41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ٭نہایت رحم و کرم کرنے والے اللہ نے قرآن کریم کو عربی میں اس لئے نازل کیا ہے تا کہ جو لوگ قرآن کے مخاطب اول ( مکہ والے ، عرب والے) ہیں وہ اس کو اچھی طرح سمجھ کر ساری دنیا کے لوگوں کو سمجھائیں اور انہیں کوئی دشواری نہ ہو۔ ٭ یہ قرآن ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کے لئے خوش خبری اور اس کو نہ ماننے والوں کو ان کے برے انجام سے آگاہ اور خبر دار کرنے کا ذریعہ ہے۔ ٭کفار و مشرکین کہتے تھے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ جو باتیں ہم سے کرتے ہیں وہ ہماری سمجھ میں نہیں آتیں نجانے کیا پردہ یا رکاوٹ ہے ، لہٰذا آپ اپنی جدوجہد کیجئے اور ہمیں اپنے کام دھندے میں لگا رہنے دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم جیسا ہی ایک بشر ہوں میری طرف جو بھی وحی کی جاتی ہے وہ میں تمہیں بتا دیتا ہوں پھر بھی تم میری بات کو نہیں سمجھتے۔ کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے کہ ہمارا اور تمہارا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کے لائق ہے ۔ تمہیں اسی سیدھے راستے کی طرف چل کر اپنے گناہوں سے معافی مانگنا چاہیے۔ ٭فرمایا کہ یہ مشرکین کس قدر بد نصیب لوگ ہیں نہ تو انسانیت کے بھلے کے لئے کوئی کام کرتے ہیں نہ انہیں آخرت کی زندگی پر یقین ہے ، حالانکہ اللہ نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ جو لوگ ایمان اور صالح کی زندگی گزاریں گے ان کو ہمیشہ بہترین اجر وثواب دیا جائے گا جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا۔ (فرمایا کہ قوم عاد اور قوم ثمود کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ دونوں وہ زبردست اور طاقت ور قومیں تھیں کہ انہیں اپنی قوت و طاقت پر غرور کی حد تک ناز تھا ، وہ کہتے تھے کہ ہم سے بڑھ کر طاقت و قوت میں کوئی ہے تو وہ سامنے آئے۔ ان کی اصلاح کے لئے انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے انہیں ہر طرح سمجھایا ۔ جب انہوں نے مسلسل نافرمانیاں کیں تو ان کو اسی طرح بنیادوں سے کھود کر رکھ دیا کہ آج ان کے کھنڈرات ان کفار اور انکار کرنے والوں کی بےبسی کا مذاق اڑا رہے ہیں جن کی تباہی ایک عبرت کا مثال بن کر رہ گئی ہے۔ ) ٭فرمایا کہ اگر یہ کفار صرف زمین و آسمان کی پیدائش پر ہی ذرا غور کرلیتے تو وہ اللہ کی توحید اور عظمت کا انکار کر ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ اللہ نے اپنی قدرت کا ملہ سے چھ دنوں میں اس ساری کائنات کو پیدا کیا ہے۔ اس نے زمین کو دو دنوں میں پیدا کر کے اس پر پہاڑوں کو بوجھ بنا کر رکھ دیا تا کہ زمین ساری مخلوق کو لے کر ایک طرف نہ ڈھلک جائے ۔ زمین و آسمان کے درمیان کی تمام چیزوں کو دونوں میں پیدا کیا ۔ آسمان جو ایک دھویں کی طرح تھا اس کو دونوں میں پیدا کیا ۔ اس طرح کائنات کو بنانے کا یہ عمل صرف چھ دنوں میں مکمل کردیا ۔ پھر آسمان کو چاند ، سورج اور ستاروں سے خوبصورتی عطاء کی ۔ زمین و آسمان سے کہا گیا کہ وہ خوشی سے یا مجبوری سے آجائیں تو انہوں نے خوشی سے عرض کیا کہ ہم حاضر ہیں ۔ اسی نے سات آسمان بنائے ہیں ۔ اب تم خود ہی فیصلہ کرلو ان تمام چیزوں کو جس ذات نے اپنی قدرت کاملہ سے بنایا ہے کیا اس کی کائنات میں دوسرا کوئی مستحق ہے کہ اس کی عبادت و بندگی کی جائے۔ ( جب یہ نافرمان لوگ جہنم کی بھڑکتی آگ میں ڈالے جائیں گے تو پھر انہیں احساس ہوگا کہ واقعی ہمیں تو ہر طرح گمراہ کیا گیا ہے۔ وہ اللہ سے درخواست کریں گے الٰہی ! اگر آج ہم ان لوگوں کو اور شیطان کو دیکھ لیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا ہے تو ہم ان کو اپنے پاؤں سے روند ڈالیں گے ، لیکن ان کا پچھتانا ، ان کے کسی کام نہ آسکے گا اور وہ ہمیشہ کی جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے) ٭قوم ثمود اور قوم عاد کا ذکر کر کے بتایا کہ یہ کتنی زبردست قومیں تھیں جن کو اپنی قوت و طاقت پر بڑا ناز اور گھمنڈ بھی تھا اور کہتے تھے کہ ہم سے زیادہ قوت و طاقت میں اور کون ہے ؟ لیکن جب انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی تو اس نے ان قوموں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور ان کا بڑا بھیانک انجام ہوا۔ ٭قیامت کے دن جب اللہ ان دشمنان اسلام کو جمع کرے گا اور ان کے کیے ہوئے اعمال سے متعلق پوچھا جائے گا تو وہ اپنے اعمال کا انکار کریں گے تب ان کے اعضاء ہاتھ ، پاؤں ، کان ، آنکھ اور ان کی کھال تک ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ وہ حیران ہو کر ان اعضاء سے پوچھیں گے کہ تم بھی ہمارے خلاف گواہی دے رہے ہو ؟ تمہیں یہ بولنے کی طاقت کس نے دی ؟ وہ کہیں گے کہ جس اللہ نے ہر ایک کو بولنے کی طاقت دی ہے اسی نے ہمیں بھی قوت گویائی عطاء فرمائی ہے ۔ تم نے ہم سے زندگی بھر جو چاہا ہم نے تمہارا کہا مانا لیکن ہم نے اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے ساری باتیں کھول کر بیان کردی ہیں ۔ اس کے بعد ان دشمنان اسلام کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا ۔ ٭وہ جہنمی اللہ سے درخواست کریں گے کہ آج اگر ہم ان انسانوں اور شیطانوں کو دیکھ لیں تو انکے اپنے پاؤں روند ڈالیں گے جنہوں نے زندگی بھر ہمیں گمراہی میں ڈالے رکھا ۔ اس طرح شاید ہمارے دلوں میں ٹھنڈک پڑجائے لیکن ان کا یہ پچھتانا اور شرمندہ ہونا ان کے کسی کام نہ آئے گا اور ان کو جہنم کی آگ میں پھینک دیا جائے گا جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ٭فرمایا کہ ایمان و عمل صالح اختیار کرنے والوں کو فرشتے یہ یقین دلائیں گے کہ ہم وقت تمہارے ساتھ ہیں ۔ ہم اللہ کے حکم سے دنیا میں بھی تمہاری مدد کرتے رہے ہیں اور ہم آخرت میں بھی تمہارے ساتھ ہوں گے اور تمہیں جنت کی راحتوں سے ہم کنار کریں گے۔ ان جنتوں میں اللہ کی طرف سے تمہاری مہمان نوازی کی جائے گی اور تمہارا دل جس چیز کو چاہے گا وہ چیز تمہیں عطاء کی جائے گی۔ ٭فرمایا کہ جو لوگ زندگی بھر نیکیوں پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کو راہ ہدایت دکھاتے ہیں وہ ” داعی الی اللہ “ ہیں یعنی اللہ کی طرف بلانے والے وہ ہر معاملے میں نرمی اختیار کریں ۔ برائی کا جواب بھلائی سے دیں اور اس راستے میں جو حق و صداقت کا راستہ ہے اس پر ڈٹے رہیں ، صبر اور برداشت سے کام لیں۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ یہ منکرین جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑا رہے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہر بات کا انکار کر رہے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پریشان نہ ہوں کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جتنے بھی پیغمبر آئے ہیں ان کے ساتھ بھی لوگوں نے یہی معاملہ کیا مگر انہوں نے اس پر صبر کیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی صبر سے کام لیجئے۔ ہر کامیابی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدم چومے گی۔ ٭فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کریم کو عربی زبان میں اس لئے نازل کیا ہے تا کہ وہ لوگ اس کو سمجھ سکیں ۔ اگر یہ قرآن عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں نازل کیا جاتا تو یہ پھر بھی مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ رسول تو عربی ہے اور اس کی کتاب عجمی زبان میں ہے۔ فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو باتیں کرنے دیجئے کیونکہ یہ ان اندھوں کی طرح ہیں جو ہر جگہ ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ آج اگر یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اختلاف کررہے ہیں تو یہ کوئی ایسی تعجب کی بات نہیں ہے اس سے پہلے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توریت جیسی کتاب لے کر آئے تو انہوں نے ان سے بھی اختلاف کیا تھا اور ان کی بات ماننے سے انکار کردیا تھا۔ ٭فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ وہ کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا بلکہ خود ہی یہ لوگ اپنے نفسوں اور اپنی جانوں پر ظلم کرنے کے عادی ہیں ، وہ پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی ؟ فرمایا کہ قیامت تو ضرور آئے گی لیکن وہ دن ان جیسے ظالموں کے لیے کوئی اچھا دن نہ ہوگا اس سے بچنے کی فکر آج ہی کرنا چاہیے۔ ٭فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ ویسے تو یہ بہت بہادر بنے پھرتے ہیں لیکن ان پر ذرا بھی مصیبت آجائے تو مایوسیوں کی انتہاؤں پر پہنچ جاتے ہیں اور اگر کچھ مل جائے تو اس پر اترانے اور غرور کرنے لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں جو کچھ حاصل ہوا ہے وہ ہماری محنت سے حاصل ہوا ہے اور ہم پر کسی کا احسان نہیں ہے۔ ٭اللہ نے آخر میں فرمایا کہ اگر انہوں نے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دامن اطاعت و محبت سے وابستگی اختیار نہ کی تو وہ وقت دور نہیں ہے جب اللہ تعالیٰ ان کے ارد گرد اور خود ان کی اپنی جانوں میں نشانیاں دکھائے گا ۔ علماء مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ ایک پیشن گوئی تھی جو غزوہ بندہ کے دن پوری ہوئی جب کفار کے بڑے بڑے لوگ اس جنگ میں مارے گئے ۔ ساری دنیا میں کفار ذلیل و رسوا ہوگئے اور ایک بد ترین انجام سے دو چار ہوئے۔

