Fussilat 41:13

Fussilat · from ayah 13

41:13

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ ۟ؕفَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا فَقُلۡ اَنۡذَرۡتُكُمۡ صٰعِقَةً مِّثۡلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوۡدَ

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو ایسے چنگھاڑ (کے عذاب) سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑ (کا عذاب آیا تھا)

— Fateh Muhammad Jalandhari

But if they turn away, then say, "I have warned you of a thunderbolt like the thunderbolt [that struck] 'Aad and Thamud.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:13

اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اِن سے کہہ دو کہ میں تم کو اُسی طرح کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو ایسے چنگھاڑ (کے عذاب) سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑ (کا عذاب آیا تھا)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اب بھی یہ روگرداں ہوں تو کہہ دیجئے! کہ میں تمہیں اس کڑک (عذاب آسمانی) سے ڈراتا ہوں جو مثل عادیوں اور ﺛمودیوں کی کڑک ہوگی

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو کہہ دو کہ میں تمہیں اس کڑکے سے خبر دار کردیا ہے جیسا کڑکا عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرماؤ کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں ایک کڑ ک سے جیسی کڑ ک عاد اور ثمود پر آئی تھی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اگر وہ رُوگردانی کریں تو آپ فرما دیں: میں تمہیں اُس خوفناک عذاب سے ڈراتا ہوں جو عاد اور ثمود کی ہلاکت کے مانند ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دے میں نے تمہیں ایک ایسی کڑک سے خبردار کردیا جو عاد اور ثمود کی کڑک جیسی ہوگی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اگر وہ اعراض کریں تو آپ ان سے کہئے کہ میں تمہیں ایسی ہی کڑک (کے عذاب) سے ڈراتا ہوں جیسی قوم عاد اور ثمود پر گری تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اگر وہ اعراض کرتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تمہیں اس طرح کے کڑکے سے آگاہ کرتا ہوں جس طرح کا کڑ عاد اور ثمود پر نازل ہوا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر بھی اگر یہ لوگ (نہ مانیں اور) منہ موڑے ہی رہیں تو (ان سے) کہو کہ میں نے تو تم کو خبردار کردیا عاد اور ثمود پر اچانک ٹوٹ پڑنے والے جیسے ہولناک عذاب سے

— مولانا اسحاق مدنی

تو اگر یہ لوگ (اب بھی) اعراض کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تم کو ایسی آفت سے ڈراتا ہوں جیسی آفت عاد وثمود (پر آئی تھی)۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) اگر یہ لوگ اعراض کریں تو آپ کہہ دیجیے کہ میں نے تو تمہیں خبردار کردیا ہے ایک ایسی خوفناک کڑک سے جیسی کہ قوم عاد اور قوم ثمود کی کڑک تھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ ”میں تم کو ایسی چنگھاڑ کے عذاب سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑکا عذاب آیا تھا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But if they turn away, tell them: “I warn you against a sudden scourge like that which struck Ad and Thamud.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, if they turn away, then say, :I have warned you of a calamity like the calamity of 'Aad and Thamud,

— Muhammad Taqi Usmani

So, if they turn away, then say, :I have warned you of a calamity like the calamity of Aad and Thamud,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But if they turn away, then say: "I have warned you of a Sa`iqah like the Sa`iqah which overtook `Ad and Thamud."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But if they turn away, then say: I warn you of a thunderbolt like the thunderbolt (which fell of old upon the tribes) of A'ad and Thamud;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But if they turn away, then say, "I have warned you of a thunderbolt like the thunderbolt [that struck] 'Aad and Thamud.

— Saheeh International

If they ignore (your message), tell them, "I have warned you against a destructive blast of sound like that which struck the people of `Ad and Thamud.

— Muhammad Sarwar

But if they turn aside, then say: I have warned you of a scourge like the scourge of Ad and Samood.

— Muhammad Habib Shakir

Then if they Still turn away, say thou; I warn you of a calamity like the calamity of the 'Aad and Thamud.

— Abdul Majid Daryabadi

But if they turn away, say thou: "I have warned you of a stunning Punishment (as of thunder and lightning) like that which (overtook) the 'Ad and the Thamud!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–18

انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب۔ حکم ہوتا ہے کہ جو آپ کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ ان سے فرما دیجئے کہ میری تعلیم سے رو گردانی تمہیں کسی نیک نتیجے پر نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو کہ جس طرح انبیاء کی مخالف امتیں تم سے پہلے زیرو زبر کردی گئیں کہیں تمہاری شامت اعمال بھی تمہیں انہی میں سے نہ کر دے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے اور ان جیسے اوروں کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ ان کے پاس پے درپے رسول آئے اس گاؤں میں اس گاؤں میں اس بستی میں اس بستی میں اللہ کے پیغمبر اللہ کی منادی کرتے پھرتے لیکن ان کی آنکھوں پر وہ چربی چڑھی ہوئی تھی اور دماغ میں وہ گند ٹھسا ہوا تھا کہ کسی ایک کو بھی نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 17 یعنی اس بات کو نہیں مانتے کہ خدا اور معبود بس وہی ایک ہے جس نے یہ زمین اور ساری کائنات بنائی ہے، اور اپنی اس جہالت پر اصرار ہی کیے چلے جاتے ہیں کہ اس خدا کے ساتھ دوسروں کو بھی، جو حقیقت میں اس کے مخلوق و مملوک ہیں، معبود بنائیں گے اور اس کی ذات وصفات اور حقوق و اختیارات میں انہیں اس کا شریک ٹھہرائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–15

خلاصہ تفسیر پھر (دلائل توحید سن کر بھی) اگر یہ لوگ (توحید سے) اعراض کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تم کو ایسی آفت سے ڈراتا ہوں جیسی عاد وثمود پر (شرک و کفر کی وجہ سے) آفت آئی تھی (مراد عذاب سے ہلاک کرنا ہے) جیسا کہ قریش مکہ کے سردار غزوہ بدر میں ہلاک اور قید کئے گئے، اور یہ قصہ عاد وثمود کا اس وقت ہوا تھا) جبکہ ان کے پاس ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی پیغمبر آئے (یعنی جو پیغمبر ان کی طرف بھیجے گئے اور ان کے سمجھانے میں جان توڑ کوشش کی گئی۔ جیسے کوئی شخص اپنے کسی عزیز کو کسی مصیبت و ہلاکت کی طرف جاتے دیکھے تو وہ کبھی آگے سے آ کر اسے روکتا ہے، کبھی پیچھے سے پکڑتا ہے۔ اور اس کی مثال قرآن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

2۔ آگے کا مضمون… آیات : 13۔ 24 آگے قریش کی تنبیہ کے لئے اس رسوا کن انجام کی بعض تاریخی مثالوں کا ذکر فرمایا ہے جس سے رسولوں کے مکذبین کو لازماً سابقہ پیش آنا ہے۔ نظم کلام بالکل واضح ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت قریش کے اعراض کا ذکر اوپر آیات 4۔ 5 میں گزر چکا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اعراض ہی کا فیصلہ کرلیا ہے تو ان کو آگاہ کر دو کہ اگر تمہارا فیصلہ یہی ہے تو میں تم کو اسی طرح کے کڑکے کے عذاب سے ڈراتا ہوں جس طرح کا عذاب عاد اور ثمور اور ان کی ہم مشرب دوسری قوموں پر آیا۔ یہاں اسلوب بیان سے واضح ہے کہ عاد اور ثمور کا ذکر محض بطور مثال…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 12–13

12۔ 1 یعنی خود آسمانوں کو یا ان میں آباد فرشتوں کو مخصوص کاموں اور وظائف کا پابند کردیا۔ 12۔ 2 یعنی شیطان سے نگہبانی، جیسا کہ دوسرے مقام پر وضاحت کی ہے ستاروں کا ایک تیسرا مقصد دوسری جگہ اَھْتِدَاء (راستہ معلوم کرنا) بھی بیان کیا گیا (وَعَلٰمٰتٍ ۭ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ) 16۔ النحل :16)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–15

8: یہ ایک محاورہ ہے، اور مطلب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے ہر رخ سے اپنی قوموں کو سمجھانے کی کوشش کی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–18

آیت نمبر 13 تا 18 یہ فی حقیقت ایک خوفناک ڈراوا ہے۔ فان اعرضو۔۔۔۔ وثمود (41: 13) ” اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد ثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ڈراوا مشرکین کے جرائم اور نہایت ہی مکروہ بدکاریوں کے لیے نہایت مناسب تھا جس طرح کے غرور میں مشرکین مکہ مبتلا تھے ، جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ہوا ، نیز وہ اس پوری کائنات کی روش اطاعت سے بھی پھرے ہوئے تھے ، جس کا ذکر اس ڈراوے سے متصلا پہلے ہوا۔ اس ڈراوے کے قصے کے بارے میں ابن اسحاق نے روایت کی ہے یزید ابن زیادہ سے انہوں نے محمد ابن کعب قرظی سے ، انہوں نے کہا مجھے یہ بتایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی کفار مکہ اگر ایسی عظیم الشان آیات سننے کے بعد بھی نصیحت قبول کرنے اور توحید و اسلام کی راہ اختیار کرنے سے اعراض کرتے رہیں تو فرما دیجئے کہ میں تم کو آگاہ کرتا ہوں کہ تمہارا انجام بھی " عاد " و " ثمود " وغیرہ اقوام معذبین کی طرح ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 { فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صٰعِقَۃً مِّثْلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ } ”تو اے نبی ﷺ ! اگر یہ لوگ اعراض کریں تو آپ کہہ دیجیے کہ میں نے تو تمہیں خبردار کردیا ہے ایک ایسی خوفناک کڑک سے جیسی کہ قوم عاد اور قوم ثمود کی کڑک تھی۔“ میں نے تو تم لوگوں کو آگاہ کردیا ہے کہ جیسے قوم عاد اور قوم ثمود پر عذاب آیا تھا ‘ تمہاری تکذیب کے باعث ویسا ہی کوئی عذاب تم پر بھی ٹوٹ سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

