Ayahs 41:1–8آیت 1
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل (آیت) ” اتارا گیا ہے “ یعنی صادر ہوا ہے (آیت) ” رحمان و رحیم کی طرف سے “ جس کی رحمت ہر چیز پر اس یہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نور و شفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے، پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (آیت) ” جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ “ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیان کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور حقائق کے مابین امتیاز کو مستلزم ہے۔ (آیت) ” یعنی فصیح عرب میں، جو کامل ترین زبان ہے۔ اس کی آیات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور اس کتاب کو قرآن عربی بنایا گیا ہے۔ (آیت) ” علم رکھنے والوں کے لئے۔ “ یعنی (یہ قرآن) اس لئے نازل کیا گیا ہے تاکہ علم رکھنے والے لوگوں پر جس طرح اس کے الفاظ واضح ہیں، اس کے معانی بھی واضح ہوں اور ان کے سامنے ہدایت اور گمراہی نمایاں ہو کر ایک دوسرے سے ممیز ہوجائیں۔ رہے جہلا جن کو ہدایت گمراہی میں اور بیان اندھے پن میں اضافہ کرتا ہے، تو ان لوگوں کے لئے یہ کلام نہیں لایا گیا۔ (آیت) ” ان کے لئے برابر ہے، خواہ آپ ان کو برے انجام سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ “
(آیت) ” یعنی دنیاوی اور آخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا اور دنیاوی اور آخروی عذاب سے ڈرانے والا۔ پھر تبشیر و انداز کی تفصیل کا ذکر کیا اور ان اسباب و اوصاف کا ذکر کیا جن کے ذریعے سے تبشیر و انداز حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اس کتاب کے وہ اوصاف ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ اسے قبول کیا جائے، اس کے سامنے سر اطاعت خم کیا جائے، اس پر ایمان لایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ مگر اکثر لوگوں نے اس طرح روگردانی کی ہے جس طرح متکبرین کا وتیرہ ہے۔ (آیت) ” اور وہ اسے قبول کرنے کے ارادے سے نہیں سنتے اگرچہ وہ اس طرح ضرور سنتے ہیں جس سے ان پر شرعی حجت قائم ہوجائے۔ (وقالوا) یعنی اس کتاب کریم سے روگردانی کرنے والے، اس سے اپنے عدم انتفاع اور اس تک پہنچانے والے دروازوں کے بند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں : (قلوبنا فی اکنہۃ) ” ہمارے دل پردوں میں ہیں۔ “ یعنی پردوں میں ڈھانپے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” اس چیز سے جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اور اس سے ہمارے کانوں میں بوجھ ہے۔ “ یعنی ہمارے کانوں میں گرانی ہے پس ہم سن نہیں سکتے۔ (آیت) ” اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے “ اس لئے ہم تجھ دیکھ نہیں سکتے۔ ان کا مقصد صرف ہر لحاظ سے اس کتاب عظیم سے اعراض کا اظہار تھا، انہوں نے اس کتاب سے اپنے بغض اور اپنے باطل موقف سے رضامندی کا اظہار کیا، اس لئے انہوں نے کہا : (آیت) ” پس تو اپنا کام کئے جا، ہم اپنا کام کرنے والے ہیں۔ “ یعنی جیسے اپنے دین پر عمل کرنا تم پسند کرتے ہو ویسے ہی ہم بھی اپنے دین پر پوری رضا مندی کے ساتھ عمل پیرا ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سب سے بڑی محرومی ہے کہ وہ ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی پر راضی ہوگئے، ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کیا اور دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیا۔
(قل) اے نبی ! ان سے کہہ دیجیے : (آیت) ” میں تو تمہارے جی اس ہی ایک اناسن ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ “ یعنی میرا وصف اور میرا وظیفہ یہ ہے کہ میں تمہارے جی اس بشر ہوں، میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں اور نہ میرے اختیار میں وہ عذاب ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس وحی کے ذریعے سے مجھے تم پر فضیلت عطا کی، اس کے ذریعے سے مجھے تم سے ممتاز کیا اور اس کے لئے مجھے مختص کیا، جو وحی اس نے میرے طرف بھیجی، مجھے اس کی اتباع اور تمہیں اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا۔ (آیت) ” لہٰذا سیدھے اس طرف متوجہ رہو ‘ یعنی میں جن امور کے بارے میں تمہیں خبر دے رہا ہوں ان کی تصدیق، اوامر کی اتباع اور نواہی سے اجتناب کر کے، اس راستے پر گامزن ہوجاؤ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ یہ حقیقت استقامت ہے اور پھر اس پر قائم رہو۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (الیہ) میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے، یعنی عمل کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچنا قرار دے، اس طرح اس کا عمل خالص، صالح اور نفع مند ہوگا اور اخلاص کی عدم موجودگی سے اس کا عمل باطل ہوجائے گا اور چونکہ بندہ، خواہ وہ استقامت کا کتنا ہی حریص کیوں نہ ہو، مامورات میں تقصیر منہیات کے ارتکاب کی بنا پر خلل کا شکار ہوجاتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو استغفار کی دوا کے استعمال کا حکم دیا ہے، جو توبہ کو متضمن ہے، لہٰذا فرمایا : (آیت) ” اور اس سے مغفرت طلب کرو۔ “ پھر ترک استقامت پر اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی، چناچہ فرمایا : (آیت) ” مشرکین کے لئے ہلاکت ہے جو زکوۃ نہیں دیتے۔ “ یعنی جو اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی کو نفع و نقصان دینے کا اختیار رکھتی ہیں نہ موت وحیات کا اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا۔ انہوں نے اپنے آپ کو گندگی میں دھن اس لیا ہے اور وہ اپنے رب کی توحید اور اخلاص کے ذریعے سے اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے، وہ نماز پڑھتے ہیں نہ زکوۃ دیتے ہیں اور وہ توحید اور نماز کے ذریعے سے اپنے رب کے لئے اخلاص رکھتے ہیں نہ زکوۃ کے ذریعے سے مخلوق کو نفع پہنچاتے ہیں۔ (آیت) ” اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں۔ “ یعنی وہ حیات بعد الموت پر ایمان رکھتے ہیں نہ جنت اور جہنم پر، اس لئے جب ان کے دلوں سے خوف زائل ہوگیا تو انہوں نے ایسے ایسے کام کئے ہیں جو آخرت میں انہیں سخت نقصان دیں گے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان کے اوصاف اور ان کی جزا کا ذکر فرمایا : (آیت) ” بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے “ یعنی اس کتاب پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر کتاب مشتمل ہے اور ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی جو اخلاص للہ اور متابعت رسول کے جامع ہیں۔ (آیت) ” ان کے لئے ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ “ یعنی ان کے لئے اجر عظیم ہے جو کبھی منقطع ہوگا نہ ختم ہوگا بلکہ وہ ہمیشہ رہے گا اور ہر گھڑی بڑھتیا ہی چلا جائے گا۔ یہ اجر ہر قسم کی لذات و مشتہیات پر مشتمل ہوگا۔
Ayahs 41:9–12آیت 9
اللہ تبارک و تعالیٰ تعجب کے ساتھ کفار کے کفر کا انکار کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ہر سر گھڑ رکھے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا ہوا ہے، ان کی عبادت کرتے ہیں، انہیں رب عظیم اور مالک کریم کے برابر گردانتے ہیں، جس نے اتنی بڑی زمین کو صرف دو دن میں پیدا کیا، پھر دو دن میں اس کو ہموار کیا، اس کے اندر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اسے مٹنے، ہلنے اور عدم استقرار سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کی تکمیل کی، پھر پھیلا کر ہموار کیا، اس میں سے خوراک اور اس کی توابعات نکالیں (آیت) ” چار دن میں، سوال کرنے والوں کے لئے یکساں ہے۔ “ یہ اس بارے میں سوال کرنے والوں کے لئے ٹھیک ٹھیک جواب ہے۔ تجھے یہ خبر ایک خبردار ہستی کے سوا کوئی نہیں دے سکتا ہے اور یہ ایسی سچی خبر ہے جس میں کوئی کمی ہے نہ بیشی۔
(ثم) یعنی زمین کی تخلیق کے بعد (استوی) قصد کیا (الی السمآء) آسمان کی تخلیق کا (وہی دخان) ” اور وہ دھواں تھا “ جو اپنی کی سطح پر اٹھ رہا تھا۔ (فقال لھا) ” پس آسمان سے کہا “ چونکہ اس میں اختصاص کا وہم تھا اس لئے اس پر اپنے اس فرمان کا عطف ڈالا : (آیت) ” اور زمین سے کہ دونوں آؤ ! خوشی سے یا ناخوشی سے۔ “ یعنی میرے حکم کی طوعاً یا کرھاً تعمیل کرو یہ نافذ ہو کر رہے گا۔ (قالتا اتینا طآئعین) ” دونوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں۔ “ ہمارا ارادہ تیرے ارادے کی مخالفت نہیں کرسکتا۔ (آیت) ” پھر دو دن میں است آسمان بنائے۔ “ پس آسمانوں اور زمین کی تخلیق چھ دنوں میں مکمل ہوگئی۔ پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت تمام کائنات کو ایک لمحے میں تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی مگر وہ قدرت رکھنے کے ساتھ ساتھ رفق اور حکمت والا بھی ہے یہ اس کی حکمت اور رفق ہی ہے کہ اس نے اس کائنات کی تخلیق اس مقرر مدت میں کی۔
معلوم ہونا چاہیے کہ اس آیت کریمہ اور سورة النازعات کی آیت (آیت) ” اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا۔ “ میں بظاہر تعارض دکھائی دیتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کوئی تعارض ہے نہ اختلاف۔ سلف میں بہت سے اہل علم نے اس کا جواب دیا ہے کہ زمین کی تخلیق اور اس کی صورت گری آسمانوں کی تخلیق سے متقدم ہے، جی اس کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے اور زمین کو پھیلانا کہ (آیت) ” اس نے اس میں سے اس کا پانی جاری کیا اور چارہ اگایا، پھر اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا۔ “ آسمانوں کی تخلیق سے متاخر ہے جی اس کہ سورة النازعات میں آتا ہے، اس لئے فرمایا (آیت) ” اور اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا : (والارض بعد ذلک خلقھا)