Ayahs 41:1–8

حٰمٓۚ Open ayah 41:1 in the Quran reader

ح ۔ م ( ان حروف کی مراد کا علم اللہ کو ہے)

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

یہ کلام نہایت رحم کرنے والے مہربان اللہ کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں صاف صاف بیان کی گئی ہیں ۔ ایسا قرآن ہے جو عربی زبان میں ہے اور علم و عقل رکھنے والے کے لئے ( نصیحت) ہے

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

خوش خبری دینے والا ، ڈر سنانے والا ، ان ( کفار میں سے) اکثر نے منہ پھیرلیا ہے اور وہ سنتے ہی نہیں

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ تم ہمیں جس طرف بلا رہے ہو اس سے ہمارے دل پردے ( غلاف) میں ہیں اور ہمارے کانوں میں گرانی ( ڈاٹ) ہے اور ہمارے تمہارے درمیان ایک پردہ ہے۔ پس تم اپنا کام کئے جائو ، بیشک ہم تو اپنا کام کئے جا رہے ہیں۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف تم جیسا ہی بشر ہوں البتہ میری طرف وحی کی جاتی ہے تمہارا اور ہمارا رب ایک ہی ہے۔ بس تم اسی کی طرف سیدھے سیدھے چلو اسی سے مغفرت مانگو ۔ ان مشرکین کے لئے بڑی خرابی ہے

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کا انکار کرنے والے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

لیکن بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کے لئے ایسا اجر وثواب ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8 : فصلت ( کھول دی گئی) اعرض (منہ پھیر لے) اکنۃ ( کنان) ( پردے) وقر (بوجھ ، گرانی ، ڈاٹ) حجاب (پردہ) استقیموا (سیدھے رہو) غیر ممنون (نہ ختم ہونے والا) تشریح : آیت نمبر 1 تا 8 :۔ اس سورت کو ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس سے پہلے یہ بتا دیا گیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ سورة مومن اور سورة احقاف تک سات سورتیں ” حم “ سے شروع کی گئی ہیں جن کے بہت سے فضائل ہیں جس کی کچھ تفصیل آپ نے سورة مومن میں بھی پڑھ لی ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی ایک صداقت و حقانیت یہ ہے کہ یہ نہایت رحم و کرم کرنے والے اللہ کی طرف سے نازل کیا ہوا قرآن ہے جس کی آیتیں بالکل واضح اور صاف صاف بیان کی گئی ہیں ۔ چونکہ عربی زبان میں ہیں اس لئے ان آیات کے مخاطب اول اہل مکہ کو ان آیات کے سمجھنے میں کوئی دشواری بھی نہیں ہے لیکن اگر ان آیات پر دھیان نہ دیا جائے تو مشکل نظر آتی ہے۔ ہر وہ شخص جس میں ذرا بھی علم و دانش یا عقل و فہم ہے وہ ذرا سی توجہ سے ان کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے اور اس کے لئے نہ سمجھنے کا کوئی عذر باقی نہیں رہتا ۔ فرمایا کہ اس قرآن کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ جہاں جنت اور بہترین اعمال کے عمدہ نتائج کے لئے خوش خبری دیتا ہے وہیں لوگوں کو جہنم کی بھڑکتی آگ اور برے انجام سے بھی ڈرتا ہے لیکن اکثر لوگ وہ ہیں جو اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ وہ قرآن کریم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ہمیں جس طرف دعوت دے رہے ہیں وہ باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔ ہمارے کانوں اور مزاجوں پر گراں گزرتی ہیں ایسا لگتا ہے کہ آپ کے درمیان اور ہمارے درمیان ایک پردہ اور رکاوٹ ہے نہ تو آپ ہماری بات سمجھتے ہیں اور نہ ہم آپ کی لہٰذا بہتر یہی ہے کہ آپ اپنا کام کئے جایئے اور ہمیں اپنے کام میں لگا رہنے دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا ہے کہ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم ہی جیسا بشر ہوں میری طرف اس بات کی وحی کی گئی ہے کہ تمہارا اور ہمارا معبود ایک ہی ہے تمہاری ساری توجہ ، عبادت اور دعا صرف اللہ کی ذات کے لئے ہونی چاہیے جس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا چاہیے کیونکہ اگر تم کفر و شرک پر قائم رہے تو اس کا انجام نہایت بھیانک ہے۔ کیونکہ مشرکین نہ تو کسی بھلے اور نیک کام میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور نہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں بلکہ ہر سچائی کا انکار کرتے ہیں ۔ یہی چیز ان کو بربادی کی طرف لے جا رہی ہے۔ اس کے بر خلاف جو لوگ ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کریں گے ان کو اتنا عظیم اجر اور بدلہ دیا جائے گا جو ہمیشہ ان کے کام آئے گا اور اس کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا ۔
Ayahs 41:9–18

