوار اور پیر میں اَئِنَّکُمْ میں دوسرے ہمزہ کی تحقیق و تسہیل کے ساتھ اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کرکے تمام جہانوں کا مالک وہی ہے عالمین عالَم کی جمع اور وہ اللہ کے علاوہ ہے عالمین عالَمْ مختلف الانواع ہونے کی وجہ سے جمع اور ذوی العقول کو (غیر ذوی العقول پر) غلبہ دینے کی وجہ سے یاء ونون کے ساتھ لایا گیا ہے، اور اس نے زمین میں اس کے اوپر جمے رہنے والے پہاڑ رکھ دیئے یہ جملہ مستانفہ ہے، اس کا عطف الذی کے صلہ پر فصل بالاجنبی کی وجہ سے جائز…
Read the full tafseer →وجعل فیھا رواسی من فوقھا وبرک فیھا وقدرفیھا اقواتھا فی اربعۃ ایام سواء للسائلین
اور اس نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنا دئیے اور اس (زمین) میں فائدہ کی چیزیں رکھ دیں اور اس میں اسکے رہنے والوں کی غذائیں تجویز کردیں ‘ چار دن میں (یہ سب کچھ ہوا جو شمار میں) پورے ہیں پوچھنے والوں کیلئے۔
وَجَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَ یعنی زمین میں پہاڑ پیدا کئے جو جمے ہوئے ہیں ‘ زمین میں گڑے ہوئے ہیں۔
مِنْ فَوْقِھَا یعنی زمین کے اوپر سے اٹھے ہوئے ہیں۔
وَبٰرَکَ فِیْھَا یعنی زمین میں دریا ‘ نہریں ‘ درخت ‘ پھل اور جانور پیدا کئے۔
وَقَدَّرَ فِیْھَآ اَقْوَاتَھَا اور زمین کے باشندوں کی روزی زمین میں ہی مقرر فرما دی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(10۔ 11) اور اس نے زمین کے اوپر مضبوط پہاڑ بنا دیے جو اس کے لیے میخیں ہیں اور زمین میں پانی درخت سبزیاں اور پھل پیدا کیے اور اس نے زمین میں معیشت اور غذا کی چیزیں پیدا کردیں جو اس زمین کے علاوہ اور مقام پر نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے روحوں کو جسموں سے دنیاوی سالوں کے اعتبار سے چار ہزار سال پہلے پیدا کیا جسموں سے چار ہزار سال پہلے ان کی روزیاں مقرر کردیں۔
یہ تمام چیزیں پوری ہیں خواہ کوئی پوچھے یا نہ پوچھے یا یہ کہ سوال کرنے والوں کے لیے جنہوں نے ان چیزوں کے پیدا ہونے کے بارے میں سوال کیا تھا یہ جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا۔ پھر آسمان کے بنانے کی طرف متوجہ ہوا وہ پانی کے بخارات کی…
Read the full tafseer →(1) وجعل فیھا واسی :”رواسی“ کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حجر (19) اور سورة انبیائ (31)
(2) من فوقھا : اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پورے کے پورے زمین کے اندر گاڑ دینے کے بجائے ان کا ایک حصہ زمین کے اوپر رکھا۔ اس میں بیشمار حکمتیں اور آدمی کے لئے فائدے ہیں، کیونکہ اگر پہاڑ پورے ہی زمین کے اندر ہوتے تو آدمی برف کے ان ذخیروں سے فیض یاب نہ ہو ستکا جو پہاڑ محفوظ رکھتے ہیں اور نہ ہی جنگلوں اور دریاؤں کے یہ سلسلے ہوتے۔ اس کے علاوہ بیشمار سونے، چاندی اور دوسری دھاتوں، گیسوں اور ہیرے جواہرات سے محروم رہتا جو وہ پہاڑوں کے زمین سے اوپر ہونے کی وجہ سے نکلتا ہے۔
(3) وبرک فیھا : یعنی اس میں خیر کی بیشمار اشیاء کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
(قل ائنکم لتکفرون۔۔۔۔ )
1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 169
