Fussilat 41:11

Fussilat · from ayah 11

41:11

ثُمَّ اسْتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ وَهِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا ؕ— قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآىِٕعِیْنَ ۟ثُمَّ اسۡتَـوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا ؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآئِعِيۡنَ

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then He directed Himself to the heaven while it was smoke and said to it and to the earth, "Come [into being], willingly or by compulsion." They said, "We have come willingly."

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:11

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت محض دھواں تھا اُس نے آسمان اور زمین سے کہا "وجود میں آ جاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو" دونوں نے کہا "ہم آ گئے فرمانبرداروں کی طرح"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وه دھواں (سا) تھا پس اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ اس وقت دھویں کی شکل میں تھا اور اس سے اور زمین سے کہا : چلے آؤ چاہے خوشی سے یا زبردستی۔ دونوں نے کہا : ہم خوشی خوشی آتے ہیں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ دھواں تھا تو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے ناخوشی سے، دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر وہ سماوی کائنات کی طرف متوجہ ہوا تو وہ (سب) دھواں تھا، سو اس نے اُسے (یعنی آسمانی کرّوں سے) اور زمین سے فرمایا: خواہ باہم کشش و رغبت سے یا گریزی و ناگواری سے (ہمارے نظام کے تابع) آجاؤ، دونوں نے کہا: ہم خوشی سے حاضر ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ ایک دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے کہا کہ آؤ خوشی سے یا ناخوشی سے۔ دونوں نے کہا ہم خوشی سے آگئے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ اس وقت دھواں تھا تو اس نے (اس طرح کے) آسمان اور زمین سے کہا کہ وجود میں آجاؤ خواہ تم چاہو یا نہ چاہو، دونوں نے کہا : ہم فرمانبرداروں کی طرح آگئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ سب ملا کر چار دنوں میں۔ پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی، اور وہ اس وقت دھوئیں کی شکل میں تھا، پس اس کو اور زمین کو حکم دیا کہ تم ہمارے احکام کی تعمیل کرو، طوعاً یا کرہاً ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی جب کہ وہ ایک دھوئیں کی شکل میں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں (وجود میں) آجاؤ خوشی سے یا زبردستی سے تو ان دونوں نے عرض کیا کہ ہم دونوں خوشی سے آ (موجود ہو) گئے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اس نے آسمان کی توجہ کی اس حال میں کہ وہ دھواں تھا پھر اس سے اور زمین سے کہا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا زبردستی دونوں بولے ہم خوشی سے حاضر ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور ابھی وہ ایک دھواں سا تھا تو اس نے آسمان اور زمین سے کہا کہ تم دونوں چلے آئو خوشی سے یا جبراً ! ان دونوں نے کہا کہ ہم حاضر ہیں پوری آمادگی کے ساتھ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ خواہ خوشی سے یا ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then He turned to the heaven while it was all smoke. He said to the heaven and the earth: “Come (into being), willingly or unwillingly.” They said: “Here we come (into being) in willing obeisance.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then He turned straight to the sky, while it was a smoke, and said to it and to the earth, :Come (to My obedience), both of you, willingly or unwillingly. Both said, :We come willingly.

— Muhammad Taqi Usmani

Then He turned straight to the sky, while it was a smoke, and said to it and to the earth, :Come (to My obedience), both of you, willingly or unwillingly. Both said, :We come willingly.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then He rose over (Istawa ila) the heaven when it was smoke, and said to it and to the earth: "Come both of you willingly or unwillingly." They both said: "We come willingly."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then turned He to the heaven when it was smoke, and said unto it and unto the earth: Come both of you, willingly or loth. They said: We come, obedient.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then He directed Himself to the heaven while it was smoke and said to it and to the earth, "Come [into being], willingly or by compulsion." They said, "We have come willingly."

— Saheeh International

He established His dominance over the sky, which (for that time) was like smoke. Then He told the heavens and the earth, "Take your shape either willingly or by force" They said, "We willingly obey".

— Muhammad Sarwar

Then He directed Himself to the heaven and it is a vapor, so He said to it and to the earth: Come both, willingly or unwillingly. They both said: We come willingly.

— Muhammad Habib Shakir

Thereafter turned He to the heaven and it was as smoke, and said Unto it and Unto the earth: come ye twain, willingly or loth. They said: we come willingly.

— Abdul Majid Daryabadi

Moreover He comprehended in His design the sky, and it had been (as) smoke: He said to it and to the earth: "Come ye together, willingly or unwillingly." They said: "We do come (together), in willing obedience."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–12

