41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 41:1–2

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

(یہ کلام) رحمن ورحیم کی طرف سے نازل ہوا ہے،1۔

1۔ (اور ان پیغمبر کا اختراع کیا ہوا نہیں ہے) حم پر ملاحظہ ہو سورة مومن کا حاشیہ نمبر 1 برصفحہ 937 (آیت) ” من الرحمن الرحیم “۔ یہ کلام ان تمام ہدایتوں اور احکام پر شامل ہے جن کی مصدر صفات رحمانیت ورحیمیت ہوسکتی ہیں۔
Ayahs 41:3–4

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں کھول کر بیان کردی گئی ہیں یعنی فصیح قرآن (جونافع ہے) دانشمند لوگوں کے لئے

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

(انہیں) بشارت دینے والا اور ڈرانے والا،2۔ لیکن ان میں سے اکثر نے روگردانی کی، سو وہ سنتے ہی نہیں،3۔

2۔ (آیت) ” لقوم یعلمون “۔ قرآن کا مخاطب تو سارا عالم انسانی ہیں لیکن نفع اس سے بہرحال وہی اٹھاتے ہیں جو علم وفہم سے کام لیتے رہتے ہیں، (آیت) ’ ’ بشیرا “۔ بشارت دینے والا ان کے حق میں جو اس کے پیام کو سن لیں، مان لیں، (آیت) ” نذیرا “۔ ڈرانے والا انکے حق میں جو اس کے پیام کو نہ سنیں، اس سے انکار کردیں، (آیت) ” عرب یا “۔ عربی کے معنی تو کلام فصیح کے ہیں، لیکن اگر زبان عربی کا قرآن اس سے مراد لیا جائے تو اس کی یہ خصوصیت اس کے مخاطبین اول کی رعایت سے ہوگی۔ 3۔ یعنی قرآن کی ان خصوصیات کا تقاضا تو یہ تھا کہ سب ایمان لے آتے لیکن اکثر مخاطبین نے اپنے قصد واختیار سے اس کی طرف سے روگردانی کی، نتیجہ یہ ہوا کہ پھر ان میں سننے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہ رہی۔
Ayah 41:5

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہمارے دل پردوں کے اندر ہیں اس بات سے جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک حجاب ہے، سو آپ اپنا کام کئے جائیے ہم اپنا کام کررہے ہیں،4۔

4۔ یعنی ہم اپنے طریقہ کو نہ چھوڑیں گے، ہم سے کوئی امید قبول کی نہ رکھیے، پھر بھی کہنے کو جی چاہے تو کہے جائیے، آپ جانیں اور آپ کا کام .... مشرکوں کا یہ قول از راہ فخر وعزم اصرار علی الکفر تھا۔ اسی لئے محل ذم میں نقل ہوا۔
Ayah 41:6

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے میں بھی تم ہی جیسا بشر ہوں (البتہ) مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے کہ تمہارا خدا تو بس ایک ہی خدا ہے سو اسی کی طرف سیدھ باندھے رہو اور اسی سے معافی چاہتے رہو،5۔ اور بڑی کم بختی ہے مشرکین کیلئے

5۔ یعنی اس کی طرف کی سیدھی راہ، راہ توحید اختیار کرو، اور اب تک جو شرک میں مبتلا رہے ہو، اس سے تائب ہوجاؤ۔ (آیت) ” انما انا بشر مثلکم “ یعنی بیشک مجھ میں کوئی قدرت تم کو ایمان پر مجبور کردینے کی نہیں بلحاظ بشریت جیسے تم ویسا ہی میں۔ رسول اور محبوب ترین رسول کے لئے بشریت کا اثبات اور بار بار اثبات، وہ بھی (آیت) ” مثلکم “ کی تاکید کے ساتھ، قرآن مجید اور شریعت اسلامی کی خصوصیات امتیازی میں سے ہے۔ (آیت) ” یوحی ..... واحد “۔ یعنی امتیازی حیثیت مجھ میں صرف اتنی ہے کہ میں بشر ہونے کے ساتھ صاحب وحی بھی ہوں .... اور وحی بھی ایسے مضمون کی جو عقلا بھی قابل قبول ہے۔ یعنی توحید۔
Ayah 41:7

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے تو وہ منکر ہی ہیں،6۔

6۔ (اور مشاہدۂ دلائل کے بعد بھی اپنے طریقہ کو نہیں چھوڑتے) (آیت) ” الزکوۃ “۔ زکوٰۃ۔ یہاں بطور اصطلاح فقہی نہیں، لفظی معنی میں ہے۔ یعنی نیک راہ میں خرچ کرنا، اور یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ اپنے آپ کو نجاست شرک سے پاک نہیں کرتے ہیں۔ اے لایزکون انفسھم من لوث الشرک (کبیر) قیل الزکوۃ بالمعنی اللغوی اے لایفعلون ما یزکی انفسھم وھو الایمان والطاعۃ (روح) (آیت) ” وھم بالاخرۃ ھم کفرون “۔ ھم کی تکرار اور کافرون پر بالاخرۃ کی تقدیم تاکید کلام کے لئے ہے، والتقدیم للاھتمام (روح)
Ayahs 41:8–9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

(البتہ) جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان کے لئے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

آپ کہئے کہ ارے تم تو اس (خدا کی توحید) کے منکر ہو جس نے زمین کو دو روز میں پیدا کردیا اور تم شریک ایسے کے ٹھہرا رہے ہو وہی تو سارے جہانوں کا پروردگار ہے،7۔

7۔ وہ کوئی چھوٹا موٹا دیوتا نہیں، وہ تو سارے عالم ومافی العالم کا واحد خالق و پروردگار ہے ! تم ایسے عظیم الشان وجلیل القدر آفرید گار کے باب میں اس کے تفرد کے قائل نہیں، اب اس سے بڑھ کر کھلی ہوئی حماقت وسفاہت اور کیا ہوگی (آیت) ” فی یومین “۔ یوم پر حاشیہ فی ستۃ ایام کے تحت میں گزر چکا ہے کہ اس سے مراد یہ ہمارا متعارف 24 گھنٹہ کا دن نہیں جس کا وجود آفرینش کائنات کے بعد ہی ہوسکا ہے بلکہ مطلق دو مختلف وقت مراد ہیں۔ (آیت) ” ائنکم لتکفرون “ ، ائن اور ل معنی کفر کی تاکید کیلئے ہیں۔
Ayah 41:10

