Explained with ayahs 9–12
تخلیق کائنات کا مرحلہ وار ذکر۔
ہر چیز کا خالق ہر چیز کا مالک ہر چیز پر حاکم ہر چیز پر قادر صرف اللہ ہے۔ پس عبادتیں بھی صرف اسی کی کرنی چاہئیں۔ اس نے زمین جیسی وسیع مخلوق کو اپنی کمال قدرت سے صرف دو دن میں پیدا کردیا ہے۔ تمہیں نہ اس کے ساتھ کفر کرنا چاہے نہ شرک۔ جس طرح سب کا پیدا کرنے والا وہی ایک ہے۔ ٹھیک اسی طرح سب کا پالنے والا بھی وہی ایک ہے۔ یہ تفصیل یاد رہے کہ اور آیتوں میں زمین و آسمان کا چھ دن میں پیدا کرنا بیان ہوا ہے۔ اور یہاں اس کی پیدائش کا وقت الگ بیان ہو رہا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ پہلے زمین بنائی گئی۔ عمارت کا قاعدہ یہی ہے کہ پہلے بنیادیں اور نیچے کا حصہ تیار کیا جاتا ہے پھر اوپر کا…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 16
ان آیات کو سمجھنے کے لیے تفہیم القرآن کے حسب ذیل مقامات کا مطالعہ مفید ہوگا۔ جلد اول، البقرہ، حاشیہ 34۔ جلد دوم، الرعد، حاشیہ 2، الحجر، حواشی 8 تا 12۔ جلد سوم، الانبیاء، حواشی 34۔ 35، المومن، حاشیہ 15۔ جلد چہارم، یٰس، 37۔ الصافّات، حواشی نمبر 5۔ 6)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(آیت) ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًااَوْ كَرْهً آ قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ۔ یہ آسمان و زمین کو خطاب کر کے حکم دینا اور ان کا اطاعت و فرمانبرداری سے جواب دینا بعض مفسرین کے نزدیک مجاز ہے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہر کام کے لئے تیار پائے گئے۔ مگر ابن عطیہ اور دوسرے محققین ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ اس میں کوئی مجاز نہیں، سب اپنی حقیقت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین میں شعور و ادراک خطاب کے سمجھنے کا بھی پیدا فرما دیا تھا اور ان کو گویائی کی طاقت بھی جواب دینے کے لئے عطا فرما دی تھی۔ تفسیر بحر محیط میں اس کو…
Read the full tafseer →ساتوں آسمانوں کی تکمیل
اس سے معلوم ہوا کہ جس وقت آسمان کی طرف توجہ فرمائی ہے اس قت ساتوں آسمانوں کا ہیولیٰ تو موجود تھا اگرچہ ابھی وہ تکمیل عمل (INISNING TOUCH) کا محتاج تھا۔ اس کا اشارہ جمع کی ضمیر اور بعد کے قرائن سے نکلتا ہے۔ فرمایا کہ بس ان کا فیصلہ فرما دیا کہ وہ سات آسمان بن جائیں۔
’ وادحی فی کل سماء امرھا ‘ اور ان میں سے ہر آسمان کی اس کائنات کے مجموعی نظام میں جو ڈیوٹی ہے وہ اس کو وحی فرمائی۔
’ وزینا السمآء الدنیا بمصابیع ‘ اور آسمان زیریں کو ستاروں کے قمقموں سے سجایا۔ یہاں اسلوب کی یہ تبدیلی ملحوظ رہے کہ اوپر کی باتیں غائب کے اسلوب میں ہیں اور یہ بات متکلم کے اسلوب میں۔ اسلوب کی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12۔ 1 یعنی خود آسمانوں کو یا ان میں آباد فرشتوں کو مخصوص کاموں اور وظائف کا پابند کردیا۔
12۔ 2 یعنی شیطان سے نگہبانی، جیسا کہ دوسرے مقام پر وضاحت کی ہے ستاروں کا ایک تیسرا مقصد دوسری جگہ اَھْتِدَاء (راستہ معلوم کرنا) بھی بیان کیا گیا (وَعَلٰمٰتٍ ۭ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ) 16۔ النحل :16)
Read the full tafseer →7: یعنی آسمانوں کو نظام چلانے کے لیے جو احکام مناسب تھے، وہ متعلقہ مخلوقات کو عطا فرمادئیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت نمبر 9 تا 12
اے پیغمبر ان سے کہو کہ تم جب کفر کرتے ہو اور لاپرواہی میں یہ عظیم بات کہہ جاتے ہو ، یہ تو تم ایک بہت ہی بڑے جرم کا ارتکاب کرتے ہو ، یہ نہایت ہی قبیح اور ناپسندیدہ فعل ہے ، تم ایک ایسی ذات کا انکار کرتے ہو ، جس نے زمین کو پیدا کیا ، اس کے اندر پہاڑ پیدا کیے ، ان کے اندر برکات پیدا کیں ، اس زمین کے اندر رزق کی تمام ضروریات پوری پوری رکھ دیں ، جس نے آسمانوں کو پیدا کیا اور یہ سب کام اس نے چار دنوں میں سرانجام دیئے اور تمام مانگنے والوں کے لیے ان کی ضروریات مہیا کردیں جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ، منظم کیا ، خصوصاً دنیا سے قریب والے آسمان کو خوب مزین کیا ، زمین اور آسمان نے اس کے…