قل ائنکم لتفکرون بالذی خلق الارض فی فومین ائنکم دو ہمزوں کے ساتھ ہے دوسرا ہمزہ بین بین ہے اور دو ہمزوں کے درمیان الف ہے اس کا معنی شرمندہ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو حکم دیا تاکہ انہیں شرمندہ کیا جائے اور ان کے فعل پر تعجب کا اظہار کیا جائے معنی ہے تم کیوں اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہو جبکہ وہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ؟ یومین سے مراد اتوار اور سوموار ہے انداد ًاکا معنی اضداد اور شریک ہیں وجعل فیھا ھا ضمیر سے مراد زمین ہے، رواسی سے مراد پہاڑ ہیں۔ وہب نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو اسے پانی پر پھیلا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
1:۔ ابن جریر ونحاس (رح) (فی ناسخہ) وابوالشیخ (رح) فی العظمہ) اور حاکم (رح) (وصححۃ) وابن مردویہ اور بیہقی (رح) نے (الاسماء والصفات میں) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے آسمان اور زمین کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ زمین کو اتوار اور پیر کے دن پیدا فرمایا اور پہاڑوں کو اور ان میں جو منافع ہیں وہ منگل کے دن پیدا فرمایا اور بدھ کے دن درخت، پانی، شہر، آبادی، کھنڈرات کو پیدا فرمایا یہ چار دن ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین وتجعلون لہ اندادا، ذلک رب العلمین (9) وجعل فیھا رواسی من فوقھا وبرک فیھا وقدر فیھا…
Read the full tafseer →وَجَعَلَ فِيْهَا [ اور اس نے بنائے اس میں ] رَوَاسِيَ [ کچھ پہاڑ ] مِنْ فَوْقِهَا [اس کے اوپر سے ] وَبٰرَكَ فِيْهَا [ اور اس نے برکت دی اس میں ] وَقَدَّرَ فِيْهَآ [ اور اس نے مقدر کیں اس میں ] اَقْوَاتَهَا [ اس کی روزیاں ] فِيْٓ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ ۭ [ چار دنوں میں ] سَوَاۗءً [ برابر (ضرورت کے مطابق) ہوتے ہوئے ] لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ [ مانگنے والوں کے لئے ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 10 ۔ میں فرمایا کہ زمین میں برکتیں رکھیں ۔ یہ اسی برکت کا کرشمہ ہے کہ یہ ہر قسم کی نباتات اگاتی ہے جن کے پھل اور پھول انسان اور دوسری مخلوقات کے کام آتے ہیں ] ۔ یہ اسی کا فیض ہے کہ ایک دانہ انسان بوتا ہے اور زمین سینکڑوں دانوں…
Read the full tafseer →(فِیْ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍ ) یہ مذکورہ کام چار دن میں ہوئے یعنی دو دن میں زمین پیدا فرمائی اور دو دن میں پہاڑوں کی پیدائش فرمائی اور برکت کا رکھ دینا اور روزیوں کا مقرر فرمانا ہوا چونکہ دیگر آیات میں آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان چیزوں کی تخلیق چھ دن بتائی ہے اس لیے مفسرین کرام نے مذکورہ بالا تفسیر اختیار کی ہے دو دن زمین کے پیدا فرمانے کے اور دو دن دوسری چیزوں کے (جو مذکور ہوئیں) اور دو دن آسمانوں کی تخلیق کے جن کا ذکر ابھی آتا ہے۔ انشاء اللہ۔
(سَوَاءً لِّلَسَّاءِلِیْنَ ) یہ پورے چار دن ہیں پوچھنے والوں کے لیے۔ تفسیر درمنثور میں بحوالہ حاکم اور بیہقی حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
استعجاب وتوبیخ برکفر خالق کائنات وتہدید بذکرانجام مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض ........ الی ......... وکانوایتقون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور اثبات رسالت نبی کریم ﷺ ، بطور تمہید ان امور کو ذکر کرکے اب ان آیات میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس امر پر اظہار تعجب کیا جارہا ہے کہ خالق کائنات (جس کی قدرت وخالقیت اور الوہیت کے دلائل روزروشن سے زائد واضح ہیں) کا انکار کوئی بھی صاحب عقل انسان کیونکر کرتا ہے، جب بھی انسان عقل اور فطرت کے معیار پر اس بات کو پرکھے گا کبھی بھی انکار خدا اور شرک کے امکان کا تصور بھی نہیں کرسکتا، اس ذلیل میں…