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اسی نے زمین کے اوپر پہاڑ بنادیئے اور اس (زمین) میں فائدہ کی چیزیں رکھ دی اور اسی میں اس (پر رہنے والوں) کی غذائیں رکھ دیں (یہ سب) چار دن میں پورے ہیں پوچھنے والوں کیلئے،8۔

8۔ روایات نزول میں آتا ہے کہ خلقت زمین و آسمان کی بابت سوال، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا، جواب قرآن کے ذریعہ سے مل رہا ہے۔ (آیت) ” رواسی “ پر حاشیہ پہلے گزر چکا۔ (آیت) ” فی اربعۃ ایام “۔ اوپر کی آیت کے یومین (دوروز) بھی اس مدت میں شامل ہیں۔ اس سے الگ نہیں۔
Ayah 41:11

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر اس نے آسمان کی توجہ کی اس حال میں کہ وہ دھواں تھا پھر اس سے اور زمین سے کہا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا زبردستی، دونوں بولے ہم خوشی سے حاضر ہیں،9۔

9۔ یعنی زمین و آسمان کی آفرینش کے بعد ان سے سوال کیا گیا کہ جس درجہ اور کیفیت کا ادراک و شعور تمہیں عطا ہوا ہے اس کے لحاظ سے بتاؤ کہ تم جن احکام تکوینی کے محل بنوگے، ان پر راضی بھی رہوگے یا ان سے کراہت رکھوگے ؟ انہوں نے جواب میں عرض کیا کہ ہم بسر وچشم حاضر ہیں۔ (آیت) ” طوعا اوکرھا “۔ یہاں ترکیب میں طآئعین وکارھین کے مرادف ہیں یعنی اگرچہ مصدر ہیں لیکن ان کا استعمال موقع حال پر ہوا ہے۔ انتصابھا علی الحال بمعنی طائعتین اومکرھتین (کشاف) مصدر ان وقعاموقع الحال (بیضاوی) (آیت) ” السمآء “۔ کئی بارگزر چکا ہے کہ عربی میں سماء ہر اس چیز کو کہتے جو مثل چھت کے بلند ہو۔ قرآن مجید کو زمین و آسمان کی جغرافی ماہیت سے مطلق بحث نہیں۔ (آیت) ” وھی دخان “ یعنی اس کا مادہ دھوئیں یا بخارات کی شکل کا تھا۔ (آیت) ” دخان “ سے یہاں وہ حقیقی دھواں مراد نہیں جو آگ کی گرمی سے پیدا ہوتا ہے بلکہ اسے محض مجازا (آیت) ” دخان “ کہہ دیا گیا ہے۔ اس لئے کہ دھواں بھی بغیر کسی مادی اور ظاہری سہارے کے چھایا ہوارہتا ہے۔
Ayah 41:12

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر دو روز میں سات آسمان بنادئیے اور ہر آسمان میں اس کے (مناسب) حکم بھیج دیا،10۔ اور ہم نے اس قریب والے آسمان کو ستاروں کے ذریعہ سے رونق بھی دی اور حفاظت بھی کی، یہ انتظام ہے خدائے ہمہ قوت وہمہ علم کا،11۔

10۔ یہ احکام ان آسمانوں کے فرشتوں کو ملے یا جو مخلوق وہاں آباد ہو اس کو، اے اوحی الی اھلھا باوامرہ ونواھیہ (بیضاوی) (آیت) ” فی یومین “۔ دوروز یہ، اور چار روز قبل والے، میزان وہی چھ روز کی ہوئی۔ 11۔ (اور اتنے محکم انتظامات بجز اس خدائے واحد، ہمہ تواں وہمہ داں کے اور کون کرسکتا ہے ؟ وما احسن ھذہ الخاتمۃ لان تلک الاعمال لاتمکن الابقدرۃ کاملۃ وعلم محیط (کبیر) (آیت) ” العزیز العلیم۔ العزیز “۔ میں اشارہ ہے کمال قدرت کی جانب اور (آیت) ” العلیم “۔ میں کمال علم کی جانب۔ (آیت) ” السمآء الدنیا “۔ قریب والے آسمان سے مراد اہل زمین سے قریب ترین آسمان ہے۔ یہی جو زمین سے دکھائی دے رہا ہے۔ (آیت) ” حفظا “۔ حفاظت سے تاثیرات شیطانی سے حفاظت مراد ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جب اتنا اہتمام سب سے نچلے آسمان کا ہے تو اس سے اوپر والے آسمانوں کی محفوظیت تو اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہوگی۔
Ayah 41:13

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

تو اگر یہ لوگ (اب بھی) اعراض کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تم کو ایسی آفت سے ڈراتا ہوں جیسی آفت عاد وثمود (پر آئی تھی) ،12۔

12۔ یعنی جس طرح وہ قومیں دفعۃ ہلاک کردی گئی تھیں، تم بھی کسی آفت ناگہانی میں مبتلا کرکے ہلاک کردیئے جاؤ۔ (آیت) ” مثل صعقۃ “۔ یہ تشبیہ یا مثلیت صرف فوری وقوع ہلاکت کے لحاظ سے ہے۔ (آیت) ” فان اعراضوا “۔ یعنی یہ لوگ اگر اتنے دلائل کے باوجود بھی اقرار توحید سے انکار واعراض کرتے رہیں۔ (آیت) ” عادوثمود “۔ عاد وثمود کے نام سے قرآن مجید میں ایسے موقع اندار پر بار بار اس لیے آتے ہیں کہ عرب ان کے حالات سے خوب واقف ومانوس تھے۔
Ayah 41:14

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر آئے تھے ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی کہ بجز اللہ کے اور کسی کی عبادت نہ کرو،13۔ وہ بولے اگر ہمارے پروردگار کو یہی منظور ہوتا تو وہ فرشتوں کو بھیجتا تو ہم تو اس (پیام) کے منکر ہیں جسے دے کر تم بھیجے گئے ہو،14۔