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم (دوسروں کو) اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ ( حالانکہ) وہی سارے جہانوں کا رب ہے

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

جس نے اس ( زمین کے اوپر پہاڑوں کے) بوجھ رکھ دیئے اور اس میں برکت رکھ دی ۔ اس نے چاردنوں میں فائدے کی چیزیں مقرر کردیں اور تمام پوچھنے والوں کے لئے ( ان کی طلب و خواہش کے مطابق) ہر طرح کا رزق عطاء کیا

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی جو ایک دھواں سا تھا پھر اس نے اس سے اور زمین سے کہا کہ تم دونوں خوشی سے آئو یا زبردستی ( آنا تو پڑے گا) دونوں نے کہا کہ ہم خوشی خوشی حاضر ہیں ۔

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر اس نے دونوں میں سات آسمان بنا دیئے اور ہر آسمان ( کے فرشتوں) کو اس کے کام کی وحی کردی ۔ اور ہم نے ہی آسمان دنیا کو ستاروں سے زینت دے کر اس کی حفاظت (کا انتظام) کیا ۔ یہ غالب حکمت والے اللہ کا فیصلہ تھا۔

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ اگر وہ ( ان تمام سچائیوں کے ہوتے ہوئے بھی) منہ پھیر لیں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تمہیں ایک ایسی زبردست آف ( چنگھاڑ) سے آگاہ کر رہا ہوں جیسی آفت و مصیبت قوم عاد اور ثمود پر آئی تھی ( عذاب آیا تھا)

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب کہ ان کے پاس ( لگاتار) آگے اور پیچھے رسو ل آتے رہے ( اور سمجھاتے رہے کہ) تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت و بندگی مت کرنا ۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو وہ فرشتوں کو نازل کرتا لہٰذا تم جس ( پیغام حق) کے ساتھ بھیجے گئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

(اس طرح) قوم عاد نے ناحق غرور وتکبر کرنا شروع کردیا اور کہنے لگے کہ ہم سے زیادہ قوت والا کون ہے ؟ ( جو ہمیں عذاب دے گا) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بیشک اللہ وہ ہے جس نے انہیں پیدا کیا جو قوت و طاقت میں ان سے بڑھ کر ہے اور وہ ہماری نشانیوں ( پر ایمان لانے کی بجائے) انکار کرتے رہے۔

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

پھر ہم نے ان پر ایسی زبردست ہوا ( کا طوفان) بھیجا ( جو عذاب کی وجہ سے ان کے حق میں) منحوس دن تھا تا کہ ہم انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب چکھا دیں ۔ اور آخرت کا عذاب تو اور بھی زیادہ ذلیل و رسوا کرنے والا ہوگا جس میں ( انہیں کسی طرف سے بھی) مدد نہ پہنچے گی۔

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

رہے قوم ثمود تو ہم نے انہیں راستہ دکھایا تھا لیکن انہوں نے ہدایت ( کے مقابلے) میں اندھا بنا رہنے کو پسند کیا۔ (نتیجہ یہ ہوا کہ) ان کو ذلیل و رسوا کردینے والے عذاب میں ایک زبردست چنگھاڑنے آپکڑا ۔ یہ اس کی سزا تھی جو وہ کماتے تھے۔

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

( اس کے بر خلاف) ہم نے انہیں بچا لیا ( نجات دی) جو لوگ ایمان لے آئے تھے اور جو لوگ پرہیز گار تھے۔

