41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 41:1–2

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

اتارا ہوا ہے بڑے مہربان رحم والے کی طرف سے1

1 یعنی اللہ تعالیٰ کی بہت ہی بڑی مہربانی اور رحمت بندوں پر ہے جو ان کی ہدایت کے لیے ایسی عظیم الشان اور بیمثال کتاب نازل فرمائی۔
Ayah 41:3

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

ایک کتاب ہے کہ جدا جدا کی ہیں اس کی آیتیں2 قرآن عربی زبان کا ایک سمجھ والے لوگوں کو3

2 لفظی طور پر آیات کا جدا جدا ہونا تو ظاہر ہے، مگر معنوی حیثیت سے بھی سینکڑوں قسم کے علوم اور مضامین کی تفصیل الگ الگ آیات میں کی گئی ہے۔ 3 یعنی قرآن کریم اعلیٰ درجہ کی صاف و شستہ عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے جو اس کے مخاطیبین اولین کی مادری زبان تھی۔ تاکہ ان لوگوں کو سمجھنے میں دقت نہ ہو۔ خود سمجھ کر دوسروں کو پوری طرح سمجھا سکیں۔ مگر اس کے باوجود بھی ظاہر ہے وہ ہی لوگ اس سے منتفع ہوسکتے ہیں جو سمجھ رکھتے ہوں، ناسمجھ جاہل کو اس نعمت عظمیٰ کی کیا قدر ہوسکتی ہے۔
Ayah 41:4

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

سنانے والا خوشخبری اور ڈر4 پر دھیان میں نہ لائے وہ بہت لوگ سو وہ نہیں سنتے5

4 یعنی قرآن اپنے ماننے والوں کو نجات و فلاح کی خوشخبری سناتا اور منکروں کو برے انجام سے ڈراتا ہے۔ 5 یعنی ان سب باتوں کے باوجود بھی تعجب ہے ان میں کے بہت لوگ اس کتاب کی بیش قیمت نصائح کی طرف دھیان نہیں کرتے۔ اور جب ادھر دھیان ہی نہیں تو سننا کیوں چاہیں گے۔ فرض کیجیے کانوں سے سن بھی لیا لیکن گوش دل سے نہ سنا اور قبول کرنے کی توفیق نہ ہوئی تو سنا ان سنا برابر ہے۔
Ayah 41:5

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہمارے دل غلاف میں ہیں اس بات سے جس کی طرف تو ہم کو بلاتا ہے اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے اور ہمارے اور تیرے بیچ میں پردہ ہے سو تو اپنا کام کر ہم اپنا کام کرتے ہیں6

6 یعنی صرف اسی قدر نہیں کہ نصیحت کی طرف دھیان نہیں کرتے یا کان نہیں دھرتے، بلکہ ایسی باتیں کرتے ہیں جن کو سن کر ناصح بالکلیہ مایوس ہوجائے۔ اور آئندہ نصیحت سنانے کا ارادہ بھی ترک کر دے۔ مثلاً کہتے ہیں ہمارے دلوں پر تو تمہاری باتوں کی طرف سے غلاف چڑھے ہوئے ہیں اس لیے کوئی بات وہاں تک پہنچتی نہیں۔ اور جب تم بات کرتے ہو ہمارے کان اونچا سننے لگتے ہیں۔ ثقل سماع کی وجہ سے کچھ سنائی نہیں دیتا، اور ہمارے تمہارے درمیان ایسا پردہ ہے جو ایک کو دوسرے سے ملنے نہیں دیتا، دشمنی، اور عداوت کی جو دیواریں کھڑی ہیں وہ درمیان سے اٹھ جائیں اور جو خلیج حائل ہے وہ پر ہو، تب ہم میں سے ایک دوسرے تک پہنچ سکے۔ لیکن ایسا ہونا ناممکن ہے۔ پھر تم کیوں اپنا مغز تھکاتے ہو۔ ہم کو ہمارے حال پر چھوڑو، تم اپنا کام کیے جاؤ، ہم اپنا کام کریں گے۔ اس کی توقع مت رکھو کہ ہم کبھی تمہاری نصیحتوں سے متاثر ہونے والے ہیں۔
Ayah 41:6

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

تو کہہ میں بھی آدمی ہوں جیسے تم حکم آتا ہے مجھ کو کہ تم پر بندگی ایک حاکم کی ہے سو سیدھے رہو اس کی طرف اور اس سے گناہ بخشواؤ7 اور خرابی ہے شریک کرنے والوں کو

7 یعنی نہ میں خدا ہوں کہ زبردستی تمہارے دلوں کو پھیر سکوں، نہ فرشتہ ہوں جس کے بھیجے جانے کی تم فرمائش کیا کرتے ہو نہ کوئی اور مخلوق ہوں، بلکہ تمہاری جنس و نوع کا ایک آدمی ہوں جس کی بات کا سمجھنا تم کو ہم جنسی کی بناء پر آسان ہونا چاہیے، اور وہ آدمی ہوں، جسے حق تعالیٰ نے اپنی آخری اور کامل ترین وحی کے لیے چن لیا ہے بناء ً علیہ خواہ تم کتنا ہی اعراض کرو اور کتنی ہی یاس انگیز باتیں کرو میں خدائی پیغام تم کو ضرور پہنچاؤں گا مجھے بذریعہ وحی بتلایا گیا ہے کہ تم سب کا معبود اور حاکم علی الاطلاق ایک ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں۔ لہذا سب کو لازم ہے کہ تمام شؤون و احوال میں سیدھے اسی خدائے واحد کی طرف رخ کر کے چلیں اس کے راستہ سے ذرا ادھر ادھر نہ قدم نہ ہٹائیں اور پہلے اگر ٹیڑھے ترچھے چلے ہیں تو اپنے پروردگار سے اس کی معافی چاہیں۔ اور اگلی پچھلی خطائیں بخشوائیں۔
Ayah 41:7

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو نہیں دیتے زکوٰۃ اور وہ آخرت سے منکر ہیں8