15 یعنی اس قرآن کی صفات اور اس قرآن کو نازل کرنے والی ہستی کی عظیم الشان آیات قدرت سننے کے بعد بھی اگر کفار مکہ نصیحت قبول کرنے اور توحید اور اسلام کی راہ اختیار کرنے سے اعراض کرتے ہیں تو پھر ان پر بھی ایسی بجلیاں گر سکتی ہیں جیسے عاد وثمود پر گری تھیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ یعنی جس طرح وہ قومیں دفعۃ ہلاک کردی گئی تھیں، تم بھی کسی آفت ناگہانی میں مبتلا کرکے ہلاک کردیئے جاؤ۔ (آیت) ” مثل صعقۃ “۔ یہ تشبیہ یا مثلیت صرف فوری وقوع ہلاکت کے لحاظ سے ہے۔ (آیت) ” فان اعراضوا “۔ یعنی یہ لوگ اگر اتنے دلائل کے باوجود بھی اقرار توحید سے انکار واعراض کرتے رہیں۔ (آیت) ” عادوثمود “۔ عاد وثمود کے نام سے قرآن مجید میں ایسے موقع اندار پر بار بار اس لیے آتے ہیں کہ عرب ان کے حالات سے خوب واقف ومانوس تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–18

آیت نمبر 9 تا 18 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے ! کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو، اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین دو روز میں پیدا کردی یعنی اتوار اور پیر میں اَئِنَّکُمْ میں دوسرے ہمزہ کی تحقیق و تسہیل کے ساتھ اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کرکے تمام جہانوں کا مالک وہی ہے عالمین عالَم کی جمع اور وہ اللہ کے علاوہ ہے عالمین عالَمْ مختلف الانواع ہونے کی وجہ سے جمع اور ذوی العقول کو (غیر ذوی العقول پر) غلبہ دینے کی وجہ سے یاء ونون کے ساتھ لایا گیا ہے، اور اس نے زمین میں اس کے اوپر جمے رہنے والے پہاڑ رکھ دیئے یہ جملہ مستانفہ ہے، اس کا عطف الذی کے صلہ پر فصل بالاجنبی کی وجہ سے جائز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فان اعرضوا فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود پھر اگر (دلائل توحید سن کر) یہ لوگ (توحید سے) اعراض کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ تم کو ایسی آفت سے ڈراتا ہوں جیسی آفت قوم عاد وثمود پر آئی تھی۔ یعنی اس بیان کے بعد بھی اگر کفار مکہ ایمان سے روگردانی کریں تو ان کو اس ہلاکت آفریں عذاب شدید سے ڈرائیے جیسا قوم عاد وثمود پر آیا تھا۔ صَاعِقَۃ ہر مہلک چیز۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اگر یہ کفار مکہ ایمان لانے سے انکار کریں جیسا کہ عتبہ اور اس کے ساتھی تو آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمہیں بذریعہ قرآن کریم ایسے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فان اعرضوا فقل انذرتکم …:”ضعقۃ ‘ کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة رعد (13) سورت کی ابتدائی آیات (4، 5) میں اللہ کی کتاب سے اکثر لوگوں کے اعراض کا ذکر فرمایا، اس کے بعد چھ دنوں میں زمین و آسمان کی تخلیق کی تفصیل بیان فرمائی، اب فرمایا کہ اگر یہ لوگ اب بھی نہ مانیں کہ معبود برحق صرف ایک ہے، جس نے یہ زمین و آسمان اور ساری کائنات بنائی ہے اور اس حقیقت سے اعراض پر اڑے رہیں، تو ان سے کہہ دیں کہ تم سے پہلی بھی کئی اقوا منے یہ روش اختیار کی جو تم اختیار کر رہے ہو۔ سو میں تمہیں اس جیسے عذاب اور کڑکنے والی بجلی سے ڈرتا ا ہوں جو تم سے پہلی اقوام عادہ ثمود پر گری تھی۔ عاد وثمود کے تعارف کے لئے دیکھیے سورة…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–14