Read the full tafseer →6 یعنی چار دن وہ تھے اور دو دن میں آسمان بنائے کل چھ دن ہوگئے، جیسا کہ دوسری جگہ " ستۃ ایام " کی تصریح ہے۔
(تنبیہ) جن احادیث مرفوعہ میں تخلیق کائنات کے متعلق دونوں کی تعیین و ترتیب آئی ہے کہ فلاں فلاں چیز اللہ نے ہفتہ کے فلاں فلاں دن میں پیدا کی ان میں کوئی حدیث صحیح اب تک نظر سے نہیں گزری۔ حتیٰ کہ ابوہریرہ کی حدیث کے متعلق جو صحیح مسلم ہے ابن کثیر لکھتے ہیں۔ " وہومن غرائب الصحیح وقد عللہ البخاری فی التاریخ فقال رواہ بعضہم عن ابی ہریرۃ عن کعب الاحبار وہوالاصح۔ " اور روح المعانی میں فقال شافعی سے نقل کیا ہے " تفردبہ مسلم و قد تکلم علیہ الحفاظ علی ابن المدینی والبخاری وغیرہما وجعلوہ من کلام کعب…
Read the full tafseer →آیت 12 { فَقَضٰہُنَّ سَبْعَ سَمٰواتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ } ”پھر اس نے ان کو سات آسمانوں کی شکل دے دی ‘ دو دنوں میں۔“
قرآن حکیم میں سات مقامات پر یہ ذکر ملتا ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق چھ دنوں میں ہوئی ‘ لیکن یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں نہ صرف ان چھ دنوں کی مزید تفصیل break up دی گئی ہے بلکہ اس تخلیقی عمل کی ترتیب sequence کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔ یعنی پہلے زمین بنی اور سات آسمان اس کے بعد وجود میں آئے۔ لیکن ابھی تک ہم نہ تو مذکورہ چھ دنوں کے مفہوم کو سمجھ سکے ہیں اور نہ ہی زمین و آسمان کے تخلیقی عمل کی ترتیب سے متعلق سائنٹیفک انداز میں کچھ جان سکتے ہیں۔ بہر حال ہمارا یمان ہے کہ مستقبل میں…
Read the full tafseer →10 زمین و آسمان کی تخلیق ترتیب اور زمانہ تخلیق :۔ قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان یعنی کائنات کو چھ ایام (یا ادوار) میں بنایا۔ پھر بعض روایات میں بھی یہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہفتہ میں فلاں کام کیا تھا اور اتوار کو فلاں اور پیر کو فلاں اسی طرح چھ دنوں کے الگ الگ کام بھی مذکور ہیں۔ حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ ایسی سب روایات ناقابل احتجاج اور اسرائیلیات سے ماخوذ ہیں۔ لہذا ان کا کچھ اعتبار نہیں البتہ کسی مقام پر تو یہ مذکور ہے کہ زمین آسمانوں سے پہلے پیدا کی گئی اور کسی مقام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین بعد میں پیدا ہوئی اور کبھی یہ اشتباہ پیدا ہونے لگتا ہے کہ…
Read the full tafseer →10۔ یہ احکام ان آسمانوں کے فرشتوں کو ملے یا جو مخلوق وہاں آباد ہو اس کو، اے اوحی الی اھلھا باوامرہ ونواھیہ (بیضاوی) (آیت) ” فی یومین “۔ دوروز یہ، اور چار روز قبل والے، میزان وہی چھ روز کی ہوئی۔
11۔ (اور اتنے محکم انتظامات بجز اس خدائے واحد، ہمہ تواں وہمہ داں کے اور کون کرسکتا ہے ؟ وما احسن ھذہ الخاتمۃ لان تلک الاعمال لاتمکن الابقدرۃ کاملۃ وعلم محیط (کبیر) (آیت) ” العزیز العلیم۔ العزیز “۔ میں اشارہ ہے کمال قدرت کی جانب اور (آیت) ” العلیم “۔ میں کمال علم کی جانب۔ (آیت) ” السمآء الدنیا “۔ قریب والے آسمان سے مراد اہل زمین سے قریب ترین آسمان ہے۔ یہی جو زمین سے دکھائی دے رہا ہے۔ (آیت) ” حفظا “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
آیت نمبر 9 تا 18
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے ! کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو، اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین دو روز میں پیدا کردی یعنی اتوار اور پیر میں اَئِنَّکُمْ میں دوسرے ہمزہ کی تحقیق و تسہیل کے ساتھ اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کرکے تمام جہانوں کا مالک وہی ہے عالمین عالَم کی جمع اور وہ اللہ کے علاوہ ہے عالمین عالَمْ مختلف الانواع ہونے کی وجہ سے جمع اور ذوی العقول کو (غیر ذوی العقول پر) غلبہ دینے کی وجہ سے یاء ونون کے ساتھ لایا گیا ہے، اور اس نے زمین میں اس کے اوپر جمے رہنے والے پہاڑ رکھ دیئے یہ جملہ مستانفہ ہے، اس کا عطف الذی کے صلہ پر فصل بالاجنبی کی وجہ سے جائز…