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 18 : رواسی ( بھاری پہاڑ ، بوجھ) اقوات ( قوت) ( کھانے کی چیزیں) قدر (اس نے مقرر کیا ، اندازہ کیا) دخان ( دھواں) طوعا (خوشی خوشی) کرھا ( زبردستی) طالعین (کہا ماننے والے) قضی (اس نے فیصلہ کیا) زینا (ہم نے زینت دی ، خوبصورت بنایا) مصابیح (چراغ) صعقۃ (کڑک) اشد (زیادہ طاقت والا) یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں) ریح (ہوا) صرصر (سخت ، تند و تیز) نحسات (آفتوں والا) اخزی (زیادہ ذلیل کرنے والا) استحبوا (انہوں نے پسند کیا) الھون ( ذلیل و رسوال کرنا) تشریح : آیت نمبر 9 تا 18 : ان آیات میں کفار و مشرکین کو ان کے کفر و شرک پر آگاہ کرتے ہوئے زمین ، آسمان اور ان کے درمیان جتنی بھی بےشمارمخلوقات ہیں ان کی تفصیل ارشاد فرماتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ انسان کی انتہائی بےعقلی اور ناسمجھی کی بات ہے کہ جس اللہ نے اتنے عظیم الشان آسمان اور زمین کو پیدا کرکے انسان کی تمام ضروریات کو ان میں رکھ دیا ہے وہ اس کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک کر کے ان کی عبادت و بندگی کرتے ہیں حالانکہ ہر طرح کی عبادت اور بندگی کا حق دار صرف وہی ایک خالق حقیقی ہے جس نے چھ دن میں اس پورے نظام کائنات کو بنایا ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مدینہ کے یہودیوں نے حضور اکرم ﷺ سے زمین و آسمان کی پیدائش کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ (1) اللہ تعالیٰ نے زمین کو اتوار اور پیر کے دن پیدا کیا (2) پہاڑوں اور ان میں جو بھی مع دنیات اور ذخائر ہیں ان کو منگل کے دن میں (3) درخت ، پانی کے چشمے ، شہر ، اس کی عمارتیں اور ویران میدانوں کو بدھ کے دن پیدا کیا (4) جمعرات کے دن آسمان بنائے (5) اور جمعہ کے دن ستارے ، چاند ، سورج اور فرشتے اس وقت پیدا کئے کہ جب جمعہ کے دن میں تین ساعتیں باقی تھیں۔ ان میں سے دوسری ساعت میں تمام آفتوں اور مصیبتوں کو پیدا کیا جو ہر چیز پر آنے والی ہیں ۔ اور تیسری ساعت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا ۔ ان کو جنت میں ٹھہرایا ، ابلیس کو سجدہ کا حکم دیا اور انکار پر اس کو جنت سے نکال دیا گیا ۔ یہ سب تیسری ساعت کے ختم ہونے تک ہوا۔ ( ابن کثیر) یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ نے چھ دن میں دنیا بنائی لیکن ساتویں دن آرام کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے عقیدہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ ” بیشک ہم نے آسمانوں ، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا اور ان کے بنانے میں ہمیں کوئی تکان نہیں ہوئی “ یعنی ساتویں دن اللہ نے تھکن کی وجہ سے آرام نہیں کیا کیونکہ کسی کام کے کرنے کے بعد تھک جانا یہ انسان کی عادت تو ہے لیکن اللہ کے تھک جانے کا تصور انتہائی غلط اور باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو چھ دن میں بنانے کے متعلق جن آیات کو نازل کیا ہے ان کا مقصد یہودیوں کے غلط عقیدہ کی اصلاح ہے۔ اب اس بات پر بحث کرنا کہ پہلے زمین پیدا ہوئی یا آسمان تو یہ وقت کو ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم کسی جگہ بھی کائنات کی تخلیق کا ذکر کسی طبیعاتی ذکر یا کچھ علوم سکھانے کے لئے نہیں کرتا بلکہ توحید و رسالت اور فکر آخرت پیدا کرنے کی دعوت دیتا ہے تا کہ بھٹکے ہوئے لوگوں کی اصلاح ہو سکے اور وہ غور و فکر سے کام لے کر اللہ کی ذات وصفات کو پہچان سکیں اور تکبر و غرور سے بچ سکیں چناچہ قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر کرنے ہوئے فرمایا کہ دنیا کی ان ترقی یافتہ قوموں نے فکر آخرت کے بجائے دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ لیا تھا اور اپنے اچھے اعمال ادا کرنے کے بجائے اپنی بڑائی کا اظہار کرتے رہے اور جان بوجھ بوجھ کر سچائیوں سے وہ اندھے بنے رہے آخر کار ان پر وہ عذاب آیا جو ان کی ترقیات اور مال و دولت کو تباہ و برباد کر کے چٹ کر گیا اور ان کی زندگیوں کو ایک فسانہ بنا کر رکھ دیا۔ ان تمام بانوں کو اللہ نے ارشاد فرمایا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہئے کہ کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہوے جس نے زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا ۔ اس کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں ہے وہ جہانوں کا پروردگار ہے۔ یہ اسی کا کرم ہے کہ اس نے زمین پر پہاڑوں کے بوجھ رکھ دیئے تا کہ زمین اپنی جگہ ٹھہری رہے۔ اللہ ہی نے اس زمین میں برکت عطاء فرمائی اور چار دنوں میں اس نے برکت کی تمام چیزیں اس سر زمین میں رکھ دیں اور تمام ان لوگوں کی طلب و خواہش کے مطابق ہر طرح کا رزق مہیا کردیا جو وہ مانگ سکتے تھے۔ فرمایا کہ جب اللہ نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی تو وہ ایک دھواں سا تھا پھر اس نے اس دھوئیں اورز میں سے کہا کہ تم دونوں خوشی سے یا زبردستی آ جائو یعنی تمہیں آنا تو پڑے گا ۔ دونوں نے کہا ہم خوشی سے حاضر ہیں ۔ پھر اس نے دونوں میں سات آسمان بنا دیئے۔ پھر اس نے ہر آسمان کے فرشتوں اور صلاحیتوں کو ان کے کاموں کی وحی کردی ۔ فرمایا کہ ہم نے ہی آسمان دنیا کو ستاروں سے زبردست و خوبصورتی عطاء کر کے ان کی حفاظت کا سامان کردیا ۔ یہ سارے فیصلے غالب حکمت والے اللہ کی طرف سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر وہ کفار ان تمام سچائیوں کے باوجود ان حقائق سے منہ پھیر لیتے ہیں تو آپ اعلان کر دیجئے کہ میں تمہیں ایسی زبردست چنگھاڑ ( عذاب الٰہی) سے آگاہ کر رہا ہوں جیسی قوم عاد اور قوم ثمود پر آئی تھی ، حالانکہ ان کو سمجھانے کے لئے اللہ نے اپنے رسولوں کو بھیجا تھا اور بتایا تھا کہ اللہ کے سوا عبادت و بندگی کے لائق کوئی نہیں ہے مگر ان کی بات ماننے کے بجائے انہوں نے اعتراض کرنا شروع کردیئے کہ اگر اللہ کو ہماری ہدایت کے لئے بھیجنا تھا تو فرشتوں کو بھیج دیا ہوتا ۔ ہم جیسے بشر کے ذریعہ ہمیں یہ پیغام کیوں دیا گیا لہٰذا ہم اس ( دعوت حق) کا انکار کرتے ہیں ۔ قوم عاد نے ناحق غرور وتکبر کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے زیادہ قوت و طاقت والا کون ہے جو ہمیں عذاب دے گا ؟ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ اس بات کو بھول گئے کہ اللہ وہ ہے جس نے انہیں پیدا کیا جو طاقت و قوت میں ان سے بڑھ کر ہے ۔ لیکن وہ لوگ اللہ کی نشانیوں پر ایمان لانے کے بجائے ان کا انکار کرتے رہے ، اللہ نے فرمایا کہ پھر ہم نے ان پر ایسی زبردست طوفانی ہواؤں کو بھیجا کہ جس سے ان کے حق میں ان کے دن منحوس دن ثابت ہوئے یہ اس لئے تھا کہ ان جیسے لوگوں کو دنیا کے عذاب کا مزا چکھا دیا جائے اور انہیں بتا دیا جائے کہ آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ وہ ان کو آخرت میں ذلیل و رسوا کر کے رکھ دے گا ۔ رہے قوم ثمود تو اگرچہ ہم نے ہی انہیں راہ ہدایت دکھائی تھی مگر وہ ہدایت کے مقابلے میں اندھے بنے رہے۔ آخر کار ان کو بھی ایک زبردست چنگھاڑ نے تباہ کردیا اور اللہ نے اہل ایمان کو اور اللہ سے ڈرنے والوں کو پوری طرح نجات عطاء فرما دی تھی۔
Ayahs 41:19–25

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جس دن اللہ کے دشمن ( کفار و مشرکین) جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے تو وہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے ۔

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ اسکے پاس آئیں گے تو ان پر ان کے کان ، ان کی آنکھیں اور ان کی کھال اور چمڑے بھی گواہی دیں گے کہ وہ کیا کرتے رہے تھے۔

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

وہ (حیرت و تعجب سے) اپنی کھالوں ( گوشت پوست) سے پوچھیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ (اور یہ بولنے کی طاقت تمہارے اندر کہاں سے آئی ؟ ) جواب دیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے بولنے کی طاقت دی ہے جس نے ہر ایک بولنے کی طاقت عطاء کی ہے۔ اسی نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور تم اسی کی طرف لوٹائے گئے ہو

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

(اس وقت فرمایا جائے گا کہ) جب تم چھپ چھپ کر گناہ کیا کرتے تھے تمہیں اس وقت اس کا خیال و گمان تک نہ تھا کہ تمہارے کان ، تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسموں کی کھالیں بھی تم پر گواہی دیں گی۔ تم نے تو یہ سمجھ رکھا تھا کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر بھی نہیں ہے۔

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

تمہارے اسی جھوٹے گمان نے جو تم نے اپنے رب کے متعلق قائم کر رکھا تھا ہلاک و برباد کر ڈالا اور تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگئے۔

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

(قیامت میں کہا جائے گا کہ) اگر وہ صبر کریں تب بھی ان کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور اگر اب وہ معافی بھی مانگیں تو وہ ان لوگوں میں سے نہ ہوں گے جن کو معاف کیا جاتا ہے۔