(فان اعرضوا فقل۔۔۔۔۔ ) فان اعرضوا اے محمد ﷺ ! اگر کفار قریش ایمان سے اعراض کریں جس کی طرف تم دعوت دیتے ہو فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عادوثمود۔ یعنی ہم نے ڈرایا ہلاکت سے جس طرح عاد اور ثمود کی ہلاکت تھی اذجاء تھم الرسل من بین ایدیھم ومن خلفھم یعنی ان کی طرف انہیں مبعوث کیا گیا اور ان سے قبل قوموں کی طرف مبعوث کیا گیا الا تعبدوا الا اللہ ان محل نصب میں ہے کیونکہ حرف جر حذف ہے اصل میں کلام یوں تھی بالا تعبدوا۔ قالو لو شاء ربنا لا نزل ملیکۃ یعنی رسولوں کی جگہ فرشتے مبعوث کرتا فانابما ارسلتم بہ کفرون۔ یعنی انذار اور تبشیر کا انکار کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ان کی طرف سے استہزاء ہے۔ ایک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–18

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں جہاں بھی ” صعقۃ “ ہے اس کا معنی عذاب ہے۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود “ (تم کو ایسی آواز سے ڈراتا ہوں جیسی آفت قوم عاد ثمود پر آئی تھی یعنی میں تم کو ڈراتا ہوں عاد اور ثمود پر (عذاب کے) حملہ سے (آیت ) ” ریحا صرصرا “ (طوفان آندھی) یعنی ٹھنڈی ہوا۔ (آیت ) ” نحسات “ یعنی نحوستیں اور دشواریاں۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فارسلنا علیہم ریحا صرصرا “ (ہم نے ان پر طوفان آندھی بھیجی) سے مراد ہے سخت منحوس۔ 4:۔ ابن المنذر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاِنْ اَعْرَضُوْا [پھر اگر وہ لوگ اعراض کریں ] فَقُلْ [ تو آپ کہہ دیں ] اَنْذَرْتُكُمْ [ میں نے خبردار کردیا تمہیں ] صٰعِقَةً [ ایک کڑک (عذاب ) سے ] مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ [ثمود اور عاد کے عذاب جیسے سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حق سے اعراض کرنے والوں کو تنبیہ اور تہدید عاد وثمود کی بربادی کا تذکرہ ان آیات میں قرآن کریم کے مخاطبین کو تنبیہ فرمائی ہے کہ تمہارے سامنے واضح طور پر دلائل آچکے ہیں نشانیاں دیکھ چکے ہو ان سب کے باوجود پھر بھی اعراض کرتے ہو ایمان نہیں لاتے لہٰذا سمجھ لو کہ عذاب آجائے گا تم سے پہلے ایسی امتیں گزری ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا پھر ان کو عذاب نے آدبایا، عاد وثمود دو قومیں گزر چکی ہیں انہوں نے اپنے اپنے رسول کی تکذیب کی پھر مبتلائے عذب ہوئے اور ہلاک ہوئے ان پر جو عذاب کی مصیبت آئی میں تمہیں اس جیسی آفت سے ڈراتا ہوں، اللہ تعالیٰ کے پیغمبر (علیہ السلام) ان کے پاس آئے انہوں نے ان کو توحید کی دعوت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–18

استعجاب وتوبیخ برکفر خالق کائنات وتہدید بذکرانجام مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض ........ الی ......... وکانوایتقون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور اثبات رسالت نبی کریم ﷺ ، بطور تمہید ان امور کو ذکر کرکے اب ان آیات میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس امر پر اظہار تعجب کیا جارہا ہے کہ خالق کائنات (جس کی قدرت وخالقیت اور الوہیت کے دلائل روزروشن سے زائد واضح ہیں) کا انکار کوئی بھی صاحب عقل انسان کیونکر کرتا ہے، جب بھی انسان عقل اور فطرت کے معیار پر اس بات کو پرکھے گا کبھی بھی انکار خدا اور شرک کے امکان کا تصور بھی نہیں کرسکتا، اس ذلیل میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

14:۔ ” فان اعرضوا “ یہ پہلی عقلی دلیل کے بعد زجر اور تخوید دنیوی ہے۔ اگر وہ توحید سے اعراض کرتے ہیں تو آپ فرما دیں، اچھا قوم عاد وثمود کا حال سنو، اعراض وجحود کی وجہ سے ان کا کیا حشر ہوا۔ اعراض و انکار اور جحود وعناد پر قائم رہو گے تو میں تمہیں اسی قسم کے ہولناک عذاب سے ڈراتا ہوں۔ جس طرح کا عذاب عاد وثمود پر نازل ہو۔ ای انذرک عذاب مثل عذابہم قال قتادۃ (روح ج 24 ص 109) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–18