تخلیق کائنات کا مرحلہ وار ذکر۔ ہر چیز کا خالق ہر چیز کا مالک ہر چیز پر حاکم ہر چیز پر قادر صرف اللہ ہے۔ پس عبادتیں بھی صرف اسی کی کرنی چاہئیں۔ اس نے زمین جیسی وسیع مخلوق کو اپنی کمال قدرت سے صرف دو دن میں پیدا کردیا ہے۔ تمہیں نہ اس کے ساتھ کفر کرنا چاہے نہ شرک۔ جس طرح سب کا پیدا کرنے والا وہی ایک ہے۔ ٹھیک اسی طرح سب کا پالنے والا بھی وہی ایک ہے۔ یہ تفصیل یاد رہے کہ اور آیتوں میں زمین و آسمان کا چھ دن میں پیدا کرنا بیان ہوا ہے۔ اور یہاں اس کی پیدائش کا وقت الگ بیان ہو رہا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ پہلے زمین بنائی گئی۔ عمارت کا قاعدہ یہی ہے کہ پہلے بنیادیں اور نیچے کا حصہ تیار کیا جاتا ہے پھر اوپر کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 14 اس مقام پر تین باتوں کی وضاحت ضروری ہے اول یہ کہ آسمان سے مراد یہاں پوری کائنات ہے، جیسا کہ بعد کے فقروں سے ظاہر ہے۔ دوسرے الفاظ میں آسمان کی طرف متوجہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تخلیق کائنات کی طرف متوجہ ہوا۔ دوم یہ کہ دھوئیں سے مراد مادے کی وہ ابتدائی حالت ہے جس میں وہ کائنات کی صورت گری سے پہلے ایک بےشکل منتشر الاجزاء غبار کی طرح فضا میں پھیلا ہوا تھا۔ موجودہ زمانہ کے سائنسداں اسی چیز کو سحابیے (Nebula) سے تعبیر کرتے ہیں اور آغاز کائنات کے متعلق ان کا تصور بھی یہی ہے کہ تخلیق سے پہلے وہ مادہ جس سے کائنات بنی ہے، اسی دخانی یا سحابی شکل میں منتشر تھا۔ سوم یہ کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–12

(آیت) ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًااَوْ كَرْهً آ قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ۔ یہ آسمان و زمین کو خطاب کر کے حکم دینا اور ان کا اطاعت و فرمانبرداری سے جواب دینا بعض مفسرین کے نزدیک مجاز ہے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہر کام کے لئے تیار پائے گئے۔ مگر ابن عطیہ اور دوسرے محققین ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ اس میں کوئی مجاز نہیں، سب اپنی حقیقت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین میں شعور و ادراک خطاب کے سمجھنے کا بھی پیدا فرما دیا تھا اور ان کو گویائی کی طاقت بھی جواب دینے کے لئے عطا فرما دی تھی۔ تفسیر بحر محیط میں اس کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

پہلے آسمان پیدا ہوا یا زمین ؟ ’ استوی الی الشیء ‘ کے معنی ہیں اس کی طرف توجہ کی۔ ’ اس کا قصد فرمایا ‘ اس کا ارادہ کیا۔ فرمایا کہ تخلیق زمین کے ان مراحل کے بعد آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور اس وقت وہ دھوئیں کی شکل میں تھا۔ دھوئیں، سے مراد غبار ہے یا سائنسدانوں کی اصطلاح میں اس کو نیبولا (NEBULA) یا سحابیے کہہ لیجیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت آسمان اپنی ایک ابتدائی اور ناتمام شکل میں موجود تھا۔ اس کی یہ شکل ظاہر ہے کہ انہی دو دنوں میں وجود پذیر ہوئی ہوگی جن میں زمین کی ابتدائی خلقت کا مرحلہ طے پایا ہے اس وجہ سے اس ’ استعاد ‘ سے مقصود وہ توجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آسمان کو ایک تکمیلی شکل دینے کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 یہ آنا کس طرح تھا ؟ اس کی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی۔ یہ دونوں اللہ کے پاس آئے جس طرح اس نے چاہا، بعض نے اس کا مفہوم لیا ہے کہ میرے حکم کی اطاعت کرو، انہوں نے کہا ٹھیک ہے ہم حاضر ہیں، چناچہ اللہ نے آسمانوں کو حکم دیا، سورج، چاند ستارے نکال اور زمین کو کہا، نہریں جاری کر دے اور پھل نکال دے (ابن کثیر) یہ مفہوم ہے کہ تم دونوں وجود میں آجاؤ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

5: شروع میں اللہ تعالیٰ نے آسمان کا مادہ پیدا فرما دیا تھا جو دھویں کی شکل میں تھا، پھر دو دن میں اسے سات آسمانوں کی صورت میں تبدیل فرما کر اس کا مستقل نظام قائم فرمایا۔ 6: ”چلے آؤ“ کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے حکم کے تابع بن جاؤ، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا گیا کہ تم خوشی سے ہمارے حکم کے تابع بننا نہ چاہو، تب بھی تمہیں زبردستی تابع بننا ہی پڑے گا، یعنی زمین اور آسمان میں وہی کام ہوں گے جن کا اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق تکوینی طور پر ہم حکم دیں گے، تمہارے اندر یہ قدرت پیدا نہیں کی گئی ہے کہ تم ہمارے تکوینی احکام کی مخالفت کرسکو، لہذا اگر تم خوشی سے نہیں چاہو گے تو زبردستی تمہیں کرنا وہی ہوگا جو ہمارا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–12