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

(اس کی وجہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایسے ہم نشین (ساتھی) مسلط کردیئے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے کی ہر چیز کو خوبصورت بنا کر دکھاتے تھے۔ بہر حال ان پر بھی وہی عذاب آ کر رہے گا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنات اور انسانوں کے گروہوں پر مسلط کیا گیا تھا ۔ یقینا وہ نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25 : یحشر ( اکٹھے کئے جائیں گے) یوزعون (گروہوں میں تقسیم ہوں گے) شھد (اس نے گواہی دی) جلود (جلد) ( کھالیں ، گوشت پوست ، چمڑے) لم شھدتم (تم نے گواہی کیوں دی) انطقنا (ہمیں بولنے کی طاقت دی) مرۃ (مرتبہ ، باربار) تستترون ( تم پردہ کرتے ہو ، چھپاتے ہو) اردی ( اردائ) (ہلاک کیا ، تباہ کیا) یستعتبوا (راضی کریں گے) قیضنا (ہم نے مقرر کردیا) تشریح : آیت نمبر 19 تا 25 : انسان راز داری کے ہزاروں پردوں کے اندر چھپ کر کوئی کام کرے یا اعلانیہ کھلم کھلا ۔ اللہ کو اس کی ایک ایک ایک حرکت کا علم ہوتا ہے۔ جس بات کو دنیا کا کوئی آدمی نہیں جانتا اور ہر ایک سے پوشیدہ ہے اللہ کو اس کا بھی علم ہے لیکن جس طرح شتر مرغ ریت میں منہ چھپا کر یہ سمجھتا ہے کہ وہ دنیا کی نظروں سے چھپ گیا ہے اسی طرح گناہ گار اور خطا کار آدمی بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ہر حرکت دوسروں سے پوشیدہ ہے حالانکہ اللہ اس کو جنتا ہے اور اسکے پاس ہر بات کا ریکارڈ موجود ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار مکہ میں سے اکثر لوگوں کا یہ گمان تھا کہ اگر کوئی کام چھپ کر کیا جائے تو اس کا علم کسی کو نہیں ہوتا یہاں تک کہ ( نعوذ باللہ) اللہ کو بھی اس کے متعلق کچھ علم نہیں ہوتا ۔ اس غلط اور بےبنیاد گمان نے ان کو تباہی کے کنارے تک پہنچا دیا تھا۔ اگر انہیں اس بات کا ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ وہ زندگی بھر جن اعضاء کے بنانے سنوارنے اور خدمت کرنے میں لگے رہتے تھے وہی ہاتھ ، پاؤں ، زبان ، گوشت ، پوست ، ہڈیاں اور کھالیں ان کے خلاف گواہی دینے کھڑے ہوجائیں گے تو ان کا انداز فکر اور طرز عمل بڑا مختلف ہونا ، چناچہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ ایک دن بیت اللہ شریف کے پردے سے چمٹے ہوئے دعا کر رہے تھے کہ آپ نے دو آدمیوں کی گفتگو سنی جو آپس میں باتیں کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ جو بات کھلم کھلا اعلانیہ کی جائے اللہ کو صرف اسی کا علم ہوتا ہے یعنی جو بات پوشیدہ ہوتی ہے اس کا علم اللہ کو نہیں ہوتا ۔ اس کے متعلق حضرت عبد اللہ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میں تین باتوں کو بتایا گیا ہے ۔ پہلی بات تو یہ کہ قیامت کے دن جب اللہ کے دشمنوں یعنی کفار و مشرکین کو اللہ کے فرشتے جہنم کی طرف ہنکار کرلے جا رہے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو مختلف گروہوں میں تقسیم فرما دیں گے جو ایک ایک کر کے جہنم کے قریب جمع ہوتے جائیں گے ۔ سب لوگوں کے جمع ہونے کے بعد حساب کتاب شروع ہوگا ۔ جب کفار و مشرکین کے سامنے ان کے گناہوں اور خطاؤں کی فہرست رکھی جائے گی تو وہ ان گناہوں کا صاف انکار کردیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں تو یاد نہیں ہے کہ ہم نے کبھی اس طرح کے گناہ کئے ہوں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان جیسے لوگوں کے منہ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے تمام اعضاء کو بولنے کی طاقت عطاء کردی جائے گی اور انسان کے تمام اعضاء اس کے تمام اعمال کو بیان کرنا شروع کردیں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ان لوگوں کے منہ پر مہریں لگا دی جائیں گی اور سب سے پہلے اس کی ران سے سوال کیا جائے گا کہ تو یہ بتا کہ اس نے کیا کیا حرکتیں کی تھیں۔ اس پر اس کی ران، گوشت پوست، ہڈیاں اور کھالیں تک اس کے اعمال کی گواہی دیں گی ( مسلم) اس پر انسان اپنے اعضاء سے شکوہ کرے گا کہ تمہارا ستیا ناس ہوجائے میں نے تو زندگی بھر تمہیں آرام و سکون پہنچایا اور تمہاری خدمت کرتا رہا آج تم میرے ہی خلاف گواہی دینے کھڑے ہوگئے ہو ؟ یہ بولنے کی طاقت تمہارے اندر کہاں سے آگئی ؟ وہ جواب دیں گے کہ وہ وہی اللہ جس نے ہر ایک کو بولنے کی طاقت دی ہے اسی نے ہمیں بولنے کی زبان اور ہمت دی ہے۔ انسان کی کھالیں بھی گواہی دیں گی کہ اس آدمی نے فلاں فلاں گناہ کئے تھے۔ ( مسلم) ۔ کھالوں کی گواہی پر بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہاتھ پاؤں اور زبان کی گواہی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن کھالیں گواہی دیں گی یہ بات سمجھ نہیں آتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ موجودہ دور جو علم و تحقیق کا دور ہے اس میں سائنس نے اس مسئلہ کو سمجھنا آسان کردیا ہے اور (Skin Speech) کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آدمی جو بھی گفتگو یا عمل کرتا ہے تو وہ اس کی کھال پر ریکارڈ ہوتا چلا جاتا ہے جس کو دوبارہ اسی طرح سنا سکتا ہے جس طرح ایک ٹیپ ریکارڈر میں ریکارڈ کی گئی آواز کو دوبارہ سنا جاسکتا ہے۔ ان آیات میں دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ نے کفار و مشرکین کو اس دنیا کی زندگی میں بہت زیادہ مہلت عطاء کی تھی جس سے انہوں نے فائدہ نہیں اٹھایا تھا اور وہ زندگی بھر بےعملی کا شکار رہے تھے۔ قیامت کے دن جب وہ عذاب کو اپنے سامنے دیکھیں گے تو وہ گڑ گڑا کر معافی مانگنے لگیں گے۔ اس وقت اللہ کی طرف سے اعلان ہوگا کہ اب معافی مانگنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ معافی کی قبولیت کا وقت گزر چکا اور اس طرح کفار و مشرکین اور ان کے راستوں پر چلنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ ان آیات میں تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ جب انسان کا مزاج بگڑ جاتا ہے اور ہر اصلاح کی بات کو قبول کرنے کی صلاحیت کو وہ کھوبیٹھتا ہے تو اس کو ایسے ساتھی مل جاتے ہیں یا اللہ ان پر عذاب کے طور پر ایسے ساتھیوں کو مسلط کردیتا ہے جو اس کو ہرے ہرے باغ دکھاتے ہیں اور گمراہی کی باتوں کو خوبصورت بنا کر دکھاتے ہیں اور یہی چیز آدمی کو جہنم کے کناروں تک پہنچا دیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کے لئے بری صحبت صرف بد ترین عادت ہی نہیں بلکہ عذاب الٰہی بھی ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ جب آدمی کا مزاج برے راستوں کی طرف مائل ہوجاتا ہے تو اس کو ایسے دوست ملنا شروع ہوجاتے ہیں جو اسی کی طرح بگڑے ہوئے مزاج کے لوگ ہوتے ہیں ۔ مشہور بات ہے کہ اگر کسی کی عادتوں ، مزاج اور خصلتوں کو جانچنا اور پرکھنا ہو تو اس کے آس پاس اٹھنے بیٹھنے ، کھانے پینے اور ساتھ رہنے والوں کو دیکھا جائے ۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے ہی لوگ جنہوں نے اپنا مزاج ضد ، ہٹ دھرمی اور منافقت والا بنا لیا ہو تو اس کو دنیا اور آخرت میں سخت سزا دی جائے گی اور اس کی دنیا اور آخرت برباد ہو کر رہ جائے گی۔
Ayahs 41:26–32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور کافر کہتے تھے کہ تم اس قرآن کو نہ سنو ! شور و غل مچائو تا کہ تم ان پر غالب آ جائو۔

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

(فرمایا کہ) ہم ان کافروں کو سخت ترین عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے۔ اور یقینا ہم ان کو ان کے بد ترین اعمال کا پورا پورا بدلہ دیں گے جنہیں وہ کیا کرتے تھے۔

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ ہے اللہ کے دشمنوں کا بدلہ ( جہنم کی) آگ جس میں وہ رہیں گے جو ہمیشہ رہنے کا گھر ہے۔ وہ جو ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے یہ اس کی سزا ہوگی۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