Read the full tafseer →8:۔ ” وجعل فیہا رواسی “ زمین پر پہاڑ رکھ دئیے تاکہ وہ اپنی جگہ قائم رہے ” وبارک فیہا “ اور اس میں انسانوں کے لیے برکات و منافع ودیعت فرمادئیے اور ساری مخلوق کے لیے پورے اندازے کے ساتھ روزی اور معاش کا سامان اس میں رکھ دیا۔ زمین کو ساری مخلوق (انسان، جن، چوپائے، پرندے، حشرات الارض وغیرہ وغیرہ ) ۔ کی تمام ضروریات زندگی کا مخزن بنادیا جس سے مخلوق خدا حسب ضرورت قیامت تک استفادہ کرتی رہے گی اور زمین کے خزانوں سے ان کی تمام ضروریات زندگی پوری ہوتی رہیں گی۔ کوئی چیز ایک علاقے میں وافر پیدا کردی اور کوئی چیز دوسرے علاقہ میں۔ تاکہ لوگ مل جل کر اور امداد باہمی کے ساتھ زندگی بسر کریں اور ہر علاقہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ربط آیات
پہلے قرآن حکیم کی حقانیت و صداقت اور اس کا وحی الٰہی ہونا بیان کیا اور ساتھ یہ بھی کہ یہ مفصل کتاب ہے ۔ جو عربی زبان میں نازل ہوئی ہے۔ اللہ نے اس کی غر ض وغایت بیان کی اور ساتھ مشرکوں کا رد فرمایا ۔ پھر پیغمبر (علیہ السلام) کی زبان مبارک سے کہلوایا کہ میں تو تم جیسا انسان ہوں اور میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تمہارا معبود بر حق ایک ہی معبود ہے۔ اس کے بعد اللہ نے استقامت علی الدین کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی ترغیب دی ۔ مشرکین کا شکوہ بیان ہوا کہ وہ پاکیزگی اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ ان کے بر خلاف ایمان اور نیکی والوں کے لیے اللہ کے…
Read the full tafseer →وَجَعَلَ فِيْہَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِہَا وَبٰرَكَ فِيْہَا وَقَدَّرَ فِيْہَآ اَقْوَاتَہَا فِيْٓ اَرْبَعَۃِ اَيَّامٍ 0 ۭ سَوَاۗءً لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ 10
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
رسا
يقال : رَسَا الشیء يَرْسُو : ثبت، وأَرْسَاهُ غيره، قال تعالی: وَقُدُورٍ راسِياتٍ
[ سبأ/ 13] ، وقال : رَواسِيَ شامِخاتٍ [ المرسلات/ 27] ، أي : جبالا ثابتات، وَالْجِبالَ أَرْساها[ النازعات/ 32] ،
( ر س و )
رسا الشئی ۔ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ترکیب : قرء الجمہور بھمزتین للاستفہام بالھمزۃ وان واللام بعدھا لتا کید الانکار والتشنیع و تجعلون لہ اندادًا الجملۃ معطوفۃ علی تکفرون داخلۃ تحت الاستفہام وجعل فیہا معطوف علی خلق وقیل مستانف لوقوع الفصل بینھما بالاجنبی فی اربعۃ ایام ای فی تتمۃ اربعۃ ایام۔ سوائً منصوب علی انہ مصدر موکد لفعل محذوف ھو صفۃ لایام ای استوت الاربعۃ سواء للسائلین متعلق بہ محذوف تقدیرہ اے قدر فیھا الاقوات للطالبین طوعا اوکرھا مصدران فی موضع الحال اتینا بالقصر بمعنی جئینا و بالمد بمعنی اعطینا الطائعۃ طالُعین حال و حفظا مصدر۔
تفسیر : پہلے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا تھا کہ کہہ دو ویوحیٰ الی انما الہکم الٰہ واحد کہ میری طرف…
Read the full tafseer →وَجَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِھَا وَبٰـرَکَ فِیْھَا وَقَدَّرَ فِیْھَـآ اَقْوَاتَھَا فِیْٓ اَرْبَعَۃِ اَ یَّامٍ ط سَوَآئً لِّلسَّآئِلِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 10)
(اور اس نے اس زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ جما دیئے اور اس میں برکتیں رکھیں اور اس میں غذائی ذخیرے رکھے، سب ضرورتمندوں کے لیے یکساں طور پر، یہ سب کام چار دن میں ہوگئے۔ )