8 جن لوگوں کا معاملہ اللہ کے ساتھ یہ ہے کہ عاجز مخلوق کو اس کی بندگی میں شریک کرتے ہیں، اور بندوں کے ساتھ یہ ہے کہ صدقہ اور زکوٰۃ کا پیسہ کسی محتاج مسکین پر خرچ کرنے کے روا دار نہیں ساتھ ہی انجام کی طرف سے بالکل غافل اور بےفکر ہیں، کیونکہ انہیں تسلیم ہی نہیں کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی اور اچھے برے کا حساب کتاب بھی ہوگا۔ ایسوں کا مستقبل بجز ہلاکت اور خرابی و بربادی کے اور کیا ہونا ہے۔ (تنبیہ) بعض سلف نے یہاں " الزکوٰۃ " سے مراد کلمہ طیبہ لیا ہے۔ اور بعض نے " زکوٰۃ " کے معنی پاکیزگی اور ستھرائی کے لیے ہیں۔ مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ اپنے نفس کو عقائد فاسدہ اور اخلاق ذمیمہ سے پاک و صاف نہیں کرتے۔ اس میں کلمہ طیبہ کا ترک اور زکوٰۃ وغیرہ کا ادا نہ کرنا بھی آگیا۔ وہذا کما قال (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى) 87 ۔ الاعلیٰ :14) ۔ وقال (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا) 91 ۔ الشمس :9) وقال (وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَكٰوةً ) 19 ۔ مریم :13) وغیرہ ذالک۔ شاید یہ معنی اس لیے یہاں لیے گئے ہوں کہ کفار مخاطب بالفروع نہیں یا اس لیے کہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ وغیرہ کی تشخیص مدینہ میں ہوئی۔ واللہ اعلم۔
Ayah 41:8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

البتہ جو لوگ یقین لائے اور کئے بھلے کام ان کو ثواب ملنا ہے جو موقوف نہ ہو9

9 یعنی کبھی منقطع نہ ہوگا ابدالآباد تک جاری رہے گا۔ جنت میں پہنچ کر نہ ان کو فنا نہ ان کے ثواب کو۔
Ayah 41:9

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

تو کہہ کیا تم منکر ہو اس سے جس نے بنائی زمین دو دن میں اور برابر کرتے ہو اس کے ساتھ اوروں کو وہ ہے رب جہان کا1

1 یعنی کس قدر تعجب کا مقام ہے کہ رب العالمین کی وحدانیت اور صفات کمالیہ کا انکار کرتے اور دوسری چیزوں کو اس کے برابر سمجھتے ہو جو ایک ذرہ کا اختیار نہیں رکھتیں۔
Ayah 41:10

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور رکھے اس میں بھاری پہاڑ اوپر سے اور برکت رکھی اس کے اندر اور ٹھہرائیں اس میں خوراکیں اس کی2 چار دن میں پورا ہوا پوچھنے والوں کو3

2 " اور برکت رکھی اس کے اندر " یعنی قسم قسم کی کانیں، درخت، میوے، پھل، غلے اور حیوانات زمین سے نکلتے ہیں اور " ٹھہرائیں اس میں خوراکیں اس کی " یعنی زمین پر بسنے والوں کی خوراکیں ایک خاص اندازہ اور حکمت سے زمین کے اندر رکھ دیں۔ چناچہ ہر اقلیم اور ہر ملک میں وہاں کے باشندوں کی طبائع اور ضروریات کے موافق خوراکیں مہیا کردی گئی ہیں۔ 3 یہ سب کام چار دن میں ہوا دو روز میں زمین پیدا کی گئی اور دو روز میں اس کے متعلقات کا بندوبست ہوا۔ جو پوچھے یا پوچھنے کا ارادہ رکھتا ہے اسے بتلا دو کہ یہ سب مل کر چار دن ہوئے بدون کسر اور کمی بیشی کے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یعنی پوچھنے والوں کا جواب پورا ہوا تنبیہ : یہاں دنوں سے مراد ظاہر ہے معروف و متبادر دن نہیں ہوسکتے کیونکہ زمین اور سورج وغیرہ کی پیدائش سے قبل ان کا وجود متصور ہی نہیں۔ لامحالہ ان دنوں کی مقدار مراد ہوگی یا وہ دن مراد ہو جس کی نسبت فرمایا ہے (وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ) 22 ۔ الحج :47)
Ayah 41:11

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر چڑھا آسمان کو اور وہ دھواں ہو رہا تھا4 پھر کہا اس کو اور زمین کو آؤ تم دونوں خوشی سے یا زور سے وہ بولے ہم آئے خوشی سے5

4 یعنی پھر آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت سارا ایک تھا دھوئیں کی طرح اس کو بانٹ کر سات آسمان کیے، جیسا کہ آگے آتا ہے (تنبیہ) ممکن ہے " دخان " سے آسمانوں کے مادہ کی طرف اشارہ ہو۔ 5 یعنی ارادہ کیا کہ ان دونوں (آسمان و زمین) کے ملاپ سے دنیا بسائے۔ خواہ اپنی طبیعت سے ملیں یا زور سے ملیں۔ (بہرحال دونوں کو ملا کر ایک نظام بنایا تھا) وہ دونوں آملے اپنی طبیعت سے آسمان سے سورج کی شعاع آئی، گرمی پڑی، ہوائیں اٹھیں، ان سے گرد اور بھاپ اوپر چڑھی پھر پانی ہو کر مینہ برسا جس کی بدولت زمین سے طرح طرح کی چیزیں پیدا ہوئیں۔ اور پہلے جو فرمایا تھا کہ " زمین میں اس کی خوراکیں رکھیں۔ " یعنی اس میں قابلیت ان چیزوں کے نکلنے کی رکھ دی تھی۔ واللہ اعلم۔
Ayah 41:12

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر کردیے وہ سات آسمان دو دن میں6 اور اتارا ہر آسمان میں حکم اس کا7 اور رونق دی ہم نے سب سے ورلے آسمان کو چراغوں سے اور محفوظ کردیا یہ سادھا ہوا ہے زبردست خبردار کا8