( وہاں یہ) کافر کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں جنات اور انسان دونوں گروہوں میں سے ان گروہوں کو دکھا دیجئے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تا کہ انہیں اپنے پائوں تلے روند ڈالیں وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے یہ کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر انہوں نے استقامت اختیا رکی ( جمے اور ڈٹے رہے) تو یقینا ان پر فرشتے اتریں گے (اور ان سے کہیں گے) تم نہ تو خوف کھائو اور نہ رنجیدہ ہو۔ تم اس جنت ( کے دیئے جانے) کی خوشی منائو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی وہاں تم جو کچھ چاہوگے وہ ملے گا اور اس میں ہر وہ چیز موجود ہوگی جس کی تم تمنا کیا کرتے تھے

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

( کیونکہ) یہ بہت معاف کرنے والے اور رحم و کرم کرنے والے اللہ کی طرف سے ( تمہاری) مہمان داری ہوگی۔

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 32 : لا تسمعوا ( تم نہ سنو) الغوا (شور مچائو) تغلبون (تم غالب ہو جائو گے) نذیقن (ہم ضرور چکھائیں گے) اسوا ( بر کیا) دار الخلد (ہمیشہ کا گھر) استقاموا ( وہ جمے رہے) یلحدون ( الحاد) (ٹیڑھاچلتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 26 تا 32 : ہمیشہ سے ایسے لوگوں کی اکثریت رہی ہے جو حق و صداقت ، نصیحت اور تنقید کو کھلے ذہن سے سننے کے بجائے اس سے منہ پھیر کر چلتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ جس چیز کو وہ حقیقت سمجھ رہے ہیں سارا حق اس کے مطابق ہو کر چلے وہ اپنے گھڑے ہوئے خیالات کی دنیا سے باہر آنا گوارہ ہی نہیں کرتے اور ہر تنقید اور نصیحت کو نہایت تلخ اور کڑوا سمجھتے ہیں ۔ وہ بغیر کسی ثبوت کے محض جذباتی انداز سے ہر اس کام میں عیب نکالنا شروع کردیتے ہیں جو ان کے خیالات سے مختلف ہوتا ہے۔ چناچہ مکہ کے کفار اور مشرکین جب قرآن کریم کی سچائی اور اس کے گہرے اثرات اور نبی کریم ﷺ کی مقناطیسی شخصیت کے سامنے عاجز اور بےبس ہوگئے تو انہوں نے قرآن کی تاثیر اور نبی کریم ﷺ کی عظمت کو کم کرنے کے لئے انتہائی غیر سنجیدیہ حرکتیں کرنا شروع کردیں۔ انہوں نے کچھ لوگوں کو اس مقصد کے لئے تیار کرلیا کہ جب بھی قرآن کریم پڑھا جائے تو اس کو نہ تو خود سنیں اور نہ کسی دوسرے کو سننے دیں اس قدر شور و غل مچایا جائے ، دخل اندازی کی جائے اور عیب لگائے جائیں کہ جن لوگوں نے اسلام قبول کرلیا وہ پلٹ کر پھر سے ان کی طرف آجائیں اور اس طرح وہ غالب آجائے اور عیب لگائے جائیں کہ جن لوگوں نے اسلام قبول کرلیا وہ پلٹ کر پھر سے ان کی طرف آجائیں اور اس طرح وہ غالب آجائیں گے۔ چناچہ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ابو جہل نے لوگوں سے کہا کہ یہ شخ ( حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جب قرآن پڑھیں تو خوب شور مچائو ، تالیاں پیٹو ، سیٹیاں بجائو تا کہ تمہیں یہ پتہ نہ چلے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور سچ مچ میں طرح طرح کی آوازیں نکالو اور قرآن سننے سے لوگوں کو روکو۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو قرآن کریم کا یہ ادب سکھایا ہے کہ جب بھی قرآن پڑھا جائے تو خاموش رہ کر غور سے سنا جائے تا کہ اللہ اپنی رحمتوں کو نازل کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ ایسی گھٹیا، نیچ غیر سنجیدہ اور اوچھی حرکتیں کر رہے ہیں وہ اپنے بد ترین انجام سے بیخبر ہیں ورنہ وہ ایسی باتیں نہ کرتے ۔ جب قیامت کے دن ان کو ان کے برے اعمال کی سزا شدید ترین عذاب دیاجائے گا ۔ فرشتے ان کو جہنم کی آگ میں جھونکنے کے لئے گھسیٹتے ہوئے لائیں گے تو اس وقت وہ نہ صرف شرمندہ ہوں گے بلکہ اپنے کئے پر پچھتا کر ان لوگوں کو برا بھلا کہنا شروع کردیں گے جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا اور سبز باغ دکھائے تھے۔ وہ بارگاہ الٰہی میں درخواست پیش کریں گے کہ الٰہی ! انسانوں اور جنات میں ان لوگوں کو ہمارے سامنے لایئے جو ہمارے اس بگاڑ اور تباہی کا سبب بنے ہیں ، وہ اگر آج ہمارے سامنے آجائیں تو ہم ان کو پاؤں تلے روند ڈالیں گے اور رسوا اور ذلیل کر کے رکھ دیں گے۔ فرمایا کہ ایک طرف تو یہ کفار و مشرکین اپنی ذلت اور شرمندگی میں اپنی بوٹیاں نوچ رہے ہوں گے اور دوسری طرف وہ خوش نصیب صاحبان ایمان ہوں گے جنہوں نے حق و صداقت کی تعلیم کو پوری طرح مان کر یہ کہا ہوگا کہ ہمارا رب تو صرف اللہ ہے اور وہ اس پر ثابت قدم بھی رہے ہوں گے تو ان پر اللہ کے فرشتے اور اس کی رحمتیں نازل ہو رہی ہوں گی ۔ فرشتے کہیں گے کہ تم کسی طرح کا رنج و غم نہ کرو اور جنت کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آگیا ہے اس پر خوشیاں منائو۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہیں آئندہ جو حالات پیش آئیں گے ان کا خوف نہ کرو اور جو چیزیں ( مال ، اولاد ، جائیداد وغیرہ) تم دنیا میں چھوڑ آئے ہو ان کا غم نہ کرو اور اللہ نے جس جنت کا وعدہ فرمایا تھا اس کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے اس پر تم خوش ہو جائو۔ وہ فرشتے یہ بھی کہیں گے کہ ہم جس طرح دنیا میں تمہارے ساتھ تھے اسی طرح یہاں بھی تمہارے ساتھی رہیں گے۔ وہ اس بات کی خوش خبری بھی دیں گے کہ اہل جنت کے لئے ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی وہ خواہش یا طلب کریں گے یہ در حقیقت نہایت بخشنے والے مہربان پروردگار کی طرف سے مہمان داری ہوگی جو اہل جنت کا ایک بڑا اعزاز ہوگا ۔ ان آیات میں فرمایا کہ ” ربنا اللہ ثم استقاموا “ یعنی جو لوگ یہ کہیں گے کہ ہمارا پروردگار صرف اللہ ہے اور پھر اسی پر وہ قائم بھی رہے ہوں گے یہ دین اسلام کی اصل بنیاد اور دین کی تعلیمات کا خلاصہ ہے چناچہ ایک مرتبہ حضرت سفیان ابن عبد اللہ ثقفی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے دین اسلام کی ایک ایسی جامع بات بتا دیجئے جس کے بعد مجھے کسی اور سے نہ پوچھنا پڑے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کہو ” امنت اللہ ثم استقیم “ (صحیح مسلم) یعنی تم کہو کہ میں اللہ پر ایمان لے آیا اور پھر اسی پر جمے رہو مراد یہ ہے کہ ایمان پر اس قدر مضبوطی سے ڈٹ جائو کہ ایمان کے ہر تقاضے اور مل صالح کو اختیار کرنا تمہارا مزاج بن جائے۔ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے لوگوں سے پوچھا کہ تم ” ثم استقیم “ کا کیا مطلب سمجھتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ توحید کا اقرار کرنے کے بعد کوئی گناہ نہ کرے۔ اس پر حضرت صدیق اکبر ؓ نے فرمایا کہ تم نے دین کو ایک مشکل بات بنا دیا ۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ ہی اس کا مطلب بتا دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ توحید کا اقرار کرنے کے بعد پھر بت پرستی اور شرک کو اختیار نہ کرنا ۔ سیدنا عمر فاروق ؓ نے فرمایا کہ ” ثم استقم “ یہ ہے کہ توحید کے اقرار کے بعد منافقت نہ کی جائے۔ ایک مرتبہ فاروق اعظم ؓ نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کے تمام احکامات اور امرو نواہی پر سیدھے جمے رہو۔ ادھر ادھر لومڑیوں کی کی طرح بھاگنے کے راستے تلاش نہ کرو۔ حضرت عثمان غنی ؓ نے فرمایا کہ استقیامت کے معنی اخلاص عمل کے ہیں ، یعنی اپنے ہر عمل کو خالص اللہ کے لئے کرنا ۔ حضرت حسن بصری ؓ نے ” ثم استقم “ کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہ کر اسی کی اطاعت کرنا اور اس کی ہر طرح کی نافرمانی سے بچنا۔ ( تفسیر بصری) تفسیر کشاف میں ہے کہ انسان کا ربنا اللہ کہنا سب ہی درست ہو سکتا ہے جب وہ دل سے یقین کرے کہ میں ہر حال اور ہر قدم پر اللہ کی زیر نگرانی تربیت حاصل کر رہا ہوں ۔ جیسے ایک سانس بھی اس کی رحمت کے بغیر نہیں آسکتا ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی عبادت و بندی کے طریقوں پر اس طرح استقامت کے ساتھ جما رہے کہ اس کا قلب اور قالب ( بدن) دونوں اس کی عبادت و بندگی سے بال برابر بھی ادھر ادھر نہ بھٹکیں۔ ان تمام ارشادات سے معلوم ہوا کہ اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ اور ایمان خالص جس میں شرک و کفر اور بدعات کی ملاوٹ نہ ہو ۔ اللہ کے احکامات پر پوری طرح عمل کرنا اور ہر سچائی پر ڈٹ جانا ۔ وہی کام کرنا جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہو۔ اللہ کے فرشتے اہل ایمان پر نازل ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ مرتے وقت ، قبروں میں قبروں سے دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے میں یہ فرشتے اترتے ہیں ۔ ابو حیان نے بحر محیط میں فرمایا کہ میں تو کہتا ہوں کہ مومنوں پر فرشتے ہر روز نازل ہوتے ہیں جن کے آثار و برکات ان کے اعمال میں پائے جاتے ہیں۔ حضرت ثابت بنانی سے نعیم نے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ” حم السجدہ “ کی اس آیت کی تلاوت فرمائی جب وہ ” تنزل علیھم “ پر پہنچے تو فرمایا کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ مومن جس وقت قبر سے اٹھے گا تو وہ فرشتے جو دنیا میں اس کے ساتھ رہتے تھے وہ اس سے ملیں گے اور اس سے کہیں گے کہ تم خوف اور غم نہ کرو بلکہ جنت کی بشارت سنو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ ان فرشتوں کا کلام سن کر اہل ایمان کو اطمینان و سکون مل جائے گا ۔ اسی آیت کا یہ ٹکڑا ” ولکم فیھا ما تشھی “ یعنی جو بھی تمہاری خواہش اور طلب ہوگی وہ جنت میں اہل جنت کو دی جائے گی ۔ اس کی وضاحت نبی کریم ﷺ نے یہ فرمائی ہے کہ جب تم جنت میں کسی پرندے کو اڑاتے دیکھو گے اور تمہارے دل میں اس کے کھانے کی خواہش پیدا ہوگی تو وہ پرندہ اسی وقت بھنا بھنا یا تمہارے سامنے آ گرے گا ۔ یعنی روایات میں آتا ہے کہ وہ نہ تو آگ سے پکا ہوگا اور نہ دھوئیں سے بلکہ خود بخود پک کر تمہارے سامنے آجائے گا۔ ( بیہقی)
Ayahs 41:33–36