13۔ یعنی وہ ہر طرح کی سعی بلیغ انہیں اسی مسئلہ توحید کے سمجھانے کی کرتے رہے۔ اے اجتھدوابھم واتوا بجمیع الوجوہ (کبیر) والجھتان کنایۃ عن جمیع الجھات والمراد باتیانھم من جمیع الجھات ببذل الوسع فی دعوتھم (روح) (آیت) ” جآء تھم “۔ ھم ضمیر جمع ہے حالانکہ ذکر صرف دو کا گزرا ہے۔ عاد وثمود کا، لیکن تثنیہ کے موقع پر ضمیر جمع لانا عربی میں عام ہے۔ ففیہ اطلاق الجمع علی الاثنین وھو شائع (روح) 14۔ (اپنے خیال وپندار کے مطابق) ان قدیم منکروں کا جواب وہی تھا جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی ان کی زبانوں پر رہا۔ یعنی اگر خدا کو واقعی ہماری ہدایت منظور تھی آدمیوں کے خود دیوی دیوتا ہی اتر کر کیوں نہ ہمارے پاس آگئے جو ہم کو شک یا انکار کی گنجائش ہی نہ رہتی تو ہم تو تمہارے پیام ویام کے قائل نہیں۔ (آیت) ” بمآ ارسلتم بہ “۔ کافروں نے یہ فقرہ پیغمبروں کے خیال کی ترجمانی میں کہا۔ اور قرآن میں یہ اسلوب بیان عام ہے۔ اے علی زعمکم (روح)
Ayah 41:15

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

پھر جو عاد کے لوگ تھے وہ ملک میں ناحق تکبر کرنے لگے اور بولے کہ ہم سے کون قوت میں بڑھ کر ہے ؟ ان کی نظر اس پر نہ گئی کہ اس سے قوت میں بڑھ کر اللہ ہے جس نے انہیں پیدا کیا اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے،15۔

15۔ یعنی خداوندی نشانات تکوینی اور آیات تشریعی دونوں کا انکار وابطال کرکے اپنے ہی ڈھرے پر قائم رہے۔ (آیت) ” بغیر الحق “۔ بندوں کیلئے استکبار تو ہمیشہ ہی ناجائز ہے۔ بغیر الحق کے اضافہ نے یہ بتا دیا کہ ان لوگوں کے پاس استکبار کی کوئی بنیاد خود ان کے معیار سے بھی نہ تھی، (آیت) ” من اشد منا قوۃ “۔ یہ نعرۂ خودی، اپنی قوت کا زعم، اپنے قانون وآئین کی بالادستی، یہ ساری خدا فراموش اور آخرت فراموش متمدن قوموں میں مشترک رہی ہے۔ یہی نعرۂ خودی آج روس کا بھی ہے، امریکہ کا بھی ہے، اور ان سے دھیمے لہجہ میں برطانیہ کا بھی، اور ابھی کل تک کس زور شور کے ساتھ جرمنی اور اٹلی اور جاپان کا تھا۔ (آیت) ” اولم ...... قوۃ “۔ یعنی ان کج فہموں کی سمجھ میں اتنی موٹی سی بات نہ آئی کہ بندہ کو تو بہرحال وبہر صورت خدائی قانون کا محکوم وپابند ہو کر رہنا ہے۔ اس کے سوا دنیا میں کوئی صورت بامن و عافیت بسر کرنے کی نہیں۔
Ayah 41:16

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

ہم نے ان پر تیز آندھی بھیجی ایسے دنوں میں جو (ان کے حق میں) منحوس تھے کہ ہم انہیں (اسی) دنیوی زندگی میں عذاب رسوائی کا مزہ چکھا دیں اور عذاب آخرت تو رسوا تر ہوگا اور انہیں (کوئی) مدد نہ پہنچ سکے گی،16۔

16۔ یعنی عذاب آخرت جو کہیں زیادہ سخت اور سارے اہل محشر کی نظر میں ہونے کے باعث کہیں زیادہ رسوا کن بھی ہوگا وہ تو بہرحال ابھی پردۂ غیب میں ہے۔ یہ عذاب ہلاکت جو ہم نے ان پر دنیا میں نازل کیا، اس سے یہ دنیا ہی میں خلقت کی نظر میں حقیر و ذلیل ہو کر رہے کہ قوت و شوکت کے اتنے دعو وں کے باوجود اپنے کو بچانے پر ذرا بھی قادر نہ ہوسکے۔ (آیت) ” فی ایام نحسات “۔ نحس سے صرف یہ مراد ہے کہ وہ وقت اسی نزول عذاب الہی کے باعث ان لوگوں کے حق میں منحوس نکلا، عن مالک یعنی شدائد لاخیر فیھا (ابن العربی) ورنہ کسی متعین دن یا مخصوص زمانہ کے ” منحوس “ ہونے کا عقیدہ ہی سرے سے اسلام میں نہیں۔ و لیس ھذاممایزعمہ الناس من خصوصیات الاوقات (روح) یہ تو ان مشرک قوموں کا عقیدہ ہے جو تاثیر وتصرفات کواکب کے قائل ہیں، فقیہ ابن العربی ان ضعیف وموضوع روایتوں کا ذکر کرکے جن میں یوم چہار شنبہ کی ” نحوست “ وارد ہوئی ہے لکھتے ہیں۔ ان ھذا لھو الجھل المبین اور پھر مغازی کی اس روایت کا ذکر کرکے جس میں دو شنبہ سے لے کر چہار شنبہ تک کی فضیلت آئی ہے، لکھتے ہیں۔ فالاثار الصحاح دلیل علی فضل ھذا الیوم وکیف یدعی فیہ تقریر النحس باحادیث لااصل لھا۔ کہ جب مستند آثار سے اس روز کی فضیلت ثابت ہوگئی تو کیسے اسے بےاصل روایتوں کی بناء پر منحوس ٹھہرایا جاسکتا ہے، اور پھر کہتے ہیں کہ بعض قوموں نے شمسی مہینوں کے بعض سعد ونحس تاریخون کا نقشہ تیار کیا ہے۔ مسلمانوں کو جو اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں، انکی طرف توجہ کرنا بلکہ ان پر نظر کرنا ہی جائز نہیں۔۔ وقد صور قوم ایاما من الاشھر الشمسیۃ ادعوا فیھا الکرامۃ لایحل للمسلم ان ینظر الیھا ولا یشغل بالاتھاو اللہ حسیبھم۔ (آیت) ” ایام “۔ سورة الحاقہ میں تصریح ملے گی کہ یہ مدت پورے ایک ہفتہ کی تھی۔
Ayah 41:17