6 یعنی چار دن وہ تھے اور دو دن میں آسمان بنائے کل چھ دن ہوگئے، جیسا کہ دوسری جگہ " ستۃ ایام " کی تصریح ہے۔ (تنبیہ) جن احادیث مرفوعہ میں تخلیق کائنات کے متعلق دونوں کی تعیین و ترتیب آئی ہے کہ فلاں فلاں چیز اللہ نے ہفتہ کے فلاں فلاں دن میں پیدا کی ان میں کوئی حدیث صحیح اب تک نظر سے نہیں گزری۔ حتیٰ کہ ابوہریرہ کی حدیث کے متعلق جو صحیح مسلم ہے ابن کثیر لکھتے ہیں۔ " وہومن غرائب الصحیح وقد عللہ البخاری فی التاریخ فقال رواہ بعضہم عن ابی ہریرۃ عن کعب الاحبار وہوالاصح۔ " اور روح المعانی میں فقال شافعی سے نقل کیا ہے " تفردبہ مسلم و قد تکلم علیہ الحفاظ علی ابن المدینی والبخاری وغیرہما وجعلوہ من کلام کعب وان اباہریرۃ انما سمعہ منہ ولکن اشتبہ علی بعض الرواۃ فجعلہ مرفوعًا۔ " (باقی قرآن کریم کی اس آیت اور سورة " بقرہ " کی آیت " ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ " سے جو ظاہر ہوتا ہے کہ سات آسمان زمین کی پیدائش کے بعد بنائے گئے۔ اور سورة " نازعات " میں (وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا) 79 ۔ النازعات :30) سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین آسمان کے بعد بچھائی گئی۔ اس کے جواب کئی طرح دیے گئے ہیں۔ احقر کو ابو حیان کی تقریر پسند ہے یعنی ضروری نہیں کہ پہلی آیت میں " ثم " اور دوسری میں " بعدذلک " تراخی زمان کے لیے ہو۔ ممکن ہے ان الفاظ سے تراخی فی الاخبار یا تراخی رتبی مراد لیں۔ جیسے " ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَوَاصَوْا بالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بالْمَرْحَمَةِ " میں۔ یا دوسری جگہ " عُتُلٍّۢ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍ ۔ " میں یہ ہی معنی مراد لیے گئے ہیں۔ بہرحال قرآن کریم میں ترتیب زمانی کی تصریح نہیں۔ ہاں نعمت کے تذکرہ میں زمین کا اور عظمت وقدرت کے تذکرہ میں آسمان کا ذکر مقدم رکھا ہے جس کا نکتہ ادنیٰ تامل و تدبر سے معلوم ہوسکتا ہے۔ تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔ یہ چند الفاظ اہل علم کی تنبیہ کے لیے لکھ دیے ہیں۔7 یعنی جو حکم جس آسمان کے مناسب تھا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ رب کو معلوم ہے کہ وہاں کون مخلوق بستی ہے اور ان کا کیا اسلوب (اور رنگ ڈھنگ) ہے۔ اتنی زمین میں ہزاروں ہزار کارخانے ہیں تو اتنے بڑے آسمان کب خالی پڑے ہوں گے۔ " 8 یعنی دیکھنے میں معلوم ہوتا ہے کہ گویا سب ستارے اسی آسمان میں جڑے ہوئے ہیں۔ رات کو ان قدرتی چراغوں سے آسمان کیسا پر رونق معلوم ہوتا ہے۔ پھر محفوط کنتا کردیا ہے کہ کسی کی وہاں تک دسترس نہیں۔ فرشتوں کے زبردست پہرے لگے ہوئے ہیں۔ کوئی طاقت اس نظام محکم میں رخنہ اندازی نہیں کرسکتی کیونکہ وہ سب سے بڑی زبردست اور باخبر ہستی کا قائم کیا ہوا ہے۔
Ayah 41:13

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر اگر وہ ٹلائیں تو تو کہہ میں نے خبر سنا دی تم کو ایک سخت عذاب کی جیسے عذاب آیا عاد اور ثمود پر9

9 یعنی کفار مکہ اگر ایسی عظیم الشان آیات سننے کے بعد بھی نصیحت قبول کرنے اور توحید و اسلام کی راہ اختیار کرنے سے اعراض کرتے رہیں تو فرما دیجئے کہ میں تم کو آگاہ کرتا ہوں کہ تمہارا انجام بھی " عاد " و " ثمود " وغیرہ اقوام معذبین کی طرح ہوسکتا ہے۔
Ayah 41:14

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب آئے ان کے پاس رسول آگے سے اور پیچھے سے10 کہ نہ پوجو کسی کو سوائے اللہ کے کہنے لگے اگر ہمارا رب چاہتا تو بھیجتا فرشتے سو ہم تمہارا لایا ہوا نہیں مانتے11

10 یعنی ہر طرف سے۔ شاید بہت رسول آئے ہوں گے مگر مشہور یہ ہی دو رسول ہیں۔ حضرت ہود اور حضرت صالح علی نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام۔ اور یا (مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ ) 41 ۔ فصلت :14) سے مراد یہ ہو کہ ان کو ماضی اور مستقبل کی باتیں سمجھاتے ہوئے آئے۔ کوئی جہت اور کوئی پہلو نصیحت و فہمائش کا نہیں چھوڑا۔ 11 یعنی خدا کا رسول بشر کیسے ہوسکتا ہے اگر اللہ کو واقعی رسول بھیجنا ہے تو آسمان سے کسی فرشتہ کو بھیجتا۔ بہرحال تم اپنے زعم کے موافق جو باتیں خدا کی طرف سے لائے ہو ہم ان کے ماننے کے لیے تیار نہیں۔
Ayah 41:15

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

سو جو عاد تھے وہ تو غرور کرنے لگے ملک میں ناحق اور کہنے لگے کون ہے ہم سے زیادہ زور میں1 کیا دیکھتے نہیں کہ اللہ جس نے ان کو بنایا وہ زیادہ ہے ان سے زور میں اور تھے ہماری نشانیوں سے منکر2

