Ayahs 41:1–41:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حم ٓ السجدہ مکہ میں نازل ہوئی۔
2:۔ ابن مردویہ نے ابن زبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابویعلی وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) و ابونعیم (رح) و بیہقی (رح) (کلاھمافی الدلائل) وابن عساکر (رح) نے جابربن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک دن قریش اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے دیکھو تم سے کون جادو کو کھانا کو اور شعر کو زیادہ جانتا ہے۔ ؛ وہ اس آدمی کے پاس جائے جس نے ہماری جماعت میں جدائی ڈال دی اور ہماری قوت کو کمزور کردیا اور ہمارے دین میں عیب لگایا ہم نے سوچا ہے کہ اس سے بات کی جائے پھر دیکھو کہ وہ کیا جواب دیتا ہے۔ انہوں نے کہا عتبہ بن ربیعہ کے سوا ہم کسی کو نہیں جانتے۔ (یعنی وہی ان سے بات کرے) انہوں نے کہا اے والید ! تو ہی ان سے بات کر وہ آیا اور کہا : اے محمد ! تو بہتر ہے یا عبداللہ (بہتر ہے ؟ ) تو بہتر ہے یا عبدالمطلب ؟ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے پھر اس نے کہا اگر آپ یہ گمان کرتے ہیں یہ لوگ آپ سے بہتر تھے تو انہوں نے (ہمارے) معبودوں کی عبادت کی۔ کہ جن معبودوں کے تم عیب نکالتے ہو اور اگر آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ آپ سے بہتر ہیں تو آپ بات کریں یہاں تک کہ ہم آپ کی بات کو سنیں اللہ کی قسم ! ہم نے کبھی چکور کا بچہ نہیں دیکھا جو تجھ سے بڑھ کر اپنی قوم کے لئے منحوس ہو تو نے ہماری جماعت میں تفریق ڈال دی ہماری قوت کو منتشر کردیا، اور ہمارے دین میں عیب لگا دیا، اور عرب میں ہم کو رسوا کردیا یہاں تک کہ ان میں یہ بات پھیل گئی کہ قریش میں ایک جادوگر ہے۔ اور قریش میں ایک کاہن ہے اللہ کی قسم ! ہم انتظار کررہے ہیں حمل عورت جیسی چیخ کا ہمارا بعض بعض کی طرف تلواروں کے ساتھ کھڑا ہوجائے اے آدمی (یعنی محمد ﷺ اگر تجھے کچھ (پیسوں کی حاجت ہو تو ہم تیرے لئے (اتنا) جمع کردیں گے کہ تو قریش کے مالدار لوگوں میں سے ایک آدمی ہوجائے گا اور اگر تیری عورتوں کے لئے خواہش بڑھ گئی تو قریش کی عورتوں میں سے جس کو تو چاہے چن لے۔ ہم تیری اس سے شادی کردیں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (کیا) تو اپنی بات سے فارغ ہوگیا اس نے کہا ہاں ! تو رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت) پڑھی ” بسم اللہ الرحمن الرحیم حم ٓ (1) تنزیل من الرحمن الرحیم (2) کتب فصلت ایتہ قرانا عریبا لقوم یعلمون “ حتی کہ یہاں تک پہنچے ” فان اعرضوا فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود (13) عتبہ نے کہا آپ کو (اتنا پڑھنا) کافی ہے۔ اس کے علاوہ آپ کے پاس کچھ نہیں ؟ آپ نے فرمایا نہیں عتبہ قریش کی طرف لوٹ آیا تو انہوں نے پوچھا کیا چھوڑآئے ہو (یعنی کیا جواب دیا) اس نے کہا میں نے کوئی ایسی چیزکو نہیں چھوڑآیا میرا خیال ہے کہ جس کے بارے میں تم باتیں کرتے ہو مگر ایک ہی بات قریش نے پوچھا کیا اس نے تیری بات مان لی اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے فطرت بنائی اس نے جو کچھ کہا ہے میں اس کے سوا کچھ نہیں سمجھ سکا اس نے کہا (آیت ) ” انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود “ انہوں نے کہا وہ تجھ سے عربی میں گفتگو کررہا تھا اور تو یہ بھی نہ سمجھ سکا کہ اس نے کیا کہا، اس نے کہا کچھ بھی نہیں اللہ کی قسم جو کچھ میں نے ذکر کیا میں صائقہ کے ذکر کے سوا کچھ بھی نہ سمجھ سکا۔
ابوالولید کی ملاقات اور قرآن کے بارے میں شہادت :
4:۔ ابن اسحاق وابن المنذر (رح) و بیہقی (رح) فی دلدلائل وابن عساکر (رح) نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ مجھے یہ بات بتائی گئی عتبہ بن ربیعہ حلم کے لحاظ سے قریش میں سب سے زیادہ سخت تھا اس دن اس نے کہا اور وہ قریش کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اور رسول اللہ ﷺ اکیلے مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے عتبہ کہنے لگا اے قریش کی جماعت میں ان کی طرف جاتا ہوں اور ان سے بات کرتا ہوں میں اس پر چند باتیں پیش کروں گا شاید کہ وہ اس میں سے بعض کو قبول کرلیں اور ہم سے رک جائیں قریش والوں نے کہا ہاں اے ابوالولید (یہ عتبہ کی کنیت ہے) ٹھیک ہے۔ عتبہ کھڑا ہوا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آبیٹھا پھر اس حدیث کو ذکر کیا پھر ان باتوں کا ذکر کیا جو عتبہ نے ان سے کیں جو آپ کو مال بادشاہت اور دوسری چیزوں کی پیش کش کی۔ یہاں تک کہ جب عتبہ فارغ ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے ابوالولید ! کیا تو (اپنی بات سے) فارغ ہوگیا اس نے کہا ہاں آپ نے فرمایا مجھ سے سن لے اس نے کہا سنائیے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت) پڑھی ” بسم اللہ الرحمن الرحیم حم ٓ (1) تنزیل من الرحمن الرحیم (2) کتب فصلت ایتہ قرانا عریبا لقوم یعلمون “ (3) جب عتبہ نے اس کو سنا تو خاموش ہوگیا اور اپنے ہاتھوں کو اپنی پشت پر رکھ لئے اور اس پر سہارا لیتے ہوئے وہ سنتا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سجدہ کی آیت تک پہنچے اور آپ نے سجدہ بھی فرمایا پھر فرمایا اے ابوالولید کیا تو نے سن لیا اس نے کہا میں نے سن لیا فرمایا تو جا، عتبہ اپنے ساتھیوں کی طرف گیا ان کے بعض نے بعض سے کہا ہم اللہ کی قسم ! کھاتے ہیں جس چہرے کے ساتھ ابوالولید گیا تھا اس سے مختلف چہرے کے ساتھ واپس آیا ہے تو ان لوگوں نے پوچھا اے ابوالولید ! کیا چھوڑ آئے اس نے کہا اللہ کی قسم ! میں نے ایسا کلام سنا ہے کہ اس طرح کا کلام میں نے کبھی نہیں سنا اللہ کی قسم ! نہ وہ شعر ہے، نہ وہ جادو ہے، اور نہ وہ کہانت ہے۔ اللہ کی قسم ! البتہ وہ ضرور (کامیاب) ہوجائیں گے میں نے جو بات ان سے سنی ہے۔
5:۔ ابونعیم (رح) و بیہقی (رح) (کلاھما فی الدلائل) ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے عتبہ بن ربیعہ پر یہ آیت حم ٓ (1) تنزیل من الرحمن الرحیم (2) “ پڑھی تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا : اے میری قوم ! آج میری اطاعت کرو اور اس کے بعد میری نافرمانی نہ کرنا اللہ کی قسم میں نے اس آدمی (یعنی محمد ﷺ سے ایسا کلام سنا ہے کہ میں نے اس طرح کا کلام کبھی کسی سے نہ سنا، اور میں نہیں جانتا تھا کہ میں اسے کیا جواب دوں۔