آیت نمبر 9 تا 12 اے پیغمبر ان سے کہو کہ تم جب کفر کرتے ہو اور لاپرواہی میں یہ عظیم بات کہہ جاتے ہو ، یہ تو تم ایک بہت ہی بڑے جرم کا ارتکاب کرتے ہو ، یہ نہایت ہی قبیح اور ناپسندیدہ فعل ہے ، تم ایک ایسی ذات کا انکار کرتے ہو ، جس نے زمین کو پیدا کیا ، اس کے اندر پہاڑ پیدا کیے ، ان کے اندر برکات پیدا کیں ، اس زمین کے اندر رزق کی تمام ضروریات پوری پوری رکھ دیں ، جس نے آسمانوں کو پیدا کیا اور یہ سب کام اس نے چار دنوں میں سرانجام دیئے اور تمام مانگنے والوں کے لیے ان کی ضروریات مہیا کردیں جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ، منظم کیا ، خصوصاً دنیا سے قریب والے آسمان کو خوب مزین کیا ، زمین اور آسمان نے اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی پھر آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت سارا ایک تھا دھوئیں کی طرح اس کو بانٹ کر سات آسمان کیے، جیسا کہ آگے آتا ہے (تنبیہ) ممکن ہے " دخان " سے آسمانوں کے مادہ کی طرف اشارہ ہو۔ 5 یعنی ارادہ کیا کہ ان دونوں (آسمان و زمین) کے ملاپ سے دنیا بسائے۔ خواہ اپنی طبیعت سے ملیں یا زور سے ملیں۔ (بہرحال دونوں کو ملا کر ایک نظام بنایا تھا) وہ دونوں آملے اپنی طبیعت سے آسمان سے سورج کی شعاع آئی، گرمی پڑی، ہوائیں اٹھیں، ان سے گرد اور بھاپ اوپر چڑھی پھر پانی ہو کر مینہ برسا جس کی بدولت زمین سے طرح طرح کی چیزیں پیدا ہوئیں۔ اور پہلے جو فرمایا تھا کہ " زمین میں اس کی خوراکیں رکھیں۔ " یعنی اس میں قابلیت ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 11 { ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ وَہِیَ دُخَانٌ} ”پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا ‘ اور ابھی وہ ایک دھواں سا تھا“ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب آسمان ایک دھویں کی شکل میں تھا اور ابھی سات آسمانوں کی الگ الگ صورتیں وجود میں نہیں آئی تھیں۔ ان آیات میں کائنات کی تخلیق کے ابتدائی مرحلے سے متعلق کچھ اشارے پائے جاتے ہیں۔ سائنسی شواہد کے مطابق Big Bang کے بعد آگ کا ایک بہت ہی بڑا گولا وجود میں آیا۔ پھر اس گولے میں مزید دھماکے ہوئے اور اس طرح اس مادے کے جو حصے علیحدہ ہوئے ان سے کہکشائیں بننا شروع ہوئیں۔ { فَقَالَ لَہَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْہًا } ”تو اس نے آسمان اور زمین سے کہا کہ تم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 زمین و آسمان کا ملا جلا ملغوبہ :۔ اس آیت میں ثم کا لفظ زمانی ترتیب کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ زمین و آسمان کی تخلیق کے ایک پہلو سے ہے۔ بالفاظ دیگر یہ زمین کی تخلیق کے بعد کا واقعہ نہیں ہے بلکہ پہلے کا ہے۔ جسے بعد میں بیان کیا گیا ہے اور اس کی واضح دلیل یہ آیت ہے۔ ( اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا 30؀) 21 ۔ الأنبیاء :30) یعنی زمین و آسمان پہلے ملے جلے اور گڈ مڈ تھے ؟ تو ہم نے انہیں جدا جدا بنادیا۔ اور یہاں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اس وقت فضائے بسیط میں صرف دھواں ہی دھواں یا مرکب قسم کی گیسیں تھیں۔ یعنی کائنات کا ابتدائی ہیولیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ یعنی زمین و آسمان کی آفرینش کے بعد ان سے سوال کیا گیا کہ جس درجہ اور کیفیت کا ادراک و شعور تمہیں عطا ہوا ہے اس کے لحاظ سے بتاؤ کہ تم جن احکام تکوینی کے محل بنوگے، ان پر راضی بھی رہوگے یا ان سے کراہت رکھوگے ؟ انہوں نے جواب میں عرض کیا کہ ہم بسر وچشم حاضر ہیں۔ (آیت) ” طوعا اوکرھا “۔ یہاں ترکیب میں طآئعین وکارھین کے مرادف ہیں یعنی اگرچہ مصدر ہیں لیکن ان کا استعمال موقع حال پر ہوا ہے۔ انتصابھا علی الحال بمعنی طائعتین اومکرھتین (کشاف) مصدر ان وقعاموقع الحال (بیضاوی) (آیت) ” السمآء “۔ کئی بارگزر چکا ہے کہ عربی میں سماء ہر اس چیز کو کہتے جو مثل چھت کے بلند ہو۔ قرآن مجید کو زمین و آسمان کی جغرافی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–18

آیت نمبر 9 تا 18 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے ! کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو، اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین دو روز میں پیدا کردی یعنی اتوار اور پیر میں اَئِنَّکُمْ میں دوسرے ہمزہ کی تحقیق و تسہیل کے ساتھ اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کرکے تمام جہانوں کا مالک وہی ہے عالمین عالَم کی جمع اور وہ اللہ کے علاوہ ہے عالمین عالَمْ مختلف الانواع ہونے کی وجہ سے جمع اور ذوی العقول کو (غیر ذوی العقول پر) غلبہ دینے کی وجہ سے یاء ونون کے ساتھ لایا گیا ہے، اور اس نے زمین میں اس کے اوپر جمے رہنے والے پہاڑ رکھ دیئے یہ جملہ مستانفہ ہے، اس کا عطف الذی کے صلہ پر فصل بالاجنبی کی وجہ سے جائز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم استوی الی السماء وھی دخان پھر آسمان (کے بنانے) کی طرف توجہ کی اور وہ اس وقت دھواں (سا) تھا۔ ثُمَّ اسْتَوٰی پھر براہ راست وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا ‘ یعنی آسمان کا قصد کیا۔ استوٰی الٰی مکانٍ کذا فلاں مقام کا اس نے براہ راست قصد کیا ‘ کسی دوسری جگہ کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔ ثُمَّ کا اس جگہ استعمال تاخیر زمانہ کیلئے نہیں ہے ‘ کیونکہ پہاڑوں کی تخلیق زمین کو بچھانے اور ہموار کرنے کے بعد ہوئی ‘ اسلئے تاخیر زمانی تو مراد نہیں ہوسکتی بلکہ دونوں تخلیقوں میں تفاوت کے اظہار کیلئے ثُمَّ کا استعمال کیا۔ وَھِیَ دُخَانٌ شاید دخان سے مرادہ مادۂ دخان اور وہ چھوٹے ننھے اجزاء ہوں جن سے آسمان بنایا گیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 10–11