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کے توحید کے بعض عقلی دلائل پیش کیے اور اپنی نعمتوں اور قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس پر بوجھل پہاڑ رکھ دیے تا کہ اس کا توازن برقرار رہے۔ زمین میں انسانوں اور جانوروں کی مصلحت کے لیے روزی کے اسباب پیدا کیے اور اس کو با برکت بنادیا ۔ پھر اللہ نے سات آسمانوں کو جداجدا کردیا ۔ ہر آسمان کو اس کی مخلوق کے مناسب حال حکم جاری فرمایا ۔ آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین فرمایا اور اسے شیاطین اور جنات کی رسائی سے محفوظ کردیا ۔ یہ سب انعامات الٰہیہ ہیں اور توحید کے عقلی دلائل بھی ہیں ۔ اگر انسان ان میں غور کرے تو اسے اللہ کی وحدانیت آسانی سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَۃً مِّثْلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ۝ 13ۭ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔ نذر وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] والنَّذِيرُ : المنذر،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : اذ جاء تہم یجوزان یکون ظرفا لا نذرتکم و یجوزان یکون صفۃ لصاعقۃ او مالامنہ نحسات بکسر الحاء فھی اما اسم فاعل مثل نصب و نصبات او مصدر مثل الکلمۃ و یقرء بالسکون فھی بمعنی المکسورۃ وسکن لعارض او اسم فاعل و سکن تخفیفاً ثمود مبتدء و ھدینا خبرہ۔ تفسیر : ابتدائِ کلام اس بات سے تھی کہ الہکم الہ واحد پھر اس پر دلیل پیش کی گئی۔ قل ائنکم لتکفرون الخ اور یہ قاعدہ ہے کہ جب مخالف دلیل سے بھی نہیں مانتا تو اس کو اور دوسری طرح سے سمجھایا جاتا ہے، یعنی کسی سزا سے ڈرایا جاتا ہے۔ اس لیے فرماتا ہے۔ فان اعرضوا فقل اندر تکم صاعقۃ کہ اگر وہ نہ مانیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو ایک عذاب اور مصیبت کی خبر دیتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُـکُمْ صٰعِقَۃً مِّثْلَ صٰعِقَۃِ عَادٍوَّثَمُوْدَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 13) (پس اگر یہ لوگ اعراض کرتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں اسی طرح کے ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے، جیسا عذاب عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا۔ ) قریش کو تنبیہ محدثین نے حضرت جابر ( رض) بن عبداللہ سے مختلف طریقوں سے نقل کیا ہے کہ جب حضور ﷺ عتبہ کے سامنے حم السجدۃ کی تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے، تو عتبہ نے بےاختیار آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، اور کہا : ” خدا کے لیے اپنی قوم پر رحم کرو۔ “ بعد میں اس نے سردارانِ قریش کے سامنے اپنے اس فعل کی وجہ یہ بیان کی کہ ” کیا آپ لوگ جانتے نہیں کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–14

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرتیں دیکھنے اور اس کی نعمتیں استعمال کرنے کے باوجود جو لوگ اپنے رب کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔ انہیں قوم عاد اور قوم ثمود کے انجام پر نظر رکھنا چاہیے۔ اے نبی ﷺ ! آپ کے مخاطبین ہر قسم کے دلائل سُننے اور حقائق جاننے کے باوجود اپنے رب کے ساتھ کفر و شرک چھوڑ نے کے لیے تیار نہیں تو انہیں فرما دیں کہ میں نے تمہیں قوم عاد اور قوم ثمود کے دھماکوں سے ڈرا دیا ہے۔ ان کے پاس اور ان کے بعد رسول آئے اور انہوں نے زندگی بھر انہیں دعوت دی کہ اللہ کے سوا نہ کسی کو معبود مانو اور نہ کسی اعتبار سے ان کی بندگی کرو۔ قوم عاد اور ثمود نے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کیا اور کہا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فَاِنْ اَعْرَضُوْا (پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں) یعنی اس وضاحت کے بعد ایمان سے اعراض کریں۔ فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ (تو آپ کہہ دیجیے میں تم کو ڈراتا ہوں) صٰعِقَةً (ایسی آفت سے) سخت واقع ہونے والا عذاب گویا کہ وہ صاعقہ ہے۔ صاعقہ وہ گرج جس کے ساتھ آگ ہو۔ مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ (جیسی آفت عاد وثمود پر آئی تھی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