اللہ تعالیٰ کی صفات سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر استدلال
پیشِ نظر آیت کریمہ میں زمین کی اندرونی تخلیق کی کچھ تفصیلات بہم پہنچائی گئی ہیں جن میں سب سے پہلی بات یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ جب زمین کو بچھا دیا گیا تو وہ چپٹی ہونے کی وجہ سے ایک فرش کی طرح بچھی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
فہم القرآن
ربط کلام : مشرک اور کافر جس حقیقی الٰہ کے ساتھ شرک اور کفر کرتے ہیں صرف اسی ایک ذات نے زمین و آسمانوں اور پہاڑوں کو بنایا ہے۔ کیا کوئی ہستی ہے ؟ جس نے یہ کام کیے ہوں ؟
قرآن مجید نے یہ بات بھی بار ہا دفعہ بتلائی ہے کہ رمینوں آسمانوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے نہیں بنایا اور نہ ہی ان کے بنانے میں کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک تھا۔ اس لیے یہاں کفار سے استفسار کیا گیا ہے کہ کیا تم اس ذات کبریا کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو یوم میں پیدا فرمایا۔ تم بتوں، بزرگوں اور دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ حالانکہ تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا ایک ” اللہ “ ہی عبادت کے لائق ہے۔ اسی نے زمین پر…
Read the full tafseer →پہاڑوں کو گاڑ دیا :
وَجَعَلَ فِيْهَا (اور اس نے زمین میں بنا دئیے) رَوَاسِيَ (قائم رہنے والے پہاڑ) مِنْ فَوْقِهَا (اس کے اوپر) اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے اوپر گاڑا تاکہ پہاڑوں کے منافع طلب گاروں کے لیے ظاہر ہوں اور تاکہ یہ بھی انسان دیکھ لے کہ یہ پہاڑ بوجھ پر بوجھ ہے اور ہر ایک ان میں سے ایک ایسی ذات کا محتاج ہے جو ان کو تھامے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات مبارکہ ہے۔ وَبٰرَكَ فِيْهَا (اور فائدے کی چیزیں رکھ دیں) ، یعنی پانی، کھیتی اور درخت و ثمر سے برکت دی۔ وَقَدَّرَ فِيْهَآ اَقْوَاتَهَا (اور اس میں اس کی غذائیں تجویز کردیں) ۔ اقوات سے مراد اہل زمین کے رزق اور جن چیزوں پر ان کی معیشت اور…
Read the full tafseer →9، قل انئنبکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین، اتوار اور سوموار کے دن۔
، وتجعلون لہ انداداذالک رب العالمین،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
9۔ 12۔ ان آیتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین اور پہاڑ اور جو کچھ زمین میں پیداوار کی چیزیں ہیں پہلے چار روز میں یہ سب کچھ پیدا کیا گیا ہے اور پھر دور و زمین آسمان پیدا کئے گئے اور دالنازعات کی آیت ولارض بعد ذلک دحھا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کے پیدا ہونے کے بعد زمین پھیلائی گئی ہے اسی واسطے اکثر مفسرین نے ان دونوں آیتوں کو ملا کر یہ اعتراض کیا ہے کہ ایک آیت سے زمین کا آسمان سے پہلے پیدا کرنا معلوم ہوتا ہے اور دوسری آیت سے آسمان کے بعد پھر طرح طرح سے اس اعتراض کا جواب بھی دیا ہے اور یہ اعتراض کچھ آج کل کا نیا اعتراض نہیں ہے کیونکہ صحیح بخاری 1 ؎ میں (1 ؎ بخاری شریف تفسیر سورة حم السجدۃ ص 712…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت 9