(10۔ 11) اور اس نے زمین کے اوپر مضبوط پہاڑ بنا دیے جو اس کے لیے میخیں ہیں اور زمین میں پانی درخت سبزیاں اور پھل پیدا کیے اور اس نے زمین میں معیشت اور غذا کی چیزیں پیدا کردیں جو اس زمین کے علاوہ اور مقام پر نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے روحوں کو جسموں سے دنیاوی سالوں کے اعتبار سے چار ہزار سال پہلے پیدا کیا جسموں سے چار ہزار سال پہلے ان کی روزیاں مقرر کردیں۔ یہ تمام چیزیں پوری ہیں خواہ کوئی پوچھے یا نہ پوچھے یا یہ کہ سوال کرنے والوں کے لیے جنہوں نے ان چیزوں کے پیدا ہونے کے بارے میں سوال کیا تھا یہ جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا۔ پھر آسمان کے بنانے کی طرف متوجہ ہوا وہ پانی کے بخارات کی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ثم استوی الی السمآء …”استوی“ کے بعد ”الی“ ہو تو اس کا معنی قصد کرنا ہوتا ہے۔ یعنی پھر اللہ نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی، وہ اس وقت دھوئیں کی صورت میں تھا، تو اسے یعنی آسمان اور زمین دونوں سے کہا ”ائتیا (آجاؤ) یعنی میرے حکم کی اطاعت کرو، خوشی سے کرو یا مجبوری سے، ہر حال میں کرنا پڑے گی۔ (2) قالتآ اتینا طآئعین : ان دونوں نے کہا، ہم خوشی سے حضار ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کائنات میں جو چیزیں طبعی طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتی ہیں، مثلاً فرشتے اس کے حکم کے بغیر کوئی بات کرتے ہیں نہ کوئی کام، اسی طرح سورج، چاند ستارے ، بادل ہوائیں، سمندر، نباتات اور حیوانات و جمادات، غرض ہر چیز اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–12

(قل ائنکم لتکفرون۔۔۔۔ ) 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 169 قل ائنکم لتفکرون بالذی خلق الارض فی فومین ائنکم دو ہمزوں کے ساتھ ہے دوسرا ہمزہ بین بین ہے اور دو ہمزوں کے درمیان الف ہے اس کا معنی شرمندہ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو حکم دیا تاکہ انہیں شرمندہ کیا جائے اور ان کے فعل پر تعجب کا اظہار کیا جائے معنی ہے تم کیوں اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہو جبکہ وہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ؟ یومین سے مراد اتوار اور سوموار ہے انداد ًاکا معنی اضداد اور شریک ہیں وجعل فیھا ھا ضمیر سے مراد زمین ہے، رواسی سے مراد پہاڑ ہیں۔ وہب نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو اسے پانی پر پھیلا دیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–12

1:۔ ابن جریر ونحاس (رح) (فی ناسخہ) وابوالشیخ (رح) فی العظمہ) اور حاکم (رح) (وصححۃ) وابن مردویہ اور بیہقی (رح) نے (الاسماء والصفات میں) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے آسمان اور زمین کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ زمین کو اتوار اور پیر کے دن پیدا فرمایا اور پہاڑوں کو اور ان میں جو منافع ہیں وہ منگل کے دن پیدا فرمایا اور بدھ کے دن درخت، پانی، شہر، آبادی، کھنڈرات کو پیدا فرمایا یہ چار دن ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین وتجعلون لہ اندادا، ذلک رب العلمین (9) وجعل فیھا رواسی من فوقھا وبرک فیھا وقدر فیھا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ثُمَّ اسْتَوٰٓى [ پھر وہ متوجہ ہوا ] اِلَى السَّمَاۗءِ [ آسمان کی طرف ] وَهِىَ [ اس حال میں کہ وہ ] دُخَانٌ [ دھواں تھا ] فَقَالَ لَهَا [ تو اس نے کہا اس (آسمان ) سے ] وَلِلْاَرْضِ [ اور زمین سے ] ائْتِيَا [ تم دونوں آؤ ] طَوْعًا [ فرمانبردار ہوتے ہوئے ] اَوْ كَرْهًا ۭ [ یا ناپسند کرتے ہوئے ] قَالَتَآ [ ان دونوں نے کہا ] اَتَيْنَا [ ہم دونوں آگئے ] طَاۗىِٕعِيْنَ [ فرمانبردار ہونے والے ہوتے ہوئے ] د خ ن : (س) دخنا ۔ آگ کا دھواں اٹھانا ۔ دخان ، اسم ذات ہے ۔ دھواں ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 11 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد آسمانوں کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا (ثُمَّ اسْتَوٰی اِِلَی السَّمَآءِ وَھِیَ دُخَانٌ) (الآیتین) پھر آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور وہ اس وقت دھواں تھا یعنی اس کا مادہ دخان کی صورت میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا فرمایا اور زمین اور آسمان دونوں سے فرمایا کہ تم دونوں کو ہمارے حکم کے مطابق آنا لازم ہوگا خوشی سے آؤ یا زبردستی سے، یعنی ہمارے احکام تکوینیہ جو تم دونوں میں جاری ہوں گے ان کے مطابق ہی تمہیں رہنا لازم ہوگا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ (طَوْعًا اَوْ کَرْھًا) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے جو تمہارے اندر تاثیر ہوگی اسی کے مطابق ہوگا تم اس کے خلاف نہیں کرسکتے اور یہ مقصد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–18