1 شاید رسولوں نے جو عذاب کی دھمکی دی ہوگی اس کے جواب میں یہ کیا ہو کہ ہم سے زیادہ زور آور کون ہے جس سے ہم خوف کھائیں۔ کیا ہم جیسے طاقتور انسانوں پر تم اپنا رعب جما سکتے ہو ؟ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ان کے جسم بہت بڑے بڑے ہوتے تھے۔ بدن کی قوت پر غرور آیا۔ غرور کا دم بھرنا اللہ کے ہاں وبال لاتا ہے۔ " 2 یعنی دل میں ان کا حق ہونا سمجھتے تھے، مگر ضد اور عناد سے انکار کرتے چلے جاتے تھے۔
Ayah 41:16

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

پھر بھیجی ہم نے ان پر ہوا بڑے زور کی کئی دن جو مصیبت کے تھے تاکہ چکھائیں ان کو رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگانی میں3 اور آخرت کے عذاب میں تو پوری رسوائی ہے اور ان کو کہیں مدد نہیں4

3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ان کا غرور توڑنے کو ایک کمزور مخلوق سے ان کو تباہ کرا دیا۔ سات رات اور آٹھ دن مسلسل ہوا کا طوفان چلتا رہا۔ درخت آدمی، مکان، مواشی کوئی چیز نہ چھوڑی۔ 4 یعنی آخرت کی رسوائی تو بہت ہی بڑی ہے جو کسی کے ٹالے نہیں ٹلے گی، نہ وہاں کوئی مدد کرسکے گا۔ ہر ایک کو اپنی فکر پڑی ہوگی۔ محبت و ہمدردی کے بڑے بڑے مدعی آنکھیں چرائیں گے۔
Ayah 41:17

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور وہ جو ثمود تھے سو ہم نے ان کو راہ بتلائی پھر ان کو خوش لگا اندھا رہنا راہ سوجھنے سے5 پھر پکڑا ان کو کڑک نے ذلت کے عذاب کی بدلہ اس کا جو کماتے تھے6

5 یعنی نجات کا راستہ جو ہمارے پیغمبر نے بتلایا تھا اس سے آنکھیں بند کرلیں اور اندھا رہنے کو پسند کیا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی پسند کی ہوئی حالت میں انہیں پڑا چھوڑ دیا۔ 6 یعنی زلزلہ آیا جس کے ساتھ سخت ہولناک آواز تھی، اس آواز سے جگر پھٹ گئے۔
Ayah 41:18

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور بچا دیا ہم نے ان لوگوں کو جو یقین لائے تھے اور بچ کر چلتے تھے7

7 یعنی جو لوگ ایمان لائے اور بدی کے راستہ سے بچ کر چلتے تھے ان کو اللہ نے صاف بچا لیا۔ نزول عذاب کے وقت ان پر ذرا آنچ بھی نہیں آئی۔
Ayah 41:19

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جس دن جمع ہوں گے دشمن اللہ کے دوزخ پر تو ان کی جماعتیں بنائی جائیں گی8

8 یعنی ہر ایک قسم کے مجرموں کی الگ الگ جماعت ہوگی اور یہ سب جماعتیں ایک دوسرے کے انتظار میں جہنم کے قریب روکی جائیں گی۔
Ayah 41:20

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پہنچیں اس پر بتائیں گے ان کو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے جو کچھ وہ کرتے تھے9

9 دنیا میں کانوں سے آیات تنزیلیہ سنیں اور آنکھوں سے آیات تکوینیہ دیکھیں، مگر کسی کو نہ مانا۔ ہر بن مو سے خدا کی نافرمانی کرتے رہے یہ خبر نہ تھی کہ گناہوں کا یہ سارا ریکارڈ خود انہی کی ذات میں محفوظ ہے جو وقت پر کھول دیا جائے گا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ محشر میں کفار اپنے جرائم کا زبان سے انکار کریں گے۔ اس وقت حکم ہوگا کہ ان کے اعضاء کی شہادت پیش کی جائے جن کے ذریعہ سے گناہ کیے تھے چناچہ ہر ایک عضو شہادت دیے گا اور اس طرح زبان کی تکذیب ہوجائے گی۔ تب مبہوت و حیران ہو کر اپنے اعضاء کو کہے گا (کم بختو ! ) دور ہوجاؤ ! تمہاری ہی طرف سے تو میں جھگڑتا اور مدافعت کر رہا تھا (تم خود ہی اپنے جرموں کا اعتراف کرنے لگے)
Ayah 41:21

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے اپنے چمڑوں کو تم نے کیوں بتلایا ہم کو10 وہ بولیں گے ہم کو بلوایا اللہ نے جس نے بلوایا ہے ہر چیز کو1 اور اسی نے بنایا تم کو پہلی بار اور اسی طرف پھیرے جاتے ہو2

10 یعنی جب میں زبان سے انکار کر رہا تھا تو تم پر ایسی کیا مصیبت پڑی تھی کہ خواہ مخواہ بتلانا شروع کردیا اور آخر یہ بولنا تم کو سکھلایا کس نے۔ 1 یعنی جس کی قدرت نے ہر ناطق چیز کو بولنے کی قوت دی آج اسی نے ہم کو بھی گویا کردیا۔ نہ بولتے اور بتلاتے تو کیا کرتے۔ جب وہ قادر مطلق بلوانا چاہے تو کس چیز کی مجال ہے کہ نہ بولے۔ جس نے زبان میں قوت گویائی رکھی، کیا ہاتھ پاؤں میں نہیں رکھ سکتا۔ 2 یہ مقولہ یا اللہ تعالیٰ کا ہے، یا جلود کا ہے۔ دونوں احتمال ہیں۔
Ayah 41:22

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم پرواہ نہ کرتے تھے اس بات سے کہ تم کو بتلائیں گے تمہارے کان اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہارے چمڑے3 پر تم کو یہ خیال تھا کہ اللہ نہیں جانتا بہت چیزیں جو تم کرتے ہو4