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور جو ثمود والے تھے تو ہم نے انہیں راہ ہدایت دکھائی مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلہ میں گمراہی کو پسند کیا سو ان کو عذاب سراپا ذلت کی آفت نے آپکڑا بسبب ان کے کرتوتوں کے،17۔

17۔ اس آخری تصریح نے ایک بار اور اس حقیقت کو واضح کردیا کہ عذاب الہی جب بھی آتا ہے، بندوں کی اختیاری بددینی کی پاداش ہی میں آتا ہے۔ اور اس طرح کے تصریحی فقرے قرآن مجید میں بڑی کثرت سے آئے ہیں۔ (آیت) ” فھدینھم “۔ یہ ہدایت ثمود کو انکے پیغمبروں کے واسطہ سے پہنچی تھی۔ (آیت) ” فھدینھم ..... الھدی “۔ اس تصریح نے ایک بار پھر یہ صاف کردیا کہ ہدایت و ایمان کا ردوقبول بالکل اختیار عبد کی چیز ہے اور اسی پر عذاب یا اجر مرتب ہوتا ہے۔
Ayahs 41:18–20

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور ہم نے نجات دے دی ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور ہم سے ڈرتے تھے

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور (یاد لائیے انہیں وہ دن) جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جمع کرکے لائے جائیں گے، پھر وہ روکے جائیں گے

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ جب اس تک پہنچ ہی جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی جلدیں ان پر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے،18۔

18۔ یہ منظر اس وقت کا ہے، جب عرصہ محشر میں ان لوگوں کو دوزخ کے قریب لے آیا جائے گا، اور آگ ہی آگ انہیں ہر طرف نظر آئے گی۔ حساب کتاب اس وقت شروع ہورہا ہوگا۔ (آیت) ” ماجآء وھا “۔ مازائدہ یعنی تاکید کے لیے ہے۔ ما مزیدۃ للتاکید (مدارک) (آیت) ” فھم یوزعون “۔ دوزخیوں کا جھنڈ بیشمار ہوگا۔ ایک خاص مقام پر پہنچ کر آگے چلنے والوں کو روک دیا جائے گا کہ پیچھے والے بھی برابر آجائیں۔ اے یحبس اولھم علی اخرھم لیتلاحقوا وھو کنایۃ عن کثرتھم (روح)
Ayah 41:21

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور وہ لوگ اپنی اپنی جلد سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دے دی ؟ وہ جواب دیں گی ہم کو اسی اللہ نے گویائی دی جس نے ہر چیز کو گویائی دی ہے اور اسی نے تو تم کو اول بار پیدا کیا تھا اور اسی کے پاس پھر لائے گئے ہو،19۔

19۔ آج جو اعضاء خاموش وغیرگویا ہیں، کل گویا ہو کر کتنی سیدھی اور سچی بات کہیں گے کہ تم ہمیں تو خاموش وغیرمتکلم سمجھ رہے تھے، یہ بتاؤ کہ زبان جسے تم گویا وناطق سمجھ رہے تھے، خود اس مضغہ گوشت میں یہ قوت گویائی کہاں سے آگئی ؟ کیا اس نے یہ قدرت ازخود حاصل کرلی تھی ؟ اس میں بھی یہ قوت ایک قادر مطلق ہی کے حکم ومشیت سے تو آئی، اس ایک چیز کے سوا اس میں اور ہم میں کوئی ذرہ بھر فرق بھی تو نہیں۔ تو پھر بعینہ وہی مشیت اس وقت جب ہم سے متعلق ہوگئی تو ہم بھی ٹھیک زبان ہی کی طرح ناطق ہوگئے۔ اس میں حیرت کی بات ہی کیا ؟ (آیت) ” وقالوا ...... علینا “۔ اہل دوزخ دنگ وحیران رہ کر اپنے ہی اعضاء جسم سے سوال کریں گے کہ ارے یہ تمہیں ہو کیا گیا ؟ یہ آج تم بولنے کیسے لگ گئے ؟ ہم نے تو یہ جو کچھ کیا دہرا تھا، سب تمہارے ہی واسطے تو کیا تھا ؟
Ayah 41:22

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم اس بات سے اپنے کو چھپا ہی نہیں سکتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری جلدی گواہی دیں لیکن تم تو اس گمان میں رہے کہ اللہ کو تمہاری اکثر باتوں کی خبر ہی نہیں،20۔

20۔ کثرت سے مشرک ” حکماء وفلاسفہ “ نے علم الہی کو ناقص سمجھا ہے۔ کسی نے یہ کہا ہے کہ خدا کو علم صرف کلیات کا ہوتا ہے جزئیات کا نہیں، اور کسی نے کچھ اور۔ بہرحال مشرکین کو صفات کمالیہ الہی ہی کے سمجھنے میں شدید ٹھوکر لگی ہے، خصوصا صفت علم کے باب میں۔
Ayah 41:23

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور تمہارے اسی گمان نے جو تم اپنے پروردگار کے ساتھ رکھتے تھے تمہیں برباد کیا اور تم گھاٹے میں پڑ کررہے،21۔

21۔ مشرکانہ عقائد ہی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان برابر بدکاریوں میں پڑا رہتا ہے اور اس کا پورا انجام حشر میں جا کر ظاہر ہوگا۔
Ayah 41:24

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

سو اگر یہ لوگ صبر کریں جب بھی دوزخ ہی ان کا ٹھکانا ہے اور اگر وہ عذر کرنا چاہیں تو ان کی معذرت قبول نہ ہوگی،22۔

22۔ یعنی اگر یہ تن بتقدیر ہو کر صبر وخاموشی سے کام لیں، اور کوئی عذر ومعذرت نہ پیش کریں، جب بھی ان کے حق میں کوئی رعایت نہ ہوگی، جیسا کہ دنیا میں کبھی ہوجاتا ہے۔ اور عذر خواہی بھی اگر کرنا چاہیں تو اس دارالجزاء میں بالکل بیکار ثابت ہوگی، آخرت تو صرف ظہور نتائج کا محل ہے وہاں اگر دارالعمل والے قانون کی ذرا بھی گنجائش ہوتی تو سب سے پہلے ابلیس ہی نہ اپنی توبہ کے لئے اس گنجائش سے فائدہ اٹھاتا ؟
Ayah 41:25

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے لئے کچھ ساتھ رکھنے والے مقرر کر رکھے تھے، سوا نہوں نے ان کے کرتوت اگلے اور پچھلے ان کی نظر میں خوش نما کر دکھائے تھے اور ان کے حق میں بھی ان سے قبل گزرے ہوئے جنات اور انسانوں کی قوموں کے ساتھ (اللہ کا) قول پورا ہو کر رہا بیشک وہ (سب) خسارہ میں رہے،23۔

23۔ ہر بدی، ہر نافرمانی، ہر معصیت، کسی نہ کسی دوست، رفیق ہی کی ترغیب وتشویق کا آخری نتیجہ ہوتی ہے۔ اسی حقیقت کی جانب یہاں اشارہ ہے۔ (آیت) ” فی امم ..... فی “۔ مرادف ہے مع کے (ابومسعود)
Ayah 41:26

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس قرآن کو سنو ہی مت اور اس کے درمیان میں غل مچا دیا کرو، شاید ، (اسی طرح) تم غالب آجاؤ،24۔

24۔ (اور یہ پیغمبر ہار کر، تھک کر چپ ہوجائیں) مکہ کے مشرکوں نے جب دیکھا کہ پیغمبر ﷺ اپنی تبلیغ سے رکتے نہیں اور قرآن برابر دلوں میں گھر کرتا جاتا ہے تو ایک تدبیر یہی سمجھ میں آئی کہ سرے سے قرآن کی آواز ہی کو کانوں تک نہ پہنچنے دیاجائے، اور قرآن جب رسول اللہ ﷺ سنا رہے ہوں تو اتنا غل مچایا جائے کہ ان کی آواز سن ہی نہ پڑے۔
Ayahs 41:27–29

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

سو ہم (ان) کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور جو بری بری حرکتیں یہ کرتے رہے ہیں ان کے سزا دے کر رہیں گے

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ سزا ہے اللہ کے دشمنوں کی یعنی دوزخ وہاں ان کے لئے ہمیشگی کا مقام ہوگا اس کی سزا میں کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہتے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور کافر (اس وقت) کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں وہ شیطان و انسان دونوں دکھا دیجئے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا ہم انہیں اپنے پیروں کے نیچے مل ڈالیں کہ وہ خوب ذلیل ہوں،25۔

25۔ یہ گفتگو دوزخ میں ہوگی، جب کافر اپنے کو مبتلائے عذاب پائیں گے۔ اتنہائی جھنجھلاہٹ اور جوش غیظ میں یہی چاہیں گے کہ اپنے گمراہ کرنے والوں کو (حالانکہ وہ بھی اسی دوزخ ہی میں کہیں گے) اپنے قریب موجود پائیں اور اپنے پیروں سے روند کر رکھ دیں۔ (آیت) ” اضلنا من الجن والانس “۔ یہ نص اس باب میں صاف وواضح ہے کہ انسان کی گمراہی شیطان (جنات خبیث) کی طرف سے بھی آتی ہے اور انسانوں کی طرف سے بھی۔
Ayah 41:30

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر (اس پر) قائم رہے،26۔ ان پر فرشتے اتریں گے کہ تم نہ اندیشہ کرو اور نہ رنج کرو اور خوش ہو جنت (کے ملنے) پر جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے،27۔

26۔ یعنی مذہب شرک چھوڑ کر دین توحید اختیار کیا اور اسی پر ثابت قدم رہے، اس سے ان کا قدم ڈگمگانے نہیں پایا۔ ثم ثبتوا علی الاقرار ولم یرجعوا الی الشرک (روح) معناہ ولم یشرکوا بہ شیئا ولکن تموا علی التوحید (ابن جریر) عن مجاھد اسلموا ثم لم یشرکوا بہ حتی لحقوا بہ (ابن جریر) عن عکرمۃ استقاموا علی شھادۃ ان لاالہ الا اللہ (ابن جریر) صدیق اکبر حضرت ابوبکر ؓ سے یہی معنی مروی ہیں۔ ھم الذین لم یشرکوا باللہ شیئا (ابن جریر، عن ابی بکر الصدیق ؓ لم یرجعوا الی عبادۃ الاوثان (روح عن ابی بکر الصدیق ؓ آیت سے منافق اور مرتد تو خارج ہو ہی گئے (منافق سے استقامت کیونکرممکن ہے اور مرتد وہ ہے جو اقرار ایمان پر قائم نہ رہا) باقی اخفاء ایمان کا رد بھی لفظ (آیت) ” قالوا “۔ سے نکل رہا ہے یعنی کوئی شخص دل سے تو توحید کا قائل ہو مگر اقرار نہ کررہا ہو، وہ مستحق اس بشارت کا نہیں۔ (آیت) ” ربنا “۔ صفت ربوبیت میں ہوا ہے۔ کارساز ہی وہ دوسرے کو جانتے ہیں، ورنہ خالق تو شاید ہی کسی کافر نے کبھی غیر اللہ کو سمجھا ہو۔ ضرورت اسی صفت ربوبیت پر استقامت کی تاکید کی تھی۔ (آیت) ” ثم استقاموا “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ استقامت اپنے اطلاق کی لحاظ سے ہر درجہ و مرتبہ استقامت کو شامل ہے 27۔ (پیغمبروں، اور صدیقوں کی زبان سے) مومن ناظر کو چاہیے کہ جب اس آیت پر بشارت پر پہنچے تو آگے بڑھنے سے) مومن ناظر کو چاہیے کہ جب اس آیت پر بشارت پر پہنچے تو آگے بڑھنے سے قبل ذرا اپنی موت کے وقت کا اس وعدۂ الہی کے ساتھ مراقبہ کرلے۔ نزع میں کہ انتہائی بےبسی کا وقت ہوتا ہے، یہ مژدہ رحمت کس درجہ باعث بشارت و شادمانی ہوگا !۔ زبان کا کوئی لفظ مسرت و انبساط کی اس انتہائی کیفیت کو ادا کر ہی نہیں سکتا۔ جلال الدین سیوطی (رح) نے شرح الصدور میں تمیم داری صحابی ؓ کے حوالہ سے ایک بڑی طویل حدیث اس مضمون کی نقل کی ہے کہ مومن صالح کی روح کے قبض کے وقت فرشہ موت اس کے پاس اس کی دلچسپیوں کا بہتر سے بہتر سامان لے کر آتا ہے اور جس طرح بچہ کے نشتر لگنے کے وقت اسے بہلا پھسلا لیا جاتا ہے اس احتضار والے مومن کو انہیں دلچسپیوں میں بہلا کر چپکے سے بلاشائبہ تکلیف اس کی روح جسم کو، فرشتے اس کے حق میں دعائیں اور طلب مغفرت کرتے ہیں اور شیطان پچھاڑیں کھاتا ہے کہ شکار ہاتھ سے نکل گیا ! (آیت) ” تتنزل علیھم الملئکۃ “۔ یہ فرشتے رحمت اور بشارت کے ہوں گے اور ان کا نزول پہلے موت کے وقت ہوگا، پھر قبر میں اور پھر بعثت کے وقت۔ بلکہ محققین عارفین نے تو ترقی کرکے یہاں تک کہا ہے کہ ملائکہ رحمت کا نزول تو مومنین صادقین پر ہر وقت اور ہر آن ہوتا رہتا ہے۔ قال المفسرون یعنی عند الموت وانا اقول فی کل یوم والد الایام یوم الموت وحین القبر ویوم ویوم الفزع الاکبر (ابن العربی) قیل عند الموت وقیل فی مواقف ثلاثۃ عند الموت وفی القبر وعند البعث الی القیامۃ (کبیر) (آیت) ” ولا تخافوا “۔ کسی عذاب کا اندیشہ نہ کرو، نہ برزخ میں یہ آخرت میں۔ (آیت) ” ولا تحزنوا “۔ یعنی دنیا اور یہاں کے مانوسات ومالوفات کی مفارقت پر ذرا غم نہ کرو۔ امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ یہ آیت مومن کے حق میں بہت بڑی بشارت ہے اور ایک وعدہ اس امر کا ہے کہ اسے کوئی غم وحزن نہ موت کے وقت ہوگا نہ قبر میں نہ حشر میں، بلکہ ان سارے موقعوں پر وہ مطمئن وپرسکون رہے گا۔
Ayah 41:31

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم تمہارے رفیق تھے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی رہیں گے،28۔ اور تمہارے واسطے اس (جنت) میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کو تمہارا جی چاہے، اور تمہارے واسطے موجود ہے جو کچھ بھی مانگو29

28۔ نیکی کے فرشتے مومن صالح کے رفیق اس دنیا میں برابر رہا کرتے ہیں، اور ہر وقت اسے صالحیت کی ترغیب بطریق الہام دیتے رہتے ہیں۔ اور آخرت میں ان کی ملاقات ورفاقت کا ذکر تو قرآن مجید میں باربار آیا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ امتحان ظاہری وباطنی کے موقع پر فیض ملائکہ نزول سکینت و برکت کرتا رہتا ہے۔ 29۔ جنت اور آخرت کی نعمتوں کی کوئی حد اور کوئی شمار ہے الفاظ کا عموم و جامعیت ملاحظہ ہو۔ ارشاد ہورہا ہے کہ جو کچھ بھی تم طلب کرو گے۔ ہر چیز تمہارے لیے حاضر ومہیا ہوگی۔ اور اس میں ساری ہی مادی وروحانی لذتیں اور حسی ومعنوی راحتیں آگئیں ! اور پھر اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر ، “ جو کچھ تمہارا جی چاہے گا وہ بھی “۔ خواہ زبان سے مانگویانہ مانگو۔ حق ہے کہ مومن ناظر ان بشارتوں کو پڑھ کر وجد میں آ آجائے، (آیت) ” ما تشتھی انفسکم “۔ اس کے اندر وہ ساری لذتیں اور راحتیں آگئیں ! جن کی طلب انسان کے لیے طبعی واضطراری ہے۔ (آیت) ” ماتدعون “۔ اس کے تحت میں وہ ساری نعمتیں شامل ہیں جن کی طلب انسان کے لیے عقلی واختیاری ہے۔
Ayah 41:32

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

(یہ) بطور مہمانی کے (خدائے) ٖغفورورحیم کی طرف سے،30۔

30۔ یعنی یہ بےاندازو بےحساب نعمتیں ملیں گی بھی تو اس طرح نہیں جیسے سائل یا گدا گر کو بھیک مل جاتی ہے، بلکہ بڑے اعزاز واکرام کے ساتھ ملیں گی جیسے معزز مہمان کو میزبان کی طرف سے پیش ہوتی رہتی ہیں۔ اور میزبان کون ہوگا ؟ خود حق تعالیٰ ، صفات مغفرت و رحمت سے خاص طور پر متصف۔
Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس سے بہتر بات کس کی ہے جو (دوسروں کو) اللہ کی طرف بلائے اور (خود) نیک عمل کرے اور کہے کہ میں تو فرمانبرداروں میں سے ہوں،31۔