12، فقضاھن سبع سموات فی یومین، یعنی ان کو مکمل کیا اور ان کی تخلیق سے فارغ ہوئے۔ ، واوحی فی کل سماء امرھا، عطاء (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے ہے کہ ہر آسمان میں فرشتے اور سمندر اور برف کے پہاڑ اور ایسی چیزیں پیدا کی ہیں جن کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قتا دہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یعنی اس میں اس کا سورج و چاند اور ستارے پیداکیے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ جن اوامرونواہی کا ارادہ کیا۔ ان کی وحی ہر آسمان کی طرف کردی اور یہ جمعرات اور جمعہ کے دن ہوا۔ ، وزیناالسماء الدنیا بمصابیح، اور ستاروں کے ساتھ۔ ، وحفظا، اس آسمان کی حفظاکا نصب مصدر کی بناء پر ہے۔ یعنی، حفظناھابلکواکب حفظا من…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–21

13۔ 21۔ اوپر آسمان اور زمین اور چند چیزوں کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ سمجھایا تھا کہ جب ان چیزوں کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک نہیں ہے تو اللہ کی تعظیم اور عبادت میں غیروں کو شریک کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا اگر یہ لوگ اس سیدھی سیدھی نصیحت کو بھی ٹال دیں اور شرک سے باز نہ آئیں تو اے رسول اللہ کے ان سے کہہ دیا جائے کہ میں تم کو قوم عاد اور قوم ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ جو تمہارا حال ہے وہی ان کا تھا کہ جس طرح آگے پیچھے ایک کے بعد ایک وہ قومیں پیدا ہوئیں اسی طرح آگے پیچھے ان کے پاس رسول بھیجے گئے اور رسولوں نے ان قوموں کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–15

آیت 13 یعنی اگر یہ مکذبین اس کے باوجود بھی اعراض کریں، حالانکہ ان کے سامنے قرآن کے اوصاف حمیدہ اور رب عظیم کی صفات جلیلہ بیان کی جا چکی ہے (فقل انذرتکم صعقۃ) تو کہہ دیجئے : میں تمہیں ایسی کڑک سے ڈراتا ہوں “ جو کہ عذاب ہے وہ تمہاری جڑ کاٹ کر رکھ دے (مثل صعقۃ عاد وثمود) ” جیسی کڑک قوم عاد اور ثمود پر گری تھی “۔ عاد اور ثمودیہ دو معروف قبیلے تھے، ان پر ٹوٹنے والے عذاب نے ان کو ملیا میٹ کرکے رکھ دیا تھا اور انہیں سخت سزا دی گئی، یہ سب کچھ ان کے ظلم اور کفر کے باعث تھا۔ (اذ جاء تھم الرسل مم بین ایدیھم و مم خلفھم) ” جب ان کے پاس رسول ان کے آگے سے اور پیچھے سے آئے “۔ یعنی یکے بعد دیگرے لگاتار رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

23 صاعقہ عاد وثمود کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر پھر بھی یہ لوگ منہ موڑے ہی رہیں تو ان سے کہو کہ میں نے تو بہرحال تم کو خبردار کردیا ہے صاعقہ عاد وثمود اور ان کے عذاب سے "۔ پس انکار و عداوتِ حق کی پاداش میں جو عذاب ان پر آچکا ہے وہ تم لوگوں پر بھی آسکتا ہے۔ لہٰذا اس سے بچنے کی فکر کرو۔ بیہقی اور ابن عسا کرنے حضرت جابر بن عبد اللہ ۔ ؓ ۔ سے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ عتبہ بن ربیعہ نے قریش کے نمائندے کے طور پر آ کر آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ آپ بنوہا شم اور بنو عبد المطلب میں سب سے بہتر شخص ہیں۔ مگر آپ ہمارے معبودوں کو گالیاں کیوں دیتے ہیں ؟ اور ہمیں گمراہ کیوں کہتے ہیں ؟ اگر آپ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–18

دنیا کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آخرت پر دھیان دینا ضروری ہے۔ اللہ کا حکم نبی ﷺ کی زبانی تشریح : ان آیات کو پڑھنے سے مسلمان کے خصوصی اعتقادات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ رسول کو عام انسانوں پر فوقیت کیوں دی گئی۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کی بہترین مثال ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دے۔ سب سے پہلے وہ اللہ کی وحدانیت کا حکم سناتا ہے وہ واحد اس لیے ہے کہ اس جیسا خالق، مہربان، منتظم، انصاف کرنے والا اور باخبر اور کوئی نہیں جن، بشر یا فرشتے کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اس کی بنائی ہوئی تمام مخلوقات بہترین، مکمل اور نقص سے پاک ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 9–17