Read the full tafseer →فقضہ من سبع سموت فی یومین سو دو روز میں ان کو سات آسمان بنا دیا۔
ھُنَّکی ضمیر سماء کی طرف راجع ہے ‘ کیونکہ سماء معنی کے لحاظ سے جمع ہے ‘ ضمیر مبہم ہے اور سبع سمٰوٰتاسکی توضیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے سات آسمان ایجاد کر دئیے ‘ یعنی مطلق عدم سے وجود میں لے آیا اور ان کو محکوم کردیا۔
یَوْمَیْن یعنی پنچ شنبہ اور جمعہ۔ محلی نے لکھا ہے : جمعہ کی آخری ساعت میں تخلیق کائنات سے فارغ ہوگیا۔ اسی آخری ساعت میں اللہ نے آدم کو پیدا کیا ‘ اسی لئے اس جگہ سواءً نہیں فرمایا۔
میں کہتا ہوں : شاید محلی کے اس قول کا مدار اس حدیث پر ہے جو مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کی ہے ‘ حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ…
Read the full tafseer →غرض کہ اللہ تعالیٰ نے دو روز میں اوپر نیچے سات آسمان بنا دیے کہ ہر ایک دن کی مقدار ہزار سال کے برابر تھی اور ہر ایک آسمان پر اس کے رہنے والے پیدا کردیے اور اس کے لیے مناسب حکم بھیج دیا اور سب سے پہلے آسمان کو ستاروں سے سجا دیا اور ستاروں کے ذریعے شیاطین سے اس کی حفاظت کی چناچہ بعض ستارے تو آسمان کی زینت ہیں کہ وہ اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتے اور بعض خشکی سمندری اور تاریک راستوں میں مسافروں کو راستہ بتاتے ہیں اور بعض شیاطین کے مارنے کے لیے مقرر ہیں۔ یہ اس ذات کی طرف سے تدبیر ہے جو کافر کو سزا دینے پر غالب اور مومن و کافر کو اور اس تدبیر کو جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →(1) فقضھن سبع سموات فی یومین : یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان کو جو دخان کی صورت میں تھا، وہ دونوں میں پورے سات آسمان بنادیا۔
(2) و اوحی فی کل سمآء امرھا : یعنی کائنات کے اس نظام میں ہر آسمان کی اور اس میں رہنے والی ہر مخلوق کی جو ذمہ داری تھی وہ اس کی طرف وحی فرما دی کہ تمہیں یہ کام کرنا ہے اور اس طرح کرنا ہے۔
(3) و زینا السمآء الدنیا بمصابیح و حفظاً :”حفظاً“ (حفظنا ھا“ کا مفعول مطلق ہے جو یہاں مقدر ہے، اور اس کا عطف لفظ مقدر ”زینۃ“ پر ہے جو ”زینا السمآء الدنیا“ کا مفعول مطلق ہے۔ گویا اصل جملہ یہ تھا :”وزینا السماء الدنیا بمصابیح زینۃ وحفناھا بھا حفظا“ لفظ ”زینا“ کی دلالت کی وجہ سے ”زینۃ“ کو حذف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
(قل ائنکم لتکفرون۔۔۔۔ )
1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 169
قل ائنکم لتفکرون بالذی خلق الارض فی فومین ائنکم دو ہمزوں کے ساتھ ہے دوسرا ہمزہ بین بین ہے اور دو ہمزوں کے درمیان الف ہے اس کا معنی شرمندہ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو حکم دیا تاکہ انہیں شرمندہ کیا جائے اور ان کے فعل پر تعجب کا اظہار کیا جائے معنی ہے تم کیوں اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہو جبکہ وہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ؟ یومین سے مراد اتوار اور سوموار ہے انداد ًاکا معنی اضداد اور شریک ہیں وجعل فیھا ھا ضمیر سے مراد زمین ہے، رواسی سے مراد پہاڑ ہیں۔ وہب نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو اسے پانی پر پھیلا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