3 یعنی غیر سے چھپ کر گناہ کرتے تھے۔ یہ خبر نہ تھی کہ ہاتھ پاؤں بتلا دیں گے، ان سے بھی پردہ کریں۔ اور کرنا بھی چاہتے تو اس کی قدرت کہاں تھی۔ 4 یعنی اصل میں تمہارے طرز عمل سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ گویا تم کو خدا تعالیٰ کے علم محیط کا یقین ہی نہ تھا سمجھتے تھے کہ جو چاہو کرتے رہو کون دیکھ بھال کرتا ہوگا۔ اگر پوری طرح یقین ہوتا کہ خدا ہماری تمہاری حرکات سے باخبر ہے اور اس کے ہاں ہماری پوری نسل محفوظ ہے تو ہرگز ایسی شرارتیں نہ کرتے۔
Ayahs 41:23–24

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور یہ وہی تمہارا خیال ہے جو تم رکھتے تھے اپنے رب کے حق میں، اسی نے تم کو غارت کیا پھر آج ہوگئے ٹوٹے میں

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

پھر اگر وہ صبر کریں تو آگ ان کا گھر ہے اور اگر وہ منانا چاہیں تو ان کو کوئی نہیں مناتا5

5 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی دنیا میں بعض بلاصبر سے آسان ہوتی ہے، وہاں صبر کریں یا نہ کریں، دوزخ گھر ہوچکا (جہاں سے کبھی نکلنا نہیں) اور بعض منت خوشامد کرنے سے ٹلتی ہے وہاں بہتیرا چاہیں کہ منت کریں، کوئی قبول نہیں کرتا۔ "
Ayah 41:25

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور لگا دیے ہم نے ان کے پیچھے ساتھ رہنے والے، پھر انہوں نے خوب صورت بنادیا ان کی آنکھوں میں اس کو جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے6 اور ٹھیک پڑچکی ان پر عذاب کی بات ان فرقوں کے ساتھ جو گزر چکے ان سے پہلے جنوں کے اور آدمیوں کے7 بیشک وہ تھے ٹوٹے والے8

6 یعنی ان پر شیطان تعینات تھے کہ ان کو برے کام جو پہلے کیے یا آگے کرتے، بھلے کر کے دکھلائیں اور تباہ کن ماضی و مستقبل کو خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کریں۔ اور یہ شیطانوں کا تعینات کیا جانا بھی ان کے اعراض عن الذکر کا نتیجہ تھا کما قال تعالیٰ ( وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ) 43 ۔ الزخرف :36) 7 یعنی وہ ہی بات جو شروع میں کہی گئی تھی۔ ( لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ) 11 ۔ ہود :119) 8 جب آدمی کو خسارہ آتا ہے تو اسی طرح آتا ہے اور ایسے ہی سامان ہوجاتے ہیں۔
Ayah 41:26

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور کہنے لگے منکر مت کان دھرو اس قرآن کے سننے کو اور بک بک کرو اس کے پڑھنے میں شاید تم غالب ہو9

9 قرآن کریم کی آواز بجلی کی طرح سننے والوں کے دلوں میں اثر کرتی تھی۔ جو سنتا فریفتہ ہوجاتا اس سے روکنے کی تدبیر کفار نے یہ نکالی کہ جب قرآن پڑھا جائے، ادھر کان مت دھرو اور اس قدر شور و غل مچاؤ کہ دوسرے بھی نہ سن سکیں۔ اس طرح ہماری بک بک سے قرآن کی آواز دب جائے گی۔ آج بھی جاہلوں کو ایسی ہی تدبیریں سوجھا کرتی ہیں کہ کام کی بات کو شور مچا کر سننے نہ دیا جائے۔ لیکن صداقت کی کڑک مچھروں اور مکھیوں کی بھنبھناہٹ سے کہاں مغلوب ہوسکتی ہے ان سب تدبیروں کے باوجود حق کی آواز قلوب کی گہرائیوں تک پہنچ کر رہتی ہے۔
Ayah 41:27

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

سو ہم کو ضرور چکھانا ہے منکروں کو سخت عذاب اور ان کو بدلہ دینا ہے برے سے برے کاموں کا جو وہ کرتے تھے10

10 اس سے زیادہ برا کام کون سا ہوگا کہ خود نصیحت کی بات نہ سنے اور دوسروں کو بھی سننے نہ دے۔
Ayah 41:28

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ سزا ہے اللہ کے دشمنوں کی آگ ان کا اسی میں گھر ہے سدا کو بدلہ اسکا جو ہماری باتوں سے انکار کرتے تھے1

1 یعنی دل میں سمجھتے تھے، لیکن ضد اور تعصب وعناد سے انکار ہی کرتے رہتے تھے۔
Ayah 41:29

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور کہیں گے وہ لوگ جو منکر ہیں اے رب ہمارے ہم کو دکھلادے وہ دونوں جنہوں نے ہم کو بہکایا جو جن ہے اور جو آدمی کہ ڈالیں ہم ان کو اپنے پاؤں کے نیچے کہ وہ رہیں سب سے نیچے2

2 یعنی خیر ہم تو آفت میں پھنسے ہیں، لیکن آدمیوں اور جنوں میں سے جن شیطانوں نے ہم کو بہکا بہکا کر اس آفت میں گرفتار کرایا ہے ذرا انہیں ہمارے سامنے کر دیجئے کہ ان کو ہم اپنے پاؤں تلے روند ڈالیں۔ اور نہایت ذلت و خواری کے ساتھ جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں دھکیل دیں تاکہ انتقام لے کر ہمارا دل کچھ تو ٹھندا ہو۔
Ayah 41:30

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

تحقیق جنہوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان پر اترتے ہیں فرشتے کہ تم مت ڈرو اور نہ غم کھاؤ اور خوشخبری سنو اس بہشت کی جس کا تم سے وعدہ تھا3