اللہ تبارک و تعالیٰ تعجب کے ساتھ کفار کے کفر کا انکار کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ہر سر گھڑ رکھے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا ہوا ہے، ان کی عبادت کرتے ہیں، انہیں رب عظیم اور مالک کریم کے برابر گردانتے ہیں، جس نے اتنی بڑی زمین کو صرف دو دن میں پیدا کیا، پھر دو دن میں اس کو ہموار کیا، اس کے اندر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اسے مٹنے، ہلنے اور عدم استقرار سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کی تکمیل کی، پھر پھیلا کر ہموار کیا، اس میں سے خوراک اور اس کی توابعات نکالیں (آیت) ” چار دن میں، سوال کرنے والوں کے لئے یکساں ہے۔ “ یہ اس بارے میں سوال کرنے والوں کے لئے ٹھیک ٹھیک جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
15 آثارِ کائنات میں غور و فکر کی دعوت : سو زمین کے آثار و نشانات میں غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ کیا تم لوگ اس وحدہ لا شریک کے ساتھ کفر کرتے ہو اور اس کے لیے من گھڑت شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین کے اس عظیم الشان کرے کو دو دنوں کے اندر پیدا فرمایا ہے "۔ یعنی عجائب وغرائب اور بےحد و حساب نعمتوں سے بھر پور یہ زمین بنانا اور دو دنوں میں بنادینا ایک طرف اس کے کمال قدرت کی نشانی ہے اور دوسری طرف یہ اس کے بےپایاں کرم و احسان کا جیتا جاگتا ثبوت بھی ہے۔ پھر ایسے خدائے پاک کے ساتھ کفر کرنا جس قدر بڑا اور سنگین جرم ہوسکتا ہے اس کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ سو باز آجاؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–18
دنیا کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آخرت پر دھیان دینا ضروری ہے۔
اللہ کا حکم نبی ﷺ کی زبانی
تشریح : ان آیات کو پڑھنے سے مسلمان کے خصوصی اعتقادات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ رسول کو عام انسانوں پر فوقیت کیوں دی گئی۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کی بہترین مثال ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دے۔ سب سے پہلے وہ اللہ کی وحدانیت کا حکم سناتا ہے وہ واحد اس لیے ہے کہ اس جیسا خالق، مہربان، منتظم، انصاف کرنے والا اور باخبر اور کوئی نہیں جن، بشر یا فرشتے کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اس کی بنائی ہوئی تمام مخلوقات بہترین، مکمل اور نقص سے پاک ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
آیات 9 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
ان سے کہیے کہ تم اس ذات کو ماننے سے انکار کر رہے ہو جس نے دو روز میں زمین کو پیدا فرمایا اور اس کے مقابل دوسروں کو لاتے ہو اور انہیں معبود مانتے ہو جو کچھ پیدا تو کیا کرتے الٹا خود مخلوق کو یہی ذات سارے جہانوں کی پیدا کرنے والی بھی ہے اور پالنے والی بھی یہ اس کی حکمت کہ اس نے دوروز میں زمین بنائی پھر اس میں بھاری پہاڑ اور بیشمار برکات بےحساب نعمتیں رکھیں اپنی ہر ہرمخلوق کے لیے اس میں غذائیں سمودیں اور یہ ساراکام چار روز میں مکمل فرمایا کہ ساری مخلوق کی ہر ضرورت کو ہمیشہ پورا کرتی رہے گی اور یہ معنی بھی ہے کہ یہود مدینہ نے آپ سے زمین وآسمان کی تخلیق کے بارے میں جو…
Read the full tafseer →ف 8 زمین کی برکت سے مراد درخت اور پودے بھی ہیں پانی بھی اور وہ بےحد و حساب معدنیات بھی جو کھول برس سے اس کے بطن سے نکلتی چلی آرہی ہیں اور تا قیامت نکلتی رہیں گی۔9” جن سے وہ زندہ رہیں “ خوراک کے مفہوم میں انسانی زندگی کی ضروریات اور کسب معاش کے جملہ وسائل شامل ہیں۔10 وہ دن زمین کی پیدائش کے اور دو دن اس میں پہاڑوں اور اسباب زیست کی پیدائش کے۔11 یعنی یہ وضاحت ان لوگوں کے لئے ہے جو پیدائش کے متعلق سوال کرتے ہیں یا ” سائلین “ کے معنی ہیں ” مانگنے والوں کے لئے “ یعنی ضرورت مندوں کے لئے زمین میں خوراک کا سامان مہیا کردیا ہے۔