(آیت) ” اور ہر آسمان کی طرف اس کے کام کا حکم بھیجا۔ “ یعنی ہر آسمان کے لائق امروتد بیروحی کی جو احکم الحاکمین کی حکمت کا تقاضا تھا۔ (آیت) ” اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ذریعے سے مزین کیا۔ “ اس سے مراد ستارے ہیں جن سے روشنی اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے اور ظاہری طور پر یہ ستارے آسمان کی زینت اور خوبصورت ہیں (وحفظا) اور باطنی طور پر شیاطین سے حفاظت کے لئے ان کو شہاب ثاقب بنایا ہے تاکہ وہ آسمانوں سے سن گن نہ لے سکیں۔ (ذلک) ” یہ “ یعنی زمین، آسمانوں اور ان میں جو کچھ ہے، سب کا یہ مذکورہ انتظام (تقدیر العزیز العلیم) ” منصوبہ ہے ایک زبردست ہستی کا جو علیم بھی ہے۔ “ یعنی زبردست ہستی کا مقرر کردہ انداز ہے جو اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر تمام اشیا پر غالب ہے اور ان کی تدبیر کر رہی ہے اور اس نے اپنی قوت اور غلبے سے تمام مخلوقات کو تخلیق کیا۔ (العلیم) جس کے علم نے غائب اور شاہد، تمام مخلوقات کا اپنے علم کے ساتھ احاطہ کر رکھا ہے۔ پس مشرکین کا اس رب عظیم اور واحد قہار کے لئے اخلاص کو ترک کردینا، جس کے سامنے تمام مخلوق سرافگندہ ہے اور تمام کائنات پر اس کی قدرت نافذ ہے، سب سے زیادہ تعجب انگیز چیز ہے۔ پھر خود اسختہ معبود بنانا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دینا، حالانکہ وہ اپنے اوصاف و افعال میں ناقص ہیں، اس سے بھی عجیب تر ہے۔ اگر یہ اپنی روگردانی پر جمے رہے تو دنیاوی اور آخروی عذاب کے سوا ان کا کوئی علاج نہیں، اس لئے ان کو ڈراتے ہوئے فرمایا :
Ayahs 41:13–15آیت 13
یعنی اگر یہ مکذبین اس کے باوجود بھی اعراض کریں، حالانکہ ان کے سامنے قرآن کے اوصاف حمیدہ اور رب عظیم کی صفات جلیلہ بیان کی جا چکی ہے (فقل انذرتکم صعقۃ) تو کہہ دیجئے : میں تمہیں ایسی کڑک سے ڈراتا ہوں “ جو کہ عذاب ہے وہ تمہاری جڑ کاٹ کر رکھ دے (مثل صعقۃ عاد وثمود) ” جیسی کڑک قوم عاد اور ثمود پر گری تھی “۔ عاد اور ثمودیہ دو معروف قبیلے تھے، ان پر ٹوٹنے والے عذاب نے ان کو ملیا میٹ کرکے رکھ دیا تھا اور انہیں سخت سزا دی گئی، یہ سب کچھ ان کے ظلم اور کفر کے باعث تھا۔
(اذ جاء تھم الرسل مم بین ایدیھم و مم خلفھم) ” جب ان کے پاس رسول ان کے آگے سے اور پیچھے سے آئے “۔ یعنی یکے بعد دیگرے لگاتار رسول آئے، ان تمام رسولوں کی دعوت ایک تھی (الا تعبدوا الا اللہ) ” کہ اللہ کی سوا کسی کی عبادت نہ کرو “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کا حکم دیتے تھے اور شرک سے روکتے تھے، مگر انہوں نے انبیائے کرام کی دعوت کو رد کرتے ہوئے ان کی تکذیب کی اور کہنے لگے : (لوشاء ربنا لانزل ملکۃ) ” اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتار دیتا “۔ رہے تم، تو تم ہماری ہی طرح بشر ہو (فانا بما ارسلتم بہ کفرون) ” پس تم جو دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے “۔ یہ شبہ تمام کافر قوموں میں نسل در نسل متوارث چلا آرہا ہے اور یہ انتہائی کمزور شبہ ہے کیونکہ راسلت کے لئے یہ شرط نہیں کہ جس کو رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہو وہ فرشتہ ہو۔ راسلت کی شرط صرف یہ ہے کہ رسول ایسی چیز پیش کرے جو اس کی صداقت کی دلیل ہو، لہٰذا اگر وہ کرسکتے ہوں تو ان کو چاہیے کہ وہ عقلی اور شرعی دلائل کی بنیاد پر جرح و قدح کریں، لیکن وہ ایسا نہیں کرسکیں گے۔
Ayah 41:16آیت 16
یہ ان مذکورہ بالا دو قوموں، یعنی عادوثمود کا مفصل قصہ ہے۔ فرمایا : (فاما عاد) قوم عاد اپنے کفر، آیات الٰہی اور انبیاء ومرسلین کی تکذیب کے ساتھ ساتھ زمین پر تکبر کے ساتھ رہتے تھے۔ اپنے اردگرد بندگان الٰہی پر قہر اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے تھے، ان کی قوت نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا (وما امن اشد منا قوۃ) ” اور وہ کہتے تھے : بھلا ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا جواب دیا جسے ہر شخص جانتا ہے۔ (اولم یروا ان اللہ الذی خلقھم ہو اشد منھم قوۃ) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے ان کو پیدا کیا، وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے “۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو تخلیق نہ کرتا تو وہ کبھی وجود میں نہ آسکتے اگر وہ اپنے اس حال پر صحیح طریقے سے غور کرتے تو کبھی اپنی طاقت کے فریب میں مبتلا نہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی سزا دی جو ان کی اس قوت سے عین مناسبت رکھتی تھی جس کی وجہ سے وہ مغرور تھے۔