3 یعنی دل سے اقرار کیا اور اس پر قائم رہے اس کی ربوبیت و الوہیت میں کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔ نہ اس یقین و اقرار سے مرتے دم تک ہٹے، نہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلا۔ جو کچھ زبان سے کہا تھا اس کے مقتضاء پر اعتقادً اور عملاً جمے رہے۔ اللہ کی ربوبیت کاملہ کا حق پہنچانا۔ جو عمل کیا خالص اس کی خوشنودی اور شکر گزاری کے لیے کیا، اپنے رب کے عائد کیے ہوئے حقوق و فرائض کو سمجھا اور ادا کیا۔ غرض ماسوا سے منہ موڑ کر سیدھے اسی کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی کے راستہ پر چلے۔ ایسے مستقیم الحال بندوں پر موت کے قریب اور قبر میں پہنچ کر اور اس کے بعد قبروں سے اٹھنے کے وقت اللہ کے فرشتے اترتے ہیں جو تسکین و تسلی دیتے جنت کی بشارتیں سناتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اب تم کو ڈرنے اور گھبرانے کا کوئی موقع نہیں رہا۔ دنیائے فانی کے سب فکر و غم ختم ہوئے اور کسی آنے والی آفت کا اندیشہ بھی نہیں رہا۔ اب ابدی طور پر ہر قسم کی جسمانی و روحانی خوشی اور عیش تمہارے لیے ہے اور جنت کے جو وعدے انبیاء (علیہم السلام) کی زبانی کیے گئے تھے، وہ اب تم سے ایفا کیے جانے والے ہیں۔ یہ وہ دولت ہے جس کے ملنے کا یقین حاصل ہونے پر کوئی فکر اور غم آدمی کے پاس نہیں پھٹک سکتا۔ (تنبیہ) بہت ممکن ہے کہ متقین و ابرار پر اس دنیاوی زندگی میں بھی ایک قسم کا نزول فرشتوں کا ہوتا ہو جو اللہ کے حکم سے ان کے دینی و دنیاوی امور میں بہتری کی باتیں الہام کرتے ہوں۔ جو ان کے شرح صدر اور تسکین و اطمینان کا موجب ہوجاتا ہو۔ جیسے ان کے بالمقابل ایک دو آیت پہلے گزر چکا ہے کہ کفار پر شیطان مسلط ہیں جو تزئین قبائح سے ان کے اغواء کا سامان کرتے ہیں۔ چناچہ دوسری جگہ شیاطین کے حق میں بھی لفظ " تنزل " استعمال ہوا ہے۔ قال تعالیٰ (تَنَزَّلُ عَلٰي كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِـيْمٍ 222؀ۙ يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَ 223؀ۭ ) 26 ۔ الشعراء :222) بہرحال بعض مفسرین کے نزدیک یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں اور اس تقدیر پر اگلی آیت (نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ) 41 ۔ فصلت :31) زیادہ چسپاں ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 41:31

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم ہیں تمہارے رفیق دنیا میں اور آخرت میں4 اور تمہارے لیے وہاں ہے جو چاہے جی تمہارا اور تمہارے لیے وہاں ہے جو کچھ مانگو5

4 بعض نے اس کو اللہ کا کلام بتایا ہے۔ یعنی فرشتوں کا کلام اس سے پہلے ختم ہوچکا۔ اور اکثر کے نزدیک یہ بھی فرشتوں کا مقولہ ہے۔ گویا فرشتے یہ قول ان کے دلوں میں الہام کرتے ہیں اور ان کی ہمت بندھاتے ہیں۔ ممکن ہے اس زندگی میں بعض بندوں سے مشافہۃً بھی اتنے الفاظ کہتے ہوں اور ممکن ہے موت کے قریب یا اس کے بعد کہا جاتا ہو۔ اس وقت (نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ) 41 ۔ فصلت :31) کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم دنیا میں بھی تمہارے رفیق رہے ہیں کہ اللہ کے حکم سے باطنی طور پر تمہاری اعانت کرتے تھے، اور آخرت میں بھی رفیق رہیں گے کہ وہاں تمہاری شفاعت یا اعزازو کرام کا انتظام کریں۔ 5 یعنی جس چیز کی خواہش ورغبت دل میں ہوگی یا جو زبان سے طلب کرو گے سب کچھ ملے گا۔ اللہ کے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں۔
Ayah 41:32

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

مہمانی ہے اس بخشنے والے مہربان کی طرف سے6

6 یعنی سمجھ لو ! وہ غفور رحیم اپنے مہمان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرے گا۔ اور یہ کتنی بڑی عزت و توقیر ہے کہ ایک بندہ ضعیف رب العزت کا مہمان ہو۔
Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس سے بہتر کس کی بات جس نے بلایا اللہ کی طرف اور کیا نیک کام اور کہا میں حکم بردار ہوں7

7 پہلے (اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَـقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ) 46 ۔ الاحقاف :13) میں ان مخصوص مقبول بندوں کا ذکر تھا جنہوں نے صرف ایک اللہ کی ربوبیت پر اعتقاد جما کر اپنی استقامت کا ثبوت دیا۔ یہاں ان کے ایک اور اعلیٰ مقام کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی بہترین شخص وہ ہے جو خود اللہ کا ہو رہے، اسی کی حکم برداری کا اعلان کرے، اسی کی پسندیدہ روش پر چلے۔ اور دنیا کو اسی کی طرف آنے کی دعوت دے۔ اس کا قول و فعل بندوں کو خدا کی طرف کھینچنے میں موثر ہو جس نیکی کی طرف لوگوں کو بلائے بذات خود اس پر عامل ہو۔ خدا کی نسبت اپنی بندگی اور فرمانبرداری کا اعلان کرنے سے کسی موقع پر اور کسی وقت نہ جھجکے۔ اس کا طغرائے قومیت صرف مذہب اسلام ہو اور ہر قسم کی تنگ نظری اور فرقہ ورانہ نسبتوں سے یکسو ہو کر اپنے مسلم خالص ہونے کی منادی کرے اور اسی اعلیٰ مقام کی طرف لوگوں کو بلائے جس کی دعوت دینے کے لیے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تھے اور صحابہ ؓ نے اپنی عمریں صرف کی تھیں۔
Ayah 41:34