استعجاب وتوبیخ برکفر خالق کائنات وتہدید بذکرانجام مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض ........ الی ......... وکانوایتقون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور اثبات رسالت نبی کریم ﷺ ، بطور تمہید ان امور کو ذکر کرکے اب ان آیات میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس امر پر اظہار تعجب کیا جارہا ہے کہ خالق کائنات (جس کی قدرت وخالقیت اور الوہیت کے دلائل روزروشن سے زائد واضح ہیں) کا انکار کوئی بھی صاحب عقل انسان کیونکر کرتا ہے، جب بھی انسان عقل اور فطرت کے معیار پر اس بات کو پرکھے گا کبھی بھی انکار خدا اور شرک کے امکان کا تصور بھی نہیں کرسکتا، اس ذلیل میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

10:۔ ” ثم استوی “ پھر اس نے آسمانوں کی تخلیق کا ارادہ فرمایا۔ تو ان کا مادہ بخار کی مانند تھا۔ ” فقضھن الخ تو دو یوم کی مقدار میں اس مادہ دخانیہ سے ساتوں آسمان پیدا فرمائے اور اس طرح زمین و آسمان کی تخلیق چھ ایام میں مکمل ہوئی جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” ان ربکم الذی خلق السموات والارض فی ستتۃ ایام “ (الاعراف :54) ۔ ” واوحی فی کل سما 4 امرھا “ یعنی ہر آسمان میں فرشتے پیدا کیے اور ان کو اپنے اوامر سے آگاہ فرمایا۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔ یا مطلب یہ ہے کہ ہر آسمان میں اپنی حکمت بالغہ کے فرشتے پیدا کیے اور دیگر امور کا فیصلہ فرمایا۔ ای ورتب مقدارا فی کل سماء ما تحتاج الیہ من الملئکۃ وما فیہا من…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–12

ربط آیات پہلے قرآن حکیم کی حقانیت و صداقت اور اس کا وحی الٰہی ہونا بیان کیا اور ساتھ یہ بھی کہ یہ مفصل کتاب ہے ۔ جو عربی زبان میں نازل ہوئی ہے۔ اللہ نے اس کی غر ض وغایت بیان کی اور ساتھ مشرکوں کا رد فرمایا ۔ پھر پیغمبر (علیہ السلام) کی زبان مبارک سے کہلوایا کہ میں تو تم جیسا انسان ہوں اور میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تمہارا معبود بر حق ایک ہی معبود ہے۔ اس کے بعد اللہ نے استقامت علی الدین کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی ترغیب دی ۔ مشرکین کا شکوہ بیان ہوا کہ وہ پاکیزگی اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ ان کے بر خلاف ایمان اور نیکی والوں کے لیے اللہ کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ وَہِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرْہًا۝ 0 ۭ قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ۝ 11 استوا أن يقال لاعتدال الشیء في ذاته، نحو : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] ( س و ی ) المسا واۃ کسی چیز کے اپنی ذات کے اعتبار سے حالت اعتدال پر ہونے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] یعنی جبرائیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

(4) ثم استوٰی الی السماء وھی دخان یہ استویٰ بمعنی توجہ و قصد ہے، بولتے ہیں استویٰ الی مکان کذا اذا توجہ الیہ توجھا لا یلتفت معہ الیٰ عمل آخر وھومن الاستوی الذی ھو ضد الاعوجاج دمنہ قولہ تعالیٰ فاستقیموا الیہ (من الکبیر للرازی رحمۃ اللہ) مطلب یہ کہ زمین بنانے کے بعد آسمان بنانے کا قصد کیا اور یہ ایک دھواں تھا۔ اجزائِ لایتجزّٰی تھے جن میں ضو نہیں پیدا کی گئی تھی۔ (5) ہیئتِ جدیدہ جو آسمانوں کو فضاء محض قرار دیتی ہے اور نیرین اور دیگر ثوابت وسیارات کو اپنے مدار خاص پر متحرک مانتی ہے اور زمین کو بھی ایک سیارہ بلکہ چھوٹا سا تارا کہتی ہے، اس کے نزدیک بھی کتب سماویہ کے بیان سے کچھ محال لازم نہیں آتا،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَـآئِ وَھِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَھَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا ط قَالَـتَـآ اَتَیْنَا طَـآئِعِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 11) (پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ محض دھواں تھا، پس اس کو اور زمین کو حکم دیا کہ تم ہمارے احکام کی تعمیل کرو طوعاً یا کرہاً ، دونوں نے کہا، ہم آگئے فرماں برداروں کی طرح۔ ) ثُمَّ … جس طرح ترتیبِ زمانی کے لیے آتا ہے، اسی طرح ترتیبِ بیان کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ثُمَّ سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے زمین بنائی اور اس کے بعد آسمان بنایا۔ استوائِ شمس سے مراد اسْتَوٰٓی اِلَی الشَّیِ ئٍ کے معنی ہیں، اس کی طرف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–12