31۔ ابھی ذکر حسن مآل کا تھا، اب ذکر حسن عمل کا ہے۔ (آیت) ” من عمل صالحا “۔ دعوت الی اللہ کے ساتھ ضرورت خود بھی حسن عمل کی ہے بلکہ اس قید نے یہ اشارہ کردیا کہ عالم بےعمل اور واعظ غیر متقی اس بشارت سے خارج ہے۔ المراد ان یتبع القول العمل (ابن العربی) (آیت) ” قال اننی من المسلمین “۔ مومن کو چاہیے کہ اپنی بندگی پر فخر کرے، اس میں کوئی عار نہ سمجھے، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” عمل صالحا “۔ کی قید سے معلوم ہوا کہ شیخ کو خود بھی عامل ہونا چاہیے ورنہ اس کی تعلیم میں برکت نہ ہوگی۔ (آیت) ” دعآالی اللہ “۔ ظاہر لفظ سے بعض علماء نے اشارہ اذان کی جانب سمجھا ہے۔ اور استدلال اسی سے عمل اذان کی فضیلت پر کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اذان کی افضیلت اپنی جگہ بالکل مسلم، بلکہ حدیث میں مؤذن کے لیے یہ بشارت آچکی ہے کہ اللہ نے اس کا گوشت آگ پر حرام کردیا ہے۔ لیکن یہاں مفہوم عام ہے۔ اور ہر داعی الی اللہ اس کے تحت میں آجاتا ہے خواہ وہ حاکم عادل ہو یا فوجی مجاہد، مدرس ہو یا واعظ، شیخ طریقت ہو یا دینی کتابوں کا مصنف۔ (آیت) ” دعآ الی اللہ “۔ فقہاء نے اس کے تحت میں لکھا ہے کہ خلوت واعتزال و سکوت زاہدانہ سے امر بالمعروف اولی و اشرف ہے۔ (آیت) ” ومن ...... اللہ “۔ فقہاء نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ بہترین قولی عبادت دعوت الی اللہ ہی ہے۔ فیہ بیان ان ذالک احسن قول (جصاص) اور پھر اس فرع پر فرع یہ مرتب کیا ہے کہ دعوت الی اللہ فرض ہے، ورنہ اگر یہ فرض نہ ہو بلکہ صرف نفل ہو تو نفل کا فرائض سے بہتر ہونا لازم آتا ہے۔ ودل بذالک علی الزوم فرض الدعاء الی اللہ واذلا جائز ان یکون النفل احسن من الفرض (جصاص)
Ayah 41:34

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی آپ نیکی سے (بدی کو) ٹال دیا کیجئے تو پھر یہ ہوگا کہ جس شخص میں اور آپ میں عداوت ہے وہ ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے،32۔

32۔ (بلکہ کہیں تو جانی دشمن واقعۃ دلی دوست و خادم بن جاتے ہیں۔ مثلا رسول اللہ ﷺ کے اس تعامل مسلسل کے بعد ابوسفیان جیسے شدید دشمن بالکل حلقہ بگوش ہوگئے) (آیت) ” ولا تستوی الحسنۃ ولا السیءۃ “۔ دونوں یکساں نہیں، بلکہ ہر ایک کا اثر جداگانہ ہوتا ہے۔ بدی کی مکافات بدی سے کرنے میں عداوات بڑھتی ہے اور نیکی سے کرنے میں (بشرط سلامت طبع) عداوت گھٹتی ہے۔ (آیت) ” والسیءۃ “ میں لازائدہ تاکید نفی کیلئے ہے۔ لا الثانیۃ مزیدۃ لتاکید النفی (روح) (آیت) ” کانہ ولی حمیم۔ کانہ “۔ نے یہ صاف کردیا کہ یہ لازمی نہیں کہ اس برتاؤ کے بعد وہ دشمن دوست بن ہی جائے، البتہ مشابہ دوست کے ضرور ہوجائے گا۔ مشہور غیر مسلم لیڈر گاندھی جی نے جو اپنا فلسفہ شانتی اور اہمسا کا چلایا ہے، عجب نہیں، جو اس کا ماخذاصلی یہی آیات قرآنی ہوں۔
Ayah 41:35

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ بات انہیں لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرتے رہتے ہیں، اور اسی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑا صاحب نصیب ہوتا ہے،33۔

33۔ یعنی اس دفاع احسن کی، بدی کی مکافات بھلائی سے کرنے کی توفیق ہر کس وناکس کو نہیں حاصل ہوجاتی۔ یہ تو صرف خوش نصیبوں ہی کے حصہ میں آتی ہے یعنی ان کے حصہ میں جو اپنے کو صبر کا خوگر بنا چکے ہوتے ہیں۔ (آیت) ” وما یلقھا ...... صبروا “۔ اس میں ذکر ان نیک بندوں کے اخلاق و عادات کا ہے۔ (آیت) ” وما یلقھا الا ذوحظ عظیم “۔ یہ خوش نصیبی انکے مرتبہ واجر وثواب کے لحاظ سے بیان کی گئی ہے۔
Ayah 41:36

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر آپ کو شیطان کی طرف سے وسوسہ آنے لگے تو آپ اللہ کی پناہ مانگ لیاکیجئے وہی (سب) سننے والا ہے (سب) جاننے والا ہے،34۔

34۔ (جس سے نہ کسی کے الفاظ واقوال مخفی ہیں نہ کسی کے اعمال واحوال) (آیت) ” واما ...... نزغ “۔ نزع یا وسوسہ سے یہاں مراد غصہ وانتقام کا وسوسہ ہے۔ معاندین کی مخالفت شدید وپیہم کے وقت اس کا پیدا ہوجانا ایک حد تک امر طبعی ہے۔ تاہم پیغمبر کے مرتبہ سے فروتر چیز ہے۔ اس لیے قرآں نے ہر امر مذموم ومعیوب کی طرح اسے بھی شیطان کی جانب منسوب کیا ہے۔ محققین عارفین نے مفہوم میں توسع پیدا کرکے اور مخاطبت میں مراد ساری امت کو لے کر دوسرے شیطانی تاثرات وتصرفات مثلاحسد، ریاء کبر، کینہ، کذب وغیرہ کی تحریکات کو اسی حکم کے تحت میں لے لیا ہے۔ ابھی ابھی حکم صبرکاملا تھا، صبر ہی اساس اخلاق ہے، اور سعادت اخروی و بہبود دنیوی کی اصل، اس آیت سے مقصود اسی کے حفظ وبقاء کی تاکید ہے (آیت) ” فاستعذ باللہ “ اللہ سے پناہ مانگنے اور پناہ خداوندی میں آجانے کا حکم اس لیے کہ بشر بلاامداد الہی شیطان کے دفع کرنے پر قادر نہیں۔ حکم سے یہ بھی اشارہ نکل آیا کہ بندۂ مومن کو غافل وبے فکر کسی وقت بھی نہ ہونا چاہیے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے تین مسئلے مستنبط ہوتے ہیں ایک اصلاح اخلاق کی ضرورت، دوسرے اس کے لیے مجاہدہ کا شرط ہونا، تیسرے یہ کہ وسوسہ شیطانی کا امکان کاملین کے لیے بھی ہے اور وہ التجاء الی اللہ میں مانع نہیں۔ (آیت) ” ھو السمیع العلیم “۔ وہ آپ ﷺ کا استعاذہ بھی سن رہا ہے اور آپ ﷺ کی نیت وصالحیت سے بھی خوب واقف ہے۔ آیت سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ نزع یا غصہ کے وقت استعاذہ مستحب ہے۔ وفسر عبدالرحمن بن زید النزع بالغضب واستدل بالایۃ علی استحباب الاستعادۃ عندہ (روح)
Ayah 41:37

