Ayah 41:21 قرآن حکیم کی عظمت شان کا ایک اہم اور منفرد پہلو : کہ یہ خالص اتاری ہوئی کتاب ہے خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے۔ سو یہ اس کتاب حکیم کی عظمت شان کا ایک اہم اور منفرد پہلو ہے کہ اس جیسی دوسری کوئی کتاب روئے زمین پر ہے ہی نہیں۔ اس سے پہلے جو آسمانی کتابیں اتری تھیں اول تو وہ فی نفسہا کامل کتابیں تھی ہی نہیں بلکہ وہ دراصل اسی کتاب حکیم کے مختلف اجزاء اور حصوں کی حیثیت رکھتی تھیں اور پھر وہ باقی رہیں بھی نہیں بلکہ ان کو ان کے حاملین نے بدل اور بگاڑ کر کچھ کا کچھ بنادیا۔ سو اب وحی خداوندی کی دولت اس کتاب حکیم کے سوا اور کہیں سے بھی ملنا ممکن نہیں۔ سو اس خدائے رحمان و رحیم کی رحمت بےپایاں کا یہ عین تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے ایسی کتاب ہدایت نازل فرمائے جو ان کو دارین کی سعادت و سرخروئی اور کامیابی کی راہ بتائے۔ اور انہیں ہلاکت کے گڑھوں میں گرنے اور آخرت میں ہونے والے دوزخ کے ہولناک عذاب سے بچائے۔ سو عقل و نقل اور عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ کتاب ہدایت کی اس عظیم الشان نعمت کی دل و جان سے قدر کی جائے اور اس کی تعلیمات مقدسہ کو صدق دل سے اپنایا جائے۔ سو ایسے میں یہ کتنی بےانصافی اور ناقدری کی بات ہے کہ منکرین و مکذبین اس کی قدر کرنے اور اس پر ایمان لاکر اپنے لیے سعادت دارین کا سامان کرنے کی بجائے اس عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں جس سے یہ کتاب انکو ڈراتی ہے۔ سو یہ انسان کی بڑی بدبختی ہے کہ وہ اس رحمت عظمیٰ سے منہ موڑ کر زحمت اور عذاب کا مطالبہ کرے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ حق کو حق سمجھنے اور اس کو اپنانے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 41:32 کتاب حکیم کی تفصیل اللہ ہی کی طرف سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ایک ایسی عظیم الشان کتاب ہے کہ کھول کر بیان کردیا گیا اس کی آیتوں کو "۔ ظاہری اعتبار سے اس کی سورتیں الگ الگ اور ان کے فواتح اور خواتیم جدا جدا۔ پھر سورتوں کی آیتیں باہم ممتاز اور آیتوں کے اندر کے چھوٹے چھوٹے فقرے الگ الگ چنے ہوئے موتیوں کی طرح جھلمل جھلمل کرتے۔ اور معنوی اعتبار سے اس کے معانی و مضامین اور مطالب و مفاہیم کو احکام و مسائل، قصص و امثال، وعظ و تذکیر اور انذار وتبشیر وغیرہ کی صورت میں کھول کھول کر بیان کردیا گیا۔ ان میں سے ہر ایک کا مقصد واضح اور مدعا صاف ہے۔ نہ کوئی گنجلک نہ الجھن۔ نہ خفاء نہ غموض۔ نہ کوئی اشتباہ نہ التباس۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایک ایسی عظیم الشان کتاب ہے جس کی آیتوں کو محکم بنایا گیا پھر اس کی تفصیل کردی گئی ایسی ذات کی طرف سے جو بڑی ہی حکمت والی انتہائی باخبر ہے کہ تم لوگ بندگی نہیں کرو مکر صرف ایک اللہ کی (ھود : 1) ۔
3 عربوں پر قرآن کا خاص حق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کو اتارا گیا عربی زبان کے ایک عظیم الشان قرآن کی صورت میں "۔ تاکہ اس کے اولین مخاطب اس کو سمجھنے کے بعد اس کی دعوت کے علم بردار بن سکیں۔ کیونکہ ہمارا دستور یہی رہا ہے کہ ہر نبی کو اس کی قوم کی زبان میں ہی پیغام دیا گیا تاکہ وہ انہیں کھول کر بتائے اور سمجھائے ۔ { وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ الاَّ بِلِسَانِ قَوْمِہ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ } ۔ (ابراہیم : 4) اور یوں عربی زبان کے سوا دوسری کوئی ایسی جامع زبان تھی بھی نہیں جو اس کتاب عظیم کے جلیل القدر مطالب و مضامین کا تحمل کرسکے۔ یہی ایک زبان ایسی ہے جو اپنی جامعیت و کمال، حسن و جمال اور بےمثال لطافتوں اور دقیقہ رسیوں کی بناء پر بقدر امکان اس کتاب حکیم کے معانی ومطالب کو ادا کرسکتی ہے۔ سو اس کتاب حکیم کو عربی زبان میں اتارنا قدرت کا عربوں پر ایک خاص انعام تھا اور ہے۔ جس کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ یہ لوگ دل و جان سے اس نعمت عظمی کی قدر کرتے اور صدق دل سے اس کو اپنا کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرتے۔ مگر انہوں نے اس کے برعکس اعراض و روگردانی سے کام لیکر اپنے لیے ہلاکت و تباہی کا سامان کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
4 علم حق کی چاہت و خواہش باعث سرفرازی : یعنی ۔ { یعلمون } ۔ کا کلمہ کریمہ یہاں پر ارادئہ علم کے معنیٰ میں ہے۔ جیسا کہ بعض ثقہ اہل علم نے کہا ہے۔ سو معلوم ہوا کہ قرآن حکیم کے اس منھل صافی سے مستفید ہونے کے لئے علم صحیح کی روشنی اور خواہش علم بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اور علم سے مراد وہ علم ہے جو حق اور حقیقت کی طرف راہنمائی کرے اور انسان کے لئے اپنے خالق ومالک کی معرفت کا ذریعہ بنے۔ اور ایسے موقع پر عموماً فعل سے مراد ارادئہ فعل ہوتا ہے۔ یعنی یہ سارا اہتمام ان لوگوں کیلئے ہے اور اس سے مستفید و فیضیاب وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو جاننے اور سمجھنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ رہے وہ لوگ جو جاننا اور سمجھنا چاہتے ہی نہیں انکو اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ سو اس اسلوب بیان میں عربوں کیلئے ایک تحریض و ترغیب ہے کہ ان کو جاننے اور سمجھنے کا حریص ہونا چاہیئے۔ اور یہ کتاب حکیم جس کو خود انہی کی زبان میں نازل فرمایا گیا ہے اس کا ان پر حق ہے کہ وہ اس کی قدر کریں اور اس کی تعلیمات مقدسہ کو صدق دل سے اپنائیں ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 41:45 قرآن حکیم کی صفت تبشیر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ خوشخبری دینے والا ہے "۔ یعنی یہ اپنے ماننے والوں کو دائمی سعادتوں اور ابدی راحتوں کی بشارت و خوشخبری دیتا ہے۔ سو جو لوگ صدق دل سے اس کتاب حکیم پر ایمان لائیں گے اور اس کی مقدس تعلیمات کو اپنائیں گے ان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کی بشارت و خوشخبری ہے ۔ اللہ توفیق دے ۔ نیز اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ دین حق کے ماننے اور اس کتاب حکیم کے علوم و معارف سے مستفید و فیضیاب ہونے کے لیے کسی طرح کے جبر واکراہ کا نہ کوئی دخل ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت۔ بلکہ اس کا کام اور اس کی شان راہ حق و ہدایت سے آگاہ کردینا ہے اور بس۔ جو اس کے آگے دامن پھیلائے گا وہ اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اس سے منہ موڑے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ اعراض و روگردانی کے ہر شائبے سے محفوظ رکھے ۔ آمین۔