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس شخص سے بہتر بات کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور اس نے عمل صالح کئے اور یہ کہا کہ بیشک میں ( اللہ تعالیٰ کے) فرماں برداروں میں سے ہوں۔

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ نیکی اور برائی برابر و یکساں نہیں ہو سکتے لہٰذا تم برائی کو بہترین انداز سے دور کرو پھر تم دیکھو گے کہ وہ شخص جس سے تمہاری دشمنی تھی وہ تمہارا گہرا اور جگری دوست بن گیا ہے ۔

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

مگر یہ بات ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جنہوں نے صبر کیا اور یہ بڑے نصیب والوں کو ہی ملتی ہے

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر تمہیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آجائے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو ۔ بیشک وہ بہت سننے والا اور جاننے والا ہے۔

تشریح : آیت نمبر 33 تا 36 : قرآن کریم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی جائے اور ان کو رب سے جوڑ کر اس کی یاد میں جینے کا طریقہ سکھا دیا جائے ۔ اور اس بات کا گہرا شعور بیدار کردیا جائے کہ وہ صرف اس ایک اللہ کا بندہ ہے جو اس کا خالق ، رازق اور مالک ہے وہی ہر طرح کی عبادت و بندی کے لائق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ ایک اتنا عظیم مقصد ہے جس کی طرف بلانے والے سے بہتر شخص اور کون ہو سکتا ہے ؟ فرمایا کہ اس شخص سے بہتر اور کس کی بات ہو سکتی ہے جو٭لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے٭ اسی کی اطاعت و فرما برداری کرتے ہوئے عمل صالح اختیار کرے اور ٭ اور یہ کہے میں اللہ کا فرماں بردار اور اطاعت گزار بندہ ہوں۔ بعد کی آنے والی آیات سے ظاہر ہے کہ اس سے مراد خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں کیونکہ آپ کی سیرت پاک اس بات کی گواہ ہے کہ آپ سے زیادہ کسی کا قول اور عمل اور دعوت الی اللہ احسن اور معتبر نہیں ہے ۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ آپ نیکی اور بھلائی کے اسی طریقے پر چلتے رہیے آپ دیکھیں گے کہ دنیا سے ہر برائی مٹتی چلتی جائے گی کیونکہ نیکی اور برائی برابر نہیں ہو سکتیں۔ نیکی ایک طاقت ہے جو آہستہ آہستہ دلوں کو مسخر کرتی چلی جاتی ہے اور ہر برائی کے مٹنے کا سبب بن جایا کرتی ہے ۔ نیکی اور بھلائی کو پھیلانے میں ردشواریاں بہت آتی ہیں لیکن اگر عزم و ہمت اور بلند ترین حوصلے کے ساتھ ہر تکلیف کو برداشت کرلیا جائے تو برائی اور بد کرداری کی کمزوریاں ظاہر ہو کر رہتی ہیں ۔ وہی لوگ جو مخالفتوں کا طوفان برپا کئے ہوئے ہیں اگر ان کے ساتھ بہترسلوک ، حسن اخلاق ، ہر برائی کے مقابلے میں بھلائی ، اشتعال کے جواب میں در گزر اور صبر و تحمل سے کام لیا جائے تو جو لوگ آج جانی دشمن بنے ہوئے ہیں وہ گہرے جگری دوست بن جانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے جان نثار صحابہ کرام ؓ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جن کے دلوں میں اللہ و رسول اور دین اسلام سے بغض اور دشمنی بھری ہوئی ہے وہ ہر موقع پر اشتعال دلانے کی کوشش کرتے ہیں اور کسی زیادتی سے باز نہیں آتے۔ ان کے طرز عمل کے مقابلے میں صبر استقلال ، عزم و ہمت اور تحمل و برداشت اس قدر آسان نہیں ہے لیکن جن کی زندگیوں کا مقصد راہ سے بھٹکے ہوئے انسانوں کو ہدایت کے راستے پر گامزن کرنا ہے ان کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ شیطان کے دھوکے اور فریب کی طرف سے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں کیونکہ شیطان نہایت درد مند ، مخلص اور خیر خواہ کے روپ میں آپ کو اور اہل ایمان کو اشتعال اور غصہ دلانے کی کوشش کرے گا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے لیکن ایسے موقعوں پر آپ اور اہل ایمان برداشت سے کام لے کر اللہ سے پناہ مانگ لیا کریں وہ اللہ سب کی سنتا اور ہر ایک کے حالات سے اچھی طرح واقف ہے۔
Ayahs 41:37–40