1:۔ ابن جریر ونحاس (رح) (فی ناسخہ) وابوالشیخ (رح) فی العظمہ) اور حاکم (رح) (وصححۃ) وابن مردویہ اور بیہقی (رح) نے (الاسماء والصفات میں) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے آسمان اور زمین کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ زمین کو اتوار اور پیر کے دن پیدا فرمایا اور پہاڑوں کو اور ان میں جو منافع ہیں وہ منگل کے دن پیدا فرمایا اور بدھ کے دن درخت، پانی، شہر، آبادی، کھنڈرات کو پیدا فرمایا یہ چار دن ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین وتجعلون لہ اندادا، ذلک رب العلمین (9) وجعل فیھا رواسی من فوقھا وبرک فیھا وقدر فیھا…
Read the full tafseer →فَقَضٰهُنَّ [ تو اس نے بنایا ان کو ] سَبْعَ سَمٰوَاتٍ [ سات آسمان ] فِيْ يَوْمَيْنِ [ دو دنوں میں ] وَاَوْحٰى فِيْ كُلِّ سَمَاۗءٍ [ اور اس نے وحی کیا ہر آسمان میں ] اَمْرَهَا ۭ [ اس کا حکم ] وَزَيَّنَّا [ اور ہم نے زینت دی ] السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا [ دنیوی آسمان کو ] بِمَصَابِيْحَ ڰ [ چراغوں سے ] وَحِفْظًا ۭ [ اور محفوظ کیا ہوا ] ذٰلِكَ [ یہ ] تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ [ علیم بالادست (ہستی ) کا طے شدہ امر ہے ]
Read the full tafseer →(فَقَضَاھُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ ) (سو اللہ تعالیٰ نے دو دن میں سات آسمان بنا دئیے) (وَاَوْحٰی فِیْ کُلِّ سَمَاءٍ اَمْرَھَا) (اور ہر آسمان میں اس کے مناسب اپنا حکم بھیج دیا) یعنی جن فرشتوں سے جو کام لینا تھا وہ ان کو بتادیا۔
(وَزَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِمَصَابِیحَ وَحِفْظًا) (اور ہم نے قریب والے آسمان کو ستاروں سے زینت دی اور ان ستاروں کو حفاظت کا ذریعہ بنا دیا) شیاطین اوپر کی باتیں سننے کے لیے اوپر جاتے ہیں تو یہ ستارے انہیں مارتے ہیں جیسا کہ سورة الملک کی آیت (وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنَاھَا رُجُوْمًا للشَّیَاطِینِْ ) میں بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
استعجاب وتوبیخ برکفر خالق کائنات وتہدید بذکرانجام مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض ........ الی ......... وکانوایتقون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور اثبات رسالت نبی کریم ﷺ ، بطور تمہید ان امور کو ذکر کرکے اب ان آیات میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس امر پر اظہار تعجب کیا جارہا ہے کہ خالق کائنات (جس کی قدرت وخالقیت اور الوہیت کے دلائل روزروشن سے زائد واضح ہیں) کا انکار کوئی بھی صاحب عقل انسان کیونکر کرتا ہے، جب بھی انسان عقل اور فطرت کے معیار پر اس بات کو پرکھے گا کبھی بھی انکار خدا اور شرک کے امکان کا تصور بھی نہیں کرسکتا، اس ذلیل میں…
Read the full tafseer →12:۔ ” وزینا السماء “ وحفظا فعل حفظناھا کا مفعول مطلق ہے اور ہم نے سب سے نچلے آسمان کو شمعوں کی مانند روشن ستاروں سے آراستہ کردیا اور آسمانوں کو ہر قسم کی آلات و حادثات یا شیاطین سے محفوظ کردیا۔ ستارے فضا میں معلق ہوں۔ جیسا کہ جدید سائنسدانوں کا خیال ہے یا آسمانوں سے اوپر کرسی (آٹھویں آسمان) میں مرکوز ہوں جیسا کہ قدیم ریاضی دانوں کا نظریہ ہے۔ ہر حال میں وہ پہلے آسمان ہی کی زینت و آرائش ہیں۔
13:۔ ” ذلک تقدیر العزیز العلیم “ یہ سب کچھ اس قادر وعلیم کی تدبیر وتقدیر ہے جو ہر چیز پر قادر اور سب پر غالب ہے اور جس کے علم محیط سے کوئی چیز باہر نہیں۔ یہ سارا نظام کائنات اس نے ایک نہایت ہی محکم طریقہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ربط آیات
پہلے قرآن حکیم کی حقانیت و صداقت اور اس کا وحی الٰہی ہونا بیان کیا اور ساتھ یہ بھی کہ یہ مفصل کتاب ہے ۔ جو عربی زبان میں نازل ہوئی ہے۔ اللہ نے اس کی غر ض وغایت بیان کی اور ساتھ مشرکوں کا رد فرمایا ۔ پھر پیغمبر (علیہ السلام) کی زبان مبارک سے کہلوایا کہ میں تو تم جیسا انسان ہوں اور میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تمہارا معبود بر حق ایک ہی معبود ہے۔ اس کے بعد اللہ نے استقامت علی الدین کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی ترغیب دی ۔ مشرکین کا شکوہ بیان ہوا کہ وہ پاکیزگی اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ ان کے بر خلاف ایمان اور نیکی والوں کے لیے اللہ کے…