(فارسلنا علیھم ریحا صرصرا) یعنی ہم نے ان پر انتہائی سخت طوفانی آندھی بھیجی جس میں بجلی کی کڑک کی مانند سخت ہولناک آواز تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس طوفانی ہوا کو ان پر (سبع لیال و ثمینۃ ایام حسوما فتری القوم فیھا صرعی کانھم اعجاز نخل خاویۃ) (الحاقہ : 69/8) ” لگاتاراست رات اور آٹھ دن تک چلائے رکھا، اس ہوا میں تو ان لوگوں کو اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھتا گویا وہ کھجوروں کے خالی تنے ہیں “۔ (نحاست) یعنی یہ دن ان کے لئے منحوس تھے۔ اس ہوا نے ان کو ہلاک کرکے تباہ و برباد کردیا اور ان کی یہ حالت ہوگئی کہ ان کے اجڑے ہوئے گھروں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ (لنذیقھم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا) ” تاکہ ہم انہیں دنیا کی زندگی ہی میں رسوائی کا عذاب چکھائیں “۔ اس عذاب کی وجہ سے انہوں نے مخلوق میں فضیحت اور رسوائی کا اسمنا کیا۔ (ولعذاب الاخرۃ اخزی وھم لاینصرون) ” اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور ان کی مدد نہیں کی جائے گی “۔ کوئی ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو روک سکے گا نہ وہ اپنے آپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکیں گے۔
Ayahs 41:17–23آیت 17
(واماثمود) اور رہے ثمود تو یہ ایک معروف قبیلہ ہے جو حجر اور اس کے اردگرد کے علاقے میں آباد تھا۔ جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو ان کے رب کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک سے روکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزے کے طور پر اونٹنی عطا کی، جس کے لئے پانی پینے کا ایک دن مقرر تھا۔ ثمود کے لوگ ایک دن اس اونٹنی کا دودھ پیتے تھے اور ایک دن پانی پیتے تھے اور اس پر انہیں کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ اونٹنی اللہ کی زمین پر چر کر گزارہ کرتی تھی، اس لئے ثمود کے بارے میں فرمایا : (و اما ثمود فھدینھم) ” جو ثمود تھے، ہم نے انہیں سیدھا راستہ دکھایا “۔ یہاں ہدایت سے مراد ہدایت بیان ہے۔ ہرچند کہ ہلاکت کا شکار ہونے والی تمام امتوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی اور راہ راست ان کے سامنے واضح کردی گئی، مگر اللہ تعالیٰ نے ثمود کے لئے ہدایت کا ذکر اس لئے کیا، کیونکہ ان کو بہت بڑا معجزہ عطا کیا گیا تھا۔ اس معجزے کو ان کے بچوں، بوڑھوں، مردوں اور عورتوں سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ہدایت اور بیان کا خاص طور پر ذکر فرمایا، مگر انہوں نے اپنے شر اور ظلم کی وجہ سے ہدایت، یعنی علم و ایمان کی بجائے، اندھے پن، یعنی کفر اور گمرہای کو پسند کیا تو جو کچھ وہ کمایا کرتے تھے اس کی وجہ سے انہیں عذاب نے پکڑ لیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کا ظلم نہ تھا۔ (ونجینا الذین امنوا گانوا یتقون) ” اور ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے اور (نافرمانی سے) بچتے رہے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی اتباع کرنے والے ان مومنین کو نجات دی جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔
Ayah 41:24آیت 24
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دشمنوں کے بارے میں خبر دیتا ہے، جنہوں نے اس کے ساتھ اور اس کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب اور ان کے خلاف جنگ کی کہ قیامت کے روز ان کا کتنا برا حال ہوگا۔ ان کو اکٹھا کیا جائے گا (الی النار فھم یوزعون) ” آگ کی طرف، پس وہ روکے جائیں گے “۔ ان کے پہلے شخص کو آخری شخص کے آنے تک روکے رکھا جائے گا اور آخری شخص پہلے شخص کی پیروی کرے گا، پھر نہایت سختی کے ساتھ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ وہ جہنم سے بچ نہیں سکیں گے۔ وہ اپنی مدد خود کرسکیں گے نہ ان کی مدد کی جاسکے گی۔ (حتی اذا ماجاء وھا) یعنی جب وہ سب جہنم میں وارد ہوں گے اور اپنی بداعمالیوں کا انکار کرنے کا ارادہ کریں گے (شھد علیھم سمعھم و ابصارھم و جلودھم) ” تو ان کے کان، ان کی آنکھین اور ان کے چمڑے ان کے خلاف شہادت دیں گے “۔ یہ خصوص کے بعد عموم ہے۔ (بم گانو یعملون) ” ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے “۔ یعنی ان کا ہر ہر عضوان کے خلاف گواہی دے گا۔ ان کا ہر ہر عضو یہ کہے گا : ” میں نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا “۔ پھر ان تین اعضا کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ اکثر گناہوں کا ارتکاب یہی تین اعضا کرتے ہیں، یا انہی کے سبب سے اکثر گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔
جب یہ اعضا ان کے خلاف گواہی دیں گے تو یہ ان اعضا پر سخت ناراض ہوں گے۔
(وقالوا لجلودھم)
” اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے “: یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہر عضو کی طرف سے گواہی واقع ہوگی جی اس کہ ہم ذکر کرچکے ہیں۔ (لم شہدتم علینا) ” تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ “ حالانکہ ہم تمہارا دفاع کیا کرتے تھے (قالو انطقنا اللہ الذی انطق کل شی) ” تو وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے قوت گویائی بخشی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی۔ “ لہٰذا گواہی دینے سے انکار کرنا ہمارے لئے ممکن نہین، اس کی مشیت کے سامنے کسی چیز کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ (وھوخلقکم اول موۃ “ اور اس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا “ جس طرح اس نے تمہاری ذظات و اجاسم کو تخللیق فرمایا اسی طرح تمہاری صفات کو بھی تخلیق فرمایا اور گویائی بھی انہی صفحات میں سے ایک صفت ہے۔ (والیہ رجعون) ” اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے “۔ پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد تخلیق اول کے ذریعے سے مرنے کے عبد زندہ کئے جانے پر استدلال ہو۔ جی اس کہ قرآن کریم کا طریقہ ہے۔ (آیت) ” اور (گناہ کرتے وقت) تم اس بات کے خوف سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے۔ “ یعنی تم اپنے اعضا کی گواہی سے اپنے آپ کو چھپا سکتے ہو نہ اس سے بچ سکتے ہ۔ (ولکن ظنتم) ” لیکن تم یہ سمجھتے رہے “ گناہوں کا ارتکاب کر کے (آیت) ” بیشک اللہ کو تمہارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں۔ “ اسی لئے تم سے یہ گناہ صادر ہوئے۔
ان کا یہ گمان ان کی ہلاکت اور بدبختی کا سبب بنا، اس لئے فرمایا : (آیت) ” تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے متعلق کر رکھا تھا ‘ یعنی تم نے اپنے رب کے بارے میں براگمان کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھا۔ (اردئکم) ” وہی تمہیں لے ڈوبا۔ “ یعنی اس نے تمہیں ہلاک کردیا۔ (آیت) ” لہٰذا تم خاسرہ پانے والوں میں ہوگئے۔ ‘ تم نے اپنے اعمال کے سبب سے، جن کا موجب اپنے رب کے بارے میں تمہارا براگمان تھا، اپنے آپ کو، اپنے گھر والوں اور اپنے دین کو خاسرے میں ڈالا۔ بنا بریں تم عذاب اور بدبختی کے مستحق ٹھہرے اور تمہارے لئے عذاب جہنم میں دائمی خلود واجب ہوا۔ یہ عذاب ایک گھڑی کے لئے بھی تم سے علیحدہ نہ ہوگا۔
فان یصربوا فالنار مثوی لھم) ” اب اگر یہ صبر کریں (یا نہ کریں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ “ اسپر کسی بھی حالت میں صبر نہیں ہوگا۔ اگر کسی حال میں صبر کا امکان فرض کرلیا جائے تاہم آگ کے سامنے صبر کرنا ممکن نہیں اور اس آگ پر صبر کرنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے جس کی حرارت بےانتہا شدید ہے، اس کی حرارت دنیا کی آگ کی حرارت سے ستر گنا زیادہ ہے۔ اس کا پانی شدید گرم ہوگا، اس کی پیپ بےانتہا بدبو دار ہوگی، جہنم کے ٹھنڈے طبقے کی ٹھنڈک کئی گنا زیادہ ہوگی، اس کی زنجیریں، طوق اور گرز بہت بڑے ہوں گے۔ اس کے داروغے نہایت درشت مزاج ہوں گے اور ان کے دلوں سے ہرق سم کا رحم نکل چکا ہوگا اور آخری چیز یہ کہ جبار کی سخت ناراضی ہوگی، چناچہ جب وہ اسے مدد کے لئے پکاریں گے تو وہ فرمائے گا : (آیت) ” دفع ہوجاؤ، اسی میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔ “
(آیت) ” اگر وہ توبہ کرنا چاہیں “ یعنی اگر وہ عتاب الٰہی کا ازالہ چاہتے ہوئے درخواست کریں گے کہ انہیں دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے تاکہ وہ نئے سرے سے عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراض کو دور کرسکیں (فماھم من المتعتبین) ” تو ان کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔ “ کیونکہ اس کا وقت گزر چکا ہوگا۔ اس گزرے ہوئے عرصے کے دوران ان کو غور و فکر کا موقع دیا گیا اور انکے پاس برے انجام سے خبردار کرنے والے بھی آئے۔ ان کی حجت منقطع ہوگئی، نیز ان کی عتاب دور کرنے کی التجا بھی محض جھوٹ ہے۔ (آیت) ” اگر ان کو لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا اور بیشک یہ جھوٹے ہیں۔ “
Ayah 41:25آیت 25
یعنی ہم نے حق کا انکار کرنے والے ان ظالموں کے لئے (قرنآء) ” ہم نشین “ شیاطین کو ساتھی مقرر کردیا ہے۔ جی اس کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” کیا آپ دیکھتے نہیں ہم کفار کی طرف شیاطین کو بھیجتے ہیں جو انہیں برائی پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔ ‘ یعنی وہ انہیں گناہ کا ارتکاب کرنے کے لئے بےقرار رکھتے ہیں اور ان کو بہکاتے رہتے ہیں۔
اس کا سبب یہ ہے کہ ان شیاطین نے مزین کردیا (لھم مابین ایدیھم وما خلفھم) ” ان کے لئے جو ان کے آگے تھا اور جو ان کے پیچھے تھا ‘ پس ان شیاطین نے دنیا اور اس کی خوبصورتی کو ان کی آنکھوں کے سامنے مزین کردیا اور انہیں اس کی لذات و شہوات محرمہ کے حوالے کردیا، یہاں تک کہ وہ فتنے میں مبتلا ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا اقدام کیا اور جیسے چاہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے خلاف جنگ کی راہ چل نکلے اور انہوں نے آخرت کو ان سے دور کردیا اور اس کی یاد کو فراموش کرا دیا۔ باس اوقات آخرت کے وقوع کے بارے میں ان کے دلوں میں شبہات پیدا کئے جس سے ان کے دلوں سے آخرت کا خوف چلا گیا اور وہ ان کو لے کر کفر، بدعات اور معاصی کی راہوں پر گامزن ہوگئے۔