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور برابر نہیں نیکی اور نہ بدی جواب میں وہ کہہ جو اس سے بہتر ہو پھر تو دیکھ لے کہ تجھ میں اور دشمنی تھی گویا دوست دار ہے قرابت والاف 1

1 ان آیات میں ایک سچے داعی الی اللہ کو جس حسن اخلاق کی ضرورت ہے، اس کی تعلیم دیتے ہیں۔ یعنی خوب سمجھ لو، نیکی بدی کے اور بدی نیکی کے برابر نہیں ہوسکتی۔ دونوں کی تاثیر جداگانہ ہے۔ بلکہ ایک نیکی دوسری نیکی سے اور ایک بدی دوسری بدی سے اثر میں بڑھ کر ہوتی ہے۔ لہذا ایک مومن قانت اور خصوصاً داعی الی اللہ کا مسلک یہ ہونا چاہیے کہ برائی کا جواب برائی سے نہ دے بلکہ جہاں تک گنجائش ہو برائی کے مقابلہ میں بھلائی سے پیش آئے۔ اگر کوئی اسے سخت بات کہے یا برا معاملہ کرے تو اس کے مقابل وہ طرز اختیار کرنا چاہیے جو اس سے بہتر ہو۔ مثلاً غصہ کے جواب میں بردباری، گالی کے جواب میں تہذیب و شائستگی اور سختی کے جواب میں نرمی اور مہربانی سے پیش آئے۔ اس طرز عمل کے نتیجہ میں تم دیکھ لو گے کہ سخت سے سخت دشمن بھی ڈھیلا پڑجائے گا۔ اور گو دل سے دوست نہ بنے تاہم ایک وقت آئے گا جب وہ ظاہر میں ایک گہرے اور گرمجوش دوست کی طرح تم سے برتاؤ کرنے لگے گا۔ بلکہ ممکن ہے کہ کچھ دنوں بعد سچے دل سے دوست بن جائے اور دشمنی و عداوت کے خیالات یکسر قلب سے نکل جائیں۔ کما قال (عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ عَادَيْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً ) 60 ۔ الممتحنہ :7) ہاں کسی شخص کی طبیعت کی افتادہی سانپ بچھو کی طرح ہو کہ کوئی نرم خوئی اور خوش اخلاقی اس پر اثر نہ کرے وہ دوسری بات ہے مگر ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں۔ بہرحال دعوت الی اللہ کے منصب پر فائز ہونے والوں کو بہت زیادہ صبر و استقلال اور حسن خلق کی ضرورت ہے۔
Ayah 41:35

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ بات ملتی ہے انہی کو جو سہار (تحمل) رکھتے ہیں اور یہ بات ملتی ہے اسی کو جس کی بڑی قسمت ہے2

2 یعنی بہت بڑا حوصلہ چاہیے کہ بری بات سہار کر بھلائی سے جواب دیں۔ یہ اخلاق اور اعلیٰ خصلت اللہ کے ہاں سے بڑے قسمت والے خوش نصیب اقبال مندوں کو ملتی ہے۔ (ربط) یہاں تک اس حریف اور دشمن کے ساتھ معاملہ کرنا سکھلایا تھا جو حسن معاملہ اور خوش اخلاقی سے متاثر ہوسکتا ہے۔ لیکن ایک دشمن وہ ہے جو کسی حال اور کسی نہج سے دشمنی نہیں چھوڑ سکتا۔ تم کتنی ہی خوشامد یا نرمی برتو، اس کا نصب العین یہ ہے کہ تم کو ہر طرح نقصان پہنچائے۔ ایسے پکے شیطان سے محفوظ رہنے کی تدبیر آگے تلقین فرمائی ہے۔
Ayah 41:36

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور جو کبھی چوک لگے تجھ کو شیطان کے چوک لگانے سے تو پناہ پکڑ اللہ کی بیشک وہی ہے سننے والا جاننے والاف 3

3 یعنی ایسے شیطان کے مقابلہ میں نرمی اور عفو و درگزر سے کام نہیں چلتا۔ بس اس سے بچنے کی ایک ہی تدبیر ہے کہ خداوند قدوس کی پناہ میں آجاؤ۔ یہ وہ مضبوط قلعہ ہے جہاں شیطان کی رسائی نہیں۔ اگر تم واقعی اخلاص و تضرع سے اللہ کو پکارو گے وہ ضرور تم کو پناہ دے گا۔ کیونکہ وہ ہر ایک کی پکار سنتا ہے اور خوب جانتا ہے کہ کس نے کتنے اخلاص و تضرع سے اس کو پکارا ہے۔ حضرت شاہ صاحب اس آیت کا پہلی آیت سے ربط ظاہر کرنے کی غرض سے لکھتے ہیں۔ " یعنی کبھی بےاختیار غصہ چڑھ آئے تو یہ شیطان کا دخل ہے۔ " وہ نہیں چاہتا کہ تم حسن اخلاق پر کار بند ہو کر دعوت الی اللہ کے مقصد میں کامیابی حاصل کرو۔
Ayah 41:37

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور اس کی قدرت کے نمونے ہیں رات اور دن اور سورج اور چاند4 سجدہ نہ کرو سورج کو اور چاند کو اور سجدہ کرو اللہ کو جس نے ان کو بنایا اگر تم اسی کو پوجتے ہو5