Read the full tafseer →(41:10) رواسی : راسیۃ کی جمع ہے بمعنی بوجھ۔ پہاڑ۔ رواسی کا استعمال ٹھہرے ہوئے پہاڑوں کے لئے آتا ہے۔ رسو (باب نصر) سے اسم فاعل واحد مؤنث راسیۃ اس بڑی دیگ کو کہتے ہیں جو ثقیل ہونے کی وجہ سے ایک ہی جگہ پڑی رہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے وقد ور راسیت (34:13) اور بھاری دیگیں جو چولہوں پر جمی رہتیں ۔ لہٰذا رواسی سے وہ پہاڑ مراد ہیں جو ایک ہی جگہ بوجہ بوجھ وحبثہ جمے رہیں۔
بارک : ماضی واحد مذکر غائب مبارکۃ (باب مفاعلۃ) مصدر۔ اس نے برکت دی۔ مطلب یہ کہ اس نے اس میں بڑی برکتیں (برکت والی چیزیں) رکھ دیں مثلا : آگ، پانی، ہوا۔
قدر۔ ماضی واحد مذکر غائب تقدیر (تفعیل) مصدر۔ مقدر کردیا۔ اندازے کے مطابق مقرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 18 : رواسی ( بھاری پہاڑ ، بوجھ) اقوات ( قوت) ( کھانے کی چیزیں) قدر (اس نے مقرر کیا ، اندازہ کیا) دخان ( دھواں) طوعا (خوشی خوشی) کرھا ( زبردستی) طالعین (کہا ماننے والے) قضی (اس نے فیصلہ کیا) زینا (ہم نے زینت دی ، خوبصورت بنایا) مصابیح (چراغ) صعقۃ (کڑک) اشد (زیادہ طاقت والا) یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں) ریح (ہوا) صرصر (سخت ، تند و تیز) نحسات (آفتوں والا) اخزی (زیادہ ذلیل کرنے والا) استحبوا (انہوں نے پسند کیا) الھون ( ذلیل و رسوال کرنا)
تشریح : آیت نمبر 9 تا 18 : ان آیات میں کفار و مشرکین کو ان کے کفر و شرک پر آگاہ کرتے ہوئے زمین ، آسمان اور ان کے درمیان جتنی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
کافروں کے قدم بقدم چلنے کا انجام۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اگر یہ کفارلوگ اس سیدھی سیدھی نصیحت کو ٹال دیویں اور شرک وکفر سے باز نہ آویں تو اے محبوب ﷺ ان سے کہہ دیاجائے کہ میں تم کو عاد اور ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ جو تمہارا حال ہے وہی انکا تھا کہ جس طرح آگے پیچھے ایک کے بعد ایک وہ قومیں پیدا ہوئیں اسی طرح آگے پیچھے ان کے پاس پیغمبر بھیجے گئے اور پیغمبروں نے ان قوموں کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کی نصیحت بھی کی مگر جس طرح بےٹھکانے کی باتیں اللہ کے رسول سے تم لوگ کرتے ہو کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا، تو کوئی فرشتہ ہونا چاہیے ایسی ہی باتیں ان کافروں نے اللہ کے پیغمبروں سے کیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
[5] یہ سارے کام یعنی زمین کی خلقت، اس کے اندر پہاڑ گاڑنے اور اس پر بسنے والوں کے لئے خوراک مقدر کرنے میں پورے چار دن لگے۔
[6] یعنی جو لوگ آسمان اور زمین کی تخلیق کے متعلق سوالات کر رہے ہیں انہیں بتلا دو کہ یہ سب کام چار دن میں ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
سلسلہ تکوین
1: تکوین کائنات کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ زمین کو دو مدید وقفوں میں پیدا کیا ہے ۔ اور پھر اس میں پہاڑوں کو استوار کیا ہے ۔ اور ضروری برکات پھیلائی ہیں ۔ اور غذاؤں کا سامان مہیا کیا ہے ۔ اور یہ سب کچھ چار وقفوں میں قرار پایا ۔ پھر آسمان کی جانب توجہ مبذول کی ۔ اور ان کو کئی بلندیوں میں تقسیم فرمایا ۔ اور یہ بھی دو قرنوں میں ہوا مگر یہ دو قرن پہلے دو قرنوں میں داخل ہوا ۔ اس کے بعد سطح دنیا کو بوقلمون چراغوں سے آراستہ فرمایا ۔ اور ان میں حفاظت کے لئے پورا پورا انتظام کردیا ۔ کہ شیطانی قوتیں ملا واعلیٰ کے اسرار نہ معلوم کرلیں ۔ فرمایا کہ ساری کائنات میں دیکھو تمہیں معلوم…
Read the full tafseer →(10) اور اس نے زمین میں اس زمین کے اوپر بھاری بھاری پہاڑ قائم کردیئے اور اسی نے اس زمین میں برکت رکھی اور زمین پر رہنے والوں کی غذائیں اور روزی بھی اسی زمین میں مقرر کردیں یہ سب کچھ کامل چار دن میں ہوا دریافت کرنے والوں کے لئے یہ واضح بیان اور پورا جواب ہے۔ شاید یہود نے دریافت کیا تاکہ آپ کے جواب کو تورات سے ملا کر دیکھیں۔ اس کا یہ جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو ہی دن کے وقت کی مقدار میں یہ کام کیا کہ زمین پر پہاڑوں کو جمایا اور بھاری بھاری پہاڑ رکھے زمین میں برکت رکھی کہ برابر ہر چیز پیدا کرتی ہے اور برسہا برس سے زمین کی برکتوں سے مخلوق اس کی پیداوار سے مالا مال ہورہی ہے اسی کو فرمایا وقد فیھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ف 4۔ چناچہ مشاہد ہے کہ ہر حصہ ارض کے رہنے والوں کے مناسب الگ الگ غذائیں ہیں، یعنی زمین میں ہر قسم کے غلے میوے پیدا کردیئے، کہیں کچھ کہیں کچھ، جن کا سلسلہ اب تک چلا آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9 ؎ ذرا غور کرو کہ یہ زمین کتنی بڑی چیز ہے لیکن وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرم کی ذات کتنی طاقت وقوت رکھتی ہے جس نے اس کو صرف اور صرف دو ادوار میں پیدا کردیا اور یہ دو ادوار یا دو دن کا تصور بھی تمہاری تفہیم کے لیے ہے ورنہ کلمہ (کُن) پر کتنا وقت صرف ہوتا ہے بہرحال اتنی بڑی زمین کا بچھادینا اور اس میں قوت نمو اس قدر رکھ دینا کہ کوئی چیز جو قابل کاشت ہے اس میں کاشت کی اور ادھر بیج اُگ کر اس نے کئی گنا زیادہ واپس دینے کی تیاری شروع کردی لیکن تعجب ہے تم پر کہ تم خود یہ بات تسلیم بھی کرتے ہو کہ یہ سارے کام وہ اکیلا کررہا ہے اور پھر اس کے ساتھ شرک بھی کرتے جا رہے ہو حالانکہ تم بھی یہ سارے کام کرنے…
Read the full tafseer →it is stated separately: وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ (He has placed firm mountains in it [ the earth ] towering above it, and put blessings in it, and proportioned its foods therein, in four days - 10). It should be remembered that the four days mentioned in this verse are inclusive of the first two days mentioned in verse 9, according to the consensus of the exegetes. The first two days and the later four days are not separate, otherwise the total period of creation would become eight days which is against the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
11 "Blessings of the earth" imply those measureless and countless things which have been continuously coming out of it since millions and millions of years, and are fulfilling the ever increasing needs and requirements of all the creatures from the microscopic germs to the highly civilized man. Among these the principal blessings are the air and the water by which alone vegetable, animal and then human life became possible on the earth.
12 This sentence has been interpreted by the commentators in different ways: Some of them interpret it to mean: "The provisions of the earth were placed in it…
Read the full tafseer →