41. Surah Fussilat
فصلتExplained in detail · 54 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ٭نہایت رحم و کرم کرنے والے اللہ نے قرآن کریم کو عربی میں اس لئے نازل کیا ہے تا کہ جو لوگ قرآن کے مخاطب اول ( مکہ والے ، عرب والے) ہیں وہ اس کو اچھی طرح سمجھ کر ساری دنیا کے لوگوں کو سمجھائیں اور انہیں کوئی دشواری نہ ہو۔ ٭ یہ قرآن ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کے لئے خوش خبری اور اس کو نہ ماننے والوں کو ان کے برے انجام سے آگاہ اور خبر دار کرنے کا ذریعہ ہے۔ ٭کفار و مشرکین کہتے تھے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ جو باتیں ہم سے کرتے ہیں وہ ہماری سمجھ میں نہیں آتیں نجانے کیا پردہ یا رکاوٹ ہے ، لہٰذا آپ اپنی جدوجہد کیجئے اور ہمیں اپنے کام دھندے میں لگا رہنے دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم جیسا ہی ایک بشر ہوں میری طرف جو بھی وحی کی جاتی ہے وہ میں تمہیں بتا دیتا ہوں پھر بھی تم میری بات کو نہیں سمجھتے۔ کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے کہ ہمارا اور تمہارا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کے لائق ہے ۔ تمہیں اسی سیدھے راستے کی طرف چل کر اپنے گناہوں سے معافی مانگنا چاہیے۔ ٭فرمایا کہ یہ مشرکین کس قدر بد نصیب لوگ ہیں نہ تو انسانیت کے بھلے کے لئے کوئی کام کرتے ہیں نہ انہیں آخرت کی زندگی پر یقین ہے ، حالانکہ اللہ نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ جو لوگ ایمان اور صالح کی زندگی گزاریں گے ان کو ہمیشہ بہترین اجر وثواب دیا جائے گا جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا۔ (فرمایا کہ قوم عاد اور قوم ثمود کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ دونوں وہ زبردست اور طاقت ور قومیں تھیں کہ انہیں اپنی قوت و طاقت پر غرور کی حد تک ناز تھا ، وہ کہتے تھے کہ ہم سے بڑھ کر طاقت و قوت میں کوئی ہے تو وہ سامنے آئے۔ ان کی اصلاح کے لئے انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے انہیں ہر طرح سمجھایا ۔ جب انہوں نے مسلسل نافرمانیاں کیں تو ان کو اسی طرح بنیادوں سے کھود کر رکھ دیا کہ آج ان کے کھنڈرات ان کفار اور انکار کرنے والوں کی بےبسی کا مذاق اڑا رہے ہیں جن کی تباہی ایک عبرت کا مثال بن کر رہ گئی ہے۔ ) ٭فرمایا کہ اگر یہ کفار صرف زمین و آسمان کی پیدائش پر ہی ذرا غور کرلیتے تو وہ اللہ کی توحید اور عظمت کا انکار کر ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ اللہ نے اپنی قدرت کا ملہ سے چھ دنوں میں اس ساری کائنات کو پیدا کیا ہے۔ اس نے زمین کو دو دنوں میں پیدا کر کے اس پر پہاڑوں کو بوجھ بنا کر رکھ دیا تا کہ زمین ساری مخلوق کو لے کر ایک طرف نہ ڈھلک جائے ۔ زمین و آسمان کے درمیان کی تمام چیزوں کو دونوں میں پیدا کیا ۔ آسمان جو ایک دھویں کی طرح تھا اس کو دونوں میں پیدا کیا ۔ اس طرح کائنات کو بنانے کا یہ عمل صرف چھ دنوں میں مکمل کردیا ۔ پھر آسمان کو چاند ، سورج اور ستاروں سے خوبصورتی عطاء کی ۔ زمین و آسمان سے کہا گیا کہ وہ خوشی سے یا مجبوری سے آجائیں تو انہوں نے خوشی سے عرض کیا کہ ہم حاضر ہیں ۔ اسی نے سات آسمان بنائے ہیں ۔ اب تم خود ہی فیصلہ کرلو ان تمام چیزوں کو جس ذات نے اپنی قدرت کاملہ سے بنایا ہے کیا اس کی کائنات میں دوسرا کوئی مستحق ہے کہ اس کی عبادت و بندگی کی جائے۔ ( جب یہ نافرمان لوگ جہنم کی بھڑکتی آگ میں ڈالے جائیں گے تو پھر انہیں احساس ہوگا کہ واقعی ہمیں تو ہر طرح گمراہ کیا گیا ہے۔ وہ اللہ سے درخواست کریں گے الٰہی ! اگر آج ہم ان لوگوں کو اور شیطان کو دیکھ لیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا ہے تو ہم ان کو اپنے پاؤں سے روند ڈالیں گے ، لیکن ان کا پچھتانا ، ان کے کسی کام نہ آسکے گا اور وہ ہمیشہ کی جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے) ٭قوم ثمود اور قوم عاد کا ذکر کر کے بتایا کہ یہ کتنی زبردست قومیں تھیں جن کو اپنی قوت و طاقت پر بڑا ناز اور گھمنڈ بھی تھا اور کہتے تھے کہ ہم سے زیادہ قوت و طاقت میں اور کون ہے ؟ لیکن جب انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی تو اس نے ان قوموں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور ان کا بڑا بھیانک انجام ہوا۔ ٭قیامت کے دن جب اللہ ان دشمنان اسلام کو جمع کرے گا اور ان کے کیے ہوئے اعمال سے متعلق پوچھا جائے گا تو وہ اپنے اعمال کا انکار کریں گے تب ان کے اعضاء ہاتھ ، پاؤں ، کان ، آنکھ اور ان کی کھال تک ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ وہ حیران ہو کر ان اعضاء سے پوچھیں گے کہ تم بھی ہمارے خلاف گواہی دے رہے ہو ؟ تمہیں یہ بولنے کی طاقت کس نے دی ؟ وہ کہیں گے کہ جس اللہ نے ہر ایک کو بولنے کی طاقت دی ہے اسی نے ہمیں بھی قوت گویائی عطاء فرمائی ہے ۔ تم نے ہم سے زندگی بھر جو چاہا ہم نے تمہارا کہا مانا لیکن ہم نے اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے ساری باتیں کھول کر بیان کردی ہیں ۔ اس کے بعد ان دشمنان اسلام کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا ۔ ٭وہ جہنمی اللہ سے درخواست کریں گے کہ آج اگر ہم ان انسانوں اور شیطانوں کو دیکھ لیں تو انکے اپنے پاؤں روند ڈالیں گے جنہوں نے زندگی بھر ہمیں گمراہی میں ڈالے رکھا ۔ اس طرح شاید ہمارے دلوں میں ٹھنڈک پڑجائے لیکن ان کا یہ پچھتانا اور شرمندہ ہونا ان کے کسی کام نہ آئے گا اور ان کو جہنم کی آگ میں پھینک دیا جائے گا جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ٭فرمایا کہ ایمان و عمل صالح اختیار کرنے والوں کو فرشتے یہ یقین دلائیں گے کہ ہم وقت تمہارے ساتھ ہیں ۔ ہم اللہ کے حکم سے دنیا میں بھی تمہاری مدد کرتے رہے ہیں اور ہم آخرت میں بھی تمہارے ساتھ ہوں گے اور تمہیں جنت کی راحتوں سے ہم کنار کریں گے۔ ان جنتوں میں اللہ کی طرف سے تمہاری مہمان نوازی کی جائے گی اور تمہارا دل جس چیز کو چاہے گا وہ چیز تمہیں عطاء کی جائے گی۔ ٭فرمایا کہ جو لوگ زندگی بھر نیکیوں پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کو راہ ہدایت دکھاتے ہیں وہ ” داعی الی اللہ “ ہیں یعنی اللہ کی طرف بلانے والے وہ ہر معاملے میں نرمی اختیار کریں ۔ برائی کا جواب بھلائی سے دیں اور اس راستے میں جو حق و صداقت کا راستہ ہے اس پر ڈٹے رہیں ، صبر اور برداشت سے کام لیں۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ یہ منکرین جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑا رہے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہر بات کا انکار کر رہے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پریشان نہ ہوں کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جتنے بھی پیغمبر آئے ہیں ان کے ساتھ بھی لوگوں نے یہی معاملہ کیا مگر انہوں نے اس پر صبر کیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی صبر سے کام لیجئے۔ ہر کامیابی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدم چومے گی۔ ٭فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کریم کو عربی زبان میں اس لئے نازل کیا ہے تا کہ وہ لوگ اس کو سمجھ سکیں ۔ اگر یہ قرآن عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں نازل کیا جاتا تو یہ پھر بھی مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ رسول تو عربی ہے اور اس کی کتاب عجمی زبان میں ہے۔ فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو باتیں کرنے دیجئے کیونکہ یہ ان اندھوں کی طرح ہیں جو ہر جگہ ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ آج اگر یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اختلاف کررہے ہیں تو یہ کوئی ایسی تعجب کی بات نہیں ہے اس سے پہلے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توریت جیسی کتاب لے کر آئے تو انہوں نے ان سے بھی اختلاف کیا تھا اور ان کی بات ماننے سے انکار کردیا تھا۔ ٭فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ وہ کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا بلکہ خود ہی یہ لوگ اپنے نفسوں اور اپنی جانوں پر ظلم کرنے کے عادی ہیں ، وہ پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی ؟ فرمایا کہ قیامت تو ضرور آئے گی لیکن وہ دن ان جیسے ظالموں کے لیے کوئی اچھا دن نہ ہوگا اس سے بچنے کی فکر آج ہی کرنا چاہیے۔ ٭فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ ویسے تو یہ بہت بہادر بنے پھرتے ہیں لیکن ان پر ذرا بھی مصیبت آجائے تو مایوسیوں کی انتہاؤں پر پہنچ جاتے ہیں اور اگر کچھ مل جائے تو اس پر اترانے اور غرور کرنے لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں جو کچھ حاصل ہوا ہے وہ ہماری محنت سے حاصل ہوا ہے اور ہم پر کسی کا احسان نہیں ہے۔ ٭اللہ نے آخر میں فرمایا کہ اگر انہوں نے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دامن اطاعت و محبت سے وابستگی اختیار نہ کی تو وہ وقت دور نہیں ہے جب اللہ تعالیٰ ان کے ارد گرد اور خود ان کی اپنی جانوں میں نشانیاں دکھائے گا ۔ علماء مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ ایک پیشن گوئی تھی جو غزوہ بندہ کے دن پوری ہوئی جب کفار کے بڑے بڑے لوگ اس جنگ میں مارے گئے ۔ ساری دنیا میں کفار ذلیل و رسوا ہوگئے اور ایک بد ترین انجام سے دو چار ہوئے۔
حٰمٓۚ Open ayah 41:1 in the Quran reader
ح ۔ م ( ان حروف کی مراد کا علم اللہ کو ہے)
تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader
یہ کلام نہایت رحم کرنے والے مہربان اللہ کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔
كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader
یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں صاف صاف بیان کی گئی ہیں ۔ ایسا قرآن ہے جو عربی زبان میں ہے اور علم و عقل رکھنے والے کے لئے ( نصیحت) ہے
بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader
خوش خبری دینے والا ، ڈر سنانے والا ، ان ( کفار میں سے) اکثر نے منہ پھیرلیا ہے اور وہ سنتے ہی نہیں
وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader
اور کہتے ہیں کہ تم ہمیں جس طرف بلا رہے ہو اس سے ہمارے دل پردے ( غلاف) میں ہیں اور ہمارے کانوں میں گرانی ( ڈاٹ) ہے اور ہمارے تمہارے درمیان ایک پردہ ہے۔ پس تم اپنا کام کئے جائو ، بیشک ہم تو اپنا کام کئے جا رہے ہیں۔
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader
( اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف تم جیسا ہی بشر ہوں البتہ میری طرف وحی کی جاتی ہے تمہارا اور ہمارا رب ایک ہی ہے۔ بس تم اسی کی طرف سیدھے سیدھے چلو اسی سے مغفرت مانگو ۔ ان مشرکین کے لئے بڑی خرابی ہے
الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader
جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کا انکار کرنے والے ہیں
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader
لیکن بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کے لئے ایسا اجر وثواب ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔
قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم (دوسروں کو) اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ ( حالانکہ) وہی سارے جہانوں کا رب ہے
وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader
جس نے اس ( زمین کے اوپر پہاڑوں کے) بوجھ رکھ دیئے اور اس میں برکت رکھ دی ۔ اس نے چاردنوں میں فائدے کی چیزیں مقرر کردیں اور تمام پوچھنے والوں کے لئے ( ان کی طلب و خواہش کے مطابق) ہر طرح کا رزق عطاء کیا
ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader
پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی جو ایک دھواں سا تھا پھر اس نے اس سے اور زمین سے کہا کہ تم دونوں خوشی سے آئو یا زبردستی ( آنا تو پڑے گا) دونوں نے کہا کہ ہم خوشی خوشی حاضر ہیں ۔
فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader
پھر اس نے دونوں میں سات آسمان بنا دیئے اور ہر آسمان ( کے فرشتوں) کو اس کے کام کی وحی کردی ۔ اور ہم نے ہی آسمان دنیا کو ستاروں سے زینت دے کر اس کی حفاظت (کا انتظام) کیا ۔ یہ غالب حکمت والے اللہ کا فیصلہ تھا۔
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader
( اے نبی ﷺ اگر وہ ( ان تمام سچائیوں کے ہوتے ہوئے بھی) منہ پھیر لیں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تمہیں ایک ایسی زبردست آف ( چنگھاڑ) سے آگاہ کر رہا ہوں جیسی آفت و مصیبت قوم عاد اور ثمود پر آئی تھی ( عذاب آیا تھا)
اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader
جب کہ ان کے پاس ( لگاتار) آگے اور پیچھے رسو ل آتے رہے ( اور سمجھاتے رہے کہ) تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت و بندگی مت کرنا ۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو وہ فرشتوں کو نازل کرتا لہٰذا تم جس ( پیغام حق) کے ساتھ بھیجے گئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔
فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader
(اس طرح) قوم عاد نے ناحق غرور وتکبر کرنا شروع کردیا اور کہنے لگے کہ ہم سے زیادہ قوت والا کون ہے ؟ ( جو ہمیں عذاب دے گا) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بیشک اللہ وہ ہے جس نے انہیں پیدا کیا جو قوت و طاقت میں ان سے بڑھ کر ہے اور وہ ہماری نشانیوں ( پر ایمان لانے کی بجائے) انکار کرتے رہے۔
فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader
پھر ہم نے ان پر ایسی زبردست ہوا ( کا طوفان) بھیجا ( جو عذاب کی وجہ سے ان کے حق میں) منحوس دن تھا تا کہ ہم انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب چکھا دیں ۔ اور آخرت کا عذاب تو اور بھی زیادہ ذلیل و رسوا کرنے والا ہوگا جس میں ( انہیں کسی طرف سے بھی) مدد نہ پہنچے گی۔
وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader
رہے قوم ثمود تو ہم نے انہیں راستہ دکھایا تھا لیکن انہوں نے ہدایت ( کے مقابلے) میں اندھا بنا رہنے کو پسند کیا۔ (نتیجہ یہ ہوا کہ) ان کو ذلیل و رسوا کردینے والے عذاب میں ایک زبردست چنگھاڑنے آپکڑا ۔ یہ اس کی سزا تھی جو وہ کماتے تھے۔
وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader
( اس کے بر خلاف) ہم نے انہیں بچا لیا ( نجات دی) جو لوگ ایمان لے آئے تھے اور جو لوگ پرہیز گار تھے۔
وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader
اور جس دن اللہ کے دشمن ( کفار و مشرکین) جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے تو وہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے ۔
حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader
یہاں تک کہ جب وہ اسکے پاس آئیں گے تو ان پر ان کے کان ، ان کی آنکھیں اور ان کی کھال اور چمڑے بھی گواہی دیں گے کہ وہ کیا کرتے رہے تھے۔
وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader
وہ (حیرت و تعجب سے) اپنی کھالوں ( گوشت پوست) سے پوچھیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ (اور یہ بولنے کی طاقت تمہارے اندر کہاں سے آئی ؟ ) جواب دیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے بولنے کی طاقت دی ہے جس نے ہر ایک بولنے کی طاقت عطاء کی ہے۔ اسی نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور تم اسی کی طرف لوٹائے گئے ہو
وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader
(اس وقت فرمایا جائے گا کہ) جب تم چھپ چھپ کر گناہ کیا کرتے تھے تمہیں اس وقت اس کا خیال و گمان تک نہ تھا کہ تمہارے کان ، تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسموں کی کھالیں بھی تم پر گواہی دیں گی۔ تم نے تو یہ سمجھ رکھا تھا کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر بھی نہیں ہے۔
وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader
تمہارے اسی جھوٹے گمان نے جو تم نے اپنے رب کے متعلق قائم کر رکھا تھا ہلاک و برباد کر ڈالا اور تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگئے۔
فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader
(قیامت میں کہا جائے گا کہ) اگر وہ صبر کریں تب بھی ان کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور اگر اب وہ معافی بھی مانگیں تو وہ ان لوگوں میں سے نہ ہوں گے جن کو معاف کیا جاتا ہے۔
وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader
(اس کی وجہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایسے ہم نشین (ساتھی) مسلط کردیئے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے کی ہر چیز کو خوبصورت بنا کر دکھاتے تھے۔ بہر حال ان پر بھی وہی عذاب آ کر رہے گا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنات اور انسانوں کے گروہوں پر مسلط کیا گیا تھا ۔ یقینا وہ نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader
اور کافر کہتے تھے کہ تم اس قرآن کو نہ سنو ! شور و غل مچائو تا کہ تم ان پر غالب آ جائو۔
فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader
(فرمایا کہ) ہم ان کافروں کو سخت ترین عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے۔ اور یقینا ہم ان کو ان کے بد ترین اعمال کا پورا پورا بدلہ دیں گے جنہیں وہ کیا کرتے تھے۔
ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader
یہ ہے اللہ کے دشمنوں کا بدلہ ( جہنم کی) آگ جس میں وہ رہیں گے جو ہمیشہ رہنے کا گھر ہے۔ وہ جو ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے یہ اس کی سزا ہوگی۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader
( وہاں یہ) کافر کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں جنات اور انسان دونوں گروہوں میں سے ان گروہوں کو دکھا دیجئے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تا کہ انہیں اپنے پائوں تلے روند ڈالیں وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader
بیشک جن لوگوں نے یہ کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر انہوں نے استقامت اختیا رکی ( جمے اور ڈٹے رہے) تو یقینا ان پر فرشتے اتریں گے (اور ان سے کہیں گے) تم نہ تو خوف کھائو اور نہ رنجیدہ ہو۔ تم اس جنت ( کے دیئے جانے) کی خوشی منائو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔
نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader
ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی وہاں تم جو کچھ چاہوگے وہ ملے گا اور اس میں ہر وہ چیز موجود ہوگی جس کی تم تمنا کیا کرتے تھے
نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader
( کیونکہ) یہ بہت معاف کرنے والے اور رحم و کرم کرنے والے اللہ کی طرف سے ( تمہاری) مہمان داری ہوگی۔
وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader
اور اس شخص سے بہتر بات کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور اس نے عمل صالح کئے اور یہ کہا کہ بیشک میں ( اللہ تعالیٰ کے) فرماں برداروں میں سے ہوں۔
وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader
( اے نبی ﷺ نیکی اور برائی برابر و یکساں نہیں ہو سکتے لہٰذا تم برائی کو بہترین انداز سے دور کرو پھر تم دیکھو گے کہ وہ شخص جس سے تمہاری دشمنی تھی وہ تمہارا گہرا اور جگری دوست بن گیا ہے ۔
وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader
مگر یہ بات ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جنہوں نے صبر کیا اور یہ بڑے نصیب والوں کو ہی ملتی ہے
وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader
اور اگر تمہیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آجائے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو ۔ بیشک وہ بہت سننے والا اور جاننے والا ہے۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader
رات اور دن سورج اور چاند یہ سب اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ لہٰذا تم سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ اگر تم واقعی اس کی ( سچی) عبادت و بندگی کرنے والے ہو۔
فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader
پھر اگر انہوں نے تکبر کیا تو ( اللہ کو کسی کی پرواہ نہیں ہے) وہ فرشتے جو تمہارے رب کے پاس ہیں وہ دن رات اس کی حمد وثناء کرتے ہیں اور وہ اکتاتے بھی نہیں۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader
اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ایک زمین ہے جو بالکل ویران پڑی ہوئی تھی ۔ پھر جیسے ہی ہم نے اس پر پانی برسایا تو وہ لہلہانے اور ابھرنے لگی ۔ بیشک وہ جس نے مردہ زمین کو زندہ کردیا وہی مردوں کو زندہ کرے گا بیشک وہی ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader
بلا شبہ جو لوگ ہماری نشانیوں میں الحاد کرتے ہیں ( معنی کو الٹ دیتے ہیں) وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ ( بتائو) وہ شخص جو آگ میں جھونک دیا جائے گا وہ بہتر ہے یا وہ قیامت میں ( نہایت) امن و سکون کے ساتھ آئے گا ۔ تم جو چاہو کرو لیکن یہ یادر رکھو کہ تم جو کچھ کتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