6:۔ بیہقی (رح) نے (دلائل میں) ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مصعب بن عمیر کو بھیجا وہ بنو غنم میں اسعد بن زرارہ کے پاس ٹھہرے انہوں نے لوگوں کو بلانا شروع کیا سعد بن معاذ آئے اور ان کو دھمکایا اسعد بن زرارہ نے سعد سے کہا اس کی بات سنو اگر تو اس میں کوئی برائی دیکھے اسے رد کردینا، اور اگر تو اس سے سچی بات سنے تو اس کو قبول کرلینا پھر اس نے پوچھا تو کیا کہتا ہے ؟ مصعب نے یہ ( آیت) حم والکتب المبین اناجعلنا قرانا لقوم یعلمون “ سعد بن حماد نے کہا میں نہیں سنتا مگر میں جس کو پہچانتا ہوں وہ واپس لوٹ آئے اور اللہ نے ان کو ہدایت دے دی تھی۔
قریش سے مذاکرات :
7:۔ بیہقی (رح) (فی الدلائل) وابن عساکر (رح) نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ ابوجہل اور قریش کے سرداروں نے کہا کہ محمد ﷺ کا معاملہ ہمارے لئے بکھر چکا ہے اگر تم تلاش کرو ایسے آدمی کو جو جانتا ہوں اور مجھ پر مخفی نہیں رہے گا اگر بات ایسی ہوئی عتبہ کے پاس آیا اور کہا : اے محمد ﷺ تو بہتر ہے یا ہاشم بہتر ہے ؟ تو بہتر ہے یا عبدالمطلب بہتر ہے ؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا پھر اس نے کہا ہمارے معبودوں کو تم کس لئے برا بھلا کہتے ہو اور ہمارے آباؤ اجداد کو تم گمراہ کہتے ہو اگر تیری خواہش حکومت ہو تو ہم تیرے لئے جھنڈے باندھ لیتے ہیں تو ہمارا سردار ہوگا جب تک تو زندہ رہے گا اور اگر تجھے کسی عورت کی خوا ہش ہے تو ہم دس عورتوں سے تیری شادی کردیں گے قریش کی بیٹیوں میں سے جن کو تو چن لے۔ اگر تجھے مال کی ضرورت ہے تو ہم تیرے لئے اپنے مالوں میں سے (اتنا مال) جمع کردیتے ہیں جس سے تو اور تیرے بعد والے بھی مستغنی ہوجائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے کوئی بات نہیں فرمائی جب وہ (بات سے) فارغ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت) پڑھی ” بسم اللہ الرحمن الرحیم حم ٓ (1) تنزیل من الرحمن الرحیم (2) کتب فصلت ایتہ قرانا عریبا لقوم یعلمون “ حتی کہ یہاں تک پہنچے ” فان اعرضوا فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود (13) عتبہ آپ کو روک دیا اور رشتہ داری کا واسطہ دیا کہ وہ ان کے (یعنی ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے) باز رہے۔ عتبہ گھر پر گیا اور قریش کے پاس جانے سے بھی رکا رہا تو ابوجہل نے کہا اے قریش کی جماعت ہم عتبہ کو نہیں دیکھتے ہیں مگر اس نے محمد ﷺ کا دین قبول کرلیا ہے۔ اور ان کا کھانا اس کو اچھا لگا ہے (پھر کہنے لگے) اس کو کوئی حاجت ہوگئی ہے۔ (اس لئے وہ نہیں آیا) ہم کو اس کے پاس لے چلو چناچہ یہ لوگ اس کے پاس آئے ابوجہل نے کہا اللہ کی قسم ! اے عتبہ ہمارا گمان ہے کہ تو محمد ﷺ کا دین قبول کرچکا ہے اور اس کا دین تجھ کو اچھا لگا ہے اگر تجھ کو کوئی حاجت ہے تو ہم تیرے لئے اپنے مالوں میں سے جمع کردیتے ہیں جو محمد ﷺ سے تجھ کو بےپرواہ کردے گا (یہ سن کر) وہ غصہ ہوگیا اور کہنے لگا میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں میں کبھی محمد ﷺ سے بات نہیں کروں گا اور کہنے لگا تم جانتے ہو میں تمام قریش میں زیادہ مال والا ہوں، لیکن میں ان کے پاس (ایک کام سے) آیا تھا (پھر) انکا (سارا) قصہ سنایا۔ انہوں نے مجھے ایسی چیز کے ساتھ جواب دیا اللہ کی قسم نہ وہ جادو ہے نہ وہ شعر ہے اور نہ وہ کہانت ہے۔ اور یہ (آیت) پڑھی ” بسم اللہ الرحمن الرحیم حم ٓ (1) تنزیل من الرحمن الرحیم (2) کتب فصلت ایتہ قرانا عریبا “ حتی کہ یہاں تک پہنچا ” فان اعرضوا فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود (13) میں نے ان کو روک دیا اور رشتہ داری کا واسطہ دیا اور تم جانتے ہو کہ محمد ﷺ جب کسی چیز کے بارے میں کوئی بات کرتے ہیں تو جھوٹ نہیں بولتے (اس لئے) میں خوف کرتا ہوں کہ تم پر عذاب نازل نہ ہوجائے۔
8:۔ ابن عساکر (رح) نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ قریش رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوئے اور رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے عتبہ بن ربیعہ نے ان سے کہا مجھے چھوڑدو یہاں تک کہ محمد ﷺ کے پاس جاکر ان سے بات کروں گا، ممکن ہے کہ میں تم سے زیادہ نرم ہوں گا ان کے ساتھ۔ عتبہ کھڑا ہوا یہاں تک یہ آپ کی طرف آکر بیٹھ گیا اور کہنے لگا : اے میرے بھتیجے ! تو ہم میں سے خاندان کے لحاظ سے بہترین ہے اور ہم میں افضل ہے ہر مرتبہ کے لحاظ سے اور تو نے اپنی قوم میں ایسا افتراق پیدا کردیا کہ تجھ سے پہلے کسی نے ایسا نہیں کیا اگر تو اس بات سے مال چاہتا ہے تو تیری قوم پر لازم ہے کہ ہم تیرے لئے اتنا مال جمع کردیں تاکہ تو ہم میں زیادہ مال والا بن جائے اگر تو شرف چاہتا ہے تو ہم تجھے اپنا سردار بنالیتے ہیں یہاں تک کہ تیری قوم میں سے تجھ سے بڑا کوئی سردار نہ ہوگا اور تیری رائے کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔ اور اگر تجھے کوئی تکلیف پہنچ گئی ہے کہ جس کے تو روکنے پر قادر نہیں ہے تو ہم تیرے علاج کی غرض سے اپنے خزانے خرچ کریں گے۔ اور اگر بادشاہی کا ارادہ رکھتا ہے تو ہم تجھ کو اپنا بادشاہ بنالیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے ابوالولید ! کیا تو (اپنی بات سے) فارغ ہوگا ؟ اس نے کہا : ہاں تو رسول اللہ ﷺ نے ” حم السجدہ “ پڑھی یہاں تک کہ جب سجدہ (کہ آیت) پڑھی تو سجدہ فرمایا ! اور عتبہ اپنا ہاتھ پشت کے پیچھے رکھے ہوئے تھا یہاں تک کہ آپ اپنی قرأت سے فارغ ہوگئے اور عتبہ کھڑا ہوگیا اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا جواب دے یہاں تک کہ اپنی قوم کی مجلس میں آیا جب ان لوگوں نے اس کو آتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے یقینی بات ہے وہ تمہاری طرف لوٹ رہا ہے۔ ایسے چہرے کے ساتھ کہ جس کے ساتھ وہ تمہارے پاس سے اٹھ کر نہیں گیا تھا عتبہ ان کے پاس آکر بیٹھ گیا اور کہنے لگا : اے قریش کی جماعت ! میں نے ان سے وہ بات کی جو تم نے مجھے حکم دیا یہاں تک کہ جب میں فارغ ہوا تو انہوں نے مجھ سے ایسی کلام کی کہ اللہ کی قسم میرے کانوں نے کبھی ایسا کلام نہیں سنا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں ان کو کیا کہوں، اے قریش کی جماعت ! آج کے دن میرا کہنا مان لو ! اور اس کے بعد اس بارے میں میرا کہنا نہ ماننا تم اس آدمی کو چھوڑ دو اور تم اس سے الگ ہوجاؤ اللہ کی قسم ! وہ چھوڑنے والا نہیں ہے جس دین پر وہ ہے اس کے اور سارے عرب کے درمیان اس کا راستہ چھوڑ دو اور وہ عربوں پر غالب آگیا تو اس کی شرافت تمہاری شرافت ہوگی اور اس کا غلبہ تمہارا غلبہ ہوگا اور اس کی حکومت تمہاری حکومت ہوگی اور اگر وہ لوگ اس پر غالب آگئے تو وہ تمہارے بغیر اس سے کافی ہوجائیں گے تو ان لوگوں نے کہا : اے ابوالولید ! تو بےدین ہوگیا۔