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

رات اور دن سورج اور چاند یہ سب اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ لہٰذا تم سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ اگر تم واقعی اس کی ( سچی) عبادت و بندگی کرنے والے ہو۔

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

پھر اگر انہوں نے تکبر کیا تو ( اللہ کو کسی کی پرواہ نہیں ہے) وہ فرشتے جو تمہارے رب کے پاس ہیں وہ دن رات اس کی حمد وثناء کرتے ہیں اور وہ اکتاتے بھی نہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ایک زمین ہے جو بالکل ویران پڑی ہوئی تھی ۔ پھر جیسے ہی ہم نے اس پر پانی برسایا تو وہ لہلہانے اور ابھرنے لگی ۔ بیشک وہ جس نے مردہ زمین کو زندہ کردیا وہی مردوں کو زندہ کرے گا بیشک وہی ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

بلا شبہ جو لوگ ہماری نشانیوں میں الحاد کرتے ہیں ( معنی کو الٹ دیتے ہیں) وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ ( بتائو) وہ شخص جو آگ میں جھونک دیا جائے گا وہ بہتر ہے یا وہ قیامت میں ( نہایت) امن و سکون کے ساتھ آئے گا ۔ تم جو چاہو کرو لیکن یہ یادر رکھو کہ تم جو کچھ کتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

تشریح : آیت نمبر 37 تا 40 : اللہ تعالیٰ نے غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس کائنات میں بیشمار نشانیاں بنائی ہیں لیکن غور و فکر نہ کرنے والے بڑی سے بڑی حقیقت ہے اس طرح گزر جاتے ہیں کہ انہیں اس کی حقیقت اور عظمت کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔ ہر آدمی رات ، دن ، سورج ، چاند اور ستاروں کو دیکھتا ہے کہ وہ ایک نظام میں بندھے ہوئے ہیں دنیا کی گھڑیاں اور اندازے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کا نکلنا ، چھپنا اور ڈوب جانا مختلف نہیں ہوتا ۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے جب لوگوں کو ستاروں ، چاند اور سورج کی عبادت کرتے دیکھا تو یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ان میں سے ہر چیز کا سامنے آنا اور چھپ جانا ان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے لہٰذا یہ کائنات کے خالق ومالک یا مشکل کشا نہیں ہو سکتے بلکہ وہی ایک ذات ان تمام چیزوں کی مالک ہے جو ان کو اپنی رفتار سے چلنے پر مجبورکر رہی ہے۔ اور وہ ایک اللہ کی ذات ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اسی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا ہے کہ رات ، دن ، سورج اور چاند ، اللہ کو پہچانے اور عبادت کرنے کی نشانیاں ہیں لہٰذا تم ان کو سجدے نہ کرو بلکہ جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اسی کو عبادت و بندگی کرو ۔ اللہ مخلوق میں سے کسی کی عبادت کا بھی محتاج نہیں ہے کہ اس کی بندگی کی جائے کیونکہ ساری مخلوق بھی اگر اس کی عبادت و بندگی چھوڑ دے تو اس کی سلطنت میں ایک ذرے کی کمی نہیں آسکتی ۔ اللہ کے وہ فرشتے جو اس کے پاس ہیں یا کائنات کی ہر چیز اس کی حمد وثناء اور عبادت میں مشغول ہے ۔ وہ اللہ کی اس طرح عبادت و بندگی کرتے ہیں کہ اس سے کبھی نہیں تھکتے بلکہ ہمیشہ اسی کی رضا و خوشنودی کے لئے اس کی حمد وثناء کرتے رہتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ چاند ، سورج ، ستاروں کی طرح بارش کا برسنا بھی ایک نشانی ہے۔ اس کو بھی ہر شخص دیکھتا ہے کہ اگر کسی جگہ بارش نہ برستی ہو اور اس کی مٹی ریت بن کر اڑ رہی ہو تو اس کی ویرانی دیکھ کر اندازہ کرنا مشکل ہے کہ یہ خشک زمین بھی کبھی سر سبز و شادات ہوگی لیکن جیسے ہی اس خشک اور مردہ زمین پر بارش پڑتی ہے تو سوکھی اور ویران پڑی ہوئی زمین میں ایک نئی زندگی محسوس ہوتی ہے اور اس طرح خشک زمین میں سے سبزہ نکل کر اپنی بہار دکھانے لگتا ہے ۔ آہستہ آہستہ کھیت لہلہانے لگتے ہیں اور ہر طرف ایک رونق سی آجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جو اللہ اتنی بڑی زمین کو خشک اور ویران ہونے کے بعد دوبارہ زندہ اور تر و تازہ کردیتا ہے اسی اللہ کی قدرت ہے کہ وہ انسان کے مر جانے اور اس کے اعضاء بکھر جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ کرے گا اور میدان حشر میں جمع کر کے ان سے زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب لے گا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ بعض لوگ اللہ کی آیات کی اس طرح الٹ کر یا اس کو اس کے مفہوم اور مضمون سے کاٹ کر اس طرح بیان کرتے ہیں کہ سننے والے غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ فرمایا کہ ایسے لوگ اللہ کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہیں وہ ہر شخص کے تمام احوال سے پوری طرح واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ رات ، دن ، سورج ، چاند اور بارش پر غور و فکر کرنے کے ساتھ ساتھ ذرا اس بات پر بھی غور و فکر کرلیا جائے کہ ایک شخص اپنے بر اعمال کے سبب جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا اور وہ اس شدید تکلیف اور عذاب میں ہمیشہ مبتلا رہے گا ۔ وہ بہتر ہے یا وہ شخص بہتر ہے جو قیامت کے ہولناک دن بھی نہایت امن و سکون اور خوشیوں کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہوگا یقینا عقل سلیم کا فیصلہ یہی ہوگا کہ وہ شخص سب سے بہتر ہوگا جو انجام کے اعتبار سے اچھا ہوگا ۔ ان آیات میں یہ بات بھی بالکل واضح طریقے پر بتا دی گئی ہے کہ اللہ نے کائنات میں ہزاروں نشانیاں بنائی ہیں جو انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں جو لوگ ان پر غور و فکر اور تدبر کرتے ہیں وہ دنیا اور آخرت کی کامیابیاں حاصل کرلیتے ہیں لیکن جو ان انشانیوں میں الجھ کر ان چیزوں کو ہی اپنا معبود بنا لیتے ہیں ان کی دنیا بھی خراب ہوجاتی ہے اور آخرت بھی ۔ لہٰذا صرف اسی ایک اللہ کی عبادت و بندگی کی جائے اور اس کے سوا کسی کو سجدہ نہ کیا جائے ۔ دراصل سجدہ صرف اللہ کے لئے ہے اس کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے خواہ و سجدہ عبادت کے لئے ہو یا تعظیم و تکریم کے لئے دونوں صورتوں میں اجماع امت کے مطابق غیر اللہ کو سجدہ کرنا حرام ہے۔