Read the full tafseer →فَقَضٰىہُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِيْ يَوْمَيْنِ وَاَوْحٰى فِيْ كُلِّ سَمَاۗءٍ اَمْرَہَا 0 ۭ وَزَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ 0 ۤۖ وَحِفْظًا 0 ۭ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ 12
قضی
الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی:
وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک،
( ق ض ی ) القضاء
کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى…
Read the full tafseer →(7) آیت میں زمین کا پیدا کرنا دو روز میں فرمایا اور اس کے اقوات و ازراق کی تدبیر و درستی کرنا چار روز میں فرمایا۔ یہ چھ روز ہوئے پھر آسمانوں کا بنانا دو روز میں ذکر ہوا، فقضاھن سبع سمٰوٰت فی یومین اس حساب سے یہ آٹھ روز ہوتے ہیں، حالانکہ قرآن مجید میں اکثر جائے ان سب کا چھ روز میں پیدا ہونا بیان کیا ہے۔ ستۃ ایام کا لفظ آیا ہے۔ پس ان دونوں کلاموں میں تعارض پایا گیا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اربعۃ ایام جداگانہ نہیں جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے بلکہ وہ پہلے دو روز مل کر کہ جن میں زمین کا پیدا ہونا بیان ہوا ہے اور محاورئہ عرب میں پہلے کام کی مدت کو اس کے بعد کے دوسرے کام کی مدت میں جو اسی جنس کی شامل کرکے…
Read the full tafseer →فَقَضٰھُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَاَوْحٰی فِیْ کُلِّ سَمَآئٍ اَمْرَھَا ط وَزَیَّـنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ صلے ق وَحِفٰظًا ط ذٰلِکَ تَقْدِیْرُالْعَزِیْزِالْعَلِیْمِ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 12)
(تب اس نے دو دن کے اندر ان کے سات آسمان ہونے کا فیصلہ فرما دیا، اور ہر آسمان میں اس کے فرائض وحی کردیئے، اور ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے آراستہ کیا اور اس کو خوب محفوظ کردیا، یہ ایک زبردست علیم ہستی کی منصوبہ بندی ہے۔ )
ساتوں آسمانوں کی تکمیل
آسمان ابتدائی مراحل سے گزرنے کے بعد دھویں کی شکل میں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تکمیلی تشکیل کی طرف توجہ فرمائی تو اس کا ابتدائی ہیولا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
فہم القرآن
ربط کلام : مشرک اور کافر جس حقیقی الٰہ کے ساتھ شرک اور کفر کرتے ہیں صرف اسی ایک ذات نے زمین و آسمانوں اور پہاڑوں کو بنایا ہے۔ کیا کوئی ہستی ہے ؟ جس نے یہ کام کیے ہوں ؟
قرآن مجید نے یہ بات بھی بار ہا دفعہ بتلائی ہے کہ رمینوں آسمانوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے نہیں بنایا اور نہ ہی ان کے بنانے میں کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک تھا۔ اس لیے یہاں کفار سے استفسار کیا گیا ہے کہ کیا تم اس ذات کبریا کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو یوم میں پیدا فرمایا۔ تم بتوں، بزرگوں اور دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ حالانکہ تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا ایک ” اللہ “ ہی عبادت کے لائق ہے۔ اسی نے زمین پر…
Read the full tafseer →سات آسمان بنائے :
فَقَضٰهُنَّ (پس ان کو بنادیا) ان کی تخلیق کو پختہ کیا جیسا کہ شاعر کا قول ہے۔ وعلیہما مسرودتان قضاھما۔ اس میں قضی پختہ کرنے کے معنی میں ہے۔ ان دونوں پر دوزر ہیں ہیں پختہ کی ہوئی۔
نحو : ھن ضمیر آسمان کی طرف راجع ہے کیونکہ سماء جنس ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ضمیر مبہم ہو اور اس کی تفسیر سَبْعَ سَمٰوَاتٍ ہو دونوں حالتوں میں منصوب ہے مگر نصب کی وجہ اول صورت میں حال بننا ہے اور دوسری صورت میں تمیز کی وجہ سے منصوب ہے۔ فِيْ يَوْمَيْنِ (دونوں میں) جمعرات اور جمعہ۔ وَاَوْحٰى فِيْ كُلِّ سَمَاۗءٍ اَمْرَهَا (اور ہر آسمان میں اس کے مناسب اپنا حکم بھیج دیا) امرھا سے مراد جو حکم اس میں چلانا…
Read the full tafseer →تفسیر 11۔۔۔۔۔ ، ثم استوی الی السماء ، یعنی آسمان کی تخلیق کا ارادہ کیا۔ ، وھی دخان، اور یہ دھواں پانی کے بخارات تھے ۔ ، فقال لھا وللارض ائتیاطوعا او کرھا، یعنی جو میں تمہیں حکم دوں وہ کروجی سے کہاجاتا ہے ، ائت ماھذا الاحسن، یعنی اس اچھے کام کو کر اور طاؤس (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ، ائتیا، بمعنی اعطیا ہے۔ یعنی جو بندوں کی مصلحتوں کے لیے میں نے تم میں منافع پیداکیے ہیں ان کونکالو۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ اے آسمان تو اپنا سورج ، چاند اور ستارے طلوع کر اور اے زمین تو اپنی نہریں کھول اور اپنے پھل اور نباتات نکال اور ان دونوں کو کہا کہ جو میں نے حکم دیا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
9۔ 12۔ ان آیتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین اور پہاڑ اور جو کچھ زمین میں پیداوار کی چیزیں ہیں پہلے چار روز میں یہ سب کچھ پیدا کیا گیا ہے اور پھر دور و زمین آسمان پیدا کئے گئے اور دالنازعات کی آیت ولارض بعد ذلک دحھا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کے پیدا ہونے کے بعد زمین پھیلائی گئی ہے اسی واسطے اکثر مفسرین نے ان دونوں آیتوں کو ملا کر یہ اعتراض کیا ہے کہ ایک آیت سے زمین کا آسمان سے پہلے پیدا کرنا معلوم ہوتا ہے اور دوسری آیت سے آسمان کے بعد پھر طرح طرح سے اس اعتراض کا جواب بھی دیا ہے اور یہ اعتراض کچھ آج کل کا نیا اعتراض نہیں ہے کیونکہ صحیح بخاری 1 ؎ میں (1 ؎ بخاری شریف تفسیر سورة حم السجدۃ ص 712…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت 9
اللہ تبارک و تعالیٰ تعجب کے ساتھ کفار کے کفر کا انکار کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ہر سر گھڑ رکھے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا ہوا ہے، ان کی عبادت کرتے ہیں، انہیں رب عظیم اور مالک کریم کے برابر گردانتے ہیں، جس نے اتنی بڑی زمین کو صرف دو دن میں پیدا کیا، پھر دو دن میں اس کو ہموار کیا، اس کے اندر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اسے مٹنے، ہلنے اور عدم استقرار سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کی تکمیل کی، پھر پھیلا کر ہموار کیا، اس میں سے خوراک اور اس کی توابعات نکالیں (آیت) ” چار دن میں، سوال کرنے والوں کے لئے یکساں ہے۔ “ یہ اس بارے میں سوال کرنے والوں کے لئے ٹھیک ٹھیک جواب…
Read the full tafseer →21 آسمان دنیا کی تزیین کا عظیم الشان انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے مزین کیا قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے "۔ یعنی ستاروں سے جو کہ چراغوں اور فانوسوں کی طرح اس کے نیچے معلق ہیں اور قادر مطلق کی بےمثال قدرت کی شہادت دے رہے ہیں۔ اور جب ان میں سے کسی بھی کام میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے مزین کیا " کہ تاکہ اس طرح تم لوگ اس عظیم الشان تزیین و آرائش سے لطف اندوز بھی ہوسکو اور تمہاری طرح طرح کی اہم ضرورتوں کی تکمیل کا سامان بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–18
دنیا کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آخرت پر دھیان دینا ضروری ہے۔
اللہ کا حکم نبی ﷺ کی زبانی
تشریح : ان آیات کو پڑھنے سے مسلمان کے خصوصی اعتقادات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ رسول کو عام انسانوں پر فوقیت کیوں دی گئی۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کی بہترین مثال ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دے۔ سب سے پہلے وہ اللہ کی وحدانیت کا حکم سناتا ہے وہ واحد اس لیے ہے کہ اس جیسا خالق، مہربان، منتظم، انصاف کرنے والا اور باخبر اور کوئی نہیں جن، بشر یا فرشتے کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اس کی بنائی ہوئی تمام مخلوقات بہترین، مکمل اور نقص سے پاک ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
آیات 9 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
ان سے کہیے کہ تم اس ذات کو ماننے سے انکار کر رہے ہو جس نے دو روز میں زمین کو پیدا فرمایا اور اس کے مقابل دوسروں کو لاتے ہو اور انہیں معبود مانتے ہو جو کچھ پیدا تو کیا کرتے الٹا خود مخلوق کو یہی ذات سارے جہانوں کی پیدا کرنے والی بھی ہے اور پالنے والی بھی یہ اس کی حکمت کہ اس نے دوروز میں زمین بنائی پھر اس میں بھاری پہاڑ اور بیشمار برکات بےحساب نعمتیں رکھیں اپنی ہر ہرمخلوق کے لیے اس میں غذائیں سمودیں اور یہ ساراکام چار روز میں مکمل فرمایا کہ ساری مخلوق کی ہر ضرورت کو ہمیشہ پورا کرتی رہے گی اور یہ معنی بھی ہے کہ یہود مدینہ نے آپ سے زمین وآسمان کی تخلیق کے بارے میں جو…
Read the full tafseer →ف 14 اس طرح آسمانوں اور زمین کی پیدائش چھ دن میں مکمل ہوئی۔ ( دیکھئے سورة اعراف : 54)15 یعنی اس کا نظام جس طرح بنانا تھا بنادیا۔
1 یعنی شیطانوں کی پہنچ سے اس کی حفاظت کی کہ وہ ملا اعلیٰ کی بات نہ سن سکیں۔
Read the full tafseer →(41:12) فقضھن۔ فاء عاطفہ ہے جملہ ہذا کا عطف جملہ سابقہ ثم استوی الی السماء پر ہے۔ قضی : ای خلق اواتم او جعل : اس نے پیدا کر دئیے۔ اس نے مکمل کر دئیے۔ اس نے بنا دئیے۔ ھن ضمیر جمع مؤنث غائب ۔ السماء کی طرف راجع ہے ، جو یہاں بطور اسم جنس استعمال ہوا ہے اور بمعنی السموت ہے۔
سبع سموت : سبع اسم عدد قضی کا مفعول بہ سموت تمیز سبع کی۔ تقدیر کلام یوں ہے : قضی منھن سبع سموت : ای اتمھن سبع سموت اور ان کو مکمل سات آسمان بنادیا۔ واوحی : اس کا عطف فقضھن پر ہے۔
امرھا : مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع سماء ہے۔ اس کا کام ۔ ای اوحی الی اہلہا باوامرہ ونواہیہ اور ہر ایک آسمان کی مخلوق کے لئے احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 18 : رواسی ( بھاری پہاڑ ، بوجھ) اقوات ( قوت) ( کھانے کی چیزیں) قدر (اس نے مقرر کیا ، اندازہ کیا) دخان ( دھواں) طوعا (خوشی خوشی) کرھا ( زبردستی) طالعین (کہا ماننے والے) قضی (اس نے فیصلہ کیا) زینا (ہم نے زینت دی ، خوبصورت بنایا) مصابیح (چراغ) صعقۃ (کڑک) اشد (زیادہ طاقت والا) یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں) ریح (ہوا) صرصر (سخت ، تند و تیز) نحسات (آفتوں والا) اخزی (زیادہ ذلیل کرنے والا) استحبوا (انہوں نے پسند کیا) الھون ( ذلیل و رسوال کرنا)
تشریح : آیت نمبر 9 تا 18 : ان آیات میں کفار و مشرکین کو ان کے کفر و شرک پر آگاہ کرتے ہوئے زمین ، آسمان اور ان کے درمیان جتنی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
کافروں کے قدم بقدم چلنے کا انجام۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اگر یہ کفارلوگ اس سیدھی سیدھی نصیحت کو ٹال دیویں اور شرک وکفر سے باز نہ آویں تو اے محبوب ﷺ ان سے کہہ دیاجائے کہ میں تم کو عاد اور ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ جو تمہارا حال ہے وہی انکا تھا کہ جس طرح آگے پیچھے ایک کے بعد ایک وہ قومیں پیدا ہوئیں اسی طرح آگے پیچھے ان کے پاس پیغمبر بھیجے گئے اور پیغمبروں نے ان قوموں کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کی نصیحت بھی کی مگر جس طرح بےٹھکانے کی باتیں اللہ کے رسول سے تم لوگ کرتے ہو کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا، تو کوئی فرشتہ ہونا چاہیے ایسی ہی باتیں ان کافروں نے اللہ کے پیغمبروں سے کیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