فہم القرآن ربط کلام : مشرک اور کافر جس حقیقی الٰہ کے ساتھ شرک اور کفر کرتے ہیں صرف اسی ایک ذات نے زمین و آسمانوں اور پہاڑوں کو بنایا ہے۔ کیا کوئی ہستی ہے ؟ جس نے یہ کام کیے ہوں ؟ قرآن مجید نے یہ بات بھی بار ہا دفعہ بتلائی ہے کہ رمینوں آسمانوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے نہیں بنایا اور نہ ہی ان کے بنانے میں کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک تھا۔ اس لیے یہاں کفار سے استفسار کیا گیا ہے کہ کیا تم اس ذات کبریا کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو یوم میں پیدا فرمایا۔ تم بتوں، بزرگوں اور دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ حالانکہ تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا ایک ” اللہ “ ہی عبادت کے لائق ہے۔ اسی نے زمین پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تخلیق سماء : ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًااَوْ كَرْهًا ۭ قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ (پھر آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور وہ دھواں سا تھا۔ پس اس نے زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا زبردستی سے دونوں نے عرض کیا ہم خوشی سے حاضر ہیں) ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے آسمان کو بنانے اور جیسا چاہا اس طرح ایجاد کرنے کو مجاز کے اندازے سے بیان فرمایا جیسا محاورہ عرب ہے۔ فعل فلان کذا ثم استوی الی اعمل کذا۔ اس سے انکا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس نے اول کو مکمل کیا اور دوسرے کی ابتداء کی۔ نکتہ نمبر 1: اس آیت سے یہ بات سمجھ آرہی ہے کہ آسمان کی تخلیق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10، وجعل فیھا، یعنی زمین میں، رواسی، پہاڑجمے ہوئے، من فوقھا، زمین کے اوپر، وبارک فیھا، یعنی زمین میں ان سمندروں ، نہروں ، درختوں اور پہلوں کے سات جو اس میں پیداکیے ہیں۔ ہرشی کا رزق اللہ نے تقسیم کردیاہے ، وقدرفیھا اقواتھا، حسن اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ زمین میں بندوں اور مویشیوں کے رزق تقسیم کیے گئے ہیں اور عکرمہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ہر شہر میں وہ رزق مقرر کیا گیا جو دوسرے میں نہیں مقرر کیا گیا تا کہ انسان ایک شہر سے دوسرے شہرتک تجارت کرکے اپنی معاش کا انتظام کرسکیں۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ روٹی کا ایک حصہ زمین کے لیے مقرر کیا اور جو کا ایک حصہ کے لیے اور مچھلی کو ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–12

9۔ 12۔ ان آیتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین اور پہاڑ اور جو کچھ زمین میں پیداوار کی چیزیں ہیں پہلے چار روز میں یہ سب کچھ پیدا کیا گیا ہے اور پھر دور و زمین آسمان پیدا کئے گئے اور دالنازعات کی آیت ولارض بعد ذلک دحھا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کے پیدا ہونے کے بعد زمین پھیلائی گئی ہے اسی واسطے اکثر مفسرین نے ان دونوں آیتوں کو ملا کر یہ اعتراض کیا ہے کہ ایک آیت سے زمین کا آسمان سے پہلے پیدا کرنا معلوم ہوتا ہے اور دوسری آیت سے آسمان کے بعد پھر طرح طرح سے اس اعتراض کا جواب بھی دیا ہے اور یہ اعتراض کچھ آج کل کا نیا اعتراض نہیں ہے کیونکہ صحیح بخاری 1 ؎ میں (1 ؎ بخاری شریف تفسیر سورة حم السجدۃ ص 712…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–12

آیت 9 اللہ تبارک و تعالیٰ تعجب کے ساتھ کفار کے کفر کا انکار کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ہر سر گھڑ رکھے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا ہوا ہے، ان کی عبادت کرتے ہیں، انہیں رب عظیم اور مالک کریم کے برابر گردانتے ہیں، جس نے اتنی بڑی زمین کو صرف دو دن میں پیدا کیا، پھر دو دن میں اس کو ہموار کیا، اس کے اندر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اسے مٹنے، ہلنے اور عدم استقرار سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کی تکمیل کی، پھر پھیلا کر ہموار کیا، اس میں سے خوراک اور اس کی توابعات نکالیں (آیت) ” چار دن میں، سوال کرنے والوں کے لئے یکساں ہے۔ “ یہ اس بارے میں سوال کرنے والوں کے لئے ٹھیک ٹھیک جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

20 زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کے حکم وارشاد کے آگے سرنگوں : سو اس سے زمین آسمان کی اللہ تعالیٰ کے حضور اطاعت و فرمانبرداری کی شان کو واضح فرما دیا گیا۔ سو یہ عظیم الشان کرے اپنے خالق ومالک کے حکم وارشاد کے آگے سرنگوں اور تسلیم خم ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے آسمان اور زمین کو حکم دیا کہ حاضر ہوجاؤ تم دونوں خوشی سے یا مجبوری سے تو ان دونوں نے عرض کیا کہ ہم حاضر ہوئے خوشی سے "۔ یعنی جب حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے ان کی تخلیق و پیدائش کا ارادہ فرمایا تو یہ دونوں مطیع و مامور کی طرح آموجود ہوگئے کہ وہاں اسباب و اوقات کی ضرورت کا کوئی سوال نہیں بلکہ حکم و ارادہ کی دیر ہوتی ہے اور بس۔ نیز جب ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–18