آیات 9 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ ان سے کہیے کہ تم اس ذات کو ماننے سے انکار کر رہے ہو جس نے دو روز میں زمین کو پیدا فرمایا اور اس کے مقابل دوسروں کو لاتے ہو اور انہیں معبود مانتے ہو جو کچھ پیدا تو کیا کرتے الٹا خود مخلوق کو یہی ذات سارے جہانوں کی پیدا کرنے والی بھی ہے اور پالنے والی بھی یہ اس کی حکمت کہ اس نے دوروز میں زمین بنائی پھر اس میں بھاری پہاڑ اور بیشمار برکات بےحساب نعمتیں رکھیں اپنی ہر ہرمخلوق کے لیے اس میں غذائیں سمودیں اور یہ ساراکام چار روز میں مکمل فرمایا کہ ساری مخلوق کی ہر ضرورت کو ہمیشہ پورا کرتی رہے گی اور یہ معنی بھی ہے کہ یہود مدینہ نے آپ سے زمین وآسمان کی تخلیق کے بارے میں جو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–14

ف 2 یعنی ہر طرف سے ان کے پاس پیغمبر ﷺ آئے۔ ممکن ہے بہت سے پیغمبر ﷺ آئے ہوں۔ اگرچہ قرآن میں حضرت ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ ( موضح) یا ان کے ارد گرد کی آبادیوں میں بہت سے اللہ کے پیغمبر ﷺ ہو گزرے ہیں جو انہیں اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت کا حکم دیتے تھے اور یہ ان پیغمبروں ﷺ کی نافرمانی کرنے والوں کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ( ابن کثیر وغیرہ)3 نہ کہ تمہیں جو ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔4 یعنی اس دین کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں جس کے متعلق تمہارا دعویٰ ہے کہ اللہ نے تمہیں دے کر بھیجا ہے۔ یہ وہ اعتراض ہے جو قریش آنحضرت ﷺ پر کیا کرتے تھے۔ قرآن میں متعدد…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:13) فان اعرضوا : پس اگر وہ (پھر بھی) روگردانی کریں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اتنے دلائل کے باوجود بھی اقرار توحید سے انکار اور اعراض کریں (جملہ شرطیہ ہے) ۔ فقل : فاء جواب شرط کے لئے ہے قل فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو آپ کہہ دیجئے۔ انذرتکم : انذرت ماضی کا صیغہ واحد متکلم۔ انذار (افعال) مصدر سے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں نے تم کو ڈرا دیا۔ یا ڈر سنا دیا۔ ڈر سے متنبہ کردیا ۔ صاحب ضیاء القرآن رقمطراز ہیں :۔ انذرت کا عام مفہوم اتنا ہی بیان کیا جاتا ہے کہ میں نے ڈرایا۔ حالانکہ نذر کے مادہ کا اطلاق اس ڈرانے پر ہوتا ہے جس میں کم از کم دو خصوصیتیں ہوں۔ (1) ایک تو وہ ڈرانا بروقت ہو۔ یوں نہیں کہ جب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–18

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 18 : رواسی ( بھاری پہاڑ ، بوجھ) اقوات ( قوت) ( کھانے کی چیزیں) قدر (اس نے مقرر کیا ، اندازہ کیا) دخان ( دھواں) طوعا (خوشی خوشی) کرھا ( زبردستی) طالعین (کہا ماننے والے) قضی (اس نے فیصلہ کیا) زینا (ہم نے زینت دی ، خوبصورت بنایا) مصابیح (چراغ) صعقۃ (کڑک) اشد (زیادہ طاقت والا) یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں) ریح (ہوا) صرصر (سخت ، تند و تیز) نحسات (آفتوں والا) اخزی (زیادہ ذلیل کرنے والا) استحبوا (انہوں نے پسند کیا) الھون ( ذلیل و رسوال کرنا) تشریح : آیت نمبر 9 تا 18 : ان آیات میں کفار و مشرکین کو ان کے کفر و شرک پر آگاہ کرتے ہوئے زمین ، آسمان اور ان کے درمیان جتنی بھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–14

کافروں کے قدم بقدم چلنے کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اگر یہ کفارلوگ اس سیدھی سیدھی نصیحت کو ٹال دیویں اور شرک وکفر سے باز نہ آویں تو اے محبوب ﷺ ان سے کہہ دیاجائے کہ میں تم کو عاد اور ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ جو تمہارا حال ہے وہی انکا تھا کہ جس طرح آگے پیچھے ایک کے بعد ایک وہ قومیں پیدا ہوئیں اسی طرح آگے پیچھے ان کے پاس پیغمبر بھیجے گئے اور پیغمبروں نے ان قوموں کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کی نصیحت بھی کی مگر جس طرح بےٹھکانے کی باتیں اللہ کے رسول سے تم لوگ کرتے ہو کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا، تو کوئی فرشتہ ہونا چاہیے ایسی ہی باتیں ان کافروں نے اللہ کے پیغمبروں سے کیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–18