9:۔ حکیم ترمذی (رح) نے (نوادرالاصول میں) عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ سے روایت کیا کہ میں عائشہ ؓ کی ملاقات کے لئے آیا اور رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہورہی تھی پھر آپ سے یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا اے عائشہ ؓ میری چادر مجھے دیدو تو انہوں نے آپ کو چادر پیش کی پھر آپ مسجد میں تشریف لائے ا چانک ایک آدمی نصیحت کررہا تھا آپ بیٹھ گئے یہاں تک کہ جب نصیحت کرنے والے نے اپنی بات ختم کی تو آپ نے اس سورة کو پڑھنا شروع کیا (آیت ) ” حم ٓ (1) تنزیل من الرحمن الرحیم (2) ‘ پھر آپ نے سجدہ فرمایا یہاں تک کہ اپنے سجدے کو لمبا کیا پھر ان لوگوں نے اس بارے میں سنا جو دومیلوں تک تھے اور اس پر سجدہ تلاوت کیا پھر عائشہ ؓ نے اپنی مقربین کو پیغام بھیجا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں کیونکہ جب سے میں آپ کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوں اس قسم کا واقعہ پہلے میں نے نہیں دیکھا آپ نے سجدہ کیا اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا میں نے یہ سجدہ اپنے رب کے شکر کے طور پر کیا کیونکہ اس نے میری امت کے بارے میں مجھ پر احسان فرمایا۔ ابوبکر نے عرض کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی امت کے بارے میں کیا عطا فرمایا ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ نعمت عطا فرمائی کہ میری امت کے ستر ہزار آدمیوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل فرمائے گا ابوبکر ؓ نے فرمایا اے اللہ کے رسول ! آپ کی امت زیادہ اور پاک ہے اپنے رب سے زیادہ کا مطالبہ کریں فرمایا میں نے ایسا کیا تو مجھے ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار اور عطا فرما دئیے پھر ابوبکر ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ اپنے امت کے لئے اور زیادہ طلب کیجئے آپ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا پھر ان کو اپنے سینے پر رکھتے ہوئے فرمایا عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے اس کو یاد کرلیا ہے۔
10:۔ بیہقی (رح) نے (شعب الایمان میں) خلیل بن مرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نہیں سوتے تھے یہاں تک کہ سورة تبارک الذی اور حم سجدہ نہ پڑھ لیتے تھے۔
Ayah 41:51:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقالوا قلوبنا فی اکنۃ “ اور انہوں نے کہا (ہمارے دل پردوں میں ہیں) جیسے تیر کے لئے ترکش ‘۔
2:۔ ابوسہل السری بن سہل الجندی نیسابوری (فی حدیثہ من طریق عبد القدوس نافع بن ازرق) اور انہوں نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” وقالوا قلوبنا فی اکنۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ قریش کے لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے فرمایا اسلام لانے سے کس چیز نے تم کو روکا ہے (اگر تم اسلام لے آؤ) تو تم عرب کے سردار بن جاؤ گے۔ اور انہوں نے کہا : اے محمد ! آپ جو کہتے ہیں ہم اسے نہیں سمجھتے اور نہ اسے سنتے ہیں کیونکہ ہمارے دل پر غلاف چڑھا ہوا ہے، اور ابوجہل نے کپڑا لیا اور اس کو اپنے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان پھیلا دیا اور کہا اے محمد ﷺ (آیت ) ” وقالوا قلوبنا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ وفی اذاننا وقر ومن بیننا وبینک حجاب “ (جس چیز کی طرف آپ ہم کو بلاتے ہیں اس کی طرف سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگ رہی ہے اور ہمارے آپ کے درمیان ایک پردہ پڑا ہوا ہے )
نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا میں تم کو دو باتوں کی طرف بلاتا ہوں یہ کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلاشبہ میں اللہ کا رسول ہوں جب انہوں نے لا الہ الا اللہ کی شہادت کو سنا (آیت ) ” ولو اعلی ادبارھم نفورا “ (انہوں نے اپنی پیٹھوں کو پھیرلیا نفرت کرتے ہوئے) اور انہوں نے کہا (آیت ) ” اجعل الالھۃ الھا واحدا ان ھذا لشیء عجاب “ (سارے معبودوں کو ایک معبود بنادیں یہ بڑی عجیب چیز ہے) اور ان کے بعض نے بعض سے کہا (آیت ) ” ان امشوا واصبروا علی الھتکم ان ھذا لشیء یراد (6) ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ، ان ھذا لا اختلاق (7) ء انزل علیہ الذکر من بیننا “ (ص آیت 8) (کہ چلو اور اپنے معبودوں کی پوجا پر جمے رہو یہ کوئی مطلب کی بات ہے یہ بات تو ہم نے اپنے پچھلے مذہب میں نہیں سنی۔ ہو نہ ہو یہ اس شخص کی من گھڑت ہے کیا ہم سب میں و سے اس پر یہ نصیحت تام (یعنی قرآن) اتارا گیا۔
جبرائیل (علیہ السلام) نیچے اترے اور فرمایا اے محمد ﷺ اللہ تعالیٰ آپ کو سلام فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کیا یہ گمان نہیں کرتا کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں اس لئے وہ کچھ سمجھ نہیں سکتے اور ان کے کانوں میں ڈاٹ ہے سو وہ آپ کی بات کو نہیں سنتے یہ کس طرح نہ ہو (آیت ) ” واذا ذکرت ربک فی القران وحدہ ولو علی ادبارھم نفورا “ (الاسراء آیت 46) ۔ اور جب اکیلے آپ کے رب کا ذکر کیا جاتا ہے قرآن میں تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں نفرت کرتے ہوئے اگر ایسا ہوتا ہے جیسے وہ گمان کرتے ہیں تو وہ نہ بھاگتے لیکن وہ جھوٹ بولتے ہیں وہ بات کو سنتے ہیں مگر نفع نہیں اٹھاتے اس وجہ سے کہ وہ اس سے نفرت کرتے ہیں جب اگلا دن ہوا۔ ان میں سے ستر آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے محمد ﷺ ہم پر اسلام پیش کیجئے۔ جب آپ نے ان پر اسلام کو پیش کیا تو سب اسلام لے آئے نبی کریم ﷺ مسکرائے اور فرمایا ساری تعریفیں اللہ کے لئے ہیں کیا گزشتہ کل تم کو یہ گمان نہیں تھا کہ تمہارے دلوں پر غلاف پڑھا ہوا ہے اور تمہارے دل پردوں میں ہے ان چیزوں کے بارے میں جس کی طرف ہم تم کو بلاتے ہیں اور تمہارے کانوں میں ڈاٹ ہے اور آج تم مسلمان ہوگئے تو انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ہم نے جھوٹ بولا تھا، اگر بات اس طرح ہوتی تو ہم کبھی ہدایت نہ پاتے لیکن اللہ تعالیٰ سچ بولنے والے ہیں اور بندے جھوٹ بولنے والے ہیں س پر وہ غنی ہیں اور ہم اس کیطرف محتاج ہیں۔