دنیا کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آخرت پر دھیان دینا ضروری ہے۔ اللہ کا حکم نبی ﷺ کی زبانی تشریح : ان آیات کو پڑھنے سے مسلمان کے خصوصی اعتقادات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ رسول کو عام انسانوں پر فوقیت کیوں دی گئی۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کی بہترین مثال ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دے۔ سب سے پہلے وہ اللہ کی وحدانیت کا حکم سناتا ہے وہ واحد اس لیے ہے کہ اس جیسا خالق، مہربان، منتظم، انصاف کرنے والا اور باخبر اور کوئی نہیں جن، بشر یا فرشتے کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اس کی بنائی ہوئی تمام مخلوقات بہترین، مکمل اور نقص سے پاک ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 9–17

آیات 9 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ ان سے کہیے کہ تم اس ذات کو ماننے سے انکار کر رہے ہو جس نے دو روز میں زمین کو پیدا فرمایا اور اس کے مقابل دوسروں کو لاتے ہو اور انہیں معبود مانتے ہو جو کچھ پیدا تو کیا کرتے الٹا خود مخلوق کو یہی ذات سارے جہانوں کی پیدا کرنے والی بھی ہے اور پالنے والی بھی یہ اس کی حکمت کہ اس نے دوروز میں زمین بنائی پھر اس میں بھاری پہاڑ اور بیشمار برکات بےحساب نعمتیں رکھیں اپنی ہر ہرمخلوق کے لیے اس میں غذائیں سمودیں اور یہ ساراکام چار روز میں مکمل فرمایا کہ ساری مخلوق کی ہر ضرورت کو ہمیشہ پورا کرتی رہے گی اور یہ معنی بھی ہے کہ یہود مدینہ نے آپ سے زمین وآسمان کی تخلیق کے بارے میں جو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 دھوئیں سے مراد قدیم مفسرین نے پانی کے بخارات لئے ہیں۔ (شوکانی) انہی کو موجودہ سائنس دان ” سیدیم “ یا ” سحابیہ “ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی بادلوں کے منتشر اجزاء۔ واللہ اعلم۔13 ائتیا ( آجائو) یعنی میرے حکم کی اطاعت کرو۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ پانی کے چشمے بہا، اپنے نباتات کے خزانے نکال اور آسمان کو حکم دیا کہ سورج، چاند اور ستارے نکالو وغیرہ ( شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:11) ثم : حرف عطف ہے بمعنی پھر۔ یہ دو طرح مستعمل ہے (1) ماقبل سے مابعد کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے بروئے زمانہ ۔ اسے تراخی زمانی کہتے ہیں۔ (2) فرق مرتبہ کے لئے۔ (یعنی ادنی سے اعلیٰ کی طرف ترقی کو ظاہر کرنے کے لئے) تراخی رتبہ (تراخی، دیر، فاصلہ) ۔ ارض و سماء کی تخلیق و ترتیب کے بیان میں مفسرین نے ہر دو معانی اختیار کئے ہیں۔ اور اپنے اپنے قول کی تائید میں براہین و دلائل دے کر طویل بحث کی ہے ۔ یہاں اس لمبی چوڑی بحث سے اجتناب ہی بہتر سمجھا گیا ہے۔ استوی۔ مادہ سوی سے باب افتعال سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس نے قصد کیا۔ اس نے قرار پکڑا۔ وہ قائم ہوا۔ وہ سنبھل گیا۔ وہ سیدھا بیٹھا۔ جب اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–18

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 18 : رواسی ( بھاری پہاڑ ، بوجھ) اقوات ( قوت) ( کھانے کی چیزیں) قدر (اس نے مقرر کیا ، اندازہ کیا) دخان ( دھواں) طوعا (خوشی خوشی) کرھا ( زبردستی) طالعین (کہا ماننے والے) قضی (اس نے فیصلہ کیا) زینا (ہم نے زینت دی ، خوبصورت بنایا) مصابیح (چراغ) صعقۃ (کڑک) اشد (زیادہ طاقت والا) یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں) ریح (ہوا) صرصر (سخت ، تند و تیز) نحسات (آفتوں والا) اخزی (زیادہ ذلیل کرنے والا) استحبوا (انہوں نے پسند کیا) الھون ( ذلیل و رسوال کرنا) تشریح : آیت نمبر 9 تا 18 : ان آیات میں کفار و مشرکین کو ان کے کفر و شرک پر آگاہ کرتے ہوئے زمین ، آسمان اور ان کے درمیان جتنی بھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–14

کافروں کے قدم بقدم چلنے کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اگر یہ کفارلوگ اس سیدھی سیدھی نصیحت کو ٹال دیویں اور شرک وکفر سے باز نہ آویں تو اے محبوب ﷺ ان سے کہہ دیاجائے کہ میں تم کو عاد اور ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ جو تمہارا حال ہے وہی انکا تھا کہ جس طرح آگے پیچھے ایک کے بعد ایک وہ قومیں پیدا ہوئیں اسی طرح آگے پیچھے ان کے پاس پیغمبر بھیجے گئے اور پیغمبروں نے ان قوموں کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کی نصیحت بھی کی مگر جس طرح بےٹھکانے کی باتیں اللہ کے رسول سے تم لوگ کرتے ہو کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا، تو کوئی فرشتہ ہونا چاہیے ایسی ہی باتیں ان کافروں نے اللہ کے پیغمبروں سے کیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–11