[7] اس سے معلوم ہوا کہ آسمان اپنی ایک ابتدائی اور ناتمام شکل میں موجود تھا اور یہ شکل ظاہر ہے انہیں دو دنوں میں وجود پذیر ہوئی ہوگی جن میں زمین کی ابتدائی خلقت کا مرحلہ طے پایا۔ اس لئے متوجہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے آسمان کو ایک تکمیلی شکل دینے کی طرف توجہ فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین کی خلقت کا آغاز تو ایک ہی ساتھ ہوا لیکن جس طرح ایک وسیع عمارت کے مختلف حصوں میں تعمیر کے مصالح کے تحت کبھی کسی گوشے میں کام ہوتا ہے کبھی کسی گوشے میں، اسی طرح آسمان و زمین کی تعمیر کا کام بھی ہوا ہے۔ لہذا یہ سوال غیر ضروری ہے کہ پہلے زمین پیدا ہوئی یا آسمان۔ [8] ان آیات سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–13

سلسلہ تکوین 1: تکوین کائنات کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ زمین کو دو مدید وقفوں میں پیدا کیا ہے ۔ اور پھر اس میں پہاڑوں کو استوار کیا ہے ۔ اور ضروری برکات پھیلائی ہیں ۔ اور غذاؤں کا سامان مہیا کیا ہے ۔ اور یہ سب کچھ چار وقفوں میں قرار پایا ۔ پھر آسمان کی جانب توجہ مبذول کی ۔ اور ان کو کئی بلندیوں میں تقسیم فرمایا ۔ اور یہ بھی دو قرنوں میں ہوا مگر یہ دو قرن پہلے دو قرنوں میں داخل ہوا ۔ اس کے بعد سطح دنیا کو بوقلمون چراغوں سے آراستہ فرمایا ۔ اور ان میں حفاظت کے لئے پورا پورا انتظام کردیا ۔ کہ شیطانی قوتیں ملا واعلیٰ کے اسرار نہ معلوم کرلیں ۔ فرمایا کہ ساری کائنات میں دیکھو تمہیں معلوم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) پھر اگر یہ کفار مکہ اس پر بھی روگردانی کریں اور منہ پھیریں اور ٹلائیں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو ایسے کڑاکے سے اور ایسے عذاب سے اور ایسی آفت سے ڈراتا ہوں کڑاکا عاد اور ثمود پر آچکا ہے۔ یعنی باوجود ان دلائل کے بھی اگر یہ توحید قبول نہ کریں تو کہہ دیجئے کہ میں تم کو ایک ایسے ہولناک عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا ہولناک عذاب عادو ثمود پر نازل ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اعراض کرنے والوں کو آنے والے سخت وقت سے ڈرائو جو اچانک آجاتا ہے 13 ؎ اے پیغمبر اسلام ! جو لوگ آپ ﷺ کے پیش کردہ عقائد سے منہ موڑتے ہیں اور ان کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ان کو آپ ﷺ کہہ دیں کہ میں تم کو اس عذاب کے اچانک آپڑنے سے ڈراتا ہوں کہ کہیں تمہارے ساتھ وہی کچھ نہ ہو جو عاد قوم اور ثمود قوم کے ساتھ ہوا۔ رہی یہ بات کہ عاد قوم اور ثمود قوم کے ساتھ کیا ہوا ؟ تو اس کا ذکر عزوۃ الوثقی جلد چہارم میں سورة ہود کی آیت 50 سے آیت 68 تک وضاحت سے کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہود (علیہ السلام) کی سرگزشت اور صالح (علیہ السلام) کی سرگزشت میں کیا گیا ہے اور ان دونوں نبیوں کی سرگزشتیں بھی سورة ہود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–15

Commentary The basic purpose of these verses is to warn the people of Makkah that if, even after seeing the manifest proofs of the Oneness of Allah, they do not accept the call of the Holy Prophet ﷺ ، they may face a punishment like the earlier people of ` Ad and Thamud had faced. In this context, a brief account of what happened to these people has been given. The people of Makkah are also reminded that their punishment on the Day of Judgment will be much more severe, and they will not be able to escape it, because even the organs of their body will testify against them. And in this context,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

17 That is, "Ifthey do not believe that God and Deity is One and only One, who has created this earth and the whole universe, and still persist in their ignorance that they would make others also, who are in fact His creatures and slaves, deities beside Him, and regard them as His associates in His Being and rights and powers.

Read the full tafseer →