[7] اس سے معلوم ہوا کہ آسمان اپنی ایک ابتدائی اور ناتمام شکل میں موجود تھا اور یہ شکل ظاہر ہے انہیں دو دنوں میں وجود پذیر ہوئی ہوگی جن میں زمین کی ابتدائی خلقت کا مرحلہ طے پایا۔ اس لئے متوجہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے آسمان کو ایک تکمیلی شکل دینے کی طرف توجہ فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین کی خلقت کا آغاز تو ایک ہی ساتھ ہوا لیکن جس طرح ایک وسیع عمارت کے مختلف حصوں میں تعمیر کے مصالح کے تحت کبھی کسی گوشے میں کام ہوتا ہے کبھی کسی گوشے میں، اسی طرح آسمان و زمین کی تعمیر کا کام
بھی ہوا ہے۔ لہذا یہ سوال غیر ضروری ہے کہ پہلے زمین پیدا ہوئی یا آسمان۔
[8] ان آیات سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
سلسلہ تکوین
1: تکوین کائنات کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ زمین کو دو مدید وقفوں میں پیدا کیا ہے ۔ اور پھر اس میں پہاڑوں کو استوار کیا ہے ۔ اور ضروری برکات پھیلائی ہیں ۔ اور غذاؤں کا سامان مہیا کیا ہے ۔ اور یہ سب کچھ چار وقفوں میں قرار پایا ۔ پھر آسمان کی جانب توجہ مبذول کی ۔ اور ان کو کئی بلندیوں میں تقسیم فرمایا ۔ اور یہ بھی دو قرنوں میں ہوا مگر یہ دو قرن پہلے دو قرنوں میں داخل ہوا ۔ اس کے بعد سطح دنیا کو بوقلمون چراغوں سے آراستہ فرمایا ۔ اور ان میں حفاظت کے لئے پورا پورا انتظام کردیا ۔ کہ شیطانی قوتیں ملا واعلیٰ کے اسرار نہ معلوم کرلیں ۔ فرمایا کہ ساری کائنات میں دیکھو تمہیں معلوم…
Read the full tafseer →(12) پھر ان کو دو دن میں سات آسمان بنادیا اور ہر ایک آسمان میں اس کے مناسب حال حکم بھیج دیا اور ہم نے آسمان دنیا اور دوسرے آسمانوں کو چراغوں سے رونق دی اور آراستہ کیا اور نیز اس آسمان دنیا کی حفاظت کی یہ اس اللہ تعالیٰ کا تجویز کردہ نظام ہے جو کمال قوت اور کمال علم کا مالک ہے یعنی آسمان سات بنائے اوپر تلے اور ہر آسمان کے فرشتوں کو اس آسمان کے موافق حکم دے دیا اور آسمان دنیا کو چراغوں یعنی ستاروں سے رونق بخشی اور شیاطین کے جانے اور فرشتوں کی خبریں اڑا لانے سے آسمان دنیا کی حفاظت کی یہ تجویز کردہ نظام اس کی جانب سے ہے جو عزیز بھی ہے اور علیم بھی ہے۔
Read the full tafseer →ف 7۔ پس عبادت کے لائق یہ ذات کامل الصفات ہے یا دوسری اشیاء ناقص الذات و الصفات۔
Read the full tafseer →پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو زمین و آسمان کو فرمانبردار پایا
11 ؎ ہم بار بار ذکر کرتے چلے آرہے ہیں کہ یہ جو کچھ بیان کیا جارہا ہے یہ سب استعارات واشارات ہیں اور ان کو محض انسانوں کی تفہیم کے لیے اختیار کیا گیا ہے ورنہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نہ دنوں کا محتاج ہے اور نہ ہی سالوں کا۔ اس طرح یہ جو ارشاد فرمایا کہ (ثم استویٰ الی السماء) پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو اس سے کوئی کوتاہ عمل یہ نہ سمجھے کہ اس سے پہلے وہ آسمان کی طرف سے غافل تھا اور اس کے علم میں ان کا کوئی تصور نہ تھا اس سارے کام سے فارغ ہو کر اس کو آسمان کا خیال آیا۔ ہرگز نہیں بلکہ یہ وہی پیرا یہ بیان ہے تاکہ بات کو اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ (and said to it and to the earth, "Come [ to My obedience ], both of you, willingly or unwillingly." Both said, "We come willingly." - 41:11) This command addressed to the earth and sky and their compliant and obedient reply, according to some exegetes, is a metaphorical expression for the readiness of the earth and the sky to comply with every order from Allah Almighty. But Ibn ` Atiyyah and other leading research scholars have stated that this is no metaphor it is based on reality. Allah Almighty had…
Read the full tafseer →16 To understand these verses well, it would be useful to study the following portions of the Tafhim al-Qur'an: AI-Baqarah: 29, Ar-Ra'd: 2, AI-Hijr: 1G-18, AI-Anbiya': 30-33, Al-Hajj: 65. Al-Mu'minun: 17, Ya Sin: E.N. 37, and E.N.'s 5, G of As-Saaffat.
Read the full tafseer →