6 قرآن کا کام انذار یعنی خبردار کردینا اور بس : سو قرآن پاک کی دوسری صفت بیان فرمائی گئی " نذیر " یعنی " خبردار کرنے والا "۔ نہ ماننے والوں کو درد ناک عذاب اور ابدی شقاوت سے ڈرانا اور خبردار کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ کتاب حکیم ماننے والوں کیلئے ایک عظیم الشان اور بےمثال نعمت عظمیٰ ہے اور نہ ماننے والوں کیلئے بہت بڑی نقمت ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت اس سے اعراض کرتی اور منہ موڑتی ہے۔ اور یہاں تک کہ وہ اس کے سننے سمجھنے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ اور اس طرح وہ اس نعمت عظمیٰ کو اپنے لیے نقمت بنالیتے ہیں۔ اور اس طور پر کہ انکو اس کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس طرح وہ اپنے لیے کس قدر ہولناک خسارے کو اپنا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ اعراض و روگردانی کے ہر شائبے سے محفوظ اور ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 41:57 عناد اور ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس ارشاد سے منکرین کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر پیش فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں اس چیز سے جس کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں۔ ہمارے کانوں میں ڈاٹ پڑے ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک پردہ حائل ہے " اور ان کے کانوں کے یہ ڈاٹ اور ان کی آنکھوں کے یہ پردے دراصل نتیجہ تھا اس ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کا جو وہ لوگ حق اور اہل حق کے بارے میں اپنے اندر رکھتے تھے۔ مگر قدرت کی پھٹکار اور ان کی بدبختی ملاحظہ ہو کہ اپنی اس محرومی پر پچھتانے اور افسوس کرنے کی بجائے وہ الٹا اسے فخریہ طور پر بیان کرتے ہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حق اور اہل حق سے بغض وعناد انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ ویسے ہی ہے جیسا کہ یہود نے کہا تھا ۔ { قلوبنا غلف } ۔ یعنی " ہمارے دل تمہاری دعوت کی طرف سے پردے میں ہیں "۔ جس کے نتیجے میں آپ کی آواز اور آپ کی دعوت ہمارے دلوں تک پہنچ ہی نہیں سکتی اس لیے ہمارے ایمان لانے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوسکتی ۔ والعیاذ باللہ ۔
8 منکرین کی بدبختی اور لاپرواہی کا ایک نمونہ و مظہر : سو منکرین نے دعوت ِحق کے جواب میں کہا کہ " ہم تو اپنے طور طریقوں سے باز آنے والے نہیں "۔ آپ سے جو کچھ ہوسکتا ہے کر دیکھو۔ ہم بہرحال اپنے طور پر کام کرتے رہیں گے۔ سو دراصل منکرین کی طرف سے عذاب کا مطالبہ تھا۔ یعنی آپ ﷺ اپنے دین پر چلتے رہیں ہم اپنے طریقے پر چلتے رہیں گے۔ نیز آپ ہمیں نیچا دکھانے کے لئے جو کچھ کرسکتے ہیں کرلیں۔ ہم آپ کا راستہ روکنے کے لئے جو کچھ کرسکے کریں گے۔ الفاظ کا عموم ان دونوں ہی مفہوموں کو عام اور شامل ہے۔ یعنی جب ہمارے اور تمہارے درمیان ایسی دیوار حائل ہوچکی ہے تو اب ہم اور تم ایک دوسرے سے کبھی بھی نہیں مل سکتے۔ لہذا اب جو تم سے ہوسکتا ہے وہ کر گزرو اور ہم بھی جو کچھ کرنے والے ہیں وہ اب بغیر کسی پس و پیش کے کرکے رہیں گے۔ سو ۔ { فاعمل } ۔ کے اس لفظ کے اندر دراصل ان کی طرف سے عذاب کا مطالبہ تھا کہ تم ہمیں جس عذاب کے آنے کی دھمکی رہے ہو ہمارے اس فیصلہ کن اعلان کے بعد اس کو ہم پر لے آؤ اگر تم سچے ہو اپنے اس دعوے کے اندر۔ ورنہ ہمیں تو بہرحال جو کچھ کرنا ہے وہ کرکے ہی رہیں گے۔ سو یہ ایسے بدبخت منکرین کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کی انتہاء ہے اور یہ ان کی بدبختی اور لاپرواہی کا ایک نمونہ و مظہر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 41:69 پیغمبر کو اپنی بشریت کے اعلان کا حکم و ارشاد : سو پیغمبر کو خطاب کر کے حکم وارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ سوائے اس کے نہیں کہ میں تو ایک بشر ہوں تم ہی جیسا "۔ یعنی نہ تو میں خدا ہوں نہ کسی خدائی صفت کا دعویدار کہ زور زبردستی سے تم لوگوں سے حق بات منوا کر ہی چھوڑوں۔ اور نہ ہی میں کوئی فرشتہ یا دوسری کوئی مافوق العادۃ مخلوق ہوں کہ تمہیں مجھے سے اتصال و استفادہ مشکل ہو اور تم مجھ سے لایعنی قسم کے مطالبات کرو۔ بلکہ میں تو اصلاً ایک بشر اور انسان ہوں اور تم ہی جیسا آدم کی اولاد میں سے ہوں۔ اور تمہاری ہی طرح تمام بشری لوازم اور تقاضے رکھتا ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مجھے میرے خالق ومالک نے وحی کے شرف سے نوازا اور مشرف فرمایا ہے جس کے بعد مرتبے اور مقام کے اعتبار سے میرے اور تمہارے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہوگیا ہے۔ پس جنس و نوع اور اصل بشریت کے اعتبار سے تمہارے ساتھ اشتراک واتحاد کے باوجود نور نبوت اور وحی خدا وندی کی بنا پر میرا مقام تم سب سے بلند اور ہر لحاظ سے ممتاز ہوگیا۔ پس تم میری بات مانو اور میری بتائی ہوئی راہ پر چلو۔ تاکہ خود تمہارا بھلا ہو۔ بشریت النبی اور عظمت نبوی کے اس واضح اور صریح اعلان اور انتہائی معقول و بھرپور اظہار کے باوجود اہل بدعت ہیں کہ نبی کی بشریت کو ماننے اور تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ اور اس طرح کی آیات کریمہ میں وہ طرح طرح کی تاویلات بلکہ تحریفات سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ مثلًا ان کے ایک بڑے گرو نے اس موقع پر اور اس آیت کریمہ کے بارے میں اس طرح گوہر افشانی فرمائی ہے کہ " کسی کو حق نہیں کہ حضور کو بشر کہہ کر پکارے " حالانکہ بات بشر کہہ کر پکارنے کی نہیں کہ پیغمبر۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ کو بشر کہہ کر نہ کبھی اس سے پہلے کسی نے پکارا ہے اور نہ ہی آج ایسا کوئی شخص موجود ہے۔ اور نہ ہی اس کی کوئی تک ہی بنتی ہے کہ کوئی شخص پیغمبر کو " یا بشر " کہہ کر پکارے۔ اس لئے بات بشر کہہ کر پکارنے کی نہیں بلکہ بشریت پیغمبر کی اس حقیقت صادقہ اور قول صادق اور امر واقع کو تسلیم کرنے اور ماننے کی ہے جو کہ عقل و نقل کا تقاضا ہے اور جس کا قرآن پاک واشگاف الفاظ میں اعلان فرما رہا ہے۔ اور نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو { قل } کے صیغہ امر کے ساتھ اس حقیقت کے دو ٹوک اعلان و اظہار کا حکم فرمایا جا رہا ہے۔ پھر اہل بدعت کے یہی بڑے صاحب اسی مقام پر کچھ آگے چل کر یوں گوہر افشانی کرتے ہیں کہ " خیال رہے کہ نبی کو بشر کہنے والا یا خدا تعالیٰ ہے یا خود نبی یا شیطان و کفار۔ اب انہیں بشر کہنے والا سوچ لے کہ وہ کون ہے " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ دیکھا آپ نے کہ شرک و بدعت کی نحوست اور عناد و ہٹ دھرمی کی لت کس طرح آدمی کی مت مار کر رکھ دیتی ہے اور اس کو صاف اور سیدھی بات بھی کتنی الٹی اور ٹیڑھی لگنے لگتی ہے۔ بھلا جس حقیقت واقعیہ کا اعلان و اظہار حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ خود فرما دے اور صاف وصریح طور پر اور تکرار و تاکید کے ساتھ فرما دے پیغمبر خود بھی اس کا ذکر وبیان فرمائیں جو عقل و نقل کے تقاضوں کے عین مطابق ہو اور جو ایسی واضح اور جلی حقیقت ہو کہ کفار و مشرکین کو بھی اس کے ماننے میں کوئی تردد نہ ہو اس کا بھی جو انکار کرے وہ خود اپنے بارے میں دیکھ اور سوچ لے کہ وہ کہاں کھڑا ہے ؟ اور اس پر کیا حکم عائد ہوتا ہے اور کیا فتوی چسپاں ہونا چاہیئے ؟۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
10 معبود برحق بہرحال ایک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " میری طرف اس بات کی وحی کی جاتی ہے کہ معبود برحق تم سب لوگوں کا بہرحال ایک ہی معبود ہے "۔ یعنی یہ بات تم لوگوں کو اگر ناگوار گزرتی ہے تو گزرتی رہے مگر حقیقت بہرحال یہی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ عقل و نقل کے سب دلائل اس پر متفق ہیں اور میری طرف کی جانے والی وحی کا اولین اور بنیادی درس بھی یہی ہے۔ اور میں تم سب سے یہی کہتا اور اسی کی دعوت دیتا ہوں کہ معبود تم سب لوگوں کا بہرحال ایک ہی معبود ہے۔ اسکا کسی بھی طرح اور کسی بھی درجے میں نہ کوئی شریک ہے نہ سہیم۔ پس تمہارے لیے حق و حقیقت اور صحت و سلامتی کی راہ یہی ہے کہ تم یکسو ہو کر ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کیلئے بجا لاؤ کہ ہر قسم کی عبادت و بندگی اور اطاعت مطلقہ اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے۔ اس کے سوا کسی بھی اور ہستی کے لیے ایسا کرنا اس کے لیے کسی بھی طرح کے آداب بندگی بجالانا یا اس کو اطاعت مطلقہ کا حقدار قرار دینا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
11 اپنا رخ اللہ ہی کی طرف کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس تم لوگ سیدھا اسی کا رخ اختیار کرلو۔ سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ جب معبود برحق اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ ہر قسم کی عبادت و بندگی اور اطاعت مطلقہ کا حقدار وہی وحدہ لا شریک ہے تو اس کا طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ یہی ہے کہ اپنا رخ اللہ ہی کی طرف کیا جائے۔ سو اسی بنا پر ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم سب اسی کا رخ اختیار کرو۔ اپنا عقیدئہ و عمل درست کر کے کہ نہ تو عقیدے میں کسی شرک کا کوئی شائبہ ہو اور نہ عمل میں کسی بدعت و بناوٹ کا کوئی کھوٹ اور آمیزش ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جب معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا حق ہے تو پھر تم لوگ صدق دل سے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرو اور دل و جان سے اسی کی طرف رجوع رہو۔ یہی راستہ ہے حق و صداقت کا اور اسی میں تمہاری یہ سعادت و سرخروئی کا سامان ہے۔ دنیا کی اس عارضی وفانی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق -
12 استغفار کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم سب اسی سے معافی مانگو "۔ کفار اپنے کفر سے معافی مانگیں اور گناہ گار اپنے گناہوں سے۔ اور نیکو کار اپنے نیک اعمال میں تقصیر و کوتاہی پر کہ مالک ہم کمزور و عاجز تیری جناب اقدس و اعلیٰ میں پیش کرنے کے لائق کوئی عمل کہاں کرسکتے ہیں۔ پس تو ہم سے عفو و درگزر فرما اور اپنی شان کریمی سے کام لیتے ہوئے ہمارے ان اعمال کو قبول فرما لے۔ بہرکیف اس سے پہلے ہم لوگ جس کفر و شرک میں ملوث و مبتلا رہے اس کی اپنے ربِّ غفور و رحیم سے معافی مانگو۔ اور آئندہ ہمیشہ اپنے رب ذوالجلال ہی کی طرف رجوع رکھو۔ سو توبہ واستغفار دین متین کے مطالب مقدسہ میں سے ایک اہم مطلب ہے کہ اس سے ایک طرف تو انسان معاصی وذنوب کی میل کچیل اور ان کی کدورت سے پاک صاف ہوتا ہے جو کہ ظاہری اور حسی میل سے کہیں بڑھ کر خطرناک اور باعث ہلاکت و تباہی ہے اور دوسری طرف وہ اپنے رب کا قرب بھی حاصل کرتا جاتا ہے اور اس کی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے بھی سرفراز ہوتا جاتا ہے۔ سو اس اعتبار سے یہ قدرت کا ایک عظیم الشان انعام واحسان ہے کہ اس نے اپنی رحمت بےپایاں سے اپنے بندوں کو اپنی رحمت و عنایت سے نوازنے کے لیے ان کے لیے توبہ واستغفار کے دروازے کھولے ہیں جس سے ہم جیسے گناہگاروں کے لیے اس کی رحمت و عنایت کی حیات آفریں اور روح پرور خوشخبری ملتی ہے ۔ فللہ الحمد رب العالمین -
Ayah 41:713 مشرکوں کے لیے بڑی سخت ہلاکت اور تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی ہی ہلاکت و تباہی اور خرابی ہے ان مشرکوں کیلئے جو زکوٰۃ نہیں دیتے "۔ یعنی وہ ایمان نہیں لاتے کہ ایمان جانی زکوٰۃ ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ زکوٰۃ ادا نہ کرنا دراصل کفار و مشرکین کا فعل ہے جس سے مومنین صادقین کو بہرحال بچنا چاہیئے۔ اور یہ اس لئے کہ کفار مخاطب بالفردع نہیں ہیں۔ نیز اس لئے کہ زکوٰۃ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی جبکہ یہ سورة مکی ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ واضح اور معقول بات یہ ہے کہ زکوٰۃ سے یہاں پر انفاق فی سبیل اللہ مراد لیا جائے۔ اور مکی دور میں یہ لفظ اس مفہوم کیلئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ البتہ مدنی دور میں آکر یہ لفظ اپنے معروف مفہوم میں استعمال ہونے لگا۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جو مشرکین ایمان اور عمل صالح کی بجائے اپنے خودساختہ شرکاء اور مزعوم شفعاء پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں ان کیلئے بڑی ہی خرابی اور ہولناک تباہی ہے۔ سو شرک ہلاکتوں کی ہلاکت اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 41:814 نیکوکاروں کیلئے ایک عظیم الشان خوشخبری : سو اس ارشاد سے نیکوکاروں کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والے اجر کا مژدئہ جان فزا سنایا گیا ہے کہ اس پر ان کو جنت کی دائمی نعمتیں نصیب ہوں گی اور جنت اور اس کی نعمتیں دائمی اور ابدی ہیں۔ نیز ایسے لوگ صحت و جوانی میں جو نیکیاں کرتے رہے مرض اور بڑھاپے میں بھی ان کا اجر وثواب ان کو ہمیشہ ملتا رہے گا۔ بہرکیف منکرین و مشرکین کے ہولناک انجام کے مقابلے میں یہ مومنین مختلصین کے انجام کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کی توحید پر بلا کسی شائبہ و شرک کے سچا پکا ایمان لائیں گے اور اس کے مطابق وہ نیک عمل بھی کریں گے تو ان کیلئے ایسے عظیم الشان اجر کی بشارت و خوشخبری ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ پس ایمان صادق، عمل صالح اور اخلاص و استقامت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہیں ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اس سے بہرہ مند رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 41:9–1015 آثارِ کائنات میں غور و فکر کی دعوت : سو زمین کے آثار و نشانات میں غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ کیا تم لوگ اس وحدہ لا شریک کے ساتھ کفر کرتے ہو اور اس کے لیے من گھڑت شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین کے اس عظیم الشان کرے کو دو دنوں کے اندر پیدا فرمایا ہے "۔ یعنی عجائب وغرائب اور بےحد و حساب نعمتوں سے بھر پور یہ زمین بنانا اور دو دنوں میں بنادینا ایک طرف اس کے کمال قدرت کی نشانی ہے اور دوسری طرف یہ اس کے بےپایاں کرم و احسان کا جیتا جاگتا ثبوت بھی ہے۔ پھر ایسے خدائے پاک کے ساتھ کفر کرنا جس قدر بڑا اور سنگین جرم ہوسکتا ہے اس کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ سو باز آجاؤ تم لوگ اپنے اس کفر و انکار اور شرک و انحراف سے اور صدق دل سے جھک جاؤ اپنے اس انتہائی مہربان خالق ومالک کے حضور اور اس کا شکر بجا لاؤ کہ یہ اس خالق ومالک کا تم پر حق بھی ہے اور اسی میں تمہارا بھلا اور فائدہ بھی ہے۔ سو اس ارشاد ربانی میں حکمتوں بھری اور پیش پا افتادہ زمین اور اس میں پھیلی بکھری ان عظیم الشان نشانیوں اور آثار میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے جو اس خالق ومالک کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ، عنایت شاملہ اور رحمت عامہ پر دلالت کرتی ہیں تاکہ اس طرح انسان اپنے رب کی معرفت کے شرف سے مشرف ہو کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی اور بہرہ مندی کا سامان کرسکے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف کائنات کی اس عظیم الشان اور کھلی کتاب میں پائی جانے والی یہ عظیم الشان نشانیاں اپنے اندر عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت رکھتی ہیں اور اپنی زبان حال سے پکار پکار کر دعوت غور و فکر دیتی ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
16 پروردگار عالم کی معرفت آثار کائنات کے ذریعے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ہے پروردگار سب جہانوں کا " جس نے اس پر حکمت کائنات کو وجود بخشا اور جو اس کو چلا رہا ہے۔ پس ہر طرح کی عبادت و بندگی صرف اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے کہ خالق بھی وہی ہے اور پروردگار ومالک بھی وہی۔ اور اس کے سوا جن کو تم لوگ پوجتے پکارتے ہو ان کے اندر خلق و ربوبیت کی ان دونوں صفتوں میں سے کوئی بھی صفت موجود نہیں۔ بلکہ وہ خود مخلوق، مربوب اور محتاج اور خود تمہارے محتاج ہیں۔ تمہاری مشرکانہ کار گزاریوں کے بغیر ان کی یہ مفروضہ خدائی سرے سے چل ہی نہیں سکتی۔ سو تم لوگ کتنے ظالم اور کس قدر بہکے بھٹکے، اوندھے، اندھے اور کتنے بےانصاف ہو جو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کو چھوڑ کر اپنی ان خود ساختہ سرکاروں اور بےبنیاد وفانی ہستیوں کو پوجتے پکارتے ہو ؟ سو اس سے یہ اہم اور بنیادی درس بھی دیا گیا ہے کہ خالق کی معرفت سے سرشاری کا طریقہ اس کی کائنات میں غور وفکر ہے۔ سو اس کائنات میں صحیح طریقے سے غورو فکر کے ذریعے بندہ رب کی معرفت حاصل کرسکتا ہے۔
Ayah 41:1120 زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کے حکم وارشاد کے آگے سرنگوں : سو اس سے زمین آسمان کی اللہ تعالیٰ کے حضور اطاعت و فرمانبرداری کی شان کو واضح فرما دیا گیا۔ سو یہ عظیم الشان کرے اپنے خالق ومالک کے حکم وارشاد کے آگے سرنگوں اور تسلیم خم ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے آسمان اور زمین کو حکم دیا کہ حاضر ہوجاؤ تم دونوں خوشی سے یا مجبوری سے تو ان دونوں نے عرض کیا کہ ہم حاضر ہوئے خوشی سے "۔ یعنی جب حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے ان کی تخلیق و پیدائش کا ارادہ فرمایا تو یہ دونوں مطیع و مامور کی طرح آموجود ہوگئے کہ وہاں اسباب و اوقات کی ضرورت کا کوئی سوال نہیں بلکہ حکم و ارادہ کی دیر ہوتی ہے اور بس۔ نیز جب ان دونوں کو حکم ہوا کہ تمہارے اندر جو کچھ ودیعت کیا گیا ہے اس کو نکال باہر کرو تو یہ دونوں خوشی خوشی اس کے لئے تیار ہوگئے۔ آسمان نے شمس و قمر اور نجوم وکواکب وغیرہ کو نکال باہر کیا اور زمین نے اشجار و انہار اور نباتات و ثمار وغیرہ کو۔ پھر یہ حکم و امتثال مجاز کے طور پر بھی ہوسکتا ہے اور حقیقت و واقع کے طور پر بھی۔ بہرکیف حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے زمین و آسمان کی ان دونوں عظیم الشان مخلوقوں کو جو حکم و ارشاد فرمایا اس کے لئے وہ دونوں خوشی خوشی حاضر و تیار ہوگئے۔ اور حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو اللہ پاک ان کو ایسی سزا دیتا جس کی تکلیف اور درد و الم یہ دونوں محسوس کرتے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، خازن اور جامع وغیرہ) ۔ سو اتنی عظیم الشان مخلوق بھی جب حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے حکم و ارشاد کے سامنے اس طرح سر تسلیم خم ہوجاتی ہے تو حیف ہے اس انسان ضعیف البنیان پر اگر یہ اس سے منہ موڑے اور سرکشی اختیار کرے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے اپنی اطاعت و بندگی سے سرشار و سرفراز رکھے اور ایسا اور اس حد تک جو اس کی رضا و خوشنودی کا ذریعہ و ویلہ ہو ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 41:1221 آسمان دنیا کی تزیین کا عظیم الشان انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے مزین کیا قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے "۔ یعنی ستاروں سے جو کہ چراغوں اور فانوسوں کی طرح اس کے نیچے معلق ہیں اور قادر مطلق کی بےمثال قدرت کی شہادت دے رہے ہیں۔ اور جب ان میں سے کسی بھی کام میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے مزین کیا " کہ تاکہ اس طرح تم لوگ اس عظیم الشان تزیین و آرائش سے لطف اندوز بھی ہوسکو اور تمہاری طرح طرح کی اہم ضرورتوں کی تکمیل کا سامان بھی ہوسکے۔ اور تم جھلمل جھلمل کرتے ان ستاروں کی ڈوبتی نکلتی روشنیوں سے اپنے قلب و نظر کو روشن کرنے کا سامان بھی کرسکو اور اپنے خالق ومالک کی قدرت اور اس کی عظمت شان کو بھی پہچان سکو اور بار بار اس کی طرف رجوع کرنے کی سعادت سے سرفراز ہوسکو۔ اور اس طرح تم اپنے قلب و باطن کو منور کرتے جاؤ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو آسمان کی یہ عظیم الشان چھت اور سورج و چاند اور ستاروں کے یہ عظیم الشان چراغ اور قمقمے اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اپنے خالق حکیم کے وجود باجود، اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کا پتہ دے رہے ہیں لیکن غافل و بےانصاف انسان ہے کہ وہ اس سب کے باوجود غفلت میں ڈوبا ہوا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ اپنی صحیح معرفت اور اپنی یاد دلشاد سے ہمیشہ سرفراز و مالامال رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔
22 آسمان کی حفاظت کا عظیم الشان و بےمثال انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم ہی نے اس کو خوب اچھی طرح سے محفوظ بھی کردیا "۔ کہ یہ عظیم الشان کرے نہ آپس میں متصادم ہوتے اور ٹکراتے ہیں اور نہ ان کی حرکت و سیر کے نظام میں کوئی فرق آتا ہے۔ یہ مطلب اس وقت ہوگا جب کہ { حفظا } کو مفعول مطلق قرار دیا جائے۔ اور اگر اسے مفعول لہ قرار دیا جائے تو اس و قت مطلب یہ ہوگا کہ ان چراغوں کو آسمان کی حفاظت کا ذریعہ بنایا گیا۔ جیسا کہ دوسری جگہ اس کی تصریح بھی موجود ہے۔ اور یوں یہ دونوں امر بیک وقت حاصل و موجود بھی ہیں اور اپنی زبان حال سے اپنے خالق ومالک کی عظمت ویکتائی اور اس کی حکمت وقدرت کی شہادت دے رہے ہیں ۔ جَلَّ مَجْدَہ وَعَزَّ بُرْہَانَہ ۔ نیز یہ کہ ہم نے اس کو شیاطین الجن کی دست درازیوں سے بھی محفوظ رکھا۔ اور یہ سارے کام دو دنوں میں تکمیل کو پہنچے اور مجموعی طور پر یہ پورے چھ دنوں میں انجام پذیر ہوئے۔ سو جو کوئی اس کارخانہ ہست و بود میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے گا وہ پکار اٹھے گا کہ یہ سب کچھ ایک نہایت عزیز وعلیم ہستی کی منصوبہ بندی کا کرشمہ ہے۔ سو یہ سب کچھ کسی اتفاقی حادثے کے طور پر وجود پذیر نہیں ہوگیا بلکہ یہ ایک نہایت ہی حکیمانہ پلاننگ کا نتیجہ وثمرہ ہے۔ اور یہ پلاننگ کسی ایسی ہستی کی کی ہوئی ہے جو ہر چیز پر غالب و مقتدر ہے۔ کوئی بھی شئی اس کے حیطہ قدرت سے باہر نہیں۔ ساتھ ہی اسکا علم بھی ایسا کامل ہے کہ ہر شئی کو اور ہر شئی کے ظاہر و باطن کے ہر پہلو اور ہر گوشے پر حاوی ہے۔ وہ کائنات کے بعید سے بعید گوشوں اور وہاں کی ہر چیز سے بھی پوری طرح واقفیت اور آگہی رکھتا ہے۔ سو وہی ہے اللہ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فلہ الحمد ولہ الشکر جل وعلا -
Ayah 41:1323 صاعقہ عاد وثمود کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر پھر بھی یہ لوگ منہ موڑے ہی رہیں تو ان سے کہو کہ میں نے تو بہرحال تم کو خبردار کردیا ہے صاعقہ عاد وثمود اور ان کے عذاب سے "۔ پس انکار و عداوتِ حق کی پاداش میں جو عذاب ان پر آچکا ہے وہ تم لوگوں پر بھی آسکتا ہے۔ لہٰذا اس سے بچنے کی فکر کرو۔ بیہقی اور ابن عسا کرنے حضرت جابر بن عبد اللہ ۔ ؓ ۔ سے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ عتبہ بن ربیعہ نے قریش کے نمائندے کے طور پر آ کر آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ آپ بنوہا شم اور بنو عبد المطلب میں سب سے بہتر شخص ہیں۔ مگر آپ ہمارے معبودوں کو گالیاں کیوں دیتے ہیں ؟ اور ہمیں گمراہ کیوں کہتے ہیں ؟ اگر آپ کو حکومت ورئاست کی ضرورت ہے تو ہم آپ کے لئے جھنڈا گاڑھ دیتے ہیں اور آپ ہمیشہ کے لئے ہمارے رئیس اور سربراہ ہوجائیں گے۔ اور اگر آپ کو عورت کی خواہش ہے تو ہم دس ایسی لڑکیاں آپ کے عقد میں دینے کے لئے تیار ہیں جن کو آپ پسند کریں۔ اور اگر آپ کو مال کی ضرورت ہے تو ہم آپ کو اتنا مال جمع کردیں گے جو آپ کے لئے اور آپ کے بعد آپ کی نسلوں کے لئے کافی ہوگا۔حضور ﷺ خاموش رہے۔ اور جب وہ اپنی بات ختم کرچکا تو آپ ﷺ نے اس کے سامنے سورة حم السجدہ کی یہی آیتیں تلاوت فرمانا شروع کردیں۔ یہاں تک کہ جب آپ ﷺ اس آیت پر پہنچے تو عتبہ نے آپ ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور وہ رحم کا واسطہ دینے لگا۔ اور وہاں سے واپس جا کر وہ اپنے گھر میں گم سم بیٹھ گیا۔ قریش کے لوگوں نے آ کر اس سے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تم بھی صابی ہوگئے ہو اور تم پر بھی محمد کا جادو چل گیا ہے۔ یعنی تم نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ کیونکہ اس وقت جو کوئی مسلمان ہوجاتا تھا کفار و مشرکین کی طرف سے اسے یہی یعنی " صابی " کا لقب دیا جاتا۔ یعنی اس نے اپنا آبائی دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرلیا ہے۔ جس طرح کہ آج کل کے قبر پرست اہل حق کو " وھابی " کہہ کر بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ " وہابی " کا معنیٰ ہے " اللہ والا "۔ جو کہ ایک بڑا شرف اور اعزاز ہے۔ مگر اہل شرک و بدعت کی مت ایسی ماری گئی کہ وہ اسے گالی اور برائی کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرحال قریش سے اس سوال پر عتبہ نے ان کو اپنا قصہ سنایا اور کہا کہ تم سب اچھی طرح جانتے ہو کہ محمد نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اس لئے مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم لوگوں پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہوجائے جس سے وہ تمہیں ڈرا رہا ہے۔ (المراغی، المدارک وغیرہ) ۔ بہرکیف اس سے ان لوگوں کو خبردار فرما دیا گیا کہ اگر یہ باز نہ آئے تو ان کیلئے ویسا ہی عذاب ہے جیسا کہ پہلی کافر اور منکر قوموں پر آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کیلئے یکساں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد میں گزشتہ قوموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 41:1424 بعثت رسل ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ رسولوں کی بعثت و تشریف آوری ان کی امتوں کے لیے ذریعہ ابتلاء و آزمائش ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے ان کی اطاعت و اتباع کو اپنایا وہ دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے سرفرازہو گئے اور جنہوں نے ان کی دعوت و ہدایت سے منہ موڑا اور اعراض و روگردانی کی راہ کو اپنایا وہ خائب و خاسر اور ذلیل و نامراد ہوئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آئے انکے پاس انکے رسول انکے آگے سے بھی اور انکے پیچھے سے بھی "۔ یعنی ہر طرف سے آئے اور انہوں نے دعوت حق کے لیے ہر طریقہ اپنایا اور ہر حیلہ اختیار کیا۔ تاکہ یہ لوگ حق کو قبول کریں۔ اور اس طرح یہ اپنے انجام بد سے بچ سکیں۔ مگر ان لوگوں نے ان کی بات کو مان کے نہ دیا۔ (روح، کبیر، محاسن، کشاف وغیرہ) ۔ سو انکے پیغمبروں نے انکو سمجھانے اور دعوت حق پہنچانے کیلئے ہمہ جہت، ان تھک اور شبانہ روز کوشش کی۔ انکو عقیدئہ توحید سمجھایا اور انکو یہ پیغام حق پہنچایا کہ عبادت و بندگی ایک اللہ کے سوا اور کسی کی نہیں کرنی کہ معبود برحق بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر اس سب کے باوجود ان لوگوں نے ان حضرات کی دعوت کو مان کر نہ دیا۔ سو اس ارشاد سے ایک طرف تو اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسولوں نے اپنی اپنی امتوں کو سمجھانے کی بھرپور اور ہمہ جہت کوششیں کیں لیکن منکر اور ہٹ دھرم لوگوں نے مان کر نہ دیا اور اس طرح بالآخر وہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ کر رہے۔ اور دوسری طرف اس سے اس حقیقت کو واضح فرمایا گیا ہے کہ توحید کی دعوت سب سے اہم اور مرکزی اور بنیادی دعوت ہے جو ہر پیغمبر نے اپنی امت کو دی ہے کیونکہ دین حق کی پوری عمارت اسی بنیاد پر قائم ہے۔ اس لیے ہر پیغمبر نے سب سے پہلے اسی کی دعوت دی۔ اور تیسری طرف اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ دعوت حق کے انکار اور اس کی تکذیب کا آخری اور طبعی اور منطقی نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ تاریخ دعوت اس کی شاہد عدل ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
25 انسان کی اعجوبہ پرستی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرات انبیاء و رسل کی دعوت کے جواب میں ان لوگوں نے کہا کہ " اگر ہمارا رب چاہتا تو کچھ فرشتے اتار دیتا "۔ یعنی کوئی نوری مخلوق ہوتی تو ہم مانتے۔ جبکہ تم تو ہمارے ہی جیسے بشر اور انسان ہو۔ تو پھر ہم تمہیں رسول کس طرح مان لیں ؟ یعنی ان لوگوں کے نزدیک بشریت اور نبوت میں تضاد تھا کہ یہ دونوں چیزیں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں۔ یعنی انکا کہنا اور ماننا یہ تھا کہ جو نبی و رسول ہوگا وہ بشر نہیں ہوسکتا۔ اور جو بشر ہوگا وہ نبی و رسول نہیں ہوسکتا۔ اور یہی غلط فہمی آج کے کلمہ گو مشرکوں کو بھی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کل کے ان کھلے مشرکوں نے حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کی بشریت طاہرہ کو دیکھ کر ان کی نبوت و رسالت کا انکار کیا اور آج کے کلمہ گو مشرک ان حضرات کی نبوت و رسالت کے اعتقاد کے دعویدار بن کر ان کی بشریت و عبدیت کا انکار کرتے ہیں اور صاف کہتے ہیں کہ پیغمبر بشر نہیں ہوتا۔ حالانکہ حق اور حقیقت یہی ہے کہ نبی و رسول بیک وقت نبی و رسول بھی ہوتا ہے اور بشر و انسان بھی۔ بلکہ اعلیٰ ترین اور سید البشر۔ جیسا کہ عبدہ و رسولہ کے کلمات کریمہ سے ہر مومن اس حقیقت کا اقرار و اعتراف کرتا ہے۔ اور یہی حق و حقیقت ہے اور یہی عقل و نقل کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ بہرکیف ان لوگوں نے پیغمبروں کی بشریت طاہرہ کو دیکھتے ہوئے ان کی نبوت و رسالت کا انکار کردیا اور کہا کہ ہم نہ تمہاری نبوت و رسالت کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی تمہاری اس دعوت کو قبول کرتے ہیں جسکے ساتھ تم کو بھیجا گیا ہے۔ یعنی دعوت توحید کو۔ یعنی ہم نہ تو تم لوگوں کو رسول مانتے ہیں اور نہ ہی تمہاری اس دعوت کو دعوت حق ماننے اور اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سو اعجوبہ پرست لوگوں کی اعجوبہ پرستی ان کے لیے محرومی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 41:1526 استکبار باعث محرومی و ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قوم ثمود نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اللہ کی زمین میں ناحق طور پر "۔ پس اپنی بڑائی کا گھمنڈ انسان کو لے ڈوبتا اور اس کو حق سے محروم کردیتا ہے۔ اس لئے دین اسلام میں اس کی بہت مذمت اور ممانعت کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا ۔ " لَا یَدْخُل الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مثقالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْر " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو قوم عاد کو اللہ تعالیٰ نے جو قوت و شوکت بخشی تھی اس کو پاکر خداوند قدوس کا شکرگزار بننے کی بجائے الٹا وہ لوگ کبر و غرور اور اپنی بڑائی کے جھوٹے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اکڑ گئے۔ اور انہوں نے کہا کہ ہم سے بڑھ کر طاقت اور قوت اور کس کی ہوسکتی ہے۔ اور اس طرح راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر ہمیشہ کی محرومی، ذلت اور ہلاکت کا شکار ہوگئے۔ اور " بغیر الحق " کی قید سے واضح فرما دیا گیا کہ مخلوق میں سے جو بھی کوئی استکبار میں مبتلا ہوگا وہ " بغیر الحق " ہی ہوگا۔ کیونکہ کبریائی اسی کا حق اور اسی کو سزاوار ہے جو اس ساری کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ اور وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اعراض و استکبار باعث محرومی اور موجب ہلاکت و تباہی ہے اور بندے کا اصل کمال اسی میں ہے کہ وہ اپنی شان عبدیت و بندگی میں کمال پیدا کرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 41:1627 قوم عاد کے ہولناک انجام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار ہم نے بھیج دی ان پر ایک سخت زور کی ہولناک ہوا جس نے تہس نہس کر کے رکھ دیا اس بدبخت قوم کو اور جو لگاتار سات راتوں اور آٹھ دنوں تک ان پر مسلط رہی "۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { سَخَّرَھا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمَانِیَۃِ اَیَّامٍ حَسُوْمًا } ۔ (الحاقۃ : 7) ۔ اور جس مال و دولت اور اپنی مادی ترقی و عروج پر ان لوگوں کو بڑا ناز تھا وہ ان کو کچھ بھی کام نہ آسکا ۔ { اِنَّ فِیْ ذَالِکَ لَعِبْرَۃٌ } ۔ ریح صرصر سے مراد وہ باد تند ہے جو عرب میں شدید سردیوں کے زمانے میں شمال کی طرف سے چلتی ہے اور جس کے ساتھ بادل بھی ہوتے ہیں اور گرج و چمک بھی۔ اور یہ اتنی سخت اور اس قدر ہولناک ہوا تھی کہ اس معذب قوم کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینکی جارہی تھی جیسا کہ وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرْ } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