Ayahs 41:6–81:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و بیہقی (رح) نے (الاسماء والصفات میں) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وویل للمشرکین (6) الذین لا یؤتون الزکوۃ “ (اور ہلاکت ہے ان مشرکین کے لئے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے) سے مراد ہے کہ وہ ” لا الہ الا اللہ کی گواہی نہیں دیتے (آیت) ” لھم اجر غیر ممنون “ (ان کیلئے اجر ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگا) یعنی جو کم نہ ہوگا۔
2:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الذین لا یؤتون الزکوۃ “ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ زکوٰۃ اسلام کا پل ہے جس نے اس کو عبور کیا وہ بری ہوگیا (جہنم سے) اور نجات پا گیا اور جس نے اس کو عبور نہ کیا وہ ہلاک ہوگیا۔
Ayahs 41:9–121:۔ ابن جریر ونحاس (رح) (فی ناسخہ) وابوالشیخ (رح) فی العظمہ) اور حاکم (رح) (وصححۃ) وابن مردویہ اور بیہقی (رح) نے (الاسماء والصفات میں) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے آسمان اور زمین کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ زمین کو اتوار اور پیر کے دن پیدا فرمایا اور پہاڑوں کو اور ان میں جو منافع ہیں وہ منگل کے دن پیدا فرمایا اور بدھ کے دن درخت، پانی، شہر، آبادی، کھنڈرات کو پیدا فرمایا یہ چار دن ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین وتجعلون لہ اندادا، ذلک رب العلمین (9) وجعل فیھا رواسی من فوقھا وبرک فیھا وقدر فیھا اقواتھا فی اربعۃ ایام سوآللسآئلین (10) “ (آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم لوگ ایسے خدا کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کردیا اور تم اس کے شریک ٹھہراتے ہو یہی سارے جہاں کا رب ہے اور اس نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنادئیے اور اس زمین میں فائدہ کی چیزیں رکھ دیں اور اس میں اس کے رہنے والوں کی غذائیں تجویز کردیں چار دن میں) جو شمار ہیں) پورے ہیں پوچھنے والوں کے لئے) اور خمیس کے دن آسمانوں کو پیدا فرمایا اور جمعہ کے دن ستاروں کو، سورج کو چاند کو اور فرشتوں کو پیدا فرمایا جبکہ اس کی تین ساعتیں باقی تھیں اور ان تین ساعتوں میں سے پہلی ساعت میں وہ مدتیں پیدا فرمائیں جن میں مرنے والا مرے گا اور دوسری ساعت اللہ تعالیٰ نے ہر اس چیز میں آنت ڈال دی جس سے نفع حاصل کیا جارہا تھا اور تیسری ساعت میں آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا اور اس کو جنت میں ٹھہرایا اور ابلیس کو ان کے سامنے سجدہ کا حکم فرمایا اور اسے جنت سے نکال دیا ساعت کے آخری حصہ میں یہودنے کہا : اے محمد ﷺ پھر کیا ہوا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا پھر اس نے عرش پر قرار پکڑا۔ انہوں نے کہا آپ ٹھیک فرماتے ہیں اگر آپ بات مکمل کرتے پھر کہنے لگے اللہ تعالیٰ نے آرام کیا نبی کریم ﷺ سخت غصہ ہوگئے۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی۔ (آیت ) ” ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام وما مسنا من لغوب (38) فاصبر علی مایقولون “ (ق آیت 38) اور یقینی بات ہے کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں کچھ بھی تھکان نہ ہوئی اور آپ صبر کیجئے ان باتوں پر جو کچھ وہ کہتے ہیں۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقدر فیھا اقواتھا “ (اور اس میں ان کی غذائیں تجویز کردی) یعنی نہریں نکالیں درخت لگائے پہاڑوں کو رکھا سمندروں کو جاری کیا اور وہ چیزیں رکھ دیں جو دوسری نہ تھیں۔
3:۔ عبدبن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقدر فیھا اقواتھا “ یعنی ہر زمین میں وہ چیزیں مقدر کیں جو دوسری کے مناسب نہ تھیں۔
4:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقدر فیھا اقواتھا “ سے مراد ہے کہ نیسابوری نہیں صلاحیت رکھتی مگر نیساپور کے ساتھ اور یمن کے کپڑے صلاحیت نہیں رکھتے مگر یمن کے ساتھ۔
5:۔ عبدالرزاق (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقدر فیھا اقواتھا “ سے ان کے رزق مراد ہیں۔
6:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سوآء للسآئلین “ سے مراد ہے جس نے سوال کیا تو وہ ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
7:۔ ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو دھویں سے پیدا فرمایا پھر زمین کو پیدا کرنا شروع فرمایا اتوار اور پیر کے دن یہی اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین وتجعلون لہ اندادا، ذلک رب العلمین (9) وجعل فیھا رواسی من فوقھا وبرک فیھا وقدر فیھا اقواتھا “ یعنی منگل اور بدھ کے دن اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ (آیت ) ” وقدر فیھا اقواتھا فی اربعۃ ایام سوآللسآئلین (10) “ ثم استوی الی السمآء وھی دخان “ (پھر آسمان بنانے کی طرف توجہ کی اور وہ دھواں تھا پھر اس کو مزین کیا ستاروں سے پھر چاند اور سورج کو ان دونوں کے فلک میں چلا یا اور اس میں پیدا کیا جو چاہا اپنی مخلوق میں سے اور فرشتوں کو پیدا کیا خمیس کے دن اور جمعہ کے دن اور جنت کو پیدا کیا جمعہ کے دن اور یہودیوں کو پیدا کیا ہفتہ کے دن کیونکہ اس میں ہر چیز آرام کرتی ہے اور نصاری نے اتوار کے دن کو عظیم جانا کیونکہ اس میں ابتداء کی گئی ہر چیز کی پیدائش کی اور مسلمان نے جمعہ کے دن کو عظیم خیال کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ اس دن اپنی مخلوق سے فارغ ہوگئے اور جنت میں اپنی رحمت کو پیدا فرمایا اور اسی دن آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور اسی دن وہ جنت سے اترے اور اس دن انکی توبہ قبول کی گئی اور اسی لئے یہ دوسرے دنوں سے بڑا ہے۔
8:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے دن کو پیدا فرمایا تو اس کا نام احد رکھا۔ پھر دوسرا دن پیدا فرمایا تو اس کا نام الاثنین رکھا پھر تیسرا دن پیدا فرمایا اس کا نام ثلثاء رکھا پھر چوتھا دن پیدا فرمایا اس کا نام اربعاء رکھا اور پانچواں دن پیدا فرمایا اس کا نام خمیس رکھا۔ زمین کو اتوار اور پیر کے دن پیدا فرمایا اور پہاڑوں کو منگل کے دن پیدا فرمایا اس وجہ سے لوگ کہتے ہیں کہ وہ بھاری دن ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نہروں درختوں کو اور بستیوں کی جگہوں کو بدھ کے دن پیدا فرمایا اور پرندوں کو اور وحشی جانوروں کو اور درندوں کو اور کیڑے مکوڑوں کو اور آفت کو خمیس کے دن پیدا فرمایا اور انسانوں کو جمعہ کے دن پیدا فرمایا اور ہفتہ کے دن مخلوق کی پیدائش سے فارغ ہوگئے۔
آسمان و زمین کی تخلیق چھ دونوں میں :
9:۔ ابوالشیخ نے عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنا شروع فرمایا اور زمین کو اتوار، پیر کے دن پیدا فرمایا اور رزق اور پہاڑ منگل بدھ کے دن پیدا فرمائے اور آسمان کو خمیس اور جمعہ کے دن عصر کی نماز تک پیدا فرمایا اور آدم (علیہ السلام) کو ایسے وقت میں پیدا فرمایا کے کوئی بندہ اس وقت میں اپنے رب سے دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں اور وہ وقت ہے عصر کی نماز کے درمیان سے لے کر سورج کے غائب ہونے تک۔
10:۔ ابوالشیخ (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا اتوار کا دن کیسا ہے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس میں زمین کو پیدا فرمایا پھر انہوں نے کہا : بدھ کا دن کیسا ہے ؟ فرمایا اس میں غذاؤں کو پیدا فرمایا۔ پھر پوچھا خمیس کی دن (کس کو پیدا فرمایا ؟ ) فرمایا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے آسمان کو پیدا فرمایا پھر انہوں نے پوچھا جمعہ کے دن میں (کس کو پیدا فرمایا ؟ ) فرمایا کہ اس کی ساعتوں میں فرشتوں کو دوساعتوں میں جنت اور دوزخ کو اور دوساعتوں میں سورج اور چاند کو اور ستاروں کو پیدا فرمایا اور دو ساعتوں رات اور دن کو (پیدا فرمایا) پھر انہوں نے کہا کیا آپ آرام کا ذکر نہیں کریں گے آپ نے فرمایا اللہ کی ذات پاک ہے (آرام کرنے) تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی ” ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام وما مسنا من لغوب (28) “ (ق آیت 28) (اور یقینی بات ہے کہ ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور ہم کو تھکان نہیں ہوئی)
11:۔ ابوالشیخ (رح) نے (دوسری سند سے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق (کے پیدا کرنے) سے چھ دنوں میں فارغ ہوئے ان میں پہلا دن (اتوار) کا تھا اور دوسر ا (پیر) اور تیسرا (منگل) اور چوتھا (بدھ) اور پانچواں (خمیس) اور (چھٹا) جمعہ کا دن تھا۔ اتوار کے دن آسمانوں کو پیدا کیا پیر کے دن سورج اور چاند کو پیدا کیا اور منگل کے دن سمندر اور زمین کے جانور پیدا کئے اور نہریں جاری کیں، اور بدھ کے دن میں درختوں کو پیدا فرمایا اور خمیس کے دن جنت اور دوزخ کو پیدا فرمایا اور آدم (علیہ السلام) کو جمعہ کے دن پیدا فرمایا پھر ہفتہ کے دن امر کی طرف توجہ فرمائی۔
12:۔ ابن جریر (رح) نے ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے محمد ! ہم کو بتائیے ان چھ دونوں میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے کس کو پیدا فرمایا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین کو اتوار اور پیر کے دن پیدا فرمایا اور پہاڑوں کا منگل کے دن پیدا فرمایا اور شہروں کو روزیوں کو نہروں کو اس کی آبادیوں کو اور اس کی ویرانیوں کو بدھ کے دن پیدا فرمایا اور آسمان کو اور فرشتوں کو خمیس کے دن پیدا فرمایا جبکہ جمعہ کی تین گھڑیاں باقی تھیں اس کی پہلی ساعت میں موت کے اوقات دوسری ساعت میں آفت اور تیسری ساعت میں، آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا انہوں نے کہا آپ نے سچ فرمایا مگر یہ آپ (بات کو) پورا کردیں نبی کریم ﷺ پہچان گئے جو وہ ارادہ رکھتے تھے تو آپ غصہ ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری ” وما مسنا من لغوب (28) فاصبراعلی مایقولون “ (ق آیت 29) (اور ہم کو ذرا بھی تھکان نہیں ہوئی سو آپ صبر کیجئے وہ جو کہتے ہیں)
13:۔ ابن المنذر (رح) وحاکم (رح) (صححہ) اور بیہقی (رح) نے (الاسماء والصفات میں) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فقال لھا وللارض ائتیاطوعا اور کرھا “ (سو اس سے اور زمین سے فرمایا تم دونوں خوشی سے آؤ یا زبردستی سے) آسمان سے فرمایا اپنے سورج کو نکال دو اپنے چاند اور ستاروں کو نکال اور زمین سے فرمایا اپنی نہروں کو پھاڑ دے اور اپنے پھلوں کو نکال دے (آیت ) ” قالتا اتینا طائعین “ (دونوں نے کہا : ہم حاضر ہیں ) ۔
14:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتینا “ سے مراد ہے اعطیا یعنی دونوں، دو جس طرح ” اتینا “ کا معنی ہے اعطینا ہم نے دیا۔
15:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واوحی فی کل سمآء امرھا “ (اور ہر آسمان میں اس کے مناسب (فرشتوں کو) حکم بھیج دیا یعنی جو اس نے حکم دیا اور روشن کرنے والی چیزیں اور دوسری چیزوں کو پیا کرنے کا ارادہ کیا۔
16:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے (آیت ) ” واوحی فی کل سمآء امرھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ (اللہ تعالیٰ نے) اس میں اس کے سورج کو اس کے چاند کو اور اس کے ستاروں کو اور اس کے مناسب چیزیں پیدا کیں۔
Ayahs 41:13–181:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں جہاں بھی ” صعقۃ “ ہے اس کا معنی عذاب ہے۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود “ (تم کو ایسی آواز سے ڈراتا ہوں جیسی آفت قوم عاد ثمود پر آئی تھی یعنی میں تم کو ڈراتا ہوں عاد اور ثمود پر (عذاب کے) حملہ سے (آیت ) ” ریحا صرصرا “ (طوفان آندھی) یعنی ٹھنڈی ہوا۔ (آیت ) ” نحسات “ یعنی نحوستیں اور دشواریاں۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فارسلنا علیہم ریحا صرصرا “ (ہم نے ان پر طوفان آندھی بھیجی) سے مراد ہے سخت منحوس۔
4:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واما ثمود فھدینھم یعنی ہم نے ان کے لئے واضح کیا۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واما ثمود فھدینہم “ یعنی ہم نے ان کے لیے خیر اور شرکا راستہ بیان کردیا۔
Ayahs 41:19–241:۔ طبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار فھم یوزعون “ (اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جمع کئے جائیں گے پھر روکے جائیں گے) یعنی ان میں سے پہلے کو آخری پر روک دیا جائے گا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) اور ابورزین (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یوزعون “ سے مراد ہے کہ ان کو دھکیل دیا جائے گا۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار فھم یوزعون “ میں ” الوزعہ “ سے مراد ہے فرشتوں میں سے ہانکنے والے کہ وہ ان کو دوزخ کی طرف ہانکیں گے۔ اور آخری کو پہلے کی طرف لوٹائیں گے۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ان ہانکنے والے ہوں گے جو ان کے اگلے لوگوں کو پچھلے لوگوں کی طرف لوٹادیں گے۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فھم یوزعون “ سے مراد ہے کہ وہ ایک دوسرے کو روکیں گے فرمایا ان پر ہانکنے والے مقرر ہوں گے جو ان کے اگلے لوگوں کو پچھلے لوگوں کی طرف لوٹائیں گے۔
7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوالضحی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن الازرق سے فرمایا قیامت کے دن لوگوں پر ایسا وقت آئے گا جب وہ نہ عذر کریں گے اور نہ بات کریں گے یہاں تک کہ ان کے لئے اجازت دی جائے گی تو وہ آپس میں جھگڑیں گے، اپنے شرک سے انکار کریں گے، وہ لوگ اس کے لئے قسمیں کھائیں گے جیسے وہ تمہارے لئے قسمیں کھاتے ہیں، جب وہ اپنے ہی لوگوں میں سے گواہوں کا انکار کریں گے تو اللہ تعالیٰ انکی جلدوں ان کی آنکھوں اور ان کے ہاتھ پاؤں اور ان کے مونہوں پر مہرلگادیں گے۔ پھر ان کے مونہوں کو کھولا جائے گا تو وہ اس طرح آپس میں لڑیں گے جیسے درندے لڑتے ہیں اور کہیں گے (آیت ) ” قالوا انطقنا اللہ الذی انطق کل شیء وھو خلقکم اول مرۃ والی ترجعون “ (بلوایا ہم کو اس اللہ تعالیٰ نے جو ہر چیز کو بلواتا ہے اور اسی نے پہلی بار تم کو پیدا فرمایا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے) پھر بعد میں زبانیں ان باتوں کا اقرار کریں گے۔
8:۔ سعید بن منصور (رح) واحمد (رح) وعبدں بن حمید (رح) و بخاری (رح) ومسلم و ترمذی (رح) و نسائی (رح) وابن اجریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے (الاسماء والصفات میں) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں کعبہ کے پردوں کے ساتھ چھپا ہوا تھا تین آدمی آئے ایک قریشی اور دو ثقفی اور دو قریشی بڑے پیٹ والے تھے اور ان کے دن سمجھ سے خالی تھے انہوں نے بات کی جس کو میں نہ سمجھ سکا، ان میں سے ایک نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہماری اس بات کو سنتا ہے دوسرے نے کہا جب ہم اپنی آوازوں کو بلند کرتے ہیں تو ہماری آوازوں کو وہ سنتا ہے۔ اور جب ہم آوازوں کو بلند نہیں کرتے تو وہ نہیں سنتا۔ دوسرے نے کہا انسانوں سے جو بات سنتا ہے تو پوری سنتا ہے، ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں نے یہ بات نبی کریم ﷺ کو ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ’ وما کنتم تستترون ان یشھد علیکم سمعکم ولا ابصارکم ولا جلودکم “ (اور تم دنیا میں) اس وجہ سے چھپا ہی نہیں سکتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں سے لے کر ” من الخسرین “ تک۔
میدان محشر کہاں ہوگا ؟
9:۔ عبدالرزاق واحمد و نسائی (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) اور بیہقی میں معاویہ بن حیدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم کو یہاں جمع کیا جائے گا اور اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ فرمایا پیدل چلتے ہوئے اور اپنے چہروں پر سواری کرتے ہوئے اور تم کو اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا (اس حال میں) کہ تمہارے مونہوں پر بندھن ہوگی۔ اور سب سے پہلے تم میں سے کسی کی طرف اس کی ران اور اس کی ہتھیلی بولے گی اور رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت ) ” پڑھی، وما کنتم تستترون ان یشھد علیکم سمعکم ولا ابصارکم ولا جلودکم “
10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ تم (اعضاء کے بولنے کا) گمان بھی نہیں رکھتے تھے۔
11:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما کنتم تستترون “ سے مراد ہے کہ جس کو تم مخفی رکھتے تھے۔
12:۔ احمد (رح) وطبرنی (رح) وعبد بن حمید (رح) ومسلم و ابوداؤد وابن ماجہ وابن حبان وابن مردویہ (رح) نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی تم میں سے نہ مرے مگر وہ اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو بلاشبہ ایک قوم کو ہلاک کیا اللہ عزوجل کے بارے میں گمان رکھتے تھے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا (آیت ) ’ وذلکم ظنکم الذی ظننتم برربکم اردکم فاصبحتم من الخسرین “ (اور اسی تمہارے خیال نے تم نے اپنے رب کے متعلق کر رکھا تھا، تم کو ہلاک کیا اور تم نقصان اٹھانے والوں میں ہوگئے۔
Ayah 41:251:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقیضنا لھم قرنآء “ (اور ہم نے دنیا میں ان کے ساتھ رہنے والے کچھ شیاطین مقرر کر رکھے ہیں یعنی شیاطین مقرر کر رکھے ہیں )
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” فزینوا لھم مابین ایدیھم “ (سو انہوں نے ان کے اگلے (گناہ ان کی نظر میں خوبصورت بنا دیئے تھے) کہ انہوں نے ان کے لئے دنیا کو مزین کردیا جس میں وہ رغبت رکھتے ہیں (آیت) ” وما خلفھم “ (اور جو ان کے پیچھے ہے) یعنی انکے لئے آخرت کو بھی بھلادینے اور اسی کے انکار کو مزین کردیا۔
Ayahs 41:26–28قرآن سے منہ موڑنے والوں کی سزاء :
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے جب آپ بلند آواز سے قرآن پڑھتے تھے تو مشرکین لوگوں کو آپ سے دور بھگا دیتے تھے اور کہتے تھے (آیت ) ” لا تسمعوا لھذا القرآن والغوا فیہ لعلکم تغلبون “ (کہ تم اس قرآن کو نہ سنو اور شورمچاؤ شاید کہ تم غالب ہوجاؤ) اور رسول اللہ ﷺ جب آہستہ آواز میں قرآن پڑھتے تھے تو وہ شخص نہ سن سکتا تھا جو قرآن مجید کو سننا پسند کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت ) ” اتاری ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت “ (الاسراء آیت 110) (کہ تو اپنی نماز کو اونچی آواز سے نہ پڑھ اور نہ بالکل آہستہ پڑھ)
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والغوافیہ “ (کہ اس میں گڑبرڈالو) یعنی گڑ بڑ ڈالنے سے مراد ہے کہ وہ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے جب رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھتے تو آپ کی گفتگو میں مداخلت کرتے، قریش اسی طرح عمل کرتے تھے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والغوافیہ “ یعنی وہ کہتے تھے کہ اس کا انکار کرو اور اس سے دشمنی کرو۔ (واللہ اعلم ) ۔
Ayah 41:291:۔ عبدالرزاق وفریابی (رح) و سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (وصححۃ) وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” ربنا ارنا الذین اضلنا من الجن والانس “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد آدم کا بیٹا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا اور ابلیس ہے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ (رح) اور ابراہیم (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے
Ayahs 41:30–321:۔ ترمذی (رح) و نسائی (رح) والبزار وابویعلی وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن عدی وابن مردویہ نے ابن عدی (رح) اور ابن مردویہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم پر رسول (رح) اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا “ (جن لوگوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے پھر اس پر پکے ہوگئے) فرمایا لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے اس کو کہا پھر ان کے اکثر لوگوں نے انکار کردیا جس نے اس کو کہا یہاں تک کہ وہ (اس حال میں) مرگیا کہ وہ ان لوگوں میں تھا کہ جو اس پر پکے ہوگئے (یعنی جنہوں نے استقامت کا مظاہرہ کیا)
2:۔ عبدالرزاق وفریابی (رح) وسعیدبن منصور وابن سعید وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن عمرہ کے طریق سے ابوبکر صدیق ؓ سے (آیت ) ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا “ کے بارے میں روایت کیا کہ استقامت یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔
3:۔ ابن راھویہ وعبد بن حمید (رح) و حکیم ترمذی (رح) (فی نوادر الاصول) ابن جریر وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ و ابونعیم (فی الحلیہ) اسود بن حلال کے طریق سے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ تم ان آیتوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ (آیت ) ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا “ اور الذین امنوا ولم یلبثوا ایمانھم بظلم “ (الانعام آیت 2) وہ کہیں گے کہ انہوں نے گناہ نہیں کئے ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا تم ہی نے اس آیت کو شدید امر پر محمول کیا ہے (اور) (آیت ) ” الذین امنوا ولم یلبثوا ایمانھم بظلم “ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے اور (آیت ) ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا “ یعنی بتوں کی عبادت کی طرف وہ نہیں لوٹے۔
4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ثوری (رح) سے اور انہوں نے بعض صحابہ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے (آیت ) ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اللہ کے فرائض پر قائم رہے۔
5:۔ بیہقی (رح) نے (الاسماء والصفات میں) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا “ سے مراد ہے کہ وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت پر قائم رہے۔
6:۔ ابن المبارک و سعید بن منصور واحمد (فی الزھد) وعبد بن حمید (رح) و حکیم ترمذی (رح) وابن المنذر (رح) نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا “ سے مراد ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت پر قائم رہے اور وہ لومڑی کی طرح مکر نہیں کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت :
7:۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ اللہ کی کتاب میں کون سی آیت زیادہ وسعت والی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت ) ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا “ یعنی ” ان الا الہ الا اللہ “ کی گواہی پر قائم رہے ان سے کہا گیا اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہاں جائے گا۔ (آیت ) ” یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم “ (الزمر آیت 53) (اے میرے بندوں ! جنہوں نے ظلم کیا اپنی جانوں پر آپ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” وانبیوا الی ربکم “ (الزمر آیت 54) (اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو یعنی ان دونوں آیتوں میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ عمل کرو،
8:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابراہیم (رح) و مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم استقاموا “ سے مراد ہے کہ انہوں نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے بعد اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا یہاں تک کہ (آخرت میں) اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے۔
9:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قالوا ربنا اللہ “ (انہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے) یعنی ایک ہے (آیت ) ” ثم استقاموا “ (پھر اس پر پکے ہوگئے) یعنی اللہ تعالیٰ کے فرائض کی ادائیگی پر جمے رہے۔ (آیت ) ’ تتنزل المآئکۃ “ ان پر فرشتے نازل ہوں گے) آخرت میں۔
10:۔ احمد وعبد بن حمید (رح) والدارمی و بخاری ( (رح) علیہ فی تاریخہ) ومسلم و ترمذی (رح) و نسائی (رح) وابن ماجہ وابن حبان نے سفیان ثقفی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! اسلام میں مجھے ایسے کام کا حکم فرمائیے کہ اس کے بارے میں آپ کے بعد پھر کسی اور سے میں نہ پوچھوں ؟ آپ نے فرمایا : کہہ میں ایمان لایا اللہ پر پھر اس پر پکا ہوجا۔ میں نے عرض کیا کس چیز سے بچوں تو آپ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ فرمایا۔
11:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) و بیہقی (رح) نے الشعب میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تتنزل علیہم الملئکۃ “ یعنی موت کے وقت (فرشتے نازل ہوں گے)
12:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا تخافوا “ (کہ تم خوف نہ کرو) یعنی تم موت اور آخرت کے معاملہ میں خوف نہ کھاؤ (آیت ) ” ولا تحزنوا “ ( اور تم غم نہ کرو) جو تم پیچھے چھوڑ آئے اپنے دنیا کے کاموں سے اولاد میں سے اہل و عیال میں سے اور قرض میں سے (اور) ان تمام کاموں میں جن میں تم کو نائب بنایا گیا تھا۔
13:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ مؤمن کو موت کے وقت لایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جس کے پاس تو جارہا ہے اس کے بارے میں خوف نہ کر تو اس کا خوف جاتا رہتا ہے اور نہ غم کرنا اور دنیا والوں کے بارے میں اور تجھے جنت کی خوشخبری ہو تو وہ اس حال میں مرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتے ہیں۔
14:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اس کے ساتھ خوشخبری دیا جاتا ہے اپنی موت کے وقت اور اپنی قبر میں اور جس دن وہ قبر سے اٹھایا جائے گا کیونکہ وہ جنت میں پہنچے گا اور ابھی بشارت کی خوشی اس کے دل سے نہیں نکلی ہوگئی۔
15:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (آیت ) ” الا تخافوا “ یعنی تم اپنے ضائع ہونے کا خوف نہ کرو۔
16:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن ابی الدنیا (رح) نے ذکر الموت میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ہر انسان پر اس دنیا سے جانا حرام ہے، یہاں تک کہ وہ جان لے گا اپنے ٹھکانے کو۔
17:۔ ابونعیم (رح) نے الحلیہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ مؤمن کو خوشخبری دی جاتی ہے اس کی موت کے بعد بچے کے نیک ہونے پر تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔
18:۔ احمد و نسائی (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو محبوب رکھتے ہیں۔ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ہم میں سے ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے، آپ نے فرمایا : یہ موت کو ناپسند کرنا نہیں لیکن جب مؤمن کا موت کا وقت قریب آتا ہے تو اس کے پاس خوشخبری دینے والا اللہ کی طرف سے آتا ہے۔ جو اسے اپنے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ہاں لے جانے والا ہوتا ہے۔ تو اس مؤمن بندہ کے لئے اللہ کی ملاقات سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ بھی ایسے بندے کی ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اور کافر اور بدکار کو جب موت حاضر ہوتی ہے تو اس کے پاس وہ آتا ہے جو اسے شر کی طرف لے جانے والا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند فرماتے ہیں۔
19:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ثابت (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے حم سجدہ سورت کو پڑھا حتی کہ یہاں تک (آیت ) ” تتنزل علیہم الملئکۃ “ تو ٹھہر گئے اور فرمایا ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ مؤمن کو اللہ تعالیٰ اس کی قبر سے اٹھائیں گے تو دو فرشتے اس سے ملاقات کریں گے جو دنیا میں اس کے ساتھ ہوتے تھے اور اس سے کہیں گے خوف نہ کر غم نہ کر اور جنت کے ساتھ خوش ہوجا جس کا تو وعدہ دیا جاتا تھا اللہ تعالیٰ اس کو خوف سے امن دے دیں گے اور اس کی آنکھوں کو ٹھنڈا کردیں گے اور اس کو (عذاب سے بچالیں گے خبردار یہ صرف مؤمن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس وجہ سے کہ اللہ نے اس کو ہدایت دی اور اس وجہ سے کہ وہ دنیا میں (نیک) عمل کرتا تھا۔
20:۔ ابن المبارک وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” نحن اولء ؤکم “ (الآیہ) یعنی ہم تمہارے ساتھی تھے دنیا میں ہم تم سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ ہم تمہارے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے اور عبد بن حمید (رح) کے الفاظ یوں ہیں کہ ان کے وہ دوست جو ان کے ساتھ دنیا میں رہتے تھے جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ کہیں گے کہ ہم ہرگز تم سے جدا نہیں ہوں گے حتی کہ ہم تم کو جنت میں داخل نہ کردیں گے۔
21:۔ ابونعیم (رح) نے صفۃ الجنۃ میں اور بیہقی (رح) نے البعث میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس درمیان کے اہل جنت اپنی مجلس میں ہوں گے اچانک ان کے لئے ایک نور جنت کے دروازے پر پھیلے گا وہ اپنے سروں کو اوپر اٹھائیں گے کیا دیکھیں گے کہ ان کے رب جلوہ افروز ہیں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اے جنت والوں ! مجھ سے سوال کرو، تو عرض کریں گے ہم آپ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ ہم سے راضی ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میری رضا ہی نے تو تم کو اس گھر میں اتارا ہے۔ اور تم کو یہ عزت دی ہے اور کوئی اور مجھ سے سوال کرو وہ کہیں گے کہ وہ آپ سے زیادتی کا سوال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو ان کے لئے سرخ یاقوت سے عمدہ قسم کے گھوڑے لائے جائیں گے جن کی نگاہیں سبز زبرجد اور سرخ یاقوت کی ہوں گی، وہ جنتی ان پر آئیں گے تو وہ اپنے قدم حد نگاہ پر رکھیں گے اللہ تعالیٰ درختوں کو حکم دیں گے جن پر پھل ہوں گے پھر موٹی آنکھوں والی حوریں آئیں گی اور وہ کہیں گی ہم نرم ونازک ہیں ہم سخت نہیں ہیں ہم ہمیشہ رہنے والیاں ہیں ہم کو موت نہیں آئے گی عزت والے مؤمن قوم کی ہم بیویاں ہیں اور اللہ تعالیٰ مشک کے ٹیلے کو حکم دیں گے جو سفید اور مہکتا ہوا ہوگا وہ ان پر خوشبو کو بکھیرے گا جیسے مشیرہ کہتے ہیں یہاں تک کہ وہ ان کو جنت عدن کی طرف لے جائیں گے اور وہ جنت کے وسط سے فرشتہ سے کہیں گے : اے ہمارے رب ! یہ لوگ آچکے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے صادقین خوش آمدید اور ان کیلئے پردے کو اٹھا دیا جائے گا وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھیں گے اور رحمن کے نور سے لطف اٹھائیں گے یہاں تک کہ ان کا بعض بعض کو نہ دیکھے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ان کو محلات کی طرف تحائف کے ساتھ واپس لے جاؤ وہ واپس لوٹیں گے جبکہ ان کا بعض بعض کو دیکھے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” نزلا من غفور رحیم “ (مہمانی ہوگی غفور رحیم کی طرف سے)
22:۔ ابن نجار (رح) نے ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے اسی طرح روایت کیا ہے۔