اللہ تعالیٰ کا ان مکذبین حق پر شیاطین کو مسلط کرنا، ان کی اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی آیات سے روگردانی اور ان کے انکار حق کے سبب سے ہے جی اس کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور جو شخص رحمان کے ذکر سے غفلت برتتا ہے تو ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں جو اس کا ساتھی ہوتا ہے۔ یہ شیاطین انہیں راہ راست پر چلنے سے روک دیتے ہیں جبکہ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ بیشک وہ راہ راست پر چل رہے ہیں۔ “ (وحق علھم القول) ” اور ان پر حکم الٰہی ثابت ہوگیا “ یعنی اللہ تعالیٰ کا قول ان پر واجب ہوگیا اور اس کی قضا و قدر کا فیصلہ، عذاب کے ساتھ ان پر نازل ہوگیا۔ (فی ام قد خلت من قبلھم من الجن والانس انھم کانوا خسرین) ” جنوں اور اناسنوں کی جماعتوں میں جو ان سے پہلے گزر چکیں (جن پر بھی اللہ کا وعدہ پورا ہوا) کہ بیشک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ “ جو اپنے دین اور آخرت کے بارے میں گھاٹے میں پڑگئے اور جو شخص گھاٹے میں پڑجائے تو اسے ذلت اور عذاب کا اسمنا کرنا پڑتا ہے۔
Ayahs 41:26–29آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کے بارے میں کفار کی روگردانی اور اس روگردانی کے ضمن میں ان کی ایک دوسرے کو وصیت سے آگاہ فرماتا ہے : (آیت) ” اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں : اس قرآن کو نہ سنو “ یعنی اس قرآن کو سننے سے گریز کرو، اس کی طرف کوئی التفات کرو نہ اس کے لانے والے کی بات کی طرف کوئی توجہ دو ۔ اگر تمہیں اس کے سننے کا کبھی اتفاق ہو یا اس کے احکام سننے کی دعوت دی جائے تو اس کی مخالفت کرو۔ (والغوافیہ) ”(جب پڑھا جائے تو) خوب شو مچاؤ “ یعنی ایسی باتیں کرو جن کا کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ الٹا نقصان ہو۔ جہاں تک تمہارے بس میں ہو کسی کو اپنے ساتھ، قرآن کی بات کرنے اور اس کے الفاظ یا اس کے معانی کی تلاوت کی اجازت نہ دو ۔ اس قرآن مجید سے اعراض کے بارے میں یہ ان کی زبان حال اور زبان مقال ہے۔
(لعلکم) ” تاکہ تم “ اگر تم نے یہ سب کچھ کیا (تعلبون) ” تم غالب رہو “ یہ دشمنوں کی طرف سے گواہی ہے اور واضح ترین حق وہ ہوتا ہے جس کی گواہی خود دشمن دیں کیونکہ انہوں نے اس شخص پر، جو حق لے کر آیا، اپنے غلبے کا حکم صرف اعراض اور روگردانی کے حال میں ایک دوسرے کو روگردانی کی وصیت کی صورت میں لگایا۔ ان کے کلام کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اس کی تلاوت میں خلل نہ ڈالیں اور اسے غور سے سنیں تو وہ کبھی غالب نہیں آسکتے کیونکہ حق ہمیشہ غالب رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوسکتا۔ اس حقیقت کو اصحاب حق اور اعدائے حق سب جانتے ہیں۔ چونکہ یہ سب کچھ ان کے ظلم اور عناد کے باعث تھا، اس لئے ان کی ہدایت کی توقع باقی نہیں رہی اب ان کے لئے عذاب اور سزا باقی رہ گئی تھی، بنا بریں فرمایا : (آیت) ” پس ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی، جو وہ کرتے تھے، سزا دیں گے۔ “ اس سے مراد کفر اور معاصی ہے اور یہ ان کے بدترین اعمال ہیں۔ یہ عذاب کی سزا ان کے شرک کی جزا ہے۔ (آیت) ” اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ “ (آیت) ” اللہ کے دشمنوں کی یہی سزا ہے “ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کی اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے ساتھ جنگ کی ان کی جزا، ان کے کفر، تکذیب، مجادلہ اور جنگ کے سبب سے (النار لھم فیھا دار الخلد) ” جہنم کی آگ ہے جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے۔ “ یعنی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے گھڑی بھر کے لئے ان سے عذاب دور ہوگا نہ ان کی مدد ہی کی جائے گی۔ (آیت) ” یہ اس بات کی سزا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔ “ کیونکہ یہ نہایت واضح آیات اور قطعی دلائل ہیں جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں، لہٰذا ان کا انکار کرنا سب سے بڑا عناد اور سب سے بڑا ظلم ہے۔ (وقال الذین کفروا) ” اور کافروں نے کہا :“ اس سے مراد متبعین ہیں اور اس کی دلیل بعد میں آنے والا کلام ہے، یعنی یہ کفار ان لوگوں پر سخت غصے کی وجہ سے یہ بات کہیں گے جنہوں نے ان کو گمراہ کیا : (آیت) ” اے ہمارے رب ! ہمیں جنوں اور اناسنوں میں سے وہ لوگ دکھلا دے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ “ یعنی جن و انس کی دونوں اصناف، جنہوں نے گمراہی اور عذاب کی طرف ہمیں دعوت دی اور اس راہ میں ہماری قیادت کی، وہ ہمیں دکھا۔ (آیت) ” ہم انہیں اپنے پاؤں تلے روند ڈالیں، تاکہ وہ سب سے زیادہ ذلیل و خوار لوگوں میں شمار ہوں۔ “ انہوں نے ہمیں گمراہ کیا، ہمیں فتنے میں مبتلا کیا اور ہمیں جہنم میں ڈالنے کا سبب بنے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جہنمی ایک دوسرے کے خلاف سخت بغض رکھیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