28 دنوں کی نحوست سے مراد و مقصود ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا " چند منحوس دنوں کے اندر "۔ یعنی جو کہ اس بدبخت قوم کے لئے منحوس دن تھے کہ ان کے اندر اس بدبخت قوم پر ایسا ہولناک اور رسوا کن عذاب آیا ورنہ دنوں کے اندر فی حد ذاتہا کوئی نحوست نہیں ہوتی۔ بہرکیف اس سرکش اور باغی قوم نے جب استکبار اور حق سے اعراض کی بنا پر اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنادیا تو اس پر ذلت اور رسوائی سے دوچار کرنے والا ہوا کا ایسا ہولناک عذاب ان پر مسلط کردیا گیا جس نے انکو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ ان کی جڑ کٹ گئی اور یہ بدبخت قوم اپنے آخری اور ہولناک انجام سے دوچار ہو کر قصہ پارینہ بن کر رہ گئی۔ سو کفر و انکار اور تکذیبِ حق کا نتیجہ وانجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 41:1729 قوم ثمود بھی ہلاکت و تباہی کی راہ پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ثمود کو بھی ہم نے ہدایت دی مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھے پن ہی کو اپنایا "۔ اور انہوں نے کفر و انکار کی اس راہ ہی کو اپنایا جو کہ دائمی تباہی اور ابدی ہلاکت کے گڑھے میں ڈالنے والی راہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جس ڈگر پر قوم عاد کے بدبخت چلے تھے، ثمود کے لوگ بھی ہلاکت و تباہی کے اسی راستے پر چلے۔ اور بالآخر یہ بھی اسی انجام کو پہنچ کر رہے جس سے اس سے قبل وہ لوگ دوچار ہوچکے تھے۔ اور یہ ان کی اپنی کمائی کا لازمی نتیجہ اور طبعی تقاضا تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دین و ہدایت اور وحی خداوندی کا نور ایک عظیم الشان اور بےمثال نور ہے جبکہ اس سے محرومی اندھیرا اور گھٹاٹوپ اندھیرا ہے اور حق و ہدایت کے اس نور سے منہ موڑنے اور اعراض برتنے کا آخری انجام بہرحال ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے ۔ آمین۔
30 قوم ثمود کے ہولناک انجام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار آپکڑا ان کو ذلت کے عذاب کے کڑکے نے ان کی اپنی کمائی کی بنا پر "۔ سو یہ عذاب ان کا اپنا ہی کمایا ہوا اور ان کے اپنے ہی اختیار کردہ کفر و انکار کا لازمی نتیجہ اور انکے اپنے کئے کرائے کا طبعی ثمرہ تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ پاک نے تو ان کیلئے حق و ہدایت کی اس راہ کو کھولا اور واضح کیا تھا جس پر چل کر وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور ہوسکتے تھے۔ مگر انہوں نے اپنے سوئِ اختیار کی بنا پر اس سے منہ موڑ کر ہلاکت و تباہی کی اس راہ کو اپنایا جس نے انکو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے فی النار کردیا۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے حق سے منہ موڑنے کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس بدبخت قوم کے جرم کو بھی واضح کردیا گیا اور ان کے جرم کے نتیجہ وانجام کو بھی۔ سو ان کا جرم تھا حق کا انکار اور داعی حق اور دعوت حق کی تکذیب و توہین۔ اور اس کا نتیجہ وانجام تھا استیصال اور ہمیشہ کا عذاب ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے محفوظ اور ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 41:18–1931 ایمان وتقویٰ باعث نجات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے بچا لیا ایمان اور تقویٰ والوں کو۔ یعنی اس ہولناک انجام اور عذاب استیصال سے "۔ سو ایمان و یقین اور تقویٰ و پرہیزگاری کی دولت ہی انسان کے لئے نجات کا ذریعہ اور فوز و فلاح کا سبب ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ اِلَّذِیْ شَرَّفَنَا بِنْعَمْۃِ الایمان بمحْضِ مَنِہّ وَکَرَمِہ ۔ اللّٰہُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَ ثِبّتْ اَقْدَاَمَنَا علیٰ صراطک المستقیم ۔ آمین۔ یہاں پر { نجینا } کے ارشاد سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ نجات دینے والے اور بچانے والے سب کے ہم ہی ہیں۔ سو حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ سب اسی کی حاجت روائی و مشکل کشائی کے محتاج ہیں۔ خلاف اسباب اور خرق عادت کے طور بچانا اور نجات دینا اسی وحدہ لا شریک کا کام اور اسی کی شان ہے۔ پس خلاف اسباب اور خرق عادت کے طور پر کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا ماننا شرک ہے جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 41:2033 مجرموں کے خلاف انکے اپنے اعضاء کی گواہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انکے خلاف گواہی دیں گے انکے اپنے کان، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں "۔ تاکہ ان پر حجت تمام ہوجائے اور ان کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ اور یہ اس وقت ہوگا جبکہ وہ اپنے کئے کا انکار کرنے لگیں گے اور حیلے بہانے کرنے لگیں گے۔ جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ کتب احادیث میں اس کی تفصیل موجود و مذکور ہے۔ سو مطلب اس ارشاد کا یہ ہوا کہ جب اللہ کے یہ دشمن دوزخ کے پاس پہنچ جائیں گے تو یہ معلوم کرنے کیلئے کہ کون دوزخ کے کس درجے کا مستحق ہے اللہ تعالیٰ کو کوئی دقت اور دشواری پیش نہیں آئے گی۔ اس لیے کہ اس دن کوئی اس سے اپنے کسی عمل کو چھپا نہیں سکے گا۔ ہر ایک کے کان، آنکھ اور جسم کی کھالیں اور اس کے رونگٹے تک اس کے تمام کیے کرائے کی گواہی دیں گے ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