4 دعوت الی اللہ کے ساتھ چند دلائل سماویہ و ارضیہ بیان فرماتے ہیں جن سے داعی الی اللہ کو اللہ تعالیٰ کی عظمت و وحدانیت اور بعث بعد الموت وغیرہ اہم مسائل کے سمجھانے میں مدد ملے۔ اس ضمن میں ادھر بھی اشار ہوگیا کہ ایک طرف خدا کے مخصوص بندے اپنے قول و عمل سے خدا کی طرف بلارے ہیں اور دوسری طرف چاند، سورج اور آسمان و زمین کا عظیم الشان نظم و نسق سوچنے والوں کو اسی خدائے واحد کی طرف آنے کی دعوت دے رہا ہے وفی کل شیءٍ لہ ایۃ تدل علی انہ واحد۔ انسان کو چاہیے کہ ان تکوینی نشانیوں میں الجھ کر نہ رہ جائے جیسے بہت سی قومیں رہ گئی ہیں، بلکہ لازم ہے کہ اس لامحدود قدرت والے مالک کے سامنے سرجھکائے جس کی یہ نشانیاں ہیں۔ اور جس کے حکم سے ان کی ساری نمود ہے اور ممکن ہے اس پر بھی تنبیہ ہو کہ جس طرح رات اور دن اور ان دونوں کی نشانیاں چاند اور سورج ایک دوسرے کے مقابل ہیں اور اللہ تعالیٰ ان میں ردوبدل کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح اس کو قدرت ہے کہ دعوت الی اللہ کی روشنی اور داعی کی علوہمت اور خوش اخلاقی کی بدولت مخاطیبین کی کایا پلٹ کر دے اور تاریک فضا کو ایک روشن ماحول سے بدل دے۔ 5 سورج اور چاند وغیرہ کو پوجنے والے بھی زبان سے یہ ہی کہتے تھے کہ ہماری غرض ان چیزوں کی پرستش سے اللہ کی پرستش ہے۔ مگر اللہ نے بتلا دیا کہ یہ چیزیں پرستش کے لائق نہیں۔ عبادت کا مستحق صرف ایک خدا ہے۔ کسی غیر اللہ کی عبادت کرنا خدائے واحد سے بغاوت کرنے کے مترادف ہے۔
Ayah 41:38

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

پھر اگر غرور کریں تو جو لوگ تیرے رب کے پاس ہیں پاکی بولتے رہتے ہیں اس کی رات اور دن اور وہ نہیں تھکتے6

6 یعنی اگر غرور تکبر حق کے قبول کرنے سے مانع ہے اور باوجود وضوح دلائل توحید کے خدائے واحد کی عبادت کی طرف آنا نہیں چاہتے تھے تو نہ آئیں، اپنا ہی نقصان کریں گے۔ اللہ کو ان کی کیا پرواہ ہوسکتی کہ بیشمار ملائکہ مقربین شب و روز اس کی عبادت اور تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں، نہ کبھی تھکتے ہیں، نہ اکتاتے ہیں، اس کے سامنے یہ بیچارے کیا چیز ہیں اور ان کا غرور کیا چیز ہے۔ خواہ مخواہ کی جھوٹی شیخی کر کے اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔
Ayah 41:39

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور ایک اس کی نشانی یہ کہ تو دیکھتا ہے زمین کو دبی پڑی پھر جب اتارا ہم نے اس پر پانی تازی ہوئی اور ابھری بیشک جس نے اس کو زندہ کیا وہ زندہ کرے گا مردوں کو وہ سب کچھ کرسکتا ہے7

7 یعنی زمین کو دیکھو بیچاری چپ چاپ، ذلیل و خوار بوجھ میں دبی ہوئی پڑی رہتی ہے۔ خشکی کے وقت ہر طرف خاک اڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن جہاں بارش کا ایک چھینٹا پڑا۔ پھر اس کی تروتازی رونق اور ابھار قابل دید ہوجاتا ہے۔ آخر یہ انقلاب کس کے دست قدرت کے تصرف کا نتیجہ ہے۔ جس خدا نے اس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیا، کیا وہ مرے ہوئے انسانوں کے بدن میں دوبارہ جان نہیں ڈال سکتا ؟ اور کیا وہ قادر مطلق مرے ہوئے دلوں کو دعوت الی اللہ کی تاثیر سے ازسر نو حیات تازہ عطا نہیں کرسکتا ؟ بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ اس کی قدرت کے سامنے کوئی مانع و مزاحم نہیں۔
Ayah 41:40

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

جو لوگ ٹیڑھے چلتے ہیں ہماری باتوں میں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں بھلا ایک جو پڑتا ہے آگ میں وہ بہتر یا ایک جو آئے گا امن سے دن قیامت کے کیے جاؤ جو چاہو بیشک جو تم کرتے ہو وہ دیکھتا ہے1

1 یعنی اللہ کی طرف دعوت دینے والوں کی زبان سے آیات تنزیلیہ سن کر اور قرطاس دہر پر خدا کی آیات کونیہ کو دیکھ کر بھی جو لوگ کجروی سے باز نہیں آتے اور سیدھی سیدھی باتوں کو واہی تباہی شبہات پیدا کر کے ٹیڑھی بناتے ہیں، یا خواہ مخواہ توڑ مروڑ کر ان کا مطلب غلط لیتے ہیں، یا یوں ہی جھوٹ موٹ کے عذر اور بہانے تراش کر ان آیات کے ماننے میں ہیر پھیر کرتے ہیں، ایسی ٹیڑھی چال چلنے والوں کو اللہ خوب جانتا ہے۔ ممکن ہے وہ لوگ اپنی مکاریوں اور چالاکیوں پر مغرور ہوں مگر خدا سے ان کی کوئی چال پوشیدہ ہیں۔ جس وقت سامنے جائیں گے دیکھ لیں گے فی الحال اس نے ڈھیل دے رکھی ہے۔ مجرم کو ایک دم نہیں پکڑتا۔ اسی لیے آگے فرما دیا۔ " اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۔ " یعنی اچھا جو تمہاری سمجھ میں آئے کیے جاؤ۔ مگر یاد رہے کہ تمہاری سب حرکات اس کی نظر میں ہیں ایک دن ان کا اکٹھا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اب خود سوچ لو کہ ایک شخص جو اپنی شرارتوں کی بدولت جلتی آگ میں گرے، اور ایک جو اپنی شرافت و سلامت روی کی بدولت ہمیشہ امن چین سے رہے۔ دونوں میں کون بہتر ہے ؟