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں رات ہے اور دن ہے اور سورج ہے اور چاند ہے،35۔ (بس) تم لوگ نہ سورج کو پوجو اور نہ چاند کو بلکہ صرف اللہ ہی کو پوجو جس نے ان سب کو پیدا کیا اگر تم واقعی اس کے پرستار ہو،36۔

35۔ (نہ یہ کہ کوئی مستقل دیوی دیوتا ہیں) آیت میں رد آگیا، تمام ستارہ پرست، آفتاب پرست، ماہتاب پرست جاہلی قوموں کا، ارشاد ہورہا ہے کہ رات ہو، یا دن، سورج ہو یا چاند، یہ تو سب حق تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی علامتیں اور نشانیاں ہیں اور اس کی توحید و عظمت، حکمت وصناعی پر مستقل دلائل و شواہد، انہیں خود معبود سمجھ لینا کس درجہ کی حماقت وسفاہت ہے۔ ملاحظہ ہوں تفسیر انگریزی کے حاشیے۔ 36۔ اہل شرک پر حجت قائم کی ہے کہ اگر تم توحید کے مدعی ہو، اور ایک خدا کے ماننے والے ہو، تو یہ آفتاب پرستی، ماہتاب پرستی، اس دیوتا کی پرستش اور اس دیوی کی پوجا کے کیا معنی ؟ تم کو چاہیے کہ سارے دیوی دیوتاؤں سے منہ موڑ کر صرف ان کے خالق یعنی حق تعالیٰ ہی سے اپنا تعلق جوڑے رکھو۔ (آیت) ” لا تسجدوا ...... اسجدوا “۔ سجدہ سے یہاں اسلامی نماز کا اصطلاحی سجدہ مراد نہیں، عام عبادت وپرستش مقصود ہے۔ جیسا کہ اس کے قبل بھی کئی بار ذکر آچکا ہے۔ (آیت) ” للشمس ولا للقمر “۔ آفتاب پرستی وماہتاب پرستی، دنیا میں شرک کے یہ دو مظہر سب سے بڑھ کر رہے ہیں، اس لیے تصریح کے ساتھ نام انہیں دونوں کا ارشاد ہوا ہے۔
Ayah 41:38

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ اکڑے رہیں تو (فرشتے) جو آپ کے پروردگار کے مقرب ہیں وہ رات اور دن اسی کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (وہ اس سے ذرا) نہیں اکتاتے،37۔

37۔ مسلک توحید و ایمان اختیار کرنے میں بہرحال اپنے طریق آبائی کو چھوڑنا اور نبی کا اتباع کرنا پڑتا تھا، اور یہ بہت سے طبائع کو گراں ٗ گزرتا تھا۔ یہاں اشارہ اسی جانب ہے۔ (آیت) ” فالذین عندربک “۔ فرشتوں کا ذکر (آیت) ” فان استکبروا “۔ کے مقابلہ میں لانے سے اس طرف بھی اشارہ منظور ہے کہ ملائکہ مقربین مرتبہ ومنزلت میں ان اشخاص سے ہزار ہا ہزار درجہ زائد ہیں۔
Ayah 41:39

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تو زمین کو دیکھتا ہے دبی دبائی پڑی ہے لیکن جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ ابھرتی اور پھولتی ہے تو وہی جس نے اس (زمین) کو جی اٹھایا وہی مردوں کو بھی جی کھڑا کرے گا، بیشک وہی ہر چیز پر قادر ہے،38۔

38۔ بعث وحشر کے امکان پر، اس امکان کے منکروں کو، اس قریب کی اور روز مرہ پیش آنے والی نظیر سے توجہ دلائی ہے۔
Ayah 41:40

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں کج روی کرتے ہیں وہ ہم سے مخفی نہیں ہیں سو بھلا جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ شخص جو قیامت کے دن امن وامان کے ساتھ آئے،39۔ (خیر) جو جی چاہے کرلو، وہ تمہارا کیا ہوا سب کچھ دیکھ رہا ہے،40۔

39۔ (ظاہر ہے کہ ہرگز وہ دوزخی بہتر نہیں) (آیت) ” الذین یلحدون فی ایتنا “۔ منکروں اور مکذبوں سے مراد ہونا تو ظاہر ہی ہے لیکن علماء محققین نے لکھا ہے کہ وعید ان باطل فرقوں پر بھی شامل ہے جو آیات قرآنی کے معنی گڑھ گڑھ کر اور مسخ کر کر کے ایسے بیان کرتے ہیں۔ جو حدود تاویل سے بالکل خارج ہوتے ہیں، متکلمین واصولیین اہل سنت نے یہ تصریح کردی ہے کہ ہر نص اپنے ظاہر ہی پر محمول ہوگی، تاوقتیکہ کوئی دلیل قطعی تاویل کی مقتضی نہ مل جائے۔ لغت، زبان، قواعد نحوی سے الگ ہو کر ایسے معنی گڑھنا جس سے احکام شریعت ہی باطل ہوجائیں، باطنیہ وزنادقہ کا شیوہ رہا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس کے تحت میں وہ غالی صوفیہ بھی آجاتے ہیں جو منقول اور ماثور تفسیروں سے انکار کرکے اپنی اختراعی تاویلیں پیش کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” ام .... القیمۃ “۔ قیامت کے روز امن وامان میں رہنے والا وہی ہوگا جو دنیا میں صاحب ایمان تھا۔ 40۔ (جو آخرت میں جو دارالجزاء ہے، پوری سزا دے گا، اور یہاں دارالعمل میں اس نے آزادی عمل دے رکھی ہے)