Ayahs 41:30–34آیت 30
اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کا ذکر فرماتا ہے اور اس ضمن میں اہل ایمان میں نشاط پیدا کرتا اور انہیں ان کی اقتدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے، چناچہ فرمایا : (آیت) ” بیشک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ڈٹ گئے “ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اعتراف کر کے اس کا اعلان کیا، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر راضی ہوئے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیا پھر علم و عمل کے اعتبار سے راہ راست پر استقامت کے ساتھ گامزن ہوئے ان کے لئے دنیا و آخرت میں خوشخبری ہے۔ (تتنزل علیھم الملئکۃ) ” ان پر (نہایت عزت و اکرام والے) فرشتے نازل ہوتے ہیں “ یعنی ان کا نزول بتکرار وہتا ہے۔ وہ ان کے پاس حاض رہو کر خوشخبری دیتے ہیں (آیت) ” نہ ڈرو “ یعنی اس معاملے پر خوف نہ کھاؤ جو مستقبل میں تمہیں پیش آنے والا ہے (آیت) ” اور نہ غمگین رہو “ یعنی جو کچھ گزر چکا ہے اس پر غم نہ کھاؤ۔ گویا ماضی اور مستقبل میں ان سے کسی بھی ناگوار امر کی نفی کردی گئی ہے۔ (آیت) ” اور تمہیں اس جنت کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ “ یہ جنت تمہارے لئے واجب ہوگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو پورا ہو کر رہے گا۔
وہ ثابت قدمی کے لئے ان کی ہمت بڑھاتے اور ان کو خوشخبری دیتے ہوئے یہ بھی کہیں گے : (آیت) ” ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔ “ وہ دنیا کے اندر انہیں بھلائی کی ترغیب دیتے ہیں اور بھلائی کو ان کے سامنے مزین کرتے ہیں۔ وہ ان کو برائی سے ڈراتے ہیں اور ان کے دلوں میں برائی کو قبیح بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں اور مصائب اور مقامات خوف میں ان کو ثابت قدم رکھتے ہیں۔ خاص طور پر موت کی سختیوں، قبر کی تاریکیوں، قیامت کے روز پل صراط کے ہولناک منظر کے وقت ان کی ہمت بڑھاتے ہیں اور جنت کے اندر ان سے کہیں گے (آیت) ” تم پر سلامتی ہے، دنیا میں تمہارے صبر کے سبب سے، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر ! “
نیز وہ ان سے یہ بھی کہیں گے : (ولکم فیھا) ” اور اس میں تمہارے لئے ‘ یعنی جنت کے اندر (ماتشتھی انفسکم) ” جو چیز تمہارے نفس چاہیں گے “ وہ تیار اور مہیا ہوگی۔ ” اور تمہارے لیے ہوگا جو کچھ تم طلب کرو گے “۔ یعنی لذات وشہوات میں سے جس چیز کا تم ارادہ کرو گے تمہیں حاصل ہوگی۔ ان لذات کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے قلب میں اس کا خیال گزرا ہے۔ یہ بےپایاں ثواب اور ہمیشہ رہنے والی نعمت ‘ مہمانی اور ضیافت ہے ” بخش دینے والی ہستی کہ طرف سے “۔ جس نے تمہارے گناہوں کو بخش دیا ہے ” بہت ہی رحم رنے والی ہستی کی طرف سے۔ “ جس نے تمہارے گناہوں کو بخش دیا ہے۔” بہت ہی رحم کرنے والی ہستی کی طرف سے “ جس نے تمہیں نیکیوں کی توفیق دی پھر ان نیکیوں کو قبول فرمایا۔ اس نے اپنی مغفرت سے برائی کو تم سے دور کیا اور اپنی رحمت سے تمہارا مطلوب عطا کیا۔ یہ استفہام متحقق اور ثابت شدہ نفی کے معنوں میں ہے ‘ یعنی کسی کا قول اچھا نہیں ] یعنی کسی کا کلام طریقہ اور حال اس شخص سے بڑھ کر اچھا نہیں ” جس نے اللہ کی طرف بلایا ‘ جو جہلا کو تعلیم کے ذریعے سے غافلین اور اعراض کرنے والوں کو وعظ نصیحت کے ذریعے سے اور اہل باطل کو بحث وجدال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعوت دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ ی تمام انواع کی عبادت کا حکم اور اس کی ترغیب دیتا ہے اور جیسے بھی ممکن ہو اس عبادت کی تحسین کرتا ہے اور ہر اس چیز پر زجروتوبیخ کرتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہو اور ہر اس طریقے سے اس کی قباحت بیان کرتا ہے جو اس کے ترک کرنے کا موجب ہے۔ خاص طور پر یہ دعوت اصول دین اسلام اس کی تحسین اور اس کے دشمنوں کے ساتھ احسن طریقے سے مباحثہ ومجادلہ کی دعوت اس دعوت کے متضاد امور مثلا کفروشرک سے ممانعت امربالمعروف اور نہی عن المنکر پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی تفاصیل اس کے لامحدود جو دواحاسن اس کی کامل رحمت اس کے اوصاف کمال اور نعوت جلال کے ذکر کے ذریعے سے اس کے بندوں میں اس کی محبت پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا ہے۔ کتاب اللہ اور سنت رسول سے علم و ہدایت کے حصول کی ترغیب اور ہر طریقے سے اس پر آمادہ کرنا دعوت الی اللہ کے زمرے میں آتا ہے۔ مکارم اخلاق کی ترغیب تمام مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنا برائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا صلحہ رحمی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک سب دعوت الی اللہ کا حصہ ہے۔ مختلف مواقع حوادث اور مصائب پر حالات کی مناسبت سے عام لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا عوت الی اللہ میں شمار ہوتا ہے۔ الغرض ہر بھلائی کی ترغیب اور ہر برائی سے ترہیب دعوت الی اللہ میں شامل ہے۔
پھر فرمایا : اور نیک عمل کیے “ یعنی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرنے ہوئے اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے عمل صالح کرتا ہو ” اور کہے کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں “ یعنی جو اس کے حکموں کے تابع اور اس کی راہ پر گامزن ہیں اور یہ تمام ترصد یقین کا مرتبہ ہے جو اپنی تکمیل اور دوسروں کی تکمیل کے لیے عمل پیرا رہتے ہیں۔ انھیں انبیاء ومرسلین کی مکمل وراثت حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح گمراہی کے راستے پر چلنے والے گمراہ داعیں کا قول بدترین قول ہے۔ ان دو متباین مراتب کے درمیان جسن میں ایک اعلی علبیین کا مرتبہ اور دوسرا اسفل الاسفلین کا مرتبہ ہے اتنے مراتب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہر مرتبہ لوگوں سے معمور ہے ” اور ہر شخص کے لیے اس کے عمل کے مطابق درجہ ہے اور آپ کا رب ان اعمال سے بیخبر نہیں جو لوگ کرتے ہیں۔ “
Ayahs 41:35–38آیت نمبر (35)
” نیکی اور بدی یکساں نہیں ہوسکتیں “ یعنی نیکی اور اطاعت کا فعل جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر سرانجام دیا گیا اور بدی اور گناہ کا فعل جس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہو کبھی برابر نہیں ہوسکتے مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور مخلوق کے ساتھ برا سلوک دونوں برابر نہیں ہوسکتے اپنی ذات میں برابر ہوسکتے ہیں نہ اپنے اوصاف میں اور نہ اپنی جزا میں۔ فرمایا ” نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں۔ “
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے احاسن خاص کا ذکر فرمایا جس کا بڑا مقام ہے اور وہ ہے اس شخص کے ساتھ احاسن کرنا جس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا اس لیے فرمایا ” آپ بدی کا اسی بات سے دفاع کیجیے جو اچھی ہو “ یعنی جب کبھی لوگوں میں سے کوئی شخص آپ کے ساتھ براسلوک کرے ‘ خاص طور پر وہ شخص جس کا آپ پر بہت بڑا حق ہے مثلا عزیز و اقارب اور دوست احباب وغیرہ۔ یہ برا سلوک قول کے ذریعے سے ہو یا فعل کے ذریعے سے اس کا مقابلہ ہمیشہ حسن سلوک سے کریں۔ اگر اس نے آپ سے قطع رحمی کی ہے تو آپ اس سے صلہ رحمی کریں اگر وہ آپ پر ظلم کرے آپ اس کو معاف کریں۔ اگر وہ آپ کے بارے میں آپ کی موجودگی یا غیر موجودگی میں کوئی بات کہے تو آپ اس کا مقابلہ نہ کریں بلکہ اس کو معاف کردیں اور اس کے ساتھ انتہائی نرمی سے بات کریں۔ اگر وہ آپ سے بول چال چھوڑ دے تو آپ اس سے اچھی طرح بات کریں اور اسے کثرت سے سلام کریں۔ جب آپ اس کی برائی کے بدلے حسن سلوک سے پیش آئیں گے تو آپ کو عظیم فائدہ حاصل ہوگا ” کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھ گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے۔ “ یعنی گویا کہ وہ قریبی اور انتہائی مشفق ہے۔” اور نہیں نصیب ہوتی یہ (صفت) “ یعنی اس خصلت حمیدہ کی توفیق نہیں دی جاتی ہے ” مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں “ جو اپنے نفس کو ان امور کا پابند بناتے ہیں جنھیں ان کے نفس ناپسند کرتے ہیں اور انھیں ایسے امور پر عمل کرنے پر مجبور کرتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ نفس اناسنی کی جبلت ہے کہ وہ برائی کا مقابلہ برائی اور عدم عفو سے کرتا ہے تب وہ احاسن کیوں کرسکتا ہے ؟ جب اناسن اپنے نفس کو صبر کا پابند بنا لیتا ہے اور اپنے رب کی اطاعت کرتا ہے اور اس کے بےپایاں ثواب کو جانتا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ براسلوک کرنے والے کے ساتھ اسی جی اس سلوک کرنا اسے کچھ فائدہ نہیں دے گا اور عداوت صرف شدت سے ہی میں اضافے کا باعث ہوگی اور یہ بھی علم ہے کہ براسلوک کرنے والے کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے اس کی قدرومنزلت کم نہیں ہوگی بلکہ جو اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے رفعت عطا کرتا ہے تب معاملہ اس کے لیئے آسان ہوجاتا ہے اور وہ اس فعل کو سر انجام دیتے ہوئے لذت محسوس کرتا ہے۔
” اور یہ مقام انہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں۔ “ یہ خاص لوگوں کی خصلت ہے جس کے ذریعے سے بندے کو دنیا وہ آخرت میں رفعت عطا ہوتی ہے اور یہ مکارم اخلاق میں سب سے بڑی خصلت ہے۔