[5] یہ سارے کام یعنی زمین کی خلقت، اس کے اندر پہاڑ گاڑنے اور اس پر بسنے والوں کے لئے خوراک مقدر کرنے میں پورے چار دن لگے۔ [6] یعنی جو لوگ آسمان اور زمین کی تخلیق کے متعلق سوالات کر رہے ہیں انہیں بتلا دو کہ یہ سب کام چار دن میں ہوئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–13

سلسلہ تکوین 1: تکوین کائنات کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ زمین کو دو مدید وقفوں میں پیدا کیا ہے ۔ اور پھر اس میں پہاڑوں کو استوار کیا ہے ۔ اور ضروری برکات پھیلائی ہیں ۔ اور غذاؤں کا سامان مہیا کیا ہے ۔ اور یہ سب کچھ چار وقفوں میں قرار پایا ۔ پھر آسمان کی جانب توجہ مبذول کی ۔ اور ان کو کئی بلندیوں میں تقسیم فرمایا ۔ اور یہ بھی دو قرنوں میں ہوا مگر یہ دو قرن پہلے دو قرنوں میں داخل ہوا ۔ اس کے بعد سطح دنیا کو بوقلمون چراغوں سے آراستہ فرمایا ۔ اور ان میں حفاظت کے لئے پورا پورا انتظام کردیا ۔ کہ شیطانی قوتیں ملا واعلیٰ کے اسرار نہ معلوم کرلیں ۔ فرمایا کہ ساری کائنات میں دیکھو تمہیں معلوم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) پھر آسمان کی طرف اللہ تعالیٰ نے توجہ فرمائی اور وہ اس وقت ایک دھواں سا تھا سو اس سے اور زمین سے ارشاد فرمایا تم دونوں حاضر ہوجائو خوشی سے یا ناخوشی سے انہوں نے عرض کیا ہم دونوں خوشی سے حاضر ہیں اور آپ کا حکم بجا لانے کو موجود ہیں۔ یعنی آسمان کا مادہ جو زمین کے صورت سے پہلے تخلیق ہوچکا تھا اس کی جانب توجہ فرمائی تاکہ اس کو سات حصوں میں تقسیم فرمائیں اور آسمان کی تعداد سات مقرر فرمائی۔ اس وقت زمین و آسمان کو ارشاد ہوا کہ تم کو ہمارے احکام کی تعمیل تو کرنی ہی ہوگی تم میں جو ہم نے شعور رکھا ہے اس کی بنا پر حکم کیا جاتا ہے کہ ہمارے جو احکام تکوینیہ تم میں جاری ہوتے رہیں گے ان کی تعمیل خوش سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ یعنی اس کا مادہ جو کہ مادہ ارض کے بعد اور صورت موجودہ ارض کے قبل بن چکا تھا اسی میں تھا۔ 6۔ مطلب یہ کہ ہمارے احکام تکوینیہ جو تم دونوں میں جاری ہوا کریں گے، تو ان کا جاری ہونا تو تمہارے اختیار سے خارج ہے، لیکن جو ادراک و شعور تم کو عطا ہوا ہے اس سے تمہاری حالت کے مناسب رضا و عدم رضا دونوں کا تحقق ہوسکتا ہے، سو تم دیکھ لو کہ ہمارے ان احکام پر راضی رہا کرو گے یا کراہت رکھو گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ نے چار دنوں میں اس زمین کے اندر کے خزائن اور دفینے پیدا کیے 10 ؎ زمین کے اندر اللہ رب کریم نے پہاڑ گاڑ دئیے جو ہر ظاہر آنکھ رکھنے والے کو اپنی مہیب شکل و صورت میں نظر آتے اور ان پہاڑوں کے اندر جو دفینے اور خزائن انسانوں کے لیے پوشیدہ رکھے ہیں ان کا شمار نہیں کیا جاسکتا اس وقت تک ان دفینوں اور خزانوں کو اگر شمار کرنے کی ہمت کی جائے تو یقینا وہ بیسیوں سے متجاوز ہیں اور ابھی نہ معلوم کیا کیا چیزیں ہیں جو دریافت نہیں ہوئیں لیکن قرآن کریم نے مجمل طور پر ان پر ان سب کی طرف اشارہ کردیا ہے اور یہ اشارہ ہر اس انسان کے لیے ہے جو اس طرح ان کے دریافت کرنے کی جستجو رکھتا ہے جس طرح قرآن کریم نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–12

فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْ‌ضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْ‌هًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ (and said to it and to the earth, "Come [ to My obedience ], both of you, willingly or unwillingly." Both said, "We come willingly." - 41:11) This command addressed to the earth and sky and their compliant and obedient reply, according to some exegetes, is a metaphorical expression for the readiness of the earth and the sky to comply with every order from Allah Almighty. But Ibn ` Atiyyah and other leading research scholars have stated that this is no metaphor it is based on reality. Allah Almighty had…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14 Three things need to be explained here: First, by "heaven" is meant the whole universe, as becomes obvious from the following sentences. In other words, "turning to the heaven" means that Allah turned to the creation of the universe. Second, by "smoke" is implied the initial and primary stage of matter, in which it lay diffused in space in a shapeless, dust like condition before the formation of the universe. Scientists of the modern age describe the same thing as nebulae, and the same also is their view about the beginning of the universe: that is, before creation the matter of which the…

Read the full tafseer →