Ayah 41:2134 مجرموں کا اپنی کھالوں سے سوال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ "۔ یعنی دنیا میں تو تم ہمارے شریک کار اور معاون و مددگار تھے۔ اور ہم نے جو کچھ کیا دھرا تھا وہ تمہارے ہی ذریعے اور تمہارے ہی لئے کیا تھا۔ اور آج بھی ہم تمہارے ہی لئے لڑ رہے تھے تو پھر تم نے یہ کیا کہ آج اس طرح ہمارے ہی خلاف گواہی دے دی ؟ وہ جواب میں کہیں گے کہ اس میں ہمارا کیا قصور جس قادر وقیوم ربِّ قدیر نے ہر چیز کو قوت گویائی بخشی، اسی نے آج ہمیں بھی اس طرح بلوا دیا۔ اور تمہارا کیا کرایا سب کچھ ہم سے اگلوا دیا۔ (المراغی، الصفوۃ، الخازن وغیرہ) ۔ سبحان اللہ !۔ کتنا کرم اور کس قدر احسان ہے ہم پر اور تمام نبی نوع انسان پر اس کتاب حکیم قرآن مجید کا اور اس کے پیش فرمانے والے پیغمبر کا۔ اور اس کے اتارنے والے ربِّ رحمن و رحیم کا کہ قیامت کے اس جہان میں پیش لانے والے ان عظیم الشان غیبی حقائق کو ہمارے لئے اور پوری دنیائے انسانیت کے لئے اس قدر صراحت و وضاحت سے بیان فرما دیا۔ اور اس قدر پہلے اور بروقت عمر رواں کی اس فرصت مستعار ہی میں۔ تاکہ سنبھلنے والے سنبھل جائیں اور اپنا رویہ و راستہ ٹھیک کرلیں۔ سو کتنے بدبخت اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اس کے باوجود غفلت و لاپرواہی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اپنے اعضاء وجوارح کی اپنے خلاف یہ گواہی سن کر اللہ کے یہ دشمن اس روز اپنے سرپیٹ کر رہ جائیں گے اور انکو کو سنے لگیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ مگر اسکا کوئی فائدہ انکو بہرحال نہیں پہنچ سکے گا سوائے اس کے کہ ان کی آتش یاس و حسرت اس سے اور بھڑکے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
35 اپنی تخلیق و آفرینش میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے پیدا فرمایا تم سب کو پہلی مرتبہ "۔ عدم محض سے جبکہ تم کچھ نہ تھے۔ اور تمہارا کوئی نام و نشان اور اتہ پتہ نہ تھا۔ تو اس نے محض اپنے کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے تمہیں خلعت وجود سے نوازا۔ تو جب وہ عدم محض سے تم کو وجود بخش سکتا ہے، نیست سے ہست کرسکتا ہے، اور تمہارے جسم کے اندر اور باہر طرح طرح کے عجائب پیدا کرسکتا ہے تو پھر اس کیلئے ہمیں قوت گویائی دے دینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ اور اس کے لیے تمہیں دوبارہ پیدا کردینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ اور جس نے تم سب کو اس قدر پر حکمت طریقے سے پیدا کیا کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ تمہاری یہ تخلیق و آفرینش عبث و بیکار ہو ؟ سو تمہارا اپنا وجود توحید و وحدانیت خداوندی اور امکان و ضرورت بعث بعد الموت کے لیے ایک کھلی اور واضح دلیل ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
36 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کی طرف لوٹنا ہے تم سب کو "۔ جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی۔ تم کو عدم محض سے وجود میں لایا اور تمہارے مر مٹ جانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کیا اور اب اپنے حضور لا کھڑا کردیا۔ اس کے لئے ہمیں گویائی بخش دینا کیا مشکل اور کیونکر موجب تعجب ہوسکتا ہے ؟ اور تمہیں لوٹنا بہرحال اسی کی طرف ہے نہ کہ کسی اور کی طرف۔ اور اگر کسی نے ایسا کوئی خیال اپنے دل و دماغ میں بٹھا رکھا ہے تو یہ محض اس کی خام خیالی ہے۔ اور۔ { تُرجعون } ۔ کے صیغہ مجہول سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسا بہرحال ہوگا اور ہو کر رہے گا۔ تم چاہو اور مانو تو بھی اور نہ چاہو نہ مانو تو بھی۔ یہ کلام جلود کے کلام کا تتمہ بھی ہوسکتا ہے اور کلام مستانف بھی۔ (المحاسن وغیرہ) ۔ ہم نے ان دونوں ہی باتوں کا لحاظ کیا ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا ۔ سو اس ارشاد سے ان تمام لوگوں کی تردید ہوجاتی ہے جنہوں نے رجوع الی اللہ کے سوا اور عقیدے گھڑ رکھے ہیں سو وہ سب باطل اور بےبنیاد ہیں کہ رجوع سب کا بہرحال اللہ ہی کی طرف ہوگا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 41:2237 انسان کے لیے اپنے کسی عمل کو اللہ سے چھپانا ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم ایسے نہیں تھے کہ خود اپنے کانوں، آنکھوں اور رونگٹوں سے چھپ سکتے "۔ سو حکومت سے، لوگوں سے اور پولیس وغیرہ سے تو تم لوگ اپنی پختہ بلڈنگوں اونچی دیواروں اور دوسرے طرح طرح کے طریقوں سے چھپ اور بچ جایا کرتے تھے لیکن اپنے ہی کانوں، اپنی آنکھوں اور اپنی کھالوں سے آخر تم لوگ کس طرح چھپ اور بچ سکتے تھے ؟ یہ تو بہرحال تمہارے بس میں نہیں تھا۔ مخلوق سے تو تم چھپ جاتے تھے مگر خالق سے کیسے چھپ سکتے تھے ؟ پس اس آیت کریمہ میں بڑی تنبیہ ہے کہ مومن کو ہر وقت یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیئے کہ میرا رب مجھے ہر وقت اور ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔ اس سے چھپنا کسی بھی طرح ممکن نہیں ۔ اَللّٰہُمَّ اَعِدْنَا مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وسَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا وَخُذْنَا بِنَوَاصِیْنَا اِلٰی مَا تَحِبُّ و تَرْضٰی ۔ سو بندے کا اپنے رب سے چھپنا کسی بھی طرح ممکن نہیں۔ پس ہمیشہ فکر و کوشش اسی کی رہے کہ اس سے ہمارا معاملہ صحیح ہو اور وہ ہم سے ناراض نہ ہوجائے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کیلئے ہمیشہ اسی سے توفیق بھی مانگے اور اس کے بارے میں اپنا گمان بھی صحیح رکھے کہ وہ اپنے بندے کے ساتھ انکے گمان کے مطابق معاملہ فرماتا ہے۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں اسکا اپنا ارشاد وارد ہے۔ یعنی " میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں جیسا کہ اسکا میرے بارے میں ظن و گمان ہوتا ہے " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ اللہ تعالیٰ بدگمانی کے ہر شائبے سے محفوظ اور ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
38 بدگمانی باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے بارے میں بدگمانی باعث ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " مگر تم لوگوں نے اللہ کے بارے میں یہ سمجھ رکھا تھا کہ اللہ ان بہت سے کاموں کو نہیں جانتا جو تم لوگ کرتے ہو "۔ اسی لئے تم چھپ کر ایسے ایسے جرائم کا ارتکاب کرتے تھے اور اپنے طور پر تم لوگ مست و مگن تھے کہ کسی نے ہمیں دیکھا نہیں اور کسی کو ہمارے کئے کرائے کا پتہ نہیں چلا وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ تمہاری بلادت، حماقت اور جہالت تھی کہ تم لوگوں نے اپنے خالق ومالک کے بارے میں یہ گمان کر رکھا تھا۔ جبکہ حقیقت اور امر واقع اس کے برعکس یہ تھا کہ تمہارے رب سے تمہاری کوئی بھی بات مخفی نہیں تھی۔ خواہ وہ کوئی چھوٹی بات ہو یا بڑی بات۔ نیز تمہارے اعضاء وجوارح تمہارے ہر کام کے موقع کے گواہ اور عینی شاہد تھے۔ مگر تم لوگ اپنی غفلت و جہالت کی بنا پر اس سے